ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

  • مئی
1985
اکرام اللہ ساجد
حکومت پاکستان کو خبردار رہنا چاہیے:
11 فروری 1979ء کو ایران میں اسلام کے نام پر ایک انقلاب برپا ہوا۔کیونکہ اس سے قبل ایران میں شاہی نظام رائج تھا۔ اور اس انقلاب سے اب یہاں بحالی جمہوریت کی امید پیدا ہوئی تھی۔اس لئے برصغیر  کی بعض سیاسی تنظیموں نے،جن کے نزدیک جمہوری پروگرام شریعت کی عمل داری کےتقاضوں سے بڑھ کر اہم اور موجب خیر وبرکت ہے۔اس انقلاب کا باقاعہد خیر مقدم کیا اور انقلابی رہنما آیت اللہ خمینی کو مبارک باد کے پیغام روانہ کئے۔چنانچہ پاکستان کے ایک روزنامہ جسارت (کراچی) نے اپنی 13 فروری 1979ء کی اشاعت میں ایک خبر کی سرخی یوں  جمائی کہ:
"خدا ہمارے ایرانی بھائیوں کی مدد  اور ر اہنمائی فرمائے۔ہم عظیم الشان کامیابی پر آپ کو دلی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔خمینی کو مولانا مودودی اور میاں طفیل کا  پیغام!"پھر اس کے تحت تفصیلی خبر میں اس پیغام کے یہ الفاظ بھی نقل کیے کہ:
"ایران کےہزاروں نوجوانوں نے اسلامی جمہوریہ کے قیام کےلئے جو قربانیاں دی ہیں،وہ پورے عالم اسلام کے مشعل ِراہ ہیں۔۔۔۔
  • مئی
1985
ثنااللہ مدنی
1۔شرعاً بچے کی کفالت کا حقدار کون ہے؟
2۔نماز میں امام کا قرآن کریم سے دیکھ کر قراءت کرنا؟
مولانا محمد زکریاصاحب دارالحدیث چنیانوالی لاہور سے لکھتے ہیں:
"کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص عابد کی شادی پروین اخترسے ہوئی،پروین اختر سے عابد کی ایک لڑکی پیدا ہوئی۔بعد میں عابد  فوت ہوگیا۔پروین اختر کے والدین کچھ عرصہ بعد اپنی بچی پروین اختر کو مع بچی کے لےجاتے ہیں۔کچھ عرصہ والدین ،پروین اختر کو گھر بٹھائے رکھتے ہیں،بعد میں اس کی شادی کسی دوسری جگہ کردیتے ہیں۔اب بچی کے دادا(عابد کے والد) نے اپنی پوتی کو اس کے ننھیال سے لینے کامطالبہ کیا ہے تاکہ ا س کی کفالت کریں ۔کیا وہ اس کے حقدار ہیں؟
  • مئی
1985
قادر بخش
(ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے کچھ عرصہ قبل "تنظیم اسلامی" کےنام سے ایک جماعت قائم کی ہے جس کی بنیاد ان سے گہری وابستگی اور مشہور اسلامی مسئلہ بیعت "پر رکھی ہے۔برصغیر کی تقسیم سے قبل بھی دہلی میں ایک عالم دین کی  طرف سے "امامت" کی بنیاد پر ایک جماعت غرباء قائم کی گئی تھی۔اور اس وقت اس مسئلے پر مختلف علماء کی طرف سے اظہار خیال بھی ہوا تھا۔چنانچہ زیر نظر مقالہ میں حافظ عبداللہ محدث روپڑی ؒ کے  ایک  فاضل شاگرد نے اسی مسئلہ کا جائزہ کتاب وسنت کی روشنی میں پیش کیا تھا۔اور جو حالات کی مناسبت سے آج بھی ہدیہ قارئین ہے۔(ادارہ))
  • مئی
1985
عبدالرحمن کیلانی
ثبوت سماع موتیٰ احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے!
1۔سماع موتیٰ کے باب میں قلیب بدر والی حدیث مشہور ومعروف ہے۔جو حضرت عبداللہ ابن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت عمر ابن خطاب  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت ابو طلحہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت انس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت  عبداللہ ابن عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  جیسے کبار صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  سے مروی ہے۔ان کی روایات بخاری مسلم شریف میں موجود ہیں۔
2۔میت جوتیوں کی آہٹ کی آوازسنتا ہے۔یہ حدیث بھی سماع موتیٰ پر دلالت کرتی ہے یہ حضرت انس بن مالک  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت براء بن عازب  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سےمروی ہے۔
3۔ترجمہ۔طبرانی نے اوسط میں عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے نقل کیا اور حاکم وبیہقی نے حضرت ابو ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت کیا حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب احد سے مراجعت فرماہوئے توحضرت مصعب ابن عمیر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور ان کے ساتھیوں کے مزارات پرتشریف لے گئے اور فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ کے نزدیک زندہ ہو پر اپنے امتیوں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  اور بعد میں آنے والوں کوحکم فرمایا کہ ان شہداء کرام کی زیارت کرو...
  • مئی
1985
عبدالرشید عراقی
مولانا محمد سعید بنارسی (م1332ہجری)
کنجاہ ضلع گجرات (پنجاب) مولد ومسکن ہے۔پیدائشی سکھ گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔مولاناشیخ عبیداللہ صاحب  تحفۃ الہند کی تبلیغ سے مشرف بااسلام ہوئے اورسیدھے دیو بند پہنچے۔یہاں علوم متعارفہ میں تحصیل کی اور بعدہ تحصیل حدیث شروع کی۔جس کی وجہ سے دیو بند سے جواب ہوگیا۔ادھرحضرت شیخ الکل حضرت میاں سید نزیر حسین صاحب محدث دہلوی ؒ کا فیضان جاری تھا۔سیدھے دہلی پہنچے۔تفسیر وحدیث پڑھی اورسند حاصل کی۔اسی زمانہ میں آپ کے والد نے حضر ت شیخ الکل کو ایک خط لکھا کہ:
"میں نے اپنے لڑکے کو ناز ونعمت سے پالا ہے۔اس کو نظر عنایت سے رکھئے گا۔"[1]
حضرت میاں صاحب اس خط کو پڑھ کر آبدیدہ ہوگئے۔
فقہ کی تعلیم مولانا عبداللہ غاذی پوری ؒ(م1337ہجری) سے حاصل کی۔
تکمیل تعلیم کے بعد مدرسہ احمدیہ آگرہ میں مولانا حافظ محمد ابراہیم آروی م1319ہجری کے اصرار پر تدریس فرمائی مگر کچھ عرصہ بعد مدرسہ احمدیہ سے  مستعفی ہوکر بنارس چلے آئے۔اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔1297ہجری میں مدرسہ سعیدیہ کی بنیاد رکھی جس میں مدتوں پڑھاتے رہے۔آپ سے بے شمار اصحاب نے استفادہ کیا ،جن میں سے بعض مسند تدریس کےوارث بھی بنے۔[2]
  • مئی
1985
فضل روپڑی
ہے زباں پہ میری جاری تری حمد کاترانہ
میرا شوق والہانہ میرا عشق غائبانہ
تجھے یاد کرتے کرتے ہے گزر گیا زمانہ
ہے زباں پہ میری جاری تری حمد کا ترانہ
مری مغفرت کا شاید یہ بن سکے بہانہ
ہوں سیاہ کار بیحد میرا دل دھڑک رہا ہے
کہیں رائیگاں نہ جائے میری محنت شبانہ
نہیں کرسکتا تلافی میں گزشتہ لغزشوں کی