روزنامہ "جنگ"کی 4 تا7جولائی کی چاراشاعتوں میں پروفیسر وارث میر کا ایک مضمون بعنوان "عورت،پردہ اورجدید زندگی کےمسائل شائع ہوا ہے!
صاحب مضمون کو ابھی حال ہی میں"اجتہاد وتعبیر" کاشوق چرایا ہے۔اور یہ مضمون لکھنے سے قبل اسی سلسلہ کے چند اخباری بیانات داغ کر وہ اس زعم میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ اجتہاد وتعبیر کامیدان گویا صدیوں سے انھی کا منتظر چلا آتا تھا۔چنانچہ اب یہ"گوہر مقصود"اسے مل گیا ہے ۔اور اسی بناء پرانہوں نے یہ طویل مضمون لکھا ہے:
جہاں تک فن تحریر کاتعلق ہے ہمیں یہ اعتراف ہے کہ پروفیسر صاحب الفاظ سے کھیلنا جانتے ہیں۔جبھی تو اسلامی تقدس پر وہ رہ رہ کر حملہ آور ہوئے ہیں۔لیکن خوداسلام کے نام پر اور مسلمانوں کے حوالہ سے!۔۔۔چنانچہ اپنے مضمون کے آخر تک انہوں نے اس بات کااظہار نہیں ہونے دیا کہ موضوع زیر بحث میں ان کااپنا موقف کیا ہے اور وہ کہنا کیاچاہتے ہیں؟الا یہ کہ زبردستی کوئی بات ان کےقلم سے نکل گئی ہو!البتہ اس مضمون کے رد عمل کے طور پر جب بعض حلقوں کی طرف سے ان کے خلاف شدید وغم وغصہ کا اظہار خطوط وغیرہ کی صورت میں ہوا جن میں مردوں کے علاوہ خود مسلمان خواتین بھی شامل ہیں۔تو انہوں نے اسے کمال ڈھٹائی سے"پزیرائی" کا نام دیتے ہوئے مزید تین قسطوں میں "عورت اورپردہ چند وضاحتیں"کے نام سے ایک نیا مضمون لکھ مارا۔جس میں مؤقف کی حد تک انہوں نے قدرے کھل کر بات کی ہے۔لیکن گرجنے اور برسنے میں اسی قدر اب نہ صرف محتاط ہوگئے ہیں۔بلکہ ا پنی بعض سابقہ بیباکیوں اورہرزہ رسائیوں سے رجوع بھی فرمالیا ہے۔تاہم الفاظ کے ہیر پھیر سے  تاکہ خفت نہ اٹھانی پڑے۔اور کچھ نئی بحثیں چھیڑ کر جو ان کی جلالت علمی کا مزید ثبوت مہیا کرتی ہیں۔تاکہ ان کا پہلا مضمون Cover ہوجائے۔اور یوں ان کا نیا مضمون عذر گناہ بدتر از گناہ " کا مصداق ہوکر رہ گیا ہے!

پروفیسرصاحب پہلا مضمون توجوش جذبات میں لکھ گئے تھے جبکہ ان کی نئی وضاحتوں نے انھیں ایک نئے چکر میں ڈال دیا ہے۔بہرحال یہ اندھے جذبات"اور وضاحتوں کایہ گھن  چکر"دونوں ہی اسلام وفکر تہذیب کے لئے سم قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں۔اور انھیں خدشات کے پیش نظر ہم نے اس کا نوٹس لینا ضروری سمجھا ہے۔چنانچہ پہلے ہم اس کا ا یک عمومی جائزہ لیں گے۔اور پھر اس کے خاص خاص نقات کا رد کتاب وسنت کی روشنی میں پیش کریں گے۔ان شا ء اللہ (عربی)

اس مضمون کی ابتداء جریدہ"عریبیا"لندن کے حوالے سے صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کے اس اعتراف سے ہوتی ہے کہ وہ پاکستان میں اسلام کے مطابق طرز حکومت قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے!"جس سے پروفیسر صاحب اس نتیجہ پرپہنچے ہیں کہ حکومت کا بنیادی مقصد اسلامی نظام کاقیام نہیں تھا بلکہ اس کی آمد آمد کی نفیری بجاتے ہوئے    مارشل لاء کو قائم رکھنے کاجواز مہیا کرناتھا!"۔۔۔اب یہ بات توصدر صاحب جانیں کہ وہ ان سے کہاں تک اتفاق کرسکتے ہیں؟البتہ پروفیسر صاحب کی  یہ تجویز ہمارے لئے بھی پیش نظر ہے کہ:

"پاکستان میں اسلامی نظام دوسرے الفاظ میں فلاحی اور جمہوری نظام کاآغاذ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک غیر منصفانہ اور غیر مساویانہ اقتصادی نظام تبدیل نہیں ہوتا۔اورسیاست وحکومت اور پالیسی ساز ادروں کی باگ ڈور ان لوگوں کے ہاتھ میں نہیں آتی جن کاعوام اورعوام کی زندگی کے مسائل کے ساتھ براہ  راست تعلق ہے!"

ان سطور میں  پروفیسرصاحب نے اسلامی نظام جمہوری نظام اوراشتراکی نظام تینوں کو خلط ملط کرکے رکھ دیا ہے۔ہم انھیں یاد دلائیں گے  کہ اسلامی نظام فلاحی نظام ضرور ہے۔لیکن جمہوریت کے خدوخال اپنے ہیں اور اسلام کے اپنے۔اسی طرح مساویانہ اقتصادی نظام کانعرہ اشتراکی نعرہ ہے۔اورجمہوریت اوراشتراکیت دو الگ الگ نظام ہیں۔پھر اسلام کا دائرہ کار صرف عوامی مسائل اوراقتصادی نظام تک محدود نہیں ہے۔بلکہ یہ ایک ایساجامع مکمل اور ہمہ  گیر نظام ہے۔جو انسان کے دنیوی اور اخروی جملہ پہلوؤں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے!۔۔۔لیکن اگر آپ کی معلومات بس اسی قدر ہیں کہ غیر مساویانہ اقتصادی نظام اورعوامی مسائل سے آپ نے اسلام کو خاص سمجھ لیا ہے تو حکومت اور علمائے دین سے آپ کو یہ شکایت کیوں ہے کہ:

"حکومت کے نامزد اداروں میں یہی بحثیں ہوتی رہی ہیں اور خطبات جمعہ کے موضوعات بی یہی رہے ہیں کہاانڈہ حرام ہے یا حلال؟اور عورتوں کو ایسی محفل میں شریک ہونے کی اجازت ہے یا نہیں جہاں مرد بھی موجود ہوں؟"

حالانکہ اسلام میں حرام وحلال کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے ۔جسے آپ نے یوں تضحیک کا نشانہ بنایا ہے۔چنانچہ بے شمار ایسی چیزیں ہیں جو اسلام میں ممنوع اور حرام ہیں۔لیکن انہیں حلال قرار دے لینے سے نوبت کفر وشرک تک جاپہنچتی ہے۔اسی طرح اگر کسی حلال چیز کو حرام  قراردے دیا جائے تو اس کی اجازت اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہیں دی:

(عربی)

۔۔۔ویسے بھی آپ کا زیر نظر مضمون پڑھنے کی نسبت بدرجا یہ بہتر ہے کہ کسی خطبہ جمعہ میں انڈہ کی حلت اور حرمت کی تردید کے دلائل پیش کئے جائیں کہ کم از کم اس میں اسلام کے نام پر مغربیت کا پرچار تو نہ ہوگا!۔۔۔

رہا یہ سوال کہ "عورتوں کو ایسی محفلوں میں شرکت کی اجازت ہے یا نہیں جہاں مرد بھی موجود ہوں؟"اگر  آپ کے نزدیک یہ اسی قدر غیر اہم تھا آپ کو روزنامہ "جنگ"کے یہ ڈھیر سارے صفحات کالے کرنے کی کیا ضرورت پیش آگئی تھی۔اورآپ نے اس سے بڑھ کر کون سا تیر مار لیا ہے؟

در اصل پروفیسر صاحب کو حکومت سے یہ شکایت ہے کہ نفاذ اسلام کی ان کو ششوں میں حکومت نے ان کی خدمات سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا، جو اسلام کے نام پر بے حیائی کو فروغ دینے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔اور جس کا ثبوت چار اقسام پر مشتمل ان کا زیر نظر مضمون ہے!۔۔۔جن کی اسلامی معلومات اسقدر "وسیع" ہیں کہ اپنے اس مضمون میں انہوں نے طویل فقہی مباحث کوچھیڑا ہے۔لیکن امام ابو حنیفہ کے شاگرد اما م محمد کو ا بو محمد کے نام سے دودفعہ یادفرمایاہے۔۔۔غالباً اس مغالطہ کی وجہ امام صاحب کے دو مشہور شاگرد اما م ابو یوسف  کا نام ہے گویا یہ نام بھی انہیں صحیح یاد نہیں!۔۔۔علاوہ ازیں اجتہادی بصیرت میں وہ اس بلند مرتبہ پرفائز ہیں۔ کہ اجتہاد کو انہوں نے حاملین کتاب وسنت کی بجائے وزیروں اور مشیروں کا فریضہ بتلایا ہے۔اور ان سے یہ شکوہ کیا ہے کہ ان میں یہ اجتہاد کی جرائت اور حوصلہ پیدا نہ ہوا؟پھر لغت کے اس قدرماہر اوراس پر عبور رکھنے  والے "کہ فرماتے ہیں:

"عہد حاضر میں کھیلوں کو لہوولعب میں شمار نہیں کیا جاتا۔"

حالانکہ عربی لفظ لعب کے معنی ہی کھیل کے ہیں اور کھلاڑی کو عربی زبان میں لاعب کہتے ہیں۔اس کے باوجوداگر عہد حاضر میں کھیلوں کااگر لہو ولعب میں شمار نہیں کیا جاتا تو یہ پروفسیرصاحب کااپنا اجتہاد ہوگا۔ورنہ اسلام میں ہر وہ چیز جو انسان کواپنے مقصدحیات سے ہٹادے اوراپنےخالق سے وورکردے لہوولعب میں شمار ہوتی ہے۔اورموجودہ کھیلوں نے اس سلسلے میں جس قدرگھناؤنا کردار ادا کیا ہے۔اہل دل اس پر بار بارخون کے آنسو روتے اورر رلاتے ہیں۔

اسی طرح فکر رسائیں  پروفیسرصاحب نے وہ حظ وافر پایا ہے کہ ارشاد ہوتا ہے:

"عورت کا مرد سے منہ چھپانا در اصل مرد کی نیت کے منہ پر تھپڑ رسید کرنا ہے۔منہ چھپانے والی عورت در اصل مرد کو اخلاقی لحاظ سے  ایک کمزور اور ناقابل اعتبار مخلوق قراردے رہی ہوتی ہے کیا عورت کے کانوں کی ساخت مرد کے کانوں کی ساخت سے مختلف ہے؟کیا عورت کی آنکھوں کا مصرف مرد کی آنکھوں سے مختلف ہے؟اگر قدرت کا کوئی ایسا منشا ء ہوتا کہ عورت اس کی عطا کردہ صلاحیتوں کا صرف محدود استعمال کرسکتی تو قدرت عورت کی ان صلاحتیوں کو خود ہی کوئی مختلف ساخت دے دیتی!"

۔۔۔یعنی پروفیسر صاحب کے نزدیک عورت کےلئے پردہ جب ضروری ہوتا جب اس کےکانوں اور آنکھوں کی ساخت کسی ڈائن یا پری کے کانوں اور آنکھوں ایسی ہوتی۔اور مردوں کی قابل اعتبار مخلوق صرف وہ ہے جو غیر کی بہو بیٹیوں کو تاڑا کرتے ہیں۔پھر ساتھ ہی ساتھ اپنی نیت کےمنہ کو تھپڑ سے بھی محفوظ فرمالیتے ہیں!

پروفیسر صاحب ہمارے نزدیک حیا دار خواتین کا غیر مردوں سے منہ چھُپانا در اصل احکام الٰہی سے ان کی محبت کامنہ بولتا ثبوت ہے اور شریف مرد بھی بہرحال قابل اعتبار مخلوق کہ یہاں بھی اس پردہ کی بنیاد اطاعت الٰہی اوراطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے!۔۔۔لیکن آپ کے نزدیک اگر یہ مرد کے منہ پر تھپڑ ہے تو آپ ایسے آزادی کےمتوالوں کی ہزار غلط تمناؤں کے باوجود بحمداللہ آج بھی کروڑوں ایسی مسلمان خواتین ہیں جو غیر مردوں سے اپنا منہ چھپاتی ہیں لہذا اسی قدر  تھپڑ اپنے منہ پر شمار کرلیجئے!لیکن افسوس کے آ پ پھر بھی ایک کمزور اور ناقابل اعتبار مخلوق ہیں!آپ کوان الفاظ سے دکھ تو ضرور ہوگا تاہم یہ آپ کی تحریر کامنطقی نتیجہ ہے!۔۔۔ویسے بھی آ پ کوعلماء سے شکایت ہے کہ انہیں منطق نہیں آتی امید ہے یہ غلط فہمی دور ہوجائے گی۔

اسی طرح پردہ کا "اسلامی تصور"پروفیسرصاحب کے ہاں یہ ہے کہ:

"تحقیق کریں تو  آپ کو معلوم ہوگا کہ دراصل فتنے کا باعث عورت کے وہ اعضاء نہیں ہوتے جو بالعموم کھلے رہتے ہیں بلکہ فتنے کا اہم ترین سبب ایک عورت کی وہ حرکات وسکنات اور اس کے و ہ اخلاق ہوتے ہیں جو اس کی چال ڈھال سے ظاہر ہوتے ہیں۔اور اس کی اندرونی خواہشات کا پتہ دیتے ہیں۔اور ایک عورت کو نقاب اور برقعہ کے اندر یہ سب کھل کھیلنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔کیونکہ نقاب اوربرقعہ کی وجہ سے اس کی شناخت نہیں ہوسکتی اور اسے اس بات کا ڈر نہیں ہوتا کہ کوئی اس کا قریب یادور کا جاننےوالا اسے پہچان لے گا اور ہر ایک سے یہ کہتا پھرے گا کہ فلاں عورت یا فلاں کی بیوی یا بیٹی یہ یہ کررہی تھی۔چنانچہ برقعہ اور نقاب کے اندر اس کا جو جی چاہتا ہے کرتی ہے اور کوئی اس کو پہچاننے والا نہیں ہوتا۔اب اگر اس کا چہرہ کھلا رہتا تو اس کو اپنے خاندان اور عزت کا خیال رہتا۔اوراس کی وجہ سے شرم وحیا ایسے ایسی حرکات نہ کرنے دیتی جن کی طرف لوگوں کی نظریں اٹھتی ہیں!"

اللہ اللہ فکر ونظر کی یہ بلندیاں!۔۔۔یا پروفیسر صاحب کے اپنے ہی الفاظ ہیں۔جو  انہوں نے "وضاحتوں" کے عنوان کے تحت ایک تبصرہ نگار بزرگ کو مخاطب کرکے کہے ہیں کہ:

"اللہ پناہ!عورت کے معاملے میں کس قدرزرخیز تخیل پایا ہے۔ہمارے بزرگ(پروفیسر صاحب) نے ۔جنس کی عینک لگ جائے تو نگاہوں میں "لیز بیم"لہرانے لگتی ہے۔اور"نیک سرشت"لوگوں کو بھی معاشرے کے بطون میں گٹر ابلتے دکھائی دینے لگتے ہیں۔میرا تو خود جی چاہتا ہے کہ یہ درد مند بزرگ مل جائیں تو اُن کے ساتھ مل کر پاکستان میں مغرب پرستی کے پروئے میں پروان چڑھنے والی معصیت پسندی اور ٹی وی ڈراموں اور دوسرے زرائع ابلاغ کے اشتہارات میں عورتوں کے بے محابانہ تاجرانہ استعمال کےخلاف ایک زبرست مہم چلاؤں۔اور نیکی ،شرافت اور تقدیس مشرق کے نام ونہاد محافظوں کو بتاؤں کہ اس قسم کے ہوش ربا نظاروں والے ملک میں کسی محنت کش اور ملازمت پیشہ نیک خاتون کے کھلے چہرے کی وجہ سے اسلام خطرے میں نہیں پڑسکتا!"

۔۔۔لیکن پروفیسر صاحب آپ کی ان نیک تمناؤں کا اظہار آپ کے دوسرے مضمون میں اُس وقت ہوا ہے جب اس نیک دل بزرگ نے آپ کا خاطر خواہ محاسبہ کیا ہے!۔۔ورنہ مذکورہ بالا پہلی عبارت بھی آپ ہی نے اپنے پہلےمضمون میں نقل فرمائی ہے۔اور اس وقت تک آپ کو یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ یہ الفاظ نقل کرکے آپ نے کتنے ہی شرفاء کی عزت پر کیچڑ اچھالا اورکتنی ہی شریف حیادار باعفت اور عصمت مآب ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کو کتنی بڑی اور غلیظ گالی دے دی ہے!

۔۔۔اس پوری عبارت کو ملاحظہ فرمائیے جس میں آپ نے پردہ دار خواتین کے خلاف یہ ہرزہ سرائیاں فرمائی ہیں۔اور پھر اپنی اس چابکدستی پر اپنے آپ کو شاباش دیجئے کہ اپنے دوسرے مضمون میں آپ نے اس پوری عبارت کو صرف مندرجہ ذیل الفاظ لکھ کر گول کردیا ہے کہ:

"مروجہ برقعہ کے اندر عورت کے جذبات اور اس کی حرکات وسکنات کا احتساب نسبتاً مشکل ہوجاتا ہے!"

تاہم سوال یہ ہے کہ آپ کے پہلے مضمون میں تو یہ حرکات وسکنات اس قدر واضح تھیں کہ یہ فتنے کا اہم ترین سبب بھی بن جاتی تھیں لیکن دوسرے  مضمون میں"وضاحتوں"کے باوجود یہ اتنی غیر واضح کیوں ہوگئیں کہ ان کا احتساب بھی مشکل ہوکر رہ جائے؟۔۔۔علاوہ ازیں آپ کا نظام احتساب کیا چہرے پہچان کر حرکت میں آتا ہے کہ "فلاں عورت یافلاں کی بیوی یا بیٹی یہ یہ کر رہی تھی"۔۔۔ورنہ نہیں؟۔۔۔پھر یہ جذبات کا محاسبہ کرنے کی بھی آپ نے ایک ہی کہی!۔۔۔مزید یہ دیکھئے کہ چہرے پہچان لینے پر بھی یہ احتساب کون کرے گا؟۔۔۔"فلاں کی بیوی یا بیٹی" کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ یہ شوہر اورباپ ہی ہوسکتے ہیں۔۔۔توگویا آپ نے بھی عورت پر مرد کامحتسب ہونا تسلیم فرمالیا!۔۔۔اور یہی مطلب ہے"(عربی)کا!پھر سرمایہ دارانہ اور جاگیر دارانہ پروے،کے وہ نعرے کیا ہوئے جو آپ نے پہلے مضمون میں رہ رہ کر لگائے ہیں؟لیکن یہاں چوکڑی بھول کررہ گئے ہیں:

اپنے پہلے مضمون میں آپ نے مذکورہ عبارت مصر کے امین قاسم کی ایک کتاب "مسلمان عورت کی آزادی"سے نقل کی تھی۔اور  اس کتاب کو آپ نے"بعد کی نسلوں کےلئے قیمتی متاع"اور اس میں درج شدہ باتوں کو"فکر انگیز" اور"سچی باتیں"قراردیا تھا۔جبکہ دوسرے مضمون میں یہ خراج تحسین صرف ان الفاظ میں بدل کررہ گیا ہے کہ:

"میں نے مصر کےامین قاسم کی  یہ رائے ضرور نقل کی تھی۔۔۔الخ"

خدا کا شکر ہے کہ اب یہ آپ کی اپنی  رائے نہیں رہی۔ورنہ ہم آپ کو بتاتے کہ فتنے کا اہم ترین سبب ایک عورت کی وہ حرکات وسکنات نہیں ہوئیں جو وہ برقعہ اور نقاب کے اندر رہ کرکرتی ہے۔کیونکہ شریف زادیاں برقعہ اور نقاب اس لئے نہیں پہنتیں۔ع"یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی!" ہاں فتنےکا اہم ترین سبب عورت کے وہی اعضاء ہیں جو بالعموم ننگے رہتے ہیں۔اور آپ کی اس جدید زندگی میں اس "بالعموم" کادائرہ بڑا وسیع ہوگیا ہے۔چنانچہ اس میں ساڑھی باندھنے کی صورت میں پیٹ اور پیٹھ کے وہ حصے بھی داخل ہیں جو بالعموم برہنہ رہتے ہیں۔ننگا سر،کٹے ہوئے بال بڑے ہوئے کریہہ ناخن ،عریاں گریبان جسم کے نشیب وفراز کو اجاگر کرنے والے بے شرم لباس ،بے حیا مسکراہٹیں اور میک اپ کے عجیب وغریب مضحکہ خیز مظاہر مگر اس کے قیمتی سامان سبھی اس "بالعموم" میں داخل ہیں!

جنھوں نے نہ صرف آج کی نوجوان نسل کے اخلاق تہ بالا کرکے رکھ دیا ہے بلکہ ملکی معیشت پر بھی ضرب کاری لگائی ہے۔لیکن آپ ہیں کہ انہی فتنہ سامانیوں کے ساتھ عورت کو اب کھیل کے میدان میں بھی گھسیٹ لانا چاہتے ہیں تاکہ:

ع۔۔۔ دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو!

لیکن دوسری طرف آپ کے نزدیک کسی "چچا کے بھتیجے" اور کسی عالم دین کے بیٹے کا غیر ممالک میں ریسرچ کے لئے جانا بھی معیوب اور قابل گردن زدنی ہے۔ہاں آپ ضرور اپنی قوم کی بہو بیٹیاں غیر ممالک میں کھیلنے کے لئے بھی روانہ فرماسکتے ہیں!پروفیسر صاحب آپ کا یہ مغرب پرستی کے پردے میں پروان چڑھنے والی معصیت پسندی اورذرائع ابلاغ وغیرہ میں عورتوں کے بے محابانہ تاجرانہ استعمال کے خلاف ایک زبردست مہم چلانے" کا دعویٰ نرا ڈھونگ ہے۔پہلے اپنی اُس مہم کو دیکھئے جو آپ روزنامہ "جنگ"کے ذریعے چلا رہے ہیں۔جو ہر دوسرے تیسرے روز ننگ انسانیت اور بے شرم تصویریں صفحہ اول پربہانے بہانے سے شائع کرتا ہے۔اور آ پ اس اخبار سے وابستہ ہیں!آپ نے علماء کو یہ طعنہ دیا ہے کہ انہوں نے"اس قسم کے واقعات پر کبھی کوئی احتجاج نہیں کیا۔"لیکن آپ خود کیاکررہے ہیں؟۔۔۔علماء بیچارے اپنی سی کوشش کرتے ہیں،مگر جب آپ ایسوں کی سرپرستی میں لاکھوں کی تعداد میں روزانہ چھپنے والے اخبار اس غلاظت کے انبار مسلمان کے قلب ونگاہ پر مسلسل پھینک رہے ہوں۔تو   ظاہر ہے کہ علماء کی یہ کوششیں"نقار خانے میں طوطی کی آواز"بن کر رہ جائیں گی۔۔۔اور جب آپ کے شب وروز یہی ہیں تو اپنے دوسرے مضمون  میں آپ کے"مغربیت کی مخالفت" کے بلند بانگ دعوےخواتین کے احترام کے نعرے اسلامی شعائر ترک کرکے پاکستانی عورت کے کلبوں میں رقص کرنے کی نکیر۔۔۔پاکستان میں  پیرس یانیویارک آباد کرنے کی خواہشات سے اظہار براءت اور"استغفراللہ"لاحول ولا۔۔۔"اور"حاشا وکلا" کے سائن آف ایکس کلیمے نیشن Sign  of  Exclamation۔سب کے سب فراڈ کہلائیں گے۔اور آپ واقعی "ناقابل اعتبار مخلوق"قرارپائیں گے۔کیونکہ"پردہ"کو آپ نے عورت کو ڈھانپ کررکھنے سے تعبیر فرمایا ہے۔اور نقاب اوربرقعے کا مفہوم یہ بتلایا ہے کہ:

"ایک عورت کو نقاب اور برقعہ کے اندر کھل کھیلنے میں بڑی مدد ملتی ہے اور وہ اس کے اندر رہ کر جو جی چاہتا ہے کرتی ہے!"

۔۔۔ہاں بعد میں خفت مٹانے کو یہ لکھا کہ:

"ہماری بہنوں کو پورا پورا اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے شعور عقیدے اور ذوق کے مطابق باپردہ زندگی بسر کریں!"

لیکن عورت کو مرد کے ہاتھوں کا کھلونا بنا دینے کی ذلیل خواہشات یہاں بھی آڑے آئیں تو فرمایا کہ:

"لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ انہیں دین اسلام کی حدود کا احترام کرتے ہوئے برصغیر کے مروجہ پردے سے قدرے انحراف کرنے والی نیک نیت بہنوں کی طرح اپنا رویہ تبدیل کرلینا چاہیے!"

۔۔۔یعنی برقعہ اتار پھینکنا چاہیے!قارئین کرام نوٹ فرمالیں کہ"اسلام کی حدود کے احترام" کا راگ الاپ کرکس طرح مغربیت کی تبلیغ ہو رہی ہے؟چنانچہ یہی وہ محتاط لب ولہجہ ہے جو انہوں نے اپنے پہلے مضمون کا بھرم قائم رکھنے کے لئے اب اختیار فرمایا ہے۔اور جس کی نشاندہی ہم ابتداء میں کرآئے ہیں!۔۔۔ورنہ آپ کا پہلا لب ولہجہ بھی ہمیں خوب یاد ہے۔۔۔"کنجریاں اور لُچیاں رناں" کے مبینہ عنوان سے آپ فرماتے ہیں کہ"

"ایک زمانے میں لٹھے کاسفید برقعہ پہننے والی عورتیں سیاہ ریشمی برقعے پہننے والی عورتوں کو "کنجریاں تے لچیاں رناں" کہا کرتی تھیں۔پھر سیاہ برقعے کا رواج کم ہوا اور بعض عورتوں نے چادریں پہن کر گھروں سے نکلنا شروع کیا تو سیاہ برقعے پہننے والیوں نے چادراوڑھنے والیوں کو"کنجریاں اورلچیاں"کہا چادر نے دوپٹے کی صورت اختیار کی تو یہی لعن طن دوپٹہ پہننے والیوں کو سننا پڑا اور جب دوپٹا سر سے ڈھلک کرسینے پر آگیا تو سر پردوپٹا رکھنےوالیوں نے گلے میں ڈوپٹہ ڈالنے والیوں کو کنجریاں تے لچیاں رناں کا خطاب دے دیا!"

ہم نے یہ تحریر دل پرجبر کرکے نقل کردی ہے۔تاکہ برقعے اور نقاب ک بغیر بھی اس سے پروفیسر صاحب کے اندرونی جذبات کی عکاسی ہوسکے،کیونکہ وہ برقعے کےاندر رہ کر کھل کھیلنے کے قائل ہیں!۔۔۔ہاں اگر پروفیسر صاحب احتجاج کریں کہ وہ مرد ہیں اور مرد برقعہ نہیں پہنتے!تو آپ کے نزدیک تو عورتوں کو بھی برقعہ نہیں پہننا چاہیے ۔پھر برصغیر کےیہ ڈھیر سارے برقعے آ پ کہاں لے جائیں گے؟۔۔۔بہرحال پروفیسر صاحب خاطر جمع رکھیں کہ اکبرمرحوم نے ان کا مصرف آج سے کئی سال پہلے تلاش کرلیا تھا۔اور اس سلسلہ فیاضی میں انہوں نے خود پروفیسر صاحب کو بھی نظر انداز نہیں فرمایا تھا۔اکبر الٰہ آبادی نے لکھا تھا۔

بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں

اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑگیا

پوچھا جو  میں نے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا؟

کہنے لگیں کہ عقل پر مردوں کی پڑ گیا!

کیا ہی بہتر ہوتا،پروفیسر صاحب"زمانے کے بدلتے تقاضوں"کے ضمن میں عبدالمجید سالک کی مندرجہ ذیل تحریر کے علاوہ اکبر مرحوم کی یہ رباعی بھی نقل کردیتے۔تاکہ علماء کو نکو بنانے کے ساتھ ساتھ خود ان کا محاسبہ بھی ہوجاتا۔جی ہاں پروفیسرصاحب نے یہ تحریر علماء دین کامضحکہ اڑانے کے ضمن میں ہی لکھی تھی۔اور جو ہمارے خیال میں سنجیدگی سے نوٹس لینے کے قابل ہے کہ کئی طوفان اس میں انگڑائیاں لے رہے ہیں۔آپ  فرماتے ہیں کہ:

"علم وفن اورسائنس کا جب کبھی کوئی نیا جھونکا آتا ہے ہمارے علمائے دین کسمساتے ہوئے اپنے ذہنوں کی کھڑکیاں اور دروازے بند کرلیتے ہیں۔لیکن زیادہ وقت نہیں گزرپاتا انہیں جلس محسوس ہوتاہے۔اور جونہی دم گھٹنے لگتا ہے۔تو کھڑکیاں اوردروازے توڑ دیتے ہیں۔اور پھر آنکھیں جھکائے یا آنکھوں پر ہاتھ رکھے بغیر وہ سب کچھ کرتے ہیں۔جسے چند سال پہلے کفر اورگناہ قرار دے چکے ہوتے ہیں۔۔۔اب خوشحال علماء کے گھروں میں ایئرکنڈیشنر ۔ٹیلی  فون ۔ٹیپ ریکارڈ۔اور ٹیلی ویژن۔سے لے کر وی سی آر تک موجود ہے۔ ہم سب نے اسی ملک کی سیاسی تاریخ میں مذہب کےحوالے سے سیاست کرنے والوں کو شروع شروع میں جمہوریت اور انتخابی عمل کی مخالفت کرتے سنا اور دیکھا اور پھر انہی آنکھوں نے ان لوگوں کو انتخابات جیتنے کے لیے تمام غیراخلاقی حربوں،ہتھکنڈوں اور جوڑ توڑ میں سر سے پاؤں تک ڈوبے دیکھا۔ان دنوں اسمبلی میں اور اسمبلی سے باہر جن حدود کی پابندی کے ساتھ خدمت اسلام کی دعویدار خواتین آپ کو دکھائی دے رہی ہیں۔آج سے پچاس سال پہلے اس ہیت کے ساتھ اسمبلیوں جیسے  مخلوط اجتماعات کو مخاطب کرنا غیر اسلامی سمجھا جاتا تھا!"

۔۔۔پھر اس کے معاً بعد پروفیسر صاحب نے مذکورہ  بالا عبارات سالک صاحب کے حوالے سے نقل فرمائی ہے۔! اور اس طرح بعض علماء" کی بے عملی یا بدعملی کو اسلام کے خلاف ہتھیار کے طور پراستعمال کیا ہے۔علاوہ ازیں آپ نے ایک مکمل قسط(3) میں عباسی خلفاء میں لونڈیوں کی خریدوفروخت وغیرہ کے رواج کا تفصیلی ذکر فرمایا ہے جس سے آپ کا مقصود بہرحال اسلام کونکو بنانا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ان سب باتوں کو درست بھی مان لیا جائے تو اس میں اسلام کا کیا قصور ہے؟اور اس سے ہر برائی کو جواز کا مل جانا کہاں تک درست ہوسکتا ہے؟آپ نے"کنجریاں تے لچیاں رناں"کی کہانی بڑے مزے لے لے کر سنائی ہے۔چنانچہ 23جولائی کے روزنامہ"جنگ" ہی کی ایک خبر ملاحظہ ہو کہ"ایک عورت نے اپنے آشنا کی مدد سے اپنے بھائی کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے!"قابل غور امر یہ ہے کہ مستقبل قریب میں اگر کوئی عورت اپنے آشنا کی مدد سے اپنے خاوند،بھائی،ماں،باپ اور بیٹے سب کو موت کے گھاٹ اتار دے تو آج کی صرف اپنے بھائی کوقتل کرنے والی یہ عورت آپ کے نزدیک "کنجری تے لچی رن"کی بجائے شریف عورت کا روپ دھار کر ملکو تیت کے بلند مرتبہ پر فائز ہوجائے گی؟یہ سلسلہ اگر یونہی چلتا رہے تو ایک سے ایک بڑھ کر بُرائی اپنے سے پہلی کمتر برائی کو سند جواز عطا کرتی رہے گی؟اورقصور  پھر بھی اسلام کا ہی  ہوگا؟افسوس،آپ نے خیر وشر کے پیمانوں کو ناپتے وقت دانشمندی سے کام نہیں لیا!سنیے ہمارا مؤقف کتاب وسنت کی روشنی میں یہ ہے کہ خواہ اکثریت غلط ہوجائے لیکن اسلام کی بنیادی قدریں نہیں بدلیں گی،اسلام اسلام ہی رہے گا اور اللہ رب العزت کے ہاں یہی مقبول:

(عربی)اور(عربی)

۔۔۔لہذا اس میں کسی کی بے عملی یابدعملی کو بہانہ نہیں بنایا جاسکتا اور نہ اس سے کسی فعل بد کےلئے سند جواز مہیا ہوسکتی ہے۔یہ ایک اصولی بات ہے جو ہم نے ذکر کردی ہے۔اور جوآپ کے تمام اعتراضات کاتنہا کافی وشافی جواب ہے۔تاہم اگرتفصیل مطلوب ہو سنیے کہ مروجہ انتخابی عمل اور مغربی یا اسلامی جمہوریت کہ ہم اب بھی مخالفت کرتے ہیں۔کہ اسلام صرف اسلام ہے یہ کسی دوسرے نظام سے مستعار وماخوذ نہیں اور نہ کسی دوسرے نظام سے مل کر مکمل ہوتا ہے۔بلکہ یہ بجائے خود مکمل ہے!چنانچہ انتخاب جیتنے کے لئے ناجائز ہتھکنڈوں اور جوڑ توڑ کو ہم اپنے اس موقف کے اثبات نیز جمہوریت اور مروجہ انتخابی عمل کے غیر اسلامی ہونے پر بطور دلیل پیش کرتے ہیں!اسمبلی کے مخلوط اجتماعات میں عورت کے مخاطب کرنے کو ہم بھی ایک تو اس لئے غیر اسلامی قرار دیتے ہیں کہ یہ عورت کے(عورت) ہونے  کے منافی ہے۔اوردوسرے اسلئے کہ یہ فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پیش نظر ہے کہ:(عربی)

کہ"جب  تمہارے امور تمہاری عورتوں کو سونپ دیئے جائیں تو اس وقت تمہارے لئے زمین کا پیٹ اس کی پشت سے بہتر ہوگا!"

۔۔۔رہی بات ائیر کنڈیشنز۔ٹیلی فون۔ٹیپ ریکارڈر۔اورٹیلی ویژن سے لے کر وی سی آر تک کی ،تو ایئر کنڈیشنز اور ٹیلی فون کے ناجائز ہونے پر کسی عالم نے کوئی فتویٰ نہیں لگایا۔ٹیپ ریکارڈر اس ملک میں علمائے کرام کی تقاریر محفوظ رکھنے کے لئے بھی استعمال ہوا لہذا ایسی صورت میں اس کے خلاف آ واز  اٹھانے کے کوئی معنی نہ نہ تھے۔البتہ اس کے غلط استعمال ہونے اسے دور حاضر کی  سب سے بڑی لعنت ثابت کردیا ہے کہ جس نے ایک اسلام پسند شریف آدمی کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دی ہے!رہا ریڈیو اور ٹیلی ویژن تو علماء کی دور رس نگاہوں نے ان کے متوقع مفاسد کے پیش نظر ان کے خلاف آواز بلند کی تھی۔اور آپ ہی ازراہ انصاف فرمائیے کہ ان کےیہ مفاسد منظر عام پر آئے ہیں کہ نہیں؟شروع شروع میں جب ریڈیو عام ہونے لگا تو کسی عالم نے اس پر ایک بڑا سادہ تبصرہ کیا تھا کہ"اس میں شیطان بولتا ہے!" اور آج حالات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہ تبصرہ مبنی بر حقیقت تھا۔چنانچہ"ٹیلی ویژن پر عورت کے بے محابانہ تاجرانہ استعمال "کارونا تو آپ نے بھی رویا ہے۔اگرچہ مصنوعی ہی سہی!جبکہ وی سی آر نے تو علمائے کرام کے علاوہ اس ملک کے ان لوگوں کو بھی چلا اٹھنے پرمجبور کردیا ہے جو دن رات بدمعاشیاں  بانٹتے ہیں۔اوریہ آپ کی فلم انڈسٹری ہے۔پس علم وفن اور سائنس کے کسی نے نئے جھونکے سے علمائے دین کے کسمسانے اور اپنے ذہنوں کی کھڑکیاں اور دروازے بند کرلینے"کی یہ علت ہے کہ انہوں نے ان ایجادات کو رہزن ِ دین وایمان سمجھ کرلوگوں کو انکے مفاسد سے خبردار بھی کردیا تھا!ویسے بھی ان چیزوں کی حلت وحرمت کا مسئلہ ان کے اکثریتی جائز یا ناجائز استعمال سے متعلق ہے!رہا ان کھڑکیوں اور دروازوں کو توڑ دینے کا مسئلہ تو آج اگر ان چیزوں کا سیلاب ملک بھر میں امڈ آیا ہے۔اور ان کا ناجائز استعمال بھی ہورہا ہے تو علماء کیاکریں؟سوائے اس کے کہ وہ اب بھی لوگوں کو ان منکرات سے بچنے کی تلقین کرتے رہے ہیں!۔۔۔ہاں اگر کچھ ایسے عالم دین آپ کی نگاہ میں ہیں جن کےگھروں میں یہ سب چیزیں موجود ہیں اور وہ  ان سے وہی "فوائد" حاصل کرتے ہیں جو عوام الناس کرتے ہیں۔تو اس سلسلے میں ہم ان کا کوئی دفاع نہیں کریں گے۔بلکہ  ہم انھیں علماء کہنے کو ہی تیار نہیں!۔۔۔البتہ ہماری نگاہ میں اب بھی ایسے ربانی  علماء موجود ہیں جو ان چیزوں پرلعنت بھیجتے ہیں اور ہم بحمداللہ ان کی نشاندہی بھی کرسکتے ہیں۔پروفیسرصاحب کا اصل موضوع"عورت پردہ اور جدید زندگی کے مسائل "تھا۔۔۔انھیں چاہیے تو یہ تھا کہ ایک سچے مسلمان کی حیثیت سے ان مسائل کو قرآن وسنت کی عدالت میں پیش کردیتے۔لیکن چونکہ ان کے مزعومہ اجتہاد وتعبیر کوکتاب وسنت سے کوئی واسطہ نہ تھا۔لہذا انھیں یہ خدشہ بہرحال تھا کہ علمائے دین ان کے ضرور آڑے آئیں گے چنانچہ غلام احمد پرویز کی طرح علماء کو رگیدنا اور اُن کی تحقیر پروفیسر صاحب کی اولین ضرورت تھی۔اور ان کےمضامین میں یہ سلسلہ خاصہ طویل ہوگیا ہے۔ایک مقام پر جسٹس قدیر الدین کے حوالے سے آپ لکھتے ہیں کہ:

"اب علوم اس قدر وسیع ہوگئے ہیں کہ ان(مذہبی)علماء کا علم وفضل بہت ہی محدود اور نامکمل نظر آرہا ہے۔وہ علم اقتصادیات کے ماہر نہیں کہ معاشی مسائل پر حکم لگا سکیں۔فن حرب کےماہر نہیں کہ جنگ اورصلح کے متعلق رائے دے سکیں۔علم سیاسیات کے ماہر نہیں کہ طرز حکومت اورطریقہ انتظام ملکی میں دخل دے سکیں۔تاریخ۔جغرافیہ۔نفسیات۔عمرانیات۔بشریات۔تاریخ ادیان عالم ۔جدید فلسفہ ۔جدید منطق۔جدید سائنس۔اورتاریخ فقہ بھی ان کے نصاب میں شامل نہیں ہے۔ان علوم اور مسائل کو وہ تعلیم یافتہ اصحاب جن کی گنتی علماء میں نہیں ہے اکثر علماء سےزیادہ جانتے ہیں۔اس لئے جب علمائے دین تحکمانہ انداز میں اپنے فیصلے صادرکرتے جاتے ہیں۔تو ان کو سن کر جدید تعلیم یافتہ لوگ دم بخود رہ جاتے ہیں۔اور وہ سارے مسائل جن پر صحیح اجتہاد درکار ہے۔مسلمانی در کتاب کے مصداق ہوجاتے ہیں!"

۔۔۔ہم پروفیسر صاحب کی خدمت میں مودبانہ گزارش کریں گے کہ اصل علم کتاب وسنت کاعلم ہے۔اور اوپر جتنے بھی علوم آپ نے گنوائے ہیں ان میں سے چند ایک  کو چھوڑ کر جن کو کتاب وسنت نے کوئی مستقل  حیثیت نہیں دی اور(عربی) کااصول بیان کرکے ان کو نظر انداز بھی نہیں فرمایا(مثلاً جغرافیہ اورسائنس وغیرہ) باقی سب علوم کتاب وسنت کے متعلقہ اور معاون علوم ہیں۔اور عالم اسلام میں اس وقت بھی ایک سے ایک  بڑھ کران علوم کے نہ صرف ماہرین موجود ہیں بلکہ ان موضوعات پر وہ مستقل کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔اب اگر کنویں کا مینڈک یوں ٹرانا شروع کردے کہ روئے زمین پر سمندر کا وجود نہیں پایاجاتا تو اس میں سمند ر کا کیا قصور ہے؟۔۔۔پروفیسر صاحب بات طویل ہوجائے گی۔آپ کتاب وسنت اور اس کے متعلقہ علوم کے متعلق کوئی سوال لکھ کر بھیجیں ہم ان شاء اللہ اس کا جواب دیں گے۔ہاں یہ تسلیم کیجئے کہ آج تک آپ نے علماء سےاستفادہ کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں فرمائی۔آپ اپنی دنیا میں مست مغرب کی اندھی تقلید میں اجتہاد وتعبیر کے زعم کے باوجودنہ جانے کہاں سے کہاں نکل گئے ہیں۔پھر جب الجھنیں پیش آتی ہیں تو علماء سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ازخود بغیر پوچھے آپ کو ان الجھنوں سے نجات دلائیں گے۔اوراگر اس دلدل کے مصائب کا انہیں علم نہیں ہوتا تو آپ ان پر چڑھ دوڑتے ہیں۔کہ علماء ہماری راہنمائی نہیں کرسکتے اور ان کی مسلمانی در کتاب پڑی ہے؟۔۔۔اس وقت آپ کے ہر شعبہ میں قریب قریب یہی صورت حال ہے آپ کی عدالتوں میں بیک وقت کئی قانون چل رہے ہیں ایک طرف آپ برٹش لا کی جان بھی نہیں چھوڑنا چاہتے۔دوسری طرف قدامت پرستی سے آزاد ہوکر"تجدد" کادعویٰ بھی ہے۔اور اس کے ساتھ ہی ساتھ علماء سے یہ توقع بھی کہ وہ آپ کی راہنمائی کریں گے اوراگر وہ نہیں کرتے اورظاہر ہے اس صورت میں کر بھی نہیں سکتے۔توعلماء بھی جاہل او راسلام بھی بدنام!۔۔۔یہی حال آپ کے نظام  اقتصادیات کا ہے۔ سودی نظام سے  پیچھا چھڑانے کے صرف نعرے ہی نعرے ہیں۔لیکن عملاً پینترے بدل بدل کر اسی نظام سے چمٹنے کی کوششیں بھی ہورہی ہیں۔کیا پاکستانی علماء انعامی بانڈز۔دیگر انعامی سکیمیں۔تجارت کی جائز اور ناجائز صورتوں سود اور انشورنس وغیرہ کےبارے میں کتاب و سنت کی روشنی میں اپنا موقف پیش نہیں کرچکے؟لیکن آپ ان کی سنتےکہاں ہیں؟اپنے نظام سیاسیات کو لیجئے قیام پاکستان سے لے کر اب تک آپ جمہوریت کواسلامی ثابت کرنے اور اس کو بحال کرنے کی سر توڑ کوششیں کررہے ہیں لیکن آپ کے جدید تعلیم یافتی طبقہ کوآج تک کوئی نظام حکومت مل سکا؟علمائے دین اسلام اورصرف اسلام"کانعرہ لگاتے ہیں تو آپ اسے ان کے تحکمانہ فیصلوں سے تعبیرکرتے ہوئے ان کو درخوراعتنا ہی نہیں جانتے کہ یہ لوگ جدید تقاضو ں سے نا آشنا ہیں۔اسی تجدد نے تو آپ کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔لیکن آپ اسی پرعاشق عاشق ہوتے چلے جاتے ہیں!عائلی قوانین کے سلسلے میں آپ نے اپنے مضمون میں خواتین پر ظلم وستم کی طویل کہانی اعدد وشمار کی ر وشنی میں پیش فرمائی ہے۔تو اس کی وجہ بھی صرف یہی ہے کہ تجدد کے شوق میں آپ نے ان غیر اسلامی قوانین کو اسلام سمجھ لیاہے۔ورنہ اسلام  میں دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی کی کہاں اجازت ضروری ہے۔اس کے باوجود اگریہ قانون نافذ ہے تو یہ ظلم وستم خواتین پر ہے یامردوں پر؟۔۔۔ہاں یہ واضح رہے کہ اسلام کتاب وسنت میں ملتا ہے ر وزناموں میں نہیں پایا جاتا۔خاندانی منصوبہ بندی کے سلسلسہ میں کیا علماء اپنا موقف نہیں پیش کرچکے؟ اس کے مفاسد بھی آ پ ک سامنے ہیں اور اب تو بعض دیگرممالک  میں اسے ختم کرنے کیوششیں بھی ہورہی ہیں حالانکہ وہی یہ شوشہ چھوڑنے والے بھی تھے ۔لیکن اسلام دشمنی میں آپ کو اغیار کی نقالی بھی بھول گئی ۔اور آپ اب تک اس سے چمٹے ہوئے ہیں!یہ حال آپ کے اجتہاد وتعبیر کاہے کہ جب ہر الحاد اور ہربے دینی کو اسلام قراردیا جارہاہو تو علماء اسے کیونکر مشرف بہ اسلام کریں؟آپ ہرمعاملے میں مرضی بھی اپنی چلاتے ہیں اور اس ساری صورتحال کے ذمہ دار بھی علماء کوٹھہراتے ہیں کیا یہ انصاف ہے؟

رہا آپ کاوہ جدید تعلیم یافتی طبقہ جو علماء میں شمار نہ ہوکر بھی علماء سے زیادہ عالم ہے۔توکچی آبادیوں کامعمولی مسئلہ آپ کے ان ماہرین عمرانیات کے لئےچیلنج کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔اورآپ کے یہی جدید ماہرین فنون حرب جوعلماء سے کہیں زیادہ جانتے ہیں۔مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بناچکے ہیں!۔۔جغرافیہ اورسائنس کے میدانوں میں بھی آپ کے یہ جدید ماہرین انتہائی پس ماندہ ہیں۔اورغیروں کے محتاج حتیٰ کہ ٹریفک کانظام بھی ان کا اپنا نہیں ہے۔

۔۔۔علماء کا علم وفضل تو خیر آپ کو بہت ہی محدود اور نامکمل نظرآتا ہے۔لیکن یہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے جدید تعلیم یافتہ لوگ تو آپ کے پاس موجود ہیں پھر آج تک یہ ملک پاکستان نت نئے مسائل کی آماجگاہ کیوں ہے اور آپ نے ان کے ساتھ مل کر ا س ملک کی نیا پارکیوں نہیں لگادی؟

۔۔۔پروفیسر صاحب،اس تمام تر صورتحال کے ذمہ دار آپ جیسے دانشور ہیں جنھیں کتاب وسنت سے دور کابھی واسطہ نہیں لیکن جو عوام الناس کو حاملین کتاب وسنت سے متنفر کرناخوب جانتے ہیں۔یہ کہانی بڑی طویل بھی ہے اوربڑی دردناک بھی!۔۔۔حالانکہ آپ کے تمام تر دکھوں کاعلاج خالص اور خالص اسلام میں ہے اور جوصرف کتاب وسنت سے  حاصل ہوتاہے۔آپ آج ہی قرآنی حکم(عربی)کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کا فیصلہ کرلیں۔مغربیت سے بغاوت کردیں۔ اور قرآن مجید کو اپنی خواہش کا تابع بنانے نیز اس کے احکام میں محض عقلی گھوڑے دوڑانے کی بجائے اپنے تمام تر مقدمات کتاب وسنت کی عدالت میں خلوص نیت سے پیش کردیں پھر دیکھے کہ آپ کے مسائل کیونکر حل ہوتے ہیں۔اوراس کے باوجود اگر علماء نے آپ کو مایوس کیا تو ان کو الزام دینے میں آپ بلا شبہ حق  بجانب ہوں گے!

قارئین کرام جیسا کہ ہم نے عرض کیا۔پروفیسر صاحب کا موضوع "عورت پردہ اورجدید مسائل" تھا۔لیکن اپنے مزعومہ اجتہاد وتعبیر کے نام پر گمراہی پھلانے۔۔۔نیز اس کے لئے راستہ ہموار کرنے کی خاطر بعض غیر ضروری مسائل کا چھیڑنا ان کے لئے ناگزیر ہوگیا تھا۔اسی لئے ہم نے اس مضمون کے دو حصے کیے۔اس کا ایک عمومی سا جائزہ ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کردیا ہے۔اب  آئندہ اشاعت میں ہم"عورت ،پردہ اور اسلامی تعلیمات" کے بارے میں اپنا مؤقف کتاب وسنت کی روشنی میں پیش کریں گے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ پروفیسر صاحب کے اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب اور ان کا رد بھی پیش کریں گے۔ان شاء اللہ العزیز     (جاری ہے)