1۔شرعاً بچے کی کفالت کا حقدار کون ہے؟
2۔نماز میں امام کا قرآن کریم سے دیکھ کر قراءت کرنا؟
مولانا محمد زکریاصاحب دارالحدیث چنیانوالی لاہور سے لکھتے ہیں:
"کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص عابد کی شادی پروین اخترسے ہوئی،پروین اختر سے عابد کی ایک لڑکی پیدا ہوئی۔بعد میں عابد  فوت ہوگیا۔پروین اختر کے والدین کچھ عرصہ بعد اپنی بچی پروین اختر کو مع بچی کے لےجاتے ہیں۔کچھ عرصہ والدین ،پروین اختر کو گھر بٹھائے رکھتے ہیں،بعد میں اس کی شادی کسی دوسری جگہ کردیتے ہیں۔اب بچی کے دادا(عابد کے والد) نے اپنی پوتی کو اس کے ننھیال سے لینے کامطالبہ کیا ہے تاکہ ا س کی کفالت کریں ۔کیا وہ اس کے حقدار ہیں؟
الجواب بعون الوھاب:
بلاشبہ حضانت(پرورش) میں سب سے زیادہ حقدار والدہ ہے۔اس لئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد گرامی ہے:یعنی"خالہ بمنزلہ ماں ہے!"اس سے معلوم ہوا کہ والدہ کو بچے کی پرورش میں احقیت حاصل ہے۔صاحب تیسیر العلام مذکور حدیث سے ماخوذ ومستنبط مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے فرماتے ہیں:یعنی"ماں حضانت میں ہر ایک پرمقدم ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر کی بیوی کی کفالت میں بنت حمزہ کو صرف اس بناء پر دیا تھا کہ خالہ قائم مقام ماں کے ہے۔نیز اس لئےکہ خالہ میں احسان وسلوک اورشفقت ومحبت حددرجہ ہوتی ہے۔"
مذکور حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عورت کی شادی کے باجود کفالت کاحق ساقط نہیں ہوتا۔کیونکہ مذکورہ عورت ،جس کی کفالت میں حضرت حمزہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی بیٹی کو دیا گیاتھا۔وہ حضرت جعفر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے نکاح میں تھی۔حدیث کے الفاظ یوں ہیں:یعنی"یہ بچی میرے چچا کی بیٹی ہے۔اور اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے!"
لیکن دوسری ایک روایت جو مسند احمد اور ابوداؤد وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو وبن العاص  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے۔اس میں یہ ہے کہ ایک عورت اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی کہ اس کا سابقہ خاوند جس نے اس کوطلاق دی تھی۔اس سے بچہ چھیننا چاہتا ہے ۔توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یعنی"جب تک تو نکاح نہ کرے تو اس کی زیادہ حقدار ہے۔"
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہےکہ عورت کے دوسری جگہ شادی کرنے سے حق حضانت ختم ہوجاتا ہے۔اسی طرح مجیزین کااستدلال قصہ ام سلمہ  رضی اللہ عنہا سے بھی ہے کہ جب ان کی شادی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تھی تو اُن کی اولاد ان کے زیر کفالت تھی۔
بعض اہل علم نے ان مختلف روایات کو اس طرح جمع کیا ہے کہ مزوجہ کا خاوند اگر رضا مندی کا اظہار کرے تو حق حضانت ختم نہیں ہوگا۔بصورت دیگر ختم ہے ۔کیونکہ حق حضانت ختم ہونے کی بنیادی وجہ خاوند کے حقوق وفرائض کی ادائیگی میں کمی کا احتمال ہے۔
لہذا صورت مرقومہ میں پروین اختر کا(دوسرا خاوند) بچی کی کفالت پر راضی ہے  تو یہ بچی والدہ کی کفالت میں رہے گی۔بصورت دیگر داداکو واپس  کردی جائے۔(عربی)
مزید  تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو نیل الاوطار جز 6 ص 348  تا352۔(حافظ ثناء اللہ خاں مدنی)
2۔سوال:بعض اہل حدیث مساجد میں دیکھنے میں آیا ہے کہ امام قرآن کریم سےدیکھ کر تراویح پڑھاتے ہیں کیا یہ جائز ہے؟بینوا توجروا!
الجواب بعون الوھاب!
اقول وباللہ التوفیق:نماز میں قرآن کریم کی زیادہ سے زیادہ قراءت کرکے قیام کو طویل کرنا امر مستحب ہے۔نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام والی نماز کو افضل قرار دیا ہے۔چنانچہ صحیح ابن خزیمہ ج2 ص186 حدیث 1155 اور السنن الکبریٰ للبیہقی ؒ ج3ص8 اورقیام اللیل للمروزی ص51 میں ہے:"حضرت  جابر بن عبداللہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بیان فرماتے ہیں۔،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ :"کونسی نماز افضل ہے؟"تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا،"لمبا قیام!"نیز احادیث میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اسقدر طویل قیام فرمایا کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک متورم ہوجاتے:"حضرت ابو ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بیان فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  اتنا طویل قیام فرماتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک متورم ہوجاتے۔عرض کیا گیا "اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اگلے پچھلے گناہوں کی معافی کی بشارت آئی ہے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟"فرمایا"کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟"
معلوم ہوا کہ نمازوں میں حسب استطاعت طویل قیام کرناچاہیے۔چنانچہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے حفظ قرآن کی نعمت عظمیٰ سے نوازا ہو تو بہت بہتر ہے۔اورجو شخص حافظ قرآن نہ ہو۔لیکن طویل قیام کرنا چاہتا ہو وہ قرآن کریم سے دیکھ کر قراءت کرسکتا ہے۔ذخیرہ احادیث میں اس سے منع کی کوئی روایت موجود نہیں ۔بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  اور اسلاف امت کا تعامل اسی  پر ملتا ہے کہ وہ قرآن کریم سے دیکھ کر قراءت کیا کرتے تھے۔مثلاً
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ  تعالیٰ عنہا کے غلام جناب ذکوان،قرآن کریم سے دیکھ کر ان کی امامت کراتے تھے۔ملاحظہ ہو:صحیح بخاری باب امامۃ العبد والمولیٰ۔موطا امام مالک ؒ ،باب قیام رمضان السنن الکبریٰ للبیہقی ج2 ص53 قیام اللیل للمروزی ص 162 مسند الشافعی مصنف ابن ابی شیبہ بحوالہ فتح الباری ج2 ص158 وتلخیص الجیر ج2 ص43 ونیل الاوطار ج3 ص183۔
2۔اسی طرح خود ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق بھی آیا ہے کہ وہ نماز کی حالت میں قرآن کریم سے دیکھ کر قراءت کرتی تھیں:
3۔کہ"ابن سیرین ؒ جب نماز پڑھتے توقرآن کریم کا نسخہ آپ کے پہلو میں ہوتا،جب شک گزرتا تو دیکھ لیتے۔"(مصنف عبدالرزاق ج2 ص 420)
4۔کہ"حضرت انس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نماز پڑھتے تو آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا غلام آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے پیچھے قرآن کریم لے کھڑا ہوتا۔جب کسی آیت میں تردد یاشک ہوتاتوقرآن کریم کھول دیتا۔"(عمدۃالقاری ج5 ص225)
5۔یعنی"حضرت حسن  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرماتے تھے۔کہ رمضان المبارک میں کوئی شخص  قرآن کریم سے دیکھ کر امامت کرائے تو کوئی حرج نہیں۔"
6۔یعنی" ابن شہاب زہری ؒ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں سوال ہوا جو قرآن کریم  سے دیکھ کر لوگوں کی امامت کراتا تھا ،توآپ نے جواباً فرمایا،"ہم سے افضل لوگ ابتداء اسلام سے ایسا کرتے آرہے ہیں۔"
7۔کہ"ابراہیم بن سعد کو ان کے والد ،رمضان میں گھر والوں کی امامت کرانے اور قرآن کریم سے دیکھ کر قراءت کرنے کاحکم دیتے۔نیز فرماتے کہ"مجھ تک اپنی آواز پہنچاؤ۔"
8۔"سعید بن مسیب ؒ نے فرمایا کہ"امام کو اگر قرآن یاد ہو تو بہتر ورنہ دیکھ کر پڑھ لے۔"
9۔"جناب محمد ؒ نفلی نمازوں میں امام کے قرآن سے دیکھ کر پڑھنے اور امامت کرانے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔"
10۔"حضرت عطاءؒ کا فتویٰ ہے کہ کوئی شخص رمضان المبارک میں قرآن سے دیکھ کر امامت کرے تو کوئی حرج نہیں۔"
11۔یعنی اس سلسلے میں یحییٰ بن سعید الانصاری کا بھی جواز کا فتویٰ ہے۔

امام مالک ؒ  کا فتویٰ:"امام مالک ؒ سے پوچھا گیا کہ"کسی بستی میں کوئی حافظ نہ ہو تو کیا قرآن سے کوئی شخص دیکھ کر پڑھ لے؟"فرمایا:"کوئی حرج نہیں۔"
امام احمد ؒ سے پوچھا گیا ،کوئی شخص رمضان کریم سے دیکھ کر امامت کراسکتا ہے؟"تو آپ ؒ نے رخصت دی۔پھر پوچھا  گیا،"آیا فرض نمازوں میں بھی"؟فرمایا:"کیا ایسا بھی ہوتا ہے؟(یعنی کیااسے اتنا بھی یاد نہیں؟)"
امام شافعی ؒ ،امام محمد ؒ اور امام ابو یوسف ؒ کا فتویٰ:"(علامہ قسطلانی ؒ فرماتے ہیں کہ) یہ مذہب ہے اما م شافعی ؒ،ابو یوسف ؒ اور محمد ؒ کا۔کیونکہ اس طریقہ میں ایسی کوئی چیز نہیں جو بطلان صلواۃ کاسبب بنتی ہو۔"پس
مذکورہ مسئلہ کے بارہ میں نہی کی کوئی دلیل نہ ہونے کے سبب اور مندرجہ بالاآثار کے پیش نظراہلحدیث حضرات کاقرآن کریم سے دیکھ کر قراءت کرنا اور امامت کرانا بالکل جائز اور صحیح ہے۔!۔(عربی)