مرزا غلام احمد نے بیان کیا ہے کہ:
"کسی شخص کو حضور ر سالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم  کی بارگاہ میں بحالت خواب حاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔اس نے دیکھا کہ علماء ہند بھی حاضر دربار ہیں۔پھر مجھے(مرزا صاحب کو) بھی حاضر کیاگیا۔علماء نے میرے بارے میں بتایا کہ یہ شخص خود کومسیح کہتاہے۔حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری تکفیر پرعلماء کو مبارک باد دی اور مجھے جوتے لگوائے۔"
اس خواب کاتذکرہ کرنے کے  بعد مرزا صاحب نے اس کا  مضحکہ اڑایا ہے۔اور حاضرین مجلس کا بانداز تحقیر یوں ذکر کیا ہے:
" مولوی محمد حسین کی کرسی کے قریب ایک اور کرسی تھی جس پر ایک بڈھا نودسالہ بیٹھا ہوا تھا۔جسے لوگ نزیرحسین کہتے  تھے۔۔۔اور  سب سے پیچھے ایک نابینا وزیرآبادی تھا۔جس کو  عبدالمنان کہتے تھے۔اور اس کی کرسی سے"انا المکفر"کی زور  سے آواز آرہی تھی۔"[1]

مرزا صاحب کی تحریر کے اس اقتباس میں جس عالم دین کانام سب سے پہلے مذکور ہواہے۔تحریک ختم نبوت میں اس کی خدمات کا بیان ہمارا موضوع ہے۔ہماری گزارشات کا مدار اکثر وبیشتر مرزا صاحب کی اپنی تصانیف اور مولانا محمد حسین بٹالوی کے ماہنامہ اشاعۃ السنہ پر ہے۔تاہم چند معلومات بعض دیگر کتابوں سے بھی اخذ کی گئی ہیں۔1868ء یا 1869ء کا واقعہ ہے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی مولوی سید نزیر حسین صاحب محدث دہلوی سے نئے نئے تحصیل علم کرکے واپس بٹالہ آئے تھے۔عوام مسلمانوں میں ان کے خلاف شدید جذبات پائے جاتے تھے۔مرزا غلام احمد کسی کام کےسلسلے میں بٹالہ گئے۔تو ایک  شخص اصرار کے ساتھ ان کو تبادلہ خیالات کے لئے مولوی محمدحسین صاحب کے مکان پر لے گیا وہاں ان کے والد صاحب [2]بھی موجود تھے۔ اور  سامعین کا ایک ہجوم مباحثہ سننے کےلئے بے تاب تھا۔مرزا صاحب مولوی صاحب کے سامنے بیٹھ گئے اور مولوی صاحب سے پوچھا کہ آپ کا دعویٰ کیا ہے؟مولوی صاحب نے کہا کہ میرا دعویٰ یہ ہے کہ قرآن  مجید سب سے مقدم ہے ۔اور اس کے بعد اقوال رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ ہے۔اور میرے نزدیک کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل کسی انسان کی بات قابل حجت نہیں۔مرزا صاحب نے یہ سن کر بے ساختہ کیا کہ آپ کا یہ اعتقاد معقول  اورناقابل اعتراض ہے۔لہذامیں آپ کے ساتھ بحث کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ان کا فرمانا یہ تھا کہ لوگوں نے دیوانہ وار یہ شور مچادیا کہ ہار گئے ہارگئے۔[3]

یہ واقعہ جو مرزائیوں کی ایک کتاب سے نقل کیاگیا ہے۔اسے مولانا محمد حسین بٹالوی اورمرزا غلام احمد قادیانی کے باہمی تعلقات کا آغاذ قرار دیاجاسکتا ہے۔[4]جو  تقریباً بائیس سال تک دوستانہ رہے اور بعد کے اٹھارہ سال شدید مخالفانہ پہلا دور 1890ء تک جاری رہا جس میں مرزا صاحب عیسائی مشنریوں اور آریہ سماجیوں کےمدمقابل ایک مبلغ اسلام کا روپ دھارے ہوئے تھے۔اور مولانا اس کے خبث باطن سے لا علم ہونے کے باعث(عربی) کے  تحت اس کی حمایت کرتے رہے۔اس دور کے وسط میں مرزا صاحب نے اسلامی عقائد کے اثبات اور ادیان باطلہ کے رد میں ایک عظیم الشان کتاب بنام "براہین احمدیہ" 50 جلدوں میں شائع کرنے کا اعلان کیا۔چونکہ مرزا صاحب ایک مبلغ اسلام کی حیثیت سے متعارف تھے۔اس لئے اہل اسلام نے جوعیسائی مشنریوں اور آریہ  سماجیوں کی معاندانہ سرگرمیوں سے بڑی حد تک پریشان تھے۔اس منصوبے کو سراہا اور مرزا صاحب کی اپیل پر مالی تعاون بھی کیا۔مرزا صاحب نے کتاب کی دو جلدیں شائع کرکے چپ سادھ لی تو عوام اہل اسلام میں (جو پوری کتاب کی قیمت پیشگی ادا کرچکے تھے) بے چینی پھیلنا شروع ہوگئی۔جس کی شہادت مرزا صاحب کا درج ذیل اعلان ہے۔جو رجب 1298ھ بمطابق جون 1881ء کے اشاعۃ السنۃ کے صفحہ 161 پرشائع ہواہے:

"کتاب براہین احمدیہ کے چھپنے میں مہتمم مطبع کی بعض مجبوریوں کے سبب توقف ہوگیا ہے۔اب مہتمم مطبع نے بتاکید وعدہ دیا ہے کہ حصہ سوم کو بہت جلد چھاپ کرتیار کرتا ہوں۔پس ناضرین وخریداران اصطبار فرمادیں اور عفو کو کام میں لاویں۔(خاکسار غلام احمد ازقادیان ضلع گورداسپور)

اسی طرح کے حیلوں بہانوں میں 3 سال گزر گئے لیکن آخر کار 1884ء میں اس کتاب کی چار جلدیں طبع ہوکر منظر عام پر آگئیں۔[5]۔کچھ بزرگوں نے کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد محسوس کیا کہ مصنف کے عزائم خطرناک ہیں جیسا کہ مولانا ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں:

"مولانا حافظ عبدالمنان مرحوم محدث وزیر آبادی سے میں نے خودسنا کہ مجھے شبہ ہوتا ہے کہ کسی دن یہ شخص (مرزا غلام احمد) نبوت کادعویٰ کرے گا۔ایسا ہی مولوی ابو عبداللہ غلام العلی صاحب مرحوم امرتسری سے سننے والوں کابیان ہے کہ مرحوم بھی مرزا صاحب سے خوفزدہ تھے۔کہ کسی دن نبوت کا دعویٰ کریں گے۔مرزاصاحب نے براہین احمدیہ میں مولوی صاحب مرحوم کا نام لےکر رد بھی کیا ہے۔ایسا ہی مولوی غلام دستگیر مرحوم قصوری اور مولوی محمد وغیرہ خاندان علماء لدھیانہ بھی مرزا صاحب سے بدظن تھے۔ ہم حیران ہیں کہ علماء کی فراست کس درجہ کی تھی کہ آخر کار وہی ہوا جو ان حضرات نے گمان کیاتھا۔"[6] مذکورہ بالا چند ایک علماء کے علاوہ علماء وعوام کی اکثریت نے اس کتاب کو خوش آمدید کہا جیسا کہ مولانا امرتسری ؒ لکھتے ہیں:

"براہین احمدیہ کے مضامین کی ابتداء زیادہ تر اپنے (مرزاصاحب کے)الہامات اور مکاشفات پر تھی۔لیکن وہ الہامات کچھ ایسے صاف اورصریح اسلام کے مخالف نہ تھے بلکہ بعض معاون بعض گول اس لئے حسن ظن رکھنے والے علماء اس پر بھی مرزا صاحب سے مانوس ہی رہے۔اس زمانے میں سب سے بڑے مانوس مولوی ابو سعید محمدحسین صاحب بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنۃ تھے ۔جنھوں نے اس کتاب پر بڑا بسیط ریویو لکھا اور مخالفین کوجوابات دیئے۔"[7]

(یاد رہے کہ یہ ریویو اشاعۃ السنۃ 1301ھ بمطابق 1884ء جلد 7 کے شمارہ نمبر 6تا8 میں شائع ہواتھا۔اور  اس میں بٹالوی صاحب نے براہین احمدیہ کو ایک معرکۃ الآرا کتاب قرار دیا تھا)

اسی طبقے میں علماء دیوبند وگنگوہ بھی شامل تھے۔جیسا کہ مولوی بٹالوی لکھتے  ہیں:

"علماء لدھیانہ درالعلوم دیوبند کے دستار بندی کے جلسہ میں شرکت کی غرض سے گئے تو مرزا صاحب کے خلاف فتویٰ تکفیر کا مضمون تیار کرکے ساتھ لے گئے ۔لیکن علماء دیو بند گنگوہ نے مضامین براہین احمدیہ کو موجب کفر نہ سمجھ کر  اس پر دستخط کرنے سے انکار کردیا۔اور لوگوں کو مرزا کی تکفیر سے روکا۔جس پر علمائے لدھیانہ ناراض ہوکر واپس چلے آئے۔"[8]

قارئین ان حوالوں کے ذریعے آپ کو یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اس دور میں مولانا بٹالوی محض ذاتی دوستی کے باعث مرزا صاحب کے تعاقب میں سرگرم نہیں ہوئے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انھیں بالکل اسی طرح براہین احمدیہ میں موجب کفر وفسق کوئی بات نظر نہیں آئی جس طرح دیگر نامورعلماء مثل مولانا رشید احمد گنگوہی اور مولانا محمد یعقوب نانوتوی ایسی کسی بات کاسراغ نہ لگا سکے۔تاہم اگر منصف براہین کےدل  میں چورتھا تب بھی  ان علماء کو حمایت یاخاموشی اختیار کرن پر موردطعن نہیں بنایا جاسکتا۔کیوں کہ فیصلے تو ظاہر پرکئے جاتے ہیں۔

مولانا بٹالوی اور مرز ا صاحب کے تعلقات کادوسرا دور 1891ء سے شروع ہوتا ہے۔یہ وہ سال ہے جس میں مرزا صاحب نے اپنی تصنیف"فتح اسلام"میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔یہ کتاب ابھی پریس میں تھی کہ مولانا بٹالوی کو اس کے مندرجات کا علم ہوگیا۔اور مرزا صاحب کی حقیقت ان پرکھل گئی۔مولانا اس سے قبل محض اس وجہ سے مرزا صاحب کو اچھا سمجھتے تھے کہ اسلام اور اہل اسلام کے مفاد کے لئے کام کررہے تھے۔لیکن جونہی معلوم ہوا  یہ تو بغل میں چھری لئے پھر رہے ہیں اور مسلمانوں کے مسلمہ عقائد کی بیخ کنی پر آمادہ ہیں تو مولانا (عربی)کے  تحت 22۔23۔سال کی طویل دوستی کو بالائے طاق رکھ کر مرزا صاحب کے مد مقابل کھڑے ہوگئے۔انہوں نے سب سے پہلے خط وکتابت کے ذریعے مرزاصاحب کوراہ راست پرلانے کی کوش کی۔یہ خط وکتابت دو ادوار میں تقسیم کی جاسکتی ہے۔پہلا دور جنوری 1891ء سے آخر اپریل 1891ء تک ہے۔جس میں مولانااور مرزاصاحب براہ راست آپس میں خط وکتابت کرتے رہے۔اورانجام کار مرزاصاحب نے خود کوعاجز پا کر اس سلسلہ کو بندکردیا۔جس کا ثبوت ان کے آخری خط کے درج ذیل الفاظ ہیں:

"آپ کی معلومات حدیث میں بہت وسیع ہیں۔یہ عاجز ایک امی اور جاہل ہے۔نہ عبادت ہے نہ ریاضت۔نہ علم نہ لیاقت۔غرض کچھ بھی چیز نہیں۔خدا کی طر ف سے ایک امر تھا اور قطعی اور یقینی تھا۔اس عاجز نے پہنچادیا۔ماننا نہ ماننا اپنی رائے اور سمجھ پر موقوف ہے۔۔۔غلام احمد ۔"[9]

خط وکتابت کا دوسرا سلسلہ اپریل کے بعد شروع ہوا۔اس سلسلے میں مرزا صاحب کو لکھے جانے والے خطوط اگرچہ مولانا کے ہی تحریر کردہ  ہوتے  تھے۔تاہم ان پر دستخظ محمد حسن رئیس لدھیانہ کے ہوتے تھے۔[10]

تاہم یہ سلسلہ بھی مرزا صاحب نے عاجز آکر 13جون 1891ء کو بند کردیا۔[11]

دونوں سلسلوں کی اس خط وکتابت میں مرزا صاحب نے مولانا بٹالوی کو براہین احمدیہ پر لکھے ہوئے ان کے  ریویو کی عبارتیں یاد دلا دلاکر اس بات کا قائل کرنے کی کوشش کی کہ میں نے کوئی نیا دعویٰ نہیں کیا۔ بلکہ فتح اسلام وغیرہ میں وہی کچھ ہے جو براہین احمدیہ میں تھا اور جس کی تائید آپ کرچکے ہیں۔اس لئے اب ان کی تردید کیوں کرتے ہو؟

مثلاً مرزاصاحب لکھتے ہیں:

"درحقیقت ان  رسالوں (فتح مرام وغیرہ) میں کوئی نیا دعویٰ نہیں کیا گیا بلکہ بلاکم وبیش یہ وہی دعویٰ ہے جس کابراہین احمدیہ میں بھی ذکرہوچکا ہے۔اور جس کی آں مکرم اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ میں امکانی طور پر تصدیق بھی کرچکے ہیں۔"[12]

مولانا بٹالوی نے اس کے جواب میں لکھا:

"جو امکان میں ریویوبراہین احمدیہ میں بیان کرچکا ہوں۔اس کااب بھی قائل ہوں۔مگر آپ نے اس امر ممکن سے جس کا امکان میں نے تجویز کیا تھا پڑھ کر ان رسائل میں دعویٰ کیا ہے۔لہذا آپ کے لئے اس ریویو کی عبارات کافی ومفید نہ ہوں گی۔آپ ان عبارات کو میرے  سامنے پیش کرنے کے بغیر ان سے استشہاد کریں  گے۔تو آپ نقصان اٹھائیں گے۔بہتر ہے کہ آپ  میری کلام کو مجھے دیکھا کرشائع کریں۔"[13]

اپنے اس موقف کو واضح ترکرنے کی غرض سے مولانا بٹالوی نے مرزا صاحب کو 13 مارچ 1981ء کے خط میں تحریر فرمایا:

"اپنے اس الہام کا جس میں آپ کے مسیح موعود ہونے کا اور ابن مریمؑ کے موعود نہ ہونے کا د عویٰ ہے۔فیصلہ براہین احمدیہ اور اشاعۃ السنۃ کے ریویو براہین احمدیہ سے منظور کریں۔اور یہ اقراری تحریردیں کہ اگر براہین احمدیہ اور اس کے ریویو سے یہ الہام غلط ثابت ہو تو ہم اس الہام کو غلط سمجھیں گے اور اس سے   رجوع کااشتہار دیں گے۔"[14]

15 مارچ کو مولانا نے ایک اورخط میں مرزا صاحب کو لکھا:

" میرے پیارے دوست میرے مضمون ریویو میں ایک حرف  آپ کے اس دعویٰ جدید کا مصدق نہیں ہے۔نہ آپ نے اپنے براہین احمدیہ میں یہ دعویٰ (مسیح موعود ہونا) صراحتاً یا اشارۃً کیا۔ نہ میں نے اس کی تصدیق وتائید میں کوئی کلمہ لکھا تھا۔"[15]

چونکہ مولاناکی ان باتوں کا مرزا صاحب کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اور نہ ہی وہ ریو یو میں سے مولانا کی کوئی ایسی عبارت بطور خاص دیکھا سکتے تھے۔جس نے مولانا صاحب کے دعویٰ مسیحت کی تائید کی ہو اس لئے مجبورا انہوں نے خط وکتابت کاسلسلہ بند کرکے اس محاذ سے  راہ فرار اختیار کرلی۔

سطور بالا میں جس خط وکتابت کا ذکر ہوا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ مرزا صاحب نے تصنیف واشاعت کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا تھا۔فتح اسلام میں کئے گئے دعویٰ مسیحت پر عوام اہل اسلام کے شور وغضب کو رفع کرنے کے لئے انہوں نے ایک رسالہ "توضیح المرام" لکھ کر مشتہرکیا۔لیکن اس نے احتجاج کو اور بھی شدید کردیا۔کیونکہ توضیح مرام میں اپنے نبی ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سے دیگر عقائد کفریہ کا بھی اظہار کردیا۔احتجاج کی شدت کو کم کرنے کے لئے مرزا صاحب نے ایک اور رسالہ "ازالہ اوہام" کے بعض حصص ومضامین کو اپنے حواریوں میں متد اول کیا اور انہوں نے بذریعہ رسائل ومجالس ان کو عوام میں مشتہر کیا۔ان مضامین نے احتجاج کی بھڑکتی ہوئی آگ پر بقول مولانا بٹالوی کیروسین آئل(مٹی کاتیل) ڈال دیا۔[16]

کیوں کہ اس رسالہ میں مرزا صاحب نے دعویٰ مسیحت ونبوت  کے ساتھ رسالت کا بھی دعویٰ کردیا۔اور معجزات مسیحؑ سے بہ  تاویل وتحریف انکار کیا۔عوام کو خوش رکھنے کے لئے توضیح مرام میں وہ  اشتہاردے چکے تھے۔کہ علمائے اسلام جن عقائد ومقالات کو کفر وگمراہی سمجھتے ہیں۔ان پر مجھ سے(مرزا صاحب سے) مباحثہ کرلیں۔ اور اس وقت تک اپنی زبان بند رکھیں۔اس مباحثہ کو انہوں نے ایسی ناممکن الوقوع مشروط سے مشروط و مقیدکردیا کہ نہ نو من تیل ہو نہ رادھا ناچے ۔وہ دراصل یہ چاہتے تھے کہ شرائط پوری نہ ہونے کے باعث جتنے دنوں تک مباحثہ منعقد نہ ہو۔اتنے دنوں علماء خاموش رہیں۔ اور  ان کے دعاوی کا کچھ نہ کچھ اثر عوام پرہوتا رہے لیکن مرزا صاحب زیادہ دیر تک خود کو نہ بچا سکے۔اور جولائی 1981ء میں لدھیانہ میں مولانا کے روبرو میدان مباحثہ میں آنے پرمجبور ہوگئے۔یہ مباحثہ 20 جولائی کو شروع ہوا۔اور بارہ دن تک مولانا مرزا صاحب کی اقامت گاہ پرجا کر مباحثہ کرتے رہے۔دونوں  طرف سے تحریری بحث ہورہی تھی۔جب مولانا کی پکڑ مضبوط ہوگئی تو بارہویں روز مرزا صاحب نے جو تحریر دی۔اس میں موقوفی بحث کی درخواست کردی اور یہ بات کہہ دی کہ آپ نے بھی بہت کچھ لکھ لیاہے۔ہم نے بھی لکھ لیا اب ہم اس بے سود بحث کوختم کرناچاہتے ہیں۔[17]

اس مباحثہ میں مرزا صاحب کوسخت ہزیمت اٹھانا پڑی۔جو بقول مولانا بٹالوی مرزاصاحب کے حواریوں پر بہت شاق گزری اور انہوں نے اس باب میں مرزا صاحب اور ا ن کی آراءحاصل کیں۔[18]

جب مرزا  صاحب مباحثوں میں شکست پر شکست کھانے کے باوجود اپنے عقائد سے تائب نہ ہوئے بلکہ تنگ آکر انہوں نے مباحثہ کا نام لینا ہی چھوڑ دیا تو مولانا نے مناسب سمجھا کہ اب چونکہ اس شخص کے راہ راست پر آنے کی کوئی امید باقی نہیں رہی۔اس لئے فتوے کومشہتر کرکے عوام الناس کو اس کے مکروفریب سے آگاہ کیاجائے۔اورانھیں ان کی جھوٹی نبوت کے جال سے بچایا جائے۔اسی طرح یہ معرکۃ الآرا فتویٰ اشاعۃ السنہ جلد 13 میں شائع ہوکر پہلی بار منظر عام پر آیا۔

دوسری طرف مرزا صاحب بھی بیکار نہیں بیٹھے ہوئے تھے۔بلکہ جن دنوں مولانا بٹالوی مرزاصاحب کے خلاف فتویٰ تکفیر کی تیاریوں میں مصروف تھے ۔اس کی بھنک مرزا صاحب کو بھی پڑگئی۔چناچہ وہ بے قابو ہوکر"آسمانی  فیصلے" میں یوں رقم طراز ہوئے:

"اور بٹالوی کو ایک مجنون درندے کی طرح تکفیر اورلعنت کی جھاگ منہ سےنکالنے کے لئے چھوڑ دیا۔"[19]

لیکن مولانا اس طرح کے طرزتحریر سے سیخ پا نہیں ہوئے بلکہ بڑے حوصلے اور ضبط کے ساتھ ٹھوس علمی سرگرمیوں میں مصروف رہے اور انہوں نے ہندوستان کے طول وعرض میں گھوم پھر کر علمائے امت سے مرزا صاحب کے بارے فتویٰ تکفیر حاصل کرکے اسے شائع کردیا۔تو مارچ1893ء میں شائع ہونے والی مرزا صاحب کی604 صفحات کی ضخیم کتاب"دافع الوسادس مقدمہ حقیقت اسلام"مولانا کو جلی کٹی سنانے  کے لئے وقف کردی۔اس کتاب میں صفحوں کے صفحے مولانا کو مخاطب کرکے لکھے گئے ہیں۔مولانا کے بعض خطوط اور ان کے جوابات درج کئے ہیں اور"قولہ واقوال کے عنوانات کے ساتھ خودساختہ مباحثے درج کئے ہیں۔یعنی جب وہ روبرو میدان میں مولانا سے جیت نہ سکے تو پھر حجر ونشین ہوکر متبعین کو یہ بتارہے ہیں کہ بٹالوی یہ کہتا ہےاور میرے پاس اس کایہ جواب ہے۔زبان وبیان ماشاء اللہ اپنی مثال آ پ ہے۔مثلاً لکھتے ہیں:

"اے کج طبع شیخ ،خدا جانے تیری کس حالت میں موت ہوگی۔"[20]

"آپ اپنے سفلہ پن سے باز نہیں آتے۔خدا جانے آپ کس خمیر کے ہیں؟(دافع الوساوس، ص304) ایک اور عبارت یوں ہے:

" اے شیخ نامہ سیاہ،اس دروغ بے فروغ کے جواب میں کیا کہوں اورکیا لکھوں؟اللہ تعالیٰ تجھ کو  آپ ہی جواب دیوے کہ اب تو حد سے بڑھ گیا ہے۔اے بدقسمت انسان تو ان بہتانوں کے ساتھ کب تک جئےگا؟"[21]

ایک عبارت اورملاحظہ فرمالیجئے:

"اب آپ(بٹالوی صاحب) کسی حیلہ وبہانہ سے گریز نہیں کرسکتے۔اب تودس لعنتیں آ پ کی خدمت میں نذر کردی ہیں۔"[22]

لیکن مرزا صاحب پر مولانا کی گرفت کی شدت کا اندازہ آپ اسی کتاب میں دیئے گئے مولانا کے ایک خط بنام مرزا کے ایک اقتباس سے ملاحظہ فرمالیجئے۔مولانا لکھتے ہیں:

"آپ(مرزا  صاحب) اس قسم کے تین ہزارالہامات کے صادق ہونے کے مدعی ہیں میں ان تین ہزار میں سے صرف تین الہاموں کے صادق ٹھہرنے پر آپ کو ملہم مان لوں گا۔"[23]

لیکن اس بات کا جواب مرزا صاحب نے کئی سال بعدبایں الفاظ دیا:

"پس کس قدر لغت کا داغ اس دل پر ہے کہ دس ہزار پیش گوئی سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔اور بار بار ایک کتے کی طرح غوں غوں کرتا ہے کہ فلاں پیش گوئی پوری نہیں ہوئی اور نہ صرف اس قدر بلکہ سخت بے حیائی سے  ساتھ اس کے گالیاں بھی دیتا ہے۔"[24]

اس کے بعد مرز ا صاحب نے مباحثوں کی بات چھوڑ کر چیلنج بازی کا ایک اور انداز اختیار کیا اور 20 مارچ 1893ء کو اشتہار دیا کہ بٹالوی صاحب میرے مقابلہ میں تفسیر قرآن لکھیں مولانا نے یہ چیلنج بھی منظور کرلیا تو مرزا صاحب حسب عادت بھاگ گئے۔اور اسی سال لکھی جانے والی کتاب "آئینہ کمالات اسلام" میں یوں رقم  طرازہوئے:

"چند ماہ کا عرصہ ہوا جس کی تاریخ مجھے یاد نہیں کہ ایک مضمون میں نے محمد حسین کا دیکھا  جس میں میری نسبت لکھا ہوا تھا۔کہ یہ شخص کذاب اور دجال اور بے ایمان اور بایں ہمہ سخت نادان اورجاہل اور علوم دینیہ سے بے خبر ہے۔تب میں جناب  الٰہی میں رویا کہ میری مدد کر۔تو اس دعا کے بعد یہ الہام ہوا۔(عربی) یعنی دعا کرمیں قبول کروں  گا۔مگر میں بالطبع نافر تھا کہ کسی کے لئے عذاب کی دعا کروں۔آج جو 29 شعبان 1310ھ ہے۔اس مضمون کے لکھنے کے وقت اللہ تعالیٰ نے دعا کے لئے دل کھول دیا۔سو میں نے اس وقت اسی طرح س رقت دل سے اس مقابلہ میں فتح پانے کےلئے دعا کی اور میرا دل کھل گیا اور میں جانتا ہوں کہ قبول ہوگئی وہ الہام جو مجھ کو میاں بٹالوی کی نسبت ہوا تھا کہ(عربی) وہ اسی موقع کےلئے ہوا تھا ۔میں نے اسی موقع کےلیے 40 دن کاعرصہ ٹھہرا کر دعا کی ہے۔اور وہی عرصہ میری زبان پر جاری ہوا۔اب صاحبو اگر میں اس نشان میں جھوٹا نکلا یا میدان سے بھاگ گیا یا کچے بہانوں سے ٹال دیا تو تم سارے گواہ رہو کہ بے شک میں کذاب اور دجال ہوں تب میں ہر ایک سزا کے لائق ٹھہروں گا۔کیونکہ اس موقع پر ہر ایک پہلوسے میرا کذب ثابت ہوجائے گا۔اور دعا کا نا منظور ہونا کھل کر میرے الہام کا باطل ہونا بھی ہر ایک پر ہویدا ہوجائے گا۔"[25]

اس تحریر میں مرزا صاحب نے بڑی پختگی کے ساتھ مولانا بٹالوی کی اہانت اورعذاب کی خاطر اپنی قبول شدہ دعا کا ذکر کرکے اسے اپنے صدق وکذب کا میعار ٹھہرایا۔جس کی وجہ سے پورے برصغیر میں انتظار ہونے لگا کہ دیکھیں بٹالوی صاحب پر کیا برق گرتی ہے۔40 روز گزر گئے اور مولانا ہر طرح بخیریت رہے اور مرزا صاحب بغلیں جھاڑنے لگے۔اس واقعہ کے چار سال بعد انجام آتھم میں انہوں نے اس عذاب واہانت کی نئی تشریح فرمائی جو یوں تھی کہ بٹالوی مفلس ہوگیا ہے۔پرانے کپڑے پہنتا ہے۔کابل گیا تھا وہاں اس کی تکریم نہیں ہوئی اور بیمار ہوکر واپس چلاآیا۔[26]

یہ سب باتیں خلاف واقعہ تھیں۔کیونکہ کابل کے امیر نے مولانا کا ازحد اکرام کیا تھا جیسا کہ مولانا نے مرزا صاحب کو دعوت دی تھی۔کہ آیئے میرے ساتھ کابل چلیں اور وہاں لوگوں سے پتہ کریں کہ بٹالوی کے ساتھ کیا سلوک کیاگیا تھا؟جہاں تک مالی معاملات کاتعلق ہے ان کی مالی حیثیت حسب سابق تھی۔پُرانے کپڑے پہننا کوئی اہانت نہیں ہے۔ہاں کابل میں مولانا  بیمار ضرور ہوئے تھے۔ لیکن میدانی علاقوں کے افراد کا سر د پہاڑی علاقوں میں جاکر بیمار ہونا  کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔جبکہ مرزا صاحب تو دائم المریض انسان تھے۔جیسا کہ خود ان کی تحریرات سے  ظاہر ہوتا ہے۔

اسی کتاب یعنی انجام آتھم میں مرزا صاحب نے 94 علماء ہند اور 48 مشائخ عظام کو مباہلے کا چیلنج دیا اورشرط یہ عائد کی کی کہ کم از کم دس افراد مباہلہ ہوں۔مولانا بٹالوی نے اس چیلنج کا جواب یوں دیا کہ:

"مولوی عبدالحق غزنوی ومولوی غلام دستگیر قصوری پہلے ہی آپ سے مباہلہ کے خواہاں ہیں۔آپ ان سے مباہلہ کیوں نہیں کرتے؟اس کی وجہ معقول بیان کریں۔بدرجہ سوم میں مباہلہ کے لئے حاضر ہوں۔باقی رہی دس والی شرط تو یہ آپ نے محض اس لئے لگائی ہے کہ اول  تو اتنے لوگ بیک وقت مقابلے میں نہیں آئیں گے۔اگر آ بھی گئے تو ان میں کوئی نہ کوئی ایسا ضرور ہوگا جس کا سال بھر میں کوئی مالی نقصان ہوجائے۔ یا اس کی عزت کو کوئی صدمہ پہنچے یا اسے کوئی گالی دے دے یا اسے تھپڑ مار دے تو ایسی صورت میں آپ یہ فوراً کہہ دیں گے کہ یہ میرے ساتھ مباہلہ کا اثر اور میری جیت ہے۔آپ سیدھی طرح مقابلے میں آئیں آپ  اکیلے نکلیں گے تو آپ کا مقابل (بٹالوی) بھی اکیلا نکلےگا اوراگر آپ اپنی جورو اور لڑکوں کو ساتھ لائیں گے تو وہ بھی مع عیال آئے گا۔آپ الہام کا ٹیلی فون لگا کر اپنے ملہم سے یہ پوچھ دیں کہ کس قسم کا عذاب ہوگا؟تاکہ پھر آپ کو اس کی شرح کرنے اور اس کے معافی بتانے کی حاجت نہ رہے۔"[27]اس طرح مباہلے کے معاملے میں بٹالوی صاحب نے مرزا صاحب کی مکمل ناکہ بندی کردی تو انہوں نے پینترابدل دیا اور ایک خط لکھا جو یوں ہے:

"مجھ کو خدا نے تین مرتبہ یہ اطلاع دی ہے کہ محمد حسین کورجوع دیا جائے گا۔اس لئے میں نے اس پیش گوئی کو اس رسالہ سراج منیر میں جو اب چھپ رہا ہے درج کردیا ہے۔ اور جہاں تک میری طاقت ہے۔میں بھی دعا کروں گا۔مجھ کو اس بات سے بہت خوشی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا ارادہ فرمایا ہے ۔(عربی) مکتوبہ 2 ا پریل 1897ء"[28]

یعنی اس خط میں انہوں نے اپنے الہام کی رو سے یہ پیش گوئی کردی کہ مولانا بٹالوی قادیانی ہوجائیں گے،اس پیش گوئی کی مزید وضاحت کے لئے مرزا صاحب کے ایک حواری مولوی محمد احسن امروہی نے ایک خط مولانا کو تحریر فرمایا جو یوں تھا:

"حضرت اقدس(مرزا صاحب) نے اس عاجز سے بارہا یہ فرمایا ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب بالآخر باسبب اپنی برکات علمی کے پھر اس ریویو سابق کی طرح رجوع فرمائیں گے۔یہ جملہ معترضہ جو ان کو پیش آگیا ہے وہ ایک زلۃ الاقدام ہے۔راقم سید محمد احسن ازا مروہہ شاہ علی سرائے ضلع مرادآباد  اپریل 1897ء۔[29]

مولانا بٹالوی نے اس پیش گوئی کے جواب میں مرزا صاحب کو یوں مخاطب کیا:

"میں خدا کے فضل وتوفیق سے نہ کہ اپنی ذاتی قابلیت ولیاقت سے آپ کے اس دام میں نہیں پھنستا اور جب تک زندہ ہوں اورقرآن پر ایمان رکھتا ہوں۔اور دین اسلام کا معتقد اور پابندہوں آپ کی موجودہ حالت اور اعمال اخلاق کے ساتھ اتفاق نہ کروں گا۔"[30]

اور آپ نے مرزا صاحب کے عقائد باطلہ کی تردید کا سلسلہ زور شور سے جاری رکھا ۔تنگ آکرمرزا صاحب نے 21 نومبر 1898ء کواعلان کیا کہ"13 ماہ کے اندر محمد حسین بٹالوی عذاب میں مبتلا ہوگا۔اوراس عذاب میں اس کی موت  بھی  شامل ہے۔"لیکن مولانا بالکل ٹھیک ٹھاک رہے اور مرزا صاحب کی یہ خواہش بھی پوری نہ ہوسکی۔

قارئین کرام آج کے دور میں یہ اندازہ کرنا بھی مشکل ہے کہ انیسویں صدی کے آخری عشرے میں مرزا صاحب کے خلاف مولانا کا کام کرنا کس قدر دشوار تھا۔مرزا صاحب کوحکومت  وقت کی اعانت حاصل تھی۔خود صاحب جائیداد تھے مسیحت ونبوت کے دعویٰ کے طفیل بہت سے لوگ ان کے حلقہ ارادت میں داخل ہوچکے تھے۔جن میں بڑےبڑے امراء بھی شامل تھے۔مرید بن کر یہ جماعت مرزا صاحب کے اشارہ ایور پر بڑی سے بڑی رقوم بطور چندہ دینے کو تیار رہتی تھی اورمرزا صاحب اس طریق سے رقوم اکھٹی بھی کرتے رہتے تھے۔ان کی تصانیف جن کی کل تعداد ایک سو کےھ لگ بھگ ہے۔کثرت سے شائع ہوکر اہل اسلام اور غیر مسلم حلقوں میں فروخت ہوتی تھیں۔کیونکہ ان کے مخاطب ہندو عیسائی بھی ہوتے تھے۔اور سب لوگ بطور دلچسپی ان کو خریدتے تھے ۔گویا ہرطرف سے روپے پیسے کی ریل پیل تھی۔اس شخص کے مقابلے میں ایک فروتن تنہا جس کی پشت پر نہ کوئی جماعت تھی۔نہ تنظیم اور نہ حکومت چومکھی لڑائی لڑ رہا تھا۔عدم وسائل کااندازہ آ پ اس حقیقت سے لگاسکتے ہیں۔کہ کئی مرتبہ ایسا ہوتا کہ وہ کوئی  کرنے کا ارادہ کرتے لیکن وسائل کی عدم دستیابی آڑے آجاتی۔مثلاً 1893ء میں آپ نے ارادہ کیا کہ مرزا صاحب کے رد میں ایک مستقل رسالہ ردقادیانی کے نام سے جاری کرنا چاہیے تاکہ ان کے روز بروز کے احوال وافعال کاتعاقب ورد کیاجاسکے۔لیکن یہ ممکن نہ ہوسکا پھر انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ کو کا ملا رد مرزائیت کے لئے وقف کردیا جائے جب قارئین سے پوچھا گیا تو وہ نہ مانے کیونکہ  کوئی بھی قاری اپنے خرید کردہ رسالے کے ہر شمار ے میں ایک ہی عنوان پر مضامین پڑھ پڑھ کربور ہوجاتا ہے۔اس پر آپ نے بدرجہ آخر یہ فیصلہ کیاکہ اشاعۃ السنہ کا کم از کم 1/3 حصہ رد قادیانیت کے لئے وقف کردیاجائے۔(دیکھئے ٹائٹل اشاعۃ السنہ جلد 16 شمارہ نمبر 1 1893ء بمطابق 1310۔11ھ) اور پھر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا ۔ہر ماہ اس رسالے میں مرزا صاحب کے تازہ الہامات۔فرامین اور سرگرمیوں پر قرآن وحدیث کی روشنی میں تبصرہ ہوتا اور  ان کے دعادی کے جواب دیئے جاتے۔خود مولانا کے بقول سن 1900ء تک وہ مرزا صاحب کے رد میں 2ہزار صفحات لکھ چکے تھے۔[31] مولانا اس کے بعد بھی تقربیاً بیس سال زندہ رہے اور ان کا قلم خاموش نہیں ہوا۔بلکہ مرتے دم تک یہ سلسلہ جاری رہا ۔اس بات سےاندازہ لگایا  جاسکتاہے کہ رد مرزایئت میں ان کا کام کتنا زیادہ ہے۔اور اس کام کی وقعت کا اندازہ مولانا کو دیے گئے اس لقب سے بخوبی کیا  جاسکتا ہے۔ جو مرزا صاحب نے کسی اور کو نہیں دیا۔یہ لقب ہے امت مرزائیہ کے فرعون ہونے کا ایک حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہر امت کا ایک فرعون ہوتا ہے۔اور امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کا  فرعون ابو جہل ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح فرعون مصر حضرت موسیٰؑ کاشدید ترین مخالف تھا۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں کوئی شخص ابو جہل سے بازی نہیں لے جاسکا۔بعینہ جس شخص کو مرزا صاحب نے اپنی امت کافرعون قرار دیا ہے۔وہ  ان کےنزدیک ان کا سب سے بڑا مخالف ہے۔یہ الہامی لقب مرزا صاحب نے مولانا کو اپنی کتاب"نزول المسیح" میں  دیا ہے اور قارئین کی سہولت کی خاطر عربی الہام کااردو ترجمہ بھی مرزا صاحب نے خود ہی کردیا ہے:

(عربی)

ترجمہ۔اور یاد کرو وہ زمانہ جب ایک شخص تجھ سے مکرکرے گا کہ جو تیری تکفیر کا بانی ہوگا اور اقرار کے بعد منکر ہوجائے گا۔یعنی محمد حسین بٹالوی اور وہ اپنے رفیق کو کہے گا یعنی مولوی نزیرحسین دہلوی کو کہ اے ہامان میرے لئے آگ بھڑکا یعنی کافر بنانے کے لئے فتویٰ دے میں چاہتا ہوں کہ موسیٰ ؑ کے خدا کی تفشیش کروں اور یہی گمان کرتا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے۔اسی جگہ خدا نے میرا نام موسیٰ ؑ رکھا۔[32]

اس کے علاوہ مرزا  صاحب نے مولانا کو رئیس المتکبرین ،کاذب،دجال،شیخ احمقاں،دشمن عقل،ودانش،امام المتکبرین کے خطابات تو بڑی ارزانی سے تقسیم کئے ہیں ۔آپ بھی ملاحظہ فرمالیجئے:

"یہ بے چارہ نیم ملا گرفتار عجب وپندا بٹالوی"[33]

"حضرت بٹالوی صاحب اول درجے کے کاذب اور دجال اور رئیس المتکبرین ہیں"[34]

"باطل پرست بٹالوی جو محمد حسین کہلاتا ہے شریک غالب اوراعداء الاعداء ہے۔"[35]

"دہریکے از ایشاں مثل محمد حسین بٹالوی وشیخ نجدی ازدیانت ودین دوربود۔"[36]

"اے شیخ احمقاںودشمن عقل ودانش"[37]

(عربی)[38]

(عربی)[39]

"ایک شیخ ہے جو انسانیت کے پیرایہ سے بے بہرہ اور برہنہ اور ایمان ودیانت سے عاری ہے۔"[40]

"اے مفتری نابکار اسے سخت دل ظالم تجھے مولوی کہلا کرشرم نہ آئی۔"[41]

"کیونکہ یہ (احمد اللہ امرتسری ثناء اللہ امرتسری ،محمد حسین بٹالوی) جھوٹے ہیں،اور کتوں کی  طرح جھوٹ کامردار کھا رہے ہیں۔"[42]

مرزا صاحب چونکہ شاعری بھی کرتےتھے۔اس لئے انھوں نے بٹالوی صاحب کے متعلق بہت سے اشعار بھی کہے ہیں۔ملاحظہ فرمائیے مرزا صاحب کی کتاب ورہشیمن کے درج ذیل اشعار جوعربی میں ہیں۔تاہم ان کا ترجمہ بھی مرزا صاحب نے خود ہی قارئین کی سہولت کے پیش نظر کردیا ہے:

(عربی)

"شیخ نے میری تکفیر کی اور لوگوں نے اس کااتباع کیا ۔میں تو اس کو بے عقل اور بے سمجھ پاتا ہوں۔"

(عربی)

"میں مقابلہ کے وقت ا س کی کمر لومڑی سی  دیکھتا ہوں۔اور جب بکنے لگتا ہے تو بھیڑیے کی طرح بھونکتا ہے۔"

(عربی)

 وہ غبی اورسرکش ہے۔جہل نے اس کے غصے کوبھڑکا دیا ہے۔اس کاجہل سنگ خارا کی طرح ہٹنے والا نہیں ہے۔"(ص38)

(عربی)

"میری ایذا رسانی کی سعی میں رہتاہے اور جھوٹی چغل خوری کرتا ہے مجھ پر دشمنوں کی طرح اگر اس کا بس چلے۔"(ص 39)

(عربی)

مجھ کو چھوڑ دے میرے رب کے حوالے کر تو مجھ پر داروغہ نہیں کہ حکم چلاتا ہے۔ فیصلے کرتا ہے۔نہ ثالث عادل ہے۔(ص42)

چند مزید اشعار کاترجمہ پیش خدمت ہے:

"تو ایسے فتویٰ دیتا ہے۔جن کے ساتھ خدا کی حجت نہیں۔اور جو اسلام کہتا ہے اس کوتو کافر کہتا ہے۔سرد مہری کرتا ہے۔"(ص۔42)

"اور میں نے شیخ مذکور کو کہا کہ کب تک تو میری تکفیر کر ے گا اور بدگو اورچیں بچیں ۔۔۔رہے گا۔"(ص44)

"اے جھوٹے تو کب تک تکذیب کرے گا اور کب تک مومن کی تکذیب کرے گا اوربُرائی کرتارہے گا۔"(ص57)

"تو بھیڑیے کی طرح آواز نکالتا ہے۔اور بخدا میں جانتا ہوں کہ تو لومڑی یا خرگوش ہے۔(ص 60)

" اے شیخ تو ہمیشہ کافر کہتا اور تکذیب کرتارہ بے شک میں بفضل خدا ایک مہذب آدمی ہوں تیری طرح بد گو نہیں۔(ص66)

یہ چند اشعار ہم نے بطور نمونہ درج کئے ہیں جبکہ ورثمین میں سینکڑوں اشعار مولانا بٹالوی کومخاطب کرکے کہے گئے ہیں۔اسی طرح انہوں نے نہایت "ضخیم کتاب" کتاب البریۃ"صرف مولانا کے ر د میں لکھی ہے۔ جس  سے  تحریک ختم نبوت میں مولانا کے مقام ومرتبہ کا کچھ اندازہ کیا جاسکتا ہے۔خود مرزا صاحب نے بھی اس کتاب میں لکھا ہے:

"سر گروہ مخالفوں کامحمد حسین بٹالوی جس نے آج تک میری جان اور آبرو پر حملے کئے ہیں۔"[43]

ہم اپنی گزارشات کےاختتام سے پہلے انجام آتھم کی دو فارسی عبارتیں درج کرتے ہیں۔جو مرزا صاحب کے نزدیک مولانا کے مقام ومرتبہ کو مزید واضح کرتی ہیں۔

مرزا صاحب اپنے مخالفین کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا بٹالوی ؒ کے متعلق فرماتے ہیں:

"ویکے ازا عتراض کنند گان شیخ گمراہ ساکن بٹالہ است کہ ہمسایہ  گمراہ ماست اورا محمد حسین می گوئند واز ہمہ دردروغ وناراستی سبقت بردہ است وازاانکار کردہ وتکبرنمود وتکبررائع شائع کردہ وظاہر ساخت تاآنکہ گفتہ شد کہ او امام متکبراں است ورئیس تجاوز کنندگان وسرگمراہان است او ہماں شخصی است کہ پیش از ہمہ مرا کافرگفت۔"[44]

ترجمہ:"میرے معترضین میں میرا ایک گمراہ ہمسایہ محمد حسین بٹالوی ہے۔جو مجھ پر جھوٹ بولنے میں سب سے آگے ہے یہ میرا منکر اور اتنا بڑا متکبر ہے کہ اما م متکبراں بن چکا ہے۔یہ شخص تمام گمراہوں کا سردار ہے۔ اور اسی نے سب سے پہلے مجھے کافر کہاتھا۔"پھرسید نزیر حسین،مولانا عبدالحق حقانی،مولانا احمد علی  سہارنپوری اور مولانا رشید احمد گنگوہی وغیر ہم کل آٹھ افراد کا ذکر کرکے مرزاصاحب بٹالوی صاحب کو یوں مخاطب فرماتے ہیں:

"پس اے شیخ من می دانم کہ تو رئیس ایں ہشت کس ہستی وادیں گروہ باغی راہ مثل امام قائم شدی وایں مردم ترامثل شاگرداں در گمراہی ہستند یاہچو کسانے کہ برایشاں جادو کردہ باشد۔"[45]

"اے شیخ تو ان کا آٹھواں رئیس ہے۔اوراس باغی گروہ کا امام ہے یہ تمام لوگ گمراہی میں تیرے شاگر د ہیں۔یاتو نے ان پر جادو کررکھا ہے۔"

ہم اختتام سخن کےطورپر مرزا صاحب کی ایک پیش گوئی کاذکرکرتے ہیں ۔جو 1902ء میں انہوں نے مولانا بٹالوی کے متعلق کی تھی۔ملاحظہ فرمایئے:

"ہم اس کے ایمان سے ناامید نہیں ہوئے بلکہ امید بہت ہے۔اسی طرح خدا کی وحی خبر دےرہی ہے تجھ پر (مرزا پر)خدا تعالیٰ تیرے دوست محمد حسین کا مقسوم ظاہرکردے گا۔سعید ہے پس روز مقدر اس کو فراموش نہیں کرے گا۔اورخدا کے ہاتھوں زندہ کیا جاوے گا پس پاکیزگی اورطہارت کا پانی اسے پلائیں گے۔اور نسیم صبا خوشبواور طہارت لائے گی۔ اور معطر کردے گی۔میرا کلام سچا ہے۔میرے خدا کا قول ہے۔جو شخص تم میں سے  زندہ رہے گا دیکھ لے گا۔"[46] اور دنیا جانتی ہے کہ مولانا بٹالوی 29 جنوری 1920ء کو ایک مسلمان کی حیثیت سے فوت ہوئے ہیں اور تادم آخر مرزا صاحب کے تعاقب میں مصروف رہے ہیں۔اسی وجہ سے مرزا صاحب کے ایک منحرف مرید ڈاکٹر عبدالحکیم اپنی کتاب میں مرز اصاحب کی ان پیش گوئیوں کاذکرکرتے ہوئے جو پوری نہیں ہوئیں نمبر8 پرزیرنظر پیش گوئی درج کرکے مرزا صاحب کے کذب کاایک ناقابل تردید ثبوت فراہم کرتے ہیں۔[47]

یعنی مولانا کی زندگی اور موت دونوں مرزاصاحب کے دعاوی کی تردید میں وقف ہوئیں!۔۔۔۔ع۔۔۔۔یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا!



[1] ۔قارئین کرام چند سال قبل محدث میں"محمد سلیمان اظہر" کے نام سے ڈاکٹر صاحب کے مقالات ملاحظہ فرماچکے ہیں۔مرزا غلام احمد ،تحفہ غزنویہ مطبوعہ ضیاء السلام پریس قادیان 2۔19ص7۔85۔
[2] ۔مولانا کے والد صاحب کا نام شیخ رحیم بخش تھا۔جو بٹالہ کے ایک  رئیس تھے ۔سکھوں کی عملداری میں معزز عہدوں پر فائزرہے۔ او رانگریزی دور میں تحصیل دار کے منصب پرفائزرہے۔(دیکھئے اشاعۃ السنہ جلد 20۔نمبر3ص89)
[3] ۔عبدالقادرسابق سودا اگر مل حیاۃ طیبہ لاہو 1959ء ص 1۔40۔
[4] ۔اگرچہ وہ پہلے بھی باہم متعارف تھے جیسا کہ خود مولانا اپنے "اشاعۃ السنہ" میں کسی جگہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے قطبی وغیرہ کتب اکھٹے پڑھی ہیں۔لیکن دو نوں کے مابین جدل ومناظرہ کی جو کیفیت 1891 سے 1908ء تک رہی ہے۔اس کو پیش نظر رکھ کر درج بالا واقعہ کو ان کے تعلقات باہمی کا نقطہ آغاذ قرار دیا جاسکتا ہے۔چونکہ یہ واقعہ ایک قادیانی کا بیان کردہ ہے اور(عربی) کے مصداق یہ اس امر کا واضح ثبوت ہے۔کہ مرزاصاحب پہلے ہی مباحثے میں کس قدر لاچار اورمبہوت ہوکر رہ گئے تھے۔اور آئندہ جب ہم مسلمانوں کی روایات بیان کرکے بتائیں گے کہ فلاں فلاں مباحثے میں مرزا صاحب مولانا کے مقابل خاموش ہوگئے تھے یا مباحثہ ناتمام چھوڑ کر چلے آئے تھے تو اس میں مبالغہ یاغلط بیانی کا عنصر نہیں ہوگا۔
[5] ۔پانچویں جلد جو آخری ثابت ہوئی اس کے 23 سال بعد شائع ہوئی۔جبکہ چوتھی اور پانچویں جلد کے درمیان مرزا صاحب کی لگ بھگ 80  تصانیف شائع ہوئیں۔یہ حقیقت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ مرزا صاحب نے محض تعلی سے کام لیتے ہوئے یا عوام الناس کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی غرض سے 50جلدوں کاشوشہ چھوڑاتھا۔ورنہ ان کے پاس نہ تو موضوع متعلقہ پر اتنے دلائل تھے۔اور نہ ہی ان کا ارادہ اسےپایہ تکمیل کو پہنچانے کاتھا۔عدیم الفرصبتی یاوسائل کی کم یابی کو بہانہ اس لئے نہیں بنایا جاسکتا کہ اسی دوران 80 دیگر کتابیں لکھ کر شائع کردی گئیں۔
[6] ۔ثناء اللہ امرتسری  تاریخ مرزا لاہور 1919ء ص9۔
[7] ۔ثناء اللہ امرتسری تاریخ مرزا لاہور 1919ء ص9۔
[8] ۔اشاعۃ السنۃ جلد 7 برحاشیہ ص 179 اس واقعہ کے 24 سال بعد برصغیر کے ایک عالم دین مولانا اشر ف علی  تھانوی سے مرزا صاحب کے متعلق ایک فتویٰ پوچھا گیا جو درج ذیل ہے:
سوال۔"اکثر مرزائی لوگ اعتراض کیا کرتے تھے کہ کتب دینیات میں یہ مسئلہ ہے کہ اگر کسی شخص میں 99 وجہ کفر کی پائی جاویں اور ایک وجہ اس میں اسلام کی ہو تو اس کو کافر نہ کہا جاوے۔اورحدیث میں ارشاد ہے کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر نہ کہناچاہیے۔اب علماء سے یہ عرض ہے کہ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے  تو مرزا غلام احمد قادیانی بھی اہل قبلہ اور کلمہ گو ہے  تو علمائے دین اس پر کفر کافتویٰ کیوں لگاتے ہیں؟اس کاشافعی طور پر جواب ارقام فرمادیں۔"
جواب۔"جس شخص میں کفر کی کوئی قطعی وجہ ہوگی کافرکہا جاوے گا۔اورحدیثیں اس شخص کے بارے میں ہیں جن میں کوئی وجہ قطعی نہ ہو۔اور  اس مسئلہ کے یہ معنی ہیں کہ اگر کوئی امر قولی یا  فعلی ایسا ہوکہ محتمل کفر عدم کفر دونوں کو ہو۔اگراحتمالی کفر غالب اور اکثر ہو تب بھی تکفیر نہ کریں گے۔نہ یہ کہ  تکفیر قطعی پر بھی تکفیر نہ کریں گے۔کیونکہ کافر کے یہ معنی ہیں کہ اس میں تمام وجوہ کفر کی موجود ہوں۔ورنہ جن کا کفر منصوص ہے۔وہ بھی کافر نہ ہوں گے۔باقی خاص مرزا کی نسبت مجھ کو پوری تحقیق نہیں کہ کوئی وجہ قطعی کفر کی ہےیا نہیں؟(حررہ 13 زی قعدہ 135ھ(مولانا اشرف علی تھانوی امداد الفتاویٰ جلد 4 ص116)
[9] ۔اشاعۃ السنۃ ج12 شمارہ 12 ص 5۔373 مکتوبات احمدیہ ج4 ص9۔
[10] ۔مکتوبات احمدیہ جلد 4 برحاشیہ ص9 حیاۃ  طیبہ ص102۔
[11] ۔حیاۃ طیبہ ص 104۔
[12] ۔اشاعۃ السنۃ جلد 12 نمبر 12 ص 364۔
[13] ۔اشاعۃ السنۃ جلد 12 نمبر 12 ص 366۔
[14] ۔اشاعۃ السنۃ جلد 1 ص378۔
[15] ۔اشاعۃ السنۃ جلد 12 نمبر 12 ص386۔
[16] ۔اشاعۃ السنۃ جلد 13 صفحہ 103۔
[17] ۔اشاعۃ السنۃ جلد 13 صفحہ 212۔
[18] ۔بقول سوداگر مل دو سو مولیوں نے اس فتوے پر دستخط کئے ہیں۔حیات طیبہ صفحہ 132۔
[19] ۔آسمانی فیصلہ صفحہ 14
[20] ۔دافع الوساوس صفحہ 301۔
[21] ۔دافع الوساوس صفحہ 306۔
[22] ۔ایضا صفحہ310۔
[23] ۔ایضا صفحہ 312۔
[24] ۔براہین احمدیہ جلد پنجم قادیان 1908ء صفحہ 137۔
[25] ۔مرزا غلام احمد آئینہ کمالات 1983ء صفحہ 104۔
[26] ۔مرزا غلام احمد انجام آتھم 1897ء صفحہ 100۔94۔
[27] ۔اشاعۃ السنہ جلد 18 نمبر 3۔
[28] ۔اشاعۃ السنہ علمیہ 18 نمبر 2 صفحہ 45۔47۔
[29] ۔اشاعۃ السنہ جلد 18 نمبر 2 صفحہ 48۔
[30] ۔اشاعۃ السنۃ جلد 8 نمبر 2 صفحہ 49۔
[31] ۔
[32] ۔ مرزا غلام احمد نزول المسیح 1909ء ص152 ۔اور مرزا صاحب کے فرزند مرزا محمود نے ایک مرتبہ کیا "اگر محمد حسین بٹالوی کے والد کو معلوم ہوتا کہ اس کے نطفہ سے ابو جہل پیدا ہوگا تو وہ اپنا آلہ تناسل کو کاٹ دیتا۔"منقول از خطبہ مندرجہ الفضل 2 نومبر 1922ء۔
[33] ۔آئینہ کمالات اسلام ص 600۔
[34] ۔آئینہ کمالات اسلام ص601۔
[35] ۔انجام آتھم برحاشیہ ص59۔
[36] ۔انجام آتھم ص 199۔
[37] ۔انجام آتھم ص 241۔
[38] ۔ انجام آتھم ص 241۔
[39] ۔ انجام آتھم ص 252۔
[40] ۔نورالحق مترجم صفحہ 3جلد1۔
[41] ۔براہین احمدیہ جلد پنجم ص111۔
[42] ۔ضمیمہ انجام آتھم برحاشیہ ص28۔
[43] ۔مرزا غلام احمد کتاب البریۃ مصنفہ 1898ء ص10۔
[44] ۔ انجام آتھم ص 241۔
[45] ۔ انجام آتھم ص 245۔
[46] ۔مرزا غلام احمد ،اعجازاحمدی قادیانی 1902ء ص1تا 50۔
[47] ۔عبدالحکیم خان اعلان الحق اتمام الحجۃ تاطبع ثانی۔