حکومت پاکستان کو خبردار رہنا چاہیے:
11 فروری 1979ء کو ایران میں اسلام کے نام پر ایک انقلاب برپا ہوا۔کیونکہ اس سے قبل ایران میں شاہی نظام رائج تھا۔ اور اس انقلاب سے اب یہاں بحالی جمہوریت کی امید پیدا ہوئی تھی۔اس لئے برصغیر  کی بعض سیاسی تنظیموں نے،جن کے نزدیک جمہوری پروگرام شریعت کی عمل داری کےتقاضوں سے بڑھ کر اہم اور موجب خیر وبرکت ہے۔اس انقلاب کا باقاعہد خیر مقدم کیا اور انقلابی رہنما آیت اللہ خمینی کو مبارک باد کے پیغام روانہ کئے۔چنانچہ پاکستان کے ایک روزنامہ جسارت (کراچی) نے اپنی 13 فروری 1979ء کی اشاعت میں ایک خبر کی سرخی یوں  جمائی کہ:
"خدا ہمارے ایرانی بھائیوں کی مدد  اور ر اہنمائی فرمائے۔ہم عظیم الشان کامیابی پر آپ کو دلی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔خمینی کو مولانا مودودی اور میاں طفیل کا  پیغام!"پھر اس کے تحت تفصیلی خبر میں اس پیغام کے یہ الفاظ بھی نقل کیے کہ:
"ایران کےہزاروں نوجوانوں نے اسلامی جمہوریہ کے قیام کےلئے جو قربانیاں دی ہیں،وہ پورے عالم اسلام کے مشعل ِراہ ہیں۔۔۔۔بعد کےحالات نے اگرچہ یہ ثابت کردیا ہے کہ مذکورہ جمہوری انقلاب سے،پرستاران جمہوریت کی وابستہ توقعات پوری نہیں ہوئیں۔تاہم ان کے نزدیک اب بھی ایران"اسلام" اور"اسلامی انقلاب" کاعلمبردار ہے۔چنانچہ روزنامہ جسارت ہی نے اپنی 8 مارچ 1985ء کی اشاعت کے اداریہ بعنوان"ایران اور عراق کی مجنونہ جنگ"کے تحت لکھا ہے کہ:
"ہم ایران سے جو اسلامی انقلاب کاعلمبردار ہے۔خاص طور پر اسلام کے حوالے سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے باہمی خون ریزی کو ختم کرنے کے معاملے میں اپنے رویے پر نظر ثانی کرے اور امن کی جانب پیش قدمی کرے!"

جبکہ حالات وواقعات کی روشنی میں یہ بات بلا ریب وتردد کہ جاسکتی ہے۔کہ ایرانی انقلاب کو اسلام سے کچھ تعلق نہیں حتیٰ کہ ہرانقلاب خالصتاً شیعہ بھی نہیں۔کیونکہ پاسداروں کےہاتھوں قتل ہونے والے"مجاہدین خلق"خود شیعہ ہیں۔بنی صدر کی حمایت کےجرم میں گولیوں کا نشانہ بننے والے بھی شیعہ بھی تھے۔آیت اللہ شریعت مدار بھی شیعہ ہیں،اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہیں  اور کیسے ہیں؟اسی طرح ایران میں سنی کردوں اور اور بلوچیوں وغیرہ کو بھی بھاری تعداد میں شہید کیا گیا ہے۔جبکہ ہزاروں سنی مدارس ومساجد کو ویران کردیاگیا ہے!۔۔۔علاوہ ازیں ایک ایرانی شیعہ راہنما نے بڑی جرائت اور وضاحت کے ساتھ موجودہ ایران کے جو حالات پیش کیے ہیں۔وہ قابل غور اور لائق توجہ ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ:

"ایران کے قائد انقلاب گو تمام انبیاء کے کام پر ترجیح دینا،خدا کے نام  کے بعد صرف ان کا نام لینے کی تعلیم دینا،اقوال رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اقوال امیر علیہ السلام کی جگہ قائد انقلاب کے اقوال لکھنا، پڑھنا ،بولنا،سننا اور سنانا۔۔۔کلمہ اسلام کے دوسرے جزو کو مٹا کر پیغمبر اسلام کے نامِ اسمِ گرامی کی جگہ قائد انقلاب کانام لینا اور اس طرح ایک نیا کلمہ اسلام وضع کرنا اپنے سوا ساری دنیا کے مسلمانوں کو کافر سمجھنا۔عالم اسلام کے موجودہ نقشے کو بدلنے کے لئے جدوجہد کرنا[1] ،کعبۃ اللہ پر قبضے کے لئے لوگوں کو تیار کرنا اور اس عمل کو جہاد کا نام دینا ،تمام مسلم سربراہان مملکت کو کافر قرار دے کر ان کا تختہ الٹنے اور ان کی حکومتوں کو ختم کرنے کے لئے قوم  کو آمادہ کرنا۔مسجدوں میں کیمرے نصب کرنا۔تصویریں اتارنا اوراتروانا۔مسجدوں میں جوتوں سمیت جانا اور محراب مسجد میں تصویریں چسپاں کرنا،مسجدوں میں بیٹھ کر سگریٹ نوشی کرنا،شہیدوں کے قبرستان "بہشت زہرا" کو تصویروں سے ڈھانپ کر سٹوڈیوں میں تبدیل کرنا،ہوٹلوں میں مردوں کے کمرے صاف کرنے اور بستر بچھانے پر عورتوں کو مامور کرنا،اپنے مخالفین کو کافر کہہ کر ان کی قبریں اکھاڑنا اور لاشوں کوغیر مسلموں کے قبرستان میں  ڈالنا ،اختلاف رائے کا اظہار کرنے والوں کو مقدمہ چلائے بغیر گولی ماردینا۔نماز میں امام کا مقتدیوں سے الگ ہوکر مسلح افراد کی نگرانی میں قیام کرنا اور امام کی حفاظت کرنے والوں کے اس عمل کو نماز کا بدل قرار دے کر ان کو خدا کے فرض سے سبکدوش کرنا۔امام کا ایسے شخص کی آواز پر ر کو ع وسجود کرنا جو نماز میں شریک نہیں ہوتا۔اشیائے ضرورت کی راشن بندی کرکے عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو بازاروں میں لانا اور قطاروں میں کھڑا کرنا،زنا جیسی قبیح بدکاری کو تحفظ دینا،ولدیت کی جگہ اسم مادر کو لازم قرار دینا،کم سن اور معصوم بچوں کو قتل کرنا۔[2] نمازیوں کی جماعت پرصرف اس لئے  گولی چلانا کہ وہ سرکاری مولوی کی اقتداء  میں کھڑے کیوں نہیں ہوتے،آیت اللہ شریت مدار جیسے امام برحق کو "منافق" کہہ کرنظر بند کرنا،قائد انقلاب کی تصویر کی پوجاکرنا،ان کے سامنے ان کے نام کا کلمہ پڑھنا۔۔۔اگر یہ اسلام ہے تو ضد اسلام کیا ہے؟یہ اسلامی انقلاب ہے تو صیہونی انقلاب کیاہوتا ہے؟"(آتش کدہ ایران مطبوعہ لاہور) مذکورہ بالا سطور کو  پڑھ کر اس امر میں شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ انقلاب ایران کے پس پردہ نہ صرف صیہونی ہاتھ کار فرما ہے۔[3] بلکہ درحقیقت یہ ایک کمیونسٹ انقلاب ہے۔یہ وجہ ہے کہ  رضا شاہ  پہلوی کے ملک چھوڑنے کے بعد جب خمینی صاحب ایران میں داخل ہوئے تو استقبالیہ ہجوم میں لینن اور ٹراٹسکی کی کتابیں ،مارکسی تعلیمات کی گائیڈ بکس اور کمیونسٹ لیڈروں کی ر نگا رنگ تصویریں بھی تقسیم ہوئیں۔خمینی صاحب نے یہ سب کچھ دیکھا مگر مہر بلب رہے ۔جیسے یہ معمول کی کاروائی ہو۔پھر جب خمینی صاحب نے ایران کا نظم ونسق سنبھالا تو 19 ۔نومبر 1979ء کو روسی صدر برژنیف کا یہ انتباہ نشر ہوا کہ:

"اگر امریکہ نے ایران میں کوئی مداخلت کی تو روس اس کاروائی کو اپنی سلامتی کے خلاف سمجھے گا۔"

یہاں یہ امر یقیناً قابل غور ہے کہ کسی اسلامی تحریک کے بارے میں ر وس کے رویے میں اس طرز کی تبدیلی پہلی بار دیکھی گئی ہے۔چنانچہ روس کی طرف سے اس تحریک کی مخالفت کی گئی نہ اس کے خلاف کوئی محاذ قائم ہوا۔نہ اس تحریک کے قائدین پر رجعت پسندی کی پھبتی کسی گئی نہ ان کے خلاف روایتی تنگ نظری کا مظاہرہ  کیاگیا۔بلکہ اس کے برعکس کمیونسٹ اور روسی طرزفکر کے پریس اور تنظیموں نے انقلاب ایران کی بھر پور حمایت کی۔آخر کیوں؟اس سوال کاجواب "دو اوردو چار" کی  طرح واضح ہے۔کہ انقلاب ایرن کو اسلام سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے۔اور ایہ اسلام دشمن ،اسرائیل اور روس کو مشترکہ کاروائی ہے کیونکہ یہ دونوں ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے:
(الكفر ملة واحدة)
کہ"کفر(خواہ ارض فلسطین میں ہویا روس میں ،یہ)ایک ہی ملت ہے:

۔۔۔لہذا جن لوگوں نے انقلاب ایران کی"اسلامیت"کولوگوں کے حلق سے اتروانا اپنا فرض قرار دے لیا ہے۔وہ نہ صرف ان اسلام دشمنوں کے مفت کے ترجمان ہیں،بلکہ شدید غلط فہمی کا شکار بھی!۔۔اور یہ غلط فہمی،مسلمان ہونے کے ناتے ،ان کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے!

انقلاب ایران کے نتیجے میں ایران کے سنی مسلمانوں پرجس طرح عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے۔اور ان پر جو قیامتیں گزر گئی ہیں۔ان کی تفصیلات بھی اب اخبارات کے ذریعہ منظر عام پر آرہی ہیں۔چنانچہ اس کی ایک جھلک محدث کے شمارہ رجب المرجب 1405ھ میں بھی،روزنامہ جسارت کراچی ،روزنامہ جنگ کراچی،ماہنامہ حکمت قرآن لاہور اور پندرہ روزہ تعمیر حیات لکھنو کے  حوالہ سے دیکھی جاسکتی ہے۔۔۔پھر اس پر بس نہیں،اس ایرانی انقلاب کو اب دیگر اسلامی ممالک میں برآمد کرنے کی سرتوڑ کوششیں بھی ہورہی ہیں۔ادارہ محدث کو حال ہی میں ایک پمفلٹ بعنوان"انقلاب ایران کی چھٹی سالگرہ۔۔۔عزائم حقائق اور انکشافات "(شائع کردہ جمعۃ وحدۃ المسلمین ،مسلمانان اہل سنت (ایران) موصول ہوا ہے۔اس کے صفحہ 2 پر لکھا ہے کہ:

"انقلاب ایران کو پانچ سال ہونے کو ہیں۔11 فروری (85ء) سے انقلاب کےچھٹے سال کا  آ غاز ہورہاہے۔اسی مناسبت سے ہم انقلاب کے چند مخفی پہلوؤں پر روشنی ڈالیں گے۔اور انقلاب اسلامی کانعرہ لگانے والوں کے مقاصد کی وضاحت کی کوشش کریں گے۔وہ انقلاب جس کو برآمد کرنے کی کوشش میں انقلاب لانے والے لوگ اہل ایران کا خون پی کر ان کی دولت دوسرے ممالک  کے غداروں میں تقسیم کررہے ہیں۔کروڑوں روپے اپنے مقاصد اور عزائم کی تبلیغ کے  لئے صرف کئے جارہے ہیں۔نام نہاد ہفتہ وحدت کے سلسلہ میں ایران پہنچنے والے ایک مندوب نے یہ انکشاف کیا ہے کہ ایک خصوصی اجلاس میں،مدرسہ فیضیہ "قم" کے نمائندے نے اپنے بیان میں کہا کہ"ہم نے ہفتے میں ایک دن کا پٹرول ان لوگوں کے لئے مخصوص کیا ہے۔جو خمینی انقلاب کی حمایت کرتے ہوئے اپنے ممالک میں اس جیسا انقلاب لانے کی کوشش کریں گے۔"ہمارے پاس دستاویز موجود ہے۔کہ ایرانی سفارت خانہ پاکستان میں ایک ماہنامہ "فجر" کے نام سے نکالتا ہے۔جو مہینہ میں دس ہزار کی تعداد میں چھاپ کر مفت تقسیم ہوتا ہے۔ہر ماہ اس پر چالیس ہزار سات سو پندرہ روپے خرچ ہورہے ہیں۔اس سے ان تبلیغات کااندازہ لگایاجاسکتا ہے۔جبکہ اردو میں ان کے چار پانچ مسلسل  رسالے اور بھی ہیں۔اور روزانہ کروڑوں روپے کی غلط کتب ورسائل کی تقسیم ان کے علاوہ ہے۔اورتقریباً دنیا کی تمام زبانوں میں اسی طرح کے ان دیگر اخبار ورسائل ہیں جو مفت  تقسیم کیے جاتے ہیں!"

اس کے بعد اس پمفلٹ میں خمینی صاحب کے افکار وعقائد کا ذکر ہے۔پھر خمینی حکومت کے عزائم کا تذکرہ ہے۔اس کے بعد ایک عنوان"دنیا میں دہشت گردی اورخمینی انقلاب کے ملا!کے تحت اس کی تفصیلات مہیا کی گئی ہیں۔پھر ایران کے اہلسنت کی حالت زار کا تذکرہ کرکے آخر میں یہ لکھا گیا ہے کہ:

"ان حقائق کے پیش نظر ایران کے مظلوم اہل سنت تمام مسلمانوں سے پرزور اپیل کرتے ہیں۔کہ وہ شیعہ ایرانی انقلاب کے پروپیگنڈہ اور ہفت رنگ نعروں سے دھوکا نہ کھائیں کیونکہ ان دشمنان صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  ورسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلام سے کوئی دلچسپی نہیں۔وہ  صرف اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کےلئے ایسے خوشنما نعرے اختیار کیے ہوئے ہیں!"

مذکورہ بالا شواہد کی روشنی میں یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ قطع نظر اس سے کہ پاکستان میں بسنے والے شیعہ حضرات کے عقائد کیا ہیں؟اور کلمہ ،اذان نماز اور زکواۃ وعشر وغیرہ کے مسائل میں دیگر مسلمانوں سے وہ  کس حد تک متفق ہیں؟انقلاب ایران سے ان کی ہمدردیاں،اس سلسلہ کے پروپیگنڈہ اور اس کی تشہیر میں ان کا حصہ د ار بننا نیز خمینی صاحب سے اظہار عقیدت کے مختلف حربے نہ صرف ملک عزیز پاکستان، بلکہ خود ان کے لئے بھی مفید ثابت نہ ہوں گے۔پاکستان میں آج تک ان کو بنیادی اور مساوی حقوق حاصل ہیں،لیکن اگر ایران کے سنی مسلمانوں پر مظالم کے رد عمل کے طور پر پاکستان میں کوئی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی تو پاکستان کے شیعہ حضرات کے لئے اس کے اثرات سے اپنا دامن بچا لینا ممکن نہیں رہے گا اور یہ طوفان روکے نہ رُک سکے گا۔

اسی طرح حکومت پاکستان کو بھی اس سلسلہ میں خبر دار رہنا چاہیے کہ روس اوراسرائیل ہمارے کھلے دشمن ہیں،بلکہ اول الذکر تو ہمارے سرپر پہنچ چکا ہے۔جبکہ انقلاب ایران سے ان دونوں کاتعلق ظاہر وباہر ہے۔لہذا اگر اسی حربہ سے وہ پاکستان کی سلامتی پرہاتھ ڈالنا چاہیں تو وہ ایسے ہی مواقع کی تلاش میں ہیں۔خدا نہ کرے کہ یہ اسلام دشمن قوتیں پاکستان کے کچھ لوگوں کو اپنا آلہ کار بنا کر اپنے مذموم عقائد کی تکمیل کا ذریعہ تلاش کریں۔(أللهم إنانجعلك  فى نحورهم و نعوذبك من شرورهم -و ما علينا إلا البلاغ المبين  (اکرام اللہ ساجد)

[1] ۔اس کی تفصیل محدث کے گزشتہ شمارہ رجب المرجب 1405ھ میں آچکی ہے۔
[2]۔بارہ سال کے بچوں کو فوج کے آگے چلایا جاتا ہے۔جن کے گلوں میں تختیاں لٹکی ہوتی ہیں کہ"اینابیشتی اند"(یہ سب جنتی ہیں) ان معصوموں کو مقابل عراقیوں  نے جس علاقوں میں سرنگیں بچھائی ہوتی ہیں ان پر سے  گزارا جاتا ہے۔جہاں سرخ رنگ پر بچوں کا پاؤں آیا وہ پھٹی اور قوم کا مستقبل دیکھتے ہی دیکھتے خوبصورت انسانی جسموں کو بجائے بھنے ہوئے قتلوں کی صورت میں میلوں تک  پھیل گیا۔اس طرح فوج کے لئے راستے صاف کئے جاتے ہیں۔تاکہ فوج بحفاظت عراقیوں پر حملہ کرسکے!"(اقتباس از"انقلاب ایران۔۔۔پالیسیوں کی وضاحت"شائع کردہ جمیۃ وحدۃ المسلمین ،مسلمانان اہل سنت ایران)
[3] ۔ اس کی  تفصیل بھی محدث کے گزشتہ شمارے میں عربی ہفت روزہ "المجلہ" کے حوالہ سے شائع ہوچکی ہے۔