شرک فی الصفات؟نبوت کسبی شی ہے یا وھبی؟
کفر کی قسمیں ؟وحی کا مفہوم ؟اسلام میں مرتد کی سزا؟

محترمہ روبینہ گل لکھتی ہیں ۔
"مجھے مندرجہ ذیل سوالات کے جواب درکار ہیں :
1۔شرک فی الصفات کیا ہے۔؟
2۔کیا کوئی شخص اپنی کوشش سے نبی بن سکتا ہے۔یا یہ وہبی چیز ہے؟
3۔کفر کی کتنی قسمیں ہیں ؟
4۔وحی کا مفہوم کیا ہے اور کیا وحی کسی غیر نبی کی طرف بھی آسکتی ہے؟
5۔اسلام میں مرتد کی سزا کیا ہے؟
امید ہے آپ تمام سوالوں کے جوابات مفصل تحریر فرماکر شکریہ کا موقع دیں گے۔اگر اکابرین امت اور جدید محقیقن کی کتب کے بھی کچھ حوالے مل جا ئیں تو درج فرمادیں ۔نوازش ہوگی!
الجواب بعون الوهاب
1۔شرک فی الصفات:
شرک فی الصفات یہ ہے کہ اللہ عزوجل وحدہ لا شریک کی مخصوص صفات میں غیر کو شریک ٹھہرایا جا ئے اللہ تعالیٰ کے وہ اسماءوصفات جو کتاب وسنت میں موجود ہیں ان پر بلا تحریف تعطیل،تکییف اور تمثیل ایمان لا نا ہر مسلمان پر واجب ہے الفقہ الاکبر میں امام ابو حنیفہ ؒ کا  قول درج ہے کہ "اللہ تعالیٰ مخلوق میں سے کسی شئی کے مشابہ نہیں اور نہ مخلوق میں سے کو ئی شئی اس کے مشابہ ہے؟
پھر فرماتے ہیں :"اس کی تمام صفات مخلوق کی صفات کے بر عکس ہیں ۔۔۔وہ جانتا ہے لیکن اس کا جا ننا ہمارے جا ننے کی طرح نہیں ۔۔۔ وہ قادر ہے لیکن اس کی قدرت ہماری قدرت کی طرح نہیں ۔۔۔وہ دیکھتا ہے لیکن اس کا دیکھنا ہمارے دیکھنے کی طرح نہیں !"

نعیم بن حماد ؒ امام بخاری کے استاد فرماتے ہیں :

جس کسی نے اللہ کو مخلوق سے مشابہت دی وہ کافر ہے اور جس نے انکار کیا اس شئی کا جس سے اس نے اپنےنفس کو متصف کیا پہے ۔اور جو صفت اللہ نے اپنے لیے اور اس کے رسول اللہﷺ کے لیے بیان کی ہے وہ تشبیہ نہیں !"

امام اسحاق بن راہوؒیہ کا کہنا ہے :"جس نے اللہ کی وصف بیان کی اور اس کی وصف کو مخلوق میں سے کسی ایک کے ساتھ مشابہت دی تو وہ شخص اللہ برتر کے ساتھ کافر ہے۔"

امام احمدؒ کا قول ہے :"اللہ کی صرف وہی وصف بیان کی جا ئے جو اس نے بذات خود اپنے لیے بیان  فرمائی ہے ۔یا اس کے رسول اللہﷺ نے اس کی وہ صفت بیان فرمائی ہے یعنی قرآن اور حدیث سے تجاوز نہ کیا جا ئے ۔(شرح العقیدۃالطحاویہ 58ص)

مثلاًاللہ تعالیٰ کی صفات حمیدہ میں ہے رزاق، مالک ، خالق، جبار،قہار،مصور،نافع ضار صمد ہیں۔

ان کو غیر اللہ میں سمجھنا شرک ہے اس اعتبار سے اس کی اقسام بھی بے شمار ہیں ۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہا لفظ"الصمد "کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں "

"الصمد"وہ ذات ہے جو سیادت میں کا مل ہو ۔"الشریف"وہذات جو اپنےشرف میں کا مل ہو ۔اور "العظیم"وہہے جو عظمت میں کا مل ہو۔"الحلیم"وہ جواپنے حلم میں کا مل ہو۔الغنی "وہ جو اپنی غنیٰ میں کا مل ہو۔"الجبار"وہ ذات جو اپنی جبروت میں کا مل ہو۔ العلیم"وہ جو اپنے  علم میں کا مل ہو۔اور الحکیم "وہ ذات جو اپنے حکم میں کا مل ہو۔!"

اللہ تعا لیٰ وہ ذات ہے جس میں شرف وسیادت کی تمام انواع کا مل طور پر موجود ہیں۔۔۔۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ ﴿١﴾ اللَّـهُ الصَّمَدُ ﴿٢﴾ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ﴿٣﴾وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾...اخلاص

"کہہ دیجئے،اللہ ایک ہے اللہ بے نیاز ہے، نہ اس نے جنا ،نہ جناگیا ہے، اور اس کی برابری کرنے والا کو ئی نہیں !"

﴿هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۖ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ ﴿٢٢﴾ هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ ۚ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ ﴿٢٣﴾ هُوَ اللَّـهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ ۖ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ ۚ يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴾

"وہ اللہ ہے کہ جس کے سوا کو ئی معبود نہیں ،غیب اور حاضر کا جا ننے والا وہی بخشنے والا مہربان ہے۔وہ اللہ کہ جس کے سوا کو ئی معبود نہیں ۔بادشاہ (حقیقی پاک ذات سلامتی والا امن دینے والا ،نگہبانی کرنے والا غالب ،زبردست ،بڑائی والاپاک ہے اللہ اس چیز سے جو شرک کرتے ہیں ۔۔۔وہ اللہ کہ خالق ہے ۔پیدا کرنے والا صورتیں بنانے والااس کے لیے اچھے نام ہیں زمین آسمان میں موجود ہر شئے اس کی تسبیح بیان کرتی ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے۔"

﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾الشوری : 11

"اس جیسی کو ئی چیز نہیں اور وہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔"

2۔نبوت وہبی شئی ہے کسبی نہیں !

نبوت ورسالت وہبی شئی ہے اس میں بندے کے کسب کو دخل نہیں ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں

﴿اللَّـهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ﴾ الانعام : 125

یعنی"اللہ تعالیٰ بہتر جا نتا ہے ،جہاں اس نے اپنی رسالت رکھنی ہے۔"ایک دوسرےمقام پر فرمایا :

﴿وَمَا كُنتَ تَرْجُو أَن يُلْقَىٰ إِلَيْكَ الْكِتَابُ إِلَّا رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ﴾القصص : 86

یعنی"آپ کو اپنی طرف کتاب کی آمدکی امیدنہیں تھی۔یہ صرف آپ کے رب کی طرف سے رحمت ہے ۔"

3۔کفر کی چار قسمیں ہیں (1)کفرانکار(2)کفرعناء (3)کفرنفاق۔

1۔کفر انکار عام لوگوں کا کفر ہے،جو عام طور پر جہالت کی وجہ سے ہوتا ہے جیسے ابو طالب کا کفر!وہ اس بات پراڑگیا تھاکہ قوم مجھے طعن نہ کرے کہ یہ اپنے آباءواجداد کا دین چھوڑ کر بھتیجےکے پیچھے لگ گیا ہے!

3۔کفرجحود،وہ کفر ہے جو دیدہ ودانستہ مخالفت کی وجہ سے ہو ۔جیساکہ ابو جہل اور فرعون وغیرہ کا کفر تھا ۔۔۔قرآن مجید میں ہے"

﴿وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا﴾ النمل : 14

4۔کفر نفاق  یہ ہے کہ بظاہر ایمان ہو اور اندرونی طور پر کفر !۔۔۔اس کی دوصورتیں ہیں :

1۔مصمم اور(2)مشکوک ان کی امثلہ

﴿مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا اور  أَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ﴾ ہیں

4۔وحی کامفہوم:

لغت عرب میں وحی کا معنیٰ "الاعلام فی خفاء"یعنی راز میں آگاہ کرنا "اور شرح میں اس کا معنیٰ الاعلام بالشرح کی اطلاع دینا "ہے (فتح الباری جلد اول 9ص)امام نودی شرح بخاری میں فرماتے ہیں :
 "اصطلاح شرح میں (وحی کا مفہوم )اللہ تعالیٰ  کا اپنے نبیوں کو مخصوص شئی سے آگاہ کرنا ہے۔چاہے یہ کتا ب کی صورت میں ہو یا فرشتہ کو پیغام دے کر بھیجنے کی صورت میں یا خواب اور الہام کے ذریعے ہوا !۔

سورۃ الشوریٰ کے آخر میں اور صحیح بخاری کے شروع میں وحی  کی مختلف کیفیات کی تفصیل موجود ہے ۔وحی کا اطلاق کتابت مکتوب۔بعث الہام ۔امر ایماء اشارہ اور آواز کے بعد آواز نکالنے  پر بھی ہوتا ہے ۔اور بعض دفعہ وحی کا اطلاق موحیٰ"پر بھی ہو تا ہے :" اللہ کی وہ کلام جو نبی اکرمﷺ پر نازل ہوئی ۔"

وحی بمعنی"الاعلام بالشرح"پیغمبروں کے ساتھ مخصوص ہے ۔ البتہ بعض دیگر معانی کے اعتبار سے وحی کا طلاق دوسروں پر ہوسکتا ہے مثلاً وحی بمعنی امر "جیسے قرآن مجید میں ہے :
یا"وحی  بمعنی تسخیر"۔۔۔جیسے:اور بعض دفعہ اسے الہام سے بھی تعبیر کیا جا تا ہے لیکن اس صورت میں اس سے مراد اس فعل کی راہنمائیہوگا ۔وگرنہ الہام کا تعلق حقیقتاً عاقلسے ہوتا ہے ۔اور وحی بمعنی اشارہ ۔۔۔ جیسے قرآن کریم میں ہے:
اور بعض دفعہ اس کا اطلاق "موحیٰ یعنی کتاب وسنت پر بھی ہوتا ہے ۔صورت ہذا میں مصدرکا اطلاق مفعول پر ہو گا ۔مثلاً ارشاد باری تعالیٰ ہےَ
5۔اسلام میں مرتد کی سزا  :
اسلامی شریعت میں مرتد انسان  کی سزا قتل ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے صحیح روایت میں نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
یعنی"جس نے اپنا دین تبدیل کیا ،اسے قتل کردو ۔"
طبرانی کی ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں :بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قتل سے قبل مرتد سے توبہ کے لیے بھی کہا جائے ۔اگر تائب ہوجا ئے تو فبہا،ورنہ اسے قتل کردیا جا ئے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو نیل الاوطار۔( باب قتل المرتد جلد 7ص201تا206)
جدید کتابوں کے بجا ئے اس قسم کے مسائل میں ائمہ سلف کی کتب سے براہ راست استفادہ اور راہنمائی زیادہ مفید ہے۔تاہم چند حوالے درج کردئیے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی رضا کے لیے صالح عمل کی توفیق بخشے۔آمین!
(حافظ ثناء اللہ مدنی)

1۔مکہ مکرمہ افضل ہے یا مدینہ منورہ؟
 2۔آدمی جس جگہ دفن ہوتا ہے اس کی تخلیق بھی اسی مٹی سے ہوتی ہے؟
3۔حق تعالیٰ مکان سے بے نیاز ہیں؟

کراچی سے محمد الیاس صاحب نے کسی کتاب کے چند صفحات بھیجے ہیں ۔جن میں صاحب کتاب نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے فضائل اور ان کا آپس میں مواز نہ کرتے ہوئے علماء کے اقوال نقل کیے ہیں ازاں بعد ،موصوف نے دارالافتاء  سے اس مسئلہ میں وضاحت چاہی ہے چنانچہ وہ اقوال مندرجہ ذیل ہیں :

1۔امام ابو حنیفہؒ امام شافعیؒ،امام احمد ؒاور دیگر اکثر فقہاء کا خیال ہے مکہ مکرمہ افضل ہے۔

2۔امام مالک ؒ کے نزدیک  مکہ مکرمہ کی نسبت مدینہ منورہ افضل ہے۔

3۔بعض کا خیال ہے کہ مجموعی لحاظ  سے مکہ مکرمہ افضل ہے مگر آنحضرت ﷺ کا مدفن،بیت  اللہ  بلکہ عرش معلیٰ سے بھی افضل ہے۔

4۔اثناءکلام مصنف نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ آدمی جس جگہ دفن ہوتا ہے اس کی تخلیق بھی اسی مٹی سے ہو تی ہے۔

5۔مصنف نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ حق تعا لیٰ مکان سے بے نیاز ہیں ۔الخ

فنقول وباللہ التوفیق۔

1۔2:اس موضوع کا چونکہ ہماری عملی اور اعتقادی زندگی سے کو ئی تعلق نہیں اور نہ ہی اس بحث سے کو ئی خاص نتیجہ برآمد ہوتا ہے ۔اس لیے ہمیں اس قسم کے لیے بے مقصد مباحث  میں نہیں جا نا چاہیے ۔نیز چونکہ شریعت نے بھی اس تقابل کی ضرورت محسوس  نہیں کی اور نہ ہی کہیں اس طرف اشارہ کیا ہے بلکہ انفرادی طور  پر احادیث مقدسہ میں حسب ضرورت ہر ایک مقام کی فضیلت ذکر کر دی  گئی ہے اس لیے ہمارے لیے ان میں سے افضل مقام کی تعیین  مشکل ہے۔بہر حال دونوں مقامات کی فضیلت اپنی اپنی جگہ  مسلم ہے مگر احادیث مبارکہ اور دیگر قرائن کے ملاحظہ کرنے سے معلوم  ہو تا ہے کہ مدینہ منورہ  کی فضیلت  کے باوصف مکہ مکرمہ  افضل ہے ہمارا رجحان اسی طرف ہے۔ جیسا کہ مصنف نے جمہور کا قول نقل کیاہے۔

3۔لیکن یہ کہنا کہ آپ ﷺکا مدفن بیت اللہ یا عرش معلیٰ سے بھی افضل ہے ۔یہ محل نظر ہے:کیوں کہ آپﷺ کے مدفن کو آپﷺ کا مدفن ہونے کا شرف حاصلہے اور یہ یقیناً بہت بڑی فضیلت ہے۔ مگر اسے عرش سے افضل  نہیں کہا جا سکتا کیو نکہ عرش کو اللہ تعا لیٰ کا مستویٰ (جائے استواً)

ہونے کا شرف حاصل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعا لیٰ کا عرش سے خصوصی تعلق ہے۔جیسا کہ قرآن کریم  میں متعددبار ارشاد ہوا ہے:

[1]لہٰذا آپﷺ کے مدفن اور عرش کی فضیلت و برتری میں بھی وہی فرق ہے جو خالق اور مخلوق میں واضح رہے کہ یہاں تقابل آپﷺ اور عرش کا نہیں بلکہ آپﷺ کے مدفن اورعرش معلیٰ میں ہے!

4۔مصنف نے شرح مناسک نودی کے حوالہ سے جو ذکر کیا ہے کہ آدمی جس جگہ دفن ہوتا ہے ۔
اسی جگہ کی مٹی سے وہ ابتداء میں پیدا کیا جا تا ہے ۔یہ بھی بلادلیل  ہے ۔اور شریعت میں اس قسم کی کو ئی صراحت یا اشارۃتک نہیں ملتا ۔اور اگر آیت قرآنی۔(عربی)[2]
سے یہ معنیٰ لینے کی کو شش کی جا ئے تو یہ خانہ ساز تفسیر ہو گی ۔کیونکہ آیت مذکورہ میں ھاضمیر کا مرجع مطلقاً زمین ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں دوسرے مقام پر یوں بھی آیا ہے :(عربی)[3]

5۔مصنف کا یہ کہنا کہ" آنحضرتﷺکا مدفن عرش سے افضل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ شانہ مکان سے بے نیاز ہے۔الخ اس بارہ میں واضح ہو کہ یہ عقیدہ معتزلہ وغیرہ گمراہ لوگوں کا ہے ۔اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعا لیٰ بلند ہیں اور عرش پر مستویٰ !۔۔۔البتہ استواءکی کیفیت ہمارے تصور میں نہیں آسکتی۔چنانچہ قرآن کریم میں چھ مقامات  پر اللہ تعا لیٰ نے اپنے مستویٰ علی العرش ہو نے کا بیان فرمایا ہے ۔(ملاحظہ ہوالاعراف:54۔یونس :3الرعد2۔الفرقان:59۔الم السجدۃ:4۔الحدید:4)
اس کے ساتھ ساتھ  اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ اللہ کریم  اپنے علم وقدرت کے لحاظ سے ہر جگہ موجود ہے لیکن اس کی ذات (جس کی کیفیت کا تصور تک بھی انسان کے لیے محال ہے)
عرش پر ہے۔ہمارا یہ کہنا کہ اللہ تعا لیٰ ہر جگہ موجود ہے ۔اس معنیٰ میں ہوتا ہے کہ اللہ کا علم اور قدرت ہر جگہ ،ہر وقت اور ہر ایک پر حاوی ہے۔ اگر کو ئی شخص یہ اعتقاد رکھے کہ اللہ تعا لیٰ بذاتہ ہر جگہ موجود ہے تو یہ نہ صرف صریح  گمراہی ،بلکہ حق تعالیٰ کی شان میں بہت بڑی گستاخی اور بے ادبی ہے ۔اور اس عقیدہ سے مذکورہ بالا آیات قرآنیہ  کا انکار لا زم آتاہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ حق تعالیٰ کا عرش پر ہونے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ عرش کا محتاج ہے یا اسے اس کی ضرورت ہے کیو نکہ ہر اوپر والی چیزنیچے  والی چیز  کی محتاج نہیں ہوتی جیسا کہ آسمان زمین سے اوپر ہو نے کے باوجود  اپنی بلندی اور وجود میں زمین کا محتاج نہیں ہے۔اللہ تعا لیٰ تو ہر چیز سے اعلیٰ اور بلند ہے اور کسی کا محتاج نہیں ۔قرآن مجید میں ہے۔"بیشک اللہ تعا لیٰ جہان والوں سے مستغنی ہے ۔""اور اللہ تعا لیٰ وہی غنی تعریف والاہے!"
ہذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب!        (سعید مجتبیٰ سعیدی)
مسئلہ استواء علی العرش کی مزید وضاحت
استواء کا معنیٰ اللہ رب العزت کا بذاتہ عرش پر مستوی ہونا  کتا ب اللہ سنت رسول اللہ ﷺ اور اجماع امت سے ثابت ہے جیسا کہ قرآن کریم  میں (مذکورہ چھ مقامات پر اس کا ذکر آیا ہے اور بخاری ومسلم میں ہے ۔آنحضرتﷺ نے فر ما یا :"جب اللہ نے مخلوق کو پیدا فر ما یا :ایک کتاب میں لکھا جواس کے پاس عرش پر ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب آگئی ہے۔"
بیہقی اور ترمذی کی ایک حدیث میں ہے :"پھر اللہ نے عرش پیدا فرمایا اور پھر اس پر مستوی ہوا ۔"
اس حدیث کی سند امام ترمذی نے صحیح قرار دی ہے۔امام بخاری ؒنے بخاری شریف  کی کتاب التوحید میں مجاہد سے"استویٰ کا معنیٰ "علا"نقل فرمایا ہے ۔امام ابن تیمیہؒ نے اہل السنتہ والجماعتہ کا اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ اللہ تعا لیٰ عرش پر بذاتہ مستوی ہے اس کا علم و قدرت اور تدبیر ہر جگہ اس کی مخلوق کے ساتھ ہے اس کے استواء اور کسی چیز سے تشبیہ نہیں دی جا سکتی اور نہ اس کی کو ئی مثال دی جا سکتی ہے اور نہ ہی اس کی کیفیت  بیان کرنا ممکن ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہؒفرماتے ہیں کہ اس بارے میں سب سے عمدہ قول امام مالکؒکا ہے: استواء عقلاً معلوم ہے کیفیت  نامعلوم  اس پر ایمان لا نا واجب اور اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے ۔"(ملاحظہ ہو فتاوی کبریٰ ج5ص119)
استواء کی غلط تاویل
معتزلہ اور جمہیہ وغیرہ منکرین صفات باری تعالیٰ "اللہ کی اس صفت "استواء کا بھی انکار کرتے ہیں ۔اور اس کی کئی غلط تاویلیں کرتے ہیں جن میں سے دومعانی  زیادہ مشہور ہیں ۔
1۔"استوایٰ "بمعنی"استولیٰ "۔یعنی"غلبہ حاصل کیا ۔"
یہ معنی قرآن وحدیث اور سلف امت کے خلاف اور قطعاً تاویل  قبول ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعا لیٰ نعوذباللہ پہلے عرش پر غالب نہ تھا جو اس کی شان میں گستاخی ہے حالانکہ اللہ تعا لیٰ ہمیشہ سے ہر چیز غالب ہے کو ئی اس کا مد مقابل نہیں  ہے ۔جس پر وہ غلبہ حاصل کرے۔۔۔
2۔دوسرا معنیٰ استویٰ کا (عربی)کیا گیا ہے ۔یعنی"عرش کی پیدائش کا قصد فرمایا "یہ بھی سرا سر نصوص کے خلاف ہے جبکہ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کا عرش آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے قبل پانی پر تھا "صحیح بخاری میں ہے۔آپﷺ نے فرمایا :یعنی"اللہ موجود تھا اس سے قبل کو ئی شئی نہ تھی اس کا عرش پانی پر تھا "۔۔۔
پھر اس نے آسمان اور زمین پیدا  فرمائے ۔"
اس پر مستزادیہ ہے کہ مذکورہ بالا دونوں معنوں کی لغت سے بھی قطعاًتائید نہیں ہو تی اور قرآنی اسلوب بھی اس  کی تائید نہیں کرتا جبکہ پہلا معنی جسے سلف صالحین  اور جمہور مسلمانوں نے اختیار کیا ہے اس کی تائید قرآن کریم کے عام اسلوب سے بھی ہوتی ہے جیسے فرمایا:"جب تو اور تیرے ساتھی کشتی پر قرار پکڑیں"تاکہ تم ان کی پیٹھ پر چڑھو!اور کشتی کوہ جودی پر جاٹھہری!"
ان سب آیات میں "استویٰ "کا معنی"استقرار"اور"علا ہی ہے چنانچہ یہی معنی"استویٰ علی العرش "کا ہے جس پر کتاب وسنت کے دلائل کی روشنی میں صحابہ کرام  #تابعین تبع تا بعین ۔ائمہ دین اور سلف امت (رحمہم اللہ)کا اجماع ہے اور جس کا انکار کتاب وسنت کی صریح نصوص کا انکارہے۔
ایک غلط فہمی اور اس کا ازالہ
قرآن کریم کی آیات معیت سےغالباً ان لوگوں کو غلط فہمی ہو ئی ہے یا انھوں نے مغالطہ دینے کی کو شش کی ہے جیسے فرمایا :
"وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں بھی ہو!"
نیز فر مایا :
("آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر٭سےفرمایا )"غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے"
نیز:
(موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا )"بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے راہ دکھا ئے گا۔
نیز فرمایا :
"بےشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو متقی ہیں اور ان کے بھی ساتھ ہے جو نیکو کار ہیں ۔
یہاں سے بعض لو گو ں نے یہ سمجھا کہ اللہ تعا لیٰ بذاتہ ہر جگہ جو مود ہے ۔اور یہ غلط فہمی قرآن کے عام اسلوب ،لغوی استعمال اور سلف امت کے مسلک سے روگردانی کی وجہ سے پیدا ہوئی ۔حتیٰ کہ"حلولیہ "نے یہ تک کہہ دیا کہ اللہ تعا لیٰ ہر چیز میں حلول  کیے ہوئے ہے اور وہ اپنی مخلوق  سے الگ کو ئی ذات نہیں ہے ۔(عربی)
اس کے متعلق سلف امت کا صحیح مسلک یہ ہے کہ اللہ تعا لیٰ آسمانوں پر بلند بالا ہے بذاتہ عرش پر مستوی ہے اپنی مخلوق سے جدا ہے اور اس کی مخلوق اس سے جدا ہے ۔اور وہ اپنے علم قدرت کے ساتھ اپنے عام بندوں کے ساتھ ہر جگہ ہے اور اپنے ابنیاءؑاور اولیا ءکے ساتھ اپنی تائید اور نصرت کے ساتھ ہے ۔اور اسی طرح وہ اپنی مخلوق سے قریب تر ہے ہر وقت اسے اس کا علم ہے اور ان پر اس کی قدرت ہے۔
مذکورہ بالا آیات اسی پر دلالت  کرتی ہیں یہی معنیٰ ہے آیت کا:اور نبی ﷺ سفر پر نکلتے وقت یہ دعا ء فرمایا کرتے تھے :"اے اللہ تو سفر میں ساتھ اور گھر میں خلیفہ ہے ۔"
باری تعا لیٰ سبحانہ سفر میں مسافر کے ساتھ بھی ہے اور اس کے وطن میں اس کے اہل کے ساتھ خلیفہ بھی ہے اس کا یہ معنیٰ ہر گز نہیں کہ اس کی ذات پاک لو گو ں کی ذاتوں میں ملی ہوئی اور مختلط  ہے ۔نلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے علم اور اپنی قدرت سے ان کا ہر جگہ مصاحب ہے۔
جیسے ارشاد باری تعا لیٰ ہے۔"محمدرسول اللہﷺ اور جو لو گ آپﷺ کے ساتھ ہیں (یعنی ایمان لائے ہیں )!"نہ کہ ان کی ذاتیں آپﷺ کی ذات میں ملی ہو ئی ہیں ۔بلکہ وہ اپنے ایمان اور حمایت کی وجہ سے آپﷺ کے مصاحب ہیں 
نیز فرمایا :"وہ (ایمان اور موالات میں )مومنوں کے ساتھ ہیں ۔"

الغرض اللہ پاک  اپنے بندوں کو جا نتا ہے اور وہ اپنے علم و قدرت  کی بدولت ہر جگہ ان کے ساتھ ہے ۔اور اس کے علم وقدرت کا ان کے ساتھ ہو نا بھی اس کی معیت ہے۔وہ عرش معلیٰ پر مستوی ہے جیسے اس کی شان کے لا ئق ہے اور وہ اپنی مخلوق کے ساتھ ہے اپنے علم اور اپنی قدرت کے ساتھ جیسے اس نے خود بیان فرمایا !

"و الله أعلم و علمه اتم حكمه أحكم!


[1] ۔"رحمان عرش  پر مستوی ہوا ۔"
[2] ۔(اسی زمین ) سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے!"
[3] ۔اسی زمین )میں تم زندگی گزاروگے ۔اسی میں مرو گے،اور اسی میں سے نکالے جاؤ گے!"