ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

  • ستمبر
1984
اکرام اللہ ساجد
تحریک اتحاد ملت کے سلسلہ میں جماعت اسلامی کی ایک علاقائی تنظیم نے "اتحاد بین المسلمین" کے موضوع پر  ایک جلسہ کاانتظام کیا تھا۔۔۔بریلوی فرقہ کی ایک مسجد میں عشاء کی نماز کے بعد عوام کی ایک بڑی تعداد جمع تھی اور سٹیج پر اہل حدیث۔دیوبندی۔بریلوی اور شیعہ فرقوں کے مقامی علماء شانہ بشانہ رونق افروزتھے ۔مہمان خصوصی ایک سجادہ نشین تھے۔جبکہ علاقے کے چیئر مین کرسی صدارت پرتشریف رکھتے تھے۔۔۔سٹیج سیکرٹری(جو ایک پر جوش نوجوان تھے) نے یہ تاکیدکرنے کےبعد کہ نعرہ صرف سٹیج سے لگایا جائےگا۔"نعرہ تکبیر۔۔۔اللہ اکبر!" اوراتحاد بین المسلمین۔۔۔۔زندہ باد!" کے نعرے بلندکئے اور تلاوت کے لئے قاری صاحب کو دعوت دی۔۔۔جلسہ کاآغاذ ہوچکا تھا ۔کلام پاک کے بعد مقررین نے یکے بعد دیگرے اپنے اپنے خیالات کااظہارفرمایا۔ان تمام حضرات کے درمیان قدر مشترک تو نعرہ اتحاد تھا لیکن اس کی عملی صورت کچھ یوں تھی کہ:
  • ستمبر
1984
عبدالرؤف ظفر
قربانی کی شرعی حیثیت:
قربانی کی اصل حقیقت متعین کرنے کے لئے ضروری ہے۔پہلے قرآن مجید پھر حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اقوال صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  اور ائمہ پر غور کریں۔اور پھر تاریخ اسلام پر نظر ڈالیں۔اس سے قربانی کے متعلق منشاء الٰہی اسوہ حسنہ اور عمل صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  کا علم ہوگا۔اوراس کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوگا۔
قرآن مجید اورقربانی:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ﴾...(الحج:34)
" اور ہم نے ہر ایک اُمت کے لئے قربانی مقرر کردی  تاکہ وہ لوگ اللہ کا نام لیں ان جانوروں پر جو اللہ نے اُن کوعطافرمائے ہیں۔"
  • ستمبر
1984
نعیم الحق نعیم
 مغموم سی تھی گلشن کی فضا                                                     میں عید مبارک بھول گیا
مسموم سی تھی کچھ آب وہوا                                                  میں عید مبارک بھول گیا
ہر غنچہ وگل تھا شعلہ نما            میں عید مبارک بھول گیا
  • ستمبر
1984
عبدالمنان نورپوری
"نورستان میں وہاں کے سلفی حضرات نے"دولت انقلابی اسلامی افغانستان" کے نام سے خالص کتاب وسنت کی بنیادوں پر اسلامی حکومت کی داغ بیل ڈالی ہے۔لیکن افسوس کہ جب سے اس حکومت کا قیام عمل میں آیا ہے،مختلف تنظیموں کی طرف سے اس کے خلاف پروپیگنڈہ حتیٰ کہ بغض باطن کا اظہار کیا رہا ہے۔جس کا مرکزی نقطہ اس حکومت کو دہریہ،روس نواز چین نواز اورنیشنلسٹ وغیرہ ثابت کرنا ہے۔پاکستانی علماء اہل حدیث نے اس حکومت سے متعلق سن کر جہاں مسرت کا اظہار کیا۔ وہاں وہ اس ٖغلط پروپیگنڈہ کی اصلیت جاننے کے لئے بیتاب بھی ہوئے۔چنانچہ علماء اہلحدیث کا پہلا وفد مولانا گھر جاکھی (گوجرانوالہ) کی معیت میں نورستان پہنچا۔اوروہاں کے حالات معلوم کیے۔اس کے بعد گزشتہ رمضان المبارک میں دوسرا وفد شیخ الحدیث مولانا حافظ عبدالمنان صاحب(گوجرانوالہ) کی معیت میں نورستان کا دورہ کرکے لوٹا ہے۔
  • ستمبر
1984
اکرام اللہ ساجد
محمدی نماز:
مصنفہ۔۔۔۔۔۔۔ابو عبدالرحمٰن محمد شفیع مسکین
ضخامت ۔۔۔۔۔۔۔450 صفحات کتابی سائز
ہدیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔24 روپے
ناشر۔۔۔۔۔محمدی مسجد اہل حدیث کیر کلاں ٹاؤن شپ لاہور
ہمارے زیر نظر اس کتاب کاتیسرا ایڈیشن ہے۔۔۔یوں تو نماز پر سینکڑوں کتابیں لکھی  گئی ہیں،لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے۔کہ آج کامسلمان زیادہ  تر بے نماز ہے۔پھر جو لوگ نماز پڑھتے ہیں۔ان میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو نماز کا صحیح طریقہ نہیں مانتے۔حالانکہ نماز  دین کاستون ہے۔اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس نے اس ستون کو گرایا،اس نے پورے دین کو گویا مسمار کرڈالا۔