"نورستان میں وہاں کے سلفی حضرات نے"دولت انقلابی اسلامی افغانستان" کے نام سے خالص کتاب وسنت کی بنیادوں پر اسلامی حکومت کی داغ بیل ڈالی ہے۔لیکن افسوس کہ جب سے اس حکومت کا قیام عمل میں آیا ہے،مختلف تنظیموں کی طرف سے اس کے خلاف پروپیگنڈہ حتیٰ کہ بغض باطن کا اظہار کیا رہا ہے۔جس کا مرکزی نقطہ اس حکومت کو دہریہ،روس نواز چین نواز اورنیشنلسٹ وغیرہ ثابت کرنا ہے۔پاکستانی علماء اہل حدیث نے اس حکومت سے متعلق سن کر جہاں مسرت کا اظہار کیا۔ وہاں وہ اس ٖغلط پروپیگنڈہ کی اصلیت جاننے کے لئے بیتاب بھی ہوئے۔چنانچہ علماء اہلحدیث کا پہلا وفد مولانا گھر جاکھی (گوجرانوالہ) کی معیت میں نورستان پہنچا۔اوروہاں کے حالات معلوم کیے۔اس کے بعد گزشتہ رمضان المبارک میں دوسرا وفد شیخ الحدیث مولانا حافظ عبدالمنان صاحب(گوجرانوالہ) کی معیت میں نورستان کا دورہ کرکے لوٹا ہے۔آئندہ سطور میں اسی دورہ  کی  تفصلات مذکور ہیں جن کو پڑھ کر اس غلط پروپیگنڈہ کی قلعی کھل جاتی ہے۔ادارہ محدث بڑی مسرت سے یہ سطور قارئین کررہا ہے اور صرف اسی مضمون کی خاطر اُس نے معمول کی ضخامت میں آٹھ صفحات کا اضافہ بھی گوارا کیا ہے!(ادارہ)

راقم الحروف اپنے دو ساتھیوں ذکی الرحمٰن لکھنوی اور محمد اشفاق نور پوری کے ہمراہ 24 شعبان المعظم 1404ھ کو گوجرانوالہ سےرونہ ہوا۔پشاور پہنچ کر ہم نے رئیس الجامعۃ الاثریہ حضرت مولانا عبدالعزیز صاحب نورستانی سے ملاقات کی ۔انہوں نے حضرت مولانا محمد عمر صاحب قریشی کوہماری رہنمائی کی خاطر ہمارے ساتھ روانہ کیاجس پر ہم ان دونوں کے انتہائی شکرگزار ہیں۔چنانچہ قریشی صاحب ہمیں حضرت مولانا شیرمحمد صاحب نورستانی کے قافلہ میں ملا کر واپس تشریف لے آئے۔مولانا شیر محمد صاحب ہمارے ساتھ بڑے حسن سلوک سے پیش آئے۔چنانچہ کچھ وقت ہم ان کے قافلہ کے ساتھ چلے۔پھر بندہ کی طبیعت کی ناسازی کی بنا پر ہم پیچھے رہ گئے اور قافلہ آگے چل دیا آخر دوسرے دن آہستہ آہستہ چلتےہوئے ہم بھی پہنچ ہی گئے۔اہل نورستان کو ہم سے پہلے پہنچنے والے قافلہ کے زریعہ ہماری آمد کی اطلاع ہوچکی تھی۔چنانچہ بر گمٹال س کوئی تین چار گھنٹے کی مسافت پر نورستانی نوجوان ہمارے لئے  گھوڑے لئے کھڑے تھے۔ہم نے کہا،ہم نے ارادہ کررکھا ہے۔کہ مرکز تک پیدل ہی جائیں گے۔نیز اس پہاڑی راستہ میں پیدل چلنے میں ہم زیادہ سہولت محسوس کرتے ہیں۔آپ لوگوں کا بہت بہت شکریہ اس مختصر سی بات چیت کے بعد ہم سب روانہ ہوگئے۔تھوڑا آگے جا کرہم نے ایک پانڈے اور ڈیرے کے پاس بابا عبدالرزاق نامی بزرگ کو گائیں چراتے دیکھا۔انہوں نے ہمیں دیکھتے ہی ایک گائے پکڑی اسے دوہا اور ایک بڑے کاسے میں تازہ دودھ ہمیں پیش کیا۔اور رات  وہیں ٹھرنے کی درخواست کی۔ہم نے  رات ان کے پاس ٹھرنے سے معذرت کرلی اور آگے چل دیئے یاد رہے گھوڑوں والے نوجوان ہمارے ساتھ رہے چنانچہ ہم اٹھائیس شعبان بروز بدھ بوقت مغرب بابا عبدالکریم کے بانڈے اورڈیرے پر پہنچ گئے۔اور رات وہیں ٹھہرے۔انہوں نے ہماری خوب مہمان نوازی کی۔جمعرات 29 شعبان کو صبح ناشتہ کرنے کے بعد ہم آگے بڑھے۔جب ہم برگمٹال کے قریب پہنچے تو وہاں برگمٹال شرقی کے امیر حضرت مولانا عبدالحق صاحب برگمٹال غربی کے امیرحضرت مولانا محمد اللہ صاحب اور اہالیان برگمٹال کافی تعداد میں موجودد تھے۔انہوں نے برگمٹال پہنچ کر ہمیں ایک مہمان خوانے میں بٹھا دیا اور قہوہ پیش کیا پھر وہ لوگ ہماے اور اکثر علماء اہل حدیث کے شیخ واستاذ حافظ محمد صاحب گوندلوی حفظہ اللہ تعالیٰ کے متعلق ہم سے سوالات کرنے لگے کہ آیا وہ ابھی حدیث پڑھا رہے ہیں؟ان کی صحت و طبیعت کیسی ہے؟وغیرہ وغیرہ۔ہم نے جواباًکہا۔بحمد اللہ تعالیٰ اس سال تو حافظ صاحب گوندلوی حفظہ اللہ تعالیٰ صحیح بخاری پڑھاتے رہے۔آئندہ سال اللہ کو معلوم ہے پڑھاتے ہیں کہ  یا نہیں؟ان کی صحت وطبیعت ماشاء اللہ تعالیٰ اچھی ہے۔البتہ کمزوری ہے۔پھر اہل مجلس سے ایک بولا،میں نے حافظ صاحب گوندلوی سے فلاں کتاب پڑھی ہے۔دوسرا بولا میں نے ان سے فلاں کتاب پڑھی ہے۔تیسرا بولا میں پاکستان گیا تو میری بڑی خواہش وکوشش تھی کہ اُن سے استفادہ کروں مگر فلاں عذر کی بنا پر ان سے استفادہ نہ کرسکا۔وہاں پہنچ کر ہمیں علم ہوا کہ حضرت حافظ صاحب گوندلوی حفظہ اللہ تعالیٰ کی مقبولیت نورستانی علماء کے دلوں میں بھی پاکستانی علماء کے دلوں میں اُن کی مقبولیت سے کوئی کم نہیں۔نیز نورستان میں کئی ایک مواضع اور مقامات پر حضرت حافظ صاحب گوندلوی حفظہ اللہ کے شاگرد اور واقفان حال ہم سے ان کی مزاج پرسی کرتے اور ان کے حق میں دل کی گہرائیوں سے دعائیں فرماتے رہے۔

تھوڑی د یر برگمٹال میں ٹھرنے کے بعد ہم مرکز کی طرف چل دئیے۔برگمٹال شرقی وغربی کے دونوں امیر اور کثیر تعداد میں شہری ہمارے ساتھ ہولئے۔ان میں قریہ افسئ کے مولانا محمد عبداللہ صاحب رکن مرکزی مجلس شوریٰ بھی شامل تھے۔یہ تمام لوگ دولت انقلابی اسلامی کے مرکز نیکموک تک ہمارے ساتھ چلے۔یہ کوئی ایک گھنٹے کی مسافت ہے۔جونہی ہم نیک موک کے قریب پہنچے تو وہاں فوجی پولیس والے اور اہالیان نیکموک کثیر تعداد میں موجود تھے۔نماز ظہر سے قبل ہم نیکموک پہنچ گئے۔پہلے انہوں نے قہوہ پیش کیا۔اور ظہر کے بعد کھانا کھلایا۔پھر ہم کو دولت ا سلامی کے امیر حضرت مولانا محمد افضل صاحب حفظہ اللہ نے ملاقات کے لئے وقت دےدیا۔اور  ہم ان سے ملاقات کےلئے ان کے دفتر میں چلے گئے۔یہ ملاقات نماز عصر تک جاری رہی۔حضرت مولانا محمد عمر صاحب ترجمانی کرتے رہے امیر صاحب نے ہمارے وہاں جانے پر مسرت وفرحت کا اظہار فرماتے ہوئے شکریہ ادا کیا تو ہم نے جواباً عرض کیا کہ ہم نے سناتھا ۔نورستان میں ہمارے بھائیوں نے خالص کتاب و سنت پر مبنی نظام قائم کررکھا ہے۔اس پر ہمارے دل میں شوق  پیدا ہوا کہ ایسے مجاہدین کے جنھوں نے (دولت اسلامی کے  رئیس الامور الخارجیہ حضرت مولانا محمدابراہیم صاحب نورستانی کے بقول)نوماہ تک جہاد کرکے اپنے علاقے کو آزاد کروایا۔پھر اس آزاد خطے میں خالص کتاب وسنت پر مبنی نظام قائم کیا،ایسے مجاہدین کو قریب سے دیکھنا چاہیے۔اسی غرض سے ہم نے دور دروازہ دشوار گزارہ ،پہاڑی اور برفانی مسافت طے کی،یہ ہمارا آپ پر کوئی احسان نہیں یہ تو صرف اخوت دینی اور جذبہ ایمانی کا تقاضا تھا۔جسے ہم لوگوں نے پوُرا کرنے کی یہ حقیر سی سعی وکوشش کی،اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔آمین!

یہ 29 شعبان جمعرات کا روزہ تھا۔اس سے اگلا دن رمضان کاپہلا  روزہ تھا۔ہم 13  رمضان المبارک تک نیکموک میں ہی رہے۔اسی دوران پانچ دفعہ روزانہ باوقات نماز امیر صاحب کی زیارت ہوجاتی۔اور وقتاً فوقتاً اوقات نماز کے علاوہ بھی شرف ملاقات حاصل ہوجاتا۔امیر صاحب پانچوں نمازیں مسجد میں ادا کرتے اور اکثر اوقات جماعت خود کراتے۔حتیٰ کہ کئی مرتبہ نماز تراویح تک خود پڑھاتے۔قیام اللیل کی جتنی ہئیات وکیفیات کتب  حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں۔ان میں سے اکثر کوصلواۃ اللیل پڑھاتے وقت متعدد راتوں میں امیر صاحب نے ادا کیا۔ایک دن ہم جناب امیر صاحب کے دفتر میں تھے کہ امیر صاحب نے ہمیں بتایا ہم نے ہر قسم کے شرک  بدعت قبر پرستی اور کتاب وسنت کے خلاف تمام رسم ورواج کو اپنے ملک سےمٹادیاہے۔ وذلك بمحض فضل الله تعالي و توفيقه ہم کیا دیکھتے ہیں کہ دفتر کی ایک دیوار پر ایک روضہ کی تصویر آویزاں ہے۔اس بندہ نے کہا"جناب امیر صاحب،قبروں کی تصاویر کو اس انداز میں آویزاں کرنا تو قبرپرستوں کی  علامات میں شامل ہے۔"بس اس کے بعدامیر صاحب بذات خود اٹھے،اسی وقت قبر کی تصویر کو اتاردیا اور فرمایا"ہمارے علم میں نہ تھا کہ یہ کسی قبر کی تصویر ہے۔ہم تو سمجھتے تھے یہ کسی مسجد کی تصویر ہے۔"

مرکز میں قیام کے دوران ایک روز ہم عدالت میں بھی گئے۔وہاں قاضی نور محمد صاحب موجود تھے۔ان سے ملاقات ہوئی۔بندہ نے ان سے دریافت کیا کہ"آپ لوگ فیصلےکیسے کرتے ہیں؟انہوں نے جواب دیا"ہم ہر فیصلہ کتاب وسنت کے مطابق کرتے ہیں بندہ نے پھر پوچھا،"آیا آپ حضرات اپنے فیصلہ جات میں عصری اور جدید قوانین سے مدد لیتے ہیں؟" تو انہوں نے جواباً  فرمایا،"ہم تو ائمہ اربعہ رحمہم اللہ تعالیٰ کے کتاب وسنت کے منافی اقوال سے بھی مدد نہیں لیتے۔پھر ہم عصری اور جدید قوانین سےکیونکر مدد لے سکتے ہیں؟جبکہ ان کے وضع کرنے والے سرے سے مسلمان ہی نہیں!" یاد رہے کہ عصری اور جدید قوانین سے مراد انگریزی قوانین ہیں۔اس کے بعد انہوں نےفرمایا"ہم تو ہر فیصلہ میں بس خالص کتاب وسنت ہی کو سامنے رکھتے ہیں ادھر ادھر نہیں جھانکتے۔"

مرکز میں پہنچنے کے دوسرے روز یکم رمضان المبارک کو ہمیں مولانا جمعہ دین صاحب ملے۔یہ مولانا جمعہ دین صاحب منڈا گل کے قریب ایک گاؤں میں رہتے ہیں اپنے علاقہ کے معاون قاضی ہیں۔ اور یہ ہمارے مدرسہ جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں۔مل کر بہت خوش ہوئے ان کے علاقہ میں ایک آدمی نے ایک شخص کو قتل کردیاتھا۔چنانچہ اس واردات سے کوئی چار پانچ روز بعد قاتل ثابت ہونے پر اُسے قصاصاً قتل کردیا تھا۔یہ خبر پاکستان کے کسی روزنامہ میں بھی چھپی تھی ۔مولانا جمعہ دین نے بتایا کہ میں قصاص کے اس فیصلے میں بطور معاون قاضی شامل تھا۔ جناب امیر صاحب نے بھی اس مقدمے میں انصاف کرانے کی غرض سے خاص دلچسپی لی۔چنانچہ جس روز قاتل قصاص میں قتل کیاگیا۔ا س روز بھی امیر صاحب بذات خودوہاں موجود تھے۔مولاناجمعہ دین صاحب نے مزید بتایا کہ یہ قاتل جناب امیر صاحب کے رشتہ داروں میں سے تھا۔

13 رمضان المبارک کو ہم بااجازت امیر صاحب نیکموک سے وسطی نورستان (وادی پارون اوروادی کنتوا) کی طرف روانہ ہوگئے۔ اور اسی روز بوقت شام گاؤں پپڑوک پہنچ گئے۔یہ حبیب الرحمٰن کا گاؤں ہے۔یہ حبیب الرحمٰن بھی ہمارے مدرسہ جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ میں زیر تعلیم رہ چکے ہیں اور ہمیں مرکزمیں ملے بھی تھے۔مگر جب ہم ان کے گاؤں پہنچے تو وہاں موجود نہیں تھے۔کسی کام کے لئے کہں گئے ہوتے تھے۔کیونکہ انہیں ہماری ان کے گاؤں میں آمد معلوم نہ تھی۔پھر جب ہم پاکستان آئے تو وہ ہمیں راستہ میں ملے۔وہ پاکستان سے سودا خرید کر واپس اپنے گھر جارہے تھے۔یہ ملاقات برگ مٹال سے پاکستان کی طرف راستے میں ہوئی ۔دولت اسلامی کے نائب امیر اور رئیس القضاۃ حضرت مولانا محمد اسحاق صاحب اسی گاؤں پپڑوک کے رہنے والے ہیں۔ہماری ان سے بھی ملاقات ہوئی۔وہ عربی زبان میں ہم سے بات چیت کرتے رہے۔جونہی ہم پپڑوک پہنچے تو اہالیان گاؤں بڑی گرمجوشی سے  ہمیں ملے اور دولت اسلامی کے رئیس معدنیات محترم حاجی عثمان صاحب نے ہمیں اپنے پاس ٹھرا لیا۔حاجی صاحب موصوف کا صاحبزادہ محمدامان ہمارے محلہ سرفراز کالونی گوجرانوالہ کی جامع مسجد قدس اہل حدیث میں قاری محمد فاروق صاحب کے پاس قرآن مجید حفظ کررہا ہے۔خیر حاجی صاحب  نے ہماری خوب مہمان نوازی کی اور ان کے بھانجے عبدالحمید صاحب بھی اس سلسلے میں پیش پیش رہے۔14رمضان المبارک صبح سویرے حاجی صاحب ہمیں اپنے ہمراہ اپنے بانڈے اور ڈیرے پر لے گئے۔ان کا ڈیرہ ہمارے راستہ پر ہی پپڑوک سے کوئی ایک گھنٹہ کی مسافت پر واقع ہے۔وہاں پہنچ کر انہوں نے ایک بکرا ذبح کیا کچھ تو ہمیں وہیں کھلادیا اور کچھ بطور زاد ِ راہ ہمارے حوالے کردیا نیز جناب امیر صاحب کے حکم کے مطابق انہوں نےاپنے صاحبزادے محمد امان کے بڑے بھائی محمد ہمایوں کو بطور دلیل وراہنما ہمارے ساتھ بھیجا جس پر ہم حضرت الامیر اورحاجی صاحب موصوف کے بہت شگر گزار ہیں۔محمدہمایوں بہت  باہمت نوجوان ہیں۔راستے میں بیمار ہونے کے باوجود ہم سے بڑھ کرچلتے رہے نیز مریض ہونے کے باوصف ہمارا سامان اٹھانے تک سے انہوں نے گریز نہ کیا۔حالانکہ ہم اُن کی بیماری کے پیش نظر سامان خوداٹھانے کے لئے پر زور اصرار کرتے ۔آگے بڑھ کرسامان کو ان کی پشت وکمر سے زبردستی اتارنے کی کوشش بھی  کرتے رہے۔پھر انھیں اردو زبان سیکھنے کا بہت شوق تھا اسی لئے وہ سفر کے دوران میرے ساتھیوں سے اردو کے کئی ایک جملہ کاپی پر لکھوا کریادکرتے رہے۔

ہمارا یہ مختصر ساقافلہ چودہ رمضان المبارک کوئی نودس بجے حاجی صاحب موصوف کے ڈیرہ سے چلا اور آگے آنے والے ایک بہت اونچے اور برفانی پہاڑ کے نیچے شام کو جاٹھرا۔وہاں ایک بڑے پتھر کی اوٹ میں ہم نے رات بسر کی اور فجر کی نماز پڑھ کر ہم وہاں سے چل دیئے۔یہ 15رمضان المبارک کا رونتھا۔کوئی بارہ بجے کےقریب ہم اس پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گئے۔بفضل اللہ تعالیٰ علینا وتوفیقہ۔وادی پارون اور پپڑوک کے درمیان والے اس اونچے پہاڑ کی چڑھائی اور اترائی کاانتہائی دشوار گزار ہونا نورستان میں مشہور ہے۔محض اللہ تعالیٰ کے احسان وانعام سے ہم نے اس گھاٹی کو بھی طے کرلیا اور غروب آفتاب کے وقت ہم اس وادی پارون کے ایک بانڈے اورڈیرے میں پہنچ گئے۔رات رہیں رہے ڈیرہ والوں نے خوب مہمان نوازی کی ۔چنانچہ انھوں نے مکھن۔لسی۔دہی۔گھی۔اور گندم ومکی کی چپاتیاں پیش کیں۔اس ڈیرہ پر عبدالحنان نامی ایک نوجوان تھا۔وہ  ہماری مہمان نوازی میں پیش پیش تھا۔کہنے لگا میں نے آپ کو پاکستان میں دیکھا ہے۔"میرے ساتھی محمداشفاق نور پوری کا بیان ہے کہ" یہ عبدالحنان  ہمارے مدرسہ جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ میں رہ چکا ہے۔16 رمضان المبارک کو صبح کی نماز سے فارغ ہونے پر ڈیرہ والے ہم سے کہنے لگے ناشتے کئے بغیر ہم آپ کو ہر گز نہیں جانے دیں گے۔چنانچہ ناشتہ کرکے سورج طلوع ہونے کے بعد ہم اس ڈیرے سے چلے اورکوئی نو دس بجے اس جانب سے وادی پاروں کی پہلی بستی  سٹیوی میں پہنچ گئے۔اور سیدھے مسجد میں جا ٹھہرے۔بستی کے لوگ جوق در جوق ہمیں ملنے کےلئے آنے لگے جن میں گاؤں کی مجلس شوریٰ کے رئیس مولانا عبدالعزیز صاحب،جمیعت نوجوانان اورقریہ کے امیر حضرت مولانا امیر محمد صاحب ،جناب مولانا محمدخاں صاحب،واما کے مولانا محمد عمرصاحب حقانی اور مولانا جمال الدین صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔یہ جمال الدین صاحب بھی کسی وقت ہمارے مدرسہ جامعہ محمدیہ  گوجرانوالہ میں زیرتعلیم رہ چکے ہیں مل کر بہت خوش ہوئے اور ہمارے لئے قہوہ اور نورستانی حلوہ بنا کرلے آئے۔ظہر سے  پہلے ہی ہم وہاں سے چل دئیے  گاؤں کے لوگ ہمیں الوداع کہنے کے لئے ہمارے ساتھ گاؤں سے باہر تک آئے۔اور جمال الدین اپنے ساتھی گل محمد کے ساتھ ہمارا سامان اٹھائے کافی دور تک ہمارے ساتھ چلے۔ہم نے ان دونوں نیز گاؤں والوں کا بہت شکریہ ادا کیا۔ہاں مرکز کی طرف سے پوری وادی پارون کے امیر حضر ت مولانا امیر محمد صاحب کسی کام کی خاطر غربی نورستان کی وادی  کلم میں گئے ہوئے تھے،اس لئے جاتے ہوئے ان سے ملاقات نہ ہوسکی۔چلتے چلتے ہم وادی پارون سے ،مرکزی مجلس شوریٰ کےرکن مولانا محمد افضل صاحب کے گاؤں پرونس پہنچ گئے۔ مسجد میں  چندمنٹ کے لئے رکے،مولانا موصوف سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے ہمارا سامان اٹھا لیا۔دور تک ہمارے ساتھ چلے آئے۔اور ظہر کے بعد ہم بستی دیوا میں پہنچ گئے۔یہ مولاناعبداللہ طویل(شیرگل) کاگاؤں ہے۔ یہ مولانا عبداللہ طویل بھی ہمارے مدرسہ جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ میں تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں۔اور مرکز کی طرف سے اس علاقے کے کماندان ہیں،مل کر بہت خوش ہوئے اور ہمارے اتنے دور دراز پہاڑی علاقے میں پہنچنے پر دیگر نورستانیوں کی طرح بہت متعجب ہوئے۔انہوں نے ہمیں رات اپنے پاس رکھ لیا۔پھر دوسرے دن سترہ رمضان المبارک نماز ظہر کے بعد ہم دیوا سے چلے۔مولانا عبداللہ صاحب طویل نے اپنے بھانجے محمد سلیمان کو ہمارے ساتھ روانہ کیا۔مغرب سے پہلے ہی ہم گاؤں پشگی میں پہنچ گئے۔اورحاجی نادرشاہ صاحب کے مکان پر ٹھہرے۔حاجی صاحب موصوف اور اُن کے د ونوں بھائیوں مولانا عبدالحئ صاحب اور عبدالجبارصاحب نے ہماری مہمان نوازی میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔اوراٹھارہ رمضان کو بھی انہوں نے ہمیں جانے نہ دیا۔رات کومولانا میر عالم سے ملاقات کے بعد کوئی بارہ بجے تک تبادلہ خیال ہوتارہا۔اور مولانا عمر حقانی واما والے،جوہمیں اسٹیوی میں ملے تھے دیوا اور پشگی میں بھی ہمارے پاس پہنچ جاتے رہے وہ مجلس کو خوب گرماتے۔

محمد سلیمان صاحب تو پشگی پہنچتے ہی مغرب سے  پہلے واپس دیوا روانہ ہوگئے کیونک ان کاایک قریبی سخت بیمار تھا چنانچہ وہ اس بیماری میں چل بسا۔انا للہ وانا الی راجعون! نیز محمد ہمایوں بھی پشگی ہی سے واپس ہوگئے۔اور ہم انیس رمضان المبارک صبح  کی نماز پڑھ کر وادی کنتوا کو روانہ ہوئے۔حاجی نادر شاہ صاحب اور ان کے بھائی مولاناعبدالحئی صاحب نے اپنے چھوٹے بھائی عبدالجبار کو ہمارے ساتھ بھیجا۔ہم بوقت ظہر وادی کنتوا کی اس طرف سے پہلی بستی مم پہنچ گئے جہاں وادی کنتوا کے امیر مولانا محمد عبداللہ الامام اپنی بستی سے کوئی دوتین گھنٹے کی مسافت طے کرکے اپنے کثیر ساتھیوں سمیت موجود تھے۔مولوی عبدالجبار صاحب تھوڑی دیر مم میں رہنے کے بعداسی روز واپس آگئے۔تاہم مم والوں نے رات ہمیں وہیں ٹھہرا لیا۔اور ہماری خوب مہمان نوازی کی۔اہالیان گاؤں سے ملاقات ہوئی جن میں مم کے امیر مولانا محمد دین صاحب ،حاجی فیض الرحمٰن صاحب اور مولانا نظام الدین صاحب کے والد گرامی مولانا جمعہ خاں صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

یادرہے یہ نظام الدین صاحب اور وادی کنتوا کے امیر مولانا عبداللہ الامام دونوں ایک عرصہ ہمارے مدرسہ جامعہ محمدیہ میں تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں۔اس وقت ہمارے مدرسہ میں عبداللہ نامی طالب علم کئی تھے۔اسی لئے ان میں امتیاز کی ضرورت محسوس ہوئی۔چنانچہ وادی کنتوا کے امیر مولانا عبداللہ کو عبداللہ بن الفضل اورعبداللہ الامام کہا جانے لگا۔الامام اس لئے کہ وہ جامعہ میں نمازوں کے امام تھے۔اور دیوا کے مولانا عبداللہ شیر گل کو عبداللہ طویل کے لقب سے یاد کیاجانے لگا کیونکہ ان کی قامت قدرے طویل ہے۔اورقریہ علماء کے  عبداللہ کو عبداللہ بن الحاج کے نام سے پکارا جانے لگا۔یہ تینوں عبداللہ نورستانی ہیں۔ان سے عبداللہ بن الحاج کے ساتھ نورستان میں قیام کے دوران ہماری ملاقات نہیں ہوئی۔بندہ نے وہاں جمعہ کے خطبہ میں عبداللہ الامام سے متعلق کہا،ہمارے مدرسہ میں تو یہ صرف نماز پڑھانے والے پیش امام تھے۔مگر اب تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے انہیں نماز پڑھانے والے امام کے ساتھ ساتھ اسلامی حدود وتعزیرات تک نافذ کرنے والا امام بنادیا ہے۔نیز اس اجر وثواب میں ہمارے مدرسہ والے اور الامام کے تمام اساتذہ کرام بھی یقیناً شامل ہیں۔حتیٰ کہ ان کےاساتذہ کے اساتذہ الخ

بیس رمضان المبارک،کوئی آٹھ نو بجے ہم قریہ مم سے وادی کنتوا کے امیر حضرت مولانا محمد عبداللہ الامام کے گاؤں اسلامپٹ کی طرف روانہ ہوئے۔ابھی ہم اسلامپٹ سے تقریباً میل دور ہوں گے۔کیا دیکھتے ہیں کہ اسلام پٹ والے ایک گھوڑا لئے وہاں موجود ہیں۔میرے دونوں ساتھیوں،مولانا محمد عبداللہ الامام اور اُن کے ہمراہیوں نے اس بندہ کو گھوڑے پر سوار کرنے پر اتنااصرار کیا کہ مجھے گھوڑے پر سوار ہونا  ہی پڑا۔بس گھوڑے پر بیٹھنا ہی تھا کہ بندہ  کوعلم دین حاصل کرنے سے پہلے کی اپنی حالت یاد آگئی۔

سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ ﴿١٣﴾ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ

پڑھتے ہوئے تواضع اورخضوع سے بندہ کا سربارگاہ الٰہی میں اس وقت جھک گیا۔ اور نمناک آنکھوں سے اس حقیر پرتقصیر نے اللہ رب العزت کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا،اسی حالت میں ہم ظہر کے قریب اسلامپٹ میں پہنچ گئے۔اسلامپٹ والے ہمیں بڑے جوش وخروش سے ملے۔ہم یہی کہتے رہے کہ ہم صرف ایک دو روز یہاں قیام کریں گے۔مگر انہوں نے اس قدر اصرارکیا کہ ہمیں ان کے ہاں عید الفطر تک قیام کرنا پڑا۔اسلامپٹ والوں نے ہماری خوب مہمان نوازی کی۔اس سلسلے میں امیر کنتوا مولانا محمد عبداللہ صاحب ان کے بھائی عبدالجلال صاحب،مولانا شرف الدین کے بھائی حاجی عبدالمتین صاحب حاجی صاحب کےداماد عبدالجلیل صاحب،حاجی محمد یوسف صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔گھوڑا پیش کرنے والے مولانا اشرف الدین صاحب تھے۔مولانا عبداللہ الامام کےوالد گرامی حضرت مولانا فضل صاحب سے بھی ملاقات ہوتی رہتی اور کبھی کبھی مسائل پر تبادلہ خیال بھی ہوجاتا۔درالعلوم تعلیم الاسلام ماموں کانجن میں زیرتعلیم اسلامپٹ کے طلبہ سے بھی ملاقات ہوئی۔جس میں مولانا جمال الدین صاحب بھی شامل ہیں۔انہیں تحقیق مسائل کا بہت ذوق شوق ہے۔اللہ تعالیٰ انھیں علم وعمل کی دولت سے مالا مال فرمائے۔آمین!

"اسلام پٹ"میں "پٹ"نورستانی زبان کا لفظ ہے۔جس کا معنی ہماری زبان میں اونچی جگہ ہوتا ہے۔اس قریہ کا نام اسپٹ تھا۔"اس "نورستانی لغت میں راکھ کو کہتے ہیں۔پھر اسپٹ"کو"اسلام پٹ"سے  تبدیل کردیاگیا۔یہی وہ علاقہ ہےجہاں اب تک زنا کے تین مجرموں کو رجم کیا جاچکا ہے۔جن میں دو عورتیں تھیں۔یہ تینوں شادی شدہ تھے۔اور ایک زانی کو سو کوڑے لگا کر سال بھر کے لئے شہر بدر کیا گیا کہ وہ غیر شادی شدہ تھا۔یہی وہ وادی ہے سگریٹ وتمباکو نوشوں،نسوار وتمباکو خوروں اور نشہ آور اشیاء کھانے پینے والوں کو کوڑے لگائے جاتے ہیں۔داڑھی کترانے والوں کو بھی تعزیراً کوڑے مارے جاتے ہیں۔اور بلاعذر شرعی نماز باجماعت نہ پڑھنے والوں کو جرمانہ کیاجاتا ہے۔وہاں کئی لوگوں نے ہمیں بتایا کہ اہالیان اسلامپٹ تمام کے تمام سلفی ہیں،ان میں کوئی ایک بھی مذہبی نہیں۔اس علاقہ میں حدود وتعزیرات اسلامیہ کی پوری کاروائی ہم حضرت مولانا محمد عبداللہ الالام سے لکھوا کر لائے ہیں۔نیز بندہ نے مرکزی امیر جناب مولانا محمد افضل صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ سے تحریراً تقریباً بائیس سوالات کئے جن کے جوابات بھی انہوں نے ہمیں لکھ کردیئے۔پھر واپس آتے وقت اپنے ایک دوست سے ان سوالات کاایک مسودہ مل گیا جو مخالفین دولت،اہل دولت پرآئے دن کرتے رہتے ہیں۔اور  ان سوالات کے جوابات بھی خود حضرت الامیر نے قلمبند فرمائے ہیں۔امید ہے یہ تینوں مسودات ایک کتابچہ کی شکل میں شائع ہوجائیں گے۔ان شاء اللہ تعالیٰ!عیدالفطر کے دن بعد نماز عصر ہم اسلامپٹ سے قریہ علیا کی طرف روانہ ہوگئے۔کیونکہ جناب محمد رحیم خاں نے ہمیں وہاں مدعو کیا ہواتھا۔ہم نے نمازمغرب وہاں جا کر ادا کی۔اہالیان قریہ سے ملاقاتیں ہوئیں۔جناب محمد رحیم خاں نے وہ مہمان نوازی کی جس سے اولیں عرب کی مہمان نوازیوں کی یاد تازہ ہورہی تھی۔بندہ نے وہاں نورستانی لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا،آپ بڑے خوش قسمت لوگ ہیں کہ اسلام کے تمام احکام پر عمل کرتے ہیں۔وہ بھی برضاورغبت خواہ ان احکام کاتعلق سزاسے ہی کیوں نہ ہو۔تو جناب محمد رحیم خاں نے جوابا ً فرمایا،"دراصل یہ کام پاکستانی علماء کا ہے۔بدیں وجہ کہ نورستانی لوگ دینی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے پاکستان گئے۔وہاں سے دینی علوم کے ساتھ آراستہ ہوکر واپس وطن لوٹے تو انہوں نے واپس آکر اپنے وطن نورستان میں اسلامی نظام قائم کرلیا۔"

بیان کوجاری رکھتے ہوئے انہوں نے فرمایا،"دیکھئے(دولت اسلامیہ کے)امیرمولانا محمد افضل صاحب،(وادی کنتوا کے امیر) مولانا محمد عبداللہ الامام اور(دولت کے رئیس الامور الخارجیہ)مولانا محمد ابراہیم صاحب بھی پاکستان میں دینی علوم کی تحصیل فرماچکے ہیں۔

2۔شوال کو ہم محمد رحیم خاں کے پاس ناشتہ کرنے کے بعد صبح صبح ہی اسلامپٹ واپس لوٹ آئے۔اور پاکستان واپس آنے کی غرض سے نمازظہر کے بعد ہم نے اسلام پٹ سےسفر کاآغاذ کردیا۔اسلام پٹ سےامیر علاقہ مولانا محمد عبداللہ الامام مولانا محب اللہ صاحب،مولانا محمداکبر صاحب،جناب خیر اللہ صاحب،جناب عبدالشکور صاحب اوردیگر احباب ہمارے ساتھ ہولیے۔مغرب کے وقت ہم مم کے قریب محمدر حیم خاں کے رشتہ داروں کے مکان پر پہنچ گئے انہوں بھی اپنے روایتی طریقہ کے مطابق ہماری بہترین مہمان نوازی کی۔صبح تین شوال کوہم بعد ازناشتہ چلے اور مولانا محمد عبداللہ الامام اور ان کے ساتھیوں کے علاوہ قریہ مم کے امیر محمد دین صاحب ،جنا ب جمعہ گل صاحب اور نظام الدین بن جمعہ خاں صاحب بھی ہمارے ساتھ چل دئیے۔یہ تینوں ہمیں اپنے پاس ٹھہرانے کی غرض سے پہلے ہی اسلام پٹ پہنچے ہوئے تھے اور وہیں سے ہمارے ساتھ آرہے تھے۔چنانچہ اس مقام سے اسلام پٹ کے کچھ دوست توواپس چلے گئے۔اور باقی دوتین دن کی مسافت طے کرتے ہوئے ہمارے ہمراہ اسٹیوی تک پہنچے جس پر ہم ان کے انتہائی شگر گزار ہیں۔مم سے چل کر مغرب سے کوئی ڈیڑھ دو گھنٹے قبل پشگی میں پہنچ گئے۔رات وہاں حاجی نادر شاہ صاحب،مولوی عبدالحئی صاحب ااور مولوی عبدالجباور صاحب کے ہاں ٹھہرے۔4۔شوال کو صبح بعداز ناشتہ ہم پشگی سے روانہ ہوئے تو مولانا  عبدالحئی صاحب بھی ہمارے ساتھ ہولئے۔پھر ہم بستی زم اور پشتگی سے گزرتے ہوئے مولانا عبداللہ طویل (شیر گل) کے گاؤں دیوا میں  پہنچے تو نمازظہر باجماعت مولوی شیر گل کی امامت میں ادا کی۔انہوں نے ہمیں دوپہر کاکھاناکھلایا اور عصرکے قریب جب ہم دیوا سے روانہ ہوئے تو مولوی عبداللہ طویل (شیر گل) بھی ہمارے ساتھ چل پڑے۔شام کے قریب ہم پرونس پہنچ گئے۔وہاں ہم مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن مولانامحمد افضل صاحب کے مہمان خانہ میں رات ٹھہرے۔اس مقام پر پشتگی کے مولانا محمد افضل صاحب سے بھی ملاقات ہوگئی۔جو دولت کے مرکز نیکموک میں کچھ وقت ٹھرنے کے بعد اپنے گاؤں پشتگی میں واپس جارہے تھے۔پرونس میں شام کاکھانا  تو ہمیں مولانا عبدالقادر صاحب سلفی نے کھلایا کہ انہیں علم ہوا یہ لوگ ہمارے پاس آئے ہیں۔عقیقہ کی  تقریب کی مناسبت سے کھانا تو کھانا انہوں نے ہی تیار کیا ہوا تھا۔موقع کو غنیمت جانتے ہوئے انہوں نے ہم د س بارہ افراد کو بھی د عوت دے دی۔اور صبح کو مولانا محمد افضل صاحب پرونسی نے ہمیں خودکھانا کھلایا۔یہ پانچ شوال کی بات ہے کھانے کے بعد ہم پرونس سے چل کر عصر سے پہلے اسٹیوی پہنچے تو تھوڑی دیر بعد  افضلین پرونس کے مولانا محمد افضل اورپشتگی کے مولانا محمد افضل بھی ہمارے پاس پہنچ گئے۔اور اسلام پٹ سے لے کر پرونس تک تمام بستیوں سے آئے ہوئے لوگ 7 شوال کوہمیں اسٹیوی سے پپڑوک کی طرف روانہ کرنے کے بعدواپس ہوئے،جس پر ہم ان کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔5۔شوال سے 7 شوال تک دو تین دن اسٹیوی والوں نے ہمیں باصراراپنے پا س ٹھہرالیا۔اس اصرار میں وادی پارون کے امیر مولاناامیر محمد صاحب ،مولانا محمد خاں صاحب،جمال الدین صاحب،مولانا عبدالعزیز صاحب،حاجی جمعہ دین صاحب اوردیگر احباب پیش پیش تھے۔اسٹیوی میں یہ دو تین روز ہم حاجی جمعہ دین کے مہمان خانہ میں ٹھہرے۔انہوں نے خوب مہمان نوازی فرمائی۔اسٹیوی والوں نے پاکستان آنے والے ایک قافلہ کے ساتھ ہمیں روانہ کیا۔رات ہم پہاڑوں میں ایک بانڈے پر رہے اور آٹھ شوال کو ہم پپڑوک پہنچ گئے۔جب کہ عصر کے بعد ہم حاجی عثمان صاحب کے ڈیرے پر تھوڑی دیر ٹھہرے۔وہاں کھانا کھالیا اورلسی پی۔رات ہم پپڑوک میں حاجی عثمان صاحب کے ہاں ٹھہرے اور اگلے روز 9۔شوال کو ہم مرکز نیکموک میں پہنچ گئے۔جبکہ راستے میں ہم نےپل  رستم میں مولانا محمدانور صاحب کے پاس چائے پی اورپپڑوک میں پرونس سے پاکستان آنے والے کمال الدین صاحب کاقافلہ ہمیں مل گیا۔چنانچہ نیکموک تک وہ ہمارا سامان اپنے گھوڑے پر لادے ہوئے  نیکموک میں امیر صاحب سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ انہیں ہم نے  سفر کی روئیداد پیش کی اور ایک دو روز کے بعد جب ہم نیکموک سے چلے تواسٹیوی کے جمال الدین کا قافلہ ہمیں مل گیا جو پاکستان آرہاتھا۔انہوں نے ہمارا سامان گھوڑے پر لاد لیا۔پھر یہ جمال الدین صاحب اوراُن کے ایک ساتھی چترال میں ہمیں بس پر بٹھا کر واپس ہوئے ۔فجز اہمااللہ تعالیٰ احسن الجزاء

سابقہ تحریر سے یہ بات عیاں ہے کہ تمام نورستانی لوگ بہت مہمان نواز ہیں۔البتہ وادی کنتوا والے اس وصف میں بہت  آگے ہیں۔جس قدر علاقہ میں ہم گھومے پھرے،کوئی نورستانی نے نماز نہ دیکھا نہ سنا۔اورایسے ہی بے روزہ نہ دیکھا نہ سنا۔پھر نورستانیوں میں کوئی داڑھی منڈوانے والا دیکھنے میں نہیں آیا۔نورستانی عورتیں پردہ کی بہت پابند ہیں۔ہم نے وہاں  غیر نورستانی عورتوں کو بے پردہ پایا۔مگر کوئی ایک بھی نورستانی  عورت بے حجاب نہ پائی۔نیز جتنے علاقے میں ہم گئے کہیں بھی باجے گانے کی آواز تک  نہ سنی۔کیونکہ انہوں نے اس پر پابندی لگا رکھی ہے۔اور ویسے بھی لوگ ازروئے دینداری ایسی خرافات سے نفرت کرتے ہیں۔البتہ نورستانی قوم ماد ی وسائل میں بہت پیچھے ہے۔تمام مسلمانوں کوچاہیے کہ اس سلسلہ میں ان لوگوں کاتعاون کریں۔تعاون کی بجائے ان کی مخالفت کرنا۔پھر ان پر کیمونسٹ اور دہریہ یا روس نواز ہونے کی پھبتی کسنا اسلام اور مسلمانوں کی کونسی خدمت ہے؟یاد رہے دولت اسلامی والے نہ کیمونسٹ ہیں نہ سوشلسٹ ،نہ روس نواز،نہ چین نواز،نہ مشرک نہ بدعتی خرافی اور نہ ہی اہل ہویٰ ومذہبی! وہ تو خالص کتاب وسنت کے پابند وداعی اور پکے سچے سیدھے سادھے مسلمان و مومن ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین یا رب العالمین!