ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

  • ستمبر
1985
اکرام اللہ ساجد
خلفائے راشدین  رضوان اللہ عنھم اجمعین بشمول ائمہ اہل بیت رضوان اللہ عنھم اجمعین کادستور کتا ب وسنت 
وقت کاتقاضا ہے کہ اس دستور محمدیؐ پرمتفق ہوجائیے!!!
وطن عزیز نہ صرف اس وقت چاروں طرف سے بیرونی خطرات کی زد میں ہے بلکہ اس کی داخلی صورت حال بھی کسی طورپرقابل اطمینان نہیں!بالخصوص حکومت اور ایم۔آر۔ڈی کی تازہ محاذآرائی نے تو اس ملک کے ہر بہی خواہ کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ ناجانے اس کا انجام کیا ہوگا؟
یوم آزادی کو جہاں ایک طرف اس تجدید عہد کا دن قرار دیاجارہا تھا کہ جس ا خوت،اتحاداورتنظیم کی بدولت ہمیں آزادی ملی، اور یہ ملک پاکستان معرض وجود میں آیاتھا۔آئندہ بھی ہمیں اسی اتحاد ویکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی حفاظت اوراستحکام کے لئے جدو جہد کرنا ہوگی وہیں دوسری طرف بغض وعداوت اتمشار وانارکی اور بدامنی وبدنظمی کی راہیں ہموار کرتے ہوئے ملک دشمنی کے سامان بھی فراہم ہوتے رہے!
  • ستمبر
1985
عبدالرحمن عاجز
طائر ذکر پیمبرؐ مائل پرواز ہے                                یہ زمین کیا آسماں بھی فرش پاانداز ہے
آپؐ کےحسن تخاطب میں وہ سوزوساز ہے        زرہ زرہ دو جہاں کا گوش برآزاز  ہے
رفتہ رفتہ پھول کھلتے ہیں چمن میں جس طرح           ہاں لب کے کھلنے کا یہی انداز ہے
قیصروکسریٰ کے ایوانوں میں آئے زلزلے         آپؐ کی دعوت کا مکہ میں ابھی آغاذ ہے
  • ستمبر
1985
ثنااللہ مدنی
1۔مسئلہ وراثت اور اس کا حل
2۔شرعی طور پرحق مہر کی کوئی  مقدار متعین ہے یا نہیں؟
1۔سوال۔ایک عورت کا انتقال ہوجاتا ہے جو اپنے پیچھے حسب ذیل ورثاء چھوڑ جاتی ہے۔ان میں جائیداد کس طرح تقسیم ہوگی؟باپ۔ماں ۔بیٹا۔بیٹی۔خاوند جواب دے کر عنداللہ ماجور ہوں۔
الجواب بعون الوھاب
صورت مرقومہ میں والدین میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے۔
قرآن مجید میں ہے:یعنی"میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لئے اس کے ترکہ میں سے  چھٹا حصہ ہے بشرط یہ کہ میت کی اولاد ہو۔"
نیز بیٹے اور بیٹی کے درمیان جائداد(عربی)کے اصول کے تحت تقسیم ہوگی۔یعنی لڑکے کو لڑکی کی نسبت دوگنا حصہ ملے گا۔
اور صورت مسئولہ میں خاوند کے لئے چوتھا حصہ ہے۔کیونکہ میت  کی اولاد موجود ہے۔قرآن مجید میں ہے:یعنی اگر عورتوں کی اولاد موجود ہے تو خاوندوں کے لئے ان کے ترکہ میں سے چوتھا حصہ ہے۔تقسیم ہذا وصیت کے نفاذ یاقرض کی  ادائیگی کے بعد ہوگی۔باپ۔2۔2۔ماں۔6۔2۔بیٹا ۔5۔10۔بیٹی۔5۔5۔خاوند 9۔3۔(حافظ ثناء اللہ مدنی)
  • ستمبر
1985
عبدالرحمن عزیز
 جعفر صادق کا فرمان:
"مخالفین میں سے ایک شخص نے حضرت ابو بکر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   اور حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے متعلق اما م جعفر صادق ؒ سے سوال کیا تو آپ نے جواباً فرمایا کہ:"وہ  دونوں(ابوبکر وعمر رضوان اللہ عنھم اجمعین ) عادل ،منصف امام تھے۔وہ دونوں حق پررہے اور حق پر انہوں نے وفات پائی۔پس ان دونوں پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔"(احقاق الحق ص16)
پھر مدائن کے مال غنیمت میں شہزادی شہر بانو کا آنا اور حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کا حضرت علی   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے مشورہ سے اس شہزادی کا حضرت حسین   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے نکاح کرنا اور حق مہر بیت المال سے ادا کرنا شیعہ حضرات کی معتبر کتب مثل اصولی کافی منتہی الامال جلد دوم جلاالعیون ص239) سے ثابت ہے۔اگر خلافت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   غیر حقہ اورغاصبانہ تھی تو یہ نکاح کیسے درست ہوسکتا ہے؟یہ بھی یاد رہے کہ حضرت زین العابدین علی بن حسین   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   شہزادی شہر بانو کے فرزند ارجمند ہیں۔
  • ستمبر
1985
فضل روپڑی
ہر بات میں ہے بے بس مجبور آدمی ۔ حیران ہوں پھر ہے کس لئے مغرور آدمی
دولت کے نشے میں جو ہوا چور آدمی۔       انسانیت سے ہے وہ بہت دور آدمی
پابند یہ نہیں ہے کسی بھی اصول کا۔        رکھتا نہیں ہے کوئی بھی دستور آدمی
  • ستمبر
1985
اکرام اللہ ساجد
پروفیسر صاحب کے نزدیک کتا ب وسنت کی حیثیت اور اسلام میں"اجتہاد وتعبیر کا تصور"ان کی مندرجہ ذیل عبارات سے واضح ہے:
1۔وضاحتوں والے مضمون میں آپ اپنے پہلے مضمون کے تبصرہ نگاروں سے شکوہ  کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"ان میں سے بعض نے دلیل سے بات کرنے کی بجائے تہدید وترہیب اور سب وشتم سے بھی کام لیا ہے۔اورچند ایک نے ایسی معروف روایات کی معلوم تشریحات کو دوہرایا  ہے۔جن سے عورت کو ڈھانپ کر رکھنے برقعہ پہننے اور گھونگھٹ نکالنے کے موقف کی حمایت کا پہلو تلاش کرنے میں مدد ملتی ہے۔افسوس ان میں سے کسی معترض نے موجودہ سماجی حالات اورہرآن تیزی سے پیدا ہوتے اور بدلتے حقائق کے دباؤ کا قطعاً کوئی ذکر نہیں کیا۔"
2۔(پردے کے بارے میں قرآنی احکامات پرغورکرتے ہوئے)نزول آیات کے زمانے اورآج کے زمانے کے معاشرتی مقتضیات کو پیش نظررکھنا پڑے گا۔کہ یہ احکام کیوں نازل ہوئےان کے اخلاق کی ظاہری صورت کیابنتی تھی۔اور آج ان احکام کی غرض وغایت کو عملی طور پر کونسی شکل میں ڈھالا جاسکتا ہے!"
  • ستمبر
1985
عبدالرحمن عاجز
بنت ملت کو نہ بے پردہ پھرائے کوئی                       دین اسلام پرچرکا نہ لگائے کوئی
خود جو پھرتی ہو نقاب اپنا اٹھائے کوئی             اس کوفتنوں سے بھلا کیسے بچائے کوئی
لاتبرجن سے واضح ہے مقام پردہ                   رسم فرسودہ نہ پروے کو بتائے کوئی