ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

  • جولائی
1985
اکرام اللہ ساجد
روزہ خور توجہ فرمائیں
ع۔(تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں؟)
روزوشب:
ماہ وصال تو گزر ہی جاتے ہیں لیکن یہی روز وشب بھی ماہ وسال کسی کے لئے انتہائی مبارک ثابت ہوتے ہیں تو کسی کے لئے محرومیوں اور حسرتوں کا  پیغام چھوڑ جاتے ہیں۔رمضان المبارک کا بابرکت اور پرعظمت مہینہ آیا اور رخصت بھی ہوگیا چنانچہ جن لوگوں نے اس ماہ مقدس میں دن کو روزہ رکھا تلاوت قرآن مجید اور نماز باجماعت کا خصوصی اہتمام کیا اور راتوں میں قیام ورکوع وسجدہ کے زریعے اپنے رب کی بارگاہ میں حاضری دے کر اپنی خطاؤں پر آنسو بہائے،اظہار ندامت کیا،وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی مغفرت ورحمت کے مستحق بھی ہوئے اور جہنم سے آزادی کی نوید بھی انھوں نے حاصل کرلی!۔لیکن جن لوگوں نے اس مبارک مہینے کے تقاضوں کو نہ صرف ملحوظ نہ رکھا۔بلکہ اس کی حرمتوں کو پامال اور اس کے تقدس کو مجروح کیا۔بلاشبہ انھوں نے اللہ کے غضب کوللکارا اور اپنی نفسانی خواہشات پر اُخروی فوائد کو قربان کرتے ہوئے سراسر گھاٹے کاسود کیا ہے۔لیکن اس خسارے کا آج بھی انھیں احساس نہیں ہے۔
  • جولائی
1985
عبدالعزیز علوی
انہی مذکور الفاظ کے قریب قریب مذکورہ واقعہ للشعرانی ج1 مطبوعہ مصر ص163 میں بھی ہے۔لیکن کشف الغمہ میں اس کے راوی حضرت انس رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  ہیں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کو غسل دینے والی روایت کو موطااما م محمد میں اس سند اور الفاظ سے روایت کیا گیا ہے:
یعنی "عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  فرماتے ہیں۔کہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعا لیٰ عنہا  حضرت ابو بکر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کی بیوی نے ابو بکر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کو غسل دیا۔تو فارغ ہوکر جو صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  موجود تھے۔ان سے سوال کیا کہ "میں روزہ سے ہوں اور آج سخت سردی ہے کیا غسل دینے کی وجہ سے مجھ پر بھی غسل واجب ہے؟ سب نے متفقہ جواب دیا کہ، نہیں!" (چنانچہ) امام محمدؒ فرماتے ہیں کہ ہم بھی اس کے قائل ہیں کہ عورت اپنے فوت شدہ خاوند کو غسل دے۔"
  • جولائی
1985
عبدالرحمن عزیز
ہجرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ :
فریقین کی کتب تواریخ وسیر اس بات پر متفق ہیں کہ 13 نبوی میں اہل مدینہ کی  عقبہ ثانیہ کی بیعت کے بعد قریش کے ظلم وستم نے مسلمانوں پر ملکی رہائش تنگ کردی۔اکثر مسلمان بحکم و اجازت نبویؐ حبشہ کی  طرف ہجرت کرچکے تھے۔باقی ماندہ کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانی اورایمانی دولت بچانے کی عام اجازت دے دی تھی کہ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ چلے جائیں۔ مگر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے خصوصی طور پر فرمایا کہ وہ ان اجازت یافتگان ہجرت سے پہلے مدینہ پہنچ کر وہاں اقامت اختیار کریں اور مسلمان مہاجرین کی جمیعت خاطر کا سبب بنیں۔مسلمانوں سے جس طرح بھی بن  پڑا مدینہ پہنچ گئے۔حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کی روایت کے مطابق مہاجرین میں سب سے پہلے مدینہ پہنچنے والے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  تھے۔پھرحضرت عبداللہ ابن مکتوم رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  نے قدم رنجہ فرمایا۔پھرعمر بن خطاب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  بیس سواروں کے ہمراہ رونق افروز ہوئے۔انصار نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کےمتعلق دریافت فرمایا،تو حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  نے فرمایا کہ " وہ میرے پیچھے تشریف لانے والے ہیں۔"(بخاری عنوان البخابہ)
  • جولائی
1985
محمد سلیمان اظہر
مرزا غلام احمد نے بیان کیا ہے کہ:
"کسی شخص کو حضور ر سالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم  کی بارگاہ میں بحالت خواب حاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔اس نے دیکھا کہ علماء ہند بھی حاضر دربار ہیں۔پھر مجھے(مرزا صاحب کو) بھی حاضر کیاگیا۔علماء نے میرے بارے میں بتایا کہ یہ شخص خود کومسیح کہتاہے۔حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری تکفیر پرعلماء کو مبارک باد دی اور مجھے جوتے لگوائے۔"
اس خواب کاتذکرہ کرنے کے  بعد مرزا صاحب نے اس کا  مضحکہ اڑایا ہے۔اور حاضرین مجلس کا بانداز تحقیر یوں ذکر کیا ہے:
" مولوی محمد حسین کی کرسی کے قریب ایک اور کرسی تھی جس پر ایک بڈھا نودسالہ بیٹھا ہوا تھا۔جسے لوگ نزیرحسین کہتے  تھے۔۔۔اور  سب سے پیچھے ایک نابینا وزیرآبادی تھا۔جس کو  عبدالمنان کہتے تھے۔اور اس کی کرسی سے"انا المکفر"کی زور  سے آواز آرہی تھی۔"[1]
  • جولائی
1985
عبدالرحمن عاجز
بظاہر دیکھنے میں شادماں حافظ محمد تھے            غم روز جزا سے نیم جاں حافظ محمد تھے
رہا تازیست ورس شرح قرآں مشغلہ انکا           احادیث نبیؐ کے ترجماں حافظ محمدتھے
عبورخاص حاصل تھا انھیں دینی مسائل پر    فقیہ ونکتہ داں تھے خوش بیاں حافظ محمدتھے
خدا کے دین کی خوشبو زمانے بھر میں پھیلائی        حقیقت میں بہارجادواں حافظ محمدتھے
ادارہ تھے و اک علم وعمل کا دورحاضر میں              علوم دین کے گنج گراں حافظ محمدتھے