آیت اللہ خمینی  کے عقائد و افکار کی ایک ہلکی سی جھلک آپ نے ملاحظہ فرمائی ، اب اندرون و بیرون ملک ان کا کیا کردار ہے ، اس کی طرف بھی ذرا سی توجہ فرمائیں ۔ بقول ماہنامہ الفرقان لکھنؤ:
’’ ایران کے سرکاری مہمان خانہ بزرگ ( استقلال ہوٹل ) میں ٹھہرے ہوئے بیرونی مہمان اس قسم کے بیتر بالعموم دیکھتے ہیں جن پر لکھا ہوتاہے :
’’ سنتحد وسنت لاحم حتي نسترد من ايدي المقصبين اراضينا المقدسة القدس والكعبة والجولان ‘‘
’’ یعنی ہم متحد ہوں گے او رجنگ آزما ہوں گے یہاں تک کہ غاصبوں کے قبضے میں سے اپنی مقدس زمینیں یعنی بیت المقدس ، کعبہ اور گولان واپس لے لیں ۔ ‘‘ ( ماہنامہ الفرقان لکھنؤ مجریہ ماہ ستمبر 1983 )
روزنامہ ’’ جسارت‘‘ کراچی میں جماعت اسلامی پاکستان کے مشہور اہل قلم و رکن جناب خلیل حامدی صاحب کا ایک مکتوب شائع ہوا تھا جس کا اقتباس پیش خدمت ہے :
13ستمبر کو یہاں ذوالحجہ کی چھ تاریخ تھی منٰی میں روانگی کے لیے درمیان میں ایک دن رہ گیا تھا ۔ اس وقت نہ صرف حرم شریف بلکہ ارد گرد کی سڑکیں ، راستے اور محلے انسانوں سے بھرے پڑے تھے ۔ طواف اور سعی میں شدید  ہجوم تھا ۔ ان حالات میں دس بجے صبح ایرانیوں نے عزیزیہ سے حرم شریف تک ایک جلوس نکالا اور حرم شریف میں اندھا دھند داخل ہو گئے ۔ ان کی زبان پر یہ نعرے تھے ’’ امریکہ اور اسرائیل مردہ باد ، خمینی رہبر و رہنما انقلاب انقلاب اور آزادی تبلتین ہدف ما ؟۔۔۔۔۔۔۔ ان لوگوں نے ہاتھوں میں امام خمینی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں ۔‘‘

حامدی صاحب مزید فرماتے ہیں ہیں :

’’ یہ چیزیں تاریخ حرم میں کبھی حرم شریف کے اندر دیکھنے میں نہیں آئیں ۔‘‘  (روزنامہ جسارت کراچی مجریہ 20 اکتوبر 1983ء)

غور فرمائیں کہ کعبۃ اللہ شریف کے اندر ہنگامہ آرائی ، نعرے بازی اور آزادی قبلتین کے عزائم کس فکر کے غماز ہیں ؟

جناب صلاح الدین صاحب مدیر روزنامہ جسارت کراچی نے اپنے دورہ ایران کی جو یادداشتیں مرتب کی ہیں ان میں انہوں نے بعض بہت اہم اور ناقابل انکار حقائق پر سے پردہ کشائی کی ہے ۔ مثلاً انہوں نے لکھا ہے کہ :

’’ اب وہاں خمینی صاحب کے محافظوں کی تعداد شاہ کے محافظوں سے دو چند ہے ۔ ان کی رہائش گاہ کے چاروں طرف دو دو فرلانگ تک کا علاقہ مکمل طور پر خالی ہے اور یہ کہ عراق ایران جنگ خمینی صاحب نے ضرورت کے تحت جاری رکھی ہوئی ہے تاکہ ایرانی فوجیں مشغول رہیں اور صدام کا تختہ الٹ کر ایک نئی فتح کا کریڈٹ حاصل کیا جائے اور جوش انقلاب کو برقرار رکھا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ راشن بندی کے جملہ اخراجات آیت اللہ صاحبان کے سپرد کر کے جبر کی مکروہ صورت پیدا کر دی گئی ہے اور سزاؤں میں بے اتدالی کا ایسا ریکارڈ قائم کیا گیا ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی ۔ نیز شخصیت پرستی کے جنون نے خمینی صاحب کا فوٹو مسجد کے محراب تک پہنچا دیا ہے اور اللہ اکبر کے ساتھ خمینی رہبر کا نعرہ عام ہے ۔‘‘

اس کے بعد انہوں نے شیعہ تعصب کی طرف توجہ دلائی ہے :۔۔۔۔۔۔ مثلاً : انتخابات ہوئے تو سنی کردستان اور سنی بلوچستان کے اکثریتی علاقے اس حق سے محروم رہے اور تہران جیسے بڑے شہر میں ایک سنی مسجد تک نہیں ہے ۔۔۔۔ الخ ‘‘ ( ماہنامہ حکمت قرآن لاہور مجریہ ماہ جنوری 1984ء ص 30 بحوالہ روزنامہ جسارت کراچی )

روزنامہ جنگ کراچی نے ندائے ملت لکھنؤ کے حوالہ سے لکھا ہے :

’’ تہران میں جہاں پانچ لاکھ سنی مسلمان آزاد ہیں وہاں انہیں آج تک اپنی مسجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ملی  ہے جبکہ وہاں عیسائیوں کے 12 گرجے ، ہندؤوں کے دو مندر ، سکھوں کے تین گرد وارے ، یہودیوں کے دو عبادت خانے اور آتش پرستوں کے بارہ آتشکدے موجود ہیں ۔۔۔۔۔شاہ کے زمانے میں عیدین کی نماز تہران کے سنی مسلمان ایک پارک میں پڑھتے تھے لیکن جب سے ( شیعہ ) مذہبی حکومت قائم ہوئی ہے عید کے دن اس پارک پر مسلح افواج کا پہرہ بٹھا دیا گیا اور اس میں نماز پڑھنے سے روک دیا گیا ۔ اسی طرح جمعہ  کی نماز کے لیے مذہبی حکومت سنیوں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ تہران یونیورسٹی کے میدان میں شیعہ امام کی اقتداء میں جمعہ کی نماز پڑھیں ۔ اس کے باوجود سنی حضرات وہاں نماز نہیں پڑھتے بلکہ پاکستانی سفارتخانہ میں نماز جمعہ ادا کرتے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔ ایران کے سنی مسلمان اپنی مذہبی تبلیغ اور اشاعت اور اپنی اجتماعی فلاح و بہبود کے لیے نہ کوئی جلسہ کر سکتے ہیں اور نہ کوئی تنظیم قائم کر سکتے ہیں ۔ پچھلے دنوں ’’ شورائے مرکزی اہل سنت ‘‘ کے نام سے سنیوں نے ایک تنظیم بھی قائم کی تھی تو اسے وہاں کی مذہبی حکومت نے خلاف قانون قرار دے دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔مسلمانان اہل سنت اپنی مذہبی کتابیں منگواتے تھے لیکن مذہبی حکومت کے قیام کے بعد اس پر طرح  طرح کی پابندیاں لگا دی گئیں سرکاری سکولوں کا نصاب بدلال جا رہا ہے اور نئے نصاب میں شیعہ مذہب کے عناصر شامل کیے جا رہے ہیں تاکہ سنیوں کے بچے غیر شعوری طور پر شیعہ مذہب کے پیرو بن جائیں ، زاہدان کے صوبہ میں جہاں 95 فیصدی سنی مسلمان آباد ہیں وہاں کے سرکاری سکولوں میں ابھی پانچ سو اساتذہ مقرر کیے گئے ہیں جن میں صرف 36 اساتذہ ( یعنی 2ء 7 فیصد ) سنی اور باقی 467 اساتذہ شیعہ ہیں ۔ ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے کہ سنی بچوں کو شیعہ مذہب میں آسانی سے تبدیل کیا جا سکے ۔ ایران میں اہل سنت کی تعداد 35 فیصد ہے ۔

شاہ کے سامراجی نظام کے خلاف لڑی جانے والی جنگ آزادی میں شیعوں کے دوش بدوش ہزاروں سنیوں نے جانی و مالی قربانیاں دی ہیں لیکن جمہوری حکومت میں انہیں جو حصہ ملا  ہے وہ ان کی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے بالکل نہیں کے برابر ہے ۔  مثال کے طور پر 270 ممبران پارلیمنٹ میں  اہل سنت کی تعداد صرف 9 ہے ۔ جبکہ تناسب آبادی کے حساب سے 1 ۔3 سے زیادہ ہونی چاہیے تھی ۔ انتظامیہ اور عدلیہ میں اہل سنت کا وجود بالکل صفر کے برابر ہے ۔ صوبائی  اور ضلعی سطح کا کوئی ذمہ دار عہدہ تو بڑی بات ہے سنی فرقہ کا کوئی آدمی تھانیدار بھی نہیں ہے ۔ ایران کے تین لاکھ پاسداران انقلاب  میں جو حکومت کے ہر شعبہ پر حاوی ہیں اہل سنت کا ایک نمائندہ بھی نہیں ہے الخ ۔‘‘

( تعمیر حیات لکھنؤ مجریہ 25 مئی 1983 و ایشیاء لاہور مجریہ 21 اگست 1983؁ و روزنامہ جنگ کراچی جمعہ ایڈیشن مجریہ 11 نومبر 1983ء بحوالہ ندائے ملت لکھنؤ )

ماہنامہ حکمت قرآن لاہور تعمیر حیات لکھیؤ کے حوالہ سے لکھتا ہے :

’’ ان ( خمینی صاحب  ) کے ایران سے ترکانی قبائلی محض سنی ہونے کے جرم میں ظلم سہہ سہہ کر اب روس کی طرف بھاگ رہے ہیں ۔ ابتداء میں روس نے انہیں روکا بھی لیکن پھر اپنی سرحدیں کھول دیں اور گویا تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ روس کی ایران سے ملنے والی 2535 کلو میٹر لمبی سرحد کھولی گئی ہے لیکن خمینی صاحب ہیں کہ ٹھنڈے دل سے اپنے آپ کا جائزہ لینے کے بجائے یہ الزام لگا رہے ہیں کہ یہ لوگ کافر اور وحشی ہیں جنہوں نے مسلمانوں کا بھیس اختیار کر رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔ واحسرتا !

( تعمیر حیات لکھنؤ مجریہ 10اکتوبر 1983ء و ماہنامہ حکمت قرآن لاہور مجریہ ماہ جنوری 1984ء ص 28،29 بشکریہ تعمیر حیات لکھنؤ)

ان سب حقائق کے باوجود پروپیگنڈے کے میدان میں کہا جاتا ہے :

’’ شیعہ اور سنی کے درمیان کوئی اختلاف ہے ہی نہیں ۔‘‘ ( بیان خمینی برائے حجاج ص 16)اور :’’ ایرانی پارلیمنٹ کے رکن ڈاگر حسن روحانی نے ایک پریس  کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  فرمایا ہے کہ امام خمینی نے ایران میں شیعوں کو ہدایت دے دی ہے کہ وہ اپنے سنی بھائیوں کی اقتدا میں نماز ادا کریں ۔ اگر انہوں نے ایک ہی مسجد میں علیحدہ نماز قائم کی تو وہ گناہ کے مرتکب ہوں گے ۔ ( حوالہ 1) ( روزنامہ جنگ کراچی مجریہ 15 فروری 1983ء)

( حوالہ 1) شاید امام خمینی صاحب کے اس حکم کو اہل سنت جذبہ خیر سگالی سمجھیں  لیکن در ۃحقیقت بات یوں نہیں ہے ۔ اس حکم کی اصل تقیہ ہے جس کا ثواب ان کی مستند و متعتبر کتب کی روشنی میں 25 گنا زیادہ ملتا ہے ۔ ملاحظہ ہو :

’’ اور عمر بن زید نے امام جعفر صادق سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص باوضو اپنے وقت میں نماز پڑھ لے اور ان کے ساتھ بطور تقیہ نماز پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں پچیس درجے عطا کرے گا لہذا تمہیں چاہیے کہ اس کا م کی طرف رغبت کرو ۔ ‘‘ ( من لا یحضی التقیہ باب الجماعت )

ایک اور مقام پر اسی بات کی ترغیب میں ایک دوسری روایت یوں مذکور ہوئی ہے :

’’ امام جعفر صادق سے حماد بن عثمان نے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو کوئی ان ( یعنی غیر شیعہ ) کے ساتھ صف اول میں نماز پڑھ لے وہ ایسا ہے کہ گویا اس نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے صف اول میں نماز پڑھی ۔‘‘ ( من لا یحضی التقیہ باب الجماعت ) ( حوالہ ختم )

خمینی صاحب اسرائیل کے خلاف ( مرگ بر اسرائیل) کے نعرے تو خوب لگاتے ہیں لیکن ان ظاہری نعروں کے در پردہ اسرائیل کے ساتھ ایران کے تعلقات کس قدر دوستانہ ہیں ان کا اندازہ شاید اس اخباری رپورٹ سے ہو جائے گا جسے اردو ہفت روزہ ’’ خدام الدین ‘‘ لاہور نے مشہور عربی ہفت روزہ ’’ المجلہ ‘‘ کے ایک مضمون کے ترجمہ کے طور پر شائع کیا ہے جو اس حقیقت کا مظہر ہے کہ در پردہ ایران و اسرائیل کس قدر گلے مل رہے ہیں :

’’ امریکی ٹی وی ایرانی وفد اور اسرائیلی وفد کی ملاقات کے بارہ میں بتلاتا ہے کہ اس ملاقات میں پچاس ملین ڈالر ( تقریباً) 5 ارب 85 کروڑ ہندوستانی روپیہ ) کی رقم کے اسلحہ کا سودا طے ہوا ۔۔۔۔۔۔عراق ایران جنگ کے ایک کمانڈر صباد شیرازی اور اسرائیلی ریٹائرڈ جنرل یغازی کے تعلقات کا چاروں طرف چرچا ہے ۔ جنرل یعازی ہی کو اسرائیل نے عراق کے خلاف جنگی امور میں ایران کی مددد کے لیے بھیجا تھا ۔ عراقی ایٹمی پلانٹ کی تباہی کے سلسلہ میں اسرائیل کے کردار کا پورے یورپی اخبارات میں چرچا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور ایرانی قیادت اسرائیل سے اسلحہ وغرہ جو لے رہی ہے تو اس  لیے کہ شاہ کے زمانہ کا جو قرض ا سرائیل کے ذمہ ہے اس کی وصولی کا اور کوئی ذریعہ نہیں ۔‘‘ ( ہفت روزہ خدام الدین لاہور مجریہ 22 اپریل 1983ء)

عراق و ایران جنگ کی تباہ کاریوں سے شاید ہی کوئی نا واقف ہو ۔ لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں ، شہر کے شہر ویران ہو گئے ۔ بڑی بڑی صنعتیں معدنی تیلی کے ذخائر اور مصفٰی ( RWFINARIES)  تباہ ہوئے ، خلیج عرب کی حیات زیر آب معدوم ہوئی لاکھوں عورتیں بیوہ ہوئیں ، بچے یتیم  اور لاوارث ہوئے ، اربوں کھربوں روپیہ کا اسلحہ راکھ کا ڈھیر بن گیا ۔ زرخیز علاقے بنجر بن گئے ۔ فلک بوس عمارتیں کھنڈر بن گئیں ، ملکی اور بین الاقوامی معیشت کا نظام و توازن درہم برہم ہو گیا اور ملک عالمی ترقی کی تیز دوڑ میں شاید کئی سو سال پیچھے رہ گیا ۔ ان سب چیزوں کے بدلہ خمینی صاحب اور ایران کو کیا حاصل ہوا وہ بھی ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔۔۔بقول چند موقر مبصرین اور صحافیوں کے :

’’ ان کی ضدی طبیعت اور انانیت کی وقتی تسکین ‘‘

ان کے ذہنی خلل اور نفسیاتی تشیخ میں کچھ ٹھہراؤ ‘‘

ان کے طویل شخصی محرومیت اور ملک بدر ہونے کے احساسات کا جزوی ازالہ ‘‘ وغیرہ۔

لیکن جمی کارٹر کے دور صدارت میں امریکہ کے عالمی وقار کو خمینی صاحب کی حکمت عملی نے جو ٹھیس پہنچائی اور ایران کا غصب کردہ سرمایہ امریکہ کے قبضہ سے بالجبر نکلوایا ان کے اس فعل کو بہت سے غیر جانبدار مبصرین نے پسند کیا لیکن بہت سے مبصرین یرغمالوں پر کیے جانے والے تشدد اور ذہنی ایذا رسانی کے باعث اسے نا پسند کرتے ہیں ۔

اگر مندرجہ بالا تمام چیزوں سے متعلق اخبارات یا مختلف رسائل میں شائع شدہ بیانات اور رپورٹیں جمع کی جائیں تو کئی ضخیم دفتر درکار ہوں گے ۔

یہ ہیں وہ خمینی صاحب (جو اس وقت دنیا بھر کی شیعہ آبادی کے قائد و امام کا رول ادا کر رہے ہیں اور جن کے لیے دعائیں مانگی جاتی ہیں کہ وہ امام آخر الزمان یعنی امام مہدی کی آمد تک قائم رہیں ) کے سیاسی کردار کی ایک ہلکی سی جھلک خمینی صاحب کی تحریروں اور ولایۃ الفقہیہ بالحکمومۃ الاسلامیہ من ہنا امنطق اور جہاد النفس او الجہاد الاکبر ) کے مندرجات ، ان کی تقریروں اور ان کے سیاسی کردار کے متعلق روز مرہ کے اخباری بیانات کی روشنی میں خود ان کی ذات ان کی فکر ، ان کے عزائم ، ان کی قائم کردہ مذہبی حکومت اور اس انقلاب کے بارہ میں کوئی رائے قائم کرنا کس حد تک آسان ہے ۔ ان حقائق کے باوجود خمینی صاحب کی کتاب ’’ الحکومۃ الاسلامیہ ‘‘ کے ایک مترجم جو ایک ( سنی ) مذہبی جماعت سے وابستہ ہیں اپنے مقدمہ میں انہیں ’’ حقیقی اسلامی قائد ‘‘ بتاتے ہیں ’’ جو شیعہ سنی اختلافات سے بالاتر ہیں ۔‘‘ ص 13 نیز انہوں نے اس ایرانی انقلاب کو ’’ اسلامی انقلاب ‘‘ قرار دیتے ہوئے ’’ دنیا بھر کے اسلامی انقلابات کا ہر اول دستہ ‘‘ بتلایا ہے ، جس کے ذریعہ بقول ان کے ’’ گلشن اسلام میں بہار آگئی ہے ۔‘‘

مترجم صاحب یہ بھی فرماتے ہیں : ’’ ان کا فکری رشتہ علامہ اقبال ، مولانا مودودی ، حسن البنا شہید ، سید قطب اور ڈاکٹر علی شریفی سے ملتا ہے ۔ فلہذا یہ ہمارا سرمایہ ہے ۔‘‘ ص 18،19)

ایک اور مقام پر اس کا اظہار فرمایا گیا ہے :

’’ علامہ خمینی کی اسلامی تحریک مکمل اور جامع اسلامی تعلیمات کی علمبردار ہے ‘‘

مترجم صاحب کے یہ سب اقوال باطل اور نہایت گمراہ کن ہیں ۔ چنانچہ ہر صحیح العقیدہ مسلمان کو لازم ہے کہ شیعیت کے اس مبلغ اور سرخیل ( یعنی خمینی صاحب ) کے بہروپ کو پہچانیں اور ان کے بارہ میں سستے ، بازاری اور لچر قسم کے پروپیگنڈہ کرنے والوں سے ہوشیار ریہں خواہ وہ کسی بھی جماعت ( خواہ مذہبی ہو یا سیاسی ) سے وابستہ ہوں ۔ المختصر ایرانی انقلاب کو ایک ظالم حکمران کو بادشاہت سے معزول کرنے کی کوشش تو کہا جا سکتا ہے لیکن اسے اسلامی انقلاب قرار دینا سراسر خلاف واقعہ اور غلط بیانی ہے ۔ اسی طرح اس انقلاب کے قائد آیت اللہ خمینی صاحب کو کسی عام ، سطحی اور متعصب شیعہ عالم سے بلند و بالا تر یا شیعہ سنی اختلافات سے بے نیاز سمجھنا حقیقت کو جھٹلانے کے مترادف ہے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب متبعین سنت کو ہر قسم کے شر ، گمراہی اور ضلالت سے محفوظ و مامون رکھیں ۔ آمین