قربانی کی شرعی حیثیت:
قربانی کی اصل حقیقت متعین کرنے کے لئے ضروری ہے۔پہلے قرآن مجید پھر حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اقوال صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  اور ائمہ پر غور کریں۔اور پھر تاریخ اسلام پر نظر ڈالیں۔اس سے قربانی کے متعلق منشاء الٰہی اسوہ حسنہ اور عمل صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  کا علم ہوگا۔اوراس کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوگا۔
قرآن مجید اورقربانی:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ﴾[1]
" اور ہم نے ہر ایک اُمت کے لئے قربانی مقرر کردی  تاکہ وہ لوگ اللہ کا نام لیں ان جانوروں پر جو اللہ نے اُن کوعطافرمائے ہیں۔"
نیز فرمایا:
﴿وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُم مِّن شَعَائِرِ اللَّـهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ﴾[2]
"قربانی کے جانوروں کو ہم نے اللہ کے دین کی یادگار بنایا ہے تمہارے حق میں ان کے اندر بھلائی رکھ دی گئی ہے۔"
شعائر اللہ کے بارے میں ارشاد ہوا:
﴿وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّـهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾[3]
کہ"جو کوئی شعائر اللہ کا ادب کرے گا۔تو یہ دلوں کی پرہیز گاری میں سے ہے۔"
مشہور صحابی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور معروف تابعی مجاہد ؒ اس کا مفہوم یوں بتاتے ہیں:
[4]استعظامها واستسهاهنا واستحسانها
"اس کی عظمت کاخیال رکھنا ،اس کا موٹا تازہ اور اچھا ہونا"
نیز فرمایا:
﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾[5]
فرما دیجئے،میری نماز،میری قربانی،میری زندگی اور میری موت جہانوں کے پروردیگار کے لئے ہے!"
سورۃ الحج میں فرمایا:
﴿لَن يَنَالَ اللَّـهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَـٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ﴾[6]
"اللہ کے پاس نہ ان کاگوشت پہنچتا ہے۔اور نہ اُن کا خون البتہ اس کے پاس  تمہارا تقویٰ  پہنچتا ہے۔"
سورۃ الکوثر میں یوں ارشاد ہوا:
﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾[7]
"آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے ر ب کی نماز پڑھئے اور قربانی کیجئے!"
ان  آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی پہلی امتوں میں بھی تھی اور یہ دین الٰہی کی یادگاروں میں سے ایک ہے۔جس کی تعظیم اہل ایمان کاکام ہے۔قرآن مجید کے تمام  مترجمین،شاہ عبدالقار جیلانی،شاہ رفیع الدین،مولانا محمود الحسن،مولانا اشرف علی  تھانوی،ڈپٹی نزیراحمد،مولانامودودی،مولانا عبدالماجددریا آبادی،مولانا ثناءاللہ امرتسری اور مولانا عبدالستار (رحمہم اللہ) وغیرہ نے بالاتفاق"والنحر" کے معنے قربانی کرنے کے کئے ہیں۔جانور کی قربانی سےلے کر اللہ تعالیٰ انسان کو دوسری ہرقسم کی قربانی کے لئے  تیار کرنا  چاہتے ہیں۔اس میں وقت ،مال،اولاد،حتیٰ کہ اپنی جان کی قربانی بھی شامل ہے۔
قربانی اور حدیث نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم):
قربانی کے مسئلے پر جو اعتراضات ہوئے ہیں ان میں سے ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ قربانی کا  تعلق حج سے ہے۔اورصرف حجاج کرام ہی قربانی کرسکتے ہیں۔صاحب مضمون نے قربانی کی نفی کرکے اس کی بجائے صدقہ کرنے کا ایک نیاشوشہ چھوڑا ہے جسے دیکھ کر حیرت ہوئی ۔یہاں ہم ایسی احادیث درج کرتے ہیں  جن میں ان دونوں اعتراضات کا مکمل رد ہوگا۔

1۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"سب سے پہلا کام جس سے ہم آج کے دن کی ابتداء کرتے ہیں ۔یہ ہے کہ ہم نماز پڑھتے ہیں اور قربانی کرتے ہیں ۔جس نے اس پر عمل کیا اس نے ہمارے طریقے کو پالیا۔اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کرلیا تو اس کا شمار قربانی میں نہیں بلکہ وہ گوشت ہے جو اس نے اپنے گھروالوں کے لئےمہیا کیا۔"[8]

2۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے۔(جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال تک خدمت کرتے رہے)کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا د فرمایا:

"جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا تو اس نے اپنے لئے ذبح کیا اور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا اس کی قربانی پوری ہوگئی اور اس نے مسلمانوں کا طریقہ پالیا۔"[9]

3۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ "حضور صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی قربانی کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھوں کی قربانی کرتا ہوں۔"[10]

4۔حضرت نافع،حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت کرتے ہیں کہ"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ میں ہی قربانی کیاکرتے تھے۔یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کرنے کی جگہ پر"[11]

5۔حضرت  عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ"ہم مدینہ میں قربانی کے گوشت کو نمک لگا کر رکھ دیا کرتے  تھے اور پھر اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔"[12]

6۔یحییٰ بن سعید کہتے ہیں،میں نے ابو امامہ بن سہل انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے سنا وہ کہتے تھے کہ"ہم مدینہ میں قربانی کے جانور کو خوب کھلا پلا کرموٹا کرتے تھے۔اورعام مسلمانوں کا یہی طریقہ تھا۔[13]

7۔ابو عبید مولا ابن ازہر سے روایت ہے(مشہور تابعی)کہ انہوں نے حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے ساتھ عید الاضحیٰ کے روز نماز(عید) پڑھی۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے پہلے نماز پڑھائی پھر خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا:

"لوگو!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام کو ان دونوں عیدوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔ان میں سے ایک عید تو روزوں سے افطار کادن ہے اوردوسری عید میں تم قربانی کا گوشت کھاتے ہو۔"[14]

8۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اپنی بیٹیوں کو حکم د یا کہ وہ ا پنی قربانی خودذبح کریں۔[15]

9۔حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  میں قربانیاں تقسیم کیں۔[16]

10۔حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کاگوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سےمنع فرمایا،پھر فرمایا"کھاؤ اور جمع کرو!"[17]

11۔حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سےروایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا!صرف مسنہ(دودانت والا)ذبح کرو۔اگر مشکل  پڑ جائے تو بھیڑ کاجذعہ(ایک سال کا)ذبح کرو۔[18]

12۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں دس سال رہے اور ہمیشہ قربانی کرتے رہے۔[19]

13۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ۔"قربانی کے دن اللہ تعالیٰ کو انسان کے عملوں میں سے خون بہانے سے بڑھ کرکوئی عمل محبوب نہیں ہے۔قربانی کا جانورقیامت کے روز اپنے سینگوں،بالوں،اور کھروں سمیت آئےگا۔نیز قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاں درجہ قبولیت اختیار کرلیتا ہے۔لہذا قربانی خوشی سے کیا کرو۔"[20]

14۔حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:

"فما لنا فيها يا رسو ل الله"

"اے اللہ کےرسول  صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے اس (قربانی) میں کتنا ثواب ہے؟"فرمایا:

بكل شعر حسنة

"ہربال کے بدلے ایک نیکی"

صحابہ کرامرضوان اللہ عنھم اجمعین  نے دوبارہ پوچھا،اُون کے متعلق کیا خیال ہے؟"  فرمایا،اُون کے بھی ہربال کے بدلے ایک نیکی ہے۔"[21]

15۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ"ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے،عید قربان آگئی تو ہم گائے میں سات اور اونٹ میں دس آدمی شریک ہوئے۔"[22]

16۔حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہےکہ"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کے عہد میں آدمی اپنے اپنے اہل کی طرف سے ایک بکری ذبح کرتا تھا۔"[23]

17۔حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے ر وایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،جو شخص استطاعت رکھتا ہو پھر قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے"( من وجد سعة فلم يضح فلا يقربن مصلانا )[24]حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے ،ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ ہم جانور کی آنکھوں اور کانوں کوخوب غور سے دیکھ لیں۔ہمیں اس جانور کی قربانی سے منع فرمایا جس کےکان کااگلہ حصہ پچھلا حصہ کٹا ہوا ہویا کان پھٹا ہوا ہویا جس کے کان میں سوراخ ہو"[25]

19۔براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرماتے ہیں کہ"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چار قسم کے جانوروں کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔(لنگڑا جس لنگڑا پن ظاہر ہو(2) کانا جس کا کانا پن ظاہر(3)بیمار جس کی بیماری ظا ہر ہو۔(4) کمزور جس کی ہڈیوں میں مغز باقی نہ رہاہو۔"[26]

یہ احادیث صحاح ستہ اور دیگر معبر کتب احادیث سے در ج کی گئی ہیں۔ان تمام احادیث میں نیز صحابہ کرامرضوان اللہ عنھم اجمعین  اور ان کے عمل سے معلوم ہوتا ہے۔کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کی اور دیگر مسلمانوں کے لئے جو قربانی کرنے کی طاقت رکھتے ہوں۔اس کو ضروری قراردیا۔اورقربانی کے دن خون بہانے کے عمل کو سب چیزوں سےبڑھ کر پسندیدہ بیان فرمایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے اونٹ گائے اور بھیڑ اور بکری کی قربانی کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب جانوروں کی عمر کے متعلق بھی ہدایات فرمائیں۔ان کو دیکھ بھال کر خریدنے کا حکم دیا اور نقص دار جانور کو ذبح کرنے سے منع فرمایا۔عورتوں کی قربانی ان کے اپنے  ہاتھ سے ذبح کرنے کاثبوت ملتاہے۔ اور میت کی طرف سے قربانی کرنا بھی درست ثابت ہوا۔اونٹ اورگائے میں حصہ دار شامل ہوسکتے ہیں۔قربانی کے گوشت کوتین دن سے زیادہ رکھنا بھی درست ہے۔طاقت رکھنے کے باوجود جو لوگ قربانی نہ کریں۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہوں میں مغبوض ہیں۔ایک آدمی جو ادنیٰ معرفت بھی رکھتا ہو وہ جانتا ہے کہ یہ ایسی احادیث ہیں جن پر انگشت نمائی نہیں کی جاسکتی۔اگر محض اعتراض کرنا ہی مقصود ہو تو لوگ اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔قرآن مجید کے منکر بھی موجود ہیں۔احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قطعی منکر بھی مل سکتے ہیں۔ اہل علم نے ان تمام کے جوابات دیے ہیں۔

قربانی۔صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  ،تابعین اور دیگر ائمہ:

اوپر کی احادیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کاقربانی کرنا ثابت ہوچکا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کاقربانی کرنا بھی بیان ہوا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے خطبے میں عید الاضحیٰ کو قربانی کاگوشت کھانے کادن قرار دیا۔صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی بیٹیوں کا خود قربانی کو ذبح کرنا معلوم ہوا۔حضرت ا بو امامہ  بن سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے دیگر صحابہ کرامرضوان اللہ عنھم اجمعین  کا عمل بھی قربانی کرنے کابتایا ہے۔تاہم اس سلسلے میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے دیگراقوال ،اعمال،تابعین اوردیگر ائمہ (رحمہم اللہ تعالیٰ) کی رائے بھی درج کی جاتی ہے۔

1۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فرمایا،"قربانی سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔"[27]

2۔حضرت محمد بن سیرین مشہور تابعی ہیں۔انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے پوچھا،"کیاقربانی واجب ہے؟" تو انہوں نے ارشادفرمایا:

ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَالْمُسْلِمُونَ وَجَرَتْ بِهِ السُّنَّةُ[28]

کہ"  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کی اور مسلمانوں نے بھی قربانی کی اور یہ سنت جاری ہوگئی۔"

ترمذی میں بھی ایسی ہی ان سے ایک روایت ہے،الفاظ کا آخر میں تھوڑا سافرق ہے۔

3۔حضرت عطاء ؒ سے روایت ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے قربانی خریدی وہ گم ہوگئی توانہوں نے اورخریدی پھر وہ پہلی بھی مل گئی  تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے  دونوں کوذبح کردیا اور فرمایا،یہ بات اللہ  تعالیٰ کے علم میں تھی کہ میں دونوں کوقربان کروں گی۔"[29]

4۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اپنے پورے اہل خانہ کی طرف سے ایک قربانی کرتے تھے۔[30]

5۔حضرت عمر اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے قربانی کیاکرتے تھے۔[31]

6۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹ قربانی دیے تریسٹھ اپنے ہاتھ سے ذبح کیے باقی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو حکم دیا ۔انہوں نے ذبح کیے۔[32]

7۔معالم السنن میں امام خطابی نے لکھا ہے:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو مد نظر رکھ کر حضرات ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ایک بکری کو ایک آدمی اور اس کے اہل خانہ کی طرف سے کافی سمجھتے تھے۔امام مالک ؒ ،امام اوزاعیؒ،امام شافعیؒ،امام احمد بن حنبل ؒ،اور اسحاق بن راہویہ ؒ،بھی اس کو جائز سمجھتے ہیں۔[33]

8۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ۔حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔حضرت بلالرضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ حضرت ابو مسعود بدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ۔اس کو سنت موکدہ قرار دیتے ہیں۔سید التابعین حضرت سعید مسیب ؒ ۔علقمہ ؒ۔اسود ؒ۔اورعطاء ؒ چاروں مشہور ومعروف تابعی بھی اس کو سنت موکدہ قرار دیتے ہیں۔حضرت امام مالک ؒ ۔امام احمد بن حنبل ؒ۔اور امام شافعیؒ اس کو سنت موکدہ کہتے ہیں۔حضرت امام ابو حنیفہ ؒ اس کے وجوب کے قائل ہیں۔

9۔امام مالک ؒ نے فرمایا،قربانی سنت ہے میں کسی کے لئے اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اس کی استطاعت رکھنے کے باوجود اسے چھوڑ دے۔"[34]ان اقوال ،اعمال صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  اور تابعین ؒ اور ائمہ متقدمین ؒ سے ثابت ہوا کہ قربانی سنت نبوی ہے۔اور ان لوگوں نے اس سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کیا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ۔حضرت ابو مسعود بدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  اس کو سنت موکدہ قرار دیتے ہیں۔ان کی موجودگی میں قربانی نہ کرنے کے اقوال صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  کی کوئی وقعت ہی نہیں رہتی۔لیکن اصرار کیا بھی جائے تو اس میں تصریح یہ موجود ہے۔کہ لوگ فرض قرار نہ دے دیں۔امام شافعی ؒ نے اپنی کتاب میں اس بات کااظہار فرمایا ہے۔

امام سرخسی نے لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  مالی عسرت کی حالت میں ایک دوسال قربانی نہیں کرتے تھے کہ لوگ اسے فرض نہ سمجھ لیں۔دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے اقوال کے متعلق بھی یہی بات ہے۔[35]شہاب صاحب کے استدلال کی اہم کتاب"نیل الاوطار'میں جہاں ان کی درج کردہ روایات کا ذکر ہے۔وہا ں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔اورابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔کا ذکر کرکے لکھاگیا ہے:

ولا حجة في شئي من ذلك

کہ"یہ بات کہ یہ لوگ قربانی نہیں دیتے تھے قابل حجت نہیں ہے۔"[36]

لیکن یہ بات ان کو نظر نہیں آئی حالانکہ علمی دیانت کا تقاضا تھا کہ اس کو  بیان کردیتے۔ان تمام باتوں کے باوجود قابل حجت کتاب وسنت ہیں۔قربانی کے سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کی یہ بہت بڑی دلیل ہے۔کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک سے آج تک مسلمان نسلاً بعد نسل اس پر عمل کرتے رہے ہیں۔اگر یہ عمل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایجاد کیا گیا ہوتا تو اس کی تاریخ ایجاد کا علم ہوتا!اس کے موجد کے متعلق مورخین اپنی کتب تاریخ میں ذکر کرتے۔جس نے اس کو تمام مسلمانوں میں رائج کیا۔اس کے مقام ایجاد کی نشاندہی کی جاتی۔لیکن ایسا نہیں ہے۔اور نہ ہی کسی محدث یا مورخ نے اس کو اس طریقے پر ایجاد شدہ عمل قرار دیا گیا۔اوراگر ان تمام دلائل کے باوجود قربانی کے موضوع ہونے کا  خیال ہے۔تو یہ سلسلہ صرف قربانی پر ختم نہیں ہوگا ۔بلکہ ۔نماز ۔روزہ۔حج زکواۃ بلکہ قرآن مجید بھی مشکوک ہوجائےگا۔کیونکہ جن زرائع سے ہمیں قربانی ملی ہے انہیں زرائع سے یہ چیزیں بھی ہمیں ملی ہیں۔

3۔پرندوں کی قربانی اورحاجت مند کی حاجت براری:

قرآن مجید میں قربانی کے متعلق جیسا کہ پہلے بیان ہوا یہ ارشاد ہے:

﴿لِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّـهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ﴾

"ہم نے ہر ایک امت کے لئے قربانی مقرر کردی تاکہ وہ لوگ اللہ کا نام لیں ان جانوروں پر جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا  فرمائے ہیں۔"

جن انعام(چوپایوں) کی قربانی کی جانی چاہیے ان کے متعلق قرآن مجید میں دوسرے مقام پر زکر ہے:

﴿وَمِنَ الْأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا ۚ كُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّـهُ وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ﴿١٤٢﴾ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ ۖ مِّنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ ۗ قُلْ آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنثَيَيْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الْأُنثَيَيْنِ ۖ نَبِّئُونِي بِعِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿١٤٣﴾ وَمِنَ الْإِبِلِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ﴾

"چوپایوں سے بڑے قد کے بھی ہیں اور چھوٹے قد کے بھی ۔اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو کچھ دےرکھا ہے اس میں سے کھاؤ اور شیطان کے نقشے قدم پر نہ چلو وہ تو تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔آٹھ جوڑے( پیدا کئے)دو قسمیں بھیڑوں سے دو قسمیں بکری میں سے۔آپ کہہ دیجئے آیا دونوں نروں کو (اللہ نے ) حرام کیا ہے یادونوں ماداؤں کو یا اس (بچہ) جس کو وہ مادائیں اپنے رحم میں لئے ہوئے ہیں۔اگر تم سچے ہو تو مجھے دلیل کے ساتھ بتاؤ۔اسی طرح اونٹ میں بھی دو قسمیں اور گائے میں بھی دو قسمیں۔

ربیع بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے روایت ہے۔کہ حمولة (بڑے قد یابوجھ اٹھانے والے) سے مراد اونٹ اور گائے ہیں اور فرشا (چھوٹے قد کے یازمین سے لگے ہوئے)سے مراد بھیڑ اور بکری ہیں۔[37]

عربی میں زوج کا لفظ مذکر اور مؤنث دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔تفسیر طبری میں ہے:

الذكر زوج الانثي والانثي زوج الذكر[38]

"مذکر مؤنث کا زوج ہے اور مؤنث مذکر کازوج ہے۔"

جن جانوروں کی قرآن مجید نے وضاحت کی ہے ان کے علاوہ کسی جانور کی قربانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔لہذا کسی اور کی جائز نہ ہوئی۔جیسا کہ مرعاۃ المفاتیح میں یہ لکھا ہے:

لا يجزئ في الأضحية غير بهيمة الأنعام لقوله تعالى: {ليذكروا اسم الله على ما رزقهم من بهيمة الأنعام} [الحج: 34] ، وهي الإبل والبقر والغنم والنغم صنفان المعز و الصنان ولانه لم ينقل عن النبي ولا عن الصحابة التضحية بغير الابل والبقر والغنم  [39]

"بہیمۃ الانعام کے علاوہ قربانی نہیں ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہی ارشادفرمایا ہے اور وہ اونٹ ،گائے اورغنم ہیں۔غنم کی دو قسمیں ہیں،بکری اور بھیڑ۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  سے اونٹ ،گائے اور غنم کے علاوہ کسی جانور کی قربانی مروی نہیں ہے۔"(بعض علماء نے بھینس کوگائے کی قسم قرار  دے کر اس کی قربانی کو جائز لکھا ہے جبکہ بعض بطور احتیاط اس کو بھی جائز نہیں سمجھتے۔(مرعاۃ المفاتیح)

مُرغا تو ا یک پرندہ ہے۔یہ انعام میں شامل ہی نہیں ہے۔حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے جو مرغا قربانی کرنے کی روایت ہے اس کے متعلق"نیل الاوطار"کی عبارت لکھی جاچکی ہے کہ وہ قول ضعف کی بناء پر قابل حجت نہیں۔ویسے بھی اجماع صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے خلاف اگر کسی صحابی کا مفرد قول ہوتو اس کو قبول نہیں کیا جاسکتا جبکہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے عمل کی تو صحت ہی مشکوک ہے۔اس بات کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"مسنہ"(دودانت والا) کے علاوہ کوئی جانور ذبح نہ کرو۔اگر مشکل ہوتو بھیڑ کاجذعہ ذبح کرو۔"(صحیح مسلم)

لسان العرب میں ہے،اس گائے اور بکری پر مسنۃ کااطلاق ہوگا جو اپنے دودانت گرادے۔"[40]

حافظ ابن حجر ؒ عسقلانی نے بھی مسنہ کی یہی تعریف کی ہے۔[41]

شیخ  عبدالحق محدث دہلوی ؒ نے لکھا ہے:

"وجہ تسمیہ بمسنہ ان است کہ وے فی انداز  دودندان پیش راکہ آں را ثنایا گوینددریں عمر"[42]

"مسنہ کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس عمر میں وہ اپنے گلے دود انت گرا دیتا ہے جنھیں ثنایا کہتے ہیں۔"

"جذعہ" کے متعلق حافظ ابن حجر ؒ نے یہ لکھا ہے:

جماعة من الصنان ما اكمل السنة [43]

"بعض علماء نے اس سے کم بھی لکھا ہے علامہ سیوطی ؒ نے لکھا ہے:

والجدع ماله سنة وهو الا شهر عند  اهل اللغة وغيرهم [44]

"جزع وہ ہے جو ایک سال کا ہو۔یہ بات اہل لغۃ اور دیگر علماء کے نزدیک مشہور ہے۔"

اس لغوی تشریح سے معلوم ہوا کہ دودانت گرانے والا مسلمہ ہوتا ہے اور اس سے کم جزع ہوتا ہے۔اور ان کا اطلاق صرف جانوروں پر ہی ہوسکتا ہے۔دو دانت والے کی تاکید اور پھر کان سینگ ،لنگڑا وغیرہ جن کاذکر پہلے ہوچکا ہے۔جوپایوں میں ہی ممکن ہیں،پرندوں میں ان کاپایا جانا خلاف واقعہ اور محال محض ہے۔اسلئے قربانی کے سلسلہ میں پرندے صاف طور پر خارج از بحث ہیں۔چنانچہ موصوف کاپرندے کی قربانی کے سلسلہ میں امام ابن حزم کے قول سے استدلال باطل ہے۔عیدالاضحیٰ کے دن اللہ تعالیٰ کو انسانی اعمال میں سے خون بہانے کے عمل سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں ہے۔قرآن وحدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے  کہ قربانی در اصل ابراہیم واسماعیل (علیہماالسلام) کی اطاعت خداوندی کا سبق یاد دلا کر ہمیں اس کےلئے تیار کرتی ہے۔کہ صرف جانور نہیں بلکہ اگر بیٹے کی گردن پرچُھری چلانے کاحکم ملتا تو ہم اس کے لئے بھی تیار ہیں اوراپنی جان بھی ہر قسم کی قربانی کے لئے حاضر ہے۔

ہرکہ دراقلیم لاآباد شد                                                          فارغ از بند زن واولاد شد

م کند ازما سویٰ قطع نظر                                                         مے نہد ساطور برحق پسر

قربانی کے بدلے میں کوئی اور چیز  درجہ قبولیت حاصل نہیں کرسکتی۔شرح مشکواۃ میں لکھا ہے۔"قربانی واجب ہویا سنت،اس کی قیمت صدقہ کرنا درست نہیں ہوسکتا۔کیونکہ کسی ضعیف سند سے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء سے کبھی بھی یہ بات ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے قربانی پرصدقہ کو ترجیح دی ہو۔قربانی کی قیمت ادا کرنے سے شعائر اسلام میں سے بہت بڑاشعار ترک ہوتا ہے۔ذبح کرنا اور خون بہانا اصحاب وسعت پرلازم ہے۔"[45]گیارہویں صدی ہجری کی فقہ حنفیہ کی مشہور کتاب در مختار ہے:

"قربانی کارکن قربانی کے جانور کا ذبح کرنا ہی ہے کیونکہ اس میں واجب الامر جانور کا خون بہانا ہے۔"[46]علامہ شامی اس قول کو تشریح میں فرماتے ہیں:

"خون بہانے کے وجوب کی دلیل یہ ہے کہ اگرکوئی شخص قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کی بجائے زندہ حالت میں ہی صدقہ کردے تو یہ امرہرگز جائز نہیں ہے۔اور یہ صورت قربانی کی ادائیگی کی نہیں سمجھی جائے گی۔"[47]

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"کوئی د وسری صورت قربانی کا بدل نہیں ہوسکتی اگر کسی نے قربانی کی بکری ذبح کرنے کی بجائے زندہ حالت میں کسی کوبطور صدقہ دے دی تو اس شخص کے ذمہ بدستور قربانی بحال رہے گی۔"[48]

مذاہب عالم کے مشہور عالم دین مولانا ثناء اللہ امرتسری ؒ کے فتاویٰ میں ہے:

"قربانی کے عوض نقدی دینا قرآن وسنت سے ثابت نہیں ہے۔"[49]قرآن وحدیث کے اصل احکامات میں موشگافیاں کرنے کی بجائے اُن کو ماننا ہی عبادت واطاعت کہلاتا ہے۔

آخری گزارش:عید الاضحیٰ کے دن قربانی ایک مسلم حقیقت اور مسلمانوں کا شعار ہے۔اور یہ مسئلہ قرآن مجید اور احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح سے واضح اور عیاں ہے کہ اس میں ذرہ برابر بھی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے۔اس کی یہی دلیل کافی ہے کہ قربانی کا حکم ملنے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی حضر یا سفر میں کبھی اس کو نہیں چھوڑا۔اور اس پر مزید یہ کہ آج تک اُمت کااس پر تعامل ہے۔اس پر اعتراض کرنے سے اس کی حقیقت  پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

ہاں اعتراض کرنے والے خود ان لوگوں میں شامل ہوں گے۔جن کے متعلق قرآن مجید میں ارشاد ہے:

﴿فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّـهُ مَرَضًا﴾

"ان لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے۔اللہ نے ان کی بیماری کو اور بڑھا دیا"

نیز فرمایا:

﴿يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ﴾

"اللہ تعالیٰ کو اور ایمان والوں کود ھوکا دینا چاہتے ہیں۔حالانکہ دھوکا اپنی ذات کے علاوہ کسی کو بھی نہیں دیتے اور اس کا احساس بھی نہیں رکھتے۔"

ایک مقام پر یوں ارشاد ہوا:

﴿فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ﴾

"وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ اس کے پیچھے ہولیتے ہیں جو متشابہ ہو شورش کی تلاش میں۔"

قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کی بناء پر سخت سزا کی وعید سنائی گئی ہے فرمایا:

﴿لْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾

"چاہیے کہ وہ لوگ ڈریں جو مخالفت کرتے ہیں اس (رسول صلی اللہ علیہ وسلم) کےحکم کی۔مبادالہ پہنچے ان کو فتنہ یادرد ناک عذاب میں مبتلا ہوجائیں۔"دوسری جگہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےحکم سے انحراف اور اجماع امت سے بعد کاذکر کرکےنتیجہ یہ بتایا گیا ہے:

﴿وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖوَسَاءَتْ مَصِيرًا﴾

" اور جو کوئی بھی اس کے بعد کہ اس پر راہ ہدایت کھل چکی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرے گا اور مومنوں کے راستہ کے علاوہ  (کسی راستہ) کی پیروی کرےگا،ہم اسے کرنے دیں گے جو کچھ وہ کرتا ہے اورپھر اسے جہنم میں داخل کریں گے جو کہ بُرا مقام ہے۔"

پس ہر مسلمان کے لئے یہ امر قابل غور ہے کہ کہیں وہ مذہبی معاشرتی سیاسی ،معاشی اور اخلاقی زندگی کے کسی زاویے میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول،فعل اور تقریر کی مخالفت تو نہیں کررہا ہے۔اگر کوئی کمی ہو تو جلد توبہ کرکے اپنی اصلاح کرلے ورنہ اس حالت میں موت آگئی تو انجام بُرا ہوگا۔کیونکہ حشر کے روز پچھتانے سے کچھ  حاصل نہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا ﴿٢٧﴾ يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا﴾

"اور جس روز ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کرکھائے گا اور کہے گا،"کاش میں  رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ راہ پر لگ جاتا،ہائے میری شامت میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔"

قربانی کے مسئلہ میں نقص نکالنے کی بجائے جانور کی قربانی کرتے وقت جس طرح اس کو دیکھتے ہیں کہ وہ کانا نہ ہو،لنگڑا نہ ہو بلکہ بالکل صحیح سلامت ہو،اس طرح ہم بھی  پورے مسلمان ہوں۔آدھا تیتر اور آدھا بٹیر نہ ہوں۔گویا قربانی آدمی کو پختہ مسلمان بننے کی تلقین کرتی ہے۔ارشاد الٰہی شاہد عدل ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ﴾

کہ"اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو وہ توتمہارا کھلا دشمن ہے۔"وماعلینا الا البلاغ۔

[1]۔الحج ۔34
[2]۔ایضاً ۔36
[3]۔الحج ۔32
[4] ۔جامع البیان فی تفسیر القرآن للطبری ج17 ص 133(ابو جعفر محمد بن حریر)
[5]۔۔الانعام ۔162
[6]۔الحج ۔37
[7] ۔الکوثر۔2
[8]۔صحیح بخاری ج2،ص132،کتاب الاضاحی
[9] ۔ایضاً
[10] ۔صحیح بخاری جلد 2 ص833۔
[11] ۔ایضاً ص 833۔
[12] ۔ایضا ص 835۔
[13] ۔ایضا ً ص 833۔
[14] ۔ایضا ص 835۔
[15] ۔ایضا ً 834۔
[16] ۔مسلم الجامع الصحیح ج2ص163 مسلم بن حجاج قشیر ؒ)
[17] ۔ایضاً ص166۔
[18] ۔ایضا ص163۔
[19] ۔ترمذی مع تحفۃ الاحوذی ج2 ص359(ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ  ترمذیؒ)
[20]۔ترمذی  تحفۃ الاحوذی ج2ص352۔
[21] ۔مسند احمد ،سنن ابن ماجہ بحوالہ مشکواۃ المصابیح ص129،کتاب الاضاحی
[22] ۔ ترمذی مع تحفۃ الاحوذی ج2 ص356۔
[23] ۔ترمذی تحفۃ الاحوزذی ج2 ص352۔
[24] ۔مسند احمد،سنن ابن ماجہ
[25] ۔ابوداؤد مع عون المعبود ج 3 ص55نسائی دارمی ترمذی بحوالہ مشکواۃ ص128۔
[26] ۔ابو داؤد مع عون المعبود ج2 ص54 ترمذی،وابن ماجہ،موطا امام مالک ص45۔
[27] ۔صحیح بخاری ج2 ص832 المحلی ابن حزم ج7  ص 358۔
[28]۔ابن ماجہ حدیث 3127۔
[29] ۔تلخیص الجیر ج4 ،ابو الفضل شہاب الدین احمد بن علی بن محمدبن حجر عسقلانی ؒ
[30] ۔کنزل العمال ج5 ص118 علاؤالدین علی متقی ؒ
[31] ۔ایضاً
[32] ۔مسلم بحوالہ تلخیص الجیر ج4 ص143۔
[33] ۔ مرعاۃ المفاتیح شرح مشکواۃ المصابیح ج2ص 351۔
[34] ۔موطا امام مالک ؒ ص 497 کتاب الضحایا
[35] ۔المبسوط ج12ص8شمس الدین سرخسی ؒ
[36] ۔نیل الاوطار ج5ص119محمد بن علی شوکانی ؒ
[37] ۔جامع البیان فی  تفسیر القرآن جلد 8 ص47 تفسیرسورۃ الانعام لطبری
[38] ۔ایضاً 48
[39] ۔مرعاۃ المفاتیح شرح مشکواۃ المصابیح ج2 ص 353 ابو الحسن عبید اللہ مبارکپوری
[40] ۔لسان العرب ج7 ص 86۔
[41] ۔فتح الباری ج10 ص 14 کتاب الاضحیٰ ابن حجر عسقلانی ؒ
[42] ۔اشعث اللمعات شرح مشکواۃ ج1 ص 649(عبدالحق محدث دہلوی ؒ)
[43] ۔فتح الباری ج10 ص5۔
[44] ۔حاشیہ سنن ابن ماجہ ص 330 جلال الدین سیوطی
[45] ۔مرعاۃ المفاتیح ج2 ص350(ابوالحسن عبیداللہ مبارک پوری)
[46] ۔درمختار ج 4۔
[47] ۔رد ا لمختار ج5۔
[48] ۔فتاویٰ عالم گیری ج5
[49] ۔فتاویٰ ثنائیہ ج1 ص803(ثناء اللہ امرتسری ؒ