مولانا عبد الرحمن کیلانی صاحب کے قرآن مجید سے انکار سماع سے متعلق دلائل اور ان کا تجزیہ
دلیل نمبر 1:
﴿والذين يدعون .......... ﴾ترجمہ ۔ ’’ اور جنہیں خدا کے سوا یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ پیدا نہیں کر سکتے ۔ بلکہ وہ خود پیدا شدہ ہیں وہ لاشیں ہیں بےجان ۔
کیالنی صاحب نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اموات غیر احیاء کا اطلاق نہ جنوں پر ہو سکتا ہے نہ فرشتوں پر ....... باقی صرف فوت شدہ بزرگ رہ جاتے ہیں جن پر اس آیت کا اطلاق ہو سکتا ہے ۔
کیلانی صاحب کا اخذ کردہ یہ نتیجہ چند وجوہ کی بنا پر باطل ہے ۔ فوت شدہ بزرگوں میں انبیاء کرام ، صدیقین ، شہداء ، صالحین بھی داخل ہیں ۔ انبیاء کرام کی حیات قرآن و حدیث سے ثابت ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
﴿واسئل من ارسلنا من قبلك من رسلنا اجعلنا من دون الرحمن يعبدون ﴾(1)
ترجمہ : وہ رسول و نبی جو ہم نے آپ سے پہلے مبعوث فرمائے ان سے پوچھ(9حوالہ) لیجئے کہ ہم نے ذات رحمن جل وعلی کے بغیر کئی معبود مقرر کیے ہیں جن کی عبادت کی جائے یقینا ایسا نہیں ۔
اگر انبیاء کرام میں حیاۃ نہ ہوتی وہ خطاب و ندا کو نہ سمجھتے ہوتے اور جواب کی قدرت ان میں نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ اپنے حبیب ﷺ کو انبیاء و رسل سے دریافت کرنے کا حکم نہ فرماتا:
کنز العمال میں حدیث ہے ۔  " من صلى علي عند قبري سمعته(10)، ومن صلى علي من بعيد علمته". (أبو الشيخ عن أبي هريرة)
(10حوالہ)’’ میں خود سنتا ہوں اور جس شخص نے مچھ پر دور سے درود پڑھا ‘‘
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے میری قبر کے پاس درود پڑھا میں ؐ اس کو جانتا ہوں ۔
حدیث 2:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمْ عَلَيَّ إِلَّا عَلَيَّ رُوحِي أَرُدَّ رواه الطبراني في الاوسط
’’ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی شخص ایسا نہیں جو مجھ پر سلام پڑھے مگر اللہ تعالیٰ مجھ پر روح کو لوٹاتا ہے تاکہ میں اس کا جواب ( 11 حوالہ ) دوں ۔‘‘
اور کوئی وقت ایسا نہیں جب آپ پر درود وسلام نہ پڑھا جائے ۔ آپ ہر وقت صلوۃ و سلام کا جواب روح بمعہ جسم ہی عطا فرماتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 (9حوالہ )  چوہدری صاحب نے اپنے مضمون میں عربی عبارت اکثر غلط لکھی ہیں ۔ پھر یہ اعراب کے بغیر بھی ہیں جبکہ اردو عبارت میں اکثر پنکچویشن کا لحاظ نہیں رکھا گیا ۔ ادارہ محدث اگرچہ اعراب اور صحت لفظی وغیرہ کا خصوصی التزام کرتا ہے لیکن ہم نے چوہدری صاحب کی عبارت کو نہ درست کیا ہے نہ ان پر اعراب وغیرہ لگائے ہیں ۔ مقصد یہی ہے کہ ان کا مضمون من و عن شائع ہو ورنہ قارئین ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ اس حدیث کی عبارت کو انہوں نے مضحکہ خیز حد تک بگاڑ دیا ہے ۔ حالانکہ کیلانی صاحب کے جس مضمون پر وہ تعاقب کر رہے ہیں ، اسی مضمون سے  اس کی صحیح عبارت نقل کی جا سکتی تھی ۔ جو یوں ہے :
مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمْ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ( محدث جلد 14 ، عدد 3۔3 ص 44)
یہ وضاحت اسلیے کر دی ہے کہ قارئین کرام عدم صحت عبارات کو ادارہ کا تسہل نہ سمجھیں ۔ ( ادارہ )
۔۔۔۔۔
اب کیلانی صاحب ہی بتائیں کہ ان بزرگ ہستیوں انبیاء کرام کو ایک مسلمان کیسے بے جان لاشیں تصور کرے ۔ شہداء سے متعلق ارشاد باری تعالیٰ  :
وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَـٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ
جو لوگ اللہ تبارک وتعالیٰ کے راستہ میں قتل کیے گئے انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ۔ اس آیت سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ بزرگوں کی لاشیں بے جان نہیں ( 12 حوالہ )
کیلانی صاحب حقیقت یہی ہے کہ سورہ نحل کی یہ آیت مبارکہ کفار کے معبودان باطل بتوں وغیرہ کے حق میں نازل شدہ ہے ۔
 دلیل نمبر 2 ۔
ترجمہ ۔ زندہ اور مردے برابر نہیں ہو سکتے اللہ جس کو چاہے سنا سکتا ہے لیکن ( اے محمد ﷺ ) تم ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں مدفون ہیں ۔ فاطر ۔22
دلیل نمبر 3:
ترجمہ ۔ اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو گا جو ایسے کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہ دے سکے بلکہ ان کو ان لوگوں کے پکارنے کی خبر بھی نہ ہو ۔ پھر جب لوگ روز قیامت اکٹھے کیے جائیں گے ۔ تو وہی پکارے گئے لوگ ان پکارنے والوں کے دشمن بن جائیں گے اور ان کی پرستش سے انکار کر دیں گے ۔ ( الاحقاف : 5،6)
کیلانی صاحب کی تشریح :
آیت نمبر 3 میں عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ کے الفاظ جنوں اور فرشتوں کو معبودان باطل کے زمرہ سے خارج کر دیتے ہیں کیونکہ وہ دعائیں سن سکتے ہیں اور كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً کے الفاظ بتوں اور مظاہر قدرت کو معبودان باطل کے زمرہ سے خارج کر دیتے ہیں ..... اب صرف فوت شدہ بزرگ ہی رہ جاتے ہیں جو اس آیت کا صحیح مصداق بن سکتے ہیں ۔
مولانا کیلانی صاحب کا یہ استدلال بھی غلط ہے ۔ اللہ تعالیٰ بزرگوں کے  ساتھ بغض و عناد سے محفوظ رکھے ۔
مولانا موصوف کے اس استدلال کا بطلان و فساد قرآن حکیم سے واضح کیا جائے گا ۔
پہلے اس بارے میں اقوال مفسرین پیش کیے جاتے ہیں :

امام ابن کثیر فرماتے ہیں :

أي لا اضل ممن يدعو من دون الله اصناما ويطلب منها ما لا تستطيع الي يوم القيامة وهي غافلة عما يقولون لا تسمع و لا تبصر ولا تبطش لانها حماد حجارة صم جلد 4 ص 154

ترجمہ : یعنی کوئی اس شخص سے زیادہ گمراہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ بتوں کی عبادت کرتا ہے اور ان سے ایسے امور کی استدعا کرتا ہے جن کی قیامت تک ان میں استطاعت وقدرت نہیں اور وہ ان کے اقوال سے غافل ہیں ، نہ سنتے اور دیکھتے ہیں اور نہ ہی پکڑ سکتے ہیں کیونکہ وہ جان پتھر ہیں اور قوت سماع  سے عاری ۔

2۔ تفسیر خازن میں ہے من لا يستجيب يعني الاصنام لا تجيب عابديها الي شئي يسلونها-

ترجمہ : من لا یستجیب سے مراد بت ہیں جو اپنے عابدوں کو وہ اشیاء مہیا نہیں کر دیتے جن کا وہ مطالبہ کرتے ہیں ۔ تفسیر جلالین میں بھی اسی سے ملتی جلتی تفسیر ہے ۔

3۔ تفسیر کبیر امام فخر الدین رازی  میں ہے (  الي يوم القيامة ) وانما جعل ذلك غاية لان يوم القيامة قد قيل انه تعالي يحييها وتقع بينهما وبين من يعبدها مخاطبة فلذلك جعله حدا واذا قامت القيامت وحشر الناس فهذه الاصنان تعادي هؤلاء العابدين وتتبرء منهم جلد 7 ص 477)

ترجمہ : معبودات باطلہ کے جواب نہ دینے کی حد یوم القیامۃ مقرر فرمائی ( جس سے لازم آئے گا کہ قیامت کے دن وہ ان کو جواب دیں گے ۔ حالانکہ بت تو قیامت کے دن بھی جواب نہیں دے سکتے ۔ اس کا جواب دیتے ہوئے علامہ رازی نے فرمایا ) کیونکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کو زندگی بخشے گا اور ان کے درمیان اور مشرکین کے درمیان گفتگو ہو گی ۔ لہذا جواب نہ دینے کی حد قیامت کا دن بنا دیا اور جب قیامت قائم ہو گی تمام لوگ میدان حشر میں جمع ہوں گے تو یہ بت اپنے عابدوں کے دشمن بن جائیں گے ان سے اور ان کی عبادت سے بیزاری ظاہر کریں گے ۔

اس کے علاوہ دیگر کتب تفاسیر میں بھی اس آیت کریمہ کی یہی تفسیر کی گئی ہے اور من لا یستجیب لہ الی یوم القیامۃ وہم عن دعائہم غفلون کے مصداق صرف اصنام و اوثان کو بنایا گیا ہے ۔

کیلانی صاحب کے استدلال کا بطلان و فساد قرآن حکیم سے

حضرت حق تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿انكم وما تعبدون من دون الله حصب جهنم انتم لها واردون ﴾

ترجمہ : بے شک تم خود اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ جن کی عبادت کرتے ہو سب کے سب جہنم کا ایندھن ہیں اور تم اس میں داخل ہونے والے ہو ۔

اس آیت مبارکہ میں مشرکین مکہ کو خطاب ہے اور بقول کیلانی صاحب یہ عبادت بزرگوں  کی ہے جس میں انبیاء کرام اور اولیاء عظام سبھی شامل ہیں تو ان کا جہنم میں داخل ہونا اور نار و دوزخ کا ایندھن بننا لازم ۔ نعوذ باللہ منہ ۔ جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی محبوب ہستیوں سے متعلق فرماتا ہے ۔

﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّـهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾

ترجمہ : بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں نہ ان پر کوئی خوف ہے اور نہ ہی غمگین ہوں گے۔

ایک اور آیت کریمہ میں ارشاد ہوتا ہے :

﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَـٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ ﴿١٠١﴾ لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا ۖ وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنفُسُهُمْ خَالِدُونَ﴿١٠٢﴾ لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ هَـٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ﴾

ترجمہ :تحقیق و ہ لوگ جن کے لیے ہماری طرف سے بھلائی کا وعدہ ہو چکا ہے ۔ وہ نار جہنم سے دور رکھے جائیں گے ۔ وہ نار جہنم کی آواز ذرہ بھر بھی نہ سنیں گے اور اپنی پسندیدہ نعمتوں میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے انہیں سب سے بڑی گھبراہٹ ( دہشت قیامت وغیرہ ) غم میں نہیں ڈالیں گے اور فرشتے ان کے استقبال کے لیے آئیں گے ( یہ کہتے ہوئے ) کہ یہ ہے وہ دن جیسا تم سے وعدہ کیا گیا تھا ۔

تفسیر ابو السعود میں مذکور ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے اس آیت کریمہ :

﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴿٩٨﴾ لَوْ كَانَ هَـٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا ۖ وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ﴾

اے مشرکین تم اور تمہارے  معبودات باطلہ جہنم کا ایندھن ہیں اور تم سب اس میں داخل ہونے والے ہو ۔ اگر تمہارے معبود در حقیقت الہٰ ہوتے تو دوزخ کی آگ میں داخل نہ ہوتے ۔ اور یہ سب ہمیشہ اس میں رہنے والے ہیں ‘‘ کو مشرکین پر تلاوت کیا تو ابن زہری نے کہا کہ ہنمارے بت اور اصنام اگر جہنم میں داخل ہوں گے تو عیسائی حضرت عیسٰی کی عبادت کرتے ہیں اور یہودی حضرت عزیر کی پرستش کرتے ہیں اور نبی ملیح ملائکہ کی پوجا کرتے ہیں ۔ لہذا وہ بھی جہنم میں داخل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ نے ان بد باطنوں کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ انبیاء کرام اور ملائکہ یا دوسرے اولیاء اور شہداء اور صلحاء کے لیے ہماری طرف سے وعدہ خیر اور پیمان جو دو عطا ہو چکا ہے ۔ لہذا ان کا یہ انجام نہیں یہ صرف تمہارے معبودات باطلہ اور ارباب من دون اللہ کا انجام بد اور عاقبت قبیحہ ہے۔

لہذا ثابت ہوا کہ اصنام و انصاب اور صور و تماثیل کے حق میں وارد آیات کا انبیاء کرام رسل عظام اور اولیاء شہداء اور صالحین پر چسپاں کرنا محض جہالت اور قرآن و سنت کی قبیح ترین تحریف ہے بلکہ قرآن مجید فرقان حمید کی بہت سی آیات سے سماع موتی ثابت ہوتا ہے ۔

ثبوت نمبر 1:

قال اللہ تعاٰلیٰ﴿ وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَـٰنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ﴾

ترجمہ :وہ رسول و نبی جو ہم نے آپ سے پہلے مبعوث فرمائے ان سے پوچھ لیجیے کیا ہم نے ذات رحمن جل وعلیٰ کے بغیر کئی معبود  مقرر کیے ہیں جن کی عبادت کی جائے یقیناً ایسا نہیں ہے ۔

اگر انبیاء کرام میں حیات تہ ہوتی وہ خطاب و ندا کو نہ سمجھتے تو حق تعالیٰ اپنے محبوب کو دریافت کرنےکا حکم نہ فرماتا ۔ تفسیر کبیر جلد سابع ص 430 پر ہے ’’ عبد اللہ ابن عباس سے مروی ہے کہ جب شب اسرای نبی کریم ﷺ کو مسجد اقصٰی پہنچایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اور ان کی اولاد میں سے تمام رسولوں کو آپ کے لیے مسجد اقصیٰ میں جمع فرمایا ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اذان دی اور اقامت کہی اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آگے بڑھیے اور نماز پڑھائیے ۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا ان رسولوں سے جو ہم نے آپ سے پہلے بھیجے سے دریافت کر لیجیے ( جیسا کی آیت میں ہے ) آپ نے فرمایا الا اسئل لانی لست شاکا فیہ ۔ میں نہیں پوچھتا مجھے کوئی شک نہیں ۔

ثبوت نمبر 2:

قال اللہ تعالیٰ﴿ وَقَالُوا يَا صَالِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِن كُنتَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ ﴿٧٧﴾ فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ﴿٧٨﴾ فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُحِبُّونَ النَّاصِحِينَ﴾

ترجمہ :( قوم صالح علیہ السلام نے ان سے کہا ) اے صالح جس عذاب کا تو ہمیں وعدہ دیتا ہے وہ ہمارے پاس لے آ ، اگر تو درحقیقت مرسلین میں سے ہے ۔ تو زلزلہ نے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا ۔ پس وہ لوگ اپنے گھروں میں تباہی و بربادی سے دوچار ہو گئے اور علیحدہ ہوتے وقت ان سے مخاطب ہو کر کہا اے میری قوم میں نے تمہیں رب کے پیغام پہنچائے اور نصحیت کی لیکن تم تو نصحیت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے ۔

امام رازی نے تفسیر میں فرمایا : ’’ پہلا قول یہ ہے کہ حضرت صالح علیہ السلام کی علیحدگی ان کی ہلاکت کے بعد پائی گئی اور اس کی دلیل یہ ہے  کہ لفظ فاتعقیب اور فوری ترتیب پر دلالت کرتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کا اعراض ہلاکت کے بعد متحقق ہوا اور انہوں نے قوم کی ہلاکت کے بعد انہیں خطاب فرمایا جیسا ہمارے نبی پاک ﷺ نے بدر کے مقتول کو خطاب فرمایا ۔ آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ ان مرداروں کے ساتھ کلام فرما رہے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں لیکن وہ لوگ ایسے جواب پر قادر نہیں جو تم سن سکو ۔ جلد رابع ص 255 قال ابو السعود خاطبهم عليه الصلوة والسلام بذلك خطاب رسول الله  صلي الله عليه وسلم اهل قليب بدر حيث قال ان وجدنا ما وعدنا ربنا فهل وجدتم ما وعدكم ربكم حقا – جلد رابع 418

علامہ  ابو السعود فرماتے ہیں کہ حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی ہلاک شدہ قوم کو ایسے ہی خطاب فرمایا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے کنویں میں پھینکے ہوئے کفار سے خطاب فرمایا :

اسی طرح حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کی ہلاکت کے بعد خطاب فرمایا :

ثبوت نمبر 3:

﴿وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا ﴿١﴾ وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا ﴿٢﴾ وَالسَّابِحَاتِ سَبْحًا﴿٣﴾ فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا ﴿٤﴾ فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا﴾

قسم ہے ان نفوس قدسیہ کی سختی سے جان کھینچیں اور نرمی سے بند کھولیں اور آسانی سے تیریں پھر آگے بڑھ کر جلد پہنچیں پھر کام کی تدبیر کریں ۔

مفسرین کرام نے صفات مذکورہ کو ملائکہ کے علاوہ نفوس کاملہ اور ارواح فاضلہ پر بھی منطبق فرمایا ہے ۔

علامہ سید محمود آلوسی  اپنی تفسیر میں اس آیت کریمہ کتے تحت فرماتے ہیں ’’ آیت مذکورہ  میں ان نفوس فاضلہ کے ساتھ قسمیں ذکر کی گئی ہیں جو موت کی وجہ سے ابدان سے بزور الگ کیے جاتے ہیں کیونکہ بدن سے الفت و محبت کی وجہ سے ان کی حدائی بہت مشکل ہوتی ہے جبکہ بدن اعمال خیر میں ان کے لیے بمنزلہ سواری کے ہوتا ہے اور بدن میں رہنا مزید خیر و برکت حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے ۔ تب و ہ بدنوں سے جدائی کے بعد عالم ملکوت کی طرف بصد شوق گامزن ہوتے ہیں اور عالم ملکوت میں پرواز کرتے ہوئے بارکہ قدس میں سبقت لے جاتے ہیں تب اپنے مرتبہ و درجہ اور قدرت و طاقت کی وجہ سے کارکنان قضا وقدر میں سے ہو جاتے ہیں تفسیر روح المعانی ص 24 جلد 30 مطبوعہ تہران ۔ علامہ موصوف آگے چل کر لکھتے ہیں ۔

’’ لا ينبغي التوقف في أن الله تعالى قد يكرم من شاء من أوليائه بعد الموت كما يكرمه قبله بما شاء فيبرىء سبحانه المريض وينقذ الغريق وينصر علي العدو وينزل الغيث وكيت وكيت كرامة له روح المعاني جلد 3 ص 25

ترجمہ : اس امر میں توقف و تردود کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اولیاء کو وصال کے بعد بھی کرامتوں سے نوازتا ہے جیسا کہ حالت حیات میں پس کبھی مریض کو ان کے ہاتھ پر بطور کرامت شفا بخشتا ہے کبھی کسی کو غرق ہونے سے بچاتا ہے کلھی دشمنوں پر غلبہ دیتا ہے تو کبھی ان کے عرض کرنے پر بارش برساتا ہے وغیرہ

علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی ۔ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی ۔ علامہ اسماعیل حقی ۔ امام فخر الدین رازی ...............................

قاضی ثناء اللہ پانی پتی صاحب تفسیر مظہری نے بھی اسی سے  ملتی جلتی تفسیر بیان کی ہے ۔

چوہدری محمد علی

الجواب :

مولانا عبد الرحمن کیلانی

9 قرآن مجید سے سماع موتیٰ کی دلیل 1:

یہاں لفظ  ’’ واسئل ‘‘ کا ترجمہ بعض مترجمین نے ’’ پوچھو‘‘ کے بجائے ’’ احوال دریافت کرو ‘‘ بھی کیا ہے ۔ ( مثلاً فتح الحمید ترجمہ فتح محمد جالندھری ) تاہم حاشیہ میں اکثر مفسرین نے وضاحت کر دی ہے کہ اس سے مراد ان رسولوں کی کتابوں کی طرف رجوع کرنا ہے مثلا ً:

$11.     ترجمہ شاہ رفیع الدین حاشیہ موضع القرآن ( شاہ عبد القادر ) 6 یعنی ان رسولوں پر جو کتابیں اتری تھیں ان کو دیکھ لے یا ان کی امت کے لوگوں سے پوچھ لے ۔‘‘

$12.      موضح القرآن از وحید الزماں نے بھی حاشیہ پر بالکل یہی الفاظ نقل کیے ہیں۔

$13.     تفہیم القرآن : 40 رسولوں سے پوچھنے کا مطلب ان کی لائی ہوئی کتابوں سے معلوم کرنا ہے ۔ جس طرح ﴿ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ﴾کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی معاملہ میں اگر تمہارے درمیان نزاع ہو تو اسے اللہ اور رسول ؐ کے پاس لے جاؤ بلکہ یہ ہے کہ اس میں اللہ کی کتاب اور اس کے رسولؐ کے پاس لے جاؤ ، بلکہ یہ ہے کہ اس میں اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ؐ کی سنت کی طرف رجوع کرو ۔ اسی طرح رسولوں سے پوچھنے کا مطلب بھی یہ نہیں ہے کہ جو رسول دنیا سے تشریف لے جا چکے ہیں ان سب  کے پاس جا کر دریافت کرو ۔ بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ خدا کے رسول دنیا میں جو تعلیمات چھوڑ گئے ہیں ان سب میں تلاش کر کے دیکھ لو آخر کس نے یہ بات انہیں سکھا دی کہ اللہ جل شانہ کے سوا بھی کوئی عبادت کا مستحق ہے ؟

$14.      ترجمہ رضا خاں بریلوی ( کنز الایمان ) اور حاشیہ نعیم الدین مراد آبادی ص 45 رسولولوں سے سوال کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ان کے ادیان و ملل کی تلاش کرو کہیں بھی کسی نبی کی امت میں بت پرستی روا رکھی گئی ہے ؟ اور اکثر مفسرین نے اس کے معنی یہ بیان کیے ہیں کہ مومنین اہل کتاب سے دریافت کرو ۔ کیا کسی نبی نے غیر اللہ کی عبادت کی اجازت دی ؟ تاکہ مشرکین پر ثابت ہو جائے کہ مخلوق پرستی نہ کسی رسول نے بتائی نہ کسی کتاب میں آئی ۔ یہ بھی ایک روایت ہے کہ شب معراج سید عالم نے بیت المقدس میں تمام ا نبیاء کی امام فرمائی ۔ جب حضور ؐ نماز سے فارغ ہوئے جبریل ؑ نے عرض کیا کہ اے سرور اکرم ؐ اپنے سے پہلے انبیاء ؑ سے دریافت فرما لیجیے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے سوا کسی اور کی عبادت کی اجازت دی ؟ حضورؐ نے فرمایا کہ اس سوال کی کچھ حاجت نہیں ۔ یعنی اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ تمام انبیاءؑ توحید کی دعوت دیتے آئے ۔ سب نے مخلوق پرستی کی ممنانعت فرمائی ۔‘‘

اب دیکھیئے ہم نے چار مختلف مکاتب فکر کے مفسرین کے حواشی پیش کر دیے ہیں ۔ اور چاروں نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ یہاں ’’ واسئل ‘‘ سے مراد ان کی کتابوں سے یا مومنین اہل کتاب سے معلوم کرنا ہے نہ کہ گزشتہ رسولوں سے دریافت فرمانا ۔ اور پانچویں فتح محمد جالندھری بھی ہیں ۔ جنہوں نے ترجمہ میں ہی یہ مسئلہ حل کر دیا ۔ البتہ کنز الایمان کے مفسر نعیم الدین صاحب مراد آبادی نے ایک روایت بھی درج فرمائی ۔ اور یہی روایت جناب محمد علی صاحب مضمون کو بھی پسند آئی ہے ۔ چنانچہ آپ نے اس مضمون میں یہ روایت تفسیر کبیر ج 7 ص 430 کے حوالہ سے درج فرمائی ہے ۔ لیکن یہ روایت غلط معلوم ہوتی ہے وجہ یہ ہے کہ سورہ زخرف کی یہ آیت واقعہ معراج سے کافی عرصہ بعد نازل ہوئی ہے ۔ سورۃ بنی اسرائیل جس میں مسجد اقصٰی کے واقعہ کا ذکر ہے کا ترتیب نزول کے حساب سے نمبر 50 ہے جبکہ سورۃ زخرف کا ترتیب نزول کے حساب سے نمبر 63 ہے ۔ معراج کا واقعہ ہجرت سے دو سال قبل کا ہے جبکہ سورہ زخرف اس وقت نازل ہوئی جبکہ کفار آپ ؐ کی جان کے در پے تھے ۔ جیسا کہ اس سورہ کی آیت نمبر 79،80 سے واضح ہے ۔ لہذا قبل از نزول آیت مذکورہ جبریل ؑ کا حضورؐ سے یہ کہنا کہ ’’ ان رسولوں سے پوچھ لیجیے اور پوری آیت پڑھ جانا ۔ یہ کیسے ممکن ہے ؟

پھر اگر اس روایت کو درست بھی تصور کر لیا جائے تو بھی اس پر درج ذیل اشکال وارد ہوتے ہیں ۔

1۔ مسجد اقصٰی میں سوا لاکھ پیغمبر وں کے (برزخی زندگی میں ) جمع ہونے کے علاوہ اس سے قبل تمام  بنی نوع انسان کی ارواح کو اللہ تعالیٰ نے اس وقت بہی حاضر کیا تھا جب ان سے عہد ’’ الست ‘‘ لیا تھا ۔ اور اس دور کو خدا تعالیٰ نے موت کا دور کہا ہے تو پھر تو سماع موتٰی کے قائلین کو اس معراج والے سوال و جواب کی بجائے اس واقعہ نبوت پیش کرنے کا زیادہ فائدہ ہے کیونکہ اس موت کے دور میں روحوں نے صرف سنا ہی نہیں تھا بلکہ جواب بھی دیا تھا ۔

2۔ جبریل ؑ نے حضور اکرم ؐ سے کہا بھی کہ انبیاء حاضر ہیں ۔ ان سے سوال کیجیے ۔ لیکن آپؐ نے پھر بھی سوال نہیں کیا تو اس آیت پر ع مل کیا ہوا؟

3۔پھر جب آپؐ نے سوال ہی نہیں کیا نہ ہی انبیاء ؑ کی ارواح نے کچھ جواب دیا تو سماع موتیٰ ثابت کیسے ہوا؟ اور اس روایت سے آپ کا استدلال درست کیونکر ؟ ان تصریحات سے البتہ یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ’’ واسئل ‘‘ کا حکم وجوب کے لیے نہیں بلکہ اختیاری ہے یعنی اگر آپؐ چاہیں تو سابقہ انبیاء کی کتب یا ان یہود و نصاریٰ کے مومنین یا بمصداق روایت بالا انبیاء کی ارواح سے پوچھ سکتے ہیں ۔ لیکن چونکہ آپؐ کو یقین تھا کہ ایسی بات کا کسی الہامی کتاب میں لکھا ہونا نا ممکن ہے ۔ لہذا آپؐ نے کسی سے بھی کچھ نہ پوچھا اور نہ ہی سماع موتیٰ کے استنباط کی گنجائش باقی رہی ۔

10۔ اس حدیث پر میں نے اپنے مضمون مطبوعہ محدث ربیع الاول 1404 ھ ص 93۔45 پر زیر عنوان ’’ موضوع احادیث ‘‘ بحث کر چکا ہوں ۔

11۔ طبرانی کی اس حدیث پر بھی مندرجہ بالا مضمون 94۔44 پر بحث کر چکا ہوں ۔

12۔ شہداء کی زندکی پر میں اپنے مندرجہ بالا مضمون محدث ربیع الآخر 1404ھ  ص 141۔45 پر اور ربیع الآخر 1405ھ ص 163۔19 پر مفصل بحث کر چکا ہوں ۔ لہذا ان تمام مباحث کے تکرار کی ضرورت نہیں سمجھتا۔

13 من دون اللہ کی تشریح :

﴿وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ ﴾

کی تشریح کے سلسلہ میں جناب محمد علی صاحب موصوف  نے جن مفسرین کے اقوال پیش فرمائے ہیں تفسیر ابن کثیر اور تفسیر خازن کے مطابق ’’ من دون اللہ ‘‘ سے مراد بت ہیں جبکہ تفسیر کبیر کے مطابق ’’ من دون ا للہ ‘‘ سے مراد قطعاً بت نہیں ہو سکتے کیونکہ بت تو قیامت کے دن بھی جواب نہ دے سکیں گے ۔

لہذا اس سے مراد وہی موتی ہو سکتے ہیں جو قیامت کو زندہ ہو کر جواب دیں گے اور گفتگو کریں گے گویا آپ نے پہلے دو مفسروں کے اقوال کی خود ہی تیسرے مفسر کے قول سے تردید فرما دی ۔ لہذا مجھے اب مزید کچھ لکھنے کی ضرورت بھی نہیں ۔

14 ۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ اگر کسی نے کسی نبی ، رسول ، شہید اور صالح کی عبادت کی ہے تو اس آیت ’’ إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ‘‘ کے بموجب یہ بزرگ ہستایں معبود ان باطل کی عقوبت سے مستثنیٰ ہی رہیں گی ۔ البتہ ان کو پوجنے والے ضرور جہنم میں داخل کیے جائیں گے ۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم لیکن اس سے سماع موتی کیسے ثابت ہو گیا ؟ یہ عقدہ ہماری سمجھ سے بالا ہے ۔ شاید اس پر موصوف کچھ روشنی ڈال سکیں ۔ اس سے تو الٹا یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ لوگ جو سماع موتیٰ کو درست سمجھ کر انہیں پکارتے رہے یا عبادت کرتے رہے ہیں ان کو ان کے اس جرم کی سزا یہ ملے گی کہ وہ جہنم میں داخل کیے جائیں گے ۔ رہی یہ بزرگ ہستیاں تو چونکہ ان کا اپنا کوئی قصور نہیں لہذا انہیں دوزخ سے دور رکھا جائے گا اور جو بتوں کو جہنم میں داخل کیا جائے گا تو وہ بھی محض مشرکین کے اس زعم باطل کی تردید اور مزید حسرت دیاس کے احساس دلانے کے لیے ہو گا ۔ ورنہ پتھر کے بتوں کا اپنا کیا قصور ہو سکتا ہے اور جہنم میں داخل کرنے سے انہیں کیا نقصان پہنچے گا ؟

جناب محمد علی صاحب لکھتے ہیں :

’’ بلکہ قرآن مجید کی بہت سی آیات سے سماع موتیٰ ثابت ہوتا ہے ‘‘

اب درج بالا آیت سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے اس کی تو ہم نے وضاحت کردی ہے ۔ باقی جو آیات درج فرما کر آپ نے ثبوت پیش کیے ہیں وہ ’’ واسئل ‘‘ کے الفاظ سے شروع ہونے والی آیت کے علاوہ صرف ایک مزید آیت ہے جو 17 کے تحت زیر بحث آ رہی ہے ۔

15۔ اس آیت پر پہلے بحث ہو چکی ہے ۔

16۔ نہ ہمیں قلیب بدر کے واقعہ سے انکار ہے نہ ان مفسرین کی تفسیر سے یہ سب صورتیں معجزہ کی حیثیت رکھتی ہیں اور استثنائی صورتیں ہیں ۔ لہذا ان واقعات سے علی الاطلاق سماع موتیٰ ثابت کرنا قیاس مع الفارق ہے ۔ اس بات سے آخر کسے انکار ہے کہ اللہ جب چاہے مردوں کو سنا سکتا ہے ۔ اختلاف تو اس بات میں ہے کہ آیا ہم لوگ بھی مردوں کو سنا سکتے ہیں ؟ یا عام حالات میں وہ ہماری بات بھی سن سکتے ہیں یا نہیں ؟ ظاہر ہے کہ یہ واقعات ایسا ثبوت مہیا نہیں کرتے ۔ بلکہ الٹا قرآنی نصوص اس کا رد ضرور ثابت کرتی ہیں ۔

17۔ ’’ وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا ‘‘ کی تفسیر جو آپ نے روح المعانی کے حوالہ سے پیش فرمائی ہے ۔ یہ تفسیر بالموثور کے خلاف ہے ۔ صحابہ کرام ؓ اور تابعین  سب نے یہاں فرشتے ہی مراد لیے ہیں نہ کہ نفوس فاضلہ ۔ اورقابل ذکر امر یہ ہے کہ کنز ا لایمان کے حاشیہ نویس جناب نعیم الدین صاحب مراد آبادی نے بھی یہاں فرشتے ہی مراد لیے ہیں کیونکہ فرشتے ہی جسم میں ڈوب کر جان کو کھینچ نکالتے ہیں اور ’’ مدبرات امر ‘‘ بھی فرشتے ہی ہیں ۔ یہاں جناب محمد علی صاحب نے جن چند مفسرین کے نام روح المعانی کی تائید میں پیش فرمائے ہیں یہ سب تصوف زدہ معلوم ہوتے ہیں ۔ جنہیں ہر وقت یہ فکر دا منگیر ہوتی ہے کہ جہاں تک بن پڑے فوت شدہ ’’اولیاء اللہ ‘‘ کا ’’ تصرف فی الامور‘‘ بھی کسی طرح کتاب و سنت سے ثابت کیا جائے ۔ روح المعانی کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ آپ معانی کی روح کھینچ کر ایسی تفسیر صاحب روح المعانی نے پیش فرمائی ہے آیا قرآن کریم کے الفاظ ان معانی کے متحمل بھی ہیں یا نہیں ؟

صاحب روح المعانی کے مطابق آیات نمبر 1 اور 2 کے معنی یا تفسیر یہ ہے :

﴿وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا ﴿١﴾ وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا﴾

’’ ان نفوس فاضلہ کی قسم جو موت کی وجہ سے بدن سے بزور الگ کیے جاتے ہیں ۔ کیونکہ بدن سے الفت و محبت کی وجہ سے ان کی جدائی بہت مشکل ہو تی ہے ۔‘‘

اب دیکھیئے درج بالا ترجمہ یا تشریح پر درج ذیل اعتراضات وادر ہوتے ہیں ۔

1۔ ’’ نزع ‘‘ فعل متعدی بمعنی ’’ کسی چیز کو اس کی قرار گاہ سے کھینچنا ہے ‘‘ ( مفردات )  منزع بمعنی جان کنی کا وقت ‘‘ ہے اور غرق فعل لازم بمعنی کسی چیز کا ڈوبنا ہے ۔

اب اگر یہاں’’ نازعات‘‘ اسم فاعل بمعنی کھینچنے والیاں ( اردو محاورہ کی نسبت سے کھینچنے والے ) سے مراد فرشتے لیے جائیں ۔ تو آیت کا مطلب بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ فرشتے انسان کے جسم میں ڈوب کر اس کی روح کو نکالتے ہیں اور یہی بات کتاب و سنت سے بھی ثابت و مسلم ہے ۔ لیکن اگر یہاں فرشتوں کے بجائے نفوس فاضلہ مراد  لیے جائیں تو وہ تو پہلے ہی اپنے اجسام میں موجود ہوتے ہیں ۔ ان کے کسی دوسری چیز میں ڈوبنے اور اس کو اس کی قرارگاہ سے کھینچنے کی کیا تک ہے ؟

2۔ قرآن نے ’’ نَّازِعَاتِ ‘‘ اسم فاعل کا صیغہ استعمال کیا ہے ۔ بمعنی کھینچنے والے یا والیاں ۔ لیکن روح المعانی نے اس کا ترجمہ بصورت مفعول ’’ بدن سے بزور الگ کیے جاتے ہیں ‘‘ کیا ہے جو گرامر کے لحاظ سے غلط ہے ۔

3۔ ’’ وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا ‘‘ فرشتے تو انسان  کے جسم کے بند بند اور جوڑ جوڑ سے جان نکال لاتے ہیں لیکن نفوس فاضلہ جو پہلے ہی جسم میں موجود ہوتے ہیں اور ’’ بدن سے الفت و محبت کی وجہ سے ان کی جدائی بہت مشکل ہوتی ہے ‘‘ وہ کیسے بند بند کو کھول سکتے ہیں ؟ کیا بدن سے الفت و محبت کا تقاضا یہی ہے کہ و ہ اس کے بند بند کو خود ہی کھولنا شروع کر دیں ؟ غالباً یہی وجہ ہے کہ صاحب روح المعانی نے ’’ وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا ‘‘ کا ترجمہ یا تفسیر  ہی چھوڑ دی اور اس کے بجائے جو فقرہ  درج فرمایا کہ ’’ ان نفوس فاضلہ کو بدن سے الفت و محبت کی وجہ سے جدائی بہت مشکل ہوتی ہے ۔‘‘ یہ در اصل ان کی اپنی طرف سے پہلی آیت کی مزید تشریح و تفسیر ہے ۔

4۔ جن نفوس کو اپنے بدن سے اتنی الفت  و  محبت ہو وہ فاضلہ کیسے ہو سکتے ہیں ؟ عام نفوس کو تو فی الواقعہ بدن سے محبت ہوتی ہے لیکن نفوس فاضلہ کو بدن سے ایسی محبت قطعا نہیں ہوتی ۔ یا پھر ایسے نفوس فاضلہ ہوتےت ہی نہیں ۔

بات در اصل وہی ہے جو ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ یہ اہل طریقت حضرات ’’ فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا ‘‘ میں اپنے مزعوخہ ’’ اولیا ء اللہ ‘‘ کو شریک بنانا چاہتے ہیں ۔ لہذا انہوں نے پہلی آیت سے ہی نفوس فاضلہ کا لفظ شامل کر کے اس کے لیے بنیاد ہموار کرنا شروع کر دی ۔ اور تان یہاں آکر ٹوٹی کہ ’’ اس امر میں توقف و تردد کی کوئی گنجائش نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے ’’ اولیاء ‘‘ کو مرنے کے بعد بھی کرامتوں سے نوازتا ہے جیسا کہ حالت حیات میں ۔‘‘

سوچنے کی بات ہے کہ وفات نبوی ؐ کے وقت چار لاکھ کے قریب مسلمان موجود تھے اور سوا لاکھ تو حجۃ الوداع کے موقعہ پر موجود تھے اور یہ دور صحابہ کرام ؓ 110؁ھ تک پھیلا ہوا ہے ۔ اب ان چار لاکھ صحابہ کرام ؓ سے پورے سو سال کے عصہ میں صرف بارہ کرامات مذکور ہیں ۔ پھر ان بارہ میں سے بھی بعض روایات ضعیف و مجروح ہیں ۔ لیکن ہمارے ان اولیاء اللہ میں سے ہر ایک ولی کی زندکی کرامات سے بھرپور ہوتی ہے ۔ پھر مرنے کے بعد بھی ان کی کرامات کا سلسلہ بد ستور جاری رہتا ہے ۔ تو کیا ان اولیاء اللہ کے نفوس صحابہ کرام ؓ سے بہت زیادہ فاضلہ ہیں جن کی کرامات اور تصرف فی الامور کا یہ عالم ہے ۔؟
(جاری ہے )