خلفائے راشدین  رضوان اللہ عنھم اجمعین بشمول ائمہ اہل بیت رضوان اللہ عنھم اجمعین کادستور کتا ب وسنت
وقت کاتقاضا ہے کہ اس دستور محمدیؐ پرمتفق ہوجائیے!!!
وطن عزیز نہ صرف اس وقت چاروں طرف سے بیرونی خطرات کی زد میں ہے بلکہ اس کی داخلی صورت حال بھی کسی طورپرقابل اطمینان نہیں!بالخصوص حکومت اور ایم۔آر۔ڈی کی تازہ محاذآرائی نے تو اس ملک کے ہر بہی خواہ کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ ناجانے اس کا انجام کیا ہوگا؟
یوم آزادی کو جہاں ایک طرف اس تجدید عہد کا دن قرار دیاجارہا تھا کہ جس ا خوت،اتحاداورتنظیم کی بدولت ہمیں آزادی ملی، اور یہ ملک پاکستان معرض وجود میں آیاتھا۔آئندہ بھی ہمیں اسی اتحاد ویکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی حفاظت اوراستحکام کے لئے جدو جہد کرنا ہوگی وہیں دوسری طرف بغض وعداوت اتمشار وانارکی اور بدامنی وبدنظمی کی راہیں ہموار کرتے ہوئے ملک دشمنی کے سامان بھی فراہم ہوتے رہے!چاہیے تو یہ تھا کہ (عربی) کی نظریاتی بنیادوں پر قائم ہونے والے اس ملک کو اس دن واقعتاً انہی بنیادوں پر استوار کرنے کے عزم صمیم کے ساتھ ساتھ تلافی مافات کی بھی کوئی صورت نکالی جاتی،لیکن ہوا  یہ کہ نفاذ فقہ جعفریہ کے اسلام دشمن اور ملک دشمن نعرے کو محض اقتدار طلبی کی خاطر حکومت کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیاگیا۔اور اس نعرے کو بلند کرنے میں وہ لوگ پیش پیش تھے جنھیں نہ صرف اس نعرے  کی سنگینی کا پورا پورا احساس تھا بلکہ یہ نعرے لگاتے وقت جن کے دل ودماغ بھی ان کی زبانوں کاساتھ نہیں دے رہے تھے!پھر یہ وہی لوگ تھے کہ آج سے کچھ عرصہ قبل یہ جن لوگوں کے خلاف متحدہ محاذ بنا کر،ان کو ملک دشمن اور ملک توڑنے کے واحد زمہ دار قرار  دینے میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرچکے تھے۔آج انہی کے دوش بدوش حکومت کے خلاف محاذ آرائی میں انھیں قطعاً کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ ہوئی۔اور وہ فخر سے سربلند"متوقع کامیابی" کے نشے میں سرشار عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کررہے تھے کہ ان کے "نجات دہندہ"صرف یہی لوگ ہیں۔لہذا عوام الناس کو ان کی قائدانہ صلاحتیوں پراز سر نو ایمان لے آنا چاہیے!

ادھر اخبارات کے مطابق گڑھی خدا بخش میں جہاں شاہنواز بھٹو کی تدفین ہوئی۔بھٹو کی تصاویر کے ساتھ ساتھ خمینی کی تصویریں بھی آویزاں کی گئیں!سوال یہ ہے کہ ایم ۔آر۔ڈی کو نفاذ فقہ جعفریہ سے اورخمینی کو شاہنواز بھٹو سے کیا دلچسپی اور تعلق ہے؟ایم ۔آر ۔ڈی میں قومی اتحاد کے بعض سابق راہنماؤں اور ان کی جماعتوں کے علاوہ پیپلز پارٹی ہی ایک بڑی جماعت ہے۔اور اس ہجوم میں اگر نفاذ فقہ جعفریہ کے نعرے بھی بلند ہوئے ہیں۔اورشاہ نواز بھٹو کی موت سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوششوں کے علاوہ پاکستان میں خمینی کی تصاویر بھی آویزاں کی گئیں توصاف ظاہر ہے کہ ایم ۔آر۔ڈی۔بشمول پیپلز پارٹی ہوس اقتدار کے جنون میں اس حد تک آگے جاچکی ہے کہ اس نے خمینی کی ہمدردیاں حاصل کرنے سے  بھی نہ صرف پس وپیش نہیں کیا بلکہ اس نے حکومت ایران کو بطور فریق حکومت پاکستان کے خلاف میدان میں کھینچ لانے کی بھی ایک شرمناک کوشش کی ہے۔جس کا نتیجہ خدانخواستہ پاکستان اور ایران کی محاذ آرائی کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے!یوں معلوم ہوتا ہے کہ اندرون ملک اور بیرون ملک پاکستان دشمن قوتیں ایک مرتبہ پھر لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں آچکی ہیں۔اور اس کے لئے وہ ہر ایسا ممکن حربہ آزمالیناچاہتی ہیں جو ان کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرسکے!(عربی)

نفاز فقہ جعفریہ کا نعرہ ایسا نعرہ نہیں ہے کہ جس کے نتائج سے صرف نظر کرتے ہوئے اسے نظر انداز کردیا جائے یا اس کو محض سیاسی حمایت طلبی کا ذریعہ تصور کرلیا جائے۔چنانچہ اس کی تائید وہمنوائی کے نتائج بڑے ہولناک اور انتہائی سنگین ہوں گے۔کیا جن لوگوں نے خون کی ندیاں عبور کرتے ہوئے اس سرزمین پاکستان پر قدم رکھے تھے ان کا مقصود یہی تھا کہ کتاب وسنت کی بجائے یہاں فقہ جعفریہ کا نفاذ ہو؟۔۔۔یہ تصور بھی کس قدر مضحکہ خیز ہے؟وقت کی دھول نے اگرچہ تحریک پاکستان کے آثار ونقوش کو بڑی حد تک دھند لادیا ہے۔مگر یہ اس قدر مٹ بھی نہیں گئے کہ(عربی)کی بجائے اب (عربی) کانعرہ بلند ہو اور کہیں سے بھی یہ آواز سنائی نہ دے کہ:

خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے

پھر تعجب بالائے تعجب ،کہ ایک اقلیتی گروہ نےنفاذ فقہ جعفریہ کی آواز بلند کرتے ہوئے"تحریک نفاذ فقہ جعفریہ" کی داغ بیل ڈال دی،تو ایک دوسرے اکثریتی گروہ نے"متحدہ سنی کنونشن" میں فقہ حنفی کے نفاذ کا مطالبہ داغ دیا۔گویا مؤخر الزکر نے اول الزکر کو یہ جوازفراہم کردیا کہ اگرفقہ حنفی کے نفاذ کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے تو فقہ جعفریہ کے نفاذ کا مطالبہ کرنے والے بھی بلاشبہ حق بجانب ہیں۔اور ا نہیں اپنی مساعی کو تیز سے تیز کردینا چاہیے۔چنانچہ ادھر سے تم نکلو،ادھر سے ہم تشریف لاتے ہیں پھر دیکھو جیت کس کی ہوتی ہے؟۔۔۔ہماری ؟تمہاری؟یا ان اسلام دشمن قوتوں کی؟کہ جن کی نگاہوں میں پاکستان کا وجد کھٹکتا ہی محض اس لئے ہے کہ یہاں کتاب وسنت کا کوئی نام لیوا باقی نہ رہے۔سو یہ مشکل اگر مختلف فقہوں کودین وشریعت سمجھنے والے خود  اہل وطن نے حل کردی تو بیرونی دشمنوں کو ہاتھ پاؤں ہلانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔ایک تو اس لئے کہ"یہ تہذیب آپ ہی اپنےخنجر سے خود کشی کرے گی۔اور دوسرے اس لئے کہ جب کتاب وسنت کی اہمیت اب تبرکاً بھی نہ رہی،تو دشمنوں کو کیا پڑی ہے کہ ان کے پھٹے میں ٹانگ اڑائیں؟۔۔۔پھر کنفڈریشن کانعرہ بلند کیجئے یا متحدہ ہندوستان کا۔۔۔یا اس ملک کو بدستور پاکستان ہی  کا نام دیتے رہیے اور یوم آزادی بھی دھوم دھڑلے سے مناتے رہیے ان کی بلا سے:۔۔۔کہ جب آزادی اورغلامی کا تصورہی خلط ملط ہوکر رہ گیا۔ تو پھر جشن آزادی مناؤ یاجشن غلامی ،اس سے فرق بھی کیا پڑتا ہے؟فرمایا رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔(عربی)

لیکن اے اہل وطن،اگر یہ تصور بھی تمہارے لئے ہولناک ہے کہ غیر کے لئے تمہارا وجود وعدم یکساں ہوکررہ جائے اورتم اپنی انفرادیت کھو بیٹھو،تو پھر باور کرو کہ تمہارا اتحاد  وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔جبکہ تمہارے اتحاد کی واحد بنیاد دستور محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر تمہارا متفق ہوجانا ہے!۔۔۔ورنہ نفاذ فقہ جعفریہ کا مطالبہ کرنے والا اگر یہ مطالبہ اس بناء پر کرتا ہے کہ یہ فقہ اس کے نزدیک معتبر ومحترم ہے اور فقہ حنفیہ کے نفاذ کا مطالبہ کرنے والے کے نزدیک فقہ حنفیہ معتبر ومحترم تو ان ہردو کو ایک دوسرے کی تردید کا حق ہی کہاں پہنچتا ہے؟۔۔۔ہاں دونوں ہی اپنی اپنی  فقہ کے نفاذ کا مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ہر دو کا مرکزاطاعت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہے جو بہرحال غیر معصوم ہے اورجس کے بارے میں اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری تاہم انتشار ملت جس کا لازمی نتیجہ ہے!لیکن اس کی بجائے اگر ہردو کا مقصود اسلام ہے اور"اعتصام بحبل اللہ ،انہیں عزیز تر تو اس کا ماخذ اورذریعہ صرف اور صرف کتاب وسنت ہے۔جو خود ان لوگوں کا بھی مشترکہ مرکز اطاعت ہے کہ جن کے نام سے یہ مختلف فقہیں منسوب ہیں!۔۔۔لہذا شیعہ سنی اتحاد کی واحد اساس کتاب وسنت ہے،اور جو خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین  بشمول ائمہ اہل بیت رضوان اللہ عنھم اجمعین  سب کا متفقہ دستور رہا ہے۔حتیٰ کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دستور بھی یہی تھا۔اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کے ساتھ ساتھ حکمران بھی تھے۔اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جملہ امور مملکت کی بنیاد کتاب وسنت پررکھی تھی!کتا ب وسنت کی یہی وہ دستوری حیثیت تھی کہ جب خلیفہ وقت نے امام مالک ؒ کو یہ مشورہ دیا کہ ان کی موطا کو ملک کا آئین بنادیاجائے تو آپ ؒ نے فرمایا تھا:کہ"ہرشخص  کی بات قبول کی جاسکتی ہے اور رد بھی کی جاسکتی ہے۔سوائے اس صاحب قبر (  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)کے!(کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات صرف قبول ہی کی جائےگی،ردہرگز نہ کی جائے گی!)

۔۔۔الغرض یہ کوئی ایسا متنازعہ فیہ مسئلہ نہیں کہ جس پر دلائل ڈھونڈنے کی ضرورت پیش آئے۔خود صدر  مملکت جنرل محمد ضیاء الحق کے یہ الفاظ آج بھی ہمارے ذہنوں میں گونج رہے ہیں جو انہوں نے بانی پاکستان مسٹر محمد علی جناح کے حوالے سے اپنی ایک نشریاتی تقریرمیں دوہرائے تھے کہ:

"مسلمان اپنا دستور خود مرتب کرنے کا حق  نہیں رکھتے۔ان کا دستور مرتب ومدون ان کے ہاتھوں میں موجود ہے اور وہ ہے قرآن مجید!"
لہذاقرآن مجید اور اس کی واحد متعین تعبیر (سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کو چھوڑ کراب ائمہ کے اجتہادات کو دستور وآئین کا درجہ دینے والوں سے یہ سوال کرنے کاہمیں حق حاصل ہے۔کہ یہ غیر متبدل اور دائمی دستور اسلام کیا اب منسوخ ہوگیا ہے جو تم مختلف فقہوں پر ایمان لانے کی دعوت لے کر اٹھے ہو؟اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو توذرا ہمیں یہ بھی بتاؤ کہ کتاب وسنت کب منسوخ ہوئے تھے اور سے کس نے منسوخ کیاتھا؟(عربی) تو اپنی اپنی فقہ کے نفاذ کے مطالبہ سے دست بردار ہوکر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہوجاؤ۔اورصرف اور صرف کتاب وسنت کو بطور دستور نافذ کرنے کامطالبہ کرو!۔۔۔کہ یہی معنیٰ ہے(عربی) کا یہی مفہوم ہے۔(عربی) کا۔۔۔اسی کلمہ پرتمہارے ملک پاکستان کی بنیادیں اٹھائی گئی تھیں۔انہی بنیادوں پر یہ ملک پاکستان قائم رہ سکتا ہے۔اوراسی پر تمہاری جملہ دنیوی اور اخروی کامیابیوں کا انحصار ہے۔

مصطفےٰ برساں خویش را کہ دین است
اگر باد نہ رسیدی تمام بولہبی ست!

(اکرام اللہ ساجد)