اولاد کی پرورش کرنا:
1۔نیک اولاد انسان کے لئے دنیا میں سکون وامن کا باعث ہے۔لہذا اللہ تعالیٰ سے انتہائی عجز وانکسار کے ساتھ نیک اولاد کی دعا کرنی چاہیے!
ارشاد ربانی ہے:
﴿فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّـهُ لَكُمْ﴾
"اب تم اپنی بیویوں سے شب باشی کیا کرو،اور اللہ تعالیٰ نے جو  تمہارے لکھ دیا ہے اسے تلاش کرو"
حضرت ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   بیان فرماتے ہیں کہ:"(ما كتب الله ) سے مراد اولاد ہے"[1]اسی لئے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ اولاد کی  صلاحیت والی عورتوں سےنکاح کا حکم دیا ہے:
(تَزَوَّجُوا الْوَلُودَ الْوَدُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ)[2]
’’ زیادہ الفت کرنے والی زیادہ بچے جننے والی عورتوں سے نکاح کیا کرو ، کیونکہ میں تمہارے ذریعے سے دوسری امتوں کے مقابلے میں اپنی امت بڑھانے والا ہوں ۔‘‘
2۔ نیک اولاد انسان کے لیے دنیا میں باعث امن و سکون اور مرنے کے بعد اس کے لیے اولاد کی دعا موجب اجر و ثواب ہے ۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
(إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلاَّ مِنْ ثَلاَثَةٍ مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ وَعِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ وَوَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ)
’’ جب انسان دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے البتہ تین طرح کے اعمال کا اجر جاری رہتا ہے ۔ (1) ( صدقہ جاریہ )  (2) ایسا علم جس سے فائدہ حاصل (3) نیک اولاد جو اس کے حق میں دعا کرے ۔‘‘
3۔ اگر زندگی میں اولاد کی وفات کا صدمہ برداشت کرنا پڑ جائے ، تب بھی والدین کو اجر ملتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :
مَا مِنَ النَّاسِ مُسْلِمٍ يُتَوَفَّى لَهُ ثَلاَثة من الولد لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ، إِلاَّ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ
"جس مسلمان کے تین نابالغ بچے فو ت ہوجائیں ان بچوں پر شفقت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس مسلمان کو بھی جنت میں داخل فرمادے گا!"
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ:
(أَتَتِ امْرَأَةٌ بِصَبِيٍّ لَهَا فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لَهُ فَلَقَدْ دَفَنْتُ ثَلاَثَةً فقالَ ‏"‏ دَفَنْتِ ثَلاَثَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ لها ‏"‏ لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ )[3]
"ایک عورت اپنا بچہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس  آئی اور عرض کی،"یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بچے کے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں میں تین بچے دفن کرچکی ہوں!" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:"تین؟"اس نے کہا۔"جی ہاں!"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،"تب تو تم نے آگ سے محفوظ باڑ(حصار) بنا لیا ہے۔"
4۔بچیوں کی پیدائش پر ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔اس صورت میں انسان اپنے رب کا ناشکرا رضا وتقدیر کا باغی محسوس ہوتا ہے۔کیونکہ لڑکے اور لڑکیاں بھی  عنایت کرنے والی ایک ہی ذات (وحدہ لا شریک ہے) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿لِّلَّـهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ يَهَبُ لِمَن يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الذُّكُورَ ﴿٤٩﴾ أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا ۖ وَيَجْعَلُ مَن يَشَاءُ عَقِيمًا ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ﴾( الشوریٰ :49،50)
"زمین وآسمان کی بادشاہی صرف اللہ کے لئے ہے جو چاہے پیدا کرے جسے چاہے مؤنث(بچیاں) عنایت کرے،اور جسے چاہے مذکر(بچے) عنایت فرمادے یا انہیں مذکر ومؤنث (بچے اور بچیاں) ملے جلے عطا کرے اور جسے چاہے بانجھ بنادے بلاشبہ وہ( ہر چیز کو اچھی طرح) جاننے والا قدرت رکھنے والا ہے!"
بچیوں کی آمد پر ناک منہ چڑھانا تو د رحقیقت اخلاق جاہلیت کا مظہر ہے۔قرآن حکیم نے اس صورت حال کانقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے:
﴿وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِالْأُنثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ﴾
"اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کے پیدا  ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے۔اور وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے۔"جبکہ اسلام نے بچیوں کی پرورش کو باعث اجر وثواب قرار دے کر حوصلہ افزائی فرمائی ہے۔پھر کوئی وجہ نہیں کہ مومن اس بات پر کبیدہ خاطسر ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
(من عال جاريتين حتى تبلغا جاء يوم القيامة أنا وهو كهاتين‏"‏ وضم أصابعه‏)[4]
"جس نے دو بچیوں کی جوان ہونے تک پرورش کی تو میں اور وہ روز قیامت اس طرح آئیں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملا کر اشارہ فرمایا"
مزید ارشاد فرمایا:
(‏من ابتلي من هذه البنات بشيء فأحسن إليهن كن له سترًا من النار)[5]
"جس آدمیوں کی ان بچیوں کے مسئلے میں آزمائش ہوگئی پھر اس نے ان پر احسان کیا تو یہ بچیاں ان کےلئے آگ کا بچاؤ بن جائیں گی۔"
بچیوں یا بہنوں کی پرورش اور تربیت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات مبارکہ میں متعدد بشارتیں اور  خوشخبریاں موجود ہیں۔[6] اکثر وبیشر انبیاء ؑ بچیوں ہی کے والد تھے۔اسی لئے امام اہل السنۃ احمد بن حنبل ؒ  کے ہاں جب بچی پیدا ہوئی تو فرماتے تھے:
"انبیاءؑ بچیوں کے باپ تھے"
اور پھر اگر ہر گھر میں صرف لڑکے ہی پیدا ہوں۔تو معاشرتی نظام بری طرح متاثر ہوجائے گا۔کیونکہ نسل انسانی کا بقاء وتحفظ مردوعورت ہر دو کے وجود اور قانونی طریقے سے ملاپ میں مضمر ہے۔لہذا جس قدر لڑکوں کی ضرورت ہے  اسی قدر لڑکیوں کی بھی ضرورت ہے۔امور خانہ داری،تربیت اولاد،اور دیگر متعدد امور صرف عورت ہی بہتر طریقے سے انجام دے سکتی ہے۔لہذا بچیوں سے نفرت جہاں میں اللہ تعالیٰ کی رضا وقدر سے بٖغاوت ہے۔وہاں معاشرے کو بھی تباہ کرنے کا موجب ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں جاہلیت کے ہرفتنے سے محفوظ رکھے!۔۔۔آمین!
دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہنا!
5۔پیدائش کے بعد بچے کے کان میں اذان کہنی چاہیے:
حضرت ابو رافع  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   روایت کرتے ہیں کہ:
(رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَذَّنَ فِي أُذُنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ - حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ رضي الله عنهم)[7]
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حسن بن علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے کان میں اذان دیتے ہوئے دیکھا جب وہ حضرت فاطمہ   رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کی گود میں پہنچے( رضی اللہ تعالیٰ عنہ  )!
6۔بچے کے کان میں اقامت (تکبیر) کہنے سے متعلق کوئی صحیح یا قابل اعتماد حدیث موجود نہیں ہے۔جس کو بنیاد بنا کر یہ ثابت کیا جاسکے۔
امام ابن قیم ؒ نے جو فلسفہ اذان بیان فرمایا ہے۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ:
"جب بچہ لاشعوری میں سب سے پہلے توحید،رسالت اور نمازی کی بات سنتا ہے۔تو گویا یہ اس طرح  کی تلقین ہوجاتی ہے۔جس طرح دنیا سے الوداع ہونے والے کو تلقین کی جاتی ہے۔ان کلمات سے انسان کے دل پر بھی اچھا اثر مرتب ہوتا ہے۔اور یہ بات بھی معلوم ہے کہ الفاظ ا ذان سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔اور اس طرح بچے کی حفاظت کا بھی انتظام ہوجاتا ہے۔"
گھٹی دینا:
7۔ہر پیدا ہونے والے کو کسی میٹھی چیز سے گھٹی دینی چاہیے۔اور اگر کوئی  صاحب علم وتقویٰ گھٹی دے کر دعا بھی کردے تو بہت بہتر ہے۔
حضرت ابو موسیٰ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   بیان فرماتے ہیں کہ:
(وُلِدَ لِي غُلاَمٌ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ)[8]
میرے ہاں بچہ پیدا ہوا میں اسے لے کر نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام ابراہیم  رضی اللہ تعالیٰ عنہ    تجویز فرمایا اور کھجور کی گھٹی دی"اور ایک دوسری ر وایت میں ہے:
"اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اس کے حق میں دعا فرما کر مجھے دے دیا اور یہ  حضرت ابو موسیٰ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کا سب سے بڑا لڑکا تھا"
حضرت انس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ،حضرت ابو طلحہ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ) کے بچے کی پدائش کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:"حضرت ابو طلحہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے مجھے کہا،"اسے بٹھا لو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جاؤ۔"اور اس کے ساتھ کچھ کھجوریں بھی کردیں،آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اسے لیا اور دریافت فرمایا،"کیا ساتھ بھی کچھ ہے؟"عرض کی،"جی ہاں،کچھ کھجوریں ہیں"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لے کر انہیں چبایا اور اپنے دہن مبارک سے نکال کر بچے کے منہ میں رکھ دیں اورعبداللہ نام رکھا۔"
نوٹ:اہل علم کا اس بات پراتفاق ہے کہ نو مولود کوکھجور سے گھٹی دینی چاہیے اوراگر کھجور دستیاب نہ ہوتو پھر جو بھی میٹھی چیز مل جائے گھٹی دینے والا اسے خوب چبائے حتیٰ کہ وہ اس قابل ہوجائے کہ نومولود نگل سکے۔گھٹی دینے والا کوئی نیک آدمی ہو اور اگر نیک آدمی وہاں موجود نہ ہو تو بچہ اس کے پاس لے جایاجائے۔جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔نیز اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے۔کہ بچے کو  پیدائش کے فورا ًبعد گھر سے باہر نکالا جاسکتا ہے۔اور جو لوگ چالیس روز تک گھر سے نکالنے سے منع کرتے ہیں اس کی کوئی دلیل نہیں۔ورنہ صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین   ایسا نہ کرتے۔اور اگر لا علمی کی بناء پرایسا کر بیٹھتے تو  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور راہنمائی فرماتے۔جب کہ کوئی ایسی حدیث موجود نہیں ہے۔جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نومولود کو معینہ دنوں تک گھر سے نکالنے سے منع فرمایا ہو۔(مترجم ۔غفر اللہ لہ ولوالدیہ وبارک فی حیاتہما بالخیر والایمان)       (جاری ہے۔)

[1] ۔تفسیر الطبری ج2 ص 99۔
[2] ۔سنن ابی داؤد کتاب النکاح باب النہی عن تزویج (عربی) سنن النسائی۔کتاب النکاح باب کراہیۃ تزویج العقیم۔سند قابل اعتماد ہے۔اسی معنیٰ کی حدیث مسند امام احمد اور ابو حاتم نے حضرت انس بن مالک  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے روایت کی ہے حضرت عبداللہ بن عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   اور حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی بھی روایت موجود ہے۔
[3] ۔صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ باب ف ضل من یموت لہ ولد فیحتسبہ۔
[4] ۔صحیح مسلم کتاب البر والصلہ باب فضل الاحسان الی البنات۔
[5] ۔صحیح بخاری کتاب الزکاۃ باب اتقوا النار ولو بشق تمر۔صحیح مسلم کتاب البر والصلہ باب فضل الاحسان الی البنات۔
[6] ۔مزید تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو صحیح بخاری کتاب الادب ۔صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ۔سنن ابی داؤد کتاب الادب۔سنن الترمذی کتاب البر والصلۃ۔الادب المفرد للبخاری اور مرویات ام المومنین عائشہ انس بن مالک ابو سعید اور ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   ۔مسند الامام احمد بن حنبل ؒ۔
[7] ۔سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی الصبی یولد فیوذن فی اذنہ سنن الترمذی کتاب الاضاحی باب الاذان فی اذن المولود۔اس حدیث کی سند میں اگرچہ کچھ کلا م ہے۔لیکن حضرت ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے شعب الایمان للبیہقی میں مروی حدیث معاون بن سکتی ہے۔لہذا ابی ر افع والی حدیث قابل حجت واستدلال ہے۔مزید تفصیل ملاحظہ ہو سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ والموضوعۃ ص330۔331۔حدیث 321(تالیف امام الحدیث محمد ناصر الدین البانی بارک اللہ فی حیاتہ)
[8] ۔صحیح بخاری کتاب العقیقہ باب تسمیۃ المولود۔۔۔الخ صحیح مسلم کتاب الآداب باب استحباب تحنیک المولود عند ولادتہ۔۔۔الخ
[9] ۔صحیح بخاری کتاب العقیقہ باب  تسمیۃ المولود۔۔۔الخ
[10] ۔صحیح بخاری کتاب الجنائز باب من لم یظھر حنزہ عند المصیبۃ صحیح مسلم کتاب الآداب باب استحباب تحنیک المولود عند ولادتہ۔