حد کی جمع حدود ہے۔ یہ لفظ قرآن مجید میں چودہ مقامات پر آیا ہے:
﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا ﴾(البقرة)
"یہ اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں، ان کے پاس نہ جانا"
﴿إِلَّا أَن يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّـهِ﴾ (البقرة: 229)
"ہاں اگر میاں بیوی کو خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے"
﴿فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّـهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا﴾ (البقرة: 229)
"اگر تم ڈرتے ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے"
﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا﴾ (البقرة: 229)
"یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں (احکامات) ان سے باہر نہ نکلنا"
﴿وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾ (البقرة: 229)
"اور جو لوگ اللہ کی حدود سے باہر نکل جائیں گے، وہ گناہ گار ہوں گے"
﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا إِن ظَنَّا أَن يُقِيمَا حُدُودَ اللَّـهِ ﴾(البقرة: 230)
"ہاں اگر دوسرا خاوند بھی طلاق دے دے اور عورت اور پہلا خاوند ایک دوسرے کی طرف رجوع کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ دونوں یقین کر لیں کہ اللہ کی حدود کو قائم رکھ سکیں گے"
﴿وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ﴾ (البقرة: 230)
"اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، اللہ ان لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے جو دانش رکھتے ہیں"
﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ﴾ (النساء: 13)
"یہ تمام اللہ کے احکامات ہیں"
﴿وَمَن يَعْصِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا ﴾(النساء؛ 14)
"اور جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدوں سے نکل جائے گا تو اللہ اسے دوزخ میں ڈالے گا جہاں وہ ہمیشہ رہے گا"
﴿الْأَعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًا وَنِفَاقًا وَأَجْدَرُ أَلَّا يَعْلَمُوا حُدُودَ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ ۗ ﴾(التوبة: 97)
"بدو لوگ سخت کار اور سخت منافق ہیں اور اس قابل ہیں کہ جو احکام اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کئے ان سے واقف ہی نہ ہوں" (التوبہ:97)
﴿وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّـهِ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ (التوبة: 112)
"بُری باتوں سے منع کرنے والے اللہ کے احکامات کی حفاظت کرنے والے اور اسے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کو خوشخبری سنا دیجئے" ۔۔۔ (التوبہ: 112)
﴿ذَٰلِكَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ ۗ﴾ (المجادله: 4)
"یہ حکم اس لئے ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانبردار ہو جاؤ اور یہ اللہ کی حدود (احکامات) ہیں"
﴿وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ ﴾(الطلاق: 1)
"اور اللہ تعالیٰ کی حدیں (احکامات) ہیں"
﴿وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّـهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ﴾ (الطلاق: 1)
"اور جو اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے آپ پر ظلم کرے گا"
حد کا لغوی معنی "خط کھینچنا ہے" امام راغب اصفہانی نے لکھا ہے:
"الحد الحاجز بين الشيئين الذى يمنع اختلاط احدهما بالآخر، يقال حددت كذا جعلت له حدا يميز و حدالدار ما تتميز به عين غيرها"
"حد، وہ خط متارکہ ہے جو دو چیزوں کے درمیان حد فاصل قائم کرتا ہے اور انہیں ایک دوسرے سے ملنے سے روکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ میں نے یہ حد لگا دی یعنی خط کھینچ دیا تاکہ تمیز ہو سکے۔ اور گھر کی حد جو اسے دوسرے گھر سے علیحدہ کرتی ہے وہ اس کا خط ہوتا ہے"
عام طور پر دیکھا گیا ہے جب عوام الناس میں کوئی تحریک برپا ہوتی ہے تو پولیس ایک خط کھینچ دیتی ہے اور اعلان کرتی ہے کہ اگر کسی نے اس حد سے بڑھنے کی کوشش کی تو اس پر گولی چلائی جائے گی۔

احکاماتِ الہیٰ

جب ہم قرآن مجید کی آیات پر غور کرتے ہیں تو حد کی تعریف احکاماتِ الہیٰ بنتی ہے۔ جہاں بھی قرآن مجید میں خاص حکم دیا گیا، اس کے بعد فرمایا گیا: (تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا (البقرہ)) ۔۔۔ اسی طرح سورہ بقرہ میں رمضان المبارک کے مفصل احکامات دینے کے بعد فرمایا:
﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا﴾ (البقرہ)

سورہ بقرہ کی آیات 229-230 میں نکاح و طلاق کے قطعی احکامات کے بعد فرمایا:

﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا﴾ (البقرہ: 229)

سورہ النساء کی آیات 13-14 سے پہلے وراثت کی مفصل تقسیم کے بعد فرمایا:

(تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ)سورہ توبہ کی آیت 97 میں بدوؤں کے بارے میں فرمایا کہ وہ اللہ کے احکام کو نہیں جانتے۔ آیت 112 میں ان مومنین کی تعریف کی جو اللہ کے احکام کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ سورہ المجادلہ کی آیت 4 میں بیویوں کو مائیں کہنے والوں کے جرم اور اس کے کفارے کے احکامات دینے کے بعد فرمایا:(تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ)

سورۃ الطلاق میں بھی طلاق اور اس کی عدت کے احکامات کے بعد فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں اور جو اللہ کی حدود کو پھلانگنے کی کوشش کرے گا وہ خود ظالم ہو گا۔

اب سب آیات میں لفظ حدود کے استعمال کے بارے میں مفسرین کی رائے یہ ہے:

المصحف المفسر میں لکھا ہے: حدوده، حدود الله اى احكامه: اى احكامه و سننه هى جمع حد: اى احكامه تلك احكام الله: حدود ما انزل الله على رسوله من الشرائع الاصولحدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم

متعدد احادیث میں بھی لفظ حد استعمال ہوا ہے جو اگرچہ اصطلاحی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔

حد يعمل به فى الارض خيره لاهل الارض من ان يمطروا ثلاثين صباحا اربعين صباحا

"زمین والوں پر ایک حد کا جاری کرنا تیس دنوں کی متواتر بارش (رحمت) سے بہتر ہے (دوسری روایت میں) چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے"

(اقامة حد كفارة للذنب) (حد قائم کرنا گناہوں کا کفارہ ہے)

حد کی اصطلاحی تعریف

قرآن و سنت کے عمیق مطالعے سے حد کی اصطلاحی تعریف یوں بنتی ہے:

"کسی جرم کی وہ سزا جو قرآن و سنت میں متعین کر دی گئی ہو، اس میں کمی و بیشی کا اختیار پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تھا، نہ حاکم وقت یا قاضی وقت کو ہے"

یہ تعریف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سے ہی ماخوذ ہے:

"حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، ایک مخزومیہ عورت لوگوں سے کچھ چیزیں اُدھار لے لیا کرتی تھی، پھر واپس دینے سے انکار کر دیتی تھی، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ دینے کا حکم دیا، اس عورت کے گھر والے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس سفارش کے لے آئے، آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس عورت کی سفارش کی تو  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور غصے سے تمتا اٹھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ سے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

أسامة لا أراك تشفع في حد من حدود الله عز وجل

"اے اسامہ رضی اللہ عنہ! میں کیا دیکھتا ہوں کہ تم اللہ کی مقرر کی ہوئی سزاؤں میں سے ایک سزا میں سفارش لے کر آئے ہو/"

پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں فرمایا:

إنما أهلك من كان قبلكم بأنه إذا سرق فيهم الشريف تركوه وإذا سرق فيهم الضعيف قطعوه والذي نفسي بيده لو كانت فاطمة بنت محمد لقطعت يدها

"بےشک تم سے پہلے لوگ (یہود و نصاریٰ) صرف اس لئے ہلاک ہوئے کہ جب ان میں کوئی سردار چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی غریب کمزور آدمی چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیتے، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ اگر (مخزومیہ کی جگہ) میری بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا"

حدیث میں جہاں بھی لفظ حد استعمال ہوا، اکثر و بیشتر کسی جرم کی سزا کے لئے ہی استعمال ہوا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ادْفَعُوا الْحُدُودَ مَا وَجَدْتُمْ لَهَا مَدْفَعًا

"تم جرم کی سزا کو ختم کر دیا کرو، اگر اس کے ختم کرنے کی کوئی صورت نظر آئے"

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ادرءوا الحدود عن المسلمين ما استطعتم فإن كان له مخرج فخلوا سبيله فإن الإمام أن يخطئ في العفو خير من أن يخطئ في العقوبة

'مسلمانوں سے جرم کی سزا حتی المقدور ختم کر دیا کرو، اگر کوئی چھٹکارے کا پہلو نکلتا ہو تو مجرم کو آزاد کر دو (شک کا فائدہ دے کر) اگر کوئی امام سزا کو معاف کرنے میں غلطی کرے تو یہ کہیں بہتر ہے کہ وہ سزا دینے میں غلطی کرے"

ثابت یہ ہوا کہ حد کا اصطلاحی مفہوم کسی جرم کی وہ سزا ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے معین کی ہے:

والحد في الشرع عقوبة مقررة لاجل حق الله فيخرج التعزير لعدم تقديره إذ أن تقديره مفوض لرأي الحاكم ويخرج القصاص لانه حق الادمي.

"حد شریعت میں اللہ کے حق کی بنیاد پر مقررہ سزا کو کہتے ہیں، تعزیر اس سے الگ ہے کہ وہ حاکم وقت کی صوابدید پر موقوف ہے اور قصاص اس میں اس لئے نہیں آتا کہ وہ اللہ کا نہیں بندے کا حق ہے"

فى اصطلاح الشرح عقوبة مقررة وجبت على الجانى

"شرعی اصطلاح میں مجرم کے لئے وہ مقرر کردہ سزا جو اس کے لئے واجب ہے"

معنى ان العقوبة مقررة لحق الله اى انها مقررة لصلاح الجماعة و حماية النظام العام لان هذا هو الغاية من دين الله واذا كانت حقا لله فهى لا تقبل الاسقاط الا من الافراد ولا من الجماعة

"حد کا معنی اللہ کے حق کے لئے مقرر کردہ سزا ہے، جو جماعت کی صلاح اور نظام عام کو محفوط کرنے کے لئے دی جاتی ہے۔ کیونکہ اللہ کے دین کی گرض و غایت یہی ہے، جب یہ اللہ کا حق ہے تو اس میں معافی نہیں ہوتی، نہ افراد کی طرف سے اور نہ جماعت کی جانب سے"

سميت عقوبات المعاصي حدودا ، لانها في الغالب تمنع العاصي من العود إلى تلك المعصية التي حد لاجلها

"گناہوں کی سزاؤں کو حدود کا نام دیا گیا ہے کیونکہ اغلبا یہ سزا گناہگار کو اس گناہ کی طرف رجوع کرنے سے روکتی ہے جس کی وجہ سے یہ سزا متعین کی گئی ہے"

حد کا معنی گناہ بھی کیا گیا ہے۔ ويطلق الحد على نفس المعصية ومنه : ’ (تلك حدود الله فلا تقربوها ) (بقرہ:178)

"اور گناہ کو بھی فی نفسہ حدود کہا گیا جیسے اللہ نے فرمایا: صلی اللہ علیہ وسلم

حدود کی تعداد:

قرآن و سنت میں جن جرائم کی سزائیں متعین کی گئی ہیں وہ یہ ہیں:

(1)زنا (2)قذف (جھوٹی تہمت) (3)چوری (خمر (شراب) (5) ڈاکہ (حرابہ) (6)ارتداد (اسلام سے مرتد ہونا)

قتل نفس کو اس لئے حدوداللہ میں شامل نہیں کیا گیا کیونکہ وہ بندے کا بندے پر حق ہے اور اس کے لئے قرآن و سنت میں قصاص و دیت کا پورا قانون موجود ہے۔

1۔ زنا : ﴿الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۖ وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾

"زانیہ عورت اور زانی مرد دونوں میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے لگاؤ اور اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اللہ کے دین میں (دونوں سزا دینے میں) تمہیں کسی قسم کی نرمی دامن گیر نہ ہو اور ان دونوں کی سزا کا مشاہدہ مومنین کی ایک جماعت ضرور کرے" (النور: 2)

یہ سزا غیر شادی شدہ مرد و زن کے لئے ہے اور شادی شدہ مردوزن کے لئے رجم (سنگسار کرنا) کی سزا حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں متعین کر دی گئی ہے: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

خذوا عني ، خذوا عني ، قد جعل الله لهن سبيلا; البكر بالبكر جلد مائة وتغريب عام ، والثيب بالثيب جلد مائة والرجم

"مجھ سے احکامات حاصل کرو ۔۔۔ مجھ سے احکامات حاصل کرو ۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے زانیہ عورتوں کے لئے راستہ مہیا کر دیا ہے۔ غیر شادی شدہ زانیوں (مرد و زن) کے لئے سزا سو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی اور شادی شدہ مرد و زن کے لئے سو سو کوڑے اور رجم ہے"

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا وہ بلیغ خطبہ نقل ہے جس میں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا:

"بےشک اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، ان پر قرآن نازل کیا اور اس قرآن میں آیت رجم بھی تھی، ہم نے اس آیت کو پڑھا اور اسے اچھی طرح ذہن نشین کیا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور ہم نے بھی رجم کئے، مجھے خطرہ ہے کہ ایک دور ایسا آئے گا کہ لوگ کہیں گے ہم رجم کتاب اللہ میں نہیں پاتے پس وہ اللہ کے اس فرض کو ترک کر کے گمراہ ہوں گے، پس شادی شدہ مردوزن پر اگر وہ زنا کے مرتکب ہوں رجم برحق ہے، جب اس پر شہادت ثابت ہو جائے، حمل ثابت ہو یا مجرم خود اعتراف کریں۔ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے عمر رضی اللہ عنہ نے قرآن میں اضافہ کروا دیا تو میں اسے ضرور (سورہ احزاب میں) لکھوا دیتا۔ آیت رجم یہ ہے:

إذا زنيا الشيخ والشيخة فارجموهما البتة نكالاً من الله والله عزيز حكيم . 

حدیث ابی امامہ بن سہیل رضی اللہ عنہ میں الفاظ یہ ہیں:

الشيخ والشيخة فارجموهما البتة بـما قضيا من اللذة .

ابی بن کعب کے الفاظ یہ ہیں:

سورة الاحزاب توازى سورة النور فكان فيها الشيخ و الشيخة

ان احادیث سے ثابت ہے کہ رجم کا حکم حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں برقرار ہے اور اس پر اجماعِ امت ہے:

فانه قد ثبت بالسنة المتواترة المجمع عليها و ايضا ثابت بنص القرآن لحديث عمر عند الجماعة

امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے محدثین و فقہاء کا فیصلہ ہے کہ: (اما الرجم فهو مجمع عليه)

"جہاں تک رجم کی سزا کا تعلق ہے اس پر امت کا اجماع ہے"

ایک اعتراض کا جواب

عام طور پر ایک اعتراض آیتِ رجم پر یہ کیا جاتا ہے کہ اگر حد رجم کا حکم برقرار تھا تو اسے قرآن سے کیوں نکلوایا گیا؟

اس کا سیدھا سارہ جواب تو یہ ہے کہ یہ اللہ کا اختیار ہے اور اس کا فرمان ہے:

﴿يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ ۖ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ ﴿٣٩﴾... (الرعد)

"اللہ جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے اور لوحِ محفوظ اسی کے پاس ہے"

اگر اس حکمت کو تلاش کرنا ہی مقصود ہو کہ اس آیت کو قرآن سے کیوں نکلوایا گیا تو یہ بات بالکل صاف اور عیاں ہے کہ اللہ یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا میرے حکم کے علاوہ میرے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو بھی تسلیم کیا جاتا ہے یا نہیں؟ جہاں اللہ کا یہ فرمان ہے (أَطِيعُوا اللَّـهَ) وہاں یہ بھی حکم ہے (وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ) اور کتنی آیات قرآن مجید میں ایسی ہیں جن میں اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر زور دیا گیا ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو تسلیم نہ کرے، اسے دائرہ اسلام سے خارج مانا گیا ہے:

﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴿٦٥﴾ ...(سورۃ النساء)

"آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار کی قسم کوئی آدمی اس وقت تک سچا مسلم نہیں بن سکتا جب تک وہ آپ کو اپنے درمیان پھوٹنے والے جھگڑوں میں فیصل اور قاضی نہ مان لیں اور پھر جو فیصلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنا دیں اس کے خلاف اپنے دل میں کسی قسم کا غبار (تنگی) محسوس نہ کریں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو دل و جان سے تسلیم کریں" ۔۔۔ پھر فرمایا:

﴿وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ﴿٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ ﴿٤﴾ ...(النجم)

"اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (دین کے معاملے میں) اپنی خواہش نفس سے کوئی بات نہیں کہتے، ہاں مگر جو اللہ کی طرف سے انہیں وحی کی جاتی ہے (وہ ضرور بتاتے ہیں)"

﴿مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚوَاتَّقُوا اللَّـهَ﴾

"رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ تمہیں دیں اُسے مضبوطی سے تھام لو اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو"

﴿فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴿٥٩﴾ (النساء)

"اگر تمہارا کسی بات میں اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹا دو اگر تم واقعتا اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو یہ بات ہر لحاظ سے بہتر اور تاویل کے اعتبار سے بھی سب سے اچھی ہے"

ان تمام آیات سے ثابت ہوا کہ جہاں اللہ کے حکم کو ماننا لازم ہے، وہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے سامنے سرتسلیم کرنا بھی ضروری ہے۔ اس کے لئے قرآن میں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ بعض آیات کا حکم منسوخ ہے مگر ان کی تلاور منسوخ نہیں۔ ہم صرف ایک مثال پر اکتفا کریں گے ۔۔۔ شراب کے بارے میں قرآن مجید میں تین آیات میں دو آیات سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ شراب اب بھی حلال ہے:

﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا﴾ (البقرہ: 219)

"یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب اور جوئے کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے یہ دونوں بہت بڑے گناہ ہیں لیکن اس میں لوگوں کے لئے وقتی فائدے ہیں مگر ان دونوں کا گناہ ان کے فائدے سے کہیں زیادہ بڑا ہے" دوسری آیت:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ (النساء: 3،4)

"اے ایمان لانے والو نشہ کے عالم میں نماز کے قریب ہرگز نہ جاؤ"

لیکن تیسری آیت آپ ثابت کرتی ہے کہ شراب مطلقا حرام ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿٩٠﴾ (المائدہ)

"اے ایمان لانے والو بےشک شراب، جوا، بت پرستی، فال نکالنے والے تیر، یہ سب گندگی اور شیطانی اعمال ہیں، تم ان سے دور ہٹ جاؤ تاکہ تم دین و دنیا میں سرخرو ہو سکو"

یہ اللہ تعالیٰ کا کلی اختیار ہے کہ کسی حکم کو قرآن مجید سے نکلوا کر حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اسے برقرار رکھے (جیسے رجم) اور یہ بھی اللہ کا اختیار ہے کہ کسی حکم کو تبدیل کر دے جیسے زانیہ عورتوں کی سزا (پہلے گھروں میں قید رکھنے کا حکم تھا، پھر غیر شادی شدہ کو سو کوڑے لگانے کا حکم دیا)۔ ٌپس اگر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید سے رجم کی آیت نکلوا کر اس کے حکم کو شریعتِ مطہرہ میں بحال رکھا تو اس کی حکمت یہی ہے کہ کیا ہم قرآن کے ساتھ ساتھ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے ہیں یا نہیں؟

فرمان الہیٰ ہے:

﴿مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ۗ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿١٠٦﴾ (البقرہ)

"ہم جس آیت کو بھی منسوض کرتے یا اسے فراموش کر دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی ہی دوسری آیت بھیج دیتے ہیں، کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے"

تعزیر کی تعریف

لغوی معنی: تعزیر، عزر، يعزر، تعزيرا سے ماخوذ ہے، جس کا معنی روکنا، منع کرنا اور تعظیم کے ساتھ مدد کرنا، کہا جاتا ہے، عزره لامه، اى اعانه یعنی اس نے اپنی ماں کی مدد کی اور عزره عن كذا ہو تو منع کیا، روکا منع ورده

ادبه، ضربه اشد الضرب، فخمه، و عظمه، اعانه و نصره یعنی ادب سکھایا، اور سخت ضرب ماری، اس کی تعظیم کی، اس کو بڑا مانا، اس کی اعانت و مدد کی (المنجد، ص:503)

التعزير النصرة مع التعظيم

کسی کی عظمت کے پیش نظر اس کی مدد کرنا۔ (المفردات، ص:333)

قرآن مجید میں ہے:

﴿وَقَالَ اللَّـهُ إِنِّي مَعَكُمْ ۖ لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ وَآمَنتُم بِرُسُلِي وَعَزَّرْتُمُوهُمْ﴾ (المائدہ: 12)

"اور اللہ نے فرمایا میں تمہارے ساتھ ہوں ۔۔۔ اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے اور ان کی مدد کرو گے"

﴿فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ ﴾(الاعراف: 157)

"جو لوگ ان صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، ان کی تعظیم کی اور انہیں مدد دی"

اصطلاحی مفہوم

والتعزير ضرب دون الحد فان ذلك تاديب والتاديب نصرة معه

"تعزیر کا معنی وہ سزا ہے جو حد سے کم تر ہوتی ہے اور یہ دراصل تادیب ہوتی ہے اور تادیب در حقیقت کسی کی برائی سے روکنے پر مدد ہوتی ہے" (المفردات، ص:333)

ياتى التعزير بمعنى التعظيم والنصرة: ومن ذلك قول الله (لِّتُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ ) (الفتح: 9) اى تعظموه و تنصروه

تعزیر میں تعظیم اور نصرت کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ جیسے کہ اللہ کا فرمان ہے کہ "تم اللہ پر اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو" یعنی تم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم بجا لاؤ اور اس کی مدد بھی کرو (فقہ السنۃ، ص497 ج2)

تعزیر کا ایک مفہوم اہانت ۔۔۔ (کسی کو ذلیل کرنا) بھی ہے:

يقال عزر فلان فلانا اذا اهانه زجرا تاديبا له على ذنب وقع منه

"کہا گیا ہے فلاں نے فلاں کی تذلیل کی یعنی اسے لعنت ملامت کرتے ہوئے اس کے کسی گناہ پر اسے سزا دی"

شریعت میں اس کا مقصد اور تعریف یوں بنتی ہے:

التاديب على ذنب اى انه عقوبة تاديبه يفرض الحاكم على جناية او معصية لم يعين الشرع لها عقوبة (فقہ النسۃ: ص 497، ج 2)

"حاکم وقت کسی جرم یا گناہ پر ایسی سزا نافذ کرے جو شریعت نے مقرر نہیں کی"

ويقصدون بالتعزير كل عقوبة ليس فيها من الشارع تقدير معين فى العقوبة بل الامر فيه معوض الى راى القاضى و اجتهاده (تلک حدوداللہ: ص 18)

"تعزیر کسی جرم کی وہ سزا ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معین نہیں کی بلکہ یہ معاملہ قاضی کی رائے و اجتہاد پر چھوڑ دیا گیا ہے"

مذکورہ بالا تمام بحث سے تعزیر کی جو تعریف سامنے آتی ہے وہ اس طرح ہے۔ جہاں تعزیر کا معنی کسی کو ملامت کرنا، زجر و توبیخ کرنا اور اصلاح کے لئے سزا دینا ہے وہاں تعزیر کا معنی کسی کی پشت پناہی اور اس کی مدد اور نصرت بھی ہے۔ یہ اصول ہمیشہ سے مسلمہ ہے کہ تادیب اس سزا کو کہا جاتا ہے جو کسی کی اصلاح کے لئے دی جائے۔ ہمارے گھروں اور تعلیمی اداروں میں ہر جگہ رائج ہے۔ حتیٰ کہ دنیا کا کوئی بھی ملک ایسا نہیں ہے جو تادیب کا انکاری ہو۔ انگریزی محاورہ ہے:

“Spare The rod spoil the Child”

(یعنی جہاں بچے کو تادیب نہ کی جائے، وہاں اس کی اصلاح نہیں ہو گی)

یہ فرد اور معاشرے دونوں کی پشت پناہی ہے۔ فرد کی اس اعتبار سے کہ تادیب میں اصلاح کا پہلو ہے اور معاشرے کی اس اعتبار سے کہ وہ امن و امان کا گہوارہ بن جاتا ہے۔

پس تعزیر کسی جرم کی وہ سزا ہے جسے شریعت نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم حاکم وقت یا قاضی وقت کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہو۔ اس سزا میں کمی و بیشی ہو سکتی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سزا دس کوڑوں رک بھی دی ہے۔

ھانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

لا تجلدوا فوق عشرة اسواط الا فى حد من حدود الله تعالى

اللہ کی حدود کے علاوہ دس کوڑوں سے زیادہ سزا نہ دو۔ (بخاری، مسلم، ابوداؤد)

بہز بن حکیم اپنے والد اور اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں:

ان النبى صلى الله عليه وسلم حبس فى التهمة (ابودؤد، ترمذی، نسائی، بیہقی و صححہ الحکم)

"رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تہمت کی بنا پر ایک آدمی کو قید کیا (احتیاط کے طور پر ایسا کیا تاکہ حقیقت حال معلوم ہو سکے)"

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے یہ بات ثابت ہے:

كان يعذر و يودب بحلق الراس والنفى والضرب، كما كان يحرق حوانيت الخمارين والقربة التى يباع فيها الخمر و حرق قصر سعد بن ابى وقاص بالكوفة، لما احتجب فيه للسجن و ضرب النائحة حتى بدا شعرها (فقہ السنہ: ص 497-498، ج 2)

"وہ تعزیر اور تادیب کرتے تھے، کسی کا سر منڈا کر، کسی کو جلاوطن کر کے اور کسی کو مار پیٹ کر، آپ نے شراب بیچنے والوں کی دکانیں جلا دیں، وہ بستی جس میں شراب بیچی جاتی تھی اسے آگ لگا دی اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا کوفہ میں محل جلا دیا، جب انہوں نے محل کے دروازوں پر دربان بٹھا دئیے اور رعیت کو ملنا چھوڑ دیا، وہ اکثر ہاتھ میں درہ پکڑے رہتے تھے، جو اس کا مستھق ہوتا تھا اسے لگا دیتے تھے،آپ نے ایک قید خانہ بھی بنایا تھا، آپ نے نوحہ کرنے والی عورت کو اتنا پیٹا کہ اس کے سر کے بال ننگے ہو گئے"

"تعزیر معمولی سے معمولی سزاؤں مثلا نصیحت، سخت نظروں سے دیکھنا، یا کسی سے توجہ ہٹا لیتا سے شروع ہو کر سخت ترین سزاؤں جیسے قید، کوڑے لگانا بلکہ انتہائی گھناؤنے جرم میں قتل کی سزا تک بھی جا پہنچتی ہے جبکہ مصلحتِ عامہ کا تقاضا یہی ہو اور مجرم کے فساد کو سوائے قتل کے کوئی سزا کم نہ کر سکے (اس وقت یہ لازمی ہوتی ہے) جیسے سرکش مجرم، جاسوس، نت نئے جرائم ایجاد کرنے والے۔ اس سزا کا اختیار قاضی کی رائے پر چھوڑ دیا گیا کہ وہ مجرم کو اس کے اصلاح احوال کے مطابق سزا دے اور اسلامی حاکم کو ایسے قوانین (By Laws) بنانے کی اجازت ہے جو جرائم کو ختم کرنے کے لئے تعزیر کی صورت میں نافذ ہو سکتے ہیں۔ (تلک حدود اللہ: ص 18-19)

جیسے آج کل منشیات فروشوں کو قتل کی سزا دی جا رہی ہے۔

اسی طرح سنن ابوداؤد میں روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک مخنث کو لایا گیا جس نے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کو مہندی لگائی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اس نے ہاتھوں اور پاؤں کو کیوں مہندی لگائی ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، عورتوں سے مشابہت اختیار کرتا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بقيع کی جانب سے شہر سے نکال دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: کیا ہم اس کو قتل کر دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"انى نهيت عن قتل المصلين" (کہ مجھے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے)

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے شراب کے بارے میں چالیس کوروں کی حد کو اَسی (80) کوڑوں میں تبدیل کیا۔ اسی لئے حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، شراب کی حد اسی (80) کوڑے مانتے ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے شراب کی حد کے بارے میں مشورہ کیا تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اجعله كاخف الحدود ثمانين" سب سے ہلکی حد کی سزا کے مطابق اسی (80) کوڑے کر دیجئے۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے اسی (80) کوڑے لگوائے اور شام میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوعبید رضی اللہ عنہ کو ایسا کرنے کا حکم دیا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے مشورہ دیتے ہوئے فرمایا:

" نرى أن نجلده ثمانين. فإنه إذا شرب سكر. وإذا سكر هذي. وإذا هذي افترى ، أو كما قال، فجلد عمر في الحد ثمانين "(ص: 102)

"ہمارا مشورہ ہے کہ اسے اسی (80) کوڑے لگائے جائیں کیونکہ جب وہ شراب پیتا ہے تو نشے میں ہوتا ہے، جب نشے میں ہوتا ہے تو بیہودہ بکواس کرتا ہے اور جب بیہودہ بکواس کرتا ہے تو تہمت لگاتا ہے اور تہمت (قذف) لگانے والے کی سزا (80) کوڑے ہے"

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی رائے مختلف ہے اور یہ رائے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کی روایت سے ہے کہ شراب کی حد صرف چالیس کوڑے ہے اور اگر امام اسے اسی (80) کوڑے لگائے تو اس کی اسے اجازت ہے کیونکہ حد چالیس (40) ہے اور اس سے زائد تعزیر ہے۔

وفعل النبي صلى الله عليه وسلم حجة لا يجوز تركه بفعل غيره ، ولا ينعقد الإجماع على ما خالف فعل النبي ، وأبي بكر وعلي رضي الله عنهما ، فتحمل الزيادة من عمر على أنها تعزير ، يجوز فعلها إذا رآه الإمام و يرجع هذا ان عمر كان يجلد الرجال القوى المنهمك فى الشراب ثمانين, و يجلد الرجل الضعيف الذى وقعت منه الزلة اربعين

"رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل حجت ہے، کسی دوسرے کے عمل کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عمل کا ترک جائز نہیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عمل کے خلاف کوئی اجماع نہیں ہو سکتا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا چالیس کوڑے زیادہ کرنا دراصل تعزیر ہے اور یہ اس طرح جائز ہے کہ جب امام/خلیفہ اس بات کو مناسب سمجھے تو وہ اس پر عمل کر سکتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ موٹے تازے عادی شرابی کو (80) کوڑے لگواتے اور ضعیف اور کمزور شرابی غیر عادی کو چالیس کوڑے لگواتے۔" (فقہ السنہ: 336، ج2)

والتعزير يكون بالقول مثل التوبيخ والزجر والوعظ ويكون بالفعل حسب ما يقتضيه الحال كما يكون بالضرب والجس والقيد والنغى والعزل والرفت

"تعزیر زبان سے بھی ہو سکتی ہے جیسا کہ کسی کو سخت سست کہنا، لعنت ملامت کرنا، وعظ و نصیحت کرنا اور حالات کے تقاضوں کے مطابق وہ عمل سے بھی ہو سکتی ہے، جیسے مارنا پیٹنا، قید کرنا، جلا وطن کرنا، معزول کرنا اور ذلیل و رسوا کرنا" (فقہ السنہ: 2/498)

یہ بھی ثابت ہے کہ تعزیر میں درج ذیل سزائیں دینا جائز نہیں:

(1)داڑھی کا منڈوانا، (2) گھر کا برباد کرنا، (3) باغوں کو تباہ کرنا اور کھیتوں کو اجاڑنا، پھلوں اور درختوں کو کاٹنا، (4) ناک، کان، ہونٹ اور انگلیوں کا کاٹنا۔

تعزیر کی ایک صورت یہ بھی بنتی ہے کہ اگر کسی حد کے جرم میں قاضی وقت کے پاس "حد" کی اسلامی شہادت کی شروط مکمل نہ ہوں اور وہ موجود شہادتوں، تحقیق و تفتیش کے نتیجے میں سمجھتا ہو کہ مجرم یہی ہے تو اس صورت میں وہ حد کے بجائے اس پر تعزیر نافذ کر سکتا ہے۔

فلسفہ/حکمت

عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ کہتے ہیں، اسلام کی سزائیں بڑی وحشیانہ اور ظالمانہ ہیں، غیر فطری اور غیر انسانی ہیں۔ جبکہ یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی قانون سزاؤں (Penal Code) سے مستثنیٰ نہیں، وہ ممالک جو کسی مذہب کو نہیں مانتے، دہریت و الحاد ان کا ایمان ہے، وہ بھی اپنے ملکی قانون میں سزاؤں کا ایک نظام رکھتے ہیں اور وہ معمولی جرائم پر اس قسم کی سزائیں بھی دیتے ہیں جن کا تصور بھی قرآن و سنت میں نہیں کیا جا سکتا۔

روس میں ہمیشہ سے یہ نظام رہا کہ جو آدمی کمیونزم کے خلاف بات کرتا تھا تو اسے سائبیریا کے جنگلات میں پھینک دیا جاتا تھا اور ایسے بہت سے لوگوں نے امریکہ میں پناہ لی۔ اخبارات میں یہ بات آ چکی ہے چین میں چار انجنئیرز کو گولیوں سے اڑا دیا گیا، ان کا جرم یہ تھا کہ جس ڈیم کی تعمیر پر ان کی ڈیوٹی تھی وہ گر گیا۔ اس طرح دنیا کے ہر ملک کے قانون میں سزاؤں کا ایک نظام ہے جو انسان کے اپنے ذہن کی پیداوار ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس نظام میں جرم کم ہوتا ہے سزا زیادہ ہوتی ہے یا سزا کم ہوتی ہے اور جرم بڑا ہوتا ہے لیکن اس نظام کا مقصود بھی فرد اور معاشرے کی اصلاح ہوتی ہے۔ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ اسلام نے حدود تعزیرات کا جو نظام دیا ہے اس سے ہی جرائم کی روک تھام ممکن ہو سکتی ہے۔

اللہ ہی نے انسان کی تخلیق کی اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کی اصلاح کیسے ہو سکتی ہے، یہ بات معروف ہے کہ جو انجنئیر جس مشینری کا مُوجد ہوتا ہے وہ اس کی سب سے بہترین اصلاح کر سکتا ہے۔ امریکی معاشرے کے بارے میں یہ بات معروف ہے کہ وہاں لوگ زیور تعلیم سے آراستہ ہیں، جو بڑے مہذیب اور صاحب اخلاق مانے جاتے ہیں لیکن مختصر وقفے کے لئے بجلی چلے جانے پر یہ تعلیم یافتہ اور مہذب لوگوں جو گل کھلاتے ہیں ان کی تفصیلات اخبارات میں آتی رہتی ہیں۔

مقام افسوس یہ ہے کہ ان مہذب لوگوں نے جرائم کی تعریف بدل ڈالی ہے۔ ان کے ہاں زنا صرف وہ ہوتا ہے جو کسی کے ساتھ زبردستی کیا جائے، اگر باہمی رضامندی سے بدکاری کی جائے تو یہ زنا کی تعریف میں نہیں آتی اور مستوجب سزا نہیں۔ بلکہ ایسے مادر پدر آزاد معاشروں میں اگر ماں باپ اپنے بچوں کو منع کرنے کی کوشش کریں تو وہ قابل گردن زنی قرار پائیں۔

بہرحال یہ بات واضح ہے کہ دنیا کا کوئی قانون سزا کے نظام سے مستثنیٰ نہیں اور یہ بھی ثابت ہوا کہ سزا سے اصلاح نفس اور اصلاح معاشرہ جیسے اہم مقاصد حاصل ہوتے ہیں، اس لئے اسلام نے جو سزائیں مقرر کی ہیں، وہ نہ صرف اصلاح نفس و معاشرہ کے لئے کام آتی ہیں بلکہ یہ ایسا نظام ہے جو باعث برکت و رحمت ہے۔ جو لوگوں کی جان و مال، عزت و آبرو کا محافظ بھی ہے اور دنیا میں باعث امن اور آخرت کے لئے فوز و فلاح کا ضامن بھی ہے۔ ابراہیم احمد لکھتے ہیں:

"اسلام نے حدود و تعزیرات کا ایسا نظام دیا جو لوگوں کے جان مال اور عزت و آبرو کا محافظ ہے"

فان تشريع الحدود فى الاسلام رحمة من الله بالعباد فان هم اقاموها ولم يعتدوها, والتزموا بها ولم ينتهكوها, سادفيهم العدل, و تحقق الامن والاستقرار وعاشوا  آمنين مطمئنين وهذا ولاريب من عاملعوامل التقدم والتمكين فى الدنيا و دلائل الفوز والفلاح فى الاخرة

"اسلام نے حدود کو اس لئے قانونی صورت دی کہ یہ اللہ کی طرف سے اس کے بندوں کے لئے باعث رحمت ہے، اگر وہ ان حدود کو قائم کئے رکھیں، ان سے آگے بڑھیں، انہیں لازم جانیں اور انہیں پامال نہ کریں تو (اسلامی معاشرے میں) عدل کی حکمرانی ہو، امن و امان کا دور دورہ ہو، اہل اسلام امن و آشتی کے ساتھ رہیں اور یہ بلاشک دنیا میں ترقی اور کمال کا زینہ اور آخرت کے لئے فلاح و فوز کا ضامن ہو گا" (تلک حدوداللہ، ص5)

فرق صرف یہ ہے کہ باقی ممالک کی سزائیں خود ساختہ اور ان کے اپنے ذہنوں کی پیداوار ہے جبکہ اسلامی سزاؤں کا نظام اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تشکیل کردہ ہے۔

انسانی برائی کا مرتکب کیوں ہوتا ہے؟

سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک آدمی برائی کا مرتکب کیوں ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے:

وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ﴿٧﴾ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ﴿٨﴾ (الشمس)

"قسم انسان کی اور اس کی جس نے اس کے اعضاء کو برابر کیا، پھر اس کے نفس میں نیکی اور برائی کے جذبات ڈال دئیے" ۔۔۔ دوسری جگہ فرمایا:

﴿إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا ﴿٣﴾ (الدھر)

"ہم نے انسان کو صراط مستقیم کی ہدایت دی، اب اس کی مرضی ہے کہ وہ شکرگزار بن جائے یا ناشکرا بن جائے"

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے:

كل ابن آدم خطاء، وخير الخطَّائين التوّابون (الترمذی، ابن ماجہ)

"تمام بنی نوع انسان خطاکار ہیں اور سب سے بہتر خطاکار وہ ہیں جو اللہ کے دروازے پر لوٹ جاتے ہیں (توبہ کر لیتے ہیں)"

انگریزی کا مقولہ ہے To error is Human "انسان غلطی کا پتلا ہے"

ان آیات اور حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی فطرت میں برائی کا مادہ موجود ہے۔ یہ حقیقت قرآن مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام کی زبان سے یوں بیان ہوا:

﴿وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي ۚ إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي ﴾(یوسف: 53)

"میں اپنے آپ کو برائی سے بری الذمہ قرار نہیں دیتا کیونکہ نفس انسان کو برائی پر بہت زیادہ اکسانے والا ہے مگر ہاں جس پر میرا پروردگار رحم کرے"

کائنات میں برائی کے دو سبب ہیں۔ ایک نفسِ امارہ اور دوسرا شیطان

شیطان نے بھی ابتدائے آفرینش میں اللہ سے یہ کہا تھا:

﴿قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ ﴿١٦﴾ ثُمَّ لَآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَن شَمَائِلِهِمْ ۖ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ ﴿١٧﴾...الأعراف

"(شیطان نے) کہا کیونکہ تو نے مجھے گمراہ کر دیا ہے تو میں بھی تیرے سیدھے راستے پر (ان سب انسانوں کو) گمراہ کرنے کے لئے جم کر بیٹھوں گا، پھر میں ان کے آگے سے، ان کے پیچھے سے، ان کے دائیں، ان کے بائیں سے (غرض ہر طرف سے) آؤں گا اور انہیں گمراہ کروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکرگزار نہیں پائے گا" (الاعراف: 16-17)

﴿ قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿٣٩﴾ (الحجر)

"(شیطان نے) کہا میرے پروردگار جیسا تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں لوگوں کے لئے زمین میں گناہ کو آراستہ کر دکھاؤں گا اور سب کو گمراہ کروں گا" ۔۔۔ (الحجر: 39)

﴿قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿٨٢﴾ (ص)

"(شیطان نے) کہا مجھے تیرے عزت کی قسم میں ان سب (انسانوں) کو گمراہ کروں گا"

حضرت آدم علیہ السلام اور حواء علیہ السلام کو بہکانے والا شیطان تھا:

﴿فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ  ۔۔۔ وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ ۔۔۔ فَدَلَّاهُمَا بِغُرُورٍ ۔۔۔ فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ﴾

"شیطان نے آدم اور حوا کے جی میں وسوسہ ڈالا ۔۔۔ اور (شیطان نے) ان دونوں سے قسم کھا کر کہا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ غرض (اس نے) انہیں دھوکہ دے کر ان کو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا۔ پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (جنت) میں تھے اس سے ان کو نکلوا دیا"

ثابت ہواانسان کو برائی پر اکسانے والے یہی دو عوامل ہیں، عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ انسان برائی کرنے کے بعد شیطان کو کوستا ہے، لیکن اس حقیقت کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ شیطان انسان کو دشمن ہی سہی (إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا) "شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اسے اپنا دشمن جانو" لیکن انسان کا نفس شیطان سے بھی بڑا دشمن ہے۔

علامہ اقبال نے اس حقیقت کو شیطان کی زبان سے یوں بیان کیا:

ہنسی آتی ہے مجھ کو حضرت انسان پر

فعلِ بد تو خود کرے لعنت کرے شیطان پر

یہ کہا جاتا ہے کہ جب دنیا میں شیطان نہیں تھا تو پھر شیطان کو کس نے گمراہ کیا۔ اس حقیقت کو تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ ابلیس کو اس کے نفس نے گمراہ کیا۔ قرآن مجید میں ہے جب اللہ نے اس سے پوچھا کہ تو نے مجھے سجدہ کیوں نہیں کیا تو اس نے کہا:

أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ ﴿١٢﴾ (الاعراف)

دوسری جگہ ہے:  أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ ﴿٣٤﴾ (البقرۃ)

"میں انسان سے افضل ہوں کیونکہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور انسان کو مٹی سے پیدا کیا" ۔۔۔ (شیطان کے نفس کی سرکشی یہ تھی کہ) کہ وہ تکبر میں آ گیا اور اللہ کے حکم کا انکار کیا" ۔۔۔

جس پر اللہ نے فرمایا:

فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ ﴿١٣

"اللہ نے فرمایا تو جنت سے اتر جا تجھے یہاں تکبر کرنے کی اجازت نہیں تو جنت سے نکل جا، بےشک تو ذلیل و رسوا ہے" (الاعراف:13)

پس ثابت ہوا کہ برائی کے دو نمائندے نفس امارہ اور شیطان انسان کو ہر وقت برائی پر اکساتے رہتے ہیں۔ جب تک ایک بھی انسان دنیا میں رہے گا برائی اور گناہ کے امکانات معدوم نہیں ہو سکتے۔ ذیل میں ہم نکتہ وار اسلامی نظام عقوبات کے پس پردہ کارفرما تصورات اور نظریات پر بحث کرتے ہیں:

(1)اصلاحِ نفس

انسان خطا کا پتلا ہے یہی مفہوم ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کا کہ "تمام بنی نوع انسان خطاکار ہیں اور سب سے بہتر خطا کار وہ ہے جو اللہ کے دروازے پر لوٹ آئے۔" لہذا انسانی سرشت اور فطرت سے برائی کا مادہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔ صورت صرف ایک باقی رہ جاتی ہے کہ مجرم کو معاشرے کا باعزت شہری بنا کر زندہ رہنے کے قابل بنایا جائے۔

اسلامی سزاؤں کا نظام مجرم کی اصلاح کرتا ہے۔ لہذا اسلام نے جو سزائیں دی ہیں۔ ان کا پہلا بنیادی فلسفہ یہی ہے کہ اس کی اصلاح کی جائے، چور کا ہاتھ کاٹنا ظلم نہیں بلکہ اصلاح نفس کی ہی ایک صورت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مخزوم کی عورت کا جب ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفارش کی گئی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی جرمانہ، تاوان وغیرہ لگا دیں مگر ہمارے قبیلے کے عورت کے ہاتھ نہ کاٹیں۔ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ايم الله لو كانت فاطمة بنت محمد لقطعت يدها

پس چور کا ہاتھ کاٹنا کوئی سخت اور انوکھی سزا نہیں اور روس میں چوروں کو قید کی سزا دی جاتی تھی لیکن آخر کار روسیوں پر یہ بات عیاں ہوئی کہ قید کی سزا سے چوری ختم نہیں ہوئی بلکہ جرم دن بدن بڑھ رہا ہے تو انہوں نے چور کو گولی سے اڑانے کی سزا متعین کی:

"بےشک چور کا ہاتھ کاٹنا کوئی سنگدلانہ یا عجیب و غریب سزا نہیں ہے۔ روس آخر کار چوری کی سخت سزا نافذ کرنے پر مجبور ہوا، جب اسے یہ علم ہوا کہ چوری کے لئے قید کی سزا چوری کے جرم کے ارتکاب میں کوئی کمی نہیں کر سکی بلکہ اس سے معاشرے میں انتشار و بے راہ روی کا اضافہ ہوا ہے، لہذا روس کو چوری کے لئے گولی سے اڑانے کی سزا مقرر کرنا پڑی" (صحیفہ الاہرام المصریہ 14 اگست 1963ء)

تقاضائے بشریت کی بنیاد پر انسان سے خطائیں سرزد ہوتی ہیں، اس سلسلے میں عبداللہ بن ابراہیم الانصاری نے بڑی خوبصورت بات کہی ہے:

بعض نفوس انسانی میں فطرت سلیمہ سے انحراف پیدا ہو جاتا ہے اور ان کی طبائع خباثت کا شکار ہوتی ہیں، مذاق شر ان میں بڑھ جاتا ہے اور وہ جرم کی مرتکب ہوتی ہیں۔ ان کے نزدیک کسی کی عزت، عظمت اور شرف کا کوئی پاس اور قیمت نہیں ہوتی، نہ انہیں کسی کی فضیلت کا احترام و لحاظ ہوتا ہے، ایسی قسم کے لوگوں کو اگر رسی ڈھیلی چھوڑ دی جائے تو وہ زمین میں بے پناہ فساد برپا کرتے ہیں، اللہ کے بندوں اور ممالک میں بدبختی طاری ہوتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی اصلاح کا طریقہ بتایا ہے اور ایسے ضابطے اور قوانین بتائے ہیں جو ان کی بے راہ روی کو ٹھیک کرتے ہیں، پس اللہ نے ایسے گم کردہ راہ لوگوں کا علاج، جرم کو بیخ و بن سے اکھیڑنے اور ظلم و زیادتی کے جراثیم ختم کرنے کے لئے حدود نازل کیں۔

امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے حدود کے اسی فلسفہ و حکمت کے بارے میں بڑی بلیغ بات کی:

إنما شرعت رحمة من الله تعالى بعباده فهي صادرة عن رحمة الله بالخلق وإرادة الإحسان إليهم، ولهذا ينبغي لمن يعاقب الناس على ذنوبهم أن يقصد بذلك الرحمة والاحسان اليهم كما يقعد الوالد تاديب ولده وكما يقعد الطيب معالجة المريض

بےشک اللہ تعالیٰ نے شرعی سزاؤں کو اپنے بندوں کے لئے باعثِ رحمت بنایا ہے اور یہ اس کی مخلوق کے لئے اللہ کی طرف سے رحمت و احسان ہیں۔ پس ہر وہ آدمی جو انسانوں کو گناہوں پر سزا دینے کے لئے متعین ہو اسے چاہئے کہ وہ ان مجرموں کے ساتھ رحمت اور احسان کا اسی طرح قصد کرے جس طرح ایک والد اپنے بیٹے کی سزا کے لئے کرتا ہے اور جس طرح ایک ڈاکٹر اپنے مریض کے علاج میں کرتا ہے" ۔۔۔ (تلک حدوداللہ: ص6)

(2) اصلاحِ معاشرہ

اسلامی حدود و تعزیرات کا دوسرا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ معاشرے کے اندر امن اور استحکام پیدا ہو۔ اسلامی فلاحی مملکت کا تو بنیادی مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ عوام کے لئے ریاست کو امن کا گہوارہ بنائے اگر مجرم کو سزا نہ دی جائے تو کوئی فلاحی مملکت معرض وجود میں نہیں آ سکتی، معاشرہ جنگل کا معاشرہ ہو گا، جس کی لاٹھی اسی کی بھینس کا قانون چلے گا، یہ چیز پھاڑ کر کھا جانے والے درندوں کی بستی ہو گی، فرد کی سزا اور اصلاح کا مقصد معاشرے کی اصلاح و فلاح ہے، قرآن نے اس حقیقت کو یوں بیان کیا:

وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ﴿١٧٩﴾ (البقرہ)

"اے عقل مند انسانو! قصاص میں ہی تمہاری زندگانی ہے"

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

حد يعمل به في الأرض خير لأهل الأرض من أن يمطروا أربعين صباحا

"زمین پر اگر ایک حد نافذ کر دی جائے تو یہ اہل ارض کے لئے اس سے کہیں بہتر ہے کہ وہ انہیں چالیس دن متواتر صبح سویرے بارش سے سیراب کیا جائے۔"

بارش بستیوں کے لئے خوشحالی کا پیغام لاتی ہے، چالیس دن اگر متواتر صحرائی زمینوں میں بارش ہو تو اس سے کھیتیاں لہلہا اٹھیں گی، اجناس میں برکت ہو گی۔ بستی والوں کے لئے خوشحالی و فارغ البالی بڑھے گی، لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک حد کا نافذ کر دینا گویا اس بستی کے لئے اس سے بڑے امن و سکون، خوشحالی، فارغ البالی کا پیغام ہو گا جو کہ چالیس روز کی بارش بھی مہیا نہیں کر سکتی۔ عبداللہ بن ابراہیم الانصاری لکھتے ہیں:

"اللہ تعالیٰ کی حدود کو نافذ کرنا ان بیماریوں کا علاج ہے جو اسلامی معاشرے میں پیدا ہوتی ہیں اور یہ ان بیماریوں کے لئے احتیاطی تدابیر ہیں جو ان حدود کے نافذ نہ کرنے سے پیدا ہو سکتی ہیں، ان کی مثال کشتی میں سوار ان لوگوں کی سی ہے کہ اگر ایک آدمی کشتی میں سوراخ کرے اور باقی لوگ اسے منع نہ کریں تو وہ سب کو لے ڈوبے گا، پس اسلامی معاشرے میں انسانوں کی زندگی کی حفاظت و ضمانت اسلامی حدود و تعزیرات کو نافذ کرنے میں ہی مضمر ہے" (تلک حدود اللہ: ص6)

اس کی عملی مثال ہم قرون اولیٰ سے پیش نہیں کرتے بلکہ آج کی دنیا میں سعودی عرب کا معاشرہ اس کی بہترین مثال ہے، آج سعودیہ میں جرائم کا تناسب ساری دنیا سے کم کیوں ہے؟

اپنے آپ کو ترقی یافتہ ممالک کہلانے والے، سب سے زیادہ تعلیم یافتہ تسلیم کروانے والے کیا یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ان کے ممالک میں جرائم کا تناسب سعودیہ سے کم ہے؟

سعودی عرب کے رہنے والے آسمانوں سے نہیں اترے اور نہ وہ فرشتے ہیں اگر آج وہاں جرائم کی تعداد کم ہے، معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ ہے، گاڑیاں بغیر لاک کے کھڑی رہتی ہیں، نماز کے اوقات میں دوکاندار کھلی دکانیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، ڈکیتیاں اور رہزنی کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ وہاں قرآن و سنت کے مطابق حدود و تعزیرات کا نظام نافذ ہے اس کی برکتیں معاشرے میں دیکھنے والوں کو نظر آتی ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقادر عودہ مصری شہید رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

سعودی عرب میں اسلامی شریعت کو مکمل طور پر نافذ کیا گیا ہے اور حکومت جرائم کے فیصلے کرنے اور مملکت میں حفظ و امان کرنے میں اس طرح کامیاب ہوئی ہے جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی، لوگ اکثر یہ ذکر کرتے رہتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب حجاز میں امن و امان کا مسئلہ کس طرح بگڑا ہوا تھا، سکون نام کی کوئی چیز نہ تھی بلکہ حجاز مقدس اکثر جرائم اور بدترین جرائم میں ایک ضرب المثل تھا۔ مسافر اور مقیم کی حالت ایک ہی جیسی تھی کہ وہ شہر میں یا دیہات میں ہو اس کے جان و مال کی ضمانت نہ تھی، دن ہو یا رات ہر وقت انسان خوف و خطرے میں رہتا تھا، دوسرے ممالک اپنے حجاج کے ساتھ ان کی نگرانی کے لئے مسلح دستے بھیجتے تھے تاکہ ان کے حاجی سلامت رہیں اور ان پر ہونے والی زیادتی کو روکا جائے، لیکن یہ خاص دستے اور حجاز کے امن و امان کے ذمہ دار بھی ملک میں امن قائم کرنے پر قادر نہ تھے۔ اس کے باوجود حاجیوں کے قافلے لوٹ لئے جاتے تھے، ان کے سامان چوری ہوتے اور حاجیوں کو قتل کر دیا جاتا تھا۔ سعودی عرب میں امن و سلامتی کے ضامن اس وقت تک عاجز رہے جب تک شریعت اسلامی نافذ نہیں ہوئی اور دن و رات میں انقلاب برپا ہوا، حجاز مقدس کے سب شہروں میں امن کا دور دورہ ہوا۔ مقیم اور مسافر سب مطمئن ہوئے، لوٹ مار، چوری اور قتل کا عہد ختم ہوا اور جرائم کی خبریں قصہ پارینہ بن گئیں۔" (ص:226)

امن و امان اور امانت و دیانت کے ایسے ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں کہ انسان کو یقین نہیں آتا، جن کو اس کا تجربہ ہوا، یا جن کے ساتھ یہ واقعات پیش آئے، وہ لکھتے ہیں:

"ایک آدمی کا بٹوارہ راہ چلتے سڑک پر گم ہو گیا، جونہی وہ پولیس والوں کے پاس پہنچا تو اس کا بٹوہ اسے اسی حالت میں مل گیا صرف اس کو اپنے بٹوے کی نشانی بتانا پڑی۔ ایک آدمی راستے میں اپنی لاٹھی چھوڑ گیا، ٹریفک پولیس حرکت میں آ گئی اور اس نے پولیس کو وہ لاٹھی متعلقہ آدمی تک پہنچانے کا حکم دیا اسی طرح ایک آدمی کا سامان گم ہو گیا اور وہ اس کے دوبارہ حاصل کرنے پر مایوس تھا، نہ وہ اس سامان تک پہنچ سکتا تھا لیکن کیا دیکھتا ہے کہ پولیس کے آدمی اسے ڈھونڈتے ہیں اس کے پاس آتے ہیں اور سامان واپس کر دیتے ہیں۔ (ص:227)

پس یہ ہے وہ تجربہ جس سے ثابت ہوا کہ اسلامی شریعت کا نفاذ ہی معاشرے کی حفاظت کا ضامن ہے، آج انگلینڈ، امریکہ اور مصر جیسے ممالک بھی مجبور ہو گئے ہیں کہ وہ تموين (ذخیرہ اندوزی) اور تسعير (قیمتوں میں بے جا اضافہ) اور امن عامہ جیسے معاملات پر کوڑوں کی سزا نافذ کریں۔

"یہ بین الاقوامی اعتراف ہے کہ کوڑوں کی سزا ہر دوسری سزا سے زیادہ کارگر ہے اور یہی تنہا سزا جو عوام کو قانون کی اطاعت اور نظام کی حفاظت پر کفایت کرتی ہے اور انسانی خود ساختہ سزائیں کوڑوں کی سزا کے مقابلے میں کوئی وقعت نہیں رکھتیں۔" (ص"227)

(3) جرائم کی کمی

اسلامی حدود و تعزیرات کے نفاذ سے جرائم میں ممکنہ حد تک کمی واقع ہوتی ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ حدود و تعزیرات کے نفاذ سے معاشرے سے جرم کا وجود ختم ہو جائے گا، اس لئے کہ جب تک انسان اس زمین پر موجود ہے جرائم ختم نہیں ہو سکتے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

" كل ابن آدم خطاء" (تمام بنی نوع انسان خطا کار ہیں)

کتنی مقدس سے مقدس فضا کیوں نہ ہو جہاں بھی انسان ہو گا خطائیں ہوں گی، جنت جیسی مقدس فضا میں بھی حضرت آدم علیہ السلام سے غلطی ہو گئی۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دور "خير القرون قرنى" (میرا زمانہ تمام زمانوں کا شاہکار) ہے مگر اس میں بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے غلطیاں ہوئیں، انہیں سزائیں بھی ملیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان جہاں بھی ہو گا وہاں ایسے معاملات پیش آئیں گے۔ لیکن نگرانی کے اس نظام کو سخت کر کے ہم اس کے امکانات کو کم سے کم تو کر سکتے ہیں اگر ختم نہیں کر سکتے۔ کسی ملک سے سمگلنگ ختم نہیں ہو سکتی البتہ سرحدوں پر پہرے بٹھا کر سمگلنگ کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ F.B.I ہر سال دنیا میں جرائم کے تناسب کے اعداد و شمار شائع کرتا ہے، جس میں کتنے سالوں سے یہ بات مشاہدے میں آ رہی کہ فی الوقت دنیا میں سب سے کم جرائم صرف سعودی عرب میں ہوتے ہیں۔

(4) سزائیں، فطرت کے مطابق

ہم یہ بات لکھ چکے ہیں کہ اللہ نے انسان کی تخلیق کی اور وہی بہتر جانتا ہے کہ اس کی اصلاح کیسے اور کتنی سزا سے ہو سکتی ہے، لہذا اسلامی حدود و تعزیرات کا نظام انسانی فطرت کے عین مطابق ہے، ایک شادی شدہ مرد و عورت کے لئے جب رجم کی سزا متعین ہوئی تو یہ ان کے ساتھ زیادتی نہ تھی بلکہ تجربے اور مشاہدے میں یہی آتا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو دیکھتا ہے تو غیرت کے مارے دونوں کو قتل کرنے کے درپے ہوتا ہے اور یہی سزا جب اسلام سناتا ہے تو یہ ظالمانہ نہیں اور نہ صرف فطرت کے عین مطابق ہے بلکہ اپنے اندر بہت سی سماجی اور اخلاقی پہلوؤں کی اصلاح کی بھی ضامن ہے۔

یہ سزائیں کم و بیش زمانہ جاہلیت میں قبائل میں نافذ کی جاتی تھیں، ان میں سے جو فطرت کے مطابق تھیں، انہیں من و عن نافذ کر دیا گیا اور جو فطرت کے خلاف تھیں، انہیں منسوخ کر دیا گیا۔

ہاتھ کاٹنے کی سزا اور دیت کا نظام زمانہ جاہلیت میں بھی بعض قبائل میں رائج تھا۔ اسلام نے اسی کو اختیار کیا۔ ہاتھ کاٹنے کی یہ سزا ایک چور کے لئے نہ تو سخت تھی اور نہ شاذ، بلکہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ روس اور چین جیسے ممالک میں جہاں وجود باری تعالیٰ کا ہی انکار کیا جاتا ہے وہ بھی ان سزاؤں کو نافذ کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں:

ولعل السر في نجاح الشريعة أن عقوباتها وضعت على أساس طبيعة الإنسان, ففي طبيعة الإنسان ۔۔۔ وقد استقلت الشريعة طبيعة الانسان فوصفت على اساسها عقوبة الجرائم عامة و عقوبات جرائم الحدود والقصاص خاصة

"یقینا شریعت کی کامیابی کا راز اس کی سزاؤں میں ہے جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں، شریعت نے انسانی فطرت کا محاصرہ کیا ہے اور فطرت انسانی کی اساس کی بنیاد پر عام جرائم کی سزائیں متعین کی ہیں جبکہ حدود اور قصاص کے لئے خاص سزائیں مقرر کی ہیں" ۔۔۔ (التشريح الجنائى الاسلامى ج 2، ص 713،714)

آج کل چین بھی اس پر عمل پیرا ہے، نوائے وقت کی 3 نومبر 1996ء کی اشاعت پیش نظر ہے:

"چین: 62 افراد کو فائرنگ سکواڈ نے گولیوں سے بھون ڈالا، ایک مجرم کو سٹریچر پر باندھ کر لایا گیا، جو چھلانگ لگا کر ٹانگیں توڑ بیٹھا تھا۔

ہانگ کانگ (ا ف پ) چین میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف جاری مہم کے نتیجہ میں مزید 62 افراد کو پھانسی دے دی گئی۔ ان افراد کو شینزان، ڈونگ گان، زوہانگ، پان اور ہودو میں بدھ کے روز فائرنگ سکواڈ کے سامنے گولیوں سے اڑا دیا گیا"

(5) باعثِ رحمت و برکت

اسلامی حدود و تعزیرات کا ایک فلسفہ یہ بھی ہے کہ اس نظام کو نافذ کرنے سے اللہ کی رحمت اور برکت اس سرزمین پر برستی ہے۔ جیسا کہ گذشتہ اوراق میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ذکر ہوا ہے۔ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

"اللہ تعالیٰ نے حدود و تعزیرات کو اپنے بندوں کے لئے باعثِ رحمت بنایا ہے اور یہ کائنات کے لئے رحمت اور بندوں پر اس کا احسان ہے، پس جو آدمی لوگوں کے جرائم پر سزا نافذ کرے اس کو چاہئے کہ وہ اس کے ساتھ رحمت اور ان پر احسان کا قصد کرے جس طرح ایک والد اپنے بیٹے کو سزا دیتا ہے یا جس طرح ایک ڈاکٹر اپنے مریض کا ہمدردی کے ساتھ علاج کرتا ہے" ۔۔۔ (تلک حدوداللہ: ص6)

اسلامی حدود و تعزیرات کا نظام جہاں اللہ کی طرف سے دنیا والوں کے لئے باعث برکت و رحمت ہے وہاں اہل دنیا کے لئے باہمی محبت و اخوت کا ضامن بھی ہے، جتنے جرائم کم ہوں گے اتنا ہی لوگوں کے درمیان شکوے شکایات کم ہوں گے۔ جذبہ انتقام سرد پڑ جائے گا اور عوام الناس میں یگانگت اور محبت کے جذبات پرورش پائیں گے۔ تہذیب و ثقافت کا معیار بلند ہو گا اور ایک مثالی فلاحی معاشرہ معرض وجود میں آئے گا۔

(6) اقتصادی ترقی

معاشرے کا امن و امان ہی دراصل اقتصادی ترقی کا ضامن ہوتا ہے، جن ممالک میں قدم قدم پر ڈاکے پڑتے ہوں، بنک لوٹے جاتے ہوں، اور راتوں کو چور لوگوں کی نیندیں حرام کر دیں، قتل و غارت گری کا بازار گرم رہے تو وہ ملک اقتصادی موت مر جاتے ہیں۔ لہذا اسلامی حدود و تعزیرات کے نفاذ سے ہر ملک کی اقتصادی ترقی بھی وابستہ ہے۔ جہاں اقتصادی ترقی ہو گی وہاں لازما معاشرتی سکون آئے گا۔ مجرموں کی حوصلہ شکنی ہو گی، مظلوم کی داد رسی ہو گی اور عوام الناس میں قانون شکنی کی ہمت نہیں رہے گی، معاشرتی دشمنیاں، حسد اور کینہ اس قسم کی روحانی بیماریوں سے معاشرہ محفوظ رہے گا۔ غربت و افلاس کے سائے ختم ہوں گے اور خوشحالی اور فارغ البالی کا دور دورہ ہو گا۔

(7) انصاف کے تقاضے

اسلامی حدود و تعزیرات کا ایک فلسفہ یہ بھی ہے کہ یہ حدود و تعزیرات انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر ارشاد فرمایا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى (البقرہ: 178)

"اے ایمان لانے والو (مقتولوں کے بارے میں) تم پر قصاص (خون کے بدلے خون) فرض کیا گیا ہے، آزاد کے بدلے میں آزاد (قتل کیا جائے) اور غلام کے بدلے میں غلام اور عورت کے بدلے میں عورت قتل کی جائے، اگر قاتل کو اس کے مقتول بھائی کے قصاص میں سے کچھ معاف کر دیا جائے (تو مقتول کے وارث کو) کو اچھے طریقے سے (قرارداد کی پیروی یعنی مطالبہ خون بہا) کرنا چاہئے اور (قاتل کو) خوبی کے ساتھ ادا کرنا چاہئے یہ پروردگار کی طرف سے تمہارے لئے آسانی اور مہربانی ہے، جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔" دوسری جگہ قرآن مجید میں فرمایا گیا:

وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ  (المائدہ: 45)

"اور ہم نے ان لوگوں کے لئے تورات میں یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور سب زخموں کا اسی طرح بدلہ ہے، لیکن جو شخص بدلہ معاف کر دے وہ اس کے لئے کفارہ ہے اور جو اللہ کے نازل کئے ہوئے احکام کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو ایسے لوگ ہی بے انصاف ہیں"

ان آیات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عدل و انصاف کا نظام دیا ہے جسے اگر معاشرے میں نافذ نہیں کیا جائے گا تو انصاف کے تقاضے کسی صورت پورے نہ ہوں گے۔ لہذا لازمی اور ضروری ہے کہ مظلوم اور مجبور طبقوں کی دادرسی، حوصلہ افزائی اور ان کو انتقامی جذبوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ان حدود و تعزیرات کا نفاذ کیا جائے۔

(8) باعثِ عبرت

اسلامی حدود و تعزیرات کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ سزائیں باعث عبرت ہوتی ہیں، اسی لئے قرآن و سنت میں انہیں سرعام نافذ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سورہ نور میں ہے: (وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿٢﴾) اور اس (جرم زنا) کی سزا کا مشاہدہ مومنین کی ایک جماعت ضرور کرے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور میں جتنی بھی سزائیں دی گئیں وہ سب سرعام مسجد نبوی کے سامنے دی گئیں۔ حضرت ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ کو مسجد نبوی کے سامنے جب رجم کیا گیا تو وہ بھاگے۔ عید گاہ تک جاتے جاتے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے انہیں رجم کر دیا۔ غامدیہ رضی اللہ عنہا کو مسجد نبوی کے سامنے رجم کیا گیا۔ مخزومیہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ مسجد نبوی کے سامنے کاٹا گیا، اس پہر کسی نے چوں و چرا نہ کی لیکن حیرت و افسوس کا مقام ہے کہ آج ہمارے نام نہاد دانشور اور بعض جدید تعلیم یافتہ اور مغرب زدہ لوگ یہ کہتے ہوئے شرم محسوس نہیں کرتے کہ "سرعام سزا دینا انسانیت کی توہین ہے۔" تو کیا نعوذباللہ من ذلک، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انسان نہ تھے؟ وہ تو شرفِ انسانی کے ایسے مقام و مرتبہ پر فائز تھے کہ آج کا بڑے سے بڑا ولی اللہ ان کی خاکِ پا کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ دراصل اعتراض کرنے والے حضرات کو سرعام سزا دینے میں جو مقامِ عبرت ہے اس کی حکمت سمجھ نہیں آتی۔

ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ اگر آج ہماری حکومت اسلامی حدود و تعزیرات کو نافذ نہ بھی کرے مگر انگریز کے قانون کے مطابق جو پھانسی کی سزائیں جیلوں میں چھپ کر دی جاتی ہیں انہیں اگر آج سرعام نافذ کرنا شروع کر دیں تو یقینا معاشرے سے جرائم کی تعداد میں کمی ہو گی ہم صرف ایک مثال پیش کرتے ہیں۔

جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں لاہور کے پپو کیس میں تین مجرموں کو جیل روڈ پر سرعام پھانسی کی سزا دی گئی تھی لوگوں کا ایک جم غفیر جمع تھا، پھانسی کا منظر دیکھنے کے بعد لوگ توبہ توبہ کرنے اور کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے گھروں کو رخصت ہو رہے تھے۔ اس دن کے بعد پاکستان کی چھ مہینے کی اخبارات اٹھا کر دیکھیں ان میں آپ کو کسی جرم کا نشان نظر نہیں آئے گا۔ لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ اب اسلام اپنی صحیح صورت میں نافذ ہونے والا ہے۔ لیکن جب ان کو پتہ چلا کہ اسلام کا نفاذ نہیں ہوا تو معاشرے میں جرائم پھر سے شروع ہو گئے۔

سعودی عرب میں قرآن و سنت کے احکام کے عین مطابق آج بھی سزائیں بیت اللہ کے سامنے، مسجد نبوی کے سامنے اور ہر شہر میں جامع مسجد کے سامنے نافذ کی جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے لوگ عبرت حاصل کرتے ہیں۔ مجرموں کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ انسانی فطرت میں بعض اوقات جرم پل اور بڑھ رہا ہوتا ہے لیکن انسان نے اس پر عمل نہیں کیا ہوتا۔ سزا کے مشاہدے سے ایسے مجرم ضمیر خود بخود اپنی اصلاح کرتے ہیں اور جرم سے اپنے آپ کو محفوظ کر لیتے ہیں۔

حجاز مقدس کی تاریخ میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ ایک وقت تھا جب یہاں کے رہنے والے حاجیوں کو لوٹ لیتے تھے حتیٰ کہ انہیں قتل بھی کر دیتے تھے لیکن جب محمد بن عبدالوہاب کی تحریکِ احیائے دین کے ناطے صحیح معنوں میں اسلام نافذ ہوا تو مدینہ طیبہ میں سب سے پہلے ایک چور کا ہاتھ سرعام کاٹا گیا جس کے بعد مدینہ طیبہ میں سولہ سال تک چوری کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ یہ دلیل ہے کہ سرعام سزا نافذ کرنا لوگوں کے لئے باعثِ عبرت بن جاتا ہے۔

(9) آخرت کے عذاب سے چھٹکارا

اسلامی حدود و تعزیرات کا سب سے بڑا اعجاز یہ ہے کہ جس آدمی کو اس جہاں میں اسلامی شریعت کے مطابق سزا مل جائے تو آخرت میں اللہکی طرف سے اسے کوئی سزا نہیں دی جاتی گویا وہ آدمی پاک و صاف ہو کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے۔ جب حضرت غامدیہ رضی اللہ عنہا کو رجم کیا گیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھانے کی تیاری کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی "اتصل على الزانية" (کیاآپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک زانیہ کی نماز جنازہ پڑھائیں گے؟) اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر رضی اللہ عنہ تم نہیں جانتے "لقد تابت توبة لو قسمت على هذه القرية لكفتها" (اس عورت نے اتنی سچی توبی کی ہے کہ اگر اس کی توبہ کو مدینہ طیبہ کے سب گناہ گاروں پر تقسیم کر دیا جائے تو سب کے لئے کافی ہو جائے)

اس سے ثابت ہوا کہ غامدیہ رضی اللہ عنہا سزا ملنے کے بعد گناہوں سے ایسی پاک و صاف ہو گئی جس طرح اس کی ماں نے اسے آج جنم دیا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "التائب من الذنب كيوم ولدته امه"

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وجہ تھی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف ارتکابِ گناہ کی کوئی ایک شہادت موجود نہ تھی پھر یہ خود آ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے جرم کا اقرار و اعتراف کیوں کرتے تھے؟ دراصل ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ علم تھا کہ اگر انہیں دنیا میں سزا نہ ملی تو آخرت کی سزا بہت سخت ہو گی۔ منافقین نے جب غزوہ تبوک پر اس بہانے نکلنے سے انکار کیا کہ گرمی بہت شدید ہے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں وارننگ دی:

قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّا ۚ لَّوْ كَانُوا يَفْقَهُونَ﴿٨١

"اے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کہہ دیجئے جہنم کی آگ عرب کی چلچلاتی دھوپ سے بہت زیادہ سخت ہے، اے کاش وہ اس حقیقت کو سمجھ لیتے"

یہ تھا وہ خوف جس کی بناء پر یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ خود اپنے جرم کا اقرار و اعتراف کرتے، اپنے گناہوں پر نادم ہوتے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " التوبة الندم"

کہ "توبہ کی حقیقت اپنے گناہوں پر سچے دل سے نادم ہونا ہے" تو ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سچی توبہ کی اور اپنے جرم کے اقرار و اعتراف سے دنیاوی سزا کو قبول کر لیا اور آخرت کے عذاب سے اپنے آپ کو محفوظ کر لیا۔

ضمنا ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی آدمی کا جرم قانون سے پوشیدہ رہتا ہے تو اس کی سزا کا معاملہ کیا ہو گا؟

اس سلسلے میں قرآن و سنت ہماری رہنمائی کرتے ہیں اگر ایسا آدمی بغیر توبہ کے دنیا سے چلا جائے تو اسے اپنے ہر جرم کی سزا آخرت میں ملے گی لیکن اس نے پکی اور سچی توبہ کی ہو تو بےشک اللہ معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ اگر اللہ اس کو معاف کر دیں تو اس کو آخرت میں کوئی سزا نہ ملے گی۔

ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اسلامی حدود و تعزیرات کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ:

"کسی محبت کرنے والے عاشق کو اگر اس بات کی اجازت دی جائے کہ وہ اپنے محبوب کو دیکھتا رہے اور گفتگو کرتا رہے تو اس سے اس کے مرض کو افاقہ نہیں ہو گا بلکہ اس کا مرض بڑھے گا لہذا وہ فرماتے ہیں کہ اسلامی حدود و تعزیرات کڑوی دوائی کی مانند ہے جو ایسے اخلاقی مریضوں کا علاج کرتی ہیں"

"اور مریض جب وہ چیز مانگے جو اسے ضرر پہنچائے یا کڑوی دوا کھانے سے واویلا کرے تو اگر ہم اس پر نرمی کرتے ہوئے اس کو دوائی نہ پلائیں تو ہم اس کی تکلیف کے بڑھانے اور اس کی ہلاکت کا سبب بنیں گے اور جو چیز اس کے لئے فائدہ مند تھی اسے چھوڑ دیں گے تو لامحالہ اس کی بیماری بڑھے گی اور وہ ہلاک ہو جائے گا۔ یہی حالت ایک گناہ گار اور عاشق کی ہے کہ وہ مریض ہوتا ہے اس کے ساتھ نرمی اور رحمت یہ نہیں ہے کہ ہم اس کو ہر وہ چیز مہیا کریں جس کی وہ خواہش کرے اور اس طرح اس کی مدد کریں اور نہ یہ ممکن ہے کہ اسے ان عبادات کے ترک کرنے کی طرف مائل کریں جو اسے فائدہ دے کر اس کے مرض کو زائل کر دیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے، یعنی اس میں شفاء ہے اور شفاء سے بھی کہیں زیادہ بڑے فائدے ہیں۔

مریض کے ساتھ حقیقی اُنس تو یہ ہے کہ دوا اگر کڑوی بھی ہو تو اس کے پینے پر اسے مدد دی جائے، نماز کی مانند جس میں اذکار مسنونہ اور مانجاتِ بارگاہ الہیٰ ہے اور اس مریض کو ہر اس چیز سے بچایا جائے جو اس کی بیماری کو بڑھاتی ہے خواہ مریض اس کے کھانے کی کتنی ہی تمنا کیوں نہ کرے اور کسی کو یہ گمان نہیں کرنا چاہئے کہ اگر اسے کسی حرام چیز سے استفادے کا موقع مل جائے تو اس کی بیماری ختم ہو جائے گی بلکہ یہ تو اس کے لئے جذبات کی مزید برانگیختگی کا باعث بنے گی۔ اور انجام کار اس کی تکلیف، مصیبت اور بیماری بڑھ جائے گی۔ اگر وقتی طور پر اسے حرام سے سکون میسر آئے گا تو آخر کار وہ ایک ایسی جان لیوا بیماری میں مبتلا ہو گا جس سے چھٹکارا پانا ممکن نہ ہو گا۔

ضروری ہے کہ بیماری کے پختہ ہونے اور ہلاکت کی حد تک پہنچنے سے پہلے پہلے اس کا علاج ایسی دوائی سے کر لیا جائے جو اس کی بیماری کو دور کر سکے۔ یہ بات معلوم و معروف ہے کہ علاج کا دکھ درد (جو مریض کے لئے فائدہ مند ہے) کہیں زیادہ آسان ہے اس مرض سے جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ یہاں سے یہ بات واضح ہوئی کہ اسلامی حدود و تعزیرات وہ نفع بخش دوائیں ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ دلوں کی بیماریوں کی اصلاح فرماتا ہے اور یہ اللہ کی اپنے بندوں پر مہربانی اور نرمی کا معاملہ ہے اور اللہ کے اس فرمان میں یہ بات داخل ہے۔ "اور ہم نے آپ کو سب جہانوں کے لئے باعثِ رحمت بنا کر بھیجا ہے" چنانچہ جس نے اللہ تعالیٰ کی اس رحمت اور نفع (حدود) کو مریض سے ہمدردی کرتے ہوئے چھوڑ دیا تو گویا اس نے مریض کے عذاب اور ہلاکت پر اس کی مدد کی ہے، اگرچہ وہ اس کی خیر کا ہی طالب کیوں نہ ہو۔ پس ایسا آدمی جاہل اور احمق ہے جس طرح کہ بعض جاہل عورتیں اور مرد اپنے مریضوں کے ساتھ کرتے ہیں اور جیسے بعض لوگ اپنی اولاد کو ان کی غلطیوں کی سزا نہیں دیتے اور وہ ان کے ساتھ نرمی اور ہمدردی کا رویہ رکھتے ہیں جو آخر کار اولاد کے بگڑ جانے اور ان کی ہلاکت کا سبب بنتے ہیں" (فتاویٰ ابن تیمیہ: ج15، ص 90-289)