روزہ خور توجہ فرمائیں
ع۔(تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں؟)

روزوشب:
ماہ وصال تو گزر ہی جاتے ہیں لیکن یہی روز وشب بھی ماہ وسال کسی کے لئے انتہائی مبارک ثابت ہوتے ہیں تو کسی کے لئے محرومیوں اور حسرتوں کا  پیغام چھوڑ جاتے ہیں۔رمضان المبارک کا بابرکت اور پرعظمت مہینہ آیا اور رخصت بھی ہوگیا چنانچہ جن لوگوں نے اس ماہ مقدس میں دن کو روزہ رکھا تلاوت قرآن مجید اور نماز باجماعت کا خصوصی اہتمام کیا اور راتوں میں قیام ورکوع وسجدہ کے زریعے اپنے رب کی بارگاہ میں حاضری دے کر اپنی خطاؤں پر آنسو بہائے،اظہار ندامت کیا،وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی مغفرت ورحمت کے مستحق بھی ہوئے اور جہنم سے آزادی کی نوید بھی انھوں نے حاصل کرلی!۔لیکن جن لوگوں نے اس مبارک مہینے کے تقاضوں کو نہ صرف ملحوظ نہ رکھا۔بلکہ اس کی حرمتوں کو پامال اور اس کے تقدس کو مجروح کیا۔بلاشبہ انھوں نے اللہ کے غضب کوللکارا اور اپنی نفسانی خواہشات پر اُخروی فوائد کو قربان کرتے ہوئے سراسر گھاٹے کاسود کیا ہے۔لیکن اس خسارے کا آج بھی انھیں احساس نہیں ہے۔ہاں جب احساس ہوگا۔تو اُس وقت ان کےحصہ میں سوائے محرومیوں اورحسرتوں کے کچھ نہ آئے گا۔یہی حقیقت قرآن مجید میں اللہ ر ب العزت نے ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے:
"زمانہ شاہد ہے کہ بےشک انسان البتہ خسارہ میں ہے۔۔۔ہاں مگر (اس خسارہ سے) وہ لوگ( محفوظ ر ہیں گے) جو ایمان لائے نیک اعمال بجالائے اور انھوں نے حق  اورصبرکی وصیت کی!"
۔۔۔لہذا ہر مسلمان کو یہ سوچ  لینا چاہیے کہ رمضان المبارک میں اس نے کیا پایا اور کیاکھودیا ہے؟
اس شدید گرمی میں جبکہ اکثر افراد کے لو لگنے سے بے ہوش ہوجانے اور کئی افراد کے جاں بحق ہوجانے کی اطلاعات اخبارات کے ذریعہ مل  رہی ہیں۔روز محشر کی  گرمی کی شدت کااندازہ کرلینا شاید کسی قدر ممکن ہو۔سائنس دانوں کے مطابق سورج زمین سے نو کروڑ میل دور ہے۔ لیکن روز محشر یہی سورج ایک میل (فرسخ) کے فاصلہ پر چمکے گا۔لہذا اس دن کی گرمی کاتصور زہن میں تازہ کرنے کےلئے آج کے اس درجہ حرارت کو کم از کم نو کروڑ سے ضرب دینا ضروری ہے۔دنیا میں اس گرمی سے بچنے کے لئے بند ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں دبک جانے والوں یا سایہ دار درختوں تلے اور دیواروں کی آڑ میں سستا لینے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اُس  دن عرش الٰہی کے علاوہ اور کسی چیز کا سایہ نہ ہوگا۔روزانہ ٹھنڈے پانی سے بار بار غسل کرنے والے یہ باور کریں کہ اُس دن ہر شخص اپنے اپنےگناہوں کےبقدر اپنے پسینے میں ڈوبا ہوگا۔چنانچہ بعض گھٹنوں تک اور بعض کانوں تک پسینے میں غر ق ہوں گے۔جب کہ بعض کے منہ تک یہ پسینا گویا انھیں لگام دیئے ہوگا۔۔۔برہنہ تن حلق میں کانٹے ،زبان تالو سے لگی ہوئی،روز محشر کی طوالت ہمارے ان دنوں کے حساب سے پچاس ہزار سال کے برابر!ان حالات میں روزہ داروں اور ان کے روزے افطار کرانے والوں کے لئے زبان نبوت صدق ترجمان سے یہ خوشخبری کتنی بڑی خوشخبری ہے کہ:"جس نے سیر ہوکر کسی روزہ دار کو دودھ یادودھ ملا پانی پلایا،اللہ تعالیٰ اسے (روز قیامت) میرے حوض سے پانی پلائیں گے۔چنانچہ اسے پیاس نہیں ستائے گی۔حتیٰ کہ وہ جنت میں د اخل ہوجائےگا۔"
۔۔۔ظاہر ہے،جب روزہ افطار کرانے والے کی ہی جزا ہے تو خود روزہ دار کی جزا کیا ہوگی؟۔۔۔فرمایا اللہ رب العزت نے:"روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔(یا اس کی جزا کے طور پر میں خودہی اسے مل جاؤں گا)!
۔۔۔پس ر وزہ داروں کو عید مبارک ہو کہ عید کی حقیقی خوشیوں کے امین اور مستحق در  اصل یہی لوگ ہیں۔
اور جہاں تک روزہ خوروں کا تعلق ہے۔تو امسال ان کی تعداد گزشتہ سالوں کی نسبت کہیں زیادہ تھی۔جو "مریضوں اور مسافروں کے لئے"بورڈ کے پس پردہ ماحضر تناول فرماتے رہے اورلذت کام ودہن میں مصروف رہے۔عجیب بات یہ دیکھنے میں آئی ہے،کہ اس سے قبل یہ لوگ محض روزہ خور تھے۔لیکن اس دفعہ ان میں روزہ خوری کے ساتھ ساتھ سینہ زوری کاتلخ تجربہ بھی ہوا۔جہاں پہلے ندامت تھی وہاں اب بغاوت کے آثار پائے گئے ۔اور دفاعی انداز نے اب جارحیت کی صورت اختیار کرلی ہے۔حتیٰ کہ ر وزہ خوروں کی محفل میں رمضان المبارک کے کم از کم احترام کو ملحوظ رکھنے کی دعوت دینے والا بھی الٹا نکو بن کے رہ گیا۔کسی نے بڑا کرم کیا تو یہ کہ جواباً اسے  سختی نہ کرنے کےلئے نبویؐ اخلاق کا حوالہ دے ڈالا،یاموسم کی حدت کا احساس دلایا۔صاف ظاہر ہے کہ"(عربی)" کے تقاضوں سے بے خبر اور(عربی)[1] کی سختیوں سے آنکھیں بند کرلینے والے ان لوگوں کاروز آخرت پر ایمان ہی نہیں ہے۔ورنہ اس دیدہ دلیری کی انھیں جرائت نہ ہوتی!
تاہم جہاں تک رمضان المبارک میں سامان افطاری تیار کرنے کا تعلق ہے وہ روزہ داروں سے پیچھے نہیں رہے۔اور عید بھی انھوں نےبڑے دھڑلے سے منائی ہے۔چنانچہ جہاں روزہ دار ،روز عید کو(عربی)[2] کا مصداق بنے۔وہاں یہ  روزہ خور بھی عید کے روز گویا جعلی سندیں ہاتھ میں لئے عید گاہوں میں وارد ہوئے اور دوسروں کو یہ باور کراتے رہے کہ اس کڑی  آزمائش میں ہم بھی کامیاب ہوگئے!۔۔۔پس روزہ خوروں کو عید مبارک کہنے کاتصور اسی قدر مضحکہ خیز ہے جس قدر کہ بغیر روزہ کےافطاری  اور رمضان المبارک کا پورا مہینہ اللہ رب العزت کی نافرمانی میں گزار کر عید کی خوشیوں میں حصہ دار بننے کا تصور مضحکہ خیز ہے!
باور کیجئے کہ انہی عاقبت نا اندیشوں اور  خدا فراموشیوں کا یہ نتیجہ ہے کہ بادل جھوم جھوم کر آتے ہیں۔لیکن پانی کی ایک بوند گرائے بغیر نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں۔البتہ جہاں کہیں برستے ہیں تو طوفانی کیفیت اختیار کرلیتے ہیں۔آج26 جون کے اخبارات کے مطابق دریائے سندھ متلاطم ہے اور سیلاب کے باعث لوگ اپنی جانیں اور مال بچانے کے لئے ادھر ادھر بھاگ  رہے ہیں۔بعض مقامات پر پانی کی یہ تباہیاں اور ملک کے اکثر حصہ میں طویل خشک سالی،پانی کی یہ کمی اور اس کے نتیجہ میں لوڈ شیڈنگ کاعذاب ،فصلوں کامتاثر ہونایہ سب اس بات کی علامات ہیں کہ اللہ کی اس زمین کو ظلم وفساد سے بھر دیا گیا ہے۔اور ہمارا پالنہار ہم سے ناراض ہے!۔۔۔اخبارات کے مطابق عین عید کے روز صرف لاہور اور شیخو پورہ میں دس افراد قتل ہوئے۔علاوہ ازیں اپنے  گردوپیش نگاہ دوڑائیے تو آپ کو ہر چہار سو سازوآواز کی حکمرانی یوں نظر آئے گی کہ کسی شریف آدمی کا خدا اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی بھری ان گندی کچی لچر اور بے ہودہ آوازوں سے اپنے کان بچا لینا ناممکن ہوکررہ گیا ہے۔حتیٰ کہ رمضان المبارک میں بھی یہ شیطانی کا روبار ٹھنڈا نہیں پڑا اوراگر کسی نے اس کے خلاف کوئی آواز اٹھائی تو بھی اُس کی معلومات میں یوں اضافہ کیا گیا کہ روزہ اپنی جگہ گانا اپنی جگہ رمضان کا مہینہ محرم کا مہینہ تو نہیں ہے جس میں گانے سننا منع ہوں!۔۔۔آہ پوری قوم لہو ولعب میں یوں کھوگئی ہے جیسے یہ دنیا وآخرت کی کھیتی نہیں ایک بازی گاہ ہے۔۔۔ثقافت کے نام پر کنجریوں کے ناچ ،تازہ ترین ملبوسات کی نمائش کے بہانے بیحیا تصویریں۔گھر گھر سینما جگہ بجگہ وی سی آر وڈیو کیسٹ ،ٹیپ ریکارڈ ،ریڈیو۔ٹیلی ویژن ،ثقافتی شو کلب تھیٹر،سٹیج شو ڈرامے اور نہ جانے کیا کیا ؟الغرض فحاشی اور بے ر اہ روی کا ایک ایسا سیلاب امڈ آیا ہے کہ جس کے سامنے بند باندھنا شاید اب کسی کے بس کی بات نہیں رہی۔ادھرسیاسی دنگلوں نے الگ جان کھالی ہے!۔۔۔مارشل لا اور جمہوریت ،یہ لفظ سنتےسنتے کان پک گئے ہیں۔نہ مارشل لا جاتاہے۔اور نہ جمہوریت بحال ہوپاتی ہے۔اور جو تھوڑی بہت بحال ہوئی ہے۔اس نے مسائل ہی پیدا کئے ہیں حل نہیں کئے ۔کنفیڈریشن کے نعرے صوبائی خود مختاری کے پس پردہ ملک توڑنے کی دھمکیاں ،ہلڑ بازی،تشدد،ماردھاڑ،انسان تورہے ایک طرف اب دریا تک باہم الجھ کررہ گئے ہیں!۔۔۔تاہم ہمارے لیڈران گرامی قدر اب بھی اس کا بحالی جمہوریت پر مطمئن نہیں ہیں،او ر نہ جانے مکمل بحال ہونے پر"آزادی کی یہ نیلم پری"کیا کیا گل کھلائے گی؟۔۔۔رہا اسلام،سو  اسے اب سفلی جذبات اور گندی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنا لینے کی کوششیں ہورہی ہیں۔حتیٰ کہ پردہ بھی اسلامی چیز نہ رہی۔اور خواتین کے ہاکی میچ کھیلنا بھی اب نسوانیت کی معراج ہے،چنانچہ اس کے لئے دلائل کتاب وسنت سے ڈھونڈےجارہے ہیں۔اخبارات میں  بے دانشوں نے دانشوری کے نا م پر اسلام پر وہ وہ کیچڑ اچھالا ہے کہ رہے نام اللہ کا!۔۔۔بے خدائی کایہ عالم کہ ادھر یہ خبر آتی ہے کہ چک جھمرہ میں تین افراد لوڈشیڈنگ کے باعث پانی نہ ملنےپردم توڑ گئے۔۔۔لیکن ادھر "عوامی حلقوں" کی طرف سے یہ مطالبات اخبارات کے ذریعہ نظر نواز ہوتا ہے کہ راگ طہار گائے جائیں تاکہ بادل جھوم جھوم کر برسیں"۔۔۔آہ یہ وہ مسلمان ہے کہ جو خشک سالی کے مواقع پر نماز استسقاء کااہتمام کرنا اپنے رب کے حضور گڑ گڑاتا۔آنسو بہاتا ۔جھک جایاکرتاتھا ۔لیکن اب اس کے نزدیک خشک سالی کاعلاج راگ طہار اوردیپک راگ ہیں!۔۔۔اگربرف اس شدید گرمی کے باوجودپگھل نہیں رہی اور اس بناء پر دریاؤں میں پانی کم ہے تو اس کے لئے کیمیکل آزمانے کے مشورے ہورہے ہیں۔اس بات سے بالکل بے خبر کہ:
ع۔۔۔۔تری بربادیوں کے مشورے  ہیں آسمانوں میں؟۔۔۔چک جھمرہ کو ہ قاف ایسی کسی خیالی سر زمین پر واقع نہیں ہے۔اسی ملک پاکستان کا ایک شہر ہے۔اگر پانی نہ ملنے کے باعث وہاں  موت نے اپنے پنجے گاڑے ہیں تو پورا ملک بھی اس کی لپیٹ میں آسکتا ہے! یہی تنبیہ اللہ رب العزت نے قرآن  مجید میں یوں فرمائی ہے:کہ"اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم،ان سے پوچھئے ،اگر تمہارے پینے کا پانی گہرا ہوجائےتو وہ کون ہے جوتمھیں میٹھا پانی مہیا کرے گا؟
اے اہل پاکستان کہہ دو کہ:"اللہ ہی ہمیں میٹھا پانی پلائے گا کہ وہ ہمارا بھی رب ہے اور تمام جہانوں کاپروردیگار بھی!"۔۔۔ورنہ  یادرکھو قدرت کی ان دیکھی قوتیں تمھارے خلاف سرگرم عمل ہورہی ہیں اورتمھارے گرد عذاب خداوندی مسلسل اپناگھیرا تنگ کرتاچلا جارہا ہے۔لیکن تم ہوکہ اپنی بد اعمالیوں پر مصرنافرمانیوں پرمفتحنر بغاوتوں پر مطمئن اور پستیوں پر قانع ہرممکن ذریعہ سے کھیل کود میں مصروف ہو۔۔۔اس انتباہ خداوندی سے یکسر بے نیاز اورچشم پوش کہ:
"کیابستیوں والے اس بات سے بے خوف ہوگئے ہیں کہ ہمارا عذاب ان کورات کوسوتے میں اچانک آگھیرے۔اور کیا بستیوں والےاس بات سے امن میں آگئے ہیں کہ ہمارا عذاب ان پر دن چڑھے(عین اس وقت) نازل ہوجائے جب (لہو ولعب کے رسیا) کھیل کود میں مصروف ہوں؟"
پہلی قومیں جو تباہ وبربادہوگئیں ،قصہ ،ماضی اور فسانہ عبرت بن کررہ گئیں ۔یہ بھی ہماری طرح گوشت پوست کے انسان تھے۔۔۔لیکن قرآن فرماتا ہے کہ:
دیکھو دیکھو کتنی بستیاں ہم نے تم سے پہلے ہلاک کردیں ان کے باغات اور چشمے یہیں دھرے کے دھرے رہ گئے۔لیکن خود وہ  فسانہ ماضی بن کررہ گئے! ان کی کھیتیاں اوراونچے اونچے محلات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ یہاں روئے زمین پر کوئی قوم بستی تھی لیکن خود وہ کہاں چلے گئے؟انواع واقسام کی نعمتیں کھانے والوں کا اب کوئی نام ونشان باقی نہیں رہا۔بلکہ ہم نے انھیں ان کی بداعمالیوں کے سبب ہلاک کرکے ان کی جگہ دوسری قوموں کو ان نعمتوں کاوارث بنادیا تو ان کے اس عبرتناک انجام پر نہ تو زمین روئی اور نہ آسمان ہی کو ان پر آنسو بہانے کی توفیق میسر ہوئی!۔۔۔جب عذاب خداوندی نے اُن کو آن گھیرا تو ایک منٹ کی مہلت بھی انھیں نہ مل سکی!
قدرت کا یہ اصول اٹل ہے کہ جب کوئی قوم سرکشی پر اترآتی ہے۔تو اُس پر اللہ کاعذاب آجاتا اور اس کی گزران اس پر تنگ کردی جاتی ہے۔(عربی)یہی قانون خداوندی ہے۔یہی سنت الٰہی ہے:
پس قبل اس کے کہ یہ نافرمانیاں رنگ لائیں۔عذاب الٰہی کاکوڑا حرکت میں آئے اپنی غلطیوں پرندامت کا اظہار کرکے اپنے رب کی بارگاہ میں جھک جاؤ،جھک جاؤ!۔۔۔کہ اس غفار الذنوب کادریائے کرم اب بھی ٹھاٹھیں مار رہا ہے اور تمھیں اپنے جلو میں لینے کے لئے بے تاب!
"اگر بستیوں والے ایمان لے آئیں اورتقویٰ اختیار کریں تو ہم ان پر زمین وآسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے ہیں!"
۔۔۔لیکن کیا تم اس کے لئے تیار بھی ہو؟۔۔۔دیکھیں(عربی)کی صدا کب اور کہاں سے بلند ہوتی ہے؟۔۔۔(عربی) (اکرام اللہ ساجد)


[1] ۔(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم)آپؐ فرمادیجئے کہ جہنم کی گرمی بڑی ہی شدید ہے!"

[2] ۔تاکہ تم روزوں کی گنتی پوری کرو۔اللہ کی بڑائی بیان کرو۔اس بناء پر کہ اُس نے تمھیں  ہدایت دی۔(اور روزی رکھنے کی توفیق عطا فرمائی)اور تاکہ تم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرو(کہ اس کڑی آزمائش میں اُس نے تمھیں ثابت قدم رکھا)!