شاہ فاروقی ہاشمی صاحب کندیاں ضلع خوشاب سے لکھتے ہیں:
محترم کیلانی صاحب ،السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
"بندہ محدث کاایک پرانا قاری ہے۔اس سے قبل جناب سے "مسئلہ سماع موتیٰ" پر خط وکتابت محدث میں سوال وجواب کی صورت میں شائع ہوچکی ہے۔۔۔اب دوبارہ زحمت دے رہا ہوں۔اُمید ہے آپ درج ذیل سوالات کے جوابات کتاب وسنت کی روشنی میں تحریر فرما کر شکریہ موقع دیں گے:
1۔رمضان المبارک 1402ھ(مطابق جولائی 82ء)کے محدث میں آپ نے"قرؑآن میں حاکم(حاکمیت) کے تصور" کے تحت بحوالہ فتاویٰ کبریٰ (ابن  تیمیہ ؒ  ) لکھا ہے کہ:

(عربی)

اسی مضمون کادوسرا جملہ یوں ہے کہ:

(عربی)

حالانکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کے بارے میں فرمایا:

(عربی)

حضرت داؤد ؑ کومخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

(عربی)

اورسورہ نور میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے یہ وعدہ فرمایا کہ:

(عربی)

۔۔۔تو درج بالا حوالہ جات اور ان آیات قرآنی میں تطبیق کیسے ہوگی؟

2۔قرآن مجیدمیں اللہ رب العزت نے تدبر وتفکر  کی دعوت دی ہے۔(عربی)

۔۔۔اسی طرح (عربی) (عقل والوں) کی قرآن مجید میں تعریف کی گئی ہے۔اور جولوگ عقل وخرد سے کام نہیں لیتے۔انہیں (عربی)ایسے ناموں سے یاد کیاگیا ہے۔لیکن ساتھ ہی قرآن مجید کے بارے میں یہ پابندی بھی ہے کہ:

(عربی)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مبارک اور ارشاد باری تعالیٰ (عربی) کا کیامطلب ہوگا۔۔۔جبکہ قرآن مجید بھی من جانب اللہ ہے۔اور عقل وشعور بھی اسی کے عطا کردہ؟۔۔۔اور ایک  حدیث بھی ہے کہ:

(عربی)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ملخصاً)

شاہ فاروق ہاشمی صاحب کا یہ مراسلہ طویل ہے اور انہوں نے اس میں مذکوردوسوالوں کے علاوہ پانچ مزید سوالات بھی اٹھائے ہیں۔یہ مراسلہ اگرچہ مولانا عبدالرحمٰن کیلانی کے نام ہے لیکن چونکہ پہلے سوال (خلافت انسانی) کا تعلق مدیر محدث حافظ عبدالرحمٰن مدنی کے ایک مقالہ "قرآن میں حکم (حاکمیت) کاتصور" سے ہے۔لہذا مندرجہ بالادو سوالات کے جوابات مدیر محدث کی طرف سے ہدیہ قارئین ہیں۔بقیہ سوالات کے جوابات مولاناعبدالرحمٰن کیلانی آئندہ اشاعت میں دیں گے۔ان شاء اللہ (ادارہ)

1۔خلافت انسانی:

خلیفہ کا ماخذ(عربی) ہے۔جس کے معنی درختوں کے وہ پتے ہیں جو پہلے پتوں کے  گرنے کے بعد اگتے ہیں۔امام  رازی نے خلافت کے معنی نیابت کے کئے ہیں۔اوراس کے چاراستعمال بتائے ہیں ۔اصل کی غیر حاضری یاموت یا عجز کے سبب سے اس کی جانشینی اورچوتھی صورت شرف دینے کے لئے۔ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کی نیابت اورجانشینی کےتصورہی سے اسلام میں شرک اور کفر کی ملاوٹ ہوتی ہے۔کیونکہ نیابت اگرغیرحاضری کی وجہ سے ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے بری ہیں۔اسی طرح موت کاتصور بھی ذات باری تعالیٰ کے لئے کسی مسلمان کے نزدیک محال ہے۔ کہ وہ (عربی) ہیں جسے نیند آتی ہے نہ اونگھ۔۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

(عربی)

کہ "روئے زمین پر ہر ایک کو موت ہے۔صرف اللہ ذوالجلال والاکرام کاچہرہ باقی رہے گا!"

نیزفرمایا:

(عربی)

کہ"اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند!"

۔۔۔اسی طرح عاجزی کا بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں در نہیں۔چنانچہ فرمایا:

(عربی)کہ"وہ ہمیں عاجز نہیں کرسکتے!"

یہ تینوں معنیٰ خلافت کے،امام رازی ؒ نے اپنی کتاب المفردات میں بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے لئے ان کا استعمال ناجائز بتلایا ہے۔البتہ چوتھے تشریف (شرف دینے) کے معنوں میں اس کے جواز کی طرف اشارہ کیا ہے۔جیسے بیت اللہ ،ناقۃاللہ ،روح اللہ وغیرہ الفاظ ی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف تشریفاً کی گئی ہے۔تاہم قرآن مجید میں ان تینوں الفاظ کی اضافت تو اللہ تعالیٰ کی طرف ملتی ہے۔جبکہ خلافت کی اضافت کسی قرآنی آیت میں اللہ تعالیٰ کی  طرف نہیں ملتی۔اور جملہ صحیح احادیث بھی ایسی اضافت سے خالی ہیں۔صرف بعض ضعیف احادیث میں "خلیفۃ اللہ المہدی"کاذکر آیا ہے۔

تاہم اضافت تشریفی میں خلافت حقیقی مراد نہیں ہوتی۔بلکہ صرف  شرف کے لحاظ کے لئے اس کو اللہ کی طرف نسبت کردیاجاتا ہے۔ظاہر ہے کہ بیت اورناقہ اللہ کے رہنے اور سواری کے لئے مراد نہیں اسی طرح اگر روح اللہ کے حقیقی معنی عیسائیوں نے مراد لئے ہیں تو وہ شرک عظیم کے مرتکب ہوئے ہیں لہذا اگرخلیفہ کی اضافت کسی ضعیف حدیث میں اللہ کی طرف ملتی ہے تو اس سے اللہ کی حقیقی خلافت مراد نہیں بلکہ ا س سے خلیفہ کا یہ شرف بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ اللہ کی شریعت کے مطابق حکومت کرے گا چنانچہ دیگرحکمرانوں سےممتاز ہوکر اللہ تعالیٰ سے اس کا ایک خاص تعلق ہوگا۔

امام رازی ؒ کی اس تعبیر سے جدید دور کے بعض مفسرین نے بڑادھوکا کھایا ہے۔امام صاحب تو تشریف کالفظ بیان کرکے یہ بتلارہے ہیں کہ یہاں حقیقت مراد نہیں بلکہ شرف دینے کےلئے ا س کی نسبت اللہ کی طرف کی جاسکتی ہے۔جب کہ یہ لوگ ایسے حقیقی معنوں میں لےکربطور سند امام رازی کو پیش کررہے ہیں۔

اما م ابن تیمیہؒ نے خلیفۃ اللہ کے مفہوم کی اس سنگینی کا اندازہ کرکے ہی اس پر شرک وکفر کا بڑا سنگین فتویٰ صادر کیا ہے۔کیونکہ اس سے کم از کم اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کا جزوی طور پر کسی انسان کو تفویض ہونا لازم آتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا کوئی وصف اگر جزوی طور پر بھی انسان میں  تفویض ہونا مان لیا جائے۔تو اس سے(عربی) کے ارشاد کی نفی ہوتی ہے۔اور جزوی طور پر انسان کی اللہ تعالیٰ سے تشبیہ لازم آتی ہے جو مشبہ گمراہ فرقہ کامؤقف ہے!

قرآن کریم میں "رؤف رحیم" وغیرہ ایسے الفاظ سے مشہد نے لیل پکڑ لی ہے علمائے سلف نے اس کا (عربی) سے جواب دیا ہے کہ جیسے سمع وبصر اللہ کے علاوہ انسانوں کےلئے بھی ہیں۔لیکن انسانوں کی سمع  وبصر کی حقیقت اللہ تعالیٰ کے سمع وبصر کی حقیقت سے الگ ہے۔اسی طرح کسی انسان کے رؤف رحیم ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اس  میں اللہ کی یہ صفت پائی جاتی ہے بلکہ اللہ کا رؤف رحیم ہونا اس معنیٰ میں ہے کہ جیسے اس کی ذات کے لائق ہے۔لہذا جو شخص اللہ کے اسماء وصفات میں سے کس کل یاجزء کاانسان میں موجود ہونا یا اللہ کاتفویض کرنا مانتا ہے۔ابن تیمیہ ؒ کے نزدیک  وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔پھر کیا یہ بات انتہائی باعث تعجب نہیں کہ آج کااکثر جدید تعلیمیافتہ اسلام پسند طبقہ انسانی اختیار کو بڑی جرائت سے اللہ کے اختیارات کا جزء سمجھتے ہوئے،انسانی اختیارات کو مفوضہ اختیارات قرار دیتا ہے۔اور اس طرح انسان کو اللہ کا خلیفہ بناتا ہے۔گویا اللہ کا اختیار جو اللہ کی صفت ہے۔انسانی اختیار اس کا جزء قرار پا کر انسانی وجود میں در آیا اورا س طرح انسان اللہ کے اختیار کی صفت کاشریک ٹھہرا۔

بہ ظاہر  یہ بات ہلکی معلوم ہوتی ہے۔لیکن گہرائی میں جا کر اگر دیکھاجائے تو یہ ایک بہت بڑی جسارت ہے!۔۔۔اگر کوئی شخص اس مغالطہ میں ہے کہ"کچھ اختیار انسان کو بھی تو ہے"اس کا جواب یہ ہے کہ انسانی اختیار اللہ کے اختیار کا حصہ یا اللہ تعالیٰ کامفوضہ اختیار نہیں ہے۔بلکہ انسانی اختیار اللہ کی تخلیق ہے۔جیسے انسانی  روح اللہ اللہ کی تخلیق ہے ۔اللہ کی روح کا جزء نہیں!یہی وہ فرق ہے جو مسلمان عیسیٰ ؑ کو روح اللہ مان کر بھی عیسائی عقیدہ سے الگ رہتے ہیں۔یعنی مسلمانوں کے نزدیک  انسانی روح اللہ کی مخلوق ہے۔ہاں عیسیٰؑ کو "روح اللہ"تشریفاً کیاگیا ہے۔کیونکہ ان کی تخلیق عام انسانی تخلیق سے مختلف انداز میں ہوئی ہے۔جو ان کے لئے شرف حاصل ہے جبکہ عیسائیوں کے ہاں عیسیٰؑ کی رُوح اللہ کی روح کاحصہ ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ بعض ہندوستانی علماءصوفیانہ طرز فکر کے تحت ابن عربی سے متاثر ہوئے۔لہذا کبھی وہ انسان کو وجود اکبر کا وجود اصغر یا عالم اکبر کا عالم اصغر قرار دے کر انسان کو اللہ کا خلیفہ بناتے رہے۔اور بعض نے صوفیاء کے روحانی ارتقاء[1] کے فلسفہ سے انسانی روح کی بالیدگی کی صورت میں اسے اللہ کا خلیفہ قرار دیا۔جس کی رو سے انبیاءؑ ۔اولیاء۔اورصلحاء اللہ کی خلافت کے منصب پرقائم بتائے جاتے رہے۔یہ دونوں نظریے کتاب وسنت کے خلاف ہیں۔اور نہ صرف ابن تیمیہؒ کےنزدیک بلکہ جملہ علمائے سلف کے ہاں جوشخص انسان کے خلیفۃ اللہ ہونے کا عقیدہ رکھے وہ فاسق وفاجر ہے۔(دیکھئے الاحکام السلطانیہ الماوردی ص15۔)

لہذا مولانا مودودی  یا بعض علماء کا یہ بیان کہ:

"خلیفہ وہ ہے جو کسی کے ملک میں اس کی تفویض کردہ اختیارات ا س کے نائب کی حیثیت سے استعمال کرے!خلیفہ مالک نہیں ہوتا بلکہ اصل مالک کا نائب ہوتا ہے۔ اس کے اختیارات ذاتی نہیں ہوتے بلکہ مالک کے عطا کردہ ہوتے ہیں۔وہ اپنے منشاء کے مطابق کام کرنے کا حق نہیں رکھتا۔بلکہ اس کاکام مالک کے منشاء کو پورا کرنا  ہوتا ہے۔"(تفہیم القرآن ج1 حاشیہ 38)

ایک مغالطہ ہے۔کیونکہ انسان اللہ کےحکم کا پابند(خواہ وہ شہری ہو یا حاکم)اس وجہ سے نہیں کہ اس کے اختیارات اصل مالک کے تفویض کردہ ہیں۔اور وہ اس کا نائب ہے۔بلکہ اس وجہ سے ہے کہ انسان چونکہ عبد ہے اور اللہ اس کا معبود!۔۔۔یا اللہ خالق ہے اور وہ اس کی مخلوق لہذا مخلوق ہونے کی حیثیت سے اسے عبد ہونا چاہیے۔جبکہ عبودیت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے اندر اپنے خالق  ومعبود کے پیدا کردہ اختیارات کو اس کے احکامات کے مطابق استعمال کرے۔پس انسان کی یہ ذمہ داری اس کے بندہ ہونے کی حیثیت سے ہے نہ کہ نائب ہونے کی حیثیت سے!

اس فرق کو ایک دوسرے طریقہ سے یوں بیان کیا جاسکتا ہے۔کہ جسطرح خالق اور مخلوق یا عابد اور معبود کی دو الگ الگ جہتیں ہیں۔اسی  طرح حاکم اور محکوم کی بھی  دوالگ جہتیں ہیں۔اللہ کی شریعت کا پابند ہوکر انسان محکوم کی جہت میں ہے حاکم یا اس کے نائب کی جہت میں نہیں!۔۔۔نائب اگرحاکم کے  تفویض کردہ اختیارات استعمال کرتاہے۔تو وہ حاکم کی جہت میں ہوتا ہے۔اور اس لحاظ سے وہ حاکم کے اختیارات کلی یا جزئی کا حامل ہوکر حاکم کاشریک کہاجاسکتا ہے۔ لیکن انسان اللہ کاشریک نہیں!۔۔۔پس اس نقطہ نظر سے بھی انسان اللہ کا خلیفہ نہیں بن سکتا۔

یہی وجہ ہے کہ کتاب وسنت میں خلیفہ کی نسبت اور اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی گئی جو مغالطے کا سبب بن سکتی تھی۔جبکہ بیت اللہ ،ناقتہ اللہ اور روح اللہ کی تشریفی نسبتیں کتاب وسنت میں موجود ہیں!

سائل( ہاشمی صاحب)نے قرآن مجید سے جو حضرت آدمؑ کے بارے میں (عربی) کااشکال پیش کیا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ آیت مذکورہ میں کہیں بھی حضرت آدمؑ کا ذکر نہیں ۔اسی طرح خلیفہ کی اضافت بھی اللہ کی طرف نہیں بلکہ آیت میں لفظ "خلیفہ" بغیر اضافت کے مطلق استعمال ہوا ہے۔

پھر دوسری بات یہ نوٹ کرنے کی ہے کہ اگر یہاں خلیفہ سے صرف حضرت آدمؑ مراد لئے جائیں تو فرشتوں کافساد فی الارض اور خون بہانے(عربی) کا سوال آدمؑ پر وارد ہوگا جو غلط ہے۔کیونکہ یہ سوال اولادآدمؑ پر ہے۔لہذا یہ آیت صرف حضرت آدمؑ کے بارے میں نہیں بلکہ آدمی کے بارے میں ہے۔یعنی بنی نوع انسان کے لئے!

تیسری غلطی جو عام پڑھے لکھے لوگوں کے علاوہ بعض جدید مفکرین سے بھی ہوئی ہے۔وہ لفظ"جاعل" کے فہم میں ہے۔عربی زبان میں"جعل"دو معنوں میں مستعمل ہے:

1۔جعل بسیط۔(2) جعل مرکب

جعل بسیط: جس کا ایک مفعول ہوتا ہے انشاء اور تخلیق " کے معنے دیتا ہے۔جبکہ جعل مرکب جس کے دو مفعول ہوتے ہیں۔"تصیر" یعنی "کسی کوکچھ کردینے" کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔اب اگر اس آیت کے  یہ معنیٰ ہوں کہ میں زمین میں آدمؑ کو خلیفہ کرنے والا ہوں تو یہ جعل مرکب ہوگا۔حالانکہ یہاں آدمؑ کا ذکر نہیں بلکہ ایک مفعول(خلیفہ) کاذکر ہے۔لہذا یہ جعل بسیط ہے۔جس کے معنی تخلیق کے ہیں ۔مطلب یہ ہے کہ میں زمین میں خلیفہ پیدا کررہا ہوں!لفظ خلیفہ ہی نے فرشتوں کو اس سوال کا موقع دیا کہ ایسی مخلوق جس میں خلافت کا سلسلہ قائم ہوگا۔یعنی اللہ تعالیٰ ایک قوم کو زمین میں آباد کریں گے۔اور اسے اپنی نعمتوں سے پوری طرح فیصل یا ب فرمائیں گے۔پھر ان کے شکر یا ناشکری کی بنا ء پر ان پر اللہ کی حجت پوری ہوگی۔تو دوسری قسم جیسے کسی درخت کے پہلے پتے جھڑ کر نئے پتے ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ان کی جگہ ان کا خلیفہ بنے گی۔اور یہ سلسلہ سنت اللہ کی صورت میں تاقیامت چلتا رہے گا!پھرچونکہ پہلے کی جگہ دوسرے کی خلافت کا ایک ثمرہ یہ بھی ہے کہ مختلف قوموں کے درمیان "تمکن فی الارض" کے لئے کشمکش چلے۔جو فساد فی الارض اور خون بہانے پر ملتج ہو اس لئے فرشتوں کے اس سوال کی وجہ  سمجھ میں آتی ہے۔کہ اس خرابی کی موجودگی میں انسان کی تخلیق کی حکمت کیا ہے؟۔۔۔ورنہ  صرف آدمؑ کے بارے میں فرشتوں کے اس سوال کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی!۔

اس طرح سائل کا حضرت داؤدؑ کے بارے میں یہ استدلال کہ اللہ نے انہیں زمین میں اپنا خلیفہ بنایا صحیح نہیں۔کیونکہ داؤدؑ سے قبل حضرت شموئیلؑ (یا شمعون) نبی تھے۔اور طالوت بادشاہ!۔۔۔دونوں کی وفات کے بعد حضرت  داؤدؑ کو اللہ تعالیٰ  کی طرف سے ان کی خلافت (نبوت اور بادشاہی) ملی۔لہذا آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا ذکر ہورہا ہے۔چنانچہ ایک دوسرے مقام پر قرآن مجید میں بنی اسرائیل پر نبوتوں اور بادشاہتوں کا ذکر اللہ رب العزت نے یوں فرمایا۔

(عربی)

"اور جب موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا!"اے میری قوم،اپنے اوپر اللہ کی وہ نعمت یاد کرو،جب اللہ نے تم میں اپنے انبیاءؑ پیدا کئے اور تم کو بادشاہ بنایا۔"

دین ودنیا کی یہ عظیم نعمتیں بنی اسرائیل کو علیحدہ علیحدہ بھی دی گئیں۔ اور حضرت داؤدؑ اور حضرت سلمانؑ میں ان دونوں نعمتوں کو اکھٹا بھی کردیا۔لہذا داؤدؑ نبوت میں شموئیلؑ کے خلیفہ ہیں۔جبکہ حکومت میں طالوت کے!۔پس یہ اشکال بھی دور ہوا:

اسی طرح سورہ نور میں مومنوں سے خلافت فی الارض کا جو وعدہ فرمایا تو یہ خلافت پہلے لوگوں کی نیابت اور جانشینی ہے۔ورنہ انسان کو"خلیفۃ اللہ"قرار دینے والوں کے ہاںاقتدار وحکومت کے بغیر بھی جب انسان خلیفۃ اللہ ہے تو پھر مومنوں سے یہ وعدہ چہ معنی دارد؟۔۔۔یعنی (عربی) کا معنی اگر یہ کرلیا جائے کہ بنی نوع انسان کوخلیفہ بنا رہا ہوں تو جن کو تمکن فی  الارض حاصل ہے۔وہ بھی خلیفہ ہیں۔۔۔اور جن کو حاصل نہیں وہ بھی خلیفہ!۔۔۔اس صورت میں نئے وعدے کی گنجائش  کہاں باقی رہ جاتی ہے؟

۔۔۔یہی وجہ ہے کہ مولانا مودودی  کو تفہیم القرآن میں اپنی دونوں تفسیروں میں تعارض کی مشکل پیش آئی۔کیونکہ سورۃ البقرہ کی آیت میں آپ جنس آدمؑ کو خلیفہ قراردے چکے تھے۔اور سورہ نور کی آیت میں خلافت کا یہ وعدہ صرف مومنوں سے تھا۔جو گویا انہی جنس آدم کی حیثیت سے حاصل نہیں تھا!لہذا مولانا مرحوم کی عبارت انشائی دسترس کے باوجود اس مشکل کا حل اور اس تعارض کا ازالہ نہ کرسکی!

قرآن مجید میں اللہ کی امانت سے روح کی بالیدگی کاجو تصور صوفیاء نے کشید کرنے کی کوشش کی تھی،بعد میں وہ اللہ کی خلافت کے نظریہ پر ملتج ہوا!۔اسی طرح مولانا مودودی مرحوم نے لفظ امانت سے انسانی اختیار کا جو نتیجہ اخذ کیا تھا۔وہی بعد میں خلیفۃ اللہ کی صورت میں سامنے آیا۔پھر چونکہ مولانا کا فکری میدان انہیں سیاست کی وادیوںمیں کھینچ لایا۔اس لئے انہوں نے خلافت کو ایک سیاسی مفہوم دے کر الٰہی جمہوریت Democracy Theoیا مقبول خلافت Popular vicegerencyکاسیاسی فلسفہ پیش کردیا۔اورچونکہ اس نظریہ سے وہ صالحین کو اللہ کی خلافت پر فائز کرنے کی تحریک کے علمبردار بنے۔لہذا انہوں نے خلافت  کو صرف ان حکمرانوں کے لئے مخصوص کردیا جو شریعت کانفاذ کریں۔حالانکہ ان کے فلسفے کی رو سے شریعت کا نفاذ یا عدم نفاذ خلافت کے مفہوم میں داخل نہیں۔بلکہ انسان کا مختار ہونا(اللہ کے مفتوحہ فطری اختیار کا حامل ہونا) خلافت کے لئے کافی ہے۔جو جنس آدمؑ کو پہلے سے حاصل ہے!

مولانا مرحوم کے یہ سیاسی نظریات ان کی جماعت کے لئے اب اسلام کی واحد ترقی پسندانہ  تعبیر اور مسلمانوں کے جملہ مسائل کا حل سمجھے جاتے ہیں۔چنانچہ وہ دوسری کسی بھی تعبیر کو فوری طور پرغیر اسلامی قراردے دیتے ہیں۔حالانکہ جملہ سلف صالحین اور ان کے خلیفہ امام ابن تیمیہؒ خلیفۃ اللہ کے اس تصور کو کفروشرک اور فسق وفجور قرار دیتے آئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں تفسیر بالرائے سے بچائے اور سلف صالحین کی نہج پر قرآن مجید کو سمجھنے سمجھانے کی توفیق ارزانی فرمائے۔آمین!

2تدبر قرآن:

قرآن پاک میں نہ صرف عقل کے استعمال پر زور دیا گیا ہے۔بلکہ جملہ انسانی قویٰ اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی ترغیب ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ انسان اللہ کے حکم کے مطابق اپنی جملہ صلاحتیں نیکی کے راستے پرچلنے اور بدی کے راستے سے بچنے میں صرف کرے۔

عقل انسان کی ایک اشرف ترین  قوت ہے۔جب انسان اس قوت کوفہم دین میں استعمال نہیں کرتا تو گویا وہ اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت کی ناشکری کرتا ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

(عربی)

"اور (مومن) لوگ جب اپنے رب کی نشانیاں  یاد دلائے جاتے ہیں تو وہ ان پر بہرے اور اندھے ہوکر نہیں گر پڑتے!"

اس آیت میں مومنوں سے قرآنی آیات کے رو برو  تقلید کی روش سے بچنے اور عقل وفکر کے تدبر پر ان کی تعریف کی گئی ہے۔کیونکہ قرآن کریم ہر بات دلیل کی بنیاد پرکرتاہے۔البتہ بعض چیزوں پر ایمان بالغیب کی دعوت بھی دیتا ہے۔چونکہ اللہ رب العالمین انسانی تخلیق وتدبیر اپنے لا محدود علم سے کرتے ہیں۔اور  اللہ رب العزت کے حکم سےہر چیز پرایمان لانا بھی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔لہذا ایمان بالغیب اندھا ایمان Blind Faith نہیں۔بلکہ انسانی عقل کےلئے یہ ایک تلقین ہے کہ جس ذات باری نے اس پوری کائنات کی تخلیق وتدبیر کی ذمہ داری اٹھائی ہے اور عملاً ایک زرہ بھی اس کے قبضہ قدرت سے باہر نہیں اسے ہر چیز کاعلم ہونا چاہیے اسی بات کو اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں کہیں سوالیہ انداز میں ذکر فرمایا اور کہیں جزم  کے انداز میں بیان فرمایا ہے۔مثلاً

(عربی)

"کیاجس نے تخلیق فرمائی ہے وہ بے علم ہے؟۔۔۔(ہرگز نہیں !)

وہ تو باریک بین  اور خبردار ہے!

نیز  فرمایا:

(عربی)

"اور اللہ تعالیٰ ہر شے کا علم وبصیرت رکھتے ہیں!"

اسلامی دانشوروں نے وحی الٰہی اور عقل کے تعلق کی مثال یوں دی ہے کہ عقل اسطرح بصیرت ہے جیسے آنکھ کی بصارت!لیکن جیسے آنکھ تیز ہونے کے باوجود اگر سورج غروب ہونے کی بناء پر اندھیرا چھایا ہو تو آنکھ کچھ نہیں دیکھ سکتی اسی طرح بصیرت کتنی بھی عمدہ کیوں نہ ہو نور وحی کے بغیر راہ حق سے بھٹک سکتی ہے۔اس لئے کہ بصیرت کے درست اور عمدہ ہونے کی ضمانت بھی صرف وحی الٰہی سے حاصل ہوسکتی ہے۔اور وحی الٰہی کے بغیر یہ فیصلہ بھی ممکن نہیں کہ بصیرت نےدرست سمت میں کام کیا ہے۔یا غلط سمت میں لہذا عقل کی جولانگاہ وحی الٰہی کی حدود میں ہونی چاہیے!

قدیم معتزلہ اور جدیدعقل پرستRationalist  مسلمان عقل وتدبر کے نام پر وحی الٰہی سے آزادی چاہتے ہیں۔یا وحی الٰہی کو من مانی تعبیر کے تابع رکھنا چاہتے ہیں۔اس لئے دین کے نام پر انہوں نے رائے کو فروغ دیا ہے۔اور دے رہے ہیں۔بالخصوص تدبر کے نام پر قرآن مجید کو بازیچہ اطفال بناکر رکھ دیا ہے!۔۔۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کایہ ارشاد گرامی انہی لوگوں کے بارے میں ہے کہ:

(عربی)

"جو شخص قرآن مجید کا مفہوم اپنی رائے سے بیان کرے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔"

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے تھوڑا تھوڑا کرکے تئیس سال میں مکمل فرمایا۔تاکہ قرآن مجید کی نصیحت اور اس کامطلب لوگوں میں رسوخ ایمانی اور تسکین قلبی کاباعث ہو۔اللہ کریم فرماتے ہیں:

(عربی)

"کافر لوگ کہتے ہیں کہ اس(حضرت اکر م صلی اللہ علیہ وسلم) پر قرآن مجید یکبارگی کیوں نہیں نازل کردیا گیا؟۔۔۔یہ اس لئے  ہواکہ ہم(اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کے دل کو ثابت رکھیں اور ہم نے اس قرآن کو اسی لئے ) ترتیل سے پڑھا ہے!"

آیت کریمہ میں قرآن مجید کے ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وقفوں وقفوں سے موقع ومحل کے مطابق اتارنے کی حکمت بیان فرمادی گئی ہے کیونکہ کسی بات  ک افہام وتفہیم میں ضرورتوں کا پیش آنا اور موقع ومحل کی مناسبت بڑی اہمیت رکھتی ہے۔اس لئے ایس مواقع پر ضرورت کی تکمیل کے ساتھ ساتھ جواب بالصواب اطمینان قلب کا باعث ہوتا ہے۔ اور یوں اس کی حفاظت بھی آسان اور مستقل ہوتی ہے۔قرآن مجید کے مفاہیم ومطالب کو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت وسیرت کی روشنی میں پڑھنے  اور سمجھنے سے یہی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ  جو لوگ سنت کے بغیر قرآن مجید کو عقل کے پیمانوں سے ناپتے ہیں وہ علمی فتنوں اور آخرت میں عذاب الیم سے نہیں بچ سکتے!فرمایا اللہ رب العزت نے:

(عربی)

"جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امر(سنت ) سے الگ رہتے ہیں۔انہیں فتنہ سے ڈر جانا چاہیے یا پھر ان کو عذاب الیم کا سامنا ہوگا!"

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امر سے الگ رہنے سے مراد ظاہر ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے بے اعتنائی ہے۔لہذا قرآن مجید کو نصوص حدیث سےسمجھنا ہی صحیح اور محفوظ راستہ ہے  کیونکہ قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کا تعلق الفاظ وتلبین کا تعلق ہے گویا ایک متن ہے اور دوسری اس کی شرح!اگر قرآن  مجید کے صرف الفاظ  ہماری ہدایت کے  لئے کافی ہوتے تو اللہ تعالیٰ لوگوں کو براہ راست مخاطب فرماتے یا سلی سلائی کتاب کی صورت میں قرآن مجید لوگوں کو دے سکتے تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کو ایسا لازم وملزوم کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر عام انسان یہ بھی یقین نہیں کرسکتا کہ قرآن مجید واقعی اللہ کی کتاب ہے۔کیونکہ قرآن مجید کو کتاب اللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی تصدیق کی بناء پر ہی کہاجاتا ہے۔ورنہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول وفعل حجت تسلیم نہ کیا جائے تو قرآن مجید اللہ کا کلام کیسے؟اور اس کی منجانب اللہ ہونے کی ہمارے پاس کیا گارنٹی ہے؟

حاصل یہ ہے کہ قرآن مجید کی تفسیر اپنی رائے کی بجائے ثابت شدہ احادیث وآثار کی روشنی میں کرنی چاہیے!۔۔۔یہاں ایک نکتہ ملحوظ خاطر رہے کہ قرآن مجید کی تفسیر سے مقصود قرآن مجید سے استفادہ ہے۔ لہذا قرآن مجید جو دستور زندگی ہے اور کتاب ہدایت بھی اس میں علم وفکر کی جولانیاں اسی مقصد سے ہونی چاہییں۔اگر کوئی شخص قرآن مجید کو سامنے رکھ کر سائنسی انکشافات یا مابعد الطبیعات کی کیفیتیں بیان کرنا شروع کرے گا تو وہ قرآن مجید کو اس کے اصل مقصودسے دور لے جائےگا۔۔۔اس طرح وہ اپنے علم وبصیرت کو اس میدان میں استعمال کر ے گا جو اس کی عقل سے بالاہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

(عربی)

" تو اس چیز کے پیچھے نہ جا جس کے ساتھ تیرے لئے علمی رسائی نہیں ہے!"

یہی وجہ ہے کہ غیبی امور سے متعلقہ آیات کو علمائے سلف نے متشابہات سے شمار کیا ہے تاکہ جو شخص ان کی کیفیتوں میں پڑے وہ قرآن مجید کی اس تہدید سے خبردار ہوجائے:

(عربی)

"جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ فتنے اور ہیر پھیر کی تلاش میں متشابہ آیات کے پیچھے جاتے ہیں۔حالانکہ ان کی حقیقت سے اللہ ہی واقف ہے۔اور علمی ر سوخ والے لوگ کہتے ہیں ہم ان کے ساتھ ایمان(بالغیب) لائے۔سب ہمارے پروردیگار کے پاس سے ہے!"

عصر حاضر کے ترقی پسند مفسرین  تدبر قرآن اور فلسفہ قرآنی کے زعم سے تفسیر قرآن میں سنت سے بہت کم استفادہ کرتے ہیں اور حکمت قرآنی کے دعویٰ سے قرآن مجید کو سائنسی ایجادات اور نفسیات کے لئے بھر پور استعمال کرتے ہیں۔پھر سنت وسیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف اس میدان کےلئےناقص بتلاتے ہیں۔بلکہ جدید معاشروں اور اقتصادی وسیاسی نظاموں کے لئے بھی اسے ناکافی قرار دیتے ہیں۔اسی بناء پر اسلام کی تعبیر نو کے متلاشی ہیں اورایسی نام نہاد حکمت قرآنی کے لئے لاطائل تک ودود میں مصروف ہیں۔لہذا دور حاضر میں کتاب وسنت کی حدود میں عقلی تگ وتاز اور دیگر انسانی قویٰ کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ تعبیر سنت کی پابندی اور کمال رسالت کااعتراف خصوصی توجہ کاحامل ہونا چاہیے۔تاکہ دین کی تعبیر نو کے ذریعے دین وشریعت کی تبدیلی کے فتنہ سے بچا جاسکے۔پس تفسیر بالرائے کی مذمت کے سلسلہ میں واردشدہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور علمائے سلف کی احتیاط ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے!سائل نے(عربی) جو حدیث بیان کی ہے یہ بناوٹی ہے۔۔۔مستند ارشادات رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ثابت نہیں ہے:  (عربی) (مدبر)

شاہ فاروقی ہاشمی صاحب کندیاں ضلع خوشاب سے لکھتے ہیں:

محترم کیلانی صاحب ،السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !

"بندہ محدث کاایک پرانا قاری ہے۔اس سے قبل جناب سے "مسئلہ سماع موتیٰ" پر خط وکتابت محدث میں سوال وجواب کی صورت میں شائع ہوچکی ہے۔۔۔اب دوبارہ زحمت دے رہا ہوں۔اُمید ہے آپ درج ذیل سوالات کے جوابات کتاب وسنت کی روشنی میں تحریر فرما کر شکریہ موقع دیں گے:

1۔رمضان المبارک 1402ھ(مطابق جولائی 82ء)کے محدث میں آپ نے"قرؑآن میں حاکم(حاکمیت) کے تصور" کے تحت بحوالہ فتاویٰ کبریٰ (ابن  تیمیہ ؒ  ) لکھا ہے کہ:

(عربی)

اسی مضمون کادوسرا جملہ یوں ہے کہ:

(عربی)

حالانکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کے بارے میں فرمایا:

(عربی)

حضرت داؤد ؑ کومخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

(عربی)

اورسورہ نور میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے یہ وعدہ فرمایا کہ:

(عربی)

۔۔۔تو درج بالا حوالہ جات اور ان آیات قرآنی میں تطبیق کیسے ہوگی؟

2۔قرآن مجیدمیں اللہ رب العزت نے تدبر وتفکر  کی دعوت دی ہے۔(عربی)

۔۔۔اسی طرح (عربی) (عقل والوں) کی قرآن مجید میں تعریف کی گئی ہے۔اور جولوگ عقل وخرد سے کام نہیں لیتے۔انہیں (عربی)ایسے ناموں سے یاد کیاگیا ہے۔لیکن ساتھ ہی قرآن مجید کے بارے میں یہ پابندی بھی ہے کہ:

(عربی)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مبارک اور ارشاد باری تعالیٰ (عربی) کا کیامطلب ہوگا۔۔۔جبکہ قرآن مجید بھی من جانب اللہ ہے۔اور عقل وشعور بھی اسی کے عطا کردہ؟۔۔۔اور ایک  حدیث بھی ہے کہ:

(عربی)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ملخصاً)

شاہ فاروق ہاشمی صاحب کا یہ مراسلہ طویل ہے اور انہوں نے اس میں مذکوردوسوالوں کے علاوہ پانچ مزید سوالات بھی اٹھائے ہیں۔یہ مراسلہ اگرچہ مولانا عبدالرحمٰن کیلانی کے نام ہے لیکن چونکہ پہلے سوال (خلافت انسانی) کا تعلق مدیر محدث حافظ عبدالرحمٰن مدنی کے ایک مقالہ "قرآن میں حکم (حاکمیت) کاتصور" سے ہے۔لہذا مندرجہ بالادو سوالات کے جوابات مدیر محدث کی طرف سے ہدیہ قارئین ہیں۔بقیہ سوالات کے جوابات مولاناعبدالرحمٰن کیلانی آئندہ اشاعت میں دیں گے۔ان شاء اللہ (ادارہ)

1۔خلافت انسانی:

خلیفہ کا ماخذ(عربی) ہے۔جس کے معنی درختوں کے وہ پتے ہیں جو پہلے پتوں کے  گرنے کے بعد اگتے ہیں۔امام  رازی نے خلافت کے معنی نیابت کے کئے ہیں۔اوراس کے چاراستعمال بتائے ہیں ۔اصل کی غیر حاضری یاموت یا عجز کے سبب سے اس کی جانشینی اورچوتھی صورت شرف دینے کے لئے۔ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کی نیابت اورجانشینی کےتصورہی سے اسلام میں شرک اور کفر کی ملاوٹ ہوتی ہے۔کیونکہ نیابت اگرغیرحاضری کی وجہ سے ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے بری ہیں۔اسی طرح موت کاتصور بھی ذات باری تعالیٰ کے لئے کسی مسلمان کے نزدیک محال ہے۔ کہ وہ (عربی) ہیں جسے نیند آتی ہے نہ اونگھ۔۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

(عربی)

کہ "روئے زمین پر ہر ایک کو موت ہے۔صرف اللہ ذوالجلال والاکرام کاچہرہ باقی رہے گا!"

نیزفرمایا:

(عربی)

کہ"اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند!"

۔۔۔اسی طرح عاجزی کا بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں در نہیں۔چنانچہ فرمایا:

(عربی)کہ"وہ ہمیں عاجز نہیں کرسکتے!"

یہ تینوں معنیٰ خلافت کے،امام رازی ؒ نے اپنی کتاب المفردات میں بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے لئے ان کا استعمال ناجائز بتلایا ہے۔البتہ چوتھے تشریف (شرف دینے) کے معنوں میں اس کے جواز کی طرف اشارہ کیا ہے۔جیسے بیت اللہ ،ناقۃاللہ ،روح اللہ وغیرہ الفاظ ی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف تشریفاً کی گئی ہے۔تاہم قرآن مجید میں ان تینوں الفاظ کی اضافت تو اللہ تعالیٰ کی طرف ملتی ہے۔جبکہ خلافت کی اضافت کسی قرآنی آیت میں اللہ تعالیٰ کی  طرف نہیں ملتی۔اور جملہ صحیح احادیث بھی ایسی اضافت سے خالی ہیں۔صرف بعض ضعیف احادیث میں "خلیفۃ اللہ المہدی"کاذکر آیا ہے۔

تاہم اضافت تشریفی میں خلافت حقیقی مراد نہیں ہوتی۔بلکہ صرف  شرف کے لحاظ کے لئے اس کو اللہ کی طرف نسبت کردیاجاتا ہے۔ظاہر ہے کہ بیت اورناقہ اللہ کے رہنے اور سواری کے لئے مراد نہیں اسی طرح اگر روح اللہ کے حقیقی معنی عیسائیوں نے مراد لئے ہیں تو وہ شرک عظیم کے مرتکب ہوئے ہیں لہذا اگرخلیفہ کی اضافت کسی ضعیف حدیث میں اللہ کی طرف ملتی ہے تو اس سے اللہ کی حقیقی خلافت مراد نہیں بلکہ ا س سے خلیفہ کا یہ شرف بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ اللہ کی شریعت کے مطابق حکومت کرے گا چنانچہ دیگرحکمرانوں سےممتاز ہوکر اللہ تعالیٰ سے اس کا ایک خاص تعلق ہوگا۔

امام رازی ؒ کی اس تعبیر سے جدید دور کے بعض مفسرین نے بڑادھوکا کھایا ہے۔امام صاحب تو تشریف کالفظ بیان کرکے یہ بتلارہے ہیں کہ یہاں حقیقت مراد نہیں بلکہ شرف دینے کےلئے ا س کی نسبت اللہ کی طرف کی جاسکتی ہے۔جب کہ یہ لوگ ایسے حقیقی معنوں میں لےکربطور سند امام رازی کو پیش کررہے ہیں۔

اما م ابن تیمیہؒ نے خلیفۃ اللہ کے مفہوم کی اس سنگینی کا اندازہ کرکے ہی اس پر شرک وکفر کا بڑا سنگین فتویٰ صادر کیا ہے۔کیونکہ اس سے کم از کم اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کا جزوی طور پر کسی انسان کو تفویض ہونا لازم آتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا کوئی وصف اگر جزوی طور پر بھی انسان میں  تفویض ہونا مان لیا جائے۔تو اس سے(عربی) کے ارشاد کی نفی ہوتی ہے۔اور جزوی طور پر انسان کی اللہ تعالیٰ سے تشبیہ لازم آتی ہے جو مشبہ گمراہ فرقہ کامؤقف ہے!

قرآن کریم میں "رؤف رحیم" وغیرہ ایسے الفاظ سے مشہد نے لیل پکڑ لی ہے علمائے سلف نے اس کا (عربی) سے جواب دیا ہے کہ جیسے سمع وبصر اللہ کے علاوہ انسانوں کےلئے بھی ہیں۔لیکن انسانوں کی سمع  وبصر کی حقیقت اللہ تعالیٰ کے سمع وبصر کی حقیقت سے الگ ہے۔اسی طرح کسی انسان کے رؤف رحیم ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اس  میں اللہ کی یہ صفت پائی جاتی ہے بلکہ اللہ کا رؤف رحیم ہونا اس معنیٰ میں ہے کہ جیسے اس کی ذات کے لائق ہے۔لہذا جو شخص اللہ کے اسماء وصفات میں سے کس کل یاجزء کاانسان میں موجود ہونا یا اللہ کاتفویض کرنا مانتا ہے۔ابن تیمیہ ؒ کے نزدیک  وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔پھر کیا یہ بات انتہائی باعث تعجب نہیں کہ آج کااکثر جدید تعلیمیافتہ اسلام پسند طبقہ انسانی اختیار کو بڑی جرائت سے اللہ کے اختیارات کا جزء سمجھتے ہوئے،انسانی اختیارات کو مفوضہ اختیارات قرار دیتا ہے۔اور اس طرح انسان کو اللہ کا خلیفہ بناتا ہے۔گویا اللہ کا اختیار جو اللہ کی صفت ہے۔انسانی اختیار اس کا جزء قرار پا کر انسانی وجود میں در آیا اورا س طرح انسان اللہ کے اختیار کی صفت کاشریک ٹھہرا۔

بہ ظاہر  یہ بات ہلکی معلوم ہوتی ہے۔لیکن گہرائی میں جا کر اگر دیکھاجائے تو یہ ایک بہت بڑی جسارت ہے!۔۔۔اگر کوئی شخص اس مغالطہ میں ہے کہ"کچھ اختیار انسان کو بھی تو ہے"اس کا جواب یہ ہے کہ انسانی اختیار اللہ کے اختیار کا حصہ یا اللہ تعالیٰ کامفوضہ اختیار نہیں ہے۔بلکہ انسانی اختیار اللہ کی تخلیق ہے۔جیسے انسانی  روح اللہ اللہ کی تخلیق ہے ۔اللہ کی روح کا جزء نہیں!یہی وہ فرق ہے جو مسلمان عیسیٰ ؑ کو روح اللہ مان کر بھی عیسائی عقیدہ سے الگ رہتے ہیں۔یعنی مسلمانوں کے نزدیک  انسانی روح اللہ کی مخلوق ہے۔ہاں عیسیٰؑ کو "روح اللہ"تشریفاً کیاگیا ہے۔کیونکہ ان کی تخلیق عام انسانی تخلیق سے مختلف انداز میں ہوئی ہے۔جو ان کے لئے شرف حاصل ہے جبکہ عیسائیوں کے ہاں عیسیٰؑ کی رُوح اللہ کی روح کاحصہ ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ بعض ہندوستانی علماءصوفیانہ طرز فکر کے تحت ابن عربی سے متاثر ہوئے۔لہذا کبھی وہ انسان کو وجود اکبر کا وجود اصغر یا عالم اکبر کا عالم اصغر قرار دے کر انسان کو اللہ کا خلیفہ بناتے رہے۔اور بعض نے صوفیاء کے روحانی ارتقاء[2] کے فلسفہ سے انسانی روح کی بالیدگی کی صورت میں اسے اللہ کا خلیفہ قرار دیا۔جس کی رو سے انبیاءؑ ۔اولیاء۔اورصلحاء اللہ کی خلافت کے منصب پرقائم بتائے جاتے رہے۔یہ دونوں نظریے کتاب وسنت کے خلاف ہیں۔اور نہ صرف ابن تیمیہؒ کےنزدیک بلکہ جملہ علمائے سلف کے ہاں جوشخص انسان کے خلیفۃ اللہ ہونے کا عقیدہ رکھے وہ فاسق وفاجر ہے۔(دیکھئے الاحکام السلطانیہ الماوردی ص15۔)

لہذا مولانا مودودی  یا بعض علماء کا یہ بیان کہ:

"خلیفہ وہ ہے جو کسی کے ملک میں اس کی تفویض کردہ اختیارات ا س کے نائب کی حیثیت سے استعمال کرے!خلیفہ مالک نہیں ہوتا بلکہ اصل مالک کا نائب ہوتا ہے۔ اس کے اختیارات ذاتی نہیں ہوتے بلکہ مالک کے عطا کردہ ہوتے ہیں۔وہ اپنے منشاء کے مطابق کام کرنے کا حق نہیں رکھتا۔بلکہ اس کاکام مالک کے منشاء کو پورا کرنا  ہوتا ہے۔"(تفہیم القرآن ج1 حاشیہ 38)

ایک مغالطہ ہے۔کیونکہ انسان اللہ کےحکم کا پابند(خواہ وہ شہری ہو یا حاکم)اس وجہ سے نہیں کہ اس کے اختیارات اصل مالک کے تفویض کردہ ہیں۔اور وہ اس کا نائب ہے۔بلکہ اس وجہ سے ہے کہ انسان چونکہ عبد ہے اور اللہ اس کا معبود!۔۔۔یا اللہ خالق ہے اور وہ اس کی مخلوق لہذا مخلوق ہونے کی حیثیت سے اسے عبد ہونا چاہیے۔جبکہ عبودیت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے اندر اپنے خالق  ومعبود کے پیدا کردہ اختیارات کو اس کے احکامات کے مطابق استعمال کرے۔پس انسان کی یہ ذمہ داری اس کے بندہ ہونے کی حیثیت سے ہے نہ کہ نائب ہونے کی حیثیت سے!

اس فرق کو ایک دوسرے طریقہ سے یوں بیان کیا جاسکتا ہے۔کہ جسطرح خالق اور مخلوق یا عابد اور معبود کی دو الگ الگ جہتیں ہیں۔اسی  طرح حاکم اور محکوم کی بھی  دوالگ جہتیں ہیں۔اللہ کی شریعت کا پابند ہوکر انسان محکوم کی جہت میں ہے حاکم یا اس کے نائب کی جہت میں نہیں!۔۔۔نائب اگرحاکم کے  تفویض کردہ اختیارات استعمال کرتاہے۔تو وہ حاکم کی جہت میں ہوتا ہے۔اور اس لحاظ سے وہ حاکم کے اختیارات کلی یا جزئی کا حامل ہوکر حاکم کاشریک کہاجاسکتا ہے۔ لیکن انسان اللہ کاشریک نہیں!۔۔۔پس اس نقطہ نظر سے بھی انسان اللہ کا خلیفہ نہیں بن سکتا۔

یہی وجہ ہے کہ کتاب وسنت میں خلیفہ کی نسبت اور اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی گئی جو مغالطے کا سبب بن سکتی تھی۔جبکہ بیت اللہ ،ناقتہ اللہ اور روح اللہ کی تشریفی نسبتیں کتاب وسنت میں موجود ہیں!

سائل( ہاشمی صاحب)نے قرآن مجید سے جو حضرت آدمؑ کے بارے میں (عربی) کااشکال پیش کیا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ آیت مذکورہ میں کہیں بھی حضرت آدمؑ کا ذکر نہیں ۔اسی طرح خلیفہ کی اضافت بھی اللہ کی طرف نہیں بلکہ آیت میں لفظ "خلیفہ" بغیر اضافت کے مطلق استعمال ہوا ہے۔

پھر دوسری بات یہ نوٹ کرنے کی ہے کہ اگر یہاں خلیفہ سے صرف حضرت آدمؑ مراد لئے جائیں تو فرشتوں کافساد فی الارض اور خون بہانے(عربی) کا سوال آدمؑ پر وارد ہوگا جو غلط ہے۔کیونکہ یہ سوال اولادآدمؑ پر ہے۔لہذا یہ آیت صرف حضرت آدمؑ کے بارے میں نہیں بلکہ آدمی کے بارے میں ہے۔یعنی بنی نوع انسان کے لئے!

تیسری غلطی جو عام پڑھے لکھے لوگوں کے علاوہ بعض جدید مفکرین سے بھی ہوئی ہے۔وہ لفظ"جاعل" کے فہم میں ہے۔عربی زبان میں"جعل"دو معنوں میں مستعمل ہے:

1۔جعل بسیط۔(2) جعل مرکب

جعل بسیط: جس کا ایک مفعول ہوتا ہے انشاء اور تخلیق " کے معنے دیتا ہے۔جبکہ جعل مرکب جس کے دو مفعول ہوتے ہیں۔"تصیر" یعنی "کسی کوکچھ کردینے" کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔اب اگر اس آیت کے  یہ معنیٰ ہوں کہ میں زمین میں آدمؑ کو خلیفہ کرنے والا ہوں تو یہ جعل مرکب ہوگا۔حالانکہ یہاں آدمؑ کا ذکر نہیں بلکہ ایک مفعول(خلیفہ) کاذکر ہے۔لہذا یہ جعل بسیط ہے۔جس کے معنی تخلیق کے ہیں ۔مطلب یہ ہے کہ میں زمین میں خلیفہ پیدا کررہا ہوں!لفظ خلیفہ ہی نے فرشتوں کو اس سوال کا موقع دیا کہ ایسی مخلوق جس میں خلافت کا سلسلہ قائم ہوگا۔یعنی اللہ تعالیٰ ایک قوم کو زمین میں آباد کریں گے۔اور اسے اپنی نعمتوں سے پوری طرح فیصل یا ب فرمائیں گے۔پھر ان کے شکر یا ناشکری کی بنا ء پر ان پر اللہ کی حجت پوری ہوگی۔تو دوسری قسم جیسے کسی درخت کے پہلے پتے جھڑ کر نئے پتے ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ان کی جگہ ان کا خلیفہ بنے گی۔اور یہ سلسلہ سنت اللہ کی صورت میں تاقیامت چلتا رہے گا!پھرچونکہ پہلے کی جگہ دوسرے کی خلافت کا ایک ثمرہ یہ بھی ہے کہ مختلف قوموں کے درمیان "تمکن فی الارض" کے لئے کشمکش چلے۔جو فساد فی الارض اور خون بہانے پر ملتج ہو اس لئے فرشتوں کے اس سوال کی وجہ  سمجھ میں آتی ہے۔کہ اس خرابی کی موجودگی میں انسان کی تخلیق کی حکمت کیا ہے؟۔۔۔ورنہ  صرف آدمؑ کے بارے میں فرشتوں کے اس سوال کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی!۔

اس طرح سائل کا حضرت داؤدؑ کے بارے میں یہ استدلال کہ اللہ نے انہیں زمین میں اپنا خلیفہ بنایا صحیح نہیں۔کیونکہ داؤدؑ سے قبل حضرت شموئیلؑ (یا شمعون) نبی تھے۔اور طالوت بادشاہ!۔۔۔دونوں کی وفات کے بعد حضرت  داؤدؑ کو اللہ تعالیٰ  کی طرف سے ان کی خلافت (نبوت اور بادشاہی) ملی۔لہذا آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا ذکر ہورہا ہے۔چنانچہ ایک دوسرے مقام پر قرآن مجید میں بنی اسرائیل پر نبوتوں اور بادشاہتوں کا ذکر اللہ رب العزت نے یوں فرمایا۔

(عربی)

"اور جب موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا!"اے میری قوم،اپنے اوپر اللہ کی وہ نعمت یاد کرو،جب اللہ نے تم میں اپنے انبیاءؑ پیدا کئے اور تم کو بادشاہ بنایا۔"

دین ودنیا کی یہ عظیم نعمتیں بنی اسرائیل کو علیحدہ علیحدہ بھی دی گئیں۔ اور حضرت داؤدؑ اور حضرت سلمانؑ میں ان دونوں نعمتوں کو اکھٹا بھی کردیا۔لہذا داؤدؑ نبوت میں شموئیلؑ کے خلیفہ ہیں۔جبکہ حکومت میں طالوت کے!۔پس یہ اشکال بھی دور ہوا:

اسی طرح سورہ نور میں مومنوں سے خلافت فی الارض کا جو وعدہ فرمایا تو یہ خلافت پہلے لوگوں کی نیابت اور جانشینی ہے۔ورنہ انسان کو"خلیفۃ اللہ"قرار دینے والوں کے ہاںاقتدار وحکومت کے بغیر بھی جب انسان خلیفۃ اللہ ہے تو پھر مومنوں سے یہ وعدہ چہ معنی دارد؟۔۔۔یعنی (عربی) کا معنی اگر یہ کرلیا جائے کہ بنی نوع انسان کوخلیفہ بنا رہا ہوں تو جن کو تمکن فی  الارض حاصل ہے۔وہ بھی خلیفہ ہیں۔۔۔اور جن کو حاصل نہیں وہ بھی خلیفہ!۔۔۔اس صورت میں نئے وعدے کی گنجائش  کہاں باقی رہ جاتی ہے؟

۔۔۔یہی وجہ ہے کہ مولانا مودودی  کو تفہیم القرآن میں اپنی دونوں تفسیروں میں تعارض کی مشکل پیش آئی۔کیونکہ سورۃ البقرہ کی آیت میں آپ جنس آدمؑ کو خلیفہ قراردے چکے تھے۔اور سورہ نور کی آیت میں خلافت کا یہ وعدہ صرف مومنوں سے تھا۔جو گویا انہی جنس آدم کی حیثیت سے حاصل نہیں تھا!لہذا مولانا مرحوم کی عبارت انشائی دسترس کے باوجود اس مشکل کا حل اور اس تعارض کا ازالہ نہ کرسکی!

قرآن مجید میں اللہ کی امانت سے روح کی بالیدگی کاجو تصور صوفیاء نے کشید کرنے کی کوشش کی تھی،بعد میں وہ اللہ کی خلافت کے نظریہ پر ملتج ہوا!۔اسی طرح مولانا مودودی مرحوم نے لفظ امانت سے انسانی اختیار کا جو نتیجہ اخذ کیا تھا۔وہی بعد میں خلیفۃ اللہ کی صورت میں سامنے آیا۔پھر چونکہ مولانا کا فکری میدان انہیں سیاست کی وادیوںمیں کھینچ لایا۔اس لئے انہوں نے خلافت کو ایک سیاسی مفہوم دے کر الٰہی جمہوریت Democracy Theoیا مقبول خلافت Popular vicegerencyکاسیاسی فلسفہ پیش کردیا۔اورچونکہ اس نظریہ سے وہ صالحین کو اللہ کی خلافت پر فائز کرنے کی تحریک کے علمبردار بنے۔لہذا انہوں نے خلافت  کو صرف ان حکمرانوں کے لئے مخصوص کردیا جو شریعت کانفاذ کریں۔حالانکہ ان کے فلسفے کی رو سے شریعت کا نفاذ یا عدم نفاذ خلافت کے مفہوم میں داخل نہیں۔بلکہ انسان کا مختار ہونا(اللہ کے مفتوحہ فطری اختیار کا حامل ہونا) خلافت کے لئے کافی ہے۔جو جنس آدمؑ کو پہلے سے حاصل ہے!

مولانا مرحوم کے یہ سیاسی نظریات ان کی جماعت کے لئے اب اسلام کی واحد ترقی پسندانہ  تعبیر اور مسلمانوں کے جملہ مسائل کا حل سمجھے جاتے ہیں۔چنانچہ وہ دوسری کسی بھی تعبیر کو فوری طور پرغیر اسلامی قراردے دیتے ہیں۔حالانکہ جملہ سلف صالحین اور ان کے خلیفہ امام ابن تیمیہؒ خلیفۃ اللہ کے اس تصور کو کفروشرک اور فسق وفجور قرار دیتے آئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں تفسیر بالرائے سے بچائے اور سلف صالحین کی نہج پر قرآن مجید کو سمجھنے سمجھانے کی توفیق ارزانی فرمائے۔آمین!

2تدبر قرآن:

قرآن پاک میں نہ صرف عقل کے استعمال پر زور دیا گیا ہے۔بلکہ جملہ انسانی قویٰ اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی ترغیب ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ انسان اللہ کے حکم کے مطابق اپنی جملہ صلاحتیں نیکی کے راستے پرچلنے اور بدی کے راستے سے بچنے میں صرف کرے۔

عقل انسان کی ایک اشرف ترین  قوت ہے۔جب انسان اس قوت کوفہم دین میں استعمال نہیں کرتا تو گویا وہ اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت کی ناشکری کرتا ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

(عربی)

"اور (مومن) لوگ جب اپنے رب کی نشانیاں  یاد دلائے جاتے ہیں تو وہ ان پر بہرے اور اندھے ہوکر نہیں گر پڑتے!"

اس آیت میں مومنوں سے قرآنی آیات کے رو برو  تقلید کی روش سے بچنے اور عقل وفکر کے تدبر پر ان کی تعریف کی گئی ہے۔کیونکہ قرآن کریم ہر بات دلیل کی بنیاد پرکرتاہے۔البتہ بعض چیزوں پر ایمان بالغیب کی دعوت بھی دیتا ہے۔چونکہ اللہ رب العالمین انسانی تخلیق وتدبیر اپنے لا محدود علم سے کرتے ہیں۔اور  اللہ رب العزت کے حکم سےہر چیز پرایمان لانا بھی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔لہذا ایمان بالغیب اندھا ایمان Blind Faith نہیں۔بلکہ انسانی عقل کےلئے یہ ایک تلقین ہے کہ جس ذات باری نے اس پوری کائنات کی تخلیق وتدبیر کی ذمہ داری اٹھائی ہے اور عملاً ایک زرہ بھی اس کے قبضہ قدرت سے باہر نہیں اسے ہر چیز کاعلم ہونا چاہیے اسی بات کو اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں کہیں سوالیہ انداز میں ذکر فرمایا اور کہیں جزم  کے انداز میں بیان فرمایا ہے۔مثلاً

(عربی)

"کیاجس نے تخلیق فرمائی ہے وہ بے علم ہے؟۔۔۔(ہرگز نہیں !)

وہ تو باریک بین  اور خبردار ہے!

نیز  فرمایا:

(عربی)

"اور اللہ تعالیٰ ہر شے کا علم وبصیرت رکھتے ہیں!"

اسلامی دانشوروں نے وحی الٰہی اور عقل کے تعلق کی مثال یوں دی ہے کہ عقل اسطرح بصیرت ہے جیسے آنکھ کی بصارت!لیکن جیسے آنکھ تیز ہونے کے باوجود اگر سورج غروب ہونے کی بناء پر اندھیرا چھایا ہو تو آنکھ کچھ نہیں دیکھ سکتی اسی طرح بصیرت کتنی بھی عمدہ کیوں نہ ہو نور وحی کے بغیر راہ حق سے بھٹک سکتی ہے۔اس لئے کہ بصیرت کے درست اور عمدہ ہونے کی ضمانت بھی صرف وحی الٰہی سے حاصل ہوسکتی ہے۔اور وحی الٰہی کے بغیر یہ فیصلہ بھی ممکن نہیں کہ بصیرت نےدرست سمت میں کام کیا ہے۔یا غلط سمت میں لہذا عقل کی جولانگاہ وحی الٰہی کی حدود میں ہونی چاہیے!

قدیم معتزلہ اور جدیدعقل پرستRationalist  مسلمان عقل وتدبر کے نام پر وحی الٰہی سے آزادی چاہتے ہیں۔یا وحی الٰہی کو من مانی تعبیر کے تابع رکھنا چاہتے ہیں۔اس لئے دین کے نام پر انہوں نے رائے کو فروغ دیا ہے۔اور دے رہے ہیں۔بالخصوص تدبر کے نام پر قرآن مجید کو بازیچہ اطفال بناکر رکھ دیا ہے!۔۔۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کایہ ارشاد گرامی انہی لوگوں کے بارے میں ہے کہ:

(عربی)

"جو شخص قرآن مجید کا مفہوم اپنی رائے سے بیان کرے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔"

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے تھوڑا تھوڑا کرکے تئیس سال میں مکمل فرمایا۔تاکہ قرآن مجید کی نصیحت اور اس کامطلب لوگوں میں رسوخ ایمانی اور تسکین قلبی کاباعث ہو۔اللہ کریم فرماتے ہیں:

(عربی)

"کافر لوگ کہتے ہیں کہ اس(حضرت اکر م صلی اللہ علیہ وسلم) پر قرآن مجید یکبارگی کیوں نہیں نازل کردیا گیا؟۔۔۔یہ اس لئے  ہواکہ ہم(اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کے دل کو ثابت رکھیں اور ہم نے اس قرآن کو اسی لئے ) ترتیل سے پڑھا ہے!"

آیت کریمہ میں قرآن مجید کے ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وقفوں وقفوں سے موقع ومحل کے مطابق اتارنے کی حکمت بیان فرمادی گئی ہے کیونکہ کسی بات  ک افہام وتفہیم میں ضرورتوں کا پیش آنا اور موقع ومحل کی مناسبت بڑی اہمیت رکھتی ہے۔اس لئے ایس مواقع پر ضرورت کی تکمیل کے ساتھ ساتھ جواب بالصواب اطمینان قلب کا باعث ہوتا ہے۔ اور یوں اس کی حفاظت بھی آسان اور مستقل ہوتی ہے۔قرآن مجید کے مفاہیم ومطالب کو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت وسیرت کی روشنی میں پڑھنے  اور سمجھنے سے یہی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ  جو لوگ سنت کے بغیر قرآن مجید کو عقل کے پیمانوں سے ناپتے ہیں وہ علمی فتنوں اور آخرت میں عذاب الیم سے نہیں بچ سکتے!فرمایا اللہ رب العزت نے:

(عربی)

"جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امر(سنت ) سے الگ رہتے ہیں۔انہیں فتنہ سے ڈر جانا چاہیے یا پھر ان کو عذاب الیم کا سامنا ہوگا!"

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امر سے الگ رہنے سے مراد ظاہر ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے بے اعتنائی ہے۔لہذا قرآن مجید کو نصوص حدیث سےسمجھنا ہی صحیح اور محفوظ راستہ ہے  کیونکہ قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کا تعلق الفاظ وتلبین کا تعلق ہے گویا ایک متن ہے اور دوسری اس کی شرح!اگر قرآن  مجید کے صرف الفاظ  ہماری ہدایت کے  لئے کافی ہوتے تو اللہ تعالیٰ لوگوں کو براہ راست مخاطب فرماتے یا سلی سلائی کتاب کی صورت میں قرآن مجید لوگوں کو دے سکتے تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کو ایسا لازم وملزوم کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر عام انسان یہ بھی یقین نہیں کرسکتا کہ قرآن مجید واقعی اللہ کی کتاب ہے۔کیونکہ قرآن مجید کو کتاب اللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی تصدیق کی بناء پر ہی کہاجاتا ہے۔ورنہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول وفعل حجت تسلیم نہ کیا جائے تو قرآن مجید اللہ کا کلام کیسے؟اور اس کی منجانب اللہ ہونے کی ہمارے پاس کیا گارنٹی ہے؟

حاصل یہ ہے کہ قرآن مجید کی تفسیر اپنی رائے کی بجائے ثابت شدہ احادیث وآثار کی روشنی میں کرنی چاہیے!۔۔۔یہاں ایک نکتہ ملحوظ خاطر رہے کہ قرآن مجید کی تفسیر سے مقصود قرآن مجید سے استفادہ ہے۔ لہذا قرآن مجید جو دستور زندگی ہے اور کتاب ہدایت بھی اس میں علم وفکر کی جولانیاں اسی مقصد سے ہونی چاہییں۔اگر کوئی شخص قرآن مجید کو سامنے رکھ کر سائنسی انکشافات یا مابعد الطبیعات کی کیفیتیں بیان کرنا شروع کرے گا تو وہ قرآن مجید کو اس کے اصل مقصودسے دور لے جائےگا۔۔۔اس طرح وہ اپنے علم وبصیرت کو اس میدان میں استعمال کر ے گا جو اس کی عقل سے بالاہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

(عربی)

" تو اس چیز کے پیچھے نہ جا جس کے ساتھ تیرے لئے علمی رسائی نہیں ہے!"

یہی وجہ ہے کہ غیبی امور سے متعلقہ آیات کو علمائے سلف نے متشابہات سے شمار کیا ہے تاکہ جو شخص ان کی کیفیتوں میں پڑے وہ قرآن مجید کی اس تہدید سے خبردار ہوجائے:

(عربی)

"جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ فتنے اور ہیر پھیر کی تلاش میں متشابہ آیات کے پیچھے جاتے ہیں۔حالانکہ ان کی حقیقت سے اللہ ہی واقف ہے۔اور علمی ر سوخ والے لوگ کہتے ہیں ہم ان کے ساتھ ایمان(بالغیب) لائے۔سب ہمارے پروردیگار کے پاس سے ہے!"

عصر حاضر کے ترقی پسند مفسرین  تدبر قرآن اور فلسفہ قرآنی کے زعم سے تفسیر قرآن میں سنت سے بہت کم استفادہ کرتے ہیں اور حکمت قرآنی کے دعویٰ سے قرآن مجید کو سائنسی ایجادات اور نفسیات کے لئے بھر پور استعمال کرتے ہیں۔پھر سنت وسیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف اس میدان کےلئےناقص بتلاتے ہیں۔بلکہ جدید معاشروں اور اقتصادی وسیاسی نظاموں کے لئے بھی اسے ناکافی قرار دیتے ہیں۔اسی بناء پر اسلام کی تعبیر نو کے متلاشی ہیں اورایسی نام نہاد حکمت قرآنی کے لئے لاطائل تک ودود میں مصروف ہیں۔لہذا دور حاضر میں کتاب وسنت کی حدود میں عقلی تگ وتاز اور دیگر انسانی قویٰ کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ تعبیر سنت کی پابندی اور کمال رسالت کااعتراف خصوصی توجہ کاحامل ہونا چاہیے۔تاکہ دین کی تعبیر نو کے ذریعے دین وشریعت کی تبدیلی کے فتنہ سے بچا جاسکے۔پس تفسیر بالرائے کی مذمت کے سلسلہ میں واردشدہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور علمائے سلف کی احتیاط ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے!سائل نے(عربی) جو حدیث بیان کی ہے یہ بناوٹی ہے۔۔۔مستند ارشادات رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ثابت نہیں ہے:  (عربی)

[1]۔ڈاکٹر اقبال کا فلسفہ خود ہی اسی کی باز گشت ہے۔
[2]۔ڈاکٹر اقبال کا فلسفہ خود ہی اسی کی باز گشت ہے۔