ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

  • جنوری
1998
ادارہ
سید وصی مظہر ندوی صاحب کا مضمون بعنوان "خواتین کی نشستیں کیوں اور کیسے؟" کچھ عرصہ قبل قومی اخبارات میں شائر ہوا۔ ندوی صاحب کے خیالات سے ہمیں اصولی طور پر اتفاق ہے۔ اس مسئلے کے متعلق کچھ مزید باتیں غور طلب ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قومی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز بھی ہے؟ ہمارے خیال میں اس مطالبے کا کوئی معقول جواز سامنے نہیں آیا۔ اگر اس کو "عورت دشمنی" کے زمرے میں شمار نہ کیا جائے تو درج ذیل نکات پیش خدمت ہیں
  • جنوری
1998
غازی عزیر
حدیث لا وصية لوارث کی تحقیق
جناب رحمت اللہ طارق صاحب نے 1962ء میں ایک کتاب بعنوان "تفسیر منسوخ القرآن" ترتیب دی تھی جو بڑی تقطیع کے تقریبا 906 صفحات پر محیط ہے۔ اس کتاب میں آں جناب نے یہ جداگانہ موقف اختیار کیا ہے کہ قرآن کریم میں کوئی حکم یا آیت سرے سے منسوخ ہی نہیں ہے۔ اس ضمن میں آنجناب نے بزعم خود کبار ائمہ و محدثین مثلا امام ابن حزم ظاہری، امام ابن کثیر، امام نووی، امام ابن حجر عسقلانی اور قاضی شوکانی وغیرہم رحمہم اللہ کی اغلاط کی نشاندہی کی ہے اور اپنے اس موقف کی تائید میں اکثر و بیشتر تفسیر المنار، ابومسلم اصفہانی، امام رازی، فناری (اصول و منطق کے عالم، 834ھ) اور سرسید احمد خان وغیرہم کی کتب پر ضرورت سے زیادہ اعتماد و انحصار کیا ہے۔ اس کتاب میں آں موصوف نے اپنی عام روش کے مطابق ورثاء کے حق میں بھی فرضیت وصیت کے بارے میں جمہور علمائے امت کی رائے سے اختلاف کیا ہے اور حدیث "لا وصية لوارث" کی 34 سندوں کے رواۃ پر صرف جارحین کے اقوال جرح
  • جنوری
1998
قاری صہیب احمد
حدیث نمبر 5
امام ترمذی اپنی جامع ترمذی اور امام احمد اپنی مسند میں اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ
"لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ فَقَالَ : " يَا جِبْرِيلُ ، إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيِّينَ ، مِنْهُمُ الْعَجُوزُ وَالشَّيْخُ الْكَبِيرُ ، وَالْغُلَامُ وَالْجَارِيَةُ وَالرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يَقْرَأْ كِتَابًا قَطُّ ، قَالَ : " يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ "
"حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: "اے جبریل! میں ایسی امت کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں جو اَن پڑھ (لوگوں پر مشتمل) ہے، ان میں سے کوئی بوڑھا ہے اور کوئی بہت زیادہ سن رسیدہ بھی ہے، کوئی لڑکا ہے اور کوئی لڑکی ہے، کوئی ایسا آدمی ہے جس نے کبھی کوئی تحریر (یا کتاب) نہیں پڑھی۔ تو جبریل نے جواب دیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے۔
  • جنوری
1998
چودھری عبدالحفیظ
حد کی جمع حدود ہے۔ یہ لفظ قرآن مجید میں چودہ مقامات پر آیا ہے:
﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا ﴾...(البقرة)
"یہ اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں، ان کے پاس نہ جانا"
﴿إِلَّا أَن يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّـهِ﴾... (البقرة: 229)
"ہاں اگر میاں بیوی کو خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے"
﴿فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّـهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا﴾ ...(البقرة: 229)
"اگر تم ڈرتے ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے"
﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا﴾... (البقرة: 229)
"یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں (احکامات) ان سے باہر نہ نکلنا"
  • جنوری
1998
محمد افضل ربانی
جمعہ دراصل ایک اسلامی اصطلاح ہے۔ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب اسے "یوم عروبہ" کہا کرتے تھے۔ اسلام میں جب اس کو مسلمانوں کے اجتماع کا دن قرار دیا گیا تو اس کا نام جمعہ رکھا گیا (1)
"جمعہ کا لفظ "جمع" سے مشتق ہے۔ وجہ اشتقاق یہ ہے کہ اس دن مسلمان بڑی بڑی مساجد میں اللہ کی عبادت کے لئے جمع ہوتے ہیں۔ (2)
"حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ "جمعہ کی رات روشن رات ہے اور جمعہ کا دن چمکتا دن" (3) ۔ اسی طرح حضرت ابوھرہرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ان دنوں میں سے جن میں آفتاب طلوع ہوتا ہے۔ جمعہ کا دن بہترین دن ہے۔ اسی روز حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اور اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا اور اسی روزہ وہ جنت سے نکالے گئے اور قیامت بھی جمعہ کے روز ہی قائم ہو گی" (4)
  • جنوری
1998
حمیداللہ عبدالقادر
ابو محمد کنیت ہے۔ احمد بن سعید بن حزم بن غالب بن صالح نام ہے۔ (1) پیدائش: 384ھ (2) جبکہ وفات: 456ھ (3) کی ہے۔
ان کے متعلق علماء کی آراء
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کی جلالتِ علمی اور عظمت ذات کا اعتراف کیا ہے۔ (4) ابن خلکان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔ "ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ علوم حدیث اور فقہ کے امام تھے۔ (5) اخلاق فاضلہ کے مالک تھے" سعید الافغانی اور منتصر الکتانی کے نزدیک "ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھا" (6) خیرالدین الزرکلی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق "ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کتاب و سنت کے ماہر تھے۔ حق گو اور بے باک تھے" انہی کے بارے میں یہ مقولہ بھی منقول ہے لسان ابن حزم و سيف الحجاج شقيقان (7) کہ "ابن حزم کی زبان اور حجاج بن یوسف کی تلوار سگی بہنیں ہیں"
امام ذھبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں "ابن حزم بہت بڑے عالم اور مجتہد تھے" (8) عمر رضا کحالہ لکھتے ہیں: "ابن حزم فقیہ، ادیب، ماہر اصول، محدث، حافظ اور تاریخ دان تھے" (9)
  • جنوری
1998
ام عبدالرب
موجودہ دور میں پاکستانی قوم اپنی تاریخ کے ایک نازک مقام پر کھڑی ہے۔ وہ بہت سے ایسے مسائل سے دوچار ہے، جن میں دو ٹوک فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں سرفہرست پاکستان کا موجودہ اقتصادی بحران ہے۔
پاکستان کی معیشت مدتِ دراز (1960ء) سے قرضوں کے سہارے چل رہی ہے اور آج ان قرضوں کے بڑھتے ہوئے جال نے صورت حال کو تشویشناک بنا دیا ہے۔ پاکستان کے قیام کے فورا بعد 1948ء میں تو پاکستان اس قابل تھا کہ وہ جرمنی کو غلہ برآمد کر سکتا۔ مگر حکمرانوں کی ناقص منصوبہ بندی کی بدولت جلد ہی وہ مرحلہ بھی پیش آیا کہ پاکستان میں گذائی بحران پیدا ہو گیا اور امریکہ سے گندم درآمد کرنا پڑی۔
  • جنوری
1998
عبدالرشید عراقی
برصغیر کے علمائے حدیث میں شیخ محمد بن طاہر پٹنی کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ آپ ایک بلند پایہ محدث تھے۔ حدیث میں وہ بالخصوص بہت ممتاز اور بلند مرتبہ تھے اور اس فن کے امام تھے۔ جس علاقہ (گجرات) سے ان کا تعلق تھا وہاں ان کے درجہ کا کوئی اور محدث نہیں گزرا۔ ان کے فضل و کمال کے تمام لوگ معترف تھے۔ اس لئے کہ انہوں نے حدیث میں بے نظیر کمال حاصل کیا اور اپنی زندگی اس فن کی خدمت میں بسر کر دی۔ ان کا شمار برصغیر کے ممتاز محدثین کرام میں ہوتا ہے اور ان کو رئیس المحدثین کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ علم حدیث میں ان کے فضل و کمال کا شہرہ صرف ہندوستان ہی میں نہ تھا، بلکہ عالم اسلام میں بھی ان کے علم و فضل اور حدیث کے کمال و امتیاز کا شہرہ تھا۔ (1)