ہجرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ :
فریقین کی کتب تواریخ وسیر اس بات پر متفق ہیں کہ 13 نبوی میں اہل مدینہ کی  عقبہ ثانیہ کی بیعت کے بعد قریش کے ظلم وستم نے مسلمانوں پر ملکی رہائش تنگ کردی۔اکثر مسلمان بحکم و اجازت نبویؐ حبشہ کی  طرف ہجرت کرچکے تھے۔باقی ماندہ کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانی اورایمانی دولت بچانے کی عام اجازت دے دی تھی کہ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ چلے جائیں۔ مگر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے خصوصی طور پر فرمایا کہ وہ ان اجازت یافتگان ہجرت سے پہلے مدینہ پہنچ کر وہاں اقامت اختیار کریں اور مسلمان مہاجرین کی جمیعت خاطر کا سبب بنیں۔مسلمانوں سے جس طرح بھی بن  پڑا مدینہ پہنچ گئے۔حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کی روایت کے مطابق مہاجرین میں سب سے پہلے مدینہ پہنچنے والے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  تھے۔پھرحضرت عبداللہ ابن مکتوم رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  نے قدم رنجہ فرمایا۔پھرعمر بن خطاب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  بیس سواروں کے ہمراہ رونق افروز ہوئے۔انصار نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کےمتعلق دریافت فرمایا،تو حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  نے فرمایا کہ " وہ میرے پیچھے تشریف لانے والے ہیں۔"(بخاری عنوان البخابہ)

اس روایت میں ناموں کی تفصیل نہیں۔البتہ ابن ہشام نے بعض مہاجرین صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے نام درج کئے ہیں جو یہ ہیں:1۔حضرت زید بن خطاب۔2۔حضرت سعید بن زید بن خطاب۔3۔خنیس بن حزیفہ سہمی ۔4۔حضرت عبداللہ بن سراقہ۔5۔عمر بن سراقہ۔6۔واقد بن عبداللہ تمیمی ۔7۔خولی بن ابی خولی۔8۔مالک بن ابی خولی۔9۔ایاس بن مکیر۔10۔عامر بن بکیر۔11۔خالد بن بکیر رضوان اللہ عنھم اجمعین  یہ سب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کے رشتہ داراوردوست احباب تھے۔(الفاروق ص17/1 مطبوعہ دہلی)
حضرت علی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کا فرمان:
حضرت  علی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  فرماتے ہیں کہ ہرشخص نے خفیہ  طور پر ہجرت کی۔لیکن حضرت عمررضی اللہ تعا لیٰ عنہ  نے جب ہجرت کاقصد فرمایاتو ایک ہاتھ میں برہنہ تلوار دوسرے میں تلوار اور پشت پر کمان لگا کر خانہ کعبہ میں تشریف لائے۔سات مرتبہ طواف فرمایا۔دو رکعت نماز مقام ابراہیمؑ کے پاس کھڑےہوکر پڑھی۔پھر سرداران قریش کے حلقہ احباب میں تشریف لائے۔اور ایک ایک سے کہا:تمہارے منہ کالے ہوں جو شخص اپنی ماں کوبے اولاد اور اپنی بیوی کو بیوہ کرنا چاہتا ہو وہ آکر مجھ سے مقابل ہو۔کسی کو جرائت نہ ہوئی کہ آپ کو روکتا۔"(رضی اللہ تعا لیٰ عنہ )مزید تفصیل کے لئے دیکھئے ۔تاریخ اسلام۔اکبرشاہ نجیب آبادی ص325/1 عنوان النجابہ ص20 ابن عساکر۔

اس روایت سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کے ہر کام میں دلیری ہوشمندی کا اظہار ہوتا ہےکفر میں بڑے جابر جب اسلام لائےتو زبردست راہ خدا میں ہجرت کی تو بڑی دلیری سے راہ خدا میں ملامت سنی تو بڑی جرائت سے غرض یہ کہ حضرت عمررضی اللہ تعا لیٰ عنہ  سے متعلق ہرواقعہ زبان حال سے حضرت علی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کے اس قول کی صداقت پرمہر تصدیق ثبت کررہا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  ارادہ کی پختگی ہوشمندی اور دلیری سے پر ہیں۔(تاریخ اسلام نجیب آبادی ص326/1)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  فرماتے ہیں کہ:
یعنی" حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کا اسلام گویا ایک فتح تھی ۔آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کی ہجرت نصرت اسلام اور آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کی امامت رحمت الٰہی تھی۔"

اسی مقام پر حضرت حذیفہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کا بیان بھی ہے آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  فرماتے ہیں:
"جب حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  ایمانی دولت سے بہرہ ورہوئے تو اسلام بمنزلہ ایک اقبال مند آدمی کے ہوگیا اور ہر قدم پر ترقی کرتا گیا۔اور جب آپ کی شہادت ہوئی تو اسلام کےاقبال میں کمی آگئی اور ہر قدم پیچھے ہی ہٹتا گیا۔"
جہاد عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ :
الشیخ مصطفیٰ بن محمد رافعی نے اپنی مایہ ناز کتاب"عنوانالنجابہ فی معرفۃ من مات بالمدینہ من الصحابہ" میں باختصار الفاظ جملہ تواریخ وسیر اور احادیث کااجمالی خاکہ اس طرح پیش کیا ہے کہ:
یعنی "حضرت عمر بن الخطاب جنگ بدر جنگ احد ۔جنگ خندق۔بیعت رضوان۔جنگ خیبر۔فتح مکہ۔جنگ حنین۔جنگ تبوک۔غرض یہ کہ ہرموقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رہے کفار اور منافقین پر آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  بہت زیادہ سخت تھے۔آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  نے ہی جنگ بدر کے قیدی کفار کے قتل کا مشورہ دیا تھا۔اورآپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کے اس مشورہ کے مطابق قرآن مجید کا نزول بھی ہواتھا۔آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  جنگ احد کے دن نبی کریم علیہ السلام کی حفاظت کے لئے ثابت قدم رہے۔"(رضی اللہ عنہ)

جنگ بدر:

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ 17 رمضان المبارک 2 ہجری کو جنگ بدر کامعرکہ ہوا۔حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کے خاندان میں سے اس جنگ میں بارہ [1]آدمی شریک تھے۔جنگ میں شہید ہونے والے سب سے پہلے مجاہد حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کے غلام محج رضی اللہ تعا لیٰ عنہ تھے۔قریش کو ہزیمت فاش ہوئی اور ستر[2] آدمی  زندہ گرفتار ہوئے۔

اسیران بدر کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مشورہ طلب کرنا:

ان اسیران بدر کے متعلق بنی علیہ السلام نے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  سے مشورہ طلب کیا کہ ان کے ساتھ کیا سلو ک کیا جائے؟صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے مختلف رائیں دیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کی رائے تھی۔کہ یہ اپنے بھائی بند ہیں۔ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا جائے۔مگر حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کی رائے یہ تھی کہ اسلام کے معاملہ میں رشتہ داری اورقرابت کو کوئی دخل نہیں۔ان سب کو قتل کردینا چاہیے۔اور ہرآدمی اپنے ہی قریبی رشتہ دار کو قتل کرے۔حضرت علی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  ا پنے بھائی عقیل رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کو قتل کریں اورحضرت حمزہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  اپنے بھائی عباس رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کو قتل کریں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شان  رحمت کے اقتضاء سے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کی رائے پسندکرلی اور ان اسیران بدر کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔اس پر آیت نازل ہوئی:
کہ "نبی کی شان کے یہ بات شایان نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں قیدی باقی رہیں۔جب تک کہ وہ ملک میں خونریزی نہ کرلیں۔تم لوگ دنیاوی مال ومتاع کے خواہاں ہوجبکہ اللہ تعالیٰ آخرت کاارادہ فرماتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔اگر وہ بات نہ ہوتی جو اللہ کی طرف سے پہلے لکھی جاچکی تھی تو اس فدیہ کی پاداش میں جو تم نے بدر کے قیدیوں سے لیا ہے تم پر کوئی عذاب نازل ہوتا۔"

شیعہ کتب میں حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کا مشورہ:
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کایہ مشورہ شیعہ کتب میں اس طرح مذکور ہے:
کہ"اس پہلی جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح عظیم عطا فرمائی۔سترکافر میدان جنگ میں مقتول ہوئے اور ستر زندہ گرفتار ہوئے اور باقی ایسے بھاگے کہ مکہ شریف پہنچ کر ہی دم لیا۔ان اسیران جنگ سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  سے مشورہ لیا ۔تو حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  نے فرمایاکہ"میری تو یہ رائے ہے کہ ان قیدیوں کےاندر ہم میں سے جو جس کا عزیز ہے۔وہی اس کو قتل کرے ۔تاکہ مشرکوں کو معلوم ہوجائے کہ ہمارے دلوں میں اللہ اوررسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت،قرابتداری کے معاملہ میں بہت زیادہ ہے اور اسلام کے مقابلوں میں تمام رشتے ہیچ ہیں۔"ملاحظہ ہو تفسیر مجمع البیان ۔منہج الصادقین۔الفاروق علامہ شبلی نعمانی ؒ ص21 تاریخ اسلام ازاکبر شاہ نجیب آبادی۔ص155)

فضیلت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ :
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  بیان فرماتے ہیں کہ"حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کی فضیلت ان چار باتوں سے آشکارا ہے:
اول۔اسیران بدر کے قتل کا مشورہ دیا اور آیت (عربی) کا نزول ہوا۔
دوم۔امہات المومنین رضی اللہ تعا لیٰ عنہا  کو پردہ کرنے کے لئے کہا اورآیت پر دہ نازل ہوئی۔
سوم۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمررضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کے اسلام سے متعلق دعا کرنا اور قبول ہونا۔
چہارم۔سب سے پہلے ابو بکر صدیق رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کی بیعت کرنا۔"(تاریخ اسلام۔از نجیب آبادی ص326/1)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  بدری صحابی ہیں۔جبکہ بدری صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
"بدری اصحاب (رضوان اللہ عنھم اجمعین ) میں سے کوئی بھی جہنم میں داخل نہ ہوگا۔"
ایک مقام پر جنگ بدر میں شامل ہونے والوں کو"(عربی)قرار دیا۔(صحیح بخاری) نیز مجمع البیان میں ہے کہ:
"ایشاں بہترین مردماں ہستند"
کہ"وہ نہایت ہی قابل تعریف ہستیاں ہیں۔
غیرت دین کا ا یک واقعہ:
ایک دفعہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  سے ایک غلطی سرزدہوگئی۔اور وہ یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا"معاہدہ شکن  قریش کو ہماری تیاری کا پتہ نہ چلے۔"(یہ معاہدہ صلح حدیبیہ کے موقع پر ہوا تھا۔حضرت حاطب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے ایک عورت کے ذریعے خفیہ طور پر اہل مکہ کو اس پروگرام  سے خبر دار کرناچاہا مگر بذریعہ وحی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہوگئی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  اور حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کو بھیج کر اس عورت سے وہ رقعہ حاصل کرلیا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاطب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کو جواب دہی کے لئے طلب کیاگیا۔تو اتفاقاً حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  اس مجلس میں موجود تھے غیظ وغضب میں آکر یوں گویا ہوئے:
اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے اجازت مرحمت فرمائیں۔میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔"
منافق کے الفاظ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونک پڑے ۔اے عمررضی اللہ تعا لیٰ عنہ  !یہ تم نے کیا کہہ دیا؟حاطب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  تو اہل بدر میں سے ہے ۔"پھر فرمایا:
"اور تمھیں کیا معلوم ،شاید اللہ کریم نے بدریوں پر توجہ مبذول فرما کر کہہ ہی دیا ہوکہ"اے صاحب بدر جو چاہو کرو،میں نےتمھیں بخش دیا ہے۔"
اسی جنگ بدر میں سردار قریش عاص بن ہشام بن مغیرہ جو حضر ت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کاماموں تھا ۔حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کے ہاتھوں مارا گیا۔(ابن جریر 509 الفاروق ص20 الستعیاب لابن عبدالبر)
جنگ اُحد: 7شوال 3ہجری بروز ہفتہ غزوہ احد وقوع پزیر ہوا۔دونوں فوجیں صف آرا ہوئیں ۔بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن جبیررضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کو پچاس تر اندازوں کے ساتھ فوج کے عقب پر متعین کیا کہ ادھر سے کافر حملہ آور ہوں۔سب سے پہلے    حضرت زبیر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  نے اپنی فوج کو لے کرحملہ کیا اورقریش کے میمنہ کو شکست دی۔پھر عام جنگ ہوئی۔حضرت علی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  اور حضرت ابو دجانہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  دشمن کی فوج میں گھس گئے اورصفیں کاٹ دیں۔ فتح کے بعد مسلمان غنیمت پرٹوٹ پڑے۔توتیراندازوں نے بھی اپنی جگہ چھوڑدی اور مال غنیمت اکھٹا کرنے میں مصروف ہوگئے۔حضرت خالد رضی اللہ تعا لیٰ عنہ (جوابھی مسلمان نہیں ہوئےتھے) نے(لفظ غائب ہے۔)سے زوردارحملہ کیا۔مسلمان چونکہ ہتھیارڈال کر مال غنیمت کے اکھٹا کرنے میں مصروف تھے۔اس اچانک حملے کو روک نہ سکے۔کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھروں اور تیروں کی بارش کردی۔یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہوگئے ۔اور پیشانی مبارک پر زخم آیا (لفظ غائب ہے) میں مغفر کی کڑیاں چبھ گئیں۔اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گڑھے میں گر گئے دفعتہً یہ افواہ گرم ہوگئی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے ہیں۔اس افواہ سے مسلمانوں کے استقلال کو متزلزل اور دلوں کو مجروح کردیا۔اور ہر مسلمان اپنی جگہ سراسمیہ ہو رہ گیا۔بعض صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے ہتھیار ڈال دیئے کہ اب لڑنے سے کیا فائدہ؟لیکن حضرت انس بن نضر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  نے فرمایا:"مسلمانوں(لفظ غائب ہے) سے کیا فائدہ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح لڑ کر شہید ہوجاؤ زندہ رہ کر کیا کرو گے(تلخیص از الفاروق ص22جلد اول تاریخ اسلام از نجیب آبادی ص166 جلد اول)
قاضی ابو یوسف نے خود حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کی زبان میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ:
"حضرت انس بن نضر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  میرے پاس سے گزرے اور مجھ سے پوچھا"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا گزری؟میں نے کہا۔"میرے خیال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوچکے ہیں۔"حضرت انس رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوچکے ہیں
مگرخدا تو زندہ ہے۔"یہ کہہ کرتلوار میان سے چھین لی،اس قدر لڑے کے شہادت حاصل کرلی۔(کتاب الخراج ،لابی یوسف ص25)
اور ابن ہشام میں ہے کہ:
"اس واقعہ میں حضرت انس بن نضر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  نے ستر زخم کھائے ۔اس اثناء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"خدا کے بندو میری طرف آؤ میں خدا کارسول ہوں۔"
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  نے بھی بلند آواز سے کہا کہ"مسلمانوں خوش ہوجاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں۔"اس  آواز کاسننا تھا کہ مسلمان رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑے۔کفار کو بھی اس آواز نے خبردار کر دیا۔حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  حضرت طلحہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  صفوں کو چیرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے ادھر کفار کی پوری  طاقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے میں مصروف ہونے لگی۔کیونکہ ان کاآخری حربہ یہی تھاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو ختم کردیا جائے تو اسلام خود بہ خود ختم ہوجائے گا۔"(تاریخ اسلام،نجیب آبادی فتح الباری مصری ص272/7)
علامہ شبلی نعمانی جنگ احد کے تمام اختلافات کوذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
"یہ امر  تمام روایتوں سے ثابت ہے کہ سخت بے رحمی کی حالت میں بھی حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  میدان جنگ سے نہیں ہٹے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زندہ ہوناثابت ہوا توفورا ً  خدمت اقدس میں پہنچے۔"
طبری اورابن ہشام میں ہے کہ:
جب مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس  پہنچے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کولے کر پہاڑ پر چڑھ گئے۔اوراس وقت آپ کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  حضرت طلحہ بن عبداللہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  اورحضرت حارث رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  تھے۔"(مطبوعہ دہلی ص23 جلد اول)
شیعہ کتب بھی اس پر ناطق ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  میدان اُحد میں ثابت قدم رہے ۔ابو القاسم بلخی نے ذکر کیا ہے کہ:
کہ "اُحد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیرہ شخصوں کے سوا کوئی نہ رہا۔پانچ مہاجرین تھے اور آٹھ انصاری ۔مہاجرین میں سے حضرت علی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  حضرت علی ابو بکر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  حضرت (لفظ غائب ہے) حضرت طلحہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ ا ورحضرت سعد بن ابی وقاص تھے۔"
علامہ بلازری نے انساب الاشراف میں دو روایتیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کے میدان اُحد سے فرار کے متعلق عباس بن عبداللہ الباکسائی اورغیض بن اسحاق کی سند سے نقل کی ہیں۔مگراُصول  روایت کے اعتبار سے بھی غیرمعتبر ہیں۔اوردرایتہً بھی قابل اعتبار نہیں کیونکہ عباس۔فیض دونوں مجہول الحال ہیں۔(الفاروق ص23)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بمعہ تیس صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  پہاڑ پرتشریف فرماتھے۔خالد رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  ایک فوج کادستہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے ۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "خدایا!یہ لوگ یہاں نہ آنے پائیں۔"حضرت (لفظ غائب ہے۔)نے بمعہ چند مہاجرین کے آگے  بڑھ کرحملہ کیا اور ان کو ہٹادیا۔ابو سفیان سالار نے درہ کے قریب پہنچ کرپکارا کہ"اس گروہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یا نہیں؟(لفظ غائب ہے) نے اشارہ فرمایا کہ کوئی جواب نہ دے۔اسی طرح اس نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  اور عمرفاروق  رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کانام لیا جواب نہ آنے پر اس  نے کہا"معلوم ہوتا ہے کہ سب قتل ہوچکے ہیں؟"اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کو تاب نہ رہی اورزور سے پکارے "او دشمن خدا ! ہم سب زندہ ہیں۔"ابو سفیان نے کہا۔اُعلُ ھُبل"اے ہبل بلند ہو۔"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  سے فرمایا!جواب دو"اللہ اعلیٰ واجل"خدا بلند وبرتر ہے۔(مذید تفصیل کے لئے دیکھئے سیرت ابن ہشام ص582 تاریخ طبری 6417 الفاروق ص23/1۔تاریخ اسلام نجیب آبادی ص168 جلد اول)

جنگ خندق:

شوال  5ہجری میں ابو سفیان کی سپہ سالاری میں سیلاب کفر نے مدینہ منورہ کارخ کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باہرنکل کر"سلع" کے آگے ایک خندق تیار کرائی۔کفارایسی تدبیر سے بالکل ناآشنا تھے۔مجبورا ً محاصرہ کرکے ہرطرف فوجیں پھیلا دیں۔اوررسد وغیرہ بند کردی۔محاصرہ  ایک ماہ برابررہا کبھی کبھار کافر خندق میں اتر کر حملہ آور ہوتے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غرض سے  خندق کے اوپرتھوڑےتھوڑے فاصلہ پر اکابرصحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  کو متعین فرمایا دیاتھا۔کہ دشمن ادھر سے نہ آنے پائے۔ایک حصہ پر حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  بن خطاب بھی متعین تھے۔یہاں ان کے نام کی ایک مسجد بھی موجود ہے۔عمر و بن عبدودعرب کا مشہور بہادر چوپان سو بہادروں کے برابر سمجھاجاتا تھا۔حضرت علی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کے ہاتھوں مارا گیا۔قتل عمرو بن عبدود کے بعد کفار میں بد دلی  پھیل گئی۔ادھرحضرت نعیم بن مسعود  رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کی حکمت عملی سے یہود اورقریش میں  پھوٹ ڈال دی۔المختصرکفار کاابر سیاہ جو مدینہ کے افق پر چھا گیا تھا روز  روز چھٹتا گیا اور چند دن کے بعد مطلع صاف ہوگیا۔(تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو الفاروق رضی اللہ تعا لیٰ عنہ ۔شبلی نعمانی۔مطبوعہ دہلی طبع سوم 1925 ص24 جلد اول)

صلح حدیبیہ:

سن 6 ہجری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بمعہ چودہ سو صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  بقصد زیارت کعبتہ اللہ غیر مسلح ہوکر ذوالحلیفہ کے مقام پر پہنچ گئے۔حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  نے فرمایا کہ اس طرح چلنا درست نہیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ سے ہتھیار منگوالئے ابھی مکہ مکرمہ دو منزل دور  تھا کہ مکہ مکرمہ سے بشر بن سفیان نے آکر اطلاع دی کہ قریش مکہ نےیہ عہد کرلیا ہے کہ مسلمانوں کو مکہ میں  داخل نہیں ہونے دیں گے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  بن خطاب کو سفیر بنا کر بھیجنے کا ارادہ فرمایا۔مگرحضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  نے فرمایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کے عزیز واقارب مکہ میں موجود ہیں ان کو بھیجنا مناسب ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رائے کوپسند فرمایا اور حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کو سفیربنا کر بھیجا۔قریش مکہ نے حضرت عثمان رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کو چند دن روک [3]لیا۔ادھر یہ خبر مشہور ہوگئی کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  شہید کردیئے گئے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنتے ہی تمام صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  سے بیعت جہاد لی۔ان میں حضرت عمررضی اللہ تعا لیٰ عنہ  بھی شامل ہیں۔صحیح بخاری میں غزوہ حدیبیہ کے تحت مرقوم ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  بن خطاب نے قبل از بیعت ہتھیارلگا لئے تھے۔اور لڑائی کے لئے مکمل تیار تھے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کے بتانے پر حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  بن خطاب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بعیت کی اور اپنے ہاتھ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کے  نیچے رکھ دیا۔تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھکنے نہ پائے۔

اس واقعہ کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب مقدس میں یوں فرمایا ہے:

"بلاشبہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں سےخوش ہوا۔جب کہ وہ ایک درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بعیت کررہے تھے۔اور جو خلوص ان بیعت کرنے والوں میں تھا خدا کو وہ بھی معلوم تھا۔پس اللہ تعالیٰ نے ان مسلمانوں میں اطمینان قلب پیدا کردیا۔(کشف الرحمان ص819/2)سورۃ فتح)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت کے نیچے بعیت کنندگان کو مخاطب کرکے فرمایا:
ابو داؤد میں ہے کہ:"درخت کے نیچے بعیت کرنے والوں میں سے  کوئی بھی آگ میں داخل نہ ہوگا۔"
اور تفسیر مجمع البیان شیعہ میں ہے کہ:
"بیعت کرنے والے لوگ بہترین ہیں اور ان میں سے کوئی بھی آگ  میں داخل نہ ہوگا۔"(خلاصہ المنہج تفسیر قمی وصافی بحوالہ مجمع البیان)   (جاری ہے)

[1] ۔حضرت زید ۔حضرت عبداللہ بن سراقہ۔حضرت واقد بن عبداللہ۔حضرت خولی بن ابی خولی۔حضرت عامر بن ربیعہ۔حضرت  عامر بن بکیر۔حضرت خالد بن بکیر۔حضرت عاقل بن بکیر۔حضرت ایاس بن بکیر۔حضرت مالک بن ابی خولی۔حضرت سراقہ۔حضرت عمر  رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کا غلام حضرت مہج رضوان اللہ عنھم اجمعین  
[2] ۔ ان میں اکثرقریش کے بڑے بڑے سردار تھے۔جیسے حضرت عباس رضی اللہ تعا لیٰ عنہ ۔حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  ۔حضرت ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  حضرت ولید بن ولید رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  وغیرہ۔
[3] ۔اہل تشیع کی معتبر کتاب فروع کافی کتاب الروضہ میں مکمل واقعہ امام جعفر صادق کی زبانی ملاحظہ فرمائیے۔