جمعہ دراصل ایک اسلامی اصطلاح ہے۔ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب اسے "یوم عروبہ" کہا کرتے تھے۔ اسلام میں جب اس کو مسلمانوں کے اجتماع کا دن قرار دیا گیا تو اس کا نام جمعہ رکھا گیا (1)
"جمعہ کا لفظ "جمع" سے مشتق ہے۔ وجہ اشتقاق یہ ہے کہ اس دن مسلمان بڑی بڑی مساجد میں اللہ کی عبادت کے لئے جمع ہوتے ہیں۔ (2)
"حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ "جمعہ کی رات روشن رات ہے اور جمعہ کا دن چمکتا دن" (3) ۔ اسی طرح حضرت ابوھرہرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ان دنوں میں سے جن میں آفتاب طلوع ہوتا ہے۔ جمعہ کا دن بہترین دن ہے۔ اسی روز حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اور اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا اور اسی روزہ وہ جنت سے نکالے گئے اور قیامت بھی جمعہ کے روز ہی قائم ہو گی" (4) ۔۔۔ (پھر فرمایا) "جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ہے جس کو بندہ مومن پا لے اور اللہ سے اس میں دعا کرے تو اللہ اس دعا کو قبول کرتا ہے اور جس چیز سے پناہ مانگے اللہ اس سے پناہ دیتا ہے" (5)

حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کا دن اللہ کے نزدیک دنوں کا سردار اور ایک بڑا دن ہے۔ (6) جمعہ کی فضیلت اور تقدس کے پیش نظر جمعہ کی نماز کو مسلمانوں کے لئے فرض قرار دیا گیا۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جان لو کہ اللہ نے تم پر نماز جمعہ فرض کی ہے" (7) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "میرا جی چاہتا ہے کہ کسی اور شخص کو اپنی جگہ نماز پڑھانے کے لئے کھڑا کر دوں اور جا کر ان لوگوں کے گھر جلا دوں جو جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے نہیں آتے" (8) جمعہ کی نماز نہ صرف فرض ہے بلکہ اہتمام کے ساتھ ادا کرنے کا حکم ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّـهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿٩ (9)

"اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، جب پکارا جائے نماز کے لئے جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو"

باتفاق فقہائے امت، یہاں بیع سے مراد فقط فروخت کرنا نہیں بلکہ ہر وہ کام جو جمعہ کی طرف جانے کے اہتمام میں مُخِل ہو وہ سب بیع کے مفہوم میں داخل ہے۔ (10) "اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو" کا مطلب یہ نہیں کہ بھاگتے ہوئے آؤ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جلدی سے جلدی وہاں پہنچنے کی کوشش کرو۔ مفسرین نے بالاتفاق اس کو اہتمام کے معنی میں لیا ہے۔ (11) اسی اہتمام کی وجہ سے علماء کرام کا اتفاق ہے کہ اذان کے بعد خرید و فروکت حرام ہے۔ (12) الغرض جمعہ کی اذان کے بعد خرید و فروخت اور ہر وہ مصروفیت چھوڑ دینے کا حکم ہے جو نماز جمعہ کی ادائیگی کے اہتمام میں حائل ہو۔

اسلام کے ابتدائی دور میں ہفتہ وار تعطیل کی ضرورت محسوس نہ کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس بارے میں کوئی واضح حکم موجود نہیں ہے۔ البتہ درج بالا آیت کی رو سے اذان جمعہ سے لے کر نماز جمعہ کے اختتام تک کاروبار زندگی کو مکمل طور پر روک دینے کا حکم موجود ہے تاکہ لوگ خشوع و خضوع  اور اہتمام کے ساتھ ذکر اللہ کے لئے مساجد کا رخ کر سکیں۔ عہد جدید میں دیگر اقوام کی طرح مسلمانوں کے لئے بھی ہفتہ وار تعطیل ایک تمدنی ضرورت بن چکی ہے۔ تاکہ مسلمان کاروبار زندگی کے جھگڑے جھمیلوں سے فارغ ہو کر ایک دن اللہ کی یاد میں یکسوئی کے ساتھ گزار سکیں اور ساتھ ساتھ اپنی معاشرتی اور ذاتی ضروریات کی تکمیل کر سکیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مقصد کے لئے مسلمان کس دن کا انتخاب کریں ۔۔۔

مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

"اسلام سے پہلے ہفتہ کا دن عبادت کے لئے مخصوص کرنے اور اس کو شعار ملت قرار دینے کا طریقہ اہل کتاب میں موجود تھا۔ یہودیوں کے ہاں اس غرض کے لئے سبت (ہفتہ) کا دن مقرر کیا گیا تھا کیونکہ اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات دی تھی۔ عیسائیوں نے اپنے آپ کو یہودیوں سے ممیز کرنے کے لئے اپنا شعارِ ملت اتوار کا دن قرار دیا۔ اگرچہ اس کا کوئی حکم نہ حضرت عیسٰ علیہ السلام نے دیا تھا نہ انجیل میں کہیں اس کا ذکر آیا ہے۔ لیکن عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ صلیب پر جان دینے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی روز قبر سے نکل کر آسمان کی طرف گئے تھے۔ اسی بنا پر بعد کے عیسائیوں نے اسے اپنی عبادت کا دن قرار دے لیا اور پھر سن 321 عیسوی میں رومی سلطنت نے ایک حکم کے ذریعے سے اس کو عام تعطیل کا دن مقرر کر دیا" (13) پھر لکھتے ہیں: "بلکہ عیسائیوں نے تو دوسرے ایسے ملکوں پر بھی اپنے اتوار کو مسلط کرنے میں تامل نہ کیا جہاں عیسائی آبادی آٹے میں نمک کے برابر بھی نہ تھی۔ یہودیوں نے جب فلسطین میں اپنی اسرائیلی ریاست قائم کی تو اولین کام جو انہوں نے کیا وہ یہ تھا کہ اتوار کی بجائے ہفتہ کو چھٹی کا دن قرار دیا" (14)

جہاں تک مسلمانوں کے لئے تعطیل کا دن مقرر کرنے کا معاملہ ہے، اس سلسلہ میں مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

"اگرچہ قرآن میں یہودیوں کے سبت اور عیسائیوں کے اتوار کی طرح جمعہ کو عام تعطیل کا دن قرار نہیں دیا گیا ہے لیکن اس امر سے کوئی شخص بھی انکار نہیں کر سکتا کہ جمعہ ٹھیک اسی طرح مسلمانوں کا ملی شعار ہے جس طرح ہفتہ اور اتوار یہودیوں اور عیسائیوں کے شعار ملے ہیں اور اگر ہفتہ میں کوئی ایک دن عام تعطیل کے لئے مقرر کرنا ایک تمدنی ضرورت ہو تو جس طرح یہودی اس کے لئے فطری طور پر ہفتے کو اور عیسائی اتوار کو منتخب کرتے ہیں اسی طرح مسلمان اگر اس کی فطرت میں کچھ اسلامی حس موجود ہو تو لازما اس غرض کے لئے جمعہ ہی کو منتخب کرے گا" (15) ۔۔۔ پھر لکھتے ہیں:

"البتہ جہاں مسلمانوں کے اندر اسلامی حس موجود نہیں ہوتی وہاں وہ اپنے ہاتھ میں اقتدار آنے کے بعد بھی اتوار ہی کوسینے سے لگائے رکھتے ہیں بلکہ اس سے زیادہ بے حسی جب طاری ہوتی ہے تو جمعہ کی چھٹی منسوخ کر کے اتوار کی چھٹی رائج کی جاتی ہے" (16)

اب ہم اس آیت مبارکہ کا حقیقی مفہوم جاننے کی کوشش کرتے ہیں جس سے غلط استدلال کرتے ہوئے جمعہ کی تعطیل منسوخ کر دی گئی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللَّـهِ وَاذْكُرُوا اللَّـهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿١٠ (17)

"پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہو جائے"

درج بالا آیت مبارکہ میں "زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو' قطعا حکم یا وجوب کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اجازت کے معنی میں ہے۔ جیسا کہ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:

"جب نماز سے فراغت ہو جائے تو اس مجمع سے چلے جانا اور اللہ کے فضل کی تلاش میں لگ جانا تمہارے لئے حلال ہے" (18)

مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں:

"اس آیت میں اس کی اجازت دے دی گئی ہے کہ نماز جمعہ سے فارغ ہونے کے بعد تجارتی کاروبار اور اپنا اپنا رزق تلاش کرنے کا اہتمام سب کر سکتے ہیں" (19)

مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: "اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جمعہ کی نماز کے بعد زمین میں پھیل جانا اور تلاش رزق کی دوڑ دھوپ میں لگ جانا ضروری ہے بلکہ یہ ارشاد اجازت کے معنی میں ہے۔ چونکہ جمعہ کی اذان سن کر سب کاروبار چھوڑ دینے کا حکم دیا گیا تھا اس لئے فرمایا گیا کہ نماز ختم ہونے کے بعد تمہیں اجازت ہے کہ منتشر ہو جاؤ اور اپنے جو کاروبار بھی کرنا چاہو کرو۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے حالتِ احرام میں شکار کی ممانعت کرنے کے بعد فرمایا: وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا (مائدہ:2) جب احرام کھول چکو تو شکار کرو۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ احرام کھولنے کے بعد ضرور شکار کرو۔ بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ اس کے بعد شکار پر کوئی پابندی باقی نہیں رہتی چاہو تو شکار کر سکتے ہو یا مثلا سورہ نساء میں ایک سے زائد نکاح کی اجازت (فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم) کے الفاظ میں دی گئی ہے۔ یہاں اگرچہ (فَانكِحُوا) بصیغہ امر ہے۔ مگر کسی نے بھی اس کو حکم کے معنی میں نہیں لیا ہے۔ اس سے یہ اصولی مسئلہ نکلتا ہے کہ صیغہ اَمر ہیشہ وجوب ہی کے معنی میں نہیں ہوتا بلکہ کبھی یہ اجازت اور کبھی استحباب کے معنی میں بھی ہوتا ہے" (20)

درج بالا آیت کو غلط مفہوم پہناتے ہوئے جمعہ کی تعطیل کو تو منسوخ کر دیا گیا مگر اتوار کی تعطیل رائج کرنے میں کون سی آیت یا حدیث کو اربابِ اقتدار دلیل کےطور پر پیش کر سکیں گے جبکہ مسلمانوں کے لئے یومُ الجمعہ بطور شعار ملت ہونے کے ثبوت میں احادیث میں موجود ہیں جیسا کہ

"حضرت ابوھرہرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"پہلی امتوں کو بھی ہر سات دن میں ایک دن دیا گیا تھا لیکن جمعہ کی ہدایت انہیں نہ ہوئی، یہودیوں نے ہفتہ کو پسند کیا جس میں مخلوق کی پیدائش شروع بھی نہ ہوئی تھی۔ نصاریٰ نے تو اتوار اختیار کیا جس میں مخلوق کی پیدائش کی ابتداء ہوئی اور اس امت کے لئے اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو پسند کیا جس دن میں اللہ نے مخلوق کو پورا کیا تھا" (21)

حضور نے فرمایا:

"یہود نے یوم السبت (ہفتہ) کو اپنا یوم اجتماع بنا لیا، نصاریٰ نے اتوار کو، اللہ تعالیٰ نے اس امت کو اس کی توفیق بخشی کہ انہوں نے یوم جمعہ کا انتخاب کیا" (22)

مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

"اسلامی ذوق خود اس وقت یہ مطالبہ کر رہا تھا کہ ایک ایسا دن ہونا چاہئے جس میں زیادہ سے زیادہ مسلمان جمع ہو کر اجتماعی عبادت کریں اور یہ بھی اسلامی ذوق ہی کا تقاضا تھا کہ وہ دن ہفتے اور اتوار سے الگ ہو تاکہ مسلمانوں کا شعار ملت، یہود و نصاریٰ کے شعار ملت سے الگ رہے" (23)

اب ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ جمعہ کی تعطیل منسوخ کر کے اتوار کی تعطیل رائج کرنے سے پاکستان کی ملت اسلامیہ کو کن مسائل کا سامنا ہوتا ہے اور کس طرح سے ہمارے مذہبی، ثقافتی اور معاشرتی معاملات متاثر ہو رہے ہیں ۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"جو شخص جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کرے اور سویرے ہی سے مسجد کی طرف چل پڑے، پیدل جائے، سوار نہ ہو اور امام سے قریب ہو کر بیٹھے، خطبے کو کان لگا کر سنے، لغو نہ کرے، تو اسے ہر قدم کے بدلے سال بھر کے روزوں اور سال بھر کے قیام کا ثواب ملتا ہے" (24)

کیا دفاتر سے 12 بجے چھٹی کر کے اس اہتمام کے ساتھ نماز جمعہ ادا کرنا ممکن ہے؟ اعتراض کیا جاتا ہے کہ جمعہ کے روز تعطیل کی وجہ سے لوگ شادیاں کرتے ہیں۔ جس سے جمعہ کا تقدس پامال ہوتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اور میں شادی کرتا ہوں پھر جس نے میرے طریق سے کنارہ کشی کی، وہ مجھ سے نہیں" (25)

ڈاکٹر خالد علوی لکھتے ہیں:

"نکاح ایک تمدنی ضرورت ہے لیکن قرآن و سنت نے اس پہلو کے علاوہ اس اخلاقی و دینی ضرورت بھی قرار دیا ہے اور اس کے قیام پر بہت شدت سے عمل کرایا ہے۔ قرآن نے تو اسے سنت انبیاء قرار دیا ہے" (26)

نکاح جو انبیاء کی سنت اور دینی و معاشرتی فریضہ ہے اس کی ادائیگی ایک مقدس اور بابرکت دن میں کیا دوہری خوشی کے مترادف نہیں؟

مزید یہ کہ دور دراز کے طلباء اور سرکاری ملازمین جمعہ کی تعطیل کے ساتھ نصف تعطیل جمعرات کی ملا کر بروقت اپنے ٹھکانوں پر پہنچ جاتے تھے۔ اب ہفتہ کو تین یا چار بجے فارغ ہونے والے ایسے طلباء اور ملازمین جن کا تعلق پسماندہ علاقوں سے ہے کس طرح گھروں تک پہنچ سکیں گے جہاں شام کے وقت ذرائع آمد و رفت بند ہو جاتے ہیں؟

ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ "بین الاقوامی منڈیاں اتوار کو بند اور جمعہ کو کھلتی ہیں اور ملکی معیشت کے استحکام کے لئے ان سے مماثلت ضروری ہے" یہ ضرورت تو درآمدات و برآمدات اور اس قسم کے ایک دو اور اداروں میں یوم تعطیل کی تبدیلی سے پوری ہو سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں، عام دفاتر اور عام بازاروں کا بین الاقوامی تجارت سے براہِ راست کیا تعلق ہے؟ در حقیقت جمعہ کو ترک کر کے اتوار کو قومی تعطیل قرار دے دینے میں وہی ملی بے حسی اور فکری غلامی کار فرما ہے جس کا اشارہ مولانا مودودی کر چکے ہیں۔ حکومت کی طرف سے یہ توجیہ انتہائی ناقابل اطمینان ہے کہ اس سے پاکستان بین الاقوامی تجارت میں کامیابی کے راستے کھل جائیں گے۔ یہ حکومتی اقدام دراصل چند تاجر پیشہ لوگوں کی ایک نامناسب اور غیر معقول تجویز کو قبول عام کا درجہ دے کر عوام کے سر پر مسلط کرنے کی کوشش ہے جو سیاسی و فکری بالغ نظری کی کمی پر دلالت کرتی ہے۔ تجارت کا یہ مقصد ان مخصوص حلقوں میں اتوار کی چھٹی رائج کر کے بھی حاصل کیا جا سکتا تھا یا جمعہ کو انہیں دفاتر کھولنے کی اجازت دی جا سکتی تھی جیسا کہ اکثر عرب مسلم ممالک میں یہن رواج ہے کہ تاجر حضرات جمعہ کو اگر چاہیں تو اپنا کام کر سکتے ہیں۔ ویسے بھی جن ممالک سے تجارتی روابط پیش نظر ہیں ان کے اور پاکستان کے اوقات میں کم و بیش 12 گھنٹوں کا فرق ہے چنانچہ جس وقت وہاں تجارت عروج پر ہو پاکستان میں اس وقت لوگ خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہوتے ہیں۔ اب اربابِ اختیار اس فطری و کائناتی تقسیم پر کیا موقف پیش کریں گے۔ آیا وہ رات کے وقت دفاتر کھول کر دن کے اوقات میں تعطیل کرنے کا حکم بھی نافذ کریں گے۔ یہ وہ منطقی تقسیم ہے جو اللہ تعالیٰ کے آفاقی اصولوں کے تحت ہمارے حصے میں آئی۔

تہذیب و تمدن، رہن سہن، طور اطوار اور تہوار و تعطیلات وہ امور ہیں جن کے ذریعے قوموں کے مزاج اور ان کی مماثلت و مفارقت کا اندازہ کیا جاتا ہے۔ جمعہ کی چھٹی کر کے ہم ملتِ اسلامیہ بالخصوص سعودی عرب، اور خلیجی ممالک کے قریب ہو جاتے ہیں جبکہ اپنے تہوار اور تعطیلات وغیرہ کی دوسری جانب تبدیلی کے ذریعے ہم یورپی ممالک کو قربت کا پیغام دے سکتے ہیں اور یہ بات کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ یورپی قوموں کے مسلمہ قومی تعصب، غیر یورپی قوموں سے برتاؤ کے اصولوں میں افراط و تفریط اور اصول و اقدار کے مختلف پیمانے ایسے حقائق ہیں جن سے ہر صاحبُ الرائے بخوبی یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ کن اقوام سے تہذیبی روابط بڑھانے سے ہمارا قومی مفاد وابستہ ہے اور کن سے مستقبل میں رابطے پنپ سکتے ہیں۔ اسی طرح یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ محمد عربی کی امت ہونے کے ناطے اسلام ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے ۔۔۔ الغرض جمعہ کی تعطیل مسلمانوں کا شعارِ ملت ہے۔ ماضی و حال جس پر دلالت کرتے ہیں۔

مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

"قبل تقسیم کے ہندوستان میں برطانوی اور مسلمان ریاستوں کے درمیان نمایاں فرق یہ نظر آتا تھا کہ ملک کے ایک حصے میں اتوار کی چھٹی ہوتی تھی اور دوسرے حصے میں جمعہ کی " (27)

آج بھی مسلمان ممالک کی اکثریت میں ہفتہ وار تعطیل کے لئے جمعہ ہی کا دن مقرر ہے۔

ہمیں ٹھنڈے دل سے سوچا چاہئے کہ اس قسم کے فیصلے (یعنی جمعہ کی بجائے اتوار کو یوم تعطیل قرار دینا) عیسائی دنیا کے نیو ورلڈ آرڈر کی تکمیل کا حصہ تو نہیں۔ پاکستان قوم کا جس طرہ امتیاز غیرتِ ایمانی ہے، احیائے اسلام کے لئے تن من دھن قربان کر دینا جس کی سرشت میں شامل ہے، ناموسِ رسالت پہ جان نچھاور کرنا جس کی اولین آرزو ہے، کیا اس قسم کے فیصلے اس جراءت مند قوم کے جذبات مجروح کرنے کا باعث نہیں ہیں؟ کیا یہ ہماری ثقافتی اور ذہنی غلامی کی دلیل نہیں کہ ہم مغربی آقاؤں کی خوشنودی کے لئے اپنی وہ تمام روایات اور تمدن کی وہ تمام صورتیں ترک کرنے کے لئے آمادہ ہو چکے ہیں جو اسلامی تشخص کی پہچان ہیں۔ بلکہ اس سے بڑھ کر بے حسی یہ کہ ہم نصاریٰ کی ثقافتی اقدار اور ان کے اشعارِ ملت کو گلے لگا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں کہ ہم بھی ہر پہلو میں آپ کے مقلد ہیں اور آپ ہی سے مکمل مشابہت اختیار کرنا نصب العین ہے۔ جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (من تشبه بقوم فهو منهم) (جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ اسی میں سے ہے)

ہمیں غور کرنا چاہئے کہ بے مثال قربانیوں کے بعد یہ ملک " لا اله الا الله" کی سربلندی کے لئے حاصل کیا گیا تھا یا نصاریٰ کی تہذیب و ثقافت کو پروان چڑھانے کے لئے۔ کیا مغربی آقاؤں کی خوشنودی کے لئے ہمیں اسلام کی صاف ستھری تہذیب اور روایات کو ترک کر دینا چاہئے جو ملت اسلامیہ کے الگ تشخص کی آئینہ دار ہیں۔ ڈاکٹر اقبال رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ہاشمی

ان کی جمعیت کا ہے ملک و نصب پر انحصار

قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تِری

دامنِ دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں

اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملے بھی گئی (28)

حاشیہ جات

(1)ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ سید، تفہیم القرآن ج5، ص 493، 1989ء، ادارہ ترجمان القرآن لاہور ۔۔۔ (2) ابن کثیر علامہ حافظ، تفسیر ابن کثیر ج5 ص 66، نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۔۔۔ (3) محمد بن عبداللہ خطیب ولی الدین، مشکوۃ شریف بحوالہ بیہقی، ج1 ص 376، ناشران قرآن لمیٹڈ لاہور ۔۔۔ (4) ایضا بحوالہ مسلم ص 371 ۔۔۔ (5) ایضا بحوالہ احمد و ترمذی ص 374 ۔۔۔ (6) ایضا بحوالہ ابن ماجہ ص 374 ۔۔۔ (7) ابوالاعلیٰ مودودی سید، تفہیم القرآن ج5 ص 497، بحوالہ بیہقی مذکور ۔۔۔ (8) ایضا، بحوالہ احمد: ج اول ص 449 و بخاری ص 496 و مسلم کتاب المساجد ۔۔۔ (9) القرآن، سورہ جمعہ، آیت:9 ۔۔۔ (10) محمد شفیع، مولانا مفتی، معارف القرآن ج8، ص 442، 1976ء ادارہ المعارف کراچی ۔۔۔ (11) ابوالاعلیٰ مودودی سید، تفہیم القرآن ج5 ص 495، مذکور ۔۔۔ (12) ابن کثیر علامہ حافظ، تفسیر ابن کثیر ج5 ص 68، مذکور ۔۔۔ (13) ابوالاعلٰی مودودی سید، تفہیم القرآن: ج5 ص 493، مذکور ۔۔۔ (14) ایضا ص 498 ۔۔۔ (15) ایضا 497 ۔۔۔ (16) ایضا ص 498 ۔۔۔ (17) القرآن، سورہ جمعہ، آیت: 10 ۔۔۔ (18) ابن کثیر علامہ حافظ، تفسیر بن کثیر ج5 ص 68، مذکور ۔۔۔ (19) محمد شفیع، مولانا مفتی، معارف القرآن ج8 ص 443، مذکور ۔۔۔ (20) ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ سید، تفہیم القرآن، ج5 ص 497، مذکور ۔۔۔ (21) ابن کثیر علامہ حافظ، تفسیر ابن کثیر، ج5 ص 66، مذکور ۔۔۔ (22) محمد شفیع مولانا مفتی، معارف القرآن، ج8 ص 440، مذکور ۔۔۔ (23) ابوالاعلیٰ مودودی سید، تفہیم القرآن ج5 ص 493 مذکور ۔۔۔ (24) ابن کثیر علامہ حافظ، تفسیر بن کثیر، ج5 ص 67، مذکور ۔۔۔ (25) خالد علوی ڈاکٹر، اسلام کا معاشرتی نظام، بحوالہ بخاری ص 140،1976ء ۔۔۔ (26) ایضا ص 137 ۔۔۔ (27) ابوالاعلیٰ مودودی سید، تفہیم القرآن ج5 ص 498، مذکور ۔۔۔ (28) محمد اقبال ڈاکٹر علامہ، بانگ درا، ص 48، 11987ء، مطبوعات شیخ غلام علی لاہور۔