مجھ کو دیوانہ بنا کر خوب رسوا کیجیے               غنچہ و گل میں سما کر مجھ سے پردہ کیجیے
شومئی قسمت کا اپنی یوں مداوا کیجیے             حسن یکتا کو دلوں میں بھلوہ فرما کیحیے
خود ہی ہو جائیں گے وہ محو تماشائے جنوں    دل میں ذوق جستجو کا حسن پیدا کیجیے
ساقی محفل ہی جب اپنی نگاہیں پھیر لے    کس لیے پھر اہتمام جام دمینا کیجیے
اشک کا طالب ہے ہر خار مغیلان حرم        خون کے چھینٹوں سے پھر تزئین صحرا کیجیے
گر ہجوم سر فروشاں میں نہیں کوئی شریک  کام جو کرنے کا ہے خود اس کو تنہا کیجیے
مصلحت کو شی اگر مانع ہے بزم ناز سے       دل کو دیوانے کو اپنے کار فرما کیجیے
جاں سپاری عشق کا اسرار گر ہے مدعا        سرفروشی کے لیے بڑھ کر یہ سودا کیجیے!