حدیث لا وصية لوارث کی تحقیق
جناب رحمت اللہ طارق صاحب نے 1962ء میں ایک کتاب بعنوان "تفسیر منسوخ القرآن" ترتیب دی تھی جو بڑی تقطیع کے تقریبا 906 صفحات پر محیط ہے۔ اس کتاب میں آں جناب نے یہ جداگانہ موقف اختیار کیا ہے کہ قرآن کریم میں کوئی حکم یا آیت سرے سے منسوخ ہی نہیں ہے۔ اس ضمن میں آنجناب نے بزعم خود کبار ائمہ و محدثین مثلا امام ابن حزم ظاہری، امام ابن کثیر، امام نووی، امام ابن حجر عسقلانی اور قاضی شوکانی وغیرہم رحمہم اللہ کی اغلاط کی نشاندہی کی ہے اور اپنے اس موقف کی تائید میں اکثر و بیشتر تفسیر المنار، ابومسلم اصفہانی، امام رازی، فناری (اصول و منطق کے عالم، 834ھ) اور سرسید احمد خان وغیرہم کی کتب پر ضرورت سے زیادہ اعتماد و انحصار کیا ہے۔ اس کتاب میں آں موصوف نے اپنی عام روش کے مطابق ورثاء کے حق میں بھی فرضیت وصیت کے بارے میں جمہور علمائے امت کی رائے سے اختلاف کیا ہے اور حدیث "لا وصية لوارث" کی 34 سندوں کے رواۃ پر صرف جارحین کے اقوال جرح، جو اکثر حالات میں غیر مفسر ہیں، نقل کرتے ہوئے انہیں 'صفریں" ثابت کیا ہے، اور بقول آں محترم:

"اکیلی صفر ایک ہو چاہے لاکھ وہ صفر ہی رہے گی، ہندسے کا کام نہیں دے سکتی۔ صفر مستقل بالذات وجود کی حامل نہیں ہوتی۔ ہندسہ ہے تو صفر بھی کام دے سکتی ہے اور ہندسہ نہیں تو خالی صفر سے کوئی کام نہیں چل سکتا" (1)

افسوس کہ آنجناب کو ان میں سے بعض رواۃ کے متعلق ائمہ تعدیل کے تحسین و توثیق کے کلمات نظر نہ آئے۔ کسی انسان کے محاسن و توثیق سے چشم پوشی کر کے صرف اس کے متعلق جرح (عیوب) کو اجاگر کرنا علمی تحقیقی اور انصاف کے تقاضوں کے صریح خلاف ہے۔ پھر جرح بھی ایسی کہ جو غیر مفسر ہو علماء کے نزدیک قطعا ناقابل اعتماد ہوتی ہے۔ کون ایسا شخص ہو گا جس میں کچھ خوبیوں کے ساتھ کچھ عیوب بھی نہ ہوں۔ لیکن ہر انسان پر اس کی حسنات و سئیات کے غالب عنصر کو ہی مدنظر رکھ کر کوئی حکم لگایا جاتا ہے، چنانچہ سید التابعین حضرت سعید بن المسیب رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور قول ہے:

ليس من شريف ولا عالم ولا ذي فضل إلا و فيه عيب ، ولكن من الناس من لا ينبغي أن تذكر عيوبه فمن كان فضله أكثر من نقصه وُهِبَ نقصه لفضله  (2)

"کوئی بھی (اس دنیا میں) معزز اور صاحب علم و فضل شخص ایسا نہیں پایا جاتا کہ جس کی ذات میں کوئی عیب نہ ہو مگر لوگوں میں چند ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کے ذاتی نقائص بیان کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے تو جس شخص کی خوبی اس کے نقائص سے زیادہ ہوں وہ اللہ کے فضل کے وافر حصہ دیا گیا ہے"

لیکن یہ اس کی تفصیل کا موقع نہیں ہے۔ اس بارے میں مزید معلومات کے لئے ذیل التبر المسوک للسخاوی، (3) مجموعہ الفتاویٰ لابن تیمیہ، (4) اللباب فی تہذیب الانساب،(5) سیر اعلام النبلاء للذھبی،(6) قاعدہ فی الجرح والتعدیل، (7) شروح البخاری،(8) الرفع والتکمیل لعبد الحئی لکھنؤی،(9) مقدمہ ابن الصلاح،(10) اور کتاب ابن قتیبہ لدکتور عبدالحمید سند الجندی(11) وغیرہ کی طرف مراجعت مفید ہو گی۔

چونکہ یہ مختصر بحث جناب رحمت اللہ طارق صاحب کی علمی لغزش بیان کرنے کی قطعی متحمل نہیں ہو سکتی لہذا ہم اپنی گفتگو کو زیر بحث حدیث کی مختصر تحقیق تک ہی محدود رکھیں گے۔ علامہ جمال الدین زیلعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"یہ حدیث حضرت ابوامامہ الباھلی رضی اللہ عنہ، عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ، انس رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہ، عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ رضی اللہ عنہ، جابر رضی اللہ عنہ، زید بن ارقم رضی اللہ عنہ، براء رضی اللہ عنہ، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور خارجہ بن عمرو جہمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے" (12)

ذیل میں علامہ زیلعی رحمۃ اللہ علیہ کے بیان کردہ اس حدیث کے جملہ طرق اور ان کا جائزہ پیش خدمت ہے:

(1)حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تخریج

امام ابوداؤد(13) امام ترمذی(14) اور امام ابن ماجہ(15) نے بطریق اسماعیل بن عیاس عن شرحیل بن مسلم عن ابی امامہ یوں کی ہے:

ان النبى صلى الله عليه وسلم خطب فقال: إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه ، فلا وصية لوارث

امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "یہ حدیث حسن ہے" امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے اپنی "مسند"(16) میں روایت کیا ہے۔ صاحب "التنقيح" کا قول ہےکہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور محدثین کی ایک جماعت کا قول ہے کہ اسماعیل بن عیاش جس حدیث کو شامیوں سے روایت کرتا ہو، وہ صحیح ہے اور جس کو حجازیوں سے روایت کرتا ہو تو وہ غیر صحیح ہے۔ یہاں اس حدیث میں اس نے ایک ثقہ شامی سے ہی روایت کی ہے۔" (17)

جہاں تک اس حدیث کی تخریج کا تعلق ہے تو اسے سعید بن منصور،(18) دارقطنی (19) اور بیہقی (20) نے اپنی "سنن" میں اور ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ نے "المجروحین"(21) میں بھی روایت کیا ہے۔

علامہ منذری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"اس کی تخریج امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ اور ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تحسین فرمائی ہے لیکن اس کی اسناد میں اسماعیل بن عیاش ہے جس کی حدیث سے احتجاج کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض ائمہ کہتے ہیں کہ اس کی وہ احادیث جو اہل حجاز اور اہل عراق سے ہوں وہ قوی نہیں ہیں لیکن شامیوں سے اس کی روایت اصح ہے اور اس کی یہ روایت اہل شام سے ہے۔"(22)

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"اس کی اسناد میں اسماعیل بن عیاش ہے جو کہ اگر شامیوں سے روایت کرتا ہو تو ائمہ حدیث کی ایک جماعت نے اس کو قوی بتایا ہے۔ ان ائمہ میں امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ وغیرھما شامل ہیں۔ اس کی یہ روایت شامیوں سے ہے۔ کیونکہ اسے اس نے شرحیل بن مسلم سے روایت کیا ہے جو کہ ثقہ راوی ہے۔"(23)

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے "التلخيص الحبير"(24) میں اس حدیث کی "تحسین" فرمائی ہے۔ علامہ ابن قدامہ مقدسی رحمۃ اللہ علیہ نے امام ترمذٰ رحمۃ اللہ علیہ کی تحسین کو توقیرا نقل کیا ہے۔(25) علامہ شیبانی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ محمد اسماعیل عجلونی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"حدیث: "لا وصية لوارث" کو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ، ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ، ترمذی رحمۃ اللہ علیہ اور ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے ابوامامہ الباھلی رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث کی تحسین فرمائی ہے۔ ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ اور ابن جارود نے بھی اسی قوی بتایا ہے۔" (26)

پس یہ حدیث باتفاق محدثین "حسن" درجہ کی ہوئی، واللہ اعلم۔ اس حدیث کے راوی اسماعیل بن عیاش کے تفصیلی ترجمہ کے لئے حاشیہ (27) کے تحت درج کردہ کتب کی طرف مراجعت مفید ہو گی۔

(2) عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تخریج

امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ،(28) امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ،(29) اور امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ(30) نے عن قتادہ عن شہر بن حوشب عن عبدالرحمٰن بن غنم عن عمرو بن خارجہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم نحوہ کی ہے۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "حدیث حسن صحیح" امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے بطریق ابو عوانہ عن قتادہ، نسائی نے عن شعبہ عن قتادہ اور ابن ماجہ نے عن سعید بن ابی عروبہ عن قتادہ سے روایت کیا ہے۔ امام احمد،(31) بزار، ابویعلی الموصلی اور حارث بن ابی اسامہ نے بھی اپنی "مسانید" میں اس کی روایت کی ہے، لیکن اس کے الفاظ یہ ہیں: "فلا يجوز لوارث وصية"(32)

واضح رہے کہ اس حدیث کی تخریج امام بیہقی(33)، ابو یعلی الموصلی(34) اور دارمی(35) رحمہم اللہ نے بھی کی ہے۔ اس حدیث کے راوی شہر بن حوشب کے متعلق امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ "قوی نہیں ہے"، امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "كان يروى عن الثقات المعضلات"، لیکن امام احمد بن حنبل اور یحییٰ رحمہما اللہ نے اس کی توثیق کی ہے۔ یعقوب بن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول بھی ہے کہ "ثقہ ہے" امام ابوزرعہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "لا باس به" یعنی "اس میں کوئی حرج نہیں ہے" امام عجلی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کی "توثیق" کی ہے۔ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ "علمائے تابعین میں سے تھا" حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "صدوق, كثير الارسال والاوهام" پس اس طریق میں شہر بن حوشب کی موجودگی کچھ زیادہ مضر نہیں۔ یہ حدیث بھی "حسن" درجہ کی ہے۔ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے "دیوان الضعفاء" میں اس حدیث کو "حسن" قرار دیا ہے۔(36)

شہر بن حوشب کے تفصیلی ترجمہ کے لئے حاشیہ (37) کے تحت مذکورہ کتب کی طرف مراجعت مفید ہو گی۔

(3) حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تخریج

ابن ماجہ نے اپنی "سنن" (38) (الوصایا) میں بطریق ھشام بن عماد عن محمد بن شعیب عن عبدالرحمٰن بن یزید عن سعید عن انس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: "إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه ، فلا وصية لوارث" فرمائی ہے۔ صاحب "التنقيح" کا قول ہے کہ حضرت انس کی یہ حدیث ابن عساکر اور علامہ مزی نے "الاطراف" میں سعید المقبری کے ترجمہ میں ذکر کی ہے۔ لیکن یہ خطاء ہے، یہ سعید المقبری نہیں بلکہ سعید الساحلی ہے جس کے ساتھ احتجاج درست نہیں ہے۔ اس روایت کو ولید بن مزید البیروتی نے عن عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر عن سعید بن ابی سعید شیخ بالساحل قال: حدثنى رجل من اهل المدينة قال: انى لتحت ناقة رسول الله فذكر الحديث کے سلسلہ سے روایت کی ہے۔ (39)

اس حدیث کی تخریج امام بیہقی نے "سنن الکبریٰ"(40) میں اور امام دارقطنی نے اپنی "سنن(41) (کتاب الفرائض)" میں بھی کی ہے۔ بوصیری نے "مصباح الزجاجۃ"(42) میں اس کی سند کو "صحیح" اور اس کے تمام رواۃ کو "ثقہ" قرار دیا ہے۔ علامہ ابن الترکمانی نے "الجوھر النقی" میں اس سند کو "جید" بتایا ہے، مگر بوصیری اور ابن ترکمانی کے مذکورہ اقوال اسی وقت درست ہو سکتے ہیں جبکہ سعید بن ابی سعید "المقبری" ہو۔ دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک طریق میں سعید الساحلی ہونے کی صراحت موجود ہے اور سعید بن ابی سعید الساحلی کے متعلق حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "مجہول" ہے۔(43) پس اگر یہ راوی سعید الساحلی ہو تو اصولا یہ طریق ناقابل احتجاج ہو گا لیکن بقول علامہ ابی الطیب شمس الحق عظیم آبادی رحمۃ اللہ علیہ:

"اس حدیث کو طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے "مسند الشاميين" میں بھی روایت کیا ہے اور اس کی سند میں سعید "المقبری" ہونے کی صراحت موجود ہے"(44) واللہ اعلم

(4) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تخریج

امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی "سنن"(45) میں عن یونس بن راشد عن عطاء عن عکرمۃ عن ابن عباس ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال کے مرفوع طریق سے یوں فرمائی ہے: "لا تجوز الوصية لوارث الا ان يشاء الورثة" ابن قطان نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ: "یونس بن راشد قاضی خراسانی ہے" ابو زرعہ کا قول ہے کہ "اس میں کوئی حرج نہیں" امام بخاری کا قول ہے کہ "مرجئی تھا" اس کی حدیث ان کے نزدیک "حسن" ہے۔ اس حدیث کو امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ نے عن عطاء عن ابن عباس بھی مرفوعا روایت کیا ہے لیکن عطاء خراسانی نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا تھا۔ علامہ عبدالحق "الاحکام" میں فرماتے ہیں: "قد وصله يونس بن راشد فرواه عن عطاء عن عكرمة عن ابن عباس"(46)

یونس بن راشد کے متعلق امام نسائی فرماتے ہیں کہ "مرجیہ کے دعاۃ میں سے تھا"(47) حافظ ابن حجر کا قول ہے: "صدوق رمى بالارجاء"(48) مزید تفصیلی ترجمہ کے لئے حاشیہ(49) ملاحظہ کریں۔

اس حدیث کو امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے "میزان الاعتدال"(50) میں وارد کیا ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے "التلخيص الحبير" میں اس کی سند کو "حسن" قرار دیا ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث "لا وصية لوارث" کی تخریج اپنی "جامع الصحیح" کی کتاب "الوصایا" کے ترجمہ الباب کے تحت بھی کی ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"یہ حدیث اگرچہ لفظا موقوف ہے لیکن چونکہ یہ نزول قرآن سے ماقبل حکم کی خبر اور اس کی تفسیر سے متعلق ہے لہذا مرفوع کا حکم رکھتی ہے"(51)

(5) حضرت عمرو بن شعیب کی حدیث کی تخریج

امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ(52) نے عن سہل بن عمار ثنا الحسین بن الولید ثنا حماد بن سلمہ عن حبیب بن اشہید عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ یوں کی ہے: "ان النبى صلى الله عليه وسلم قال فى خطبة يوم النحر: لا وصية لوارث الا ان تجيز الورثة" لیکن سہل بن عمار کی امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے تکذیب فرمائی ہے۔ امام ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی روایت "الکامل" میں عن حبیب المعلم عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی ہے، لیکن اس میں "الا ان تجيز الورثة" کے الفاظ نہیں ہیں۔ نیز یہ کہ آں رحمہ اللہ نے اس حبیب کو "لین" یعنی لچک دار قرار دیا ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں: "ارجوانه مستقيم الرواية"(53)

راوی سہل بن عمار کے متعلق امام ابو عبداللہ الحاکم رحمۃ اللہ علیہ کا قول اوپت گزر چکا ہے جسے آں رحمہ اللہ نے اپنے شیوخ سے نقل کیا ہے۔ امام ذہبی بھی فرماتے ہیں کہ مہتم ہے۔ مزید تفصیلی ترجمہ کے لئے حاشیہ(54) کی طرف مراجعت مفید ہو گی۔ لیکن جہاں تک اس کے دوسرے راوی حبیب المعلم کا تعلق ہے تو اسے امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے "ثقہ حجت" قرار دیا ہے۔ اگرچہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "قوی نہیں ہے" اور یحییٰ القطان رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ: "لا يحتج به" ۔۔۔ لیکن ابن معین، عجلی، احمد بن حنبل اور ابوزرعہ جیسے دقیق النظر ائمہ نے اس کی توثیق کی ہے۔ امام ابن حبان نے کتاب "الثقات" میں اس کو ذکر کیا ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے تین حدیثیں متابعات میں روایت کی ہیں۔ امام ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "ولحبيب احاديث صالحة ارجوانه مستقيم الرواية" مزید تفصیلی حالات کے لئے حاشیہ(55) کی طرف رجوع کریں۔

(6) حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تخریج

ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ نے عن احمد بن محمد بن صاعد عن ابی موسیٰ الھروی عن ابن عیینہ عن عمرو بن دینار عن جابر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال: "لا وصية لوارث" فرمائی ہے اور اسے راوی احمد بن محمد بن صاعد کے باعث معلول کیا ہے۔ یہ یحییٰ بن محمد بن صاعد کا بڑا بھائی ہے، اس نے اس سے پہلے وفات پائی تھی اور ضعیف ہے۔"(56)

اس حدیث کے مجروح راوی احمد بن محمد بن صاعد کے متعلق امام ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "میں نے اہل عراق کو اس کے ضعف پر متفق دیکھا ہے۔" امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ کا قول بھی یہی ہے کہ "قوی نہیں ہے" لیکن علامہ خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے "قوی" بتایا ہے۔ مزید تفصیلی حالات کے لئے حاشیہ(57) کے تحت مذکورہ کتب کا مطالعہ مفید ہو گا۔

(نوٹ: محدث عصر علامہ شیخ محمد ناصر الدین الالبانی حفظہ اللہ نے امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ کی تخریج کردہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے طریق کو "صحیح"(58) قرار دیا ہے)

(7) "حضرت براء و زید بن ارقم رضی اللہ عنہما کی حدیث کی تخریج

امام ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ نے عن موسى بن عثمان الحضرمى عن ابى اسحاق عن زيد بن ارقم والبراء، یوں فرمائی ہے: "قال كنا مع رسول الله صلّى الله عليه وسلّم يوم غدير خمّ، ونحن نرفع غصن الشجرة، عن رأسه، فقال :إنّ الصدقة لا تحلّ لي ولا لاهل بيتي، لعن الله من ادعى إلى غير أبيه او تولى غير مواليه, الولد للفراش و للعاهر الحجر و ليس لوارث وصية" ۔۔۔ اس حدیث کو امام ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ نے راوی موسیٰ بن عثمان الحضرمی کے باعث معلول کیا ہے اور فرماتے ہیں کہ "اس کی حدیث غیر محفوظ ہوتی ہے"(59)

موسیٰ بن عثمان الحضرمی کے متعلق یحییٰ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "ليس بشىء" یعنی "دھیلہ کے برابر بھی نہیں ہے۔" ابو حاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے "متروک الحدیث" قرار دیا ہے۔ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "تشیع میں غلو کرتا تھا" مزید تفصیلی حالات کے لئے حاشیہ(60) کی طرف رجوع فرمائیں۔

(8) حضرت علی کی حدیث کی تخریج

امام ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ نے "عن ناصح بن عبدالله الكوفى عن ابى اسحاق عن الحارث عن على قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم" یوں فرمائی ہے: "لا وصية لوارث, الولد لمن ولد على فراش ابيه و للعاهر الهجر" ۔۔۔ پھر راوی ناصح بن عبداللہ الکوفی کی امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ سے تضعیف نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "انه ممن يكتب حديثه" ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی تخریج عن یحییٰ بن ابی انیسہ عن ابی اسحاق عن عاصم بن ضمرہ عن علی، کے طریق سے مرفوعا یوں بھی کی ہے: "الدين قبل الوصية ولا وصية لوارث" پھر امام بخاری، امام نسائی، امام ابن المدینی، امام ابن معین اور ان کے موافقین سے یحییٰ بن ابی انیسہ کی تضعیف نقل فرمائی ہے"(61)

حضرت علی کی اس مرفوع حدیث کی تخریج امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ (62) نے بھی کتاب "الفرائض" میں بطریق عاصم بن ضمرہ عن علی کی ہے۔

اول الذکر حدیث کے مجروح راوی ناصح بن عبداللہ الکوفی کو امام دارقطنی اور امام نسائی نے "ضعیف" قرار دیا ہے۔ یحییٰ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "ليس بثقة" یعنی "ثقہ نہیں ہے" ایک موقع پر آں رحمہ اللہ نے ناصح کے متعلق "ليس بشىء" (یعنی "دھیلہ کے برابر بھی نہیں ہے") بھی فرمایا ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اسے "منکر الحدیث" قرار دیتے ہیں۔ امام عمرو بن علی نے اسے "متروک الحدیث" بتایا ہے۔ امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ينفرد بالمنكير عن المشاهير فاستحق الترك" مزید تفصیلی حالات کے لئے حاشیہ (63) کی طرف مراجعت مفید ہو گی۔

اور آخر الذکر حدیث کے مجروح راوی یحییٰ بن ابی انیسہ کو اس کے بھائی زید بن ابی انیسہ نے "جھوٹا" بتایا ہے۔ امام احمد، امام نسائی اور امام علی بن جنید کا قول ہے کہ "متروک الحدیث ہے" علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "لا يكتب حديثه" یحییٰ بن معین نے بھی ایسا ہی فرمایا ہے، اور کہتے ہیں کہ "اس کی روایت کا کچھ بھی مقام نہیں ہوتا" لیکن عمرو بن علی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ "صدوق تھا مگر اس کو وہم ہو جاتا کرتا تھا" امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ "اسانید کو الٹ پلٹ کر دیتا اور مراسیل کو مرفوع بنا دیتا تھا۔ اس کے ساتھ احتجاج بہرحال درست نہیں ہے۔" مزید تفصیلی کوائف کے لئے حاشیہ (64) کی طرف مراجعت مفید ہو گی۔

(9) حضرت خارجہ بن عمرو کی حدیث

طبرانی نے اپنی معجم میں عن عبدالمالك بن قدامه الجمحى عن ابيه عن ابيه عن خارجه عمرو الجمعى رضى الله عنه یوں کی ہے: "ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يوم الفتح وانا عند ناقته: ليس لوارث وصية، قد اعطى الله عزوجل كل ذى حق حقه وللعاهرالحجر، من ادعى الى غير ابيهه او تولى غير مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس اجمعين، لا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا يوم القيمة"(65)

علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"اس حدیث کی سند میں عبدالمالک بن قدامہ جحمی ہے، جس کی ابن معین رحمۃ اللہ علیہ نے توثیق کی ہے لیکن دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف بتایا ہے۔" (66)

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تخریج دوسرے طریق سے یوں بھی فرمائی ہے: "عن خارجه بن عمرو" لیکن یہ مقلوب ہے"(67)

اس حدیث کے مجروح راوی عبدالملک بن قدامہ جحمی کے متعلق امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "قوی نہیں ہے" امام عجلی نے "ثقہ" اور یحییٰ نے "صالح" بتایا ہے ابو حاتم فرماتے ہیں: "غیر قوی، ضعیف الحدیث اور ثقات کی طرف سے منکرات بیان کرنے والا ہے۔" امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ "فحش خطا کرتا ہے اور بکثرت واہمہ کا شکار ہوتا ہے، لہذا اس کے ساتھ احتجاج درست نہیں ہے۔" حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ضعف ہے" مزید تفصیلی ترجمہ کے لئے حاشیہ (68) کی طرف رجوع فرمائیں۔

(10) اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تخریج

حارث بن ابی اسامہ نے اپنی "مسند" میں بطریق "اسحاق بن عيسى بن نجيح الطباع ثنا محمد بن جابر عن عبدالله بن بدر قال سمعت ابن عمر يقول: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالدين قبل الوصية وان لا وصية لوارث" کی ہے۔ (69)

اس طریق میں اسحاق بن عیسیٰ بن نجیح الطباع کے متعلق حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "صدوق تھا"(70) علامہ عبدالرحمٰن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کے متعلق یہی کچھ بیان کیا ہے۔ (71)

امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے زیر مطالعہ حدیث کو بطریق امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ(72) عن مجاہد مرسلا بھی تخریج کیا ہے۔(73)

یہاں ہم انہیں طرق کی تحقیق پر اکتفاء کرتے ہیں، مزید تحقیق کے لئے الجامع الصغیر(74)، مسند الطیالسی،(75) سنن سعید بن منصور،(76) الارواء الغلیل للالبانی(77)، سبل السلام لامیر الیمانی، بلوغ المرام لابن حجر اور التلخيص الحبير لابن حجر وغیرہم کی طرف مراجعت مفید ہو گی۔

واضح رہے کہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے " التلخيص" میں اس حدیث کو "حسن"، علامہ محمد ناصر الدین الالبانی حفظہ اللہ نے "صحیح الجامع الصغیر و زیادتہ"(78) میں "صحیح" اور دنیائے حنفیت کے محقق شیخ محمد زاہد الکوثری نے "سندا صحیح" قرار دیا ہے، چنانچہ لکھتے ہیں: "انه حديث صحيح سندا فانظره"(79)

علامہ محمد درویش حوت البیرونی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"اس حدیث کو نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ تمام اصحاب سنن نے روایت کیا ہے۔ اس کے متعدد طرق ہیں: جن میں کچھ حسن اور کچھ ضعیف ہیں۔ دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ نے مرسلا اس کی تصویب کی ہے"(80)

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"اس باب میں عمرو بن خارجہ کی حدیث کی تخریج امام ترمذی و نسائی نے کی ہے، حضرت انس کی ابن ماجہ نے، عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی دارقطنی نے، جابر کی بھی دارقطنی نے (اور کہا کہ صواب یہ ہے کہ یہ حدیث مرسل ہے) اور حضرت علی کی ابن ابی شیبہ نے تخریج کی ہے۔ اگرچہ ان تمام احادیث کی اسانید میں سے کوئی بھی سند مقال(یعنی غیر قوی) رواۃ سے خالی نہیں ہے۔(81) لیکن ان سب کا مجموعہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اس حدیث کی کوئی اصل ضرور ہے، بلکہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب "الام" میں یہاں تک فرمایا ہے کہ "یہ متن متواتر ہے"۔ آں رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں کہ "ہم نے اہل فتویٰ اور ان سے نقل کرنے والے حفاظ نیز قریش وغیرہ میں سے مغازی کے علماء کو پایا ہے کہ وہ اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں رکھتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال "لا وصية لوارث" فرمایا تھا۔ پھر جن صحابہ نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے سن کر اس کو یاد رکھا یا روایت کی ان سے ملاقات کرنے والے اہل علم تابعین نے نقل کیا پھر کافۃ عن کافۃ یہ حدیث نقل ہوتی رہی، پس یہ نقل واحد سے زیادہ قوی تر ہوئی" فخر الدین رازی نے اس حدیث کے متواتر ہونے سے اختلاف کیا ہے۔ اگر ان کے اس قول کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو یہ کم از کم "مشہور" ضرور ہے کیونکہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب کےمطابق قرآن سنت سے منسوخ نہیں ہوتا، لیکن یہاں اس حدیث کے مقتضی پر اجماعِ امت حجت ہے جیسا کہ امام شافعی وغیرہ نے صراحت فرمائی ہے"(82)

علامہ ابومحمد علی بن حزم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"لان الكواف ان رسول الله قال لا وصية لوارث"(83)

یعنی "چونکہ تمام لوگوں نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: لا وصية لوارث، لہذا یہ چیز نقلی تواتر کی حامل ہے"

جناب مفتی محمد شفیع صاحب، علامہ ابوبکر الجصاص رحمۃ اللہ علیہ سے نقلا بیان کرتے ہیں کہ

"یہ حدیث ایک جماعت صحابہ سے منقول ہے اور دقہائے امت نے باتفاق اس کو قبول کیا ہے اس لئے یہ بحکم متواتر ہے جس سے آیت قرآن کا نسخ جائز ہے"(84)

ایک اور مقام پر مفتی رحمہ اللہ، علامہ قرطبی سے نقلا فرماتے ہیں:

"اگرچہ یہ حدیث ہم تک خبر واحد ہی کے طریق پر پہنچی ہے مگر اس کے ساتھ اس پر اجماع صحابہ اور اجماع امت نے یہ واضح کر دیا کہ یہ حدیث ان حضرات کے نزدیک قطعی الثبوت ہے ورنہ شک و شبہ کی گنجائش ہوتے ہوئے اس کی وجہ سے آیت قرآن کے حکم کو چھوڑ کر اس پر اجماع نہ کرتے"(85)

اجماع امت کے متعلق علامہ ابوبکر بن محمد بن ابراہیم بن المنذر نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ (318ھ)، "الاوسط" اور "الاجماع" میں فرماتے ہیں:

"واجمعوا ان لا وصية لوارث، الا ان يجيز الورثة ذلك"(86)

علامہ ابن رشد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"واما الموصى له فانهم اتفقوا على ان الوصية لا تجوز لوارث عليه الصلاة والسلام لا وصية لوارث"(87)

علامہ ابن قدامہ مقدسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

" ولا وصية لوارث الا ان يجيز الورثة ذلك" ۔۔۔ "قال ابن المنذر وابن عبدالبر اجمع اهل العلم على هذا وجائت الاخبار عن رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ان الله قد اعطى ذى حق حقه فلا وصية لوارث رواه ابوداود و ابن ماجه والترمذى ولان النبى صلى الله عليه وسلم منع من عطية بعض ولده و تفضيل بعضهم على بعض   الخ"(88)

مشہور حنفی عالم شیخ محمد زاھد الکوثری اپنے "مقالات" میں فرماتے ہیں:

نقل فيه اجماع العلماء على العمل به كما نقل ايضا انه حديث صحيح سندا(89)فانظره(90)

اور جناب انور شاہ کشمیری فرماتے ہیں:

"هذا الحديث ضعيف بالتفاق مع ثبوت حكمه بالاجماع"(91)

یعنی "یہ حدیث بالاتفاق ضعیف ہے لیکن ساتھ ہی اس کا حکم اجماع امت سے ثابت ہے"

اب جب کہ اس حدیث پر اجماع امت ثابت ہو چکا تو جاننا چاہئے کہ محدثین بالخصوص امام خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کے نزدیک اجماع امت سے نسخ قرآن جائز ہے، چنانچہ علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"وممن جوز كون الاجماع ناسخة للسنة والكتاب الحافظ البغدادى فى كتاب الفقه والفقيه"(92)

یعنی "جن لوگوں نے اجماع کو کتاب و سنت کے نسخ کے لئے جائز قرار دیا ہے ان میں حافظ خطیب بغدادی ہیں جنہوں نے اپنی کتاب "الفقہ والفقیہ" میں اس کا تذکرہ ہے"

علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح "نظم الدرد" المسمی "البحر الذی ذخر" میں، علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے "فتح المغیث بشرح الفیت الحدیث للعراقی" میں اور جناب ابوالحسنات عبدالحئی لکھنؤی رحمۃ اللہ علیہ نے "الاجوبۃ الفاضلۃ"(93) میں امت کے نزدیک زیر مطالعہ حدیث کو تلقی بالقبول کا درجہ حاصل ہونے کا تذکرہ کیا ہے۔ محدثین میں سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی "صحیح" میں "لا وصية لوارث"(94)، امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی "جامع"(95) میں "باب ما جاء لا وصية لوارث" اور امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی "سنن" میں "باب ابطال الوصية للوارث"(96) کے عنوانات سے مستقل ابواب قائم کئے ہیں جو امت کے نزدیک اس کی اہمیت اور تلقی بالقبول ہونے کی شہادت دیتے ہیں، پس جناب رحمت اللہ طارق صاحب کا اس حدیث کو بحیثیت مجموعی "صفر"، "ضعیف" اور "ناقابل اعتماد" قرار دینا، یا بقول جناب خالد مسعود صاحب، جناب فراہی صاحب کا اپنی مستقل تصنیف "احکام الاصول" میں ترکہ میں وصیت کا حکم(97) باقی" ہونے کا دعویٰ کرنا اصول اور انصاف سے بعید ہے، واللہ اعلم

مقام حیرت تو یہ ہے کہ جناب خالد مسعود صاحب خود ہی اپنے ایک مضمون: "احکام رسول کا قرآن مجید سے استنباط" میں اس حدیث کے متعلق یوں فرماتے ہیں:

"حديث لا وصية لوارث" (وارث کے حق میں کوئی وصیت نہیں ہو سکتی) احکام میراث سے مستنبط ہے۔ وارثوں کے حصے بیان کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے: تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ (یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں) اس آیت سے احکام میراث میں ہر کمی و بیشی کی نفی ہوتی ہے۔ لہذا وارث کے لئے وصیت جائز نہیں ہو سکتی۔ اس کے حق میں جو وصیت ہے وہ خدا نے بیان کر دی اور پھر تصریح فرما دی کہ یہ خدا کی مقرر کردہ حدود ہیں اور جو شخص ان سے تجاوز کرے گا اسے عذاب دیا جائے گا۔"(98)

(2) دوسری مثال

نسخ قرآن کی دوسری مثال اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ  (99)

"جب تم نماز کے لئے کھڑے ہونے لگو تو اپنے چہروں کو دھوؤ اور اپنے ہاتھوں کو بھی کہنیوں تک اور مسح کرو اپنے سروں پر اور اپنے پیروں پر بھی تخنوں تک"

لیکن پیروں پر مسح کرنے کا حکم اس سنت سے منسوخ ہوا کہ جس میں پیروں کو بھی دھونے کا حکم مذکور ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال اس پر شاہد ہیں کہ اس حکم ثانی سے پہلے صحابہ کرام اپنے پیروں پر وضوء کے دوران مسح ہی کیا کرتے تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ويل للاعقاب والعواقيب من النار" (100)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے کہ: "انزل القرآن بالمسح"(101) یعنی "قرآن، پاؤں پر مسح لے کر نازل ہوا تھا"

مزید تفصیلات کے لئے "عون المعبود"(102) از عظیم آبادی رحمۃ اللہ علیہ اور تحفۃ الاحوذی(103) للمبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ کی طرف مراجعت مفید ہو گی۔

(3) تیسری مثال

نسخ قرآن کی تیسری مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِن نِّسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِّنكُمْ ۖ فَإِن شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّىٰ يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ  (104)

"تمہاری بیویوں میں سے جو عورتیں بدکاری کا ارتکاب کریں تو تم اپنوں میں سے چار گواہ کر لو۔ پس اگر وہ گواہی دیں تو تم ان کو گھروں کے اندر مقید رکھو یہاں تک کہ موت ان کا خاتمہ کر دے"

اس حکم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد نے منسوخ کر دیا کہ "اگر غیر شادی شدہ مرد و عورت زنا کے مرتکب ہوں تو انہیں سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کی مدت جلا وطن کیا جائے، لیکن اگر وہ شادی شدہ ہوں تو انہیں کوڑے کے ساتھ سنگسار بھی کیا جائے"(105)

ہم یہاں صرف انہی چند مثالوں کو پیش کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں کہ یہ ہمارے موقف کو بخوبی ظاہر کرنے کے لئے کافی ہیں۔ امام مروزی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب "السنۃ"(106) میں، امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ نے "الاحکام فی اصول الاحکام"(107) میں، ابوجعفر النحاس، ھبۃ اللہ اور حازمی وغیرہم نے "الناسخ والمنسوخ" نیز "الاعتبار" میں اور علامہ نواب صدیق حسن خاں بھوپالی رحمۃ اللہ علیہ نے "افادۃ الشیوخ مقدار الناسخ والمنسوخ" میں "نسخ القرآن بالسنہ" کی بحث کے تحت سنت سے نسخ قرآن کی اور بہت سی مثالیں پیش کی ہیں اور منکرین نسخ جو تاویلات پیش کیا کرتے ہیں ان پر لائق مراجعت مناقشہ کیا ہے۔فجزاهم الله احسن الجزاء

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ تفسیر منسوخ القرآن ص119 ۔۔۔ 2۔ ذیل التبر المبسوک للسخاوی ص4 ۔۔۔ 3۔ نفس مصدر ص4 ۔۔۔ 4۔ ج11 ص66-67 ۔۔۔ 5۔ ج1 ص 9 ۔۔۔ 6۔ ج5 ص 279 ۔۔۔ 7۔ ص 10 ۔۔۔ 8۔ ص 11 ۔۔۔ 9۔ ص65-66 ۔۔۔ 10۔ ص 177 ۔۔۔ 11۔ ص 713 ۔۔۔ 12۔ نصب الرایہ ج4، ص 403 ۔۔۔ 13۔سنن ابوداؤد مع عون المعبود ج 3 ص 73 ۔۔۔ 14۔ جامع الترمذی مع تحفۃ الاحوذی ج3 ص 189 ۔۔۔ 15۔ ج 2 ص 83 ۔۔۔ 16۔ ج 5 ص 267 ۔۔۔ 17۔ نصب الرایہ للزیلعی ج4 ص 403 ۔۔۔ 18۔ ص 427 ۔۔۔ 19۔ ج 3 ص 140 ۔۔۔ 20۔ ج 6 ص 264 ۔۔۔ 21۔ المجروحین لابن حبان ج1 ص 215 ۔۔۔ 22۔ کما فی عون المعبود ج 3 ص 73 ۔۔۔ 23۔ فتح الباری ج 5 ص 372 ۔۔۔ 24۔ ج 3 ص 92 ۔۔۔ 25۔ المغنی ج 6 ص 1 ۔۔۔ 26۔تمیز الطیب من الخبیث للشیبانی ص 215، کشف الخفاء و مزیل الالباس للعجولنی ج2 ص 496-497، المنتقی لابن جارود ۔۔۔ 27۔تاریخ یحییٰ بن معین ج2 ص 36، التاریخ الکبیر للبخاری ج1 ص 369-370، التاریخ الصغیر للبخاری ج2 ص 226، الضعفاء الکبیر للعقیلی ج 1 ص 88 ۔۔۔ الجرح والتعدیل لابن حاتم ج2 ص 191، الکامل لابن عدی ج1 ص 288، میزان الاعتدال للذہبی ج1 ص 240، تقریب التہذیب لابن حجر ج1 ص 73، الضعفاء والمتروکین للنسائی ص 33، المجروحین لابن حبان ج1 ص 124، الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی ج1 ص 118، الکاشف ج1 ص127، سوالات ابن ابی شیبہ لعلی بن المدینی ص161، تہذیب التہذیب ج1ص321-326،معرفۃ الرواۃ لؒذہبی ص70، تغلیق التعلیق لابن حجر ج1 ص 266-270، ترفیف اہل التقدیس ص82، العلل لاحمد بن حنبل ج1 ص60، الکنی للدولابی ج2 ص25، سوالات السجزی للحاکم ق 19، تاریخ بغداد للخطیب ج6 ص227، تذہیب تہذیب الکمال للخزرجی ج1 ص92، تہذیب تاریخ دمشق لابن عساکر ج3 ص42، التحقیق لابن الجوزی ج1 ص40، 109، 131، 132، 327، 351، السنن الکبریٰ للبیہقی ج1 ص89، 142، 240 جص ص256 ج9 ص 665 ج13 ص 167، 374، 545، مجمع الزوائد للہیثمی ج 1 ص16، 122 ج3 ص 52، 60 ج4 ص 38 ج6 ص281 ج9 ص285، نصب الرایہ للزیلعی ج1 ص39، 80، 103، 195، 414 ج2 ص 167، 310، 329 ج3 ص 35 ج4 ص 58، 107، 123، 195، 329، 340، 403، تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری ج1 ص 123، ج3 ص 190، قانون الموضوعات والضعفاء للفتنی ص 241 وغیرہ ۔۔۔ 28۔ حدیث 121 ۔۔۔ 29۔ سنن النسائی مع التعلیقات السلفیہ ج2 ص 121 ۔۔۔ 30۔ سنن ابن ماجہ ج2 ص83 ۔۔۔ 31۔ مسند احمد ج4 ص 186،238 ۔۔۔ 32۔نصب الرایہ للزیلعی ج4 ص 403، کنز العمال لمنتقی الہندی ج4 ص186 ۔۔۔ 33۔ سنن الکبریٰ ج6 ص 264 ۔۔۔ 34۔ مسند ابویعلی 1508 ۔۔۔ 35۔ سنن الدارمی ج2 ص 419 ۔۔۔ 36۔ دیوان الضعفاء والمتروکین للذہبی ص 145 ۔۔۔ 37۔ تاریخ یحییٰ بن معین ج2 ص 260، التاریخ الکبیر للبخاری ج4 ص 258، الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ج4 ص 382، الکامل فی الضعفاء لابن عدی ج4 ص 1354، میزان الاعتدال للذہبی ج2 ص 283، الضعفاء والمتروکین للنسائی 294، الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی ج2 ص 43، الضعفاء الکبیر للعقیلی ج4 ص 327، معرفۃ الرواۃ للذہبی ص 118، تقریب التہذیب لابن حجر ج1 ص 355، تہذیب التہذیب لابن حجر ج4 ص 369، سنن دارقطنی ج1 ص 103، 104، فتح الباری لابن حجر ج6 ص 325 ج11 ص 202، 203، نصب الرایہ للزیلعی ج1 ص18 ج2 ص372، 475 ج4 ص 15،189، مجمع الزوائد للہیثمی ج1 ص 27، 54، 184، 213 ج3 ص 125، 168، 181 ج4 ص 51، 217، 294 ج5 ص 147، 261 ج6 ص 228 ج 10 ص 63، 64، 221، 240، تحفۃ الاھوذی للمبارکفوری ج1 ص47، 96، 183، 270، قانون الموضوعات والضعفاء للفتنی ص 262-263 وغیرہ ۔۔۔ 38۔ سنن ابن ماجہ ص 199 ۔۔۔ 39۔ نصب الرایہ للزیلعی ج4 ص 404 ۔۔۔ 40۔ سنن الکبریٰ للبیہقی ج6 ص 264-265 ۔۔۔ 41۔ سنن دارقطنی ج2 ص454-455 ۔۔۔ 42۔ مصباح الزجاجہ للبوصیری 964 ۔۔۔ 43۔ تقریب التہذیب لابن حجر ج1 ص 297، تہذیب التہذیب لابن حجر ج4 ص 39 ۔۔۔ 44۔ التعلیق المغنی علی سنن الدارقطنی ج2 ص 455 ۔۔۔ 45۔ سنن الدارقطنی ج2 ص 454 ۔۔۔ 46۔ نصب الرایہ للزیلعی ج4 ص 404 ۔۔۔ 47۔ میزان الاعتدال للذہبی ج4 ص 480 ۔۔۔ 48۔تقریب التہذیب لابن حجر ج2 ص384 ۔۔۔ 49۔الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ج9 ص239، التاریخ الکبیر للبخاری ج8 ص 412 وغیرہ ۔۔۔ 50۔میزان الاعتدال للذہبی ج4 ص 481 ۔۔۔ 51۔فتح الباری لابن حجر ج5 ص 372 و کذا فی تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری ج3 ص 189 ۔۔۔52۔سنن الدارقطنی ج2 ص 454 ۔۔۔ 53۔نصب الرایہ للزیلعی ج4 ص 404 ۔۔۔ 54۔میزان الاعتدال للذہبی ج2 ص 240، الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی ج2 ص29، تلخیص المستدرک للذہبی ج3 ص215، قانون الموضوعات والضعفاء للفتنی ص 262 ۔۔۔ 55۔الکامل فی الضعفاء لابن عدی ج2 ص817، تہذیب التہذیب لابن حجر ج2 ص 194، میزان الاعتدال للذہبی ج1 ص456، معرفۃ الرواۃ للذہبی ص 85، الکاشف ج1 ص 204، ہدی الساری لابن حجر ص 395، تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری ج2 ص111، قانون الموضوعات والضعفاء للفتنی ص 248 ۔۔۔ 56۔نصب الرایہ للزیلعی ج4 ص 404 ۔۔۔ 57۔لسان المیزان لابن حجر ج1 ص267، الکامل فی الضعفاء لابن عدی ج1 ص 202، الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی ج1 ص86، میزان الاعتدال للذہبی ج1 ص140 ۔۔۔ 58۔صحیح الجامع الصغیر و زیادتہ للالبانی ج2 ص1256 ۔۔۔ 59۔نصب الرایہ للزیلعی ج4 ص405 ۔۔۔ 60۔الکامل فی الضعفاء لابن عدی ج6 ص 2384، الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی ج3 ص 147، میزان الاعتدال للذہبی ج4 ص 214، الجوہر النقی لابن ترکمانی ج4 ص 405، مجمع الزوائد للہیثمی ج5 ص15 ۔۔۔ 61۔نصب الرایہ للزیلعی ج4 ص 405 ۔۔۔ 62۔سنن الدارقطنی ج2 ص 454-455 ۔۔۔ 63۔تاریخ یحییٰ بن معین ج3 ص 26،281 ج4 ص79، التاریخ الکبیر للبخاری ج4 ص 122، التاریخ الصغیر للبخاری ج2 ص 220، الضعفاء الصغیر للبخاری 116، الضعفاء والمتروکین للنسائی 584، الضعفاء والمتروکین للدارقطنی 537، الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی ج3 ص156، الضعفاء الکبیر للعقیلی ج4 ص 311، الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ج4 ص 502، المجروحین لابن حبان ج3 ص54، الکامل فی الضعفاء لابن عدی ج7 ص2510، میزان الاعتدال للذہبی ج4 ص240، تہذیب التہذیب لابن حجر ج10 ص 402، تقریب التہذیب لابن حجر ج2 ص 294، فتح الباری لابن حجر ج11 ص 243، تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری ج3 ص 131، نصب الرایہ للزیلعی ج2 ص261 ج4 ص405 وغیرہ ۔۔۔ 64۔الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی ج3 ص191، الضعفاء الکبیر للعقیلی ج4 ص 392، المجروحین لابن حبان ج3 ص 110، میزان الاعتدال للذہبی ج4 ص364، تقریب التہذیب لابن حجر ج2 ص343، الکامل فی الضعفاء لابن عدی ج7 ص 2644، التاریخ الکبیر للبخاری ج8 ص262، تاریخ یحییٰ بن معین ج2 ص 640، سنن الدارقطنی ج1 ص 121 ج2 ص108، 186،280، السنن الکبریٰ للبیہقی ج6 ص 267، 268، ج7 ص397 ج9 ص 256 ج10 ص293، العلل المتناہیہ لابن الجوزی ج1 ص147، 365، مجمع الزوائد للہیثمی ج2 ص4 ج4  ص266، نصب الرایہ للزیلعی ج2 ص268 ج3 ص212، 249 ج4 ص152، 203، ص42، 341، 377، 405، الجوہر النقی لابن ترکمانی ج4 ص405، تحفۃ الاحوذی ج2  ص25، قانون الموضوعات والضعفاء للفتنی ص 304 وغیرہ ۔۔۔ 65۔نصب الرایہ للزیلعی ج4 ص405 ۔۔۔ 66۔مجمع الزوائد للہیثمی ج4 ص214 ۔۔۔ 67۔الدرایہ فی تخریج احادیث الہدایہ لابن حجر ص378 ۔۔۔ 68۔تاریخ یحییٰ بن معین ج2 ص 374، التاریخ الکبیر للبخاری ج3/1 ص436، الضعفاء الکبیر للعقیلی ج3 ص30، الضعفاء والمتروکین للنسائی 382، الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی ج2 ص152، الکامل فی الضعفاء لابن عدی ج5 ص1946، المجروحین لابن حبان ج2 ص135، الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ج5 ص 362، میزان الاعتدال للذہبی ج2 ص661، معرفۃ الثقات للعجلی ج2 ص105، سوالات البرقانی ص13، تقریب التہذیب لابن حجر ج1 ص 521، تہذیب التہذیب لابن حجر ج6 ص415، مجمع الزوائد للہیثمی ج4 ص 253 ۔۔۔ 69۔نصب الرایہ للزیلعی ج4 ص405 ۔۔۔ 70۔تقریب التہذیب لابن حجر ج1 ص60 ۔۔۔ 71۔تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری ج3 ص173 ۔۔۔ 72۔الرسالہ للامام شافعی ص 140، کتاب الام للشافعی ج4 ص36، 40 ۔۔۔ 73۔سنن الکبریٰ للبیہقی ج6 ص 264 وکذا فی کشف الحفاء و مزیل الالباس للعجلونی ج2 ص 496 ۔۔۔ 74۔الجامع الصغیر 9933 ۔۔۔ 75۔مسند الطیالسی 1127 ۔۔۔ 76۔سنن سعید بن منصور 427 ۔۔۔ 77۔الارواء الغلیل للالبانی 1655 ۔۔۔ 78۔صحیح الجامع الصغیر و زیادتہ للالبانی ج2 ص 1256 ۔۔۔ 79۔المقالات للکوثری ص65-67 ۔۔۔ 80۔اسنی المطالب للحوت البیروتی ص 354 ۔۔۔ 81۔حافظ ابن حجر کے اس قول کے متعلق علامہ احمد شاکر فرماتے ہیں: "و منازعة الفخر ليست مبنية الاعلى الاحتمالات العقلية ولم يحقق المسئلة على قواعد الفن الصحيحة" (تعلیق احمد شاکر علی الرسالۃ للامام الشافعی 142) یعنی "فخر الدین رازی کا اس بارے میں نزاع صرف عقلی احتمالات پر مبنی ہے۔ اس بارے میں جو کچھ انہوں نے کہا ہے وہ صحیح فنی قواعد کی رو سے تحقیق کر کے نہیں کہا گیا ہے" ۔۔۔ 82۔فتح الباری ج5 ص372 وکذا فی تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری ج3 ص 190 ۔۔۔ 83۔المحلی لابن حزم اندلسی ج9 ص316 ۔۔۔ 84۔معارف القرآن للمفتی ج 1 ص384-385 ۔۔۔ 85۔نفس مصدر ج1 ص 384-385 ۔۔۔ 86۔ الاجماع لابن المنذر ص 79 طبع دائرہ المعارف اسلامیہ آسیا باد والاوسط لابن المنذر مصورۃ بالجامعۃ الاسلامیۃ ورقہ 155 0الف) ۔۔۔ 87۔بدایہ المجتہد لابن رشد ج2 ص 334 ۔۔۔ 88۔المغنی لابن قدامہ ج6 ص 6 ۔۔۔ 89۔ واضح رہے کہ حدیث زیر بحث کے سندا صحیح ہونے کا یہ دعویٰ محل نظر ہے ۔۔۔ 90۔المقالات الکوثری ص 65-67 ۔۔۔ 91۔فیض الباری علی صحیح البخاری ج3 ص 409 ۔۔۔ 92۔ارشاد الفحول للشوکانی ص 193 ۔۔۔ 93۔الاجوبہ الفاضلہ للکنوی ص51-52 ۔۔۔ 94۔صحیح البخاری مع فتح الباری ج5 ص 372 ۔۔۔  95۔جامع الترمذی مع تحفۃ الاحوذی ج3 ص 189 ۔۔۔ 96۔سنن النسائی مع التعلیقات السلفیہ ج2 ص 121 ۔۔۔ 97۔رسالہ "تدبر" لاہور، عدد 37 ص 36 مجریہ ماہ نومبر 1991ء ۔۔۔ 98۔نفس مصدر عدد 13 ص 16 مجریہ ماہ فروری 1985ء ۔۔۔ 99۔المائدہ 6 ۔۔۔ 100۔صحیح البخاری مع فتح الباری ج1 ص 143، 265، صحیح مسلم کتاب الطہارہ باب 25، 28، 30، جامع الترمذی ج1 ص 50 وغیرہ ۔۔۔ 101۔الاحکام فی اصول الاحکام لابن ھزم ج4 ص 113 ۔۔۔ 102۔ج1 ص 59 ۔۔۔ 103۔ص1 ص96-97 ۔۔۔ 104۔النساء: 5 ۔۔۔ 105۔تفسیر ابن کثیر ج1 ص 462، الناسخ والمنسوخ لہبۃ اللہ ص 33، تفسیر الطبری ج4 ص 294 ۔۔۔ 106۔ص66 وما بعدہا ۔۔۔ 107۔ص477-482