(مولانا موصوف جماعت اہل حدیث کے بلند پایہ عالم دین اور صالح الاعمال شخصیت کے حامل تھے۔بیہقی زمان حضرت مولانا ابو سعید شرف الدین محدث دہلوی ؒ المتوفیٰ 1961ء کے آخری شاگردوں میں سے تھے۔

آپ نے پنجاب کے دور افتادہ اور پس ماندہ علاقہ منکیرہ ضلع بھکر میں گناہی کی زندگی گزار دی اور اس علاقہ میں علم وعمل بالسنۃ کی شمع ر وشن رکھی اپنی اولاد کوعلم دین سے آراستہ کیا ۔آپ کے دو بیٹے مولانا عمرفاروق سعیدی اور مولانا سعید مجتبےٰ سعیدی معروف مدرسین میں سے ہیں۔اور مولانا مرحوم ؒ کے لئے صدقہ جاریہ ہیں۔

مولانا موصوف کی ایک علمی تحریر ان کے کتب خانہ سے دستیاب  ہوئی ہے جسے افادہ عام کی غرض سے محدث میں شائع کیا جارہا ہے۔موصوف کے تفصیلی سوانح حیات محدث کی کسی قریبی اشاعت میں پیش کیے جائیں گے ۔ان شاء اللہ (ادارہ))

میرے پاس ایک فتویٰ بعنوان"بیوی فوت ہوجائےتو خاوند اس کو غسل دے سکتا ہے یا  نہیں؟"لایاگیا مستفتی رفیع الدین صاحب ہیں۔اور مفتی مولوی غلام حسین صاحب مدرس مدرسہ دارالھدیٰ بھکر۔مفتی صاحب نے اپنے فتویٰ میں یہ ارشاد فرمایا کہ "خاوند اپنی بیوی کی میت کو غسل نہیں دے سکتا۔"

چنانچہ اس سلسلہ میں وہ حضرت علی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کا حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعا لیٰ عنہا  کو غسل دیناتسلیم کرتے ہوئے یہ امر صرف حضرت علی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  سےبطور خصوصیت کے بصورت استثناء پیش کرتے ہیں۔اورحضرت علی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کے علاوہ امت  میں سے کسی بھی دوسرے شخص کے لئے یہ فعل ناجائز قراردیتے ہیں۔اس کے ثبوت میں ایک ایسی حدیث جو اپنی عدم سند وثبوت کے اعتبار سے قابل احتجاج واستدلال نہیں،انھوں نے پیش کردی ہے۔مفتی صاحب نے اس حدیث کے راوی کا کوئی ذکر نہیں فرمایا۔اوراس حدیث کی تخریج کاکوئی حوالہ نہیں دیا۔بطورحجت اور دلیل اسے اختیار کرنے کے لئے اس حدیث کے مالہ وما علیہ پرکوئی روشنی نہیں ڈالی۔یہ حدیث اپنے الفاظ کے لحاظ سے کلام نبوت بھی  تسلیم نہیں ہوسکتی۔تا وقتیکہ اس کو ہر طرح سے ثابت نہ کیا جائے۔ورنہ(عربی) کے مطابق اس وعید میں آجانے کا خدشہ ہے۔

مفتی صاحب نے غسل نہ دے سکنے کی وجہ یہ تحریر فرمائی ہے کہ:

"زوجین میں سے ایک کی روح قبض ہونے کے ساتھ ہی نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔اور بعض فقہاء نے یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر بیوی پہلے فوت ہوجائے تو یہ طلاق بائن کے حکم میں ہے۔اوربعض نے فرمایا کہ یہ طلاق رجعی کے حکم میں ہے چنانچہ المیزان الکبریٰ للشعرانی جلد اول ص219 میں ہے کہ:

(عربی)

"اور کتاب(عربی) مبطوعہ علی مامش میزان الکبریٰ للشعرانی ص82 ج1 میں ہے:

(عربی)

یعنی"ائمہ اربعہ کا اس میں تو اتفاق ہے کہ اگر بیوی کی زندگی میں خاوند مرجائے تو بیوی خاوند کو غسل دے سکتی ہے۔مگر خاوند کی زندگی میں فوت ہوجانے والی بیوی کو خاوند غسل دے سکتا ہے یا نہیں؟تواس بارے میں امام ابو حنیفہ کافتویٰ یہ ہے کہ خاوند غسل نہیں دے سکتا۔اور باقی ائمہ ثلاثہ کامتفقہ فتویٰ یہ ہے کہ خاوند غسل دے سکتا ہے۔"

غوروفکر کا مقام ہے کہ یہ تو ہوسکتا ہے کہ اگر بیوی کی زندگی میں خاوند فوت ہوجائے تو بیوی دوسرا نکاح کرکے اس کے نکاح سے نکل سکتی ہے۔اور پھر ایسی صورت میں احناف کا یہ فتویٰ تحقیق طلب ہوجاتاہے کہ ایسی صورت میں عورت  خاوند کوغسل دے سکتی ہے۔

مگر جب کہ بیوی فوت ہوجائے تو خاوند کو غسل کی اجازت نہیں۔حالانکہ اگر خاوند اپنی ا س فوت شدہ بیوی کے بعد دوسرا نکاح کرے تو اس بیوی کے بیوی ہونے کوئی اثر نہیں پڑسکتا۔

مگرمفتی صاحب نقد وتحقیق سے عاری و نے نیاز ہوکر فتویٰ دیئے جارہے ہیں۔

(عربی)

یہ حضرات اپنے مسلک کے اعتبار سے محض مقلد جامد ہیں ان کو تحقیق حق اورابطال باطل سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔آہ:

(عربی)

اس مسئلےمیں ہمیں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ  پیش نگاہ رکھنا چاہیے اور حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی اطاعت کو لازم کرنا چاہیے۔بمطابق (عربی)اور بحکم (عربی) حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کا اپنا عمل امت کے لئے سبق اورہدایت اور اسوۃ العمل ہے۔اس کے متعلق حدیث میں صاف اور مبرہن الفاظ میں ہے:

(عربی)

"حضرت عائشہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  فرمایاکرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،"کوئی حرج نہیں اگر مجھ سے پہلے تو مر جائے گی تو میں خود تم کو غسل دوں گا۔پھر کفن پہناؤں گا پھر تم پر نماز پڑھوں گا۔(جنازہ کی) اور دفن کردوں گا۔"(کشف الغمہ عن جمیع الامۃ ۔ج1 ص163)

یہی حدیث بلوغ المرام کتاب الجنائز میں بحوالہ "احمد  ابن ماجہ وصححہ ابن حبان مروی  ہے اور سبل السلام شرح بلوغ المرام ج2 ص98 پر  اسی حدیث کی شرح میں علامہ محمد بن اسماعیل کحلانی ؒ نے فرمایا:

(عربی)

یعنی"اس حدیث میں اس امر کی دلیل اور صراحت ہے کہ مرد پر لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی کی میت کو خود ہی غسل دے۔"

یہ مضمون "تلخیص الجیر فی تخریج احادیث الراقعی الکبیر می علامہ شیخ الاسلام ابن حجر عسقلانی ؒ صاحب فتح الباری نے مفصل بیان فرمایا ہے۔(عربی) اس کے علاوہ بلوغ المرام میں بحوالہ دار  قطنی یہ حدیث ہے:

(عربی)

"یعنی  حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعا لیٰ عنہا  نے وصیت فرمائی تھی کہ ان کو حضرت علی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  ہی غسل دیں۔"

چنانچہ حضرت اسماء رضی اللہ تعا لیٰ عنہا  اورحضرت علی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  دونوں نے غسل دیا۔

اس کے علاوہ سنن ابھی داؤد ج2 کتاب الجنائز میں یہ روایت بھی ہے:

(عربی)

یہی الفاظ ایک مفصل حدیث میں ابن ماجہ میں بھی مروی ہیں۔اور ابن ماجہ میں مفصل واقعہ ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوغسل دینے کے وقت صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  پریشان ہوئے اور یہ امر زیر بحث آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہنے ہوئے کپڑے اتار کر غسل دیاجائے یا کپڑوں سیمت؟ پھر کسی ہاتف کی آواز پر صحابہ کرامرضوان اللہ عنھم اجمعین  کا یہ فیصلہ ہوا کہ کپڑوں سمیت غسل دیاجائے۔چنانچہ حضرت علی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  نے کپڑوں سمیت غسل دیا۔اس واقعہ کو بیان کرکے حضرت عائشہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہا  نے مذکورہ الفاظ ارشادفرمائے کہ"اگرہمیں اس الجھن کا علم پہلے  ہوجاتاتو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھمااجمعین ہی غسل دیتیں۔"اس روایت کے متعلق سبل السلام ج 2 ص99 میں ہے کہ:

(عربی)

"یہ روایت صحیح ہے۔"

اوپر کی ہر سہ روایات مذکورہ کو دیکھنے کے بعد یہ فیصلہ بطور اسوہ اور حکم کے ظاہر ہوتا ہے کہ:

(الف) مرداپنی بیوی کی میت کو  غسل دے سکتا ہے۔

(ب) عورت خودوصیت کرسکتی ہے کہ میری میت کو خاوند غسل دے۔

(ج) بیوی ایک ہو یا  ایک سے زائد اکیلی یا سب مل کر اپنے خاوند کو غسل دے سکتی ہیں۔ان روایات کے علاوہ(عربی) اور اس کی شرح(عربی) ج2 ص99 میں بحوالہ بیہقی یہ الفاظ بھی ملاحظہ ہوں:

(عربی)

کہ:حضرت ابو بکررضی اللہ تعا لیٰ عنہ  نے اپنی بیوی اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعا لیٰ عنہا  کو وصیت فرمائی کہ وہ(بیوی) آپ(ابو بکر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ ) کو غسل دے۔چنانچہ حضرت اسماء رضی اللہ تعا لیٰ عنہا  نے ہی غسل دیا اور ضعیفی کی وجہ سے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کی امداد لی۔اور کسی نے بھی اس فعل پر انکار نہیں کیا۔"اور یہی قول جمہور کا ہے۔

انہی مذکور الفاظ کے قریب قریب مذکورہ واقعہ للشعرانی ج1 مطبوعہ مصر ص163 میں بھی ہے۔لیکن کشف الغمہ میں اس کے راوی حضرت انس رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  ہیں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کو غسل دینے والی روایت کو موطااما م محمد میں اس سند اور الفاظ سے روایت کیا گیا ہے:
یعنی "عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  فرماتے ہیں۔کہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعا لیٰ عنہا  حضرت ابو بکر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کی بیوی نے ابو بکر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کو غسل دیا۔تو فارغ ہوکر جو صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  موجود تھے۔ان سے سوال کیا کہ "میں روزہ سے ہوں اور آج سخت سردی ہے کیا غسل دینے کی وجہ سے مجھ پر بھی غسل واجب ہے؟ سب نے متفقہ جواب دیا کہ، نہیں!" (چنانچہ) امام محمدؒ فرماتے ہیں کہ ہم بھی اس کے قائل ہیں کہ عورت اپنے فوت شدہ خاوند کو غسل دے۔"
اس حدیث پر  مولانا عبدالحئی لکھنوی (عربی)شرح (عربی) میں فرماتے ہیں:
یعنی"ابن المنذر اوردوسرے محدثین نے نقل کیا  ہے کہ عورت کا مرد کو غسل دینے کے جواز میں اجماع ہوچکا ہے۔لیکن مرد کا عورت کو غسل دینے کے بارہ میں اختلاف ہے ۔امام شافعی ؒ اور امام مالک ؒ اوراحمدؒ اور دوسرے محدثین اسی طرف ہیں۔مگر امام ثوری ؒ۔اوزاعیؒ۔ابو حنیفہ ؒ اور ان کےساتھی مرد کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ عورت کو غسل دے سکے۔"
روایات مذکورہ سے یہ ثابت ہوا کہ تمام محدثین سوائے امام ابو حنیفہ ؒ کے ،اس مسئلہ میں متفق ہیں کہ ذوجین میں سے ہر ایک د وسرے کو (خاوند بیوی کو اور بیوی خاوند کو) غسل دے سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ احناف کے لئے قابل غور مقام یہ ہے کہ بقول حنفیہ کے امام ابو حنیفہ ؒ کی فقہ کا مدار حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعا لیٰ عنہ   کی فقہ پر ہے۔ لیکن حنفیہ کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ فقہ میں ان کے پیرومرشد کااپنا عمل کیا ہے؟خود عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  نے اپنی بیوی کو غسل دیا۔اس کے متعلق(عربی) ج1ص163 ملاحظہ ہو:
یعنی" حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کی بیوی جب فوت ہوئیں تو انھوں نے اپنی بیوی کو خود ہی غسل دیا۔"
اب ان تمام دلائل کے بعد کشف الغمہ کے یہ الفاظ بھی ملاحظہ ہوں:
"صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  اپنی ازواج کو خود غسل دیا کرتے۔ اور ان کی بیویاں اپنے خاوندوں کو غسل دیا کرتی تھیں۔"
یہ تمام مذکورہ دلائل ایک عالم اورصاحب بصیرت کے لئے کافی ہیں۔اور اگر کوئی صاحب ان روشن دلائل کے باوجود چشم بصیرت سے کام نہ لے تو ہم بری الذمہ ہیں۔
۔۔۔اورجہاں تک زوجین میں سے ایک کے فوت ہوجانے پر نکاح ٹوٹ جانے کا فتویٰ ہے۔تواسے اگر تسلیم کرلیاجائے تو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  میں احد الزوجین کے  فوت ہوجانے پر نکاح کاانقطاع تسلیم کرنا پڑے گا۔اور اگر نکاح ٹوٹ گیا تو   حشر کے بعد جنت میں ایسے لوگوں کے متعلق تو بڑی مشکل پیش آئے گی کہ نکاح ٹوٹ جانے کے بعد وہ عورت اپنے خاوند کو اور خاوند اپنی عورت کو کسی صورت حاصل ہی نہیں کرسکے گا۔حالانکہ قرآن  کاظاہر مفہوم اس کے خلاف ہے۔ملاحظہ ہوں یہ آیات:
"تم اور تمہاری بیویاں جنت میں داخل ہوجاؤ تمھاری خاطر ہوگی۔"(ترجمہ مولانا وحید الزمان)
"ہم ان کو ایک دم اٹھا کھڑا کردیں گے ۔اور ان کو کنواریاں "پیاری پیاری" داہنے ہاتھ والوں کی ہم عمر بنا دیں گے۔"
"ان آیات میں بیویوں باپوں اور اولاد کا جنت میں داخل ہونے کاذکر ہے۔فرمایا جائے گا اگرزوجین میں سے ایک کی موت سے نکاح ہی ٹوٹ گیا تو جنت میں خاوند اوربیوی کیسے اکھٹے کئے جائیں گے؟ حالانکہ صراحت قرآن اس پردلالت کرتی ہے۔کہ دنیا کی زندگی کی طرح ایماندار جوڑے جنت میں بھی بفضل اللہ تعالیٰ اکھٹے ہوں گے۔اور ان کے نکاح ٹوٹ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔یہ توصحیح ہے کہ زوجین میں سے کوئی ایک  فوت ہوجائے اور ان میں سے کوئی ایک بداعمال یا مشرک یا کافر ہو تو ان کےنکاح ٹوٹ جائیں گے۔اور وہ آخرت میں اکھٹے نہیں ہوسکیں گے۔لیکن مومن مرد اور مومن عورت کانکاح کے ٹوٹ جانے کامسئلہ اختراع کرنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے؟
اور دفع دخل مقدر کے طور پر عرض کیاجاتاہے۔کہ یہ مسئلہ اپنی جگہ پرمستقل  ہے کہ عورت کی زندگی میں اگر مرد کی موت واقع ہوجائے تو عدت کے بعد نکاح ثانی کرنا عورت کی مرضی اور خواہش پر موقوف ہے۔اور اگر عدت گزارنے کے بعد بھی عورت اپنے سابق نکاح میں زندگی گزارنا چاہے تو اس کے اور اس کے خاوند کے تعلق میں انقطاع پر کوئی دلیل ہی نہیں۔جیساکہ قرآن حکیم کی آیات مذکورہ میں خاوندوں اور بیویوں کا ذکر موجود ہے۔
اور بالفرض اگر خاوند کی موت واقع ہونے پر نکاح تو ٹوٹ گیا مگر عورت پھر بھی نکاح ٹوٹ جانے کے بعد اسی گھر میں اسی سابق خاوند سے متعلق اور نسبت نکاح کے ساتھ مربوط ہوکرزندگی گزارتی ہے۔تو ایسی حالت میں مفتیان کرام اس عورت کواسی خاوند کے گھر میں زندگی گزارنے کی اجازت کیوں دیتے ہیں؟
حالانکہ بعض عورتیں بیوہ ہوجاتی ہیں اور ان کی اولاد بھی نہیں ہوتی۔پھر بھی وہ عورتیں اپنے خاوند کے حق نکاح میں زندگی  گزارتی ہیں ۔یہ کیوں؟
علاوہ ازیں سورہ نساء میں وراثت کاقانون بیان کیاگیا ہے پھر نکاح ٹوٹ جانے کے بعد عورت یاخاوند ایک دوسرے کے وارث کیوں کر اور کس دلیل سے تسلیم کئے جاتے ہیں؟حالانکہ قرآن کے الفاظ میں بصراحت(عربی) وغیرہ میں باقاعدہ خاوند اوربیوی بعد از مرگ بھی تسلیم کئے گئے ہیں۔
اور اگر خاون کی زندگی میں بیوی مرجائے تو بقول مفتیان حنفیہ کے نکاح ٹوٹ گیا۔لیکن وہ خاوند بھی اپنی مردہ بیوی (جس کے مرجانے سے نکاح ٹوٹ گیا)کا وارث بنتا  اور وراثت حاصل کرتاہے۔تو یہ بہت بڑی دلیری اورجسارت ہے۔اورایسےشخص پر یہ آیت وارد ہوسکتی ہے۔اگرچہ اس آیت کا یہ مدلول نہیں تاہم اس کا مفہوم ایسے شخص پرمنطبق ہوسکتا ہے۔
"اے ایماندارو!نہیں  ہے حلال  تمارے لئے  یہ کہ  تم وارث ہوجاؤ  عورتوں کے زبردستی خلاصہ یہ کہ زوجین میں سے کسی ایک کی وفات پر نکاح ٹوٹنے کامسئلہ خودساختہ ہے۔جس پر شرح میں کوئی دلیل نہ ہونے کی وجہ سے اور کتاب وسنت ودیگر صریح دلائل اورتعامل صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  کی روشنی میں زوجین میں سے ایک کی وفات پر دوسرے کا میت کو غسل دینا جائز ہے ۔ممانعت کی کوی دلیل نہیں۔(عربی)