ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

  • مارچ
1985
اکرام اللہ ساجد
ملک میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات مکمل ہوگئے ہیں۔اور عمومی تاثر یہی ہے کہ انتخابات انتہائی منصفانہ اورپرامن ہوئے ہیں۔چنانچہ جہاں تک ان کے منصفانہ ہونے کا تعلق ہے۔ہم نے بڑے بڑے جبہ ودستاروالوں کے متعلق یہ سنا ہےکہ انہوں نے ووٹروں کو رات کو تنہائیوں میں یہ مشورہ دیا:
"اگر آپ دوسری پارٹی سے ووٹ دینے کی حامی بھر چکے ہیں تو کوئی حرج نہیں آ پ بظاہر ان سے یہی کہتے رہیں کہ ووٹ آپ کو دیں گے۔لیکن در پردہ مہر لگاتے وقت ہمارا انتخابی نشان۔۔۔یاد رکھئے گا!"
۔۔۔اورتجزیہ اکثر لوگوں کا ہوا ہوگا۔۔۔علاوہ ازیں دھاندلیوں اورجبرواکراہ کے کچھ واقعات بھی پڑھنے سننے میں آئے ہیں۔اور جن کی بناء پر بعض شہروں میں کشیدگی کی فضاپائی جاتی ہے۔جمہوریوں کےنزدیک شاید یہ باتیں زیادہ اہم نہ ہوں لیکن یہ بات ضرور ان کے سوچنے کی ہے۔کہ اگر عدل وانصاف ان کے ہاں اسی کا نام ہے۔
  • مارچ
1985
علیم ناصری
دل بنا جلوہ گہ حسن شہنشاہؐ زمن!                    نکہت افروز ہوا رحمت حق کا گلشن
مصطفےٰؐ جس کے زروسیم ہیں مخزن مخزن        جس کے یاقوت اہرملیں معدن معدن
ہے وہی نام سکوں بخش ومسرت انگیز           تیز ہوجاتی ہے اس نام سے دل کی دھڑکن
نطق بے باک سنبھل اپنی حقیقت پہچان    کون ہے جس کو کہ ہے نعت میں یا رائے سخن
یہ قصیدہ نہیں شاہوں کا بقول عرفی                     ہے دم  تیغ پہ یہ راہ یہ  صحرا ہے نہ بن!
  • مارچ
1985
عبدالرحمن عزیز
وفات رسول صلی اللہ علیہ وسلم:
وفات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر سن کر صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کو سخت صدمہ پہنچا حتیٰ کہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   ہاتھ میں  تلوار لئے فرمارہے تھے:
مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم  (بخاری )
"خدا کی قسم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر موت وارد نہیں ہوئی۔"
حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   یہ سنتے ہی تشریف لائے چہرہ انور سے چادر ہٹا کر بوسہ دیا اور فرمایا!"اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ  تعالیٰ آپ پر دو موتیں نازل نہیں کرے گا،پھر وفات کا اعلان ان الفاظ میں کیا:
"من كَانَ يعبد مُحَمَّدًا فَإِن مُحَمَّد قد مَاتَ وَمن كَانَ يعبد الله فَإِن الله حَيّ لَا يَمُوت وقال إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَقال وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚوَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّـهَ شَيْئًا الایة"
 تو صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کو موت کا یقین ہوا۔(بخاری)
  • مارچ
1985
فضل روپڑی
    زندگانی کا اعتبار نہیں                       اس پہ انساں کا اختیار نہیں
              دل لگانے سے فائدہ کیا ہے                یہ جہاں جبکہ  پائدار نہیں
         جال حرص وہوس نے پھیلائے                  آرزوؤں کا کچھ شمار نہیں
  • مارچ
1985
شبیر احمد نورانی
اولاد کی پرورش کرنا:
1۔نیک اولاد انسان کے لئے دنیا میں سکون وامن کا باعث ہے۔لہذا اللہ تعالیٰ سے انتہائی عجز وانکسار کے ساتھ نیک اولاد کی دعا کرنی چاہیے!
ارشاد ربانی ہے:
﴿فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّـهُ لَكُمْ﴾
"اب تم اپنی بیویوں سے شب باشی کیا کرو،اور اللہ تعالیٰ نے جو  تمہارے لکھ دیا ہے اسے تلاش کرو"
حضرت ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   بیان فرماتے ہیں کہ:"(ما كتب الله ) سے مراد اولاد ہے"[1]اسی لئے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ اولاد کی  صلاحیت والی عورتوں سےنکاح کا حکم دیا ہے
  • مارچ
1985
عبدالرحمن کیلانی
(سماع موتیٰ سے یکسر انکار کرنے والوں کےبعد اب سماع موتیٰ کے قائلین کی طرف سے اعتراضات کی باری آئی۔اس سلسلے میں چوہدری محمد علی صاحب حنفی(پکا ڈیرہ ورائچاں کوٹ رنجیت ضلع شیخو پورہ) کی طرف سے ادارہ محدث کے نام ایک طویل ترین خط موصول ہوا۔جو خط سے زیادہ مضمون کی حیثیت رکھتا ہے۔اور ساتھ ہی آخر میں یہ آرزو کی گئی ہے کہ:
"آخر میں میں اُمید کرتا ہوں کہ ادارہ"محدث" جو کتاب وسنت کی روشنی میں آزادانہ بحث وتحقیق کا حامی ہے تصویر کا دوسرا رخ بھی شائع کرنے کی زحمت گوارا کر ے گا۔تاکہ"محدث" کا مطالعہ کرنے والے حق وباطل کوخود پرکھ سکیں۔"
یہ خط یا مضمون فل سکیپ کے مکمل دس صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔تحریر گنجان ہے جو محدث کے کم وبیش 25 صفحات کا متقاضی ہے۔
  • مارچ
1985
غازی عزیر
امیر المومنین حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے متعلق خمینی کے جو افکار ہیں وہ بھی قابل ذکر ہیں۔ذیل میں ان کی تحریر سے چند اقتباسات نقل کئے جارہے ہیں:
"ایسے حاکم کو عامۃ الناس پر تدبیر مملکت اور تنفیذ احکام کے وہ تمام اختیارات حاصل ہوں گے۔جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور امیر المومنین حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کو حاصل تھے۔خصوصاً بوجہ اس فضیلت اور علو مرتبت [1] کے جو اول الذکر کو رسول خدا اور ثانی الذکر کو امام ہونے کی حیثیت سے حاصل تھا۔"(الحکومۃ الاسلامیہ للخمینی ترجمہ مولانا محمد نصر اللہ خاں ص117) اورفرماتے ہیں کہ:"اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جملہ اہل ایمان کا ولی بنایا ہے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی  یہ روایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والے ہر شخص پرحاوی [2]ہے۔"آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امام(حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  )  اہل ایمان کے ولی ہیں۔دونوں کی ولایت کا مطلب یہ ہے کہ ان کے شرعی احکام جملہ اہل ایمان پر نافذ ہیں۔ولایۃ وقضاۃ کا تقرر بھی انہی کے ہاتھ میں ہے اور حالات کے تقاضے کےمطابق ان کی نگرانی اور معزولی بھی انہی کے دارئرۃ اختیار میں ہے۔"(الحکومت الاسلامیہ للخمینی ص119)