برصغیر کے علمائے حدیث میں شیخ محمد بن طاہر پٹنی کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ آپ ایک بلند پایہ محدث تھے۔ حدیث میں وہ بالخصوص بہت ممتاز اور بلند مرتبہ تھے اور اس فن کے امام تھے۔ جس علاقہ (گجرات) سے ان کا تعلق تھا وہاں ان کے درجہ کا کوئی اور محدث نہیں گزرا۔ ان کے فضل و کمال کے تمام لوگ معترف تھے۔ اس لئے کہ انہوں نے حدیث میں بے نظیر کمال حاصل کیا اور اپنی زندگی اس فن کی خدمت میں بسر کر دی۔ ان کا شمار برصغیر کے ممتاز محدثین کرام میں ہوتا ہے اور ان کو رئیس المحدثین کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ علم حدیث میں ان کے فضل و کمال کا شہرہ صرف ہندوستان ہی میں نہ تھا، بلکہ عالم اسلام میں بھی ان کے علم و فضل اور حدیث کے کمال و امتیاز کا شہرہ تھا۔ (1)

شیخ محمد بن طاہر نہایت ذہین فطین اور چست طبع تھے اور اس کے ساتھ ساتھ جودوسخا، داد و رمیش اور فیاضی و سخاوت میں بلند مرتبہ کے حامل تھے۔ صلاح و تقویٰ کے زیور سے بھی آراستہ تھے۔ شیخ محمد بن طاہر میں بڑی دینی حمیت اور ایمانی غیرت تھی کتاب و سنت کی ترقی و ترویج اور شرک و بدعت کی تردید و توبیخ ان کی زندگی کا مقصد تھا۔ شیخ کے پوتے شیخ عبدالوھاب لکھتے ہیں:

"حضرت شیخ شرعی احکام اور حدود دین کو قائم کرنے میں اپنی ہمت صرف فرماتے تھے۔ کسی حاکم وقت یا طاقتور امیر کا خوف نہ کرتے تھے۔ وہ خالص اللہ کے لئے محبت اور خالص اللہ کے لئے عداوت کے قائل تھے۔ اس بنا پر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اختیار کرنے والے سے دوستی اور بدعتیوں سے دشمنی رکھتے تھے" (2)

نام و نسب ۔۔۔ ولادت

محمد بن طاہر بن علی بن الیاس۔ ان کا شجرہ نسب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تک جاتا ہے۔ اور اس شجرہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نسبا صدیقی تھا۔ (3) اور ان کے آباء اجداد کا تعلق عرب سے تھا۔ لیکن انہیں "بویرہ" قوم کا فرد خیال کیا جاتا ہے۔ اربابِ سیر اور تذکرہ نگاروں کی کثیر جماعت اس پر اتفاق کرتی ہے کہ شیخ محمد بن طاہر بویرہ قوم سے تھے۔ علامہ آزاد بلگرای لکھتے ہیں:

"جمہور کا اتفاق ہے کہ شیخ محمد بن طاہر کا تعلق بویرہ قوم سے تھا" (4)

شیخ محمد بن طاہر کے سن ولادت میں اختلاف ہے مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی نے 912ھ لکھا ہے۔ (5)

مولانا ضیاء الدین اصلاحی نے 913ھ (6) جبکہ شیخ کے پوتے شیخ عبدالوھاب نے 914ھ بتایا ہے۔ (7)

شیخ محمد بن طاہر کا مولود ساکن پٹن تھا جو گجرات کا قدیم دارالخلافہ تھا۔ (8)

تحصیل علم

شیخ محمد بن طاہر نے جب ہوش سنبھالا تو اس وقت ہندوستان میں اسلامی علوم کے درج ذیل مراکز اشاعت اسلام، توحید و سنت کی ترقی و ترویج اور شرک و بدعت کی تردید و توبیخ میں مصروف عمل تھے۔

(1)دہلی، (2) پنجاب، (3) جون پور، الہ آباد، لکھنؤ، (4) گجرات، (5) سندھ، (6) برہان پور گجرات میں سب سے زیادہ شہرت شیخ محمد بن طاہر پٹنی اور شیخ وجیہ الدین گجراتی نے پائی۔ (9)

شیخ کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئی۔ سب سے پہلے قرآن مجید حفظ کیا اس کے بعد دوسرے علوم کی طرف متوجہ ہوئے اور 15 سال کی عمر میں معقول و منقول اور اصول و فروع میں کمال حاصل کر لیا۔

اساتذہ

شیخ محمد بن طاہر نے پہلے گجرات کے اساتذہ فن سے تعلیم حاصل کی۔ ان میں مولانا شیخ ناگوری، شیخ برہان الدین، شیخ یداللہ اور ملا مٹھ کے نام آتے ہیں۔ اس کے بعد شیخ محمد بن طاہر حرمین شریفین تشریف لے گئے۔ وہاں آپ نے جن اساتذہ فن سے اکتسابِ فیض کیا، ان میں درج ذیل اساتذہ کرام کے نام ملتے ہیں: شیخ ابوالحسن بکری۔ علامہ احمد بن حجر ہیثمی مکی صاحب صواعق المحرقہ۔ شیخ جاراللہ بن فہد مکی۔ شیخ علی مدنی اور شیخ علاؤالدین علی متقی (10) آپ نے سب سے زیادہ استفادہ شیخ علی متقی جون پوری سے کیا اور ان سے تعلق اس قدر بڑھا کہ ان سے بیعت بھی ہوئے۔ (11)

شیخ محمد بن طاہر شیخ علی متقی کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ مکہ معظمہ جا کر فیض حاصل کیا۔ (12)

سفر حرمین شریفین

944ھ میں شیخ محمد بن طاہر اپنے وطن گجرات میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد عازم حرمین شریفین ہوئے اس وقت شیخ کی عمر 30 سال تھی۔ سب سے پہلے حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔ اس کے بعد مدینہ منورہ جا کر مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی۔ اس کے بعد مکہ معظمہ واپس آ کر علماء و مشائخ سے استفادہ کیا۔ (13)

درس و تدریس

حرمین شریفین میں کئی برس قیام کے بعد جب واپس وطن آئے تو اپنے وطن میں ایک دینی مدرسہ قائم کیا۔ جس میں ہر قسم کے علوم پڑھائے جاتے تھے۔ مگر حدیث کا درس خود یتے تھے اور یہ مدرسہ کافی عرصہ قائم رہا۔ اورنگ زیب عامگیر کے عہد میں جب گجرات میں نیا مدرسہ قائم ہوا تو اس میں ضم ہو گیا۔ (14) شیخ کے تلامذہ کی فہرست بہت طویل ہے۔ بخوف طوالت ناموں کو حذف کر دیا گیا ہے۔

شیخ محمد بن طاہر کا کتب خانہ

شیخ محمد بن طاہر کا کتب خانہ نادر و نایاب کتابوں پر مشتمل تھا۔ اس کتب خانہ میں شیخ نے عرب و عجم سے کتابیں منگوا کر جمع کی تھیں۔ اس کتاب میں شیخ کی اپنی تصنیف کردہ کتاب "مجمع بحار الانوار" کا قلمی نسخہ بھی موجود ہے۔ (15)

علم حدیث سے شفغ ۔۔۔ بدعات سے سخت نفرت

شیخ محمد بن طاہر پٹنی کو حدیث سے بہت شغف تھا۔ ان کی ساری زندگی خدمت حدیث میں بسر ہوئی۔ حدیث سے خصوصی لگاؤ کی وجہ سے ان کو امام حدیث لے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے صرف احادیث کی شرح و توضیح اور اس کی علمی خدمت ہی انجام نہیں دیں بلکہ حدیث و سنت کی خدمت اور اس کے فروغ و اشاعت میں بھی اپنی زندگی صرف کر دی۔ ان کی زندگی کا مقصدِ خاص خدمتِ حدیث تھا ۔۔۔ آزاد بلگرای لکھتے ہیں: "خادم حدیث نبوی و ناصر سنن مصطفوی است" (16)

شیخ محمد بن طاہر میں دینی حمیت و غیرت بہت زیادہ تھی اور اس کے مقابلہ میں شرک و بدعت سے سخت نفرت تھی۔ وہ خالص خدا کے لئے محبت اور خالص خدا کے لئے عداوت کے قائل تھے۔ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اختیار کرنے والے سے دوستی رکھتے تھے اور بدعتیوں سے سخت دشمنی رکھتے تھے ۔۔۔

شیخ محمد اکرام لکھتے ہیں:

"شیخ علی متقی کے شاگردوں میں محمد بن طاہر پٹنی تھے۔ جنہوں نے اپنے استاد کی پیروی میں مخالفت بدعت کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی اور بالآخر اسی کوشش میں شہید ہوئے" (17)

شیخ محمد بن طاہر سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع و اشاعت اور بدعات کی تردید میں خاص شہرت و امتیاز رکھتے تھے اور اس معاملہ میں بڑے سرگرم تھے۔ ان کی بویرہ قوم جن سے شیخ کا تعلق تھا، دو گروہوں میں منقسم تھی۔ ایک سُنی گروہ، اور دوسرا شیعہ گروہ اور ان دونوں میں بدعات کا بہت رواج ہو گیا تھا۔ اور اس کے ساتھ فرقہ مہدویت کا بھی بہت اثر و رسوخ بڑھ گیا تھا۔ چنانچہ شیخ محمد بن باہر نے ان سب بدعات کا قلع قمع کرنے کا بیڑا اٹھایا اور احیاء سنت نبوی کے لئے کمربستہ ہو گئے۔ مولانا اصلاحی لکھتے ہیں:

"شیخ محمد بن طاہر وعظ، تقریر، تحریر ہر طریقہ سے قوم کی اصلاح اور بدعت و مہدویت کے استیصال پر کمر بستہ ہو گئے۔ عقلی و نقلی ہر قسم کی دلیلوں سے عقائد حقہ کا اثبات کیا اور عقائد باطلہ کی تردید کی" (18)

شیخ محمد بن طاہر نے جب بدعات کی خلاف تحریک چلانی شروع کی اور اس کے ساتھ مہدویت کے استیصال کے لئے اپنی سرگرمیاں تیز کر دیں تو مہدوی فرقہ کے لوگ آپ کے سخت خلاف ہو گئے۔ چنانچہ ایک دن فرقہ مہدویہ کے لوگوں نے ان کے مدرسہ میں ان پر قاتلانہ حملہ کیا جس میں شیخ زخمی ہو گئے اور بیس بائیس روز تک صاحب فراش رہے۔ مگر تندرستی کے بعد شیخ دوبارہ فرقہ مہدویہ اور اہل بدع کے خلاف سرگرم ہو گئے۔

شیخ انہی کوششوں اور سرگرمیوں میں مصروف عمل تھے کہ 980ھ میں اکبر بادشاہ نے گجرات فتح کر کے اپنی قلمرو میں شامل کر لیا۔ جب شیخ محمد بن طاہر کی اکبر بادشاہ سے ملاقات ہوئی تو اکبر بادشاہ نے شیخ سے دریافت کیا: آپ برہنہ سرکیوں رہتے ہیں تو شیخ نے ساری حقیقت حال سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرقہ مہدویہ اور اہل بدع کی تمام سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ بادشاہ نے اس پر خود عمامہ شیخ کے سر پر باندھا اور کہا:

"دین کی حفاظت میرا فرض ہے۔ آپ اپنا کام جاری رکھیں میں بھی اس میں آپ کی پوری مدد کروں گا"

چنانچہ اکبر نے اپنے رضاعی بھائی مرزا عزیز کو گجرات کا گورنر مقرر کیا تو اس نے شیخ محمد بن طاہر کی بہت مدد کی اور مہدویت کا زور توڑنے میں مکمل تعاون کیا اور اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ مہدویت کا اثر بہت کم ہو گیا اور شیخ محمد بن طاہر دوبارہ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں مشغول ہو گئے۔ کچھ عرصہ بعد مرزا عزیز کو تبدیل کر دیا گیا اور ان کی جگہ عبدالرحیم خان خاناں کو گجرات کا گورنر مقرر کیا گیا تو ان کے عہد گورنر میں شیعہ پھر دلیر ہو گئے اور ان کی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئیں۔ شیخ نے جب یہ صورت حال دیکھی تو 986ء میں اکبر بادشاہ سے شکایت کرنے کے لئے آگرہ روانہ ہوئے۔ پہلے مالوہ پہنچے اور پھر سارنگ پور تشریف لے گئے اور سارنگ پور تین دن قیام کیا۔ تیسرے دن جب شیخ نے آگرہ روانہ ہونا تھا تو صبح کے وقت جب شیخ نماز تہجد پڑھ رہے تھے۔ مہدوی فرقہ کے لوگوں نے انہیں شہید کر دیا اور یہ واقعہ 6 شوال 986ء کو پیش آیا۔ (19)

مولانا شاہ عبدالحق محدث دہلوی لکھتے ہیں کہ:

"بویرہ قوم میں مروج بدعتوں کی اصلاح کی اور اس قوم کے اہل سنت و بدعت میں تفریق و امتیاز پیدا کر دیا۔ انہوں نے ازالہ بدعات اور اس علاقہ کے اہل بدعت کی سرکوبی میں کوئی دقیقہ باقی نہیں رکھا بالآخر انہی مبتدعین کے ہاتھوں ان کی شہادت واقع ہوئی" (20)

علامہ سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:

"ہندوستان واپس آ کر بویرہ قوم کو اہل سنت بنانے کے لئے کوشش بلیغ کی کہ اسی راہ میں 986ء اجین کے قریب قصبہ سارنگ پور میں شہادت پائی" (21)

شیخ محمد بن طاہر 6 شوال 986ء میں سارنگ پور میں شہید ہوئے۔ ان کی پہلی نماز جنازہ سارنگ پور میں ہوئی۔ اس کے بعد ان کی لاش پٹن لائی گئی اور پٹن میں ان کو دفن کیا گیا۔ (22)

تصنیفات

شیخ محمد بن طاہر درس و تدریس کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف میں بھی مشغول رہے۔ شیخ فطری مصنف تھے۔ اس لئے ان کی تمام تصانیف بہت عمدہ جامع، علمی اور تحقیقی ہیں۔ فن حدیث سے ان کو زیادہ شغف تھا اور اس موضوع پر ان کی کتابیں بے نظیر اور عظیم الشان ہیں۔ جن کی مقبولیت، اہمیت اور آفادیت میں اب بھی فرق نہیں آیا اور ان کتابوں سے صرف برصغیر کے اہل علم ہی فیض یاب نہیں ہو رہے بلکہ عالم اسلام کے اہل علم بھی ان کتابوں سے مستفیض ہو رہے ہیں۔

شیخ محمد بن طاہر نے جو کتابیں تصنیف کی ہیں۔ ان کی تعداد تو صحیح معلوم نہیں مگر مولانا ضیاء الدین اصلاحی نے ان کی 31 کتابوں کے نام لکھے ہیں (23) جن میں چند مشہور کتابوں کے ناموں پر اکتفا کرتا ہوں۔

(1)چہل حدیث، (2) حاشیہ صحیح بخاری، (3) حاشیہ صحیح مسلم، (4) حاشیہ مشکوۃ المصابیح، (5) حاشیہ توضیح و تلویح، (6) خلاصۃ الفوائد، (7) دستور الصرف، (8) سوانح نبوی (عربی) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مختصر سیرت، (9) سوانح نبوی (فارسی) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مختصر سیرت، (10) مختصر اتقان (علامہ سیوطی کی اتقان کا مختصر، (11) نصاب البیان (علم معانی میں) (12) لسان المیزان (علم منطق میں)

چار مشہور تصانیف کا مختصر تعارف

شیخ محمد بن طاہر کی درج ذیل تصانیف بہت ہی مشہور اور معروف ہیں اور ان کا علمی مرتبہ بہت بلند ہے۔ اور وہ یہ ہیں:

(1)المغنی، (2) تذکرۃ الموضوعات، (3) قانون الموضوعات، (4) مجمع بحار الانوار

(1)المغنی: اس کتاب کا پورا نام المغنی فی ضبط الرجال ہے۔ اور یہ اسماء الرجال کی مفید اور عمدہ کتاب ہے۔ اس کتاب میں رواۃ و رجال کے ناموں کو ضبط کیا گیا ہے۔ مولانا شاہ عبدالحق دہلوی اس کتاب کے بارے میں فرماتے ہیں: (24)

"دوسرا مختصر رسالہ جو مغنی کے نام سے موسوم ہے۔ اس میں رجال کے ناموں کی تصحیح کی گئی ہے اور ان کے حالات سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا۔ نہایت مختصر مگر مفید ہے"

مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی مرحوم لکھتے ہیں:

"شیخ (محمد بن طاہر) نے علم حدیث کی نہایت قابل قدر خدمت کی۔ راویان علم حدیث کے اسماء کی حرکات کا ضبط نہایت ضروری ہے۔ اس کے متعلق ایک کتاب بنام مغنی لکھی ۔۔۔ اس کے خاتمہ پر ایک فصل تواریخ میں مقرر ہے جس میں عموما حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے اربعہ اور ائمہ اربعہ اور بعض اجلہ محدثین کرام کے سن ولادت اور وفات لکھنے پر اکتفا کیا ہے۔

المغنی حافظ ابن حجر کی کتاب تقریب التہذیب کے حاشیہ پر دہلی سے شائع ہو چکی ہے" (25)

(2) مجمع بحار الانوار: اس کتاب کا اصل اور مکمل نام "مجمع بحار الانوار فی غرائب التنزیل والاخبار" ہے۔ یہ حدیث کی اہم لغت ہے اور شیخ محمد بن طاہر کی سب سے عظیم الشان کتاب ہے۔ اس میں قرآن مجید اور حدیث کے مشکل الفاظ کی لغوی تحقیق کی گئی ہے اور اس میں حل لغات کے علاوہ احادیث کی عمدہ شرح اور تفسیر بھی کی گئی ہے اس لئے علمائے فن اس کو صحاح ستہ کی شرح بھی کہا ہے ۔۔۔ مولانا شاہ عبدالحق دہلوی فرماتے ہیں: (26)

"ان کی تصنیفات میں مجمع البحار بھی ہے جو صحاح ستہ کی شرح کی ضامن ہے"

مولانا سید نواب صدیق حسن خاں لکھتے ہیں:

"یہ عمدہ اور پاکیزہ کتاب قرآن مجید و حدیث کے غرائب کی جامع ہے جس کے پاس یہ کتاب موجود ہو۔ اس فن کی دوسری کتاب کی ضرورت نہیں رہتی" (27)

مولانا حبیب الرحمان خاں شیروانی لکھتے ہیں:

"اس میں کلام مجید اور حدیث کی مشکل لغات کا حل اس انداز سے کیا گیا ہے کہ صحاح ستہ کی شرح بھی ضمنا ہو گئی ہے" (28)

ڈاکٹر زبید احمد مجمع بحار الانوار کے بارے میں لکھتے ہیں:

"شیخ محمد بن طاہر پٹنی کی تصنیف لطیف ہے جس کو انہوں نے اپنے مرشد کامل شیخ علی متقی کے نام گرامی سے معنون کیا ہے۔ یہ تصنیف قرآن و حدیث کی جامع لغت ہے۔ الفاظ کی ترتیب مادہ کے حروف پر ہے۔ مادہ کے جس قدر حروف قرآن و حدیث میں آئے ہیں ان سب کو ایک جگہ بیان کرتے ہیں اور جن احادیث میں وہ الفاظ آئے ہیں۔ ان کو بھی نقل کرتے ہیں اس سے پہلے غرائب قرآن و حدیث پر کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ لیکن میری ناقص رائے میں یہ سب سے بہتر اور جامع تر ہے" (29)

صاحب معجم المطبوعات اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں:

"آیات و احادیث کے مطالب کے کشف اور کتاب و سنت کے معانی کی توضیح کے لئے یہ بڑی جامع کتاب ہے" (30)

مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی لکھتے ہیں:

"علم حدیث کے حل لغات میں مجمع بحار الانوار کے نام سے کتاب لکھی جو نہایت مفید اور مشہور کتاب ہے یہ کتاب فائق زمخشری اور نہایت ابن کثیر کی جامع ہے" (31)

شیخ کے پوتے شیخ عبدالوھاب بن احمد لکھتے ہیں کہ:

"مجمع بحار الانوار ایک طرح سے حدیث کی شرح ہے" (32)

مولانا حبیب الرحمان اعظمی لکھتے ہیں:

"علمائے اعلام نے اس کی جانب غیر معمولی اعتناء کیا۔ یہی وجہ ہے کہ مصنف کی زندگی ہی میں یہ کتاب پورے طور پر مقبول ہو گئی اور اس کی نقلیں دور دراز کے شہروں میں پھیل گئیں۔ انہوں نے اس کی نقل میں ایسی رغبت دکھائی کہ ہندوستان کے شہروں کا شاید ہی کوئی قابل ذکر کتب خانہ ایسا ہو جس میں اس کا نسخہ موجود نہ ہو، یہ کتاب علوم دینیہ سے شغف رکھنے والے تمام اصحاب علم کے پیش نظر رہتی ہے۔ ان کے حوالہ و ماخذ کا کام دیتی ہے اور وہ اس سے مشکلات میں استفادہ کرتے ہیں" (33)

مولانا ضیاء الدین اصلاحی اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں:

"یہ کتاب اپنے موضوع پر اہم اور حاوی ہونے کے علاوہ احادیث کی تفسیر و تشریح کے لحاظ سے نہایت مفید اور کارآمد کتاب ہے۔ اس کتاب میں نہایہ ابن اثیر کے تمام مباحث سمیٹ لئے گئے ہیں اور اس میں اضافے بھی کئے گئے ہیں۔ حدیث کی شرح بیان کرتے ہوئے شارحین کے بیان پر اضافہ بھی کیا ہے" (34)

مجمع بحار الانوار 1387ھ/1967ء میں دائرۃ المعارف عثمانیہ حیدرآباد دکن سے شائع ہوئی ہے۔ اس ایڈیشن میں مولانا حبیب الرحمٰن اعظمی کا فاضلانہ علمی و جامع اور تحقیقی مقدمہ اور عالمانہ حواشی بھی شامل ہیں ۔۔۔ علامہ سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:

"شیخ محمد بن طاہر پٹن کے رہنے والے تھے۔ شیخ علی متقی کے ارشد تلامذہ میں تھے۔ مکہ معظمہ جا کر فیض حاصل کیا اور استاد کی زندگی ہی میں دو کتابیں تصنیف کیں۔ مجمع البحار لغت حدیث میں اور مغنی اسماء الرحال میں۔ ان دونوں کتابوں میں اپنے استاد کا جس ولولہ، شوق اور غلبہ محبت کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاگرد کے دل میں استاد کی کتنی قدر و منزلت تھی۔ مجمع البحار گو بظاہر حدیث کی لغت ہے۔ مگر علمائے محدثین کے اعتراف کے مطابق وہ درحقیقت صحاح ستہ کی شرح ہے" (35)

(3) تذکرۃ الموضوعات: یہ کتاب بڑی محققانہ اور اہم ہے۔ شیخ محمد بن طاہر پٹنی نے 958ھ میں تصنیف کی۔ اس کتاب میں موضوع حدیثوں کے علاوہ ان کے بارے میں محدثین اور نقاد ان فن کے اقوال بھی نقل کئے گئے ہیں۔ تاکہ لوگ احادیث کو موضوع، ضعیف یا صحیح قرار دینے میں افراط و تفریط کے بجائے احتیاط سے کام لیں ۔۔۔ تذکرۃ الموضوعات اپنے موضوع کے اعتبار سے بڑی علمی اور جامع کتاب ہے۔ ملا علی قاری اور امام شوکانی نے بھی اس موضوع پر کتابیں لکھی ہیں۔ مگر تذکرۃ الموضوعات ان دونوں کی کتابوں سے ضخامت اور حجم میں زیادہ ہے۔ شیخ محمد بن طاہر نے شروع میں ایک جامع علمی و تحقیقی مقدمہ بھی لکھا ہے جس میں شیخ نے لکھا ہے کہ:

"اگر کوئی مصنف کسی حدیث کو موضوع بتائے تو جب تک دوسرے ذرائع سے اس کی تصدیق و تائید نہ ہو جائے، اس حدیث کو موضوع نہ سمجھا جائے"

اس کتاب میں شیخ محمد بن طاہر نے مختلف عنوانات کے تحت موضوع احادیث نقل کی ہیں اور جن کتابوں سے شیخ نے استفادہ کیا، ان کا ذکر مقدمہ میں کر دیا ہے۔ یہ کتاب مصر سے شائع ہو چکی ہے۔ (36)

(4) قانون الموضوعات

یہ کتاب بھی اپنے موضوع کے اعتبار سے بہت مفید اور اہم ہے۔ اس میں غیر صحیح، وضاع اور کذاب راویوں کا تذکرہ ہے جو موضوع حدیثیں جمع کرتے یا بیان کرتے تھے۔ شیخ نے ان لوگوں کے اوصاف بھی بیان کئے ہیں۔ شیخ نے یہ کتاب تذکرۃ الموضوعات کے بعد تصنیف کی۔ فرماتے ہیں کہ:

"تذکرۃ الموضوعات سے فارغ ہونے کے بعد میں نے ارادہ کیا کہ ضعیف، کذاب، وضاع اور مفتری راویوں کو جمع کر دوں تاکہ اس کی حیثیت موضوع روایات کی معرفت اور ضعیف اور گھڑی حدیثوں کے بارہ میں ایک کلی قاعدہ و قانون کی ہو جائے۔ یہ بھی طبع ہو چکی ہے" (37)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)عبدالحئی۔یاد ایام، ص 55 (2) ضیاء الدین اصلاحی، تذکرۃ المحدثین، ج3 ص 145 (3) صدیق حسن خاں۔ اتحاف النبلاء، ص 398 (4) آزاد بلگرای، ماثر الکرام، ج1 ص 196 (5) محمد ابراہیم میر سیالکوٹی۔ تاریخ اہل حدیث، ص 387 (6) ضیاء الدین اصلاحی۔ تذکرۃ المحدثین، ج3 ص 135 (7) شیخ عبدالوھاب۔ رسالہ مناقب اردو ترجمہ، 89 (8) سید سلیمان ندوی۔ مقالات سلیمان، ج2 ص 18 (9) شیخ محمد اکرام، رود کوثر، ص 390-392 (10) عبدالحئی الحسنی، یاد ایام، ص 55 (11) آزاد بلگرای۔ ماثر الکرام، ج1 ص 194 (12) سید سلیمان ندوی۔ مقالات سلیمان، ج2 ص 18 (13) آزاد بلگرای، ماثر الکرام، ج1 ص 194 (14) سید ابوظفر ندوی۔ گجرات کی تمدنی تاریخ، ص 199 (15) ایضا، ص 323-324 (16) آزاد بلگرای، ماثر الکرام، ج1 ص 194 (17) شیخ محمد اکرام، رود کوثر، ص 354 (18) ضیاء الدین اصلاحی۔ تذکرۃ المحدثین، ج3 ص 147 (19) محمد ابراہیم میر سیالکوٹی۔ تاریخ اہل حدیث، ص 387-388 (20) شاہ عبدالحق دہلوی۔ اخبار الاخیار، ص 264 (21) سید سلیمان ندوی۔ مقالات سلیمان، ج2 ص 18 (22) آزاد بلگرای، ماثر الکرام، ج1 ص 195 (23) ضیاء الدین اصلاحی۔ تذکرۃ المحدثین، ج3 ص 155 تا 162 (24) شاہ عبدالحق دہلوی۔ اخبار الاخیار، ص 264 (25) محمد ابراہیم میر سیالکوٹی۔ تاریخ اہل حدیث، ص 388 (26) شاہ عبدالحق دہلوی۔ اخبار الاخیار، ص 264 (27) نواب صدیق حسن خاں، اتحاف النبلاء، ص 134 (28) حبیب الرحمان شیروانی، مقالات شیروانی، ص 398 (29) معارف اعظم گڑھ، دسمبر 1942ء (30) معجم المطبوعات کالم نمبر 1671 (31) محمد ابراہیم میر سیالکوٹی۔ تاریخ اہل حدیث، ص 388 (32) ضیاء الدین اصلاحی۔ تذکرۃ المحدثین، ج3 ص 163 (33) مقدمہ صحیح بحار الانوار بحوالہ تذکرۃ المحدثین، ج3 ص 164 (34) ضیاء الدین اصلاحی، تذکرۃ المحدثین، ج3 ص 166 (35) سید سلیمان ندوی، مقالات سلیمان، ج2 ص 18 (36) ضیاء الدین اصلاحی۔ تذکرۃ المحدثین، ج3 ص 160 (37) ایضا، ص 161۔