وفات رسول صلی اللہ علیہ وسلم:
وفات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر سن کر صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کو سخت صدمہ پہنچا حتیٰ کہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   ہاتھ میں  تلوار لئے فرمارہے تھے:
مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم  (بخاری )
"خدا کی قسم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر موت وارد نہیں ہوئی۔"
حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   یہ سنتے ہی تشریف لائے چہرہ انور سے چادر ہٹا کر بوسہ دیا اور فرمایا!"اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ  تعالیٰ آپ پر دو موتیں نازل نہیں کرے گا،پھر وفات کا اعلان ان الفاظ میں کیا:
"من كَانَ يعبد مُحَمَّدًا فَإِن مُحَمَّد قد مَاتَ وَمن كَانَ يعبد الله فَإِن الله حَيّ لَا يَمُوت وقال إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَقال وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚوَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّـهَ شَيْئًا الایۃ"
 تو صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کو موت کا یقین ہوا۔(بخاری)
"خبردار ہوجاؤ،جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پوجا کرتا تھا ،تو بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوگیا ہے۔اور جو اللہ کریم کی پرستش کرتا رہا تو اللہ  تعالیٰ ہمیشہ سے زندہ ہے کبھی نہیں مرے گا۔پھر یہ آیت پڑھی:
(ترجمہ)"اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کچھ شک نہیں کہ  آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو بھی وفات پانا ہے اور یقیناً ان منکروں کو بھی مرنا ہے۔"
پھر یہ آیت تلاوت فرمائی:(ترجمہ)"اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) صرف ایک رسول ہیں۔بلاشبہ ان سے پہلے رسول بھی  گزر چکے ہیں۔پھر اگر وہ(محمد صلی اللہ علیہ وسلم)وفات پاجائیں یا شہید کردیئے جائیں تو کیاتم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جاؤ گے؟ اور  جوشخص اپنی ایڑیوں کے بل الٹا پھر جائے گا وہ ہرگز خدا کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔"
خلافت صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  :
وفات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسئلہ خلافت نے اضطراب وہیجان کا تموج پیدا کردیا۔ثقیفہ بنی ساعدہ میں انصار نے جمع  ہوکر مسئلہ خلافت طے کرنا چاہا۔حضرت ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   حضرت عمر فاروق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   حضرت ابو عبیدہ   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   اضطرابی حالت میں وہاں پہنچے۔انصار کا خیال تھا کہ خلیفہ ہم سے ہوگا۔کسی نے کہا مہاجرین سے ہوگا کسی نے کہا ایک جانشین انصاری اور ایک مہاجر ہو۔حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ:
الائمة من قريش ۔۔۔(بخاری)
کہ"خلیفہ قریش میں سے ہوگا!"
اس فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کو حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی بیعت پر رضا مند کردیا۔چنانچہ حاضرین نے اسی وقت بیعت کی اور پھر بعیت عامہ ہوئی ان بیعت کنند گان میں حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   بھی شامل ہوئے ہیں۔چنانچہ احتجاج طبرسی میں مرقوم ہے:
ثم تناول يد ابي بكر فبايعه (ص 52)
پھر حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کا ہاتھ پکڑا اوربیعت کی۔"
اسی کتاب کےصفحہ 56پر ہے:
قال اسامة له هد بايعته فقال نعم يا اسامة
"حضرت اسامہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے دریافت کیا کہ"آپ حضرت صدیق اکبر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے ہاتھ پر بیعت کرچکے ہیں؟"تو حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے جواباً فرمایا کہ"ہاں میں بیعتِ خلافت کرچکا ہوں۔"
علاوہ ازیں روزہ کافی ص 115 وص 139 میں حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کا بیعت کو قبول کرنا ثابت ہے۔نیز شیعہ کتب میں یہ بھی مرقوم ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجہ محترمہ حضرت حفصہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کو مغموم دیکھا تو فرمایا کہ:
"خوش ہوجاؤ"
ان ابا بكر يلي الخلافة بعدي ثم بعده ابوك فقالت من انبأك قال نبأني العليم الخبير
"ضرور ضرور میرے بعد خلافت کا والی ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   ہوگا اور اس کے بعد تیرا باپ عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ۔توحضرت حضصہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    نے دریافت کیا"آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے معلوم ہوا؟"
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ" مجھے اللہ علیم وخبیر نے خبر دی ہے!"
(تفصیل  تفسیر قمی ص 354 تفسیر مجمع البیان ص314 ج5 تفسیر صافی ص23 ج5 پر ملاحظہ  فرمائیں)
خلافت صدیقی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   اور حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کا اعتراف:
 حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے دور خلافت کے خطبات وبیانات بھی اس بات پر شاہد ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق،حضرت عمر فاروق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی شان  تمام صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  سے افضل تھی۔اور حضرت  علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے بطیب خاطر ان کی خلافت کو تسلیم کیا:
1۔"(حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ    نے حضرت امیر معاویہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کو ایک خط لکھا کہ) بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کو مسلمانوں کے لئے مدد گار اسلام پسند فرمایا اور ا س کو قوت وطاقت  بخشی۔بلحاظ فضائل اور قدرومنزلت حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   تمام صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  سے افضل  اور بہترین بزرگ تھے۔خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم دائرہ اسلام میں سب سے افضل اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سب سے زیادہ مخلص اور خیر خواہ تھے۔اورخلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ حضرت عمر فاروق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   بھی اسی طرح تھے۔جیسا کہ تو نے سمجھا۔میری زندگی اس بات کی شاہد ہے کہ ان دونوں حضرات کا مرتبہ اسلام میں بڑا عظیم الشان تھا۔بلاشبہ ان کی موت سے اسلام کو سخت صدمہ اور زخم پہنچا۔اللہ تعالیٰ ان دونوں پر ر حم کرتا  رہے اور ان کو احسن وبہتر اعمال کی جزادے۔"(نہج البلاغہ ۔مطبوعہ مصر تختی خورد ص 8شرح نہج البلاغہ مصنف شیعہ مجتہدابن ہثیم بحرانی جزء 31ص 486)
تسکین قلب کے لئے اصل عبارت ملاحظہ فرمائیں:
عن امير المؤمنين علي عليه السلام انه كتب الي معاوية ان الله اجتبي من المسلمين اعوانا و ايدهم به وكانوا في منازلهم عنده علي قدر فضائلهم في الاسلام دون افضلهم كان افضلهم في الاسلام كما زعمت وانصحهم لله ولرسوله الخليفة الصديق ثم خليفة الخليفة الفاروق ولعمري ان مكانهما في الاسلام لعظيم وان المصاب بهما في الاسلام لجرح شديد يرحمهما الله وجزاهما باحسن عملا2۔اسی  طرح شرح نہج البلاغہ مصنف سلطان محمود الطیالسی اصفہانی میں ہے:
وغضب علي عليه السلام في بيعة ابي بكر وقال ما غضب الا في المشورة وانا لنري ابا بكر احق الناس بها انه لصاحب والعان وانا لنعرف له سنه ولقد امره رسول الله صلي الله عليه وسلم بالصلوة في الناس وهو حي (شرح نہج البلاغۃ جلد اول)
"حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی بیعت کے انعقاد پر ناراضگی کا اظہار کیا اورفرمایا کہ مجھے مجلس شوریٰ کی دعوت نہ دی گئی ورنہ  ہم تو ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کو سب لوگوں سے زیادہ مستحق خلافت دیکھتے ہیں۔ کیونکہ ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   ایک تو یار غار ہیں۔دوم عمر میں بڑے ہیں۔سوئم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں ہی ان کو امامت کے لئے مقرر فرمایا:"
3۔اسی نہج البلاغہ میں ہے کہ حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے فرمایا:
"خداوند کریم ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   پر رحم فرمائے جس نے کجی کو سیدھاکیا۔جس نے امراض نفسانیہ کی دوا کی جس نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کوقائم کیا اور فنتہ کو دور کیا جو اس دنیا سے پاکدامن اور کم عیب گیا۔اور خلافت کے امور کو خوبی سے چلایا اور اس امت کے فساد سے پہلے کوچ کرگیا۔اور خدا کی اطاعت کو بھی اچھی طرح ادا کیا۔اور حق کے موافق پرہیزگاری کو پورا کیا۔"الخ(نہج البلاغۃ ص 561)
4۔حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کا بیان ہے کہ:
"حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   وہ  شخص ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیلؑ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر"صدیق"  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  " کا نام دیا ہے۔نماز کی امامت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ تھے۔آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کو ہمارے دین کےلئے پسند فرمایا ہم نے ان کو اپنی دنیا کے لئے پسند کیا اور بیعت کی اور خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تسلیم کیا۔(الاستیعاب لابن عبدالبر ۔بحوالہ رسالہ فضائل صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   مصنف امام ابو طالب محمد ابن العشاری المتوفی 451ھ ص 15 ترجمہ مولانا عبدالتواب صاحب ملتانی ؒ)
5۔امام محمد باقر ؒ کا بیان ہے کہ ایک شخص نے حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے کہا کہ میں نے آپ کو خطبہ میں کہتے ہوئے سنا ہے :
"اے اللہ نیک کر ہم کو اس چیز کے ساتھ کے نیک بنایا تو نے خلفاء راشدین کو مہدیین کو۔سو وہ کون ہیں؟"حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے فرمایا"وہ میرے دو دوست ہیں حضرت ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   اور حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ۔دونوں ہدایت کے امام۔اسلام کے بزرگ۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب کے مقتداء جس نے ان کی اطاعت کی شر سے بچ رہا اور جو شخص ان کے قدم بقدم چلا وہ سیدھی راہ پر چلا۔"(فضائل صدیق   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   ۔ص7)
6۔حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   بیان فرماتے  ہیں کہ:
"میں حضرت ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ،حضرت عمر فاروق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ، حضرت عثمان  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ،کی بطیب خاطر بیعت کرکے ان کی مدد کرتا رہا۔"(ایضاً ص9)
7۔حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کا قول مبارک ہے کہ
" میں اس شخص سے بیزار ہوں جو حضرت ابو بکر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   اورحضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے بغض رکھے،جو مجھ سے محبت رکھتا ہے وُہ ان(حضرت ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   ،حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   ) سے بھی محبت رکھے۔"(فضائل صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ   ص15)
8۔اسی رسالہ کے صفحہ 18 پر ہے کہ:
"حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے حلفاً فرمایا،"قسم ہے اس رب کی جس نے دانہ کو پھاڑ ڈالا اور پیدا کی جان!تحقیق حضرت ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   اور حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   جنت میں پھل  کھائیں گے اور اس کے بچھونوں پر مجھ سے پہلے آرام کریں گے۔"(فضائل صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   ص18)
9۔قاضی نور اللہ شوستری اپنی مایہ ناز کتاب میں رقم طراز ہیں کہ:
"حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ درمیان اصحاب مے گفتند
 (ما سبقكم ابوبكر بصوم ولا صلوة ولكن بشئي وقر في قلبه )۔
مجالس المومنين ص 88
"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کی جماعت میں فرمایا کرتے تھے کہ حضرت ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی سبقت وفضیلت نماز ر وز ہ سے نہیں بلکہ یہ ان کے دل کی عقیدت مندی اوراخلاص کا ثمرہ ہے۔"
10۔ایک دفعہ مکہ معظمہ میں مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھسیٹنے لگے اور کہنے لگے کہ تو ہی ہے جو ایک خدا بتاتا ہے۔واللہ کسی کو کفار کے مقابلہ میں آنے کی جرائت نہ ہوئی۔مگر ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   آگے بڑھے اور وہ کفار کو مار مار کرہٹاتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے ،"ہائے افسوس!(اتقتلون رجلا ان يقول ربي الله )"تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے میر ارب اللہ ہے۔یہ فرماکر حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   روپڑے اور کہنے لگے"بھلا یہ تو بتاؤ کہ مومن آل فرعون اچھے ہیں یا ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ؟"جب لوگوں نے جواب نہ دیا تو فرمایا،"جواب کیوں نہیں دیتے واللہ ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی ایک ساعت ان کی ہزار ساعت سے بہتر ہے۔وہ تو ایمان کوچھپاتے تھے۔اور ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے اپنے ایمان کو ظاہر کیا!"(تاریخ اسلام مولف اکبر شاہ خاں نجیب آبادی ص264 جلد اول)(فتلك عشرة كاملة)
حضرت ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   ائمہ ؒ کی نظر میں:
1۔(قال ابو جعفر محمد الباقر لست بمنكر فضل ابي بكر ولست بمنكر فضل عمر ولكن ابابكر افضل من عمر ) احتجاج طبرسي ص 204
"امام ابو جعفر صادق محمد باقر ؒ کا بیان ہے کہ"میں ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی فضیلت کا منکر نہیں اور نہ ہی عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی فضیلت کا منکر ہوں۔ہاں لیکن ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے افضل ہیں۔"
2۔(سال رجل من المخالفين عن الامام الصادق عليه السلام وقال يا من رسول الله ما تقول في ابي بكر ومر فقال عليه السلام هما امامان عادلاان قاسطان كانا علي الحق وماتا عليه رحمهما الله يوم القيامة ) ( احقاق الحق ص 1 مطبوعه 1203)
"مخالف گروہ کے ایک شخص نے امام جعفر صادق ؒ سے خلافت صدیق وعمر  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے متعلق سوال کیا تو  آپ ؒنے فرمایا۔"وہ دونوں امام عادل تھے،مصنف تھے،حق پر تھے اور حق پر انہوں نے وفات پائی ان دونوں پر قیامت تک اللہ کی رحمت نازل ہو۔( رضوان اللہ عنھم اجمعین )
3۔حضرت عروہ بن عبداللہ کی روایت "حلیۃ السیوف" کے بارہ میں "لقب صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے باب میں گزر چکی ہے۔
4۔حضرت امام جعفر صادق ؒ نے  فرمایا؛
(ابوبكر ن الصديق جدي هل يسب احد اباه لاقد مني الله ان لا اقدمه ) ( احقاق الحق ص 7)
"حضرت ابو صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   میرے پڑ نانا ہیں۔کیا کوئی شخص اپنے آباؤاجداد کو سب وشتم کرنا پسند کرتا ہے؟اگر میں صدیق اکبر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی شان میں گستاخی کروں توخدا مجھے کوئی  شان اور عزت نہ دے۔"(احقاق الحق ص7)
5۔اسی کتاب احقاق الحق میں ہے کہ:
(ولدني الصديق مرتين)
"امام جعفر صادق نے فرمایا کہ"میں حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی اولاد میں دو طرح داخل ہوں۔"(ص7)
مزید تفصیل کے لئے جلال العیون ص248،کشف الغمہ ص215،222،احتجاج طبرسی ص 205 ملاحظہ فرمائیں!
6۔صافی شرح اصول کافی ص 214 پر امام جعفر صادق ؒ کا سلسلہ نسب اس طرح بیان کیا گیا ہےکہ:
"ومادرش ام  فروہ اسماء دخت قاسم بن محمد بن ابی بکر بود ومادرام فروہ اسماء دختر عبدالرحمٰن بن ابی بکر بود۔"
"حضرت امام جعفر ؒ کی والدہ ام فروہ حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی پڑ پوتی (پوتے کی بیٹی) تھیں اور امام جعفر صادق کی نانی حضرت اسماء   رضی اللہ تعالیٰ عنہا   تھیں جو حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی پوتی تھیں"
سوال دربارہ فدک وجواب:
باقی رہا یہ سوال کہ اگر  ابو بکر صدیق اتنی شان اور افضلیت کے مالک تھے تو سید فاطمۃ الزہرا  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کو فدک سے محروم کیوں رکھا؟تو یہ سوال بالکل بے بنیاد ہے۔کیونکہ خلیفہ اول بلا فصل سیدنا حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے کتاب وسنت کے مطابق عمل کیا۔جیسا کہ صحیح بخاری مطبوعہ نظامی کان پور کے ص575ج2) ص576ج2) پر زمانہ نبوت کا عمل درآمد بیان کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں بلازری نے فتوح البلدان ص37 پر اشارہ کیا ہے۔نیز  عون المعبود شرح ابی داؤدؒ ج3ص104 ،ج3 ص105 پر بھی تذکرہ ہے اور امام نووی ؒ نے شرح مسلم میں زیر حدیث مالک بن اوس ص90 پر ذکر کیا ہے۔کہ قاضٰ عیاض نے کہا ہے،حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے حضرت فاطمہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نزاع کے ترک کردینے اورحدیث کے اجماع کو تسلیم کرنے کا ثبوت موجود ہے۔جس وقت فاطمۃ الزہرا  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کو یہ حدیث پہنچی تو حضرت فاطمہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا     نے اپنی رائے چھوڑ دی۔بعد ازیں آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کی اولاد سے کسی نے بھی میراث کا مطالبہ نہیں
(ثم ولي علي ن الخلافة فلم يعدل بها عما فعله ابوبكر و عمر)
"پھر حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   مسند خلافت پر جلوہ گر ہوئے تو انہوں نے بھی حضرت ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   اور حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے خلاف عمل نہیں کیا۔"
مگر افسوس کہ شیعہ کی کتاب کافی کلینی ج1 ص 355) پر صاحب کتاب نے ایک روایت نقل کی ہے جو افراط وتفریط سے پُر ہے۔اور اس کی حقیقت محض افسانہ گوئی ہے۔اس کے برعکس شیعہ کی معتبر کتاب شرح نہج البلاغہ لعلامہ ابن ہثیم بحرانی ص543) جز نمبر 35 "(عربی) اور در نجفیہ شرح نہج البلاغۃ مطبوعہ طہران ص332  پر مرقوم ہے:
(كان رسول الله صلي الله عليه وسلم ياخذ من فلك فوتكم ويقسم الباقي ويحمل منه في سبيل الله ان اصنع بها كما كان يصنع فرضيت واخدت العهد عليه به وكان ياخذ غلتها فيدفع اليهم منها ما يكفيهم ثم فعلت الخلفاء بعده كذلك الي ان ولي معاويه )
"حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے سیدہ فاطمۃ الزہرا  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فدک کی پیدا وار سے تمہارا خرچ لے لیا کرتے تھے۔اور باقی ماندہ کو تقسیم فرماتے  اور فی سبیل اللہ جہاد میں سواریاں لے لیتے تھے۔اللہ کی قسم اٹھا کر میں عہد کرتا ہوں کہ میں فدک میں اسی طرح کروں گا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے تو سیدہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    فدک کے اس فیصلہ پر رضا مند ہوگئیں۔اورحضرت صدیق اکبر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے اس بات کا عہد لیا تو حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   فدک کی پیداوار وصول کرکے ا س سے اہل بیت کو کافی وافی خرچ  دےدیتے تھے ۔حضرت ابوبکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے بعد امیر معاویہ   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی حکومت آنے تک تمام خلفاء  رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے یہ عمل کیا۔"
اس روایت [1]سے صاف ظاہر ہے کہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل تھا۔اسی طرح حضرت صدیق  اکبر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے کیا۔اور بعینہ یہ عمل تمام خلفائے راشدین حضرت عمر فاروق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ۔حضرت عثمان غنی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ۔حضرت علی المرتضیٰ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ۔ حضرت حسن مجتبیٰ ۔ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کا رہا۔حتیٰ کہ امیر معاویہ کی سلطنت آگئی۔اور اس عرصہ میں کوئی تغیر وتبدل نہ ہوا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا اور خلفاء راشدین  رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اس حکم کی پابندی کی۔تو اب فاطمۃ الزہرا  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کی حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   پر ناراضگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
کتب  تاریخ وسیر کی ورق گردانی سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ سید فاطمۃ الزہرا  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کی شادی کے وقت بھی حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے فراخ دلی کا ثبوت دیا اور تمام صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے  سامان شادی خریدتے وقت حضرت ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی موافقت کی(جلالعیون ص 55) اور مرض الموت میں  بھی صدیق اکبر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی اہلیہ محترمہ  حضرت اسماء بن عمیس  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    نے تیمارداری کے  فرائض سر انجام دیے اور وفات کے بعد غسل بھی حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی اہلیہ ہی نے دیا(جلالعیون ص3)تو ان امور سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    حضرت صدیق اکبر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے ناراض نہ تھیں بلکہ خوش تھیں۔
وفات صدیق اکبر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   پرحضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی تقریر:
22 جمادی الاخریٰ 13 ہجری بروز د وشنبہ مغرب وعشاء کے درمیان حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے انتقال  فرمایا اور ان کی وصیت کے مطابق اسی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن کئے گئے۔حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی وفات پر حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے ایک مفصل تقریر کی جس کا شروع حصہ یہ ہے کہ:"اے ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  خدا آپ پر رحم فرمائے۔اللہ کی قسم آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ    تمام امت میں سب سے  پہلےایمان لائے۔سب سے زیادہ ایمان کو اپنا خلق بنایا،سب سے بڑھ کر (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل دوستدار تھے۔اور خلق وفضل اور سیرت وصحبت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کو سب سے زیادہ نسبت حاصل تھی۔خدا آپ کو اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جمیع مسلمانوں کی طرف سے جزاء خیر دے۔آمین!:
خلاصہ:
حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی خلافت کوئی پھولوں کی سیج نہ تھی۔بلکہ کانٹوں کا بستر تھا جس کو آرام دہ بنانے کےلئے تمام کانٹوں کو چننا ضروری تھا۔خلافت کے مختصر اور قلیل عرصے میں اندرون ملک کے فتنوں کو فروع کرنے کے علاوہ بلاد غیر کو ممالک محروسہ اسلامی بنا کر آئندہ کے لئے فتوحات کے دروازوں کا افتتاح کیا اور جن مشکلات کا سامنا سیدنا ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کو ہوا اس کی تمثیل پیش کرنے سے تاریخ بالکل خاموش ہے۔( رضی اللہ تعالیٰ عنہ  )
(از حضرت حسان بن ثابت  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  )
مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ الخلفاء للسیوطی!
اللہ تعالیٰ سے دست بدعا ہوں کہ وہ ہمیں حق سمجھنے اور حق پر عمل کرنے کی  توفیق ارزانی فرمائے اور حشر زمرہ صالحین سے کرے۔آمین!

[1] ۔اس کا تفصیلی تذکرہ تو ان شاء اللہ العزیز فضائل خلفاء اربعہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے بعد"مسئلہ باغ فدک" کے عنوان سے ہدیہ ناظرین ہوگا مگر مختصراً شیعہ وسنی کی معتبرہ کتب سے یہ اجمالاً پیش خدمت ہے۔