ہے زباں پہ میری جاری تری حمد کاترانہ
میرا شوق والہانہ میرا عشق غائبانہ
تجھے یاد کرتے کرتے ہے گزر گیا زمانہ
ہے زباں پہ میری جاری تری حمد کا ترانہ
مری مغفرت کا شاید یہ بن سکے بہانہ
ہوں سیاہ کار بیحد میرا دل دھڑک رہا ہے
کہیں رائیگاں نہ جائے میری محنت شبانہ
نہیں کرسکتا تلافی میں گزشتہ لغزشوں کی
زرا سے اجل ٹھہر جا کہ میں پڑھ تو لوں دوگانہ
یونہی فخر کررہا ہےتو ذرا سی زندگی پر
تجھے کیا خبر کہ کتنا ہے  بقایا آب ودانہ
ہے یہ ظرف اپنا اپنا ہے یہ اپنی اپنی ہمت
تجھے فکر ہے جہاں کی مجھے فکر آشیانہ
میری زندگی کے بدلے مجھے موت مل رہی ہے
میری بندگی کا مجھ کو یہ ملا ہے محنتانہ
ترے ذکر نے کیے ہیں میرے غم غلط ہمیشہ
کہ شریک غم رہا ہے تیرا فضل جاودانہ