ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

  • اگست
1985
اکرام اللہ ساجد
اسلام دین کامل ہے۔یہ آج سے چودہ صدیاں قبل مکمل ہوا۔اورآج تک کتاب وسنت میں مکمل ،جوں کاتوں موجود ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا سے رخصت ہوتے وقت اپنی امت کو یہ وصیت فرمائی تھی:
"میں تم میں دو چیزیں چھوڑ چلاہوں۔جن کو اگر تم نے مضبوطی سے تھامےرکھا تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے ان میں سے پہلی چیز کتاب اللہ ہے اور دوسری اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت!"
زبان نبوت سے ادا ہونے والے یہ پاکیزہ اور قیمتی الفاظ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلامی تعلیمات کوابدیت حاصل ہے۔تاقیامت ہمیں نہ کسی دوسرے شریعت کی ضرورت پیش آئے گی۔اور نہ ہی شریعت محمدیہ میں کسی قسم کی کمی بیشی یاتبدیلی کی گنجائش ہے!۔قیامت تک اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین اور خاتم المرسلین ہونے کا یہی نتیجہ ہے کہ شریعت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہر دور میں ہماری راہنمائی ہوگی!
  • اگست
1985
عبدالرحمن عزیز
جنگ خیبر:
سن 7ہجری میں خیبر کامشہور معرکہ پیش آیا۔اس معرکہ میں حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   اور حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   بھی شامل ہیں۔جب مرحب حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے ہاتھوں مارا گیا تو معرکہ خیبر بھی ختم ہوا۔خیبر کی زمین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین میں تقسیم کردی۔چنانچہ زمین کا ایک ٹکڑا حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے حصہ میں آیا۔انہوں نے اس ٹکڑے (ثمغ) کو راہ خدا میں وقف کردیا۔صحیح مسلم میں اس کی تفصیل مذکور ہے۔(ملاحظہ ہو باب الوقف صحیح مسلم)
  • اگست
1985
ادارہ
شاہ فاروقی ہاشمی صاحب کندیاں ضلع خوشاب سے لکھتے ہیں:
محترم کیلانی صاحب ،السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
"بندہ محدث کاایک پرانا قاری ہے۔اس سے قبل جناب سے "مسئلہ سماع موتیٰ" پر خط وکتابت محدث میں سوال وجواب کی صورت میں شائع ہوچکی ہے۔۔۔اب دوبارہ زحمت دے رہا ہوں۔اُمید ہے آپ درج ذیل سوالات کے جوابات کتاب وسنت کی روشنی میں تحریر فرما کر شکریہ موقع دیں گے:
1۔رمضان المبارک 1402ھ(مطابق جولائی 82ء)کے محدث میں آپ نے"قرؑآن میں حاکم(حاکمیت) کے تصور" کے تحت بحوالہ فتاویٰ کبریٰ (ابن  تیمیہ ؒ  ) لکھا ہے کہ:
  • اگست
1985
اکرام اللہ ساجد
روزنامہ "جنگ"کی 4 تا7جولائی کی چاراشاعتوں میں پروفیسر وارث میر کا ایک مضمون بعنوان "عورت،پردہ اورجدید زندگی کےمسائل شائع ہوا ہے!
صاحب مضمون کو ابھی حال ہی میں"اجتہاد وتعبیر" کاشوق چرایا ہے۔اور یہ مضمون لکھنے سے قبل اسی سلسلہ کے چند اخباری بیانات داغ کر وہ اس زعم میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ اجتہاد وتعبیر کامیدان گویا صدیوں سے انھی کا منتظر چلا آتا تھا۔چنانچہ اب یہ"گوہر مقصود"اسے مل گیا ہے ۔اور اسی بناء پرانہوں نے یہ طویل مضمون لکھا ہے: