زیر نظر مقالہ میں قرآن مجید،صحیح احادیث ،اجماع اور آثار صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین   کی روشنی میں حضرت  عیسیٰ علیہ السلام  بن مریم الناصری علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کا ثبوت پیش کیا گیا ہے۔اور منکرین کےاعتراضات کے اطمینان بخش جوابات دیئے گئے ہیں۔تصنیف کے بعد جناب انور شاہ کشمیری کی تصنیف"التصریح بما تواتر فی نزول المسیح" کا علم ہوا۔کتاب حاصل کرکے پڑھی۔بہترین کوشش ہے۔کنزالعمال وغیرہ سے بلاتحقیق احادیث نقل کی گئی ہیں۔لہذا اس میں صحیح ،حسن،ضعیف اور موضوع روایات بھی موجود ہیں۔غفراللہ لنا وله،آمین!

اہل کتاب(یہود) نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا۔پیغمبروں پر ستم ڈھائے۔انہیں قتل کیا بچھڑے کو پوجا:بے شمار  اعمال کفریہ کے مرتکب ہوئے(اور اللہ تعالیٰ کے دربار میں ملعون اور مغضوب علیہم ٹھہرے) ان کی یہ حالت بیان کرکے خالق کائنات فرماتا ہے:

﴿وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا ﴿١٥٦﴾ وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّـهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا ﴿١٥٧﴾ بَل رَّفَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا﴿١٥٨﴾ وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ﴿١٥٩﴾...النساء

" اور ان کے کفر کے باعث اور مریم پر بہت بڑا بہتان باندھنے کے باعث (156) اور یوں کہنے کے  باعث کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا حالانکہ نہ تو انہوں نے اسے قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کے لئے ان (عیسیٰ) کا شبیہ بنا دیا گیا تھا۔ یقین جانو کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں، انہیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے اتنا یقینی ہے کہ انہوں نے انہیں قتل نہیں کیا(157) بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ بڑا زبردست اور پوری حکمتوں والا ہے (158) اہل کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لاچکے اور قیامت کے دن آپ ان پر گواه ہوں گے "(سورۃ النساء۔156تا 159)

قرآن مجید کی ان آیات مبارکہ سے معلوم ہوا کہ:

1۔یہود نے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام    کو قتل نہیں کیا۔

2۔اور نہ انہیں سولی دی۔

3۔بلکہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام  کو ا پنے پاس اٹھا لے گیا۔

4۔اورعیسیٰ علیہ السلام  کی موت سے  پہلے(اس زمانے میں موجود) ہر کتابی ان پر ایمان لے آئے گا(یعنی وہ ابھی تک زندہ ہیں اور ان پر موت نہیں آئی ہے) یہ بات بھی یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ سات آسمانوں سے اوپر عرش پر مستوی ہے۔اور اپنے علم وقدرت سے ہر چیز کومحیط ہے۔یہ  عقیدہ متعدد قرآنی آیات،احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔تفصیل کے لئے امام الائمہ محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ  کی کتاب التوحید،حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ  کی کتاب العلو للعلی الغفار ،امام ابن قدامہ المقدسی رحمۃ اللہ علیہ  کی اثبات صفۃ العلو وغیرہ کامطالعہ کریں۔

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے جدا(بائن) ہے ۔کسی چیز میں بھی اس نے حلول نہیں کیا ہوا ہے۔لہذا اسے اس کی ذات کے ساتھ ہر جگہ ماننا بے دینی ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ وہ ہر چیزپر علیم وقدیر اور محیط ہے۔لہذا عیسیٰ علیہ السلام  کو اللہ تعالیٰ کا اپنے پاس لے جانے کا مطلب آسمانوں پر لے جانا ہے۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ ﴿٥٧﴾ وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ ۚ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ ﴿٥٨﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ ﴿٥٩﴾ وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ ﴿٦٠﴾وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ ۚ هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ﴿٦١﴾ وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطَانُ ۖ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ﴿٦٢﴾ وَلَمَّا جَاءَ عِيسَىٰ بِالْبَيِّنَاتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُم بِالْحِكْمَةِ وَلِأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ ۖ فَاتَّقُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُونِ ﴿٦٣﴾ إِنَّ اللَّـهَ هُوَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ۚ هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ ﴿٦٤﴾...الزخرف

" اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی تو اس سے تیری قوم (خوشی سے) چیخنے لگی ہے (57) اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وه؟ تجھ سے ان کا یہ کہنا محض جھگڑے کی غرض سے ہے، بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو (58) عیسیٰ (علیہ السلام) بھی صرف بنده ہی ہے جس پر ہم نے احسان کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لیے نشان قدرت بنایا (59) اگر ہم چاہتے تو تمہارے عوض فرشتے کردیتے جو زمین میں جانشینی کرتے اور یقیناً عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کی علامت ہے پس تم (قیامت) کے بارے میں شک نہ کرو اور میری تابعداری کرو، یہی سیدھی راه ہے (61) اور شیطان تمہیں روک نہ دے، یقیناً وه تمہارا صریح دشمن ہے (62) اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) معجزے کولائے تو کہا۔ کہ میں تمہارے پاس حکمت لایا ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ جن بعض چیزوں میں تم مختلف ہو، انہیں واضح کردوں، پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرا کہا مانو (63) میرا اور تمہارا رب فقط اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پس تم سب اس کی عبادت کرو۔ راه راست (یہی) ہے "

قرآن مجید کی ان آیات سے معلوم ہو اکہ عیسیٰ بن مریم  علیہ السلام  قیامت کی نشانی یاعلم ہیں لہذا اس میں بالکل شک نہیں کرنا چاہیے۔

مفسرقرآن حبرالامہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس آیت مبارکہ (وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ) کے بارے میں فرمایا:" خروج عيسى ابن مريم عليه السلام قبل يوم القيامة . "(صحیح ابن حبان 6778،موارد النطمان 1758)

یعنی قیامت کےدن سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام  بن مریم(  علیہ السلام ) کا نزول[1]

یہ حدیث  تقریبا اسی مفہوم کے ساتھ ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے موقوفاً بھی مروی ہے۔دیکھئے:مسند احمد (318/1) تفسیر ابن جریر(25/54) مستدرک الحاکم(448/2) مسند مسدد(المطالب العالیۃ 373) المعجم الکبیر للطبرانی (12/154) الفریابی،سعید بن منصور عبد بن حمید،ابن ابی حاتم (الدر المنشور ج6 ص20) اسے حاکم اور ذہبی رحمۃ اللہ علیہ  نے صحیح کہا۔لیکن اس کی سند میں نظر ہے۔اور مرفوع زیادہ صحیح ہے۔

قرآن مجید کی ان آیات اور متواتر احادیث کی روشنی میں مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ عیسیٰ  علیہ السلام  بن مریم  علیہ السلام  آسمان پر زندہ موجود ہیں اورآخری زمانہ میں آپ آسمان سے زمین پر اُتر کر دجال کو قتل کریں گے۔تفسیر"البحر ا لمحیط" میں ہے:

" وأجْمَعَتِ الأمّة على ما تَضَمَّنه الْحَدِيث الْمُتَواتِر مِن أنَّ عِيسى عليه السلام في السَّمَاء حَيّ ، وأنه يَنْزِل في آخِر الزَّمان ؛ "(الحق الصریح فی حیات المسیح ص129)

"حدیث متواتر کے اس مضمون پر امت کا اجماع اور اتفاق ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام    زندہ آسمان پر موجود ہیں اور وہ آخری زمانہ میں آسمان سےاتریں گے"

تفسیر"جامع البیان" میں ہے۔

" أجمعت الأمة على ما تضمنه الحديث المتواتر من أن عيسى عليه السلام في السماء حي وأنه ينزل في آخر الزمان فيقتل الخنزير ويكسر الصليب ويقتل الدجال ويفيض العدل ويظهر هذه الملة ملة محمد صلى الله عليه وسلم " (ج ص3،تحت آیۃ :انی متوفیک۔۔۔الخ)

"اس با ت پر اجماع ہے کہ عیسیٰ  علیہ السلام  آسمان  پر زندہ ہیں۔وہ نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے اوردین(اسلام) کی مدد کریں گے"(الحق الصریح ص13)

ابو  الحسن اشعری نے کہا:

"وأجمعت الأمة على أن الله عز وجل رفع عيسى إليه في السماء "

"اور امت نے اس بات پر اجماع کیا ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیا گیا ہے۔"(الابانہ عن اصول الدیانہ ص34)

اس عقیدہ پر درج ذیل کتابوں میں بھی اجماع اُمت نقل کیا گیا ہے:

شرح عقیدہ سفارینہ ج 2ص90،تفسیر روح المعانی ج22 ص32،نظم المتناثر من الحدیث المتواتر ص240،241 وغیرہ(بحوالہ الحق الصریح ص131۔133)

اور ظاہر ہے کہ امت خطاء پر اکھٹی نہیں ہوسکتی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"إِنَّ اللَّهَ لَا يَجْمَعُ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ ، وَيَدُ اللَّهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ )"

"اللہ میری امت کو گمراہی پر کبھی  جمع نہیں کرے گا اور اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے۔"(المستدرک ج1ص 116 عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  واسنادصحیح)

محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے نزول مسیح کی احادیث بے شمار صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین   نے روایت کی ہیں:مثلاً ابو ہریرۃ الدوسی الیمانی،جابر بن عبداللہ الانصاری،النواس بن سمعان،اوس بن اوس،عبداللہ بن عمرو بن العاص،ابوسریحہ حذیفہ بن اسید الغفاری،ام المومنین عائشہ، عبداللہ بن مسعود،مجمع بن جاریہ،عبداللہ بن مغفل وغیرھم رضی اللہ عنہم اجمعین

ابو الفیض الادریس الکنانی نے کہا:

"والحاصل أن الأحاديث الواردة في المهدي المنتظر متواترة وكذا الواردة في الدجال وفي نزول سيدنا عيسى بن مريم عليهما السلام"

"اورحاصل یہ ہے کہ مہدی  منتظر کے بارے میں احادیث متواترہ ہیں اور اسی طرح دجال اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام  بن مریم  علیہ السلام  کے نزول  کے بارے میں بھی(احادیث متواتر ہیں)"۔۔۔(نظم المتناثرص 241)

نزول مسیح کی احادیث کے متواتر ہونے کی تصریح درج ذیل علماء نے بھی کی ہے۔:

الامام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری التسنی فی جامع البیان فی تفسیر القرآن ج3 س204 وار ابن کثیر الدمشقی فی تفسیر القرآن العظیم ج1 ص577،582 وغیرھما۔

اب نزول مسیح کی کچھ صحیح وحسن احادیث لکھی جاتی ہیں تاکہ منکرین پر  اتمام حجت ہوجائے نیز منکرین  حدیث اور منکرین اجماع کے شہبات کے مدلل جوابات بھی دیئے گئے ہیں۔وباللہ التوفیق۔

1۔ابوہریرۃ الدوسی الیمانی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔

آپ مشہور صحابی،ثقہ ،حافظ ،فقیہ ،امام اورمحبوب المومنین ہیں۔آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے کہا:آ پ دعا ء فرمائیں تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے اور میری والدہ کو اپنے مومن بندوں کا محبوب بنادے تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم  نے  دعا  فرمادی۔ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرماتے ہیں کہ:جو مومن بھی مجھے دیکھتاہے یا میرا ذکر سنتاہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی دعاء کی برکت کی وجہ سے مجھ سے محبت کرنے لگتا ہے۔(صحیح مسلم مع النووی ج16ص52) آپ سے آٹھ سو زیادہ اشخاص نے حدیثیں بیان کی ہیں۔(تہذیب التہذیب ج12 ص265،دفاع عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  للشیخ عبدالمنعم۔حافظ ذہبی  رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا:"الامام الفقیہ المجتھد الحافظ صاحب ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔سید الحفاظ الاثبات"(سیر اعلام النبلاء ج2ص578)

ام المومنین عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کی نماز جنازہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے  پڑھائی تھی۔(التاریخ الصغیر للبخاری ج1ص 128،129)۔۔۔آپ سے نزول مسیح علیہ السلام  کی احادیث درج ذیل علماء(تابعین رحمۃ اللہ علیہ )نے بیان کی ہیں:

1۔سعید بن المسیب2۔نافع مولی ابی قتادہ الانصاری۔3۔عطاء بن میناء مولی ابن ابی ذباب ۔4۔سعید المقبری۔5۔حنطلہ بن علی الاسلمی۔6۔زیاد بن سعد۔7۔عبدالرحمان بن ابی عمرۃ۔8۔ولید بن رباح۔9۔محمد بن سیرین۔10۔زیاد بن سعد ۔11۔کلیب۔12۔رجل من بنی حنیفہ۔13۔ابو صالح ذکوان ۔14۔یزید بن الاصم وغیرھم۔۔۔اب تمام تابعین رحمۃ اللہ علیہ  کے واسطے سے ملنے والی روایات کو تفصیلاً ذکر کیا جاتاہے:

1۔سعید بن المسیب عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔

ابو محمد  القرشی المدنی،آپ مدینہ کے زبردست  عالم اور فقیہ تھے۔آپ کی مرویات صحاح ستہ اور تمام دواوین اسلام میں موجود ہیں۔آپ کی عدالت اور جلالت پر اجماع ہے۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا:

"إِمَامٌ، أَحَدُ الأَعْلاَمِ، وسَيِّدُ التَّابِعِينَ، ثِقَةٌ، حُجَّةٌ، فَقِيهٌ، رَفِيعُ الذِّكْرِ، رَأْسٌ فِي العِلْمِ والعمل"(الکاشف :1979)

آپ سے یہ حدیث امام محمد بن مسلم بن شہاب الزھری القرشی نے سنی۔امام زھری سے لیث بن سعد،سفیان بن عینیہ ،صالح بن کیسان،ابن ابی ذئب،معمر،یونس،ابن جریج،اوزاعی،الماجثمونی وغیرھم یہ حدیث متقارب الفاظ کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔

امام زہری  رحمۃ اللہ علیہ  کا تعارف:۔

ابو بکر محمد بن مسلم  بن عبیداللہ بن عبداللہ بن شہاب بن عبداللہ بن الحارث بن زھرۃ بن کلاب القرشی الزھری 50ھ یا 51ھ میں پیدا ہوئے۔آپ اہل سنت کے مشہور امام ہیں۔حافظ ابونعیم اصبہانی نے"حلیۃ الاولیاء" میں ان کاطویل تذکرہ لکھا ہے۔(ج3:ص 360تا381) آپ کی احادیث صحاح ستہ ،موطا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ ،جامع المسانید للحوارزمی المنسوب الی الامام ابی حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ،الام وغیرہ للشافعی رحمۃ اللہ علیہ ۔مسند الامام احمد،صحیح ابن خزیمہ،صحیح ابن حبان،المستدرک علی الصحیحین وغیرہ تمام کتب حدیث اور دواوین اسلام میں موجود ہیں۔

آپ کے  ثقہ ہونے پر اجماع ہے۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا:الفقیہ الحافظ متفق علی جلالۃ واتقانہ وثبتہ(تقریب التہذیب)  یعنی آپ فقیہ حافظ ہیں اور آپ کی جلالت ،اتقان(ثقہ کا اعلیٰ درجہ) اورثبات پر اتفاق ہے۔(نیز دیکھئے تدریب الراوی:ج1 ص86)

آپ سے ابوحنیفہ ،مالک،عمر بن عبدالعزیز،اوزاعی،سفیان اور ایک سو سے زیادہ اشخاص حدیث بیان کرتے ہیں۔تمام علماء آپ کی تعریف میں رطب اللسان ہیں:

عمرو بن دینارنے کہا:میں نے زھری سے زیادہ حدیث کی بصیرت والا کوئی نہیں دیکھا(حلیہ ج3 س360) اور کہا:میں نے زہری سے زیادہ دراہم(مال ودولت) کو گھٹیا اور بے وقعت سمجھنے والا کوئی شخص نہیں دیکھا۔مال و دولت اس کے نزدیک بکری کی مینگنی کے برابرتھا(سیر اعلام النبلاء ج5 ص334) ایوب سختیانی نے کہا:میں نے زھری سے زیادہ عالم کوئی نہیں دیکھا۔اسی  طرح امام مکحول،عمر بن عبدالعزیز اور سفیان نے آپ کی بہت تعریف کی(حلیہ ج3ص 360)

امام عجلی نے کہا:"وكان فقيها فاضلا"(ج5 ص349)  ابن شاہین نے اسے تاریخ اسماء الثقات میں ذکر کیا بلکہ متعدد ائمہ نے زھری کی احادیث کو اصح الاسانید میں شمار کیا ہے۔ دیکھئے مقدمہ ابن الصلاح ص32،تقریب النووی مع  تدریب الراوی ج1 ص77،87 وغیرھما۔

لہذا ثابت ہواکہ محدثین کے نزدیک امام زھری اعلیٰ درجہ کے ثقہ ومتقن ہیں اور ان کی حدیث صحیح حدیث کی سب سے اعلیٰ قسم ہے۔

تشیع کا الزام اور اس کا جواب:۔

ابو الخیر اسدی اپنی کتاب"اسلام میں نزول مسیح کا  تصور" میں لکھتے ہیں:

"شعیہ کے ائمہ رجال کااعتراف ہے کہ ابن شہاب  زھری،امام جعفر صادق کے اصحاب میں شمار ہوتا تھا۔چنانچہ مامقانی شیعہ رجال کے مشہور امام اپنی کتاب"تنقیح المقال فی اسماء الرجال" میں لکھتے ہیں:۔

"قال الماماقاني محمد بن مسلم الزهري المدني عده الشيخ في رجاله من اصحاب الصادق"(تنقیح المقال فی اسماء الرجال ص 186 ج3) مامقانی لکھتے ہیں کہ"محمد بن مسلم الزھری کو شیخ الطائفہ نے اپنے رجال میں امام جعفر صادق کے اصحاب میں شمار کیا ہے۔"(ص41،42)

جواب:جیسا کہ اوپر علماء اہل سنت کی صراحت گزر چکی ہے۔کہ امام ذھری رحمۃ اللہ علیہ  اہلسنت کے زبردست ثقہ،بالاجماع امام اور سنی ولی ہیں۔اہل سنت کی تمام حدیث کی کتابوں میں ان کی احادیث  کی کتابوں میں ان کی احادیث موجود ہیں۔سنی علماء نے ان کی تعریف  وتوثیق کی۔اور ان کی احادیث کو صحیح بلکہ اصح الاسانید قرار  دیا اور کسی ایک سنی محدث نے بھی ان پر تشیع ہونے کا الزام   نہیں لگایا۔لہذا یہ الزام مردود ہے۔

دوسرے یہ کہ روافض کا کسی شخص کو اپنی اہمیت جتلانے کے لئے اپنی کتابوں میں ذکر کرنا اس امر کی ہرگز دلیل نہیں کہ وہ شخص فی الحقیقت رافضی یاشیعہ تھا۔ع

وكل يدَّعي وصلاً بليلى .... وليلى لا تقر لهم بذاكا

(ہرشخص لیلیٰ کے وصل کا دعویدار ہے اور لیلیٰ کسی ایک کے ساتھ بھی اپنے وصل کااقرار نہیں کرتی)

درج ذیل اشخاص کو روافض اپنی اسماء الرجال کی کتابوں میں ذکر کرتے ہیں۔کیا یہ بھی شیعہ اور رافضی تھے؟

1۔علی بن ابی طالب  رضی اللہ تعالیٰ عنہ (الاصول من الکافی ج1ص452)

2۔حسن بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ (رجال الطوسی ص15،الاصول من الکافی ج1 ص461)

3۔حسین بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ (رجال  الطوسی ص15،الاصول من الکافی ج1 ص 463)

4۔جابر بن عبداللہ الانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ (تنقیح المقال للمامقانی ج1 ص 199،رجال الطوسی ص12)

5۔سعید بن  جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (تنقیح المقال ج2 ص 25 رجال الحلی ص29)

6۔ابو حنیفہ نعمان بن ثابت  رحمۃ اللہ علیہ (تنقیح المقال ج3 ص272،رجال الطوسی ص325)

7۔یعقوب بن ابراہیم ابو یوسف القاضی(تنقیح المقال ج3 ص329)

8۔محمد بن ادریس الشافعی (تنقیح المقال ج2 ص76 رقم 10360)

9۔مالک بن انس(تنقیح المقال ج2 س38 رقم 10022)

10۔ابراہیم بن یزید نخعی(تنقیح المقال ج1 ص 34 رجال الطوسی ص35 وغیرہ)وغیرھم۔

سوال یہ ہے کہ کس مسلمان میں یہ جراءت ہے کہ ان صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  ،تابعین رحمۃ اللہ علیہ ،ومن بعد ہم کو شیعہ یا رافضی قرار دے کر ان کی مرویات کو مردود کہہ دے؟لہذا ثابت ہوا کہ رافضیوں کا کسی سنی کو اپنے رجال میں شمار کرنا اسے رافضی نہیں بنادیتا۔

یہ بات یاد رہے کہ موجود دور میں متعدد ناصبی وغیرہ جب کسی ثقہ راوی کی صحیح حدیث اپنی خواہش نفسانیہ کے خلاف پاتے ہیں۔تو جھٹ اسے شیعہ کہہ کر اس کی حدیث سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔لہذا ایسے لوگوں سے اہل سنت والجماعت کو ہوشیار رہنا چاہیے۔ دوسرے یہ کہ محدثین کی اکثریت کا یہ مسلک ہے۔کہ اگر بدعتی راوی ثقہ یا مصدوق ہے۔تو اس کی روایت قابل حجت ہوتی ہے۔مشہور حنفی ادیب مولانا سرفرازصفدر صاحب لکھتے ہیں:

"اور اصول حدیث کی رو سے ثقہ  راوی کا خارجی یا  جہمی،معتزلی یامرجی وغیرہ ہونا اس کی ثقاہت پر قطعاً اثر انداز نہیں ہوتا اور صحیحین میں ایسے  راوی  بکثرت موجود  ہیں۔۔۔"(احسن الکلام ج1 ص 30)

تنبیہہ:۔

مامقانی نے ابن الحدید کی شرح نہج البلاغہ سے نقل کیا کہ:

"كان من المنحرفين عنه ع و أن عليا"(تنقیح المقال ج3ص 187)

"یعنی :زھری رحمۃ اللہ علیہ  امیر ا لمومنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے مخالفین میں سے تھے۔"(معاذ اللہ) اور اسی  طرح مامقانی رافضی نے اپنے بعض اکابر سے نقل کیا کہ زھری(اہل بیت کے) دشمن تھے(ایضاً) ابو جعفر الطوقی الرافضی نے کہا:"محمد بن شہاب الزھری عدو"(رجال طوسی ص101)

"من لا يحضره الفقيه"کے محشی نے"شرح مشيخة الفقية" کے حاشیہ میں امام زھری  رحمۃ اللہ علیہ  کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور اہل بیت کامنحرف لکھا ہے۔(ج4 ص82)

اب آپ  فیصلہ کریں کہ رافضیوں کے کہنے پر امام زھری رحمۃ اللہ علیہ  کو کیا ناصبی قرار دیا جاسکتا ہے۔مشہور زاہد شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ  نے سچ کہا کہ:

"وعلامة الرافضة تسميتهم أهل السنة عاصبيه وكل ذلك عصبية، وغياظ لأهل السنة ولا اسم لهم الاسم واحد وهو  اصحاب الحديث"

" اور رافضیوں کی علامت یہ ہے کہ وہ اہل اثر کو ناصبی کہتے ہیں یہ سب تعصب ہے اور ان کا اہل سنت کے ساتھ غصہ ہے۔اور ان کا صرف ایک ہی نام ہے اور وہ ہے اصحاب الحدیث (الغنیۃ الطالبین طریق الحق ج1ص 80)

اور میں کہتا ہوں کہ اسی طرح فرقہ ناصبیہ کی یہ علامت ہے کہ وہ اہل سنت کو رافضی یاشیعہ کہتے ہیں۔

تدلیس کی بحث:۔

متعدد علماء نے امام زہری کو مدلس قرار دیا ہے۔حافظ ذہبی  رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا:"الحافظ الحجہ۔کان فی النادر"(میزان الاعتدال ج4 ص40) آپ حافظ حجت تھے۔کبھی کبھار تدلیس کرتے تھے۔

مشہور محدث امام صلاح الدین العلائی(متوفی 761ھ) فرماتے ہیں:

"والصحيح الذي عليه جمهور ائمة الحديث و الفقة والاصول الاحتجاج بما رواه المدلس الثقة مما صرح  فيه بالسماع دون ما رواه بلفظ محتمل لان جماعة من الائمة الكبار دلسواوقد اتفق الناس علي الاحتجاج بهم ولم يقدح التدليس فيهم قتادة ولاعمش والسفيانين الثوري وابن عينية وهشيم بن بشير وخلق كثير وايضا فان التدليس ليس كذبا صريحا بل هو ضرب من الايهام بلفظ محتمل........"(جامع التحصیل فی احکام المراسیل:ص 98،99)

"اور وہ صحیح ہے جس پر جمہور محدثین،فقہار اور اصولین ہیں کہ ثقہ مدلس جو روایت سماع کی تصریح کے ساتھ بیان کرے اس سے حجت پکڑی جائے کیونکہ ائمہ کبار کی جماعت نے تدلیس کی ہے۔ اور لوگ ان کے ساتھ  حجت پکڑنے پر متفق ہیں حالانکہ تدلیس نے انہیں نقصان نہیں  پہنچایا۔مثلاً قتادہ،اعمش،سفیان ثوری،سفیان بن عینیہ،ہشیم بن بشیر اور بے شمار لوگ، اور یہ بات بھی ہے کہ تدلیس صریح جھوٹ نہیں ہے۔بلکہ وہ ایہام کی(لفظ تحمل وعن وغیرہ کے ساتھ) ایک قسم ہے۔

امام محمد بن ادریس الشافعی رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:

(ومن عرفناه دلس مرة فقد أبان لنا عورته في روايته .. فقلنا لا نقبل من مدلس حديثاً حتى يقول فيه: حدثني أو سمعت اهـ .)

"اور جسے ہم نے جانا کہ اس نے ایک مرتبہ ہی تدلیس کی تو اس کا نقص ہم پر اس کی روایت میں ظاہر کیا گیا اور یہ نقص جھوٹ نہیں ہے  تاکہ ہم اس کی حدیث کو(مطلقاً) رد کردیں اور نہ سچائی میں خیر خواہی ہے۔تاکہ ہم اس کی روایت کو قبول کرلیں جس طرح کہ ہم سچائی میں خیر خواہ ہوں(غیر مدلسین) کی روایات قبول کرتے ہیں ۔پس ہم کہتے ہیں کہ ہم کسی مدلس سے کوئی حدیث قبول نہیں کرتے حتیٰ کہ حدثنی یا سمعت کہے۔(یعنی سماع کی تصریح کرے)"(الرسالہ نسخہ قدیمہ مطبوعہ 1321ھ ص 53)

لہذا امام زھری نے جن روایات میں سماع کی تصریح کی ہے۔ان کےصحیح ہونے میں کیا شبہ ہے؟بعض لوگ امام شعبہ اور چند علماء سے تدلیس کی سخت مذمت اور تکذیب نقل کرتے ہیں۔حالانکہ یہ اقوال مرجوحہ ہیں۔اما ابو عمرو بن الصلاح فرماتے ہیں:

"وهذا من شعبة إفراط محمول على المبالغة في الزجر عنه والتنفير "

"اور یہ قول امام شعبہ سے افراط پر مبنی ہے اور یہ تدلیس سے جھڑکنے اور نفرت کرنے کے مبالغہ پر محمول ہے۔"(علوم الحدیث المعروف مقدمہ ابن الصلاح ص98)

امام ابن الصلاح کے بیان کی تصدیق اس سے بھی ہوتی ہے۔کہ امام شعبہ نے خود کئی مدلسین قتادہ،ابو اسحاق،سیعی اور اعمش سے روایت کیا ہے۔بلکہ امام شعبہ سے مروی ہے۔

"كفيتكم تدليس ثلاثة الأعمش وأبي إسحاق وقتادة "(آخر طبقات المدلسین لابن حجر عسقلانی)

یعنی میں آپ کے لئے تین اشخاص،اعمش،ابو اسحاق،اورقتادہ کی تدلیس سے بچنے کےلیے کافی ہوں۔لہذا علماء کےنزدیک ان راویوں سے شعبہ کی روایت اگر معنن بھی ہوتو سماع پر محمول ہوتی ہے۔دیکھئے:فتح الباری ج4 ص38،194،ج10ص 166،ج11ص 146،وغیرہ۔لہذا زھری کی مصرح بالسماع روایت صحیح ہوتی ہے۔

ارسال کی بحث:۔

بعض متجد دین امام یحییٰ بن سعید القطان کا قول:"زھری کی مرسل روایتیں بمنزلہ ریح" میں نقل کرکے امام زھری  کو مطعون کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔تو اس کاجواب یہ ہے کہ کسی راوی کا مرسل احادیث بیان کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔اور نہ یہ اس کی عدالت پر جرح ہے۔متعدد ائمہ نے مرسل روایات بیان کی ہیں مثلاً ابراہیم نخعی،ایوب سختیانی،ثابت البنانی،جعفر الصادق،حسن بصری ،ربعیہ الرائے،رجاء بن حیوۃ،سالم بن عبداللہ بن عمر،سعید بن جبیر،سعید بن المسیب،سفیان ثوری،اعمش،قاضی شریح ،شعبہ طاوس،شعبی،عروۃ،عطاء بن ابی  رباح ،عکرمہ اور قتادہ وغیر ہم :دیکھئے کتاب المراسیل لابی داود وغیرہ۔

کیا یہ ائمہ مسلمین مرسل  روایات بیا ن کرنے کی وجہ سے ضعیف ومجروح بن گئے ہیں؟ یہ بات حق ہے کہ مرسل روایت ضعیف ہوتی ہے۔ لیکن یہ بات باطل ہے کہ ہر مرسل  ضعیف ہوتی ہے۔ اگر کوئی کہے کہ زھری کاارسال سخت خطرناک ارسال تھا۔تو عرض ہے کہ اس کی وجہ بھی محدثین نے بتادی ہے امام یحییٰ بن سعید القطان نے کہا:

"هؤلاء قوم حفاظ كانوا إذا سمعوا الشيء علقوه "

یہ لوگ(قتادہ وزھری) حفاظ حدیث میں سے تھے۔یہ جب کوئی چیز سنتے تو اسے یاد کرلیتے تھے۔(المراسیل لابن ابی حاتم ص3)

امام قطان نے یہ بھی فرمایا:

"مرسل الزهري شر من مرسل غيره ; لأنه حافظ ، وكلما قدر أن يسمي سمى ، وإنما يترك من لا يحب أن يسميه . "(سیر اعلام النبلاء:ج5 ص338)

"زہری کی مرسل دوسروں کی مرسل سے زیادہ بری ہوتی ہے کیونکہ وہ حافظ ہے۔اور صرف وہ اسی شخص کا نام ترک کرتا ہے جس کا نام لینا پسند نہیں کرتا"۔

معلوم ہوا کہ زہری کی مراسیل غیر ثقات سے ہونے کی وجہ سے زیادہ ضعیف ہیں۔امام یحییٰ بن سعید القطان نے قتادہ کی مراسیل کو بھی"بمنزلہ الریح" قرار دیا۔(المراسیل لابن ابی حاتم ص3)

اور سعید بن مسیب کی ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے منقطع روایت کو"ذلک شبہ الریح"کہا۔یعنی وہ ہوا کی طرح  کمزور ہے (ایضاً ص) اور کہا:مرسلات ابن ابی خالد یعنی اسماعیل لیس شئی یعنی اسماعیل بن ابی خالد کی مرسل  روایات کچھ بھی نہیں ہیں۔(جامع التحصیل ص38)

امام محمد بن سیرین سے بھی ابو العالیہ اور حسن بصری کی مراسیل پر سخت تنقید مروی ہے۔اور کہا کہ:چار اشخاص(الحسن ،ابو العالیہ،حمید بن ہلال اور داود بن ابی ہند) ہر ایک کو سچا سمجھتے تھے ۔اور اس بات کی پرواہ نہیں رکھتے تھے کہ کس سے سن رہے ہیں(سنن دار قطنی:ج1 ص171،172)

کیا ان علماء کو بھی ضعیف وغیر ثقہ قرار دیا جائے گا۔بلکہ حق یہ ہے کہ جو شخص ثقہ ہے۔اس کی متصل روایات کو قبول اور مرسل روایات کو مردود سمجھنا چاہیے۔

اوراج کی  بحث:۔

بعض اشخاص نے لکھا ہے کہ:زھری کی عادت اور  راج کی بھی تھی۔"اوراج" کی  تعریف ہے:"حدیث میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے الفاظ کے ساتھ اپنے الفاظ ملا دینا یعنی حدیث میں اپنی طرف سے کچھ الفاظ درج کردینا"(نزول مسیح کا تصور:ص 120)

حالانکہ ائمہ محدثین نے اوراج کو راوی کی عدالت میں کبھی جرح قرار  نہیں دیا۔اوراج کی تعریف میں اصول حدیث کے ایک زبردست امام اور جید محقق ابن الصلاح فرماتے ہیں:

"معرفة مدرج في الحديث"حدیث میں مدرج کی معرفت

"ما أدرج في حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم من كلام بعض رواته ، بأن يذكر الصحابي أو من بعده عقيب ما يرويه من الحديث كلاما من عند نفسه ، فيرويه من بعده موصولا بالحديث غير فاصل بينهما بذكر قائله ، فيلتبس الأمر فيه على من لا يعلم حقيقة الحال ، ويتوهم أن الجميع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ."(مقدمہ ص127)

"اس کی کئی قسمیں ہیں۔ان میں سے وہ بھی ہے۔ جو حدیث رسول    صلی اللہ علیہ وسلم  میں راویوں کا کلام درج ہوجائے وہ اس طرح کہ کوئی صحابی یا جو اس سے نیچے ہے۔اپنی طرف سے اس حدیث میں کوئی کلام(بطورتفسیر) ذکر کرے جسے وہ روایت کررہا ہے ،تو بعد کا راوی اسے حدیث کے ساتھ ملا کر(موصول) روایت کردے۔اور قائل کے کلام کو جدا نہ کرے۔اور اس شخص پر جو حقیقت حال سے بے خبر ہے۔معاملہ مشتبہ ہوجائے اور اسے یہ وہم ہو کہ یہ سب کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں ہے۔"

معلوم ہوا کہ اس میں راوی کی غلطی نہیں ہوتی۔وہ تو حدیث کی شرح وتفسیر میں کچھ کلام عرض کرتا ہے جسے بعد کاراوی اصل بات سے بے خبری کی وجہ سے متن حدیث میں درج کردیتا ہے۔محدثین کرام پر اللہ کی بے پایا رحمتیں ہوں جنھوں نے انتہائی باریک بینی اور غیر جانبداری سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی جدا کردیا ہے۔اورعدل وانصاف کی میزان ہاتھ میں لےکر اپنی لاجواب تحقیقات سے یہ واضح کردیا کہ یہ متصل ہے اور یہ منقطع ،یہ محفوظ ہے اور یہ شاذ،یہ سالم من الادراج ہے اور یہ مدرج وغیرہ۔

مدرج کے موضوع پر متعدد علماء نے کتابیں لکھیں مثلا  خطیب بغدادی کی"الفصل للوصل فی مدرج النقل"(مجھے اس کے قلمی نسخے کی فوٹو سٹیٹ دیکھنے کا اتفاق ہواہے) حافظ ابن حجر  رحمۃ اللہ علیہ  کی"تقریب المنہج بترتیب المدرج" اور جلال الدین السیوطی کی"المدرج الی المدرج"

اب ان علماء کا نام لکھتاہوں جنھوں نے کسی حدیث کی تشریح میں کوئی کلمہ کہا،جسے بعد کے راویوں نے متن میں درج کردیا:

1۔عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ (مقدمہ ابن الصلاح ص128،المدرج الی المدرج ص11)

2۔ابو ہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( المدرج الی المدرج ص18،21وغیرھما)

3۔سالم بن ابی الجعد(المدرج ص 46وغیرھم)

کیا انھیں بھی مجروح قرار دیا جائے گا؟ہر گز نہیں۔اسی طرح اس نام نہاد جرح سے امام زھری بھی بری ہیں۔حافظ ابن حجر عسقلانی  فرماتے ہیں:

" والأصل أن ما كان في الخبر فهو منه حتى يقوم دليل على خلافه ، والا صل عدم الادراج ولا يثبت الابدليل"

(فتح الباری ج2ص 83،196،ج4ص437،ج7ص 311)"اصل یہ ہے کہ حدیث(کے متن) میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اسی حدیث میں سے ہوتاہے حتیٰ کہ اس کے خلاف دلیل ثابت ہوجائے۔اور اصل عدم ادراج ہے اورادراج کا دعویٰ دلیل کے بغیر ثابت نہیں ہوتا"

خلاصہ:۔

مختصر یہ کہ امام زھری جلیل القدر سنی عالم،مشہور تابعی،ثقہ  حجت تھےان کی روایت اعلیٰ درجے کی صحیح ہوتی ہے۔گولڈ زہیر مستشرق اور اس کے مقلدین کی خود ساختہ جروح قطعاً مردود ہیں ۔بلکہ منکرین رسالت کی ان جروح سے امام زھری کی شان اور زیادہ بلند ہوجاتی ہے۔

امام زھری سے نزول مسیح کی یہ حدیث جن شاگردوں نے سنی،ان کا ص 20 پر زکر کیا جا چکا ہے۔اب ان کی روایات کا مختصر تذکرہ پیش خدمت ہے:

1۔لیث بن سعد:آپ صحاح ستہ کے راوی اور"ثقہ ثبت فقیہ امام" مشہور تھے(تقریب) آپ سے یہ حدیث درج ذیل علماء نے بیان کی:

1۔یحییٰ بن بکیر(السنن الکبریٰ للبیہقی ج1 ص244)

2۔ہاشم(مسند احمد ج2 ص538)

3۔یزید بن موھب(صحیح ابن حبان 6779)

4۔احمد بن سلمہ(السنن الکبریٰ بیہقی ج1 ص244)

5۔محمد بن رمح(صحیح مسلم55)

6۔قتیبہ بن سعید(صحیح بخاری 2109 صحیح مسلم 155،سنن ترمذی 2233 الایمان لابن مندۃ 307 من طریق النسائی عنہ)

صحیح بخاری وصحیح مسلم میں قتیبہ بن سعید کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم والذي نفسي بيده ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكما مقسطا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله أحد"

اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ضرور عنقریب تم میں ابن مریم نازل ہوں گے،حاکم عادل بن کر ،پس وہ صلیب توڑ  دیں گے۔خنزیر کو ہلاک کردیں گے،جزیہ ختم کردیں گے اور مال کو بہادیں گے حتیٰ کہ اسے کوئی بھی قبول نہیں کرے گا"

امام ترمذی نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا:"ہذا حدیث حسن صحیح"

2۔سفیان بن عینیہ عن ابی شہاب

آپ سے درج ذیل علماء نے یہ حدیث انتہائی معمولی اختلاف کے ساتھ بیان کی:

1۔علی بن عبداللہ المدینی(صحیح بخاری 2344)

اس میں شروع میں"تقوم الساعۃ" کے الفاظ زیادہ ہیں۔

2۔زھیر بن حرب(صحیح مسلم 155)

3۔ابو بکر بن شیبہ (المصنف ج15 ص144 وعنہ ابن ماجہ 4078)

4۔ابو بکر بن شیبہ(المصنف ج15 ص144 وعنہ ابن ماجہ 4078)

4۔عبدالاعلیٰ بن حماد(صحیح مسلم)

5۔عمر الناقد۔(مسند ابی یعلیٰ الموصلی 5877)

6۔احمد بن حنبل (فی مسندہ ج2 ص230)

7۔ابن ابی عمر(الشریعہ للآجری ص 381)

8۔الحمیدی(مستخرج علی صحیح مسلم لابی عوانہ ج1 ص 105وغیرہ۔(دیکھئے:السنن الکبریٰ للبیہقی ج6 ص101 وغیرہ)

3۔صالح بن کیسان المدنی(دیکھئے تحفۃ الاشرف للحافظ المزی:ج10 ص26،27)

آپ صحاح ستہ کے راوی اور"ثقہ ثبت فقیہ"تھے(تقریب) امام زھری آپ کے استاد ہیں۔(تہذیب الکمال قلمی:ج2 ص599،ج3 ص127) اور ابراہیم بن سعد الزھری ان کے شاگرد ہیں(تہذیب الکمال للحافظ المزی:ج1 ص53 ج2 ص599 ونسخہ مطبوعہ ج2 ص88 ) آپ سے یعقوب الزھری نے اور ان سے یعقوب بن ابراہیم نے یہ حدیث سنی۔

یعقوب سے اسحاق(صحیح بخاری 3264) عبد بن حمید،حسن الحلوانی(صحیح مسلم) اب داؤود الحرانی(صحیح ابی عوانہ ج1 ص105) اور محمد بن یحییٰ الذھلی(السنن الکبریٰ بیہقی ج9 ص180) نے یہ حدیث بیان کی۔بخاری وغیرہ کی روایت  میں یہ الفاظ زیادہ ہیں:

"حتى تكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا وما فيها ثم يقول أبو هريرة اقرءوا إن شئتم وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۖالآية "

"حتیٰ کہ لوگوں کے نزدیک اللہ کے آگے ایک سجدہ کرنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا  پھر ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرمایا کرتے:پڑھو اگر(تصدیق) چاہتے ہو تو تلاوت کرو اور انہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ضرور ایمان لے آئے گا ساتھ اس(عیسیٰ علیہ السلام ) کے اس(عیسیٰ) کی موت سےپہلے"(الایۃ)

بعض لوگوں نے پوچھا کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  کا استاد"اسحاق" کون ہے تو  عرض ہے کہ وہ اسحاق بن راہویہ ہے۔حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:

" وَقَدْ أَخْرَجَهُ أَبُو نُعَيْمٍ فِي الْمُسْتَخْرَجِ مِنْ مُسْنَدِ إِسْحَاقَ بن رَاهْوَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ إِسْحَاقَ"(فتح الباری ط 1348ھ ج6 س382)

اور ابو نعیم(اصبہانی) نے مستخرج(علی صحیح البخاری) میں یہ حدیث مسند اسحاق بن راہویہ سے روایت کی ہے۔اور کہا:اسے بخاری نے اسحاق سے روایت کیا ہے"۔

دوسرے یہ کہ عبد بن حمید وغیرہ نے اسحاق کی متابعت کررکھی ہے لہذا ان پر اعتراض ہر لحاظ سے مردود ہے۔

4۔معمر(مصنف عبدالرزاق 20840 وعنہ احمد فی مسندہ ج2ص272)

5۔یونس بن یزید(صحیح مسلم 155،الایمان لابن مندہ 411)

6۔ابن جریج(صحیح ابی عوانہ ج1ص104)

7۔اوزاعی (ابو عوانہ ج1ص 105،مشکل لآثار للطحاوی ج1 ص27)

8۔عبدالعزیز بن عبداللہ ابی سلمہ الماجثون(مسند علی بن الجعد 2867وعنہ البغوی فی شرح السنہ ج15ص80 وقال: ہذا حدیث متفق علی صحتہ)

9۔ابن ابی ذئب(مسند احمد داود الطیالسی 2297،مشکل الآثار ج1 س28) وغیرہم مختصر یہ کہ سعید بن المسیب  رحمۃ اللہ علیہ  کی ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے یہ حدیث بالکل صحیح ہے۔

2۔نافع مولی ابی قتادہ الانصاری عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔

آپ صحاح ستہ ک راوی اور ثقہ ہیں (تقریب التہذیب)

آپ سے یہ حدیث امام ذہری نے بیان کی۔ان کاتذکرہ گزر چکاہے ان سے یہ حدیث درج ذیل علماء نے سن کر آگے بیان کی:

الف۔یونس ابن یزید الایلی، آپ جمہور کے نزدیک ثقہ ہیں اور صحاح ستہ کے  راوی ہیں۔آپ کی روایت صحیح بخاری 3265،صحیح مسلم 155،کتاب الایمان لابن مندہ 414،شرح السنہ للبغوی 10 س82 وغیرہ میں ہے۔

ب۔معمر(مصنف عبدالرزاق 20841 وعنہ احمد ج2ص272 وابن مندہ فی فی الایمان 415)

ج۔عقیل( کتاب الایمان لابن مندہ 416 وعنہ ابن حجر فی تغلیق التطیق ج4 ص40)

د۔اوزاعی(الایمان لابن مندہ 413 وعنہ ابن حجر فی تنطیق التعلیق ج4 ص40،البعث للبیہقی کما فی فتح الباری ج6 ص385،معجم ابن الاعرابی کما فی تنطیق التعلیق وغیرہ،صحیح ابن حبان 6764،صحیح ابی عوانہ ج1 ص106)

ھ۔ابن ابی ذئب(صحیح مسلم،مسند احمد ج2 س336،صحیح ابن عوانہ ج1 ص106)

بخاری وصحیح مسلم میں یونس بن یزید کی روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں:

"كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ "

"تمہاری حالت اس وقت کیسی ہوگی جب ابن مریم علیہ السلام  تم میں نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا"

کتاب الاسماء والصفات للبیہقی میں یونس کی روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں:

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

""كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ مِنَ السَّمَاءِفِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ "

"تمہاری حالت اس وقت کیسی ہوگی جب ابن مریم علیہ السلام  تم میں آسمان سے نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوں گا"(ص 535 وفی نسخہ اخری ص424)

یہ دونوں روایتیں صحیح ہیں اور ان میں کوئی تعارض نہیں ہے۔"مِنَ السَّمَاءِ" کے اور شواہد بھی ہیں ،جوآگے آرہے ہیں۔(دیکھئے ص38،39)

"هذا حديث متفق علي صحته"

ایک اہم بات:۔

امام بیہقی مستقل مخرج حدیث ہیں۔اور ان کی بیان کردہ یہ سند صحیح ہے۔لہذا ان کی یہ زیادت مقبول ہے۔کیونکہ ثقہ کی زیادت اگر ثقات یا اوثق کے خلاف نہ ہوتو مقبول ہوتی ہے۔(دیکھئے الکفایۃ فی علم الروایہ ص434۔429) للخطیب البغدادی)

اور اگر امام بیہقی  رحمۃ اللہ علیہ  کہیں کہ"رواہ البخاری" تواس کا  مفہوم یہ ہوتاہے کہ اس حدیث کی اصل صحیح بخاری میں موجود ہے۔(دیکھئے مقدمہ ابن الصلاح ص31 مع شرح العراقی)

3۔عطاء بن میناء مولیٰ ابن ابی ذیاب عن ابی ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔

آپ صحاح ستہ کے راوی ہیں۔امام العجلی نے کہا:"(مدنی) تابعی ثقہ"(تاریخ الثقات ،1133) امام ابن حبان نے آپ کی توثیق کی۔بعض علماء نے آپ کو صدوق اور بعض نے من اصلح الناس قرار دیا۔(دیکھئے  تہذیب وتقریب وغیر ھما) لہذا آپ ثقہ وصدوق ہیں۔آپ سے سعید بن ابی سعید المقبری اور ان سے لیث بن سعد اور ابن اسحاق نے یہ  روایت بیان کی:

1۔لیث بن سعد(صحیح مسلم 155،صحیح ابن حبان 6777،الشریعہ الآجری ص 380 مشکل الآثار ج1 ص 28 وغیرہ) صحیح مسلم میں اس حدیث کے الفاظ درج ذیل ہیں:

"قَالَ رَسُولُ اللَّهِ , صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَنْزِلَنَّ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَادِلا ، فَلَيَكْسِرَنَّ الصَّلِيبَ ، وَلَيَقْتُلَنَّ الْخِنْزِيرَ ، وَلَيَضَعَنَّ الْجِزْيَةَ ، وَلَيَتْرُكَنَّ الْقِلاصَ ، فَلا يَسْعَى عَلَيْهَا ، وَلَيُذْهِبَنَّ الشَّحْنَاءَ وَالتَّبَاغُضَ وَالتَّحَاسُدَ ، وَلَيَدْعُوَنَّ إِلَى الْمَالِ فَلا يَقْبَلُهُ أَحَدٌ " .

"اللہ کی قسم!  ابن مریم  علیہ السلام  البتہ ضرور نازل ہوں گے  وہ عدل کرنے والے حاکم ہوں گے صلیب توڑدیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ موقوف کردیں گے۔جوان اونٹوں کو چھوڑ دیا جائے گا تو پھر تو کوئی ان سے باربرداری کا کام نہ لے گا۔اور لوگوں کے دلوں سے عداوت،بغض اور حسد ختم ہوجائے گا اور مال دینے کے  لئے بلائیں گے تو کوئی بھی مال قبول نہ کرے گا"

ب۔محمد بن اسحاق(المستدرک للحاکم ج2 ص959) آپ کی روایت کا متن یہ ہے:

"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَيَهْبِطَنَّ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَادِلا وَإِمَامًا مُقْسِطًا ، وَلَيَسْلُكَنَّ فَجَّ الرَّوْحَاءِ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا ، وَلَيُسَلِّمَنَّ عَلَيَّ فَلأَرُدَّنَّ عَلَيْهِ ""يقول أبو هريرة : أي بني أخي إن رأيتموه فقولوا : أبو هريرة يقرئك السلام .

"عیسیٰ بن مریم(علیھما السلام) حاکم عادل اور امام منصف بن کر ضرور اتریں گے اور چلیں گے گھاٹی میں حج یاعمرہ کی لبیک کہتے ہوئے۔اور میری قبر پر آئیں گے تاکہ مجھے سلام کہیں اور میں ان کا جواب دوں گا۔ابو ہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کہتے ہیں:اے بھتیجے!اگر تم اسے(عیسیٰ علیہ السلام  کو) دیکھو تو کہو کہ ابو ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  تجھے د سلام کہتا ہے"

امام حاکم اور امام ذھبی  رحمۃ اللہ علیہ  دونوں نے اس حدیث کو صحیح کہا۔امام ابو زرعہ نے اسے اصح کہا (اعلل الحدیث 2747) مگر یہ سند ضعیف ہے ۔کیونکہ محمد بن اسحاق مدلس ہیں۔اور مدلس کی منعن روایت ضعیف ہوتی ہیں۔لیکن اس کا ایک قوی شاہد ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔۔۔لہذا مستدرک کی یہ روایت حسن لغیرہ ہے۔

4۔سعید المقبری عن ابی ہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔

امام ابو یعلی الموصلی نے کہا:

"حدثنا : أحمد بن عيسى ، حدثنا : إبن وهب ، عن أبي صخر قال : إن سعيداًً المقبري أخبره ، أنه سمع أبا هريرة يقول : سمعت رسول الله (صلي الله عليه وسلم) : يقول : والذي نفس أبي القاسم بيده لينزلن عيسى إبن مريم فذكر الحديث ، وفيه : وليصلحن ذات البين ، وليذهبن الشحناء ، وليعرضن عليه المال ، فلا يقبله ، ثم لئن قام على قبري ، فقال : يا محمد لأجيبنه."

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:" اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو القاسم کی جان ہے۔عیسیٰ بن مریم(علیہما السلام) ضرور امام مصنف اور حاکم عادل بن کر نازل ہوں گے۔پس آپ صلیب کو توڑ دیں گے۔اور خنزیر کو ہلاک کردیں گے۔ایک دوسرے سے ناراض باہم صلح کرلیں گے اور عداوت ختم ہوجائے گی اوراس پر مال  پیش کریں گے تو وہ  اسے قبول نہیں کرےگا۔پھر اگر وہ میری قبر پر کھڑا ہوا اور کہے:اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) تو میں ضرور اس کا جواب دوں گا"(مسند ابی یعلیٰ ج11 ص463 ح6584)

اس کی سند حسن ہے اور اس کے تمام راوی جمہور کے نزدیک ثقہ وصدوق ہیں۔اوپر محمد بن اسحاق کی روایت اس کا شاہد ہے۔

5۔حنظلہ بن علی الاسلمی عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔

آ پ صحیح مسلم وغیرہ کے راوی اور ثقہ ہیں(تقریب) آپ سے نزول مسیح کی حدیث اما زھری نے اور ان سے ایک جماعت مثلا ً سفیان بن عینیہ ،لیث،معمر،اوزاعی،یونس وغیرھم ہم نے یہ حدیث بیان کی ہے۔دیکھئے صحیح مسلم (1252) مسند احمد(250) تفسیر ابن جریر(204،:3) مسند علی بن جعد (2888)،مسند حمیدی ظاہریہ بتحقیقی 1011) الایمان لابن مندۃ (419) صحیح ابن حبان 6781،مصنف عبدالرزاق (20842) مصنف ابن ابی شیبہ(14415) وغیرھم

مسند حمیدی میں زھری کے سماع کی تصریح موجود ہے۔

صحیح مسلم میں سفیان بن عینیہ کی زھری سے روایت کا متن یہ ہے۔

"عن النبي صلى الله عليه وسلم قال والذي نفسي بيده ليهلن ابن مريم بفج الروحاء حاجا أو معتمرا أو ليثنينهما"

نبی  کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،بلاشبہ ابن مریم علیہ السلام  روحا کی گھاٹی میں حج یا عمرہ دونوں کی لبیک کہیں گے۔

(مسند احمد ج2ص290میں صحیح سند کے ساتھ درج الفاظ زیادہ ہیں)

"قال : وتلا أبو هريرة : ( وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته [ ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا ) فزعم حنظلة أن أبا هريرة قال : يؤمن به قبل موت عيسى ، فلا أدري هذا كله حديث النبي صلى الله عليه وسلم أو شيء قاله أبو هريرة . "

فرمایا:ابو ہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے آیت پڑھی:"اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر البتہ ضرور ایمان لائے گا ساتھ اس(عیسیٰ علیہ السلام ) کے،اس(عیسیٰ علیہ السلام ) کی موت سے پہلے اور یہ(عیسیٰ علیہ السلام ) قیامت کے دن ان پر گواہ ہوگا۔پس حنظلہ نے کہا:بے شک ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کہا:اس کی موت سے پہلے ایمان لائے گا،عیسیٰ علیہ السلام (یعنی عیسیٰ علیہ السلام  کی موت سے پہلے) پس مجھے معلوم نہیں کہ یہ سارا متن حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  میں ہے  یا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا کلام ہے۔

6۔عبدالرحمان بن آدم عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔

آپ صحیح مسلم وغیرہ کے راوی اور صدوق ہیں۔(تقریب)آپ نے قتادہ  رحمۃ اللہ علیہ  نے یہ حدیث بیان کی،مسند احمد میں آپ نے عبدالرحمان بن آدم سے سماع کی تصریح کررکھی ہے۔یہ حدیث درج ذیل کتابوں میں ہے:

مسند احمد (2:406) سنن ابی داود(4324) مصنف ابن ابی شیبہ(ط جدیدہ ج2 ص499ح37526) صحیح ابن حبان(6775) مسند ابی داود الطیالسی(2575) تفسیر ابن جریر)(نسخہ منقحہ ج3 ص291،ج4ص 22جز6) مستدرک الحاکم(2:595) وغیرہ۔

امام حاکم  رحمۃ اللہ علیہ  اور ذھبی رحمۃ اللہ علیہ  نے اسے صحیح کہاہے۔حدیث کامتن یہ ہے:

 "عن أبي هريرة ; أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : "الأنبياء إخوة لعلات أمهاتهم شتى ودينهم واحد ، وإني أولى الناس بعيسى ابن مريم ; لأنه لم يكن بيني وبينه نبي ، وإنه نازل ، فإذا رأيتموه فاعرفوه :رجل مربوع إلى الحمرة والبياض ، عليه ثوبان ممصران ، كأن رأسه يقطر وإن لم يصبه بلل ، فيدق الصليب ، ويقتل الخنزير ، ويضع الجزية ، ويدعو الناس إلى الإسلام ، ويهلك الله في زمانه الملل كلها إلا الإسلام ، [ ص: 458 ] ويهلك الله في زمانه المسيح الدجال ، ثم تقع الأمنة على الأرض ، حتى ترتع الأسود مع الإبل ، والنمار مع البقر ، والذئاب مع الغنم ، ويلعب الصبيان بالحيات لا تضرهم ، فيمكث أربعين سنة ، ثم يتوفى ويصلي عليه المسلمون " ."مسند احمد ج2 ص437،صحیح ابن حبان 6782 والزیادۃ عنہ"

"(تمام)انبیا علیہ السلام  علاقی بھائی ہیں۔دین ان کا ایک ہے اورمائیں(شریعتیں) ان کی جداجدا ہیں اور میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ عیسیٰ علیہ السلام  بن مریم  علیہ السلام  کے نزدیک ہوں کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی اور بے شک وہ نازل ہونے والا ہے،پس جب تم ان کو دیکھو تو پہچان لینا۔وہ ایک درمیانے قد کے سرخ وسفید رنگت والے آدمی ہیں۔ان کے بال سیدھے ہیں گویا اب ان سے  پانی ٹپکنے والا ہے۔حالانکہ وہ بھیگے ہوئے نہ ہوں گے اور وہ زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے(وہ اسلام پر لوگوں سے جنگ کریں گے) پس وہ صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کردیں گے اور جزیہ کو ختم کردیں گے۔اور ملتیں(مذاہب عالم)معطل ہوجائیں گی حتیٰ کہ اس کے زمانے میں اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا ساری ملتوں(مذاہب) کو ہلاک(ختم) کردے گا اور دجال اکبر،کذاب بھی اس کے زمانے میں ہلاک ہوجائے گا۔زمین میں امن واقع ہوجائے گا۔حتیٰ کہ اونٹ شیر کے ساتھ،چیتے اور گائیں،بھیڑیے اور بکریاں اکھٹا چریں گے۔اللہ جتنا چاہے گا،وہ (عیسیٰ علیہ السلام  بن مریم علیہ السلام ) رہیں گے پھر وہ وفات پاجائیں گے پس مسلمین(مسلمان) ان پر جنازہ پڑھیں گے اور انہیں دفن کردیں گے۔"(علیہ الصلاۃ والسلام)

 اس  حدیث پر مزید تحقیق میں نے اپنی کتاب"تخریج کتاب النھایۃ فی الفتن والملاحم" (ص141 ح333) میں تفصیل کے ساتھ ہے۔(یہ کتاب عربی میں ہے اور ابھی تک طبع نہیں ہوئی)

7۔عبدالرحمان بن ابی عمرۃ عن ابی ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔

آپ صحاب ستہ کے راوی ہیں۔ابن حبان نے آپ کی توثیق کی اورابن سعد نے کہا:کان ثقہ کثیر الحدیث(تہذیب التہذیب ج6 ص219،220) امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ  نے حسن سند کے ساتھ ان سے عبدالرحمان بن آدم کی حدیث کا ایک قطعہ روایت کیا ہے:(ج2 ص483)

"أنا أولى الناس بعيسى بن مريم فى الدنيا و الآخرة الأنبياء أخوة من علات أمهاتهم شتى و دينهم واحد"

"میں عیسیٰ بن مریم(علیہما السلام) کے ساتھ دنیا وآخرت میں سب لوگوں سے زیادہ قریب ہوں۔انبیاء علیہ السلام  علاقہ بھائی ہیں۔ان کی شریعتیں علیحدہ ہیں اور دین ایک ہے۔"

8۔ولید بن رباح عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔

آپ ابو داود  و غیرہ کے  راوی ہیں۔ابن حبان نے ثقات میں ذکرکیا۔ابوحاتم نے کہا:صالح اور بخاری نے کہا:حسن الحدیث(تہذیب التہذیب :ج11 ص117) ابن حجر نے کہا:صدوق(تقریب) اورحافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ  نے بھی کہا:صدوق(الکاشف ج3 ص209) ولید سے کثیر بن زید الاسلمی نے اور کثیر سے ابو احمد الزبیری نے اور ان سے احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ  نے یہ حدیث بیان کی۔کثیر بن زید کو متعدد نے اگرچہ ثقہ یا صدوق کہا مگر جمہور کےنزدیک وہ ضعیف ہے۔اور ہم اس کی روایت بطور شاہد ذکر کررہے ہیں۔ایسے راوی کی  روایت صحیح یاحسن حدیث کے شواہد میں بالاتفاق پیش کی جاسکتی ہے۔حدیث کامتن درج ذیل ہے:

"يوشك المسيح عيسى ابن مريم أن ينزل حكما قسطا وإماما عدلا فيقتل الخنزير "(مسند احمد ج2ص 394)

"قریب ہے کہ مسیح عیسیٰ ابن مریم(علیہما السلام) حاکم منصف اور امام عادل کی حیثیت سے نازل ہوجائیں۔پس آپ خنزیر کو قتل کردیں گے اور صلیب کو  توڑ دیں گے۔۔۔الخ"

9۔محمد بن سیرین عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔

آپ صحاح ستہ کے مرکزی راوی اور "ثقہ ثبت عابد کبیر القدر" ہیں(تقریب) آپ روایت بالمعنی کے قائل نہیں تھے۔یہ موقف آپ کی کمال احتیاط کا ثبوت ہے،ورنہ صحیح یہ ہے کہ روایت بالمعنی بھی جائز ہے۔(کما ھو المبسوط فی کتب الاصول وغیرھا)

آپ سے درج ذیل اشخاص نے یہ حدیث بیان کی:

الف۔سلیمان بن ابی سلیمان(الکامل لابن عدی ج3 ص1111)

ب۔ابن عون(المعجم الصغیر للطبرانی :ج 1ص34،المعجم الاوسط ج2 ص183ح1331)

ج۔ہشام بن حسان(مسند احمد:ج2 ص 411 واسنادہ صحیح علی شرط الشیخین)

ہشام کی  روایت کا متن:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُوشِكُ مَنْ عَاشَ مِنْكُمْ أَنْ يَلْقَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ إِمَامًا مَهْدِيًّا ، وَحَكَمًا عَدْلًا ، فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ ، وَتَضَعُ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا " .

"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:قریب ہے کہ تم میں سے جو زندہ رہے عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) سے اس حال میں ملاقات کرے کہ وہ امام مہدی اور حاکم عادل ہوں۔پس آپ صلیب توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کردیں گے۔جزیہ موقوف کردیں گے اور جنگ بند ہوجائے گی۔"

10۔زیاد بن سعد عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔

آپ کو ابن حبان نے کتاب الثقات میں ذکر کیا(ج4 ص255) بخاری(التاریخ الکبیر ج3 ص35) اور ابن ابی حاتم(الجرح والتعدیل ج3 س533) نے اسے ذکر کیا اور جرح یا تعدیل کچھ بھی نہ لائے۔حافظ ابن کثیر نے اس کی درج ذیل حدیث کے بارے میں کہا:تفروبہ احمد واسنادہ جید قوی صالح"(النھایۃ فی الفتن والملاحم ج1 ص18)زیاد کی روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں:

"ينزل عيسى ابن مريم إماما عادلا وحكما مقسطا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويرجع السلم ويتخذ السيوف مناجل وتذهب حمة كل ذات حمة وتنزل السماء رزقها وتخرج الأرض بركتها حتى يلعب الصبي بالثعبان فلا يضره ويراعي الغنم الذئب فلا يضرها ويراعي الأسد البقر فلا يضرها"

"مسند احمد ج2 ص48،483،واللفظ لہ،التاریخ الکبیر للبخاری ج3 ص357)عیسیٰ بن مریم(علیہما السلام) امام عادل اور حاکم منصف کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔آپ صلیب کوتوڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کردیں گے سلامتی کا دور دورہ ہوگا اور تلواروں کی درانتیاں بنا لی جائیں گی اور ہر خواہش کرنے والے کی خواہش ختم ہوجائے گی اور آسمان اپنا رزق اتارے گا اورزمین اپنی برکتیں نکال دے گی حتیٰ کہ چھوٹا بچہ اژدھا کے ساتھ کھیلے گا وہ اسے نقصان نہ پہنچائے گا اور بھیڑیں بھیڑیئے کے ساتھ اکھٹی چریں گی اور وہ انھیں نقصان نہ پہنچائے گا اور شیر گائے کے ساتھ چرے گا اور وہ اسے نقصان نہ پہنچائے گا۔"

11۔کلیب بن شہاب عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔

آپ سنن اربعہ کے راوی اور صدوق ہیں (تقریب) امام ابو بکر البزار نے کہا:

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ يَقُولُ : " يَخْرُجُ الأَعْوَرُ الدَّجَّالُ مَسِيحُ الضَّلالَةِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ فِي زَمَنِ اخْتِلافٍ مِنَ النَّاسِ ، وَفُرْقَةٍ ، فَيَبْلُغُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْلُغَ مِنَ الأَرْضِ فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، اللَّهُ أَعْلَمُ مَا مِقْدَارُهَا ؟ فَيَلْقَى الْمُؤْمِنُونَ ، شِدَّةً شَدِيدَةً ، ثُمَّ يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ السَّمَاءِ ، فَيَقُومُ النَّاسُ ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ ، مِنْ رَكْعَتِهِ ، قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، قَتَلَ اللَّهُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ ، وَظَهَرَ الْمُؤْمِنُونَ ، فَأَحْلِفُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا الْقَاسِمِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّهُ الْحَقُّ ، وَأَمَّا أَنَّهُ قَرِيبٌ ، فَكُلُّ مَا هُوَ آتٍ قَرِيبٌ " . (کشف الاستار عن زوائد البزار ج4 س142،143)

"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:لوگوں کے اختلاف اور  فرقے کے وقت مشرق سے مسیح ضلالت ،کانا دجال نکلے گا۔ چالیس دنوں میں وہ زمین میں وہاں تک پہنچے گا جہاں اللہ چاہے گا،اللہ یہ جانتاہے۔ اس کی مقدار کیا ہے ؟مومنوں کو بڑی مصیبت پہنچے گی۔پھر عیسیٰ بن مریم  صلی اللہ علیہ وسلم  آسمان سے نازل ہوں گے۔پس لوگ(نماز کے لئے) کھڑے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ"مسیح دجال" کو قتل کرے گا۔اور مومنوں کو فتح نصیب ہوگی۔ابو ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے قسم اٹھا کر کہا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: بے شک وہ حق ہے اور اگرچہ وہ قریب ہے کیونکہ ہر چیز جو آنے والی ہے وہ قریب ہے۔"

صحیح ابن حبان(6773) باختلاف یسیر وقال الہثیمی فی مجمع الزوائد:"رواہ البزار ورجالہ رجال الصحیح غیر علی بن المنذر وھو ثقہ"(ج7 ص349 اس کی سند صحیح ہے۔

12۔رجل من بنی حنفیہ:۔

یہ رجل نا معلوم ہے اور  ا س کاشاگرد عمران بن ظبیان ضعیف ہے۔لہذا اس کے متن کو یہاں درج کرنا(میرے نزدیک) مناسب نہیں ہے۔یہ روایت مسند الحمیدی (نسخہ ظاہریہ ح1103) میں ہے۔

13۔ابو صالح ذکوان عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔

آپ صحاح ستہ کے راوی اور ثقہ ثبت تھے(تقریب)۔۔۔امام طبرانی نے کہا:

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ , قَالَ : نا الْهَيْثَمُ بْنُ مَرْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ , قَالَ : نا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ سُمَيْعٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَنْزِلَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فِي الأَرْضِ حَكَمًا عَدْلا ، وَقَاضِيًا مُقْسِطًا ، فَيَكْسَرَ الصَّلِيبَ ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ وَالْقِرْدَ ، وَتُوضَعُ الْجِزْيَةُ ، وَتَكُونُ السَّجْدَةُ كُلُّهَا وَاحِدَةً لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " . (المعجم الاوسط :ج2 ص203،204،ح 1364)

"رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے  فرمایا:اس وقت تک قیامت نہیں ہوگی جب تک عیسیٰ بن مریم علیہ السلام  زمین میں حاکم عادل اور قاضی منصف بن کر نازل نہ ہوجائیں۔پس آپ صلیب توڑ دیں گے اور خنزیر اور بندر قتل کردیں گے اور تمام سجدے وعبادتیں صرف ایک اللہ رب العالمین کے لئے ہوں گے۔"

اس کی سند حسن ہے۔اس کا ایک قوی شاہد صحیح مسلم(1897) میں سہیل عن ابی صالح عن ابی ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی سند سے ہے جس کا متن آئندہ صفحہ پر آرہا ہے۔

14۔یزید بن الاصم عن ابی ھریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔

آپ صحیح مسلم وغیرہ کےراوی ہیں اور ثقہ ہیں۔(تقریب) آپ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے سن کر بیان کرتے ہیں کہ ابو ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فرمایا:

" تروني شيخاً كبيراً قد كادت ترقوتاي تلتقي من الكبر، والله إني لأرجو أن أدرك عيسي واحدثه عن رسول الله صلي الله عليه وسلم فيصدقىني"

(مصنف عبدالرزاق 20846 وعنہ ابی مندہ فی کتاب الایمان 417) اس کی سندحسن ہے۔

"آپ مجھے ایسا عمر رسیدہ سمجھتے ہیں جس کی ہنسلی کی ہڈیاں بڑھاپے کی وجہ سے مل رہی ہوں؟ اللہ کی قسم میری یہ تمنا ہے کہ میں عیسیٰ علیہ السلام  کو پاؤں اوراسے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی احادیث سناؤں تو وہ میری تصدیق کرے۔"

صحیح مسلم میں سہیل بن صالح عن ابیہ عن ابی ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی سند سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا،" اس وقت تک قیامت قائم نہ ہوگی حتیٰ کہ اہل روم اعماق  پر اترآئیں گے۔پس وہ جب شام کو آئیں گے دجال نکلے گا۔۔۔پھر وہ(مسلمان ) جنگ کی تیاری کررہے ہوں گے،صفوں کو برابر کررہے ہوں گے۔

" إذ أقيمت الصَّلَاةُ فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَأَمَّهُمْ فَإِذَا رَآهُ عَدُوُّ اللَّهِ ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ" فَلَوْ تَرَكَهُ لَانْذَابَ حَتَّى يَهْلِكَ ، وَلَكِنْ يَقْتُلُهُ اللهُ بِيَدِهِ ، فَيُرِيهِمْ دَمَهُ فِي حربته"(صحیح مسلم :ج4 ص2221 واللفظ لی صحیح ابن حبان 6774،المستدرک ج4 ص482والحاکم ووافقہ الذھبی)

"جب نماز کے لئے تکبیر اقامت کہی جاچکی ہوگی تو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام  نازل ہوجائیں گے اور مسلمانوں کی امامت(اس نماز کے بعددوسرے مواقع پرکریں گے اور اللہ کا دشمن انہیں دیکھتے ہی اس طرح گھلنے لگے گا جس طرح نمک پانی میں گھلتا ہے اگر وہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں تو وہ آپ ہی گھل کر ہلاک ہوجائے مگر اے اللہ ان کے ہاتھوں قتل کرائے گا اور وہ اپنے نیزے میں اس(دجال) کا خون مسلمانوں کو دکھائیں گے۔"

15۔الاعرج عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔

عبدالرحمان بن ھرمز الاعرج صحاح ستہ کے راوی اور "ثقہ ثبت عالم" تھے(تقریب)،حافظ ابن عدی نے حسن سند کے ساتھ عن ابی الزناد عن الاعرج عن ابی ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نقل کیا کہ:

"ان رسول الله قال:ينزل عيسي بن مريم فيمكث  في الناس اربعين سنة قيل يا ابي هريرة سنة كسنة فقال :هكذا قيل"

"بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:عیسیٰ بن مریم علیہ السلام  نازل ہوں گے  پس لوگوں میں چالیس سال رہیں گے،کہا گیا اے ابوہریرہ!(ہمارے) سال سال کی طرح،فرمایا:اسی طرح کہا گیا"(الکامل ج7 ص2634)

یہ حدیث امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ  نے"اربعین سنۃ" تک اپنی کتاب الاوسط میں بیان کی ہے۔حافظ ہثیمی  رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا:رواہ طبرانی فی الاوسط ورجالہ ثقات"(مجمع الزوائد ج8 ص205) یعنی اس کے راوی ثقہ ہیں۔ایک اور روایت میں ہے:

"وعن أبي هريرة رضي الله عنه؛ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا ينزل الدجال المدينة، ولكنه بين الخندق، وعلى كل نقب منها ملائكة يحرسونها، فأول من يتبعه النساء، فيؤذونه، فيرجع غضبان حتى ينزل الخندق، فعند ذلك ينزل عيسى ابن مريم "

"دجال مدینہ میں نہیں اترے گا۔لیکن خندق تک آئے گا،مدینہ کے راستوں پر فرشتے مدینہ کی حفاظت کررے ہوں گے ۔سب سے پہلے اس کا پیچھاعورتیں کریں گی پس وہ اسے تکلیف دیں گی تو وہ غضبناک ہوجائے گاحتیٰ  کہ وہ خندق میں اتر جائےگا،پس اس وقت عیسیٰ  علیہ السلام  بن مریم علیہ السلام  نازل ہوں گے۔"(الاوسط للطبرانی)

یہ روایت حسن سند کے ساتھ مختصراً"ينزل الدجال المدينة" تک الکامل لابن عدی (ج7 ص2634) پر بھی موجود ہے۔

حافظ ہشیمی رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا:

"رواه الطبراني في "الأوسط". قال الهيثمي: "ورجاله رجال الصحيح غير عقبة بن مكرم الضبي، وهو ثقة"."(مجمع الزوائد ج7 ص349)

2۔جابر بن عبداللہ الانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔

مشہور جلیل القدر صحابی ہیں۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا:"الامام ابوعبداللہ الانصاری الفقیہ مفتی المدینہ فی زمانہ"(تذکرۃ الحفاظ ج1 ص43) اور آپ کی عدالت پر پوری امت کا اجماع ہے۔(الصحابۃ کلہم عدول)۔۔۔جابر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الأَزْرَقُ ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ , صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ : " فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ , عَلَيْهِ السَّلامِ ، فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ : تَعَالَ صَلِّ لَنَا ، فَيَقُولُ : لا , إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ لِتَكْرِمَةِ اللَّهِ , تَعَالَى , هَذِهِ الأُمَّةَ"

"میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ قیامت تک حق پر قتال کرتا رہے گا۔پس عیسیٰ علیہ السلام  بن مریم علیہ السلام  نازل ہوجائیں گے پس مسلمانوں کا امیر ا ن سے کہے گا:آئیے ہمیں نماز پڑھائیں،پس وہ کہیں گے:نہیں،تم ایک دوسرے کے امیر ہو۔اللہ نے اس امت کو یہ بزرگی بخشی ہے۔"

(صحیح مسلم ج1 ص 137 واللفظ لہ،صحیح ابن عوانہ ج2 ص106،صحیح ابن حبان 6780،مسند احمد ج3 ص345،التاریخ الکبیر للبخاری ج5 ص451 ،السنن الکبریٰ بیہقی :ج9 ص180 وغیرھم)

اس سند میں ابو الزبیر محمد بن مسلم بن تدریس صدوق تھے مگر تدلیس کرتے تھے(تقریب) صحیح مسلم وغیرہ میں انہوں نے سماع کی تصریح کررکھی ہے لہذا تدلیس کا اعتراض مردود ہے۔باقی سند صحیحین کی شرط پر صحیح ہے۔ایک دوسری  روایت میں ہے کہ:

"لوگ(ملک) شام میں دھویں کے پہاڑ کی طرح بھاگ جائیں گے۔پس وہ(دجال) ان(مسلمانوں) کا سخت محاصرہ کرے گا اور ان پر سخت کوشش کرے گا۔"

ثُمَّ يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَيُنَادِي مِنَ السَّحَرِ ، فَيَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَخْرُجُوا إِلَى الْكَذَّابِ الْخَبِيثِ ؟ ، فَيَقُولُونَ : هَذَا رَجُلٌ جِنِّيٌّ ، فَيَنْطَلِقُونَ ، فَإِذَا هُمْ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ، فَتُقَامُ الصَّلَاةُ ، فَيُقَالُ لَهُ : تَقَدَّمْ يَا رُوحَ اللَّهِ ، فَيَقُولُ : لِيَتَقَدَّمْ إِمَامُكُمْ فَلْيُصَلِّ بِكُمْ ، فَإِذَا صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ ، خَرَجُوا إِلَيْهِ "

(مسند احمد ج3 س368)

"پھر عیسیٰ علیہ السلام  نازل ہوں گے ۔پس سحری کے وقت سے آواز دیں گے:اے لوگو!۔۔۔پس جب صبح کی نماز پڑھ لیں گے تو اس(دجال) کی طرف نکلیں گے۔"

حافظ ہشیمی نے کہا: رواہ احمد باسنادین،رجال احمد ھمار رجال الصحیح(مجمع الزوائد ج7 س344)

3۔النواس بن سمعان  رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔

حافظ ابن عسقلانی فرماتے ہیں: صحابی مشہور سکن الشام(تقریب)

جناب نواس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،دجال کے بارے میں یہ طویل حدیث ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے بیان کرتے ہیں کہ:

"إِذْ بَعَثَ اللَّهُ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَانٌ كَاللُّؤْلُؤِ فَلَا يَحِلُّ لِكَافِرٍ يَجِدُ رِيحَ نَفَسِهِ إِلَّا مَاتَ وَنَفَسُهُ يَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي طَرْفُهُ فَيَطْلُبُهُ [أي يبحث عن الدجال] حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يَأْتِي عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ قَوْمٌ قَدْ عَصَمَهُمْ اللَّهُ مِنْهُ فَيَمْسَحُ عَنْ وُجُوهِهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى عِيسَى إِنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا لِي لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ فَحَرِّزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ فَيَمُرُّ أَوَائِلُهُمْ عَلَى بُحَيْرَةِ طَبَرِيَّةَ فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهَا وَيَمُرُّ آخِرُهُمْ فَيَقُولُونَ لَقَدْ كَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَاءٌ ، وَيُحْصَرُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ"

"(دجال اسی حالت میں ہوگا) ناگاہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام  بن مریم علیہ السلام  کو بھیجے  گا،وہ شہر دمشق کی مشرق کی طرف زردرنگ کی دو چادریں پہنے اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے سفید منارہ کے پاس اُتریں گے۔جب عیسیٰ علیہ السلام  سرجھکائیں تو پسینہ ٹپکے گا اورجب سر اٹھائیں گے تو موتیوں کی طرح قطرے ٹپکیں گے۔جس کافر کو ان کے سانس کی خوشبو پہنچے گی۔اسے زندہ رہنا ممکن نہ ہوگا،فورا مرجائے گا اور ان کی خوشبو وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نظر  جائے گی پھر وہ دجال کو تلاش کریں گے اور بابِ لُد پر پاکر اسے قتل کردیں گے پھر وہ ان لوگوں کے پاس آئیں گے۔۔۔عیسیٰ علیہ السلام  اور ان کے ساتھی"(صحیح مسلم ج4 ص250۔255 ح2937)

وعنہ البغوی فی الشرح السنۃ ج15 ص54،مسند  احمد 4ص181،سنن ابی داود 4321،سنن ابن ماجہ 4075،عمل الیوم والیلۃ للنسائی 947،صحیح ابن حبان 6776،جامع ترمذی 2240،فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ هبط الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ بشَرْقِىَّ دِمَشْقَ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ.................

":وقال"ھذا حدیث حسن صحیح غریب"المستدرک ج4 ص492 و صحہ الحاکم ووافقہ الذھبی وقال الغوی فی شرح السنہ""ھذا حدیث صحیح"۔فضائل القرآن للنسائی 49 کمافی  تحفۃ الاشراف (ج9ص6) اس کے تمام راوی ثقہ ہیں اور سند بالکل صحیح ہے۔

4۔اوس بن اوس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔

آپ صحابی ہیں،دیکھئے:اسد الغابہ (1/139) اصابۃ(1:79)وغیرھما

امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ  نے اوس بن اوس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے نقل کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"ينزل عيسى عليه الصلاة والسلام "عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِىَّ دِمَشْقَ"

(المعجم الکبیر للطبرانی ج1س217 ح590)

"عیسیٰ علیہ السلام  بن مریم علیہ السلام  دمشق کے مشرق میں سفید منارہ کے پاس نازل ہوں گے۔"

حافظ نور الدین الہشیمی نے کہا:

"رواه الطبراني ورجاله ثقات......"(مجمع الزوائد ج8 ص205)

اسے طبرانی  رحمۃ اللہ علیہ  نے روایت کیا اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔

5۔عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔

آپ انتہائی جلیل القدر صحابی ہیں۔حافظ ابن حجر  رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا:

"أحد السابقين المكثرين من الصحابة ، وأحد العبادلة الفقهاء"

(تقریب) حافظ ذہبی نے کہا:

"العالم الرباني أبو عبد الرحمن الانصاري الخزرجي شهد العقبة ..... يفضله على والده وقد كان من ايام النبي صلى الله عليه وآله صواما قواما تاليا لكتاب الله طلابة للعلم،"

(تذکرۃ الحفاظ ج1 ص41،42) آ پ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے جو احادیث سنی تھیں۔ان کا ایک مجموعہ(الصحیفہ الصادقہ) تیار کیاتھا۔یہ صحیفہ ان سے ان کے پوتے شعیب اور اس سےعمرو بن شعیب بیان کرتے ہیں۔آپ سے تقریباً سات سو(700) احادیث مروی ہیں۔آپ  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي ، فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا ، أَوْ أَرْبَعِينَ عَامًا ، فَيَبْعَثُ اللَّهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ، كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِكُهُ ، ثُمَّ يَمْكُثُ النَّاسُ سَبْعَ سِنِينَ لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ "

"یعنی:دجال میری امت میں سے نکلے گا اور چالیس سال تک رہے گا۔(راوی کہتے ہیں ) میں نہیں جانتاکہ چالیس دن فرمایا،یا چالیس مہینے یا چالیس سال پھر اللہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام  کو بھیجے گا گویا وہ عروہ بن مسعود ہیں۔وہ دجال کو تلاش کرکے اسے ہلاک کردیں گے۔پھر سات سال تک لوگ اس طرح رہیں گے کہ د و شخصوں کے درمیان کوئی دشمنی نہیں ہوگی۔"

صحیح مسلم :ج4 ص2258،2259،النسائی فی کتاب التفسیر من السنن الکبریٰ کما فی تحفۃ الاشراف:ج6 ص391،مسند احمد ج2 ص166،صحیح ابن حبان:7309،مستدرک ج4 ص 543،550وصحہ الحاکم ووافقہ الذھبی۔۔۔اس کی سند بالکل صحیح ہے۔

6۔ابو سریحہ حذیفہ بن اُسید الغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا:صحابي من اصحاب الشجرة(تقریب) یعنی آپ صحابی ہیں اوربیعت رضوان میں شامل تھے۔آپ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"إِنَّهَا لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْنَ قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ ، فَذَكَرَ الدُّخَانَ ، وَالدَّجَّالَ ، وَالدَّابَّةَ ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَنُزُولَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيَأَجُوجَ وَمَأْجُوجَ ، وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، وَآخِرُ ذَلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ الْيَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَى مَحْشَرِهِمْ"

"جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہوجائیں گی،قیامت نہ ہوگی۔یہ ارشاد فرماکر آپ نے فرمایا:1۔دھواں۔2۔دجال۔3۔دابۃ الارض۔4۔سورج کا مغرب سے طلوع ہونا 5۔عیسیٰ علیہ السلام  بن مریم علیہ السلام  کا نازل ہونا۔6۔یا جوج وما جوج کا نکلنا۔7۔تین جگہ زمین کادھنس جانا،ایک مشر ق میں۔8۔ایک مغرب میں۔9۔اور ایک جزیرۃ عرب میں ۔10۔اور سب سے اخیر میں اس آگ کاذکر کیا جو یمن سے برآمد ہوگی اور لوگوں کو ہنکا کر اس کے محشر کی طرف لے جائے گی۔"

صحیح مسلم :ج4 س2225۔2227واللفظ لہ۔مسند احمد ج4 ص6،7،مصنف ابن ابی شیبہ ج 15 ص130،163 وعنہ ابن ماجۃ :4041۔وکذا ابوداود 4311،سنن ترمذی:2183،السنن الکبریٰ للنسائی کما فی تحفۃ الاشراف ج203،مسند الحمیدی نسخہ ظاہریہ :729،مسند ابی داود الطیالسی :1067،صحیح ابن حبان :2804،مشکل لآثار للطحاوی :ج1 ص418 وغیرھم

امام ترمذی نے کہا:"وھذا حدیث حسن صحیح"

7۔ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  :۔

آپ دنیا وآخرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی زوجہ حیات،امیر المومنین ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی صاحبزادی اور انتہائی جلیل القدر مومنہ صحابیہ  فقیہہ ہیں۔آپ کی روشن سیرت اور مناقب پرایک ضخیم کتاب بھی ناکافی ہے۔آپ،رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے بیان کرتی ہیں کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"إِنْ يَخْرُجْ الدَّجَّالُ وَأَنَا حَيٌّ كَفَيْتُكُمُوهُ ، وَإِنْ يَخْرُجْ الدَّجَّالُ بَعْدِي فَإِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، وَإِنَّهُ يَخْرُجُ فِي يَهُودِيَّةِ أَصْبَهَانَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ فَيَنْزِلَ نَاحِيَتَهَا وَلَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكَانِ ، فَيَخْرُجَ إِلَيْهِ شِرَارُ أَهْلِهَا حَتَّى يَأْتِيَ فِلَسْطِينَ بَابَ لُدٍّ ، فَيَنْزِلَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَيَقْتُلَهُ ، ثُمَّ يَمْكُثَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً إِمَامًا عَدْلًا وَحَكَمًا مُقْسِطًا "

"اگر دجال نکلے اور میں زندہ ہو ں تو میں تمھاری لیے کافی ہوں حتیٰ کہ وہ شام فلسطین کے ایک شہر لُد کے دروازے کے پاس آئے گا۔ پھر عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے پس وہ اسے قتل کردیں گے۔اس کے بعد وہ زمین میں چالیس سال تک امام عادل اورحاکم منصف کی حیثیت سےرہیں گے۔"(مسند احمد:ج6 ص75،مصنف ابن ابی شیبہ ج15 ص134،صحیح ابن حبان)

اس کی سند حسن ہے کما حقتہ فی  تخریج النھایۃ فی الفتن والملاحم(مخلوط)ص121ص266۔حافظ ہشیمی نے کہا:رواہ احمد  رجالہ رجال الصحیح غیر الحضرمی بن لاحق وھوثقہ"(مجمع الزوائد ج2 ص338)

8۔عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔

آپ مشہور فقیہ اوربدری صحابی ہیں۔حافظ ذہبی نے کہا:

ابن مسعود الإمام الرباني رضي الله عنه أبو عبد الرحمن عبد الله بن أم عبد الهذلي: صاحب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وخادمه وأحد السابقين الأولين ومن كبار البدريين ومن نبلاء الفقهاء والمقرئين، كان ممن يتحرى في الأداء ويشدد في الرواية ويزجر تلامذته عن التهاون في ضبط الألفاظ.

(تذکرۃ الحفاظ:ج1 ص13،14)

"آپ امام ربانی،صحابی رسول اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے خادم تھے۔آپ سابقین اولین اوربڑے بدری صحابہ میں سے تھے۔آپ شریف فقہاء اورقاریوں میں سے تھے۔اورروایت حدیث میں سختی برتتے تھے اور اپنے شاگردوں کو الفاظ کے یاد کرنے میں لاپروائی پر سخت جھڑکتے تھے۔"

آپ مزید فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کو جب معراج ہوئی تو آپ نے ابراہیم،موسیٰ اور عیسیٰ علیہ السلام  سے ملاقات کی اورباہم قیادت کا تذکرہ ہوا۔سب نے ابراہیم علیہ السلام  سے قیامت کے بارے میں سوال کیا۔لیکن انھیں کچھ معلوم نہ تھا۔پھر موسیٰ علیہ السلام  سے سوال کیا  تو انہیں بھی کوئی علم نہ تھا۔تو پھر سب نے عیسیٰ علیہ السلام  سے سوال کیا توانہوں نے فرمایا:

"قد عهد الي فيما دون وجيتها فاما وجيتها  فلايعلمها الا الله فذكر خروج الدجال قال:فانزل فاقتله فيرجع الناس ا لي بلادهم......الخ"

"میرے ساتھ  قیامت سے قبل(نزول کا) وعدہ کیا گیا ہے لیکن اس کا وقت اللہ کو ہی معلو م ہے،عیسیٰ علیہ السلام  نے دجال کے ظہور کا ذکر کیا اور فرمایا:میں نازل ہوکر اسے قتل کروں گا۔پس لوگ اپنے شہروں کو لوٹیں گے۔۔۔الخ"

سنن ابن ماجہ:4081،واللفظ لہ،وقال الیوصیری:ھذا اسناد صحیح رجالہ ثقات،مسند احمد ج1ص375،مصنف ابن ابی شیبہ:ج15 ص158،تفسیر ابن جریر نسخہ جدیدہ:ج9ص27،ج28ص16،مستدرک :ج2ص384۔

اور امام حاکم نے کہا:"هذا حديث صحيح الاسناد ولم يخرجاه"اورحافظ ذہبی نےکہا:"صحیح"یہ سند حسن ہے۔اس کے  راوی موثر بن غفازہ کو ابن حبان نے کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے(146315)اور امام العجلی نے کہا:"من ا صحاب عبداللہ ثقہ"(تاریخ الثقات :1649)حاکم،ذھبی اور بوصیری نے تصیح کے ساتھ اس کی توثیق کی۔یاد رہے کہ امام عجلی متساہل نہیں ہیں بلکہ اعلیٰ درجہ کے ثقہ،معتدل اور اسماء الرجال کے ماہرامام ہیں رحمہ اللہ۔

9۔مجمع بن جاریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔

آ پ صحابی ہیں(تقریب) آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

يَقْتُلُ ابْنُ مَرْيَمَ الدَّجَّالَ بِبَابِ لُدٍّ

"ابن مریم(علیہ السلام) دجال کو لُد کے دروازے کے پاس قتل کر ے  گا۔"

(سنن ترمذی2244وعنہ ابن الاثیر فی اسد الغابہ :ج4ص 291،وکذا مسند احمد ج3 ص420،ج4ص226،390،مصنف عبدالرزاق:20835 وعنہ احمد والطبرانی فی الکبیر ج19 ص443وکذا مسند الحمیدی نسخہ ظاھریہ:83وعنہ الطبرانی:ج19ص444وکذا مصنف ابن ابی شیبہ نسخہ جدیدہ:ج7 ص500 ح37534،صحیح ابن حبان:6772،واللفظ لہ،العجم الکبیر

للطبرانی:ج19ص443۔445۔الموتلف والمختلف للدارقطنی:ج

1 ص438،439،شرح السنہ للبغوی :ج15ص64،من طرق عن الذھری عن ابن ثعلبہ عن ابن جاریہ عن مجمع بہ)

امام ترمذی نے کہا:ھذا حدیث صحیح،اوربغوی نے ان کی موافقت کی ہے ۔یہ سند حسن ہے۔امام حاکم نے اس سند کے سا تھ ایک حدیث روایت کی ہے(مستدرک ج1ص193) اور اسے صحیحین کی شرط پر صحیح کہا۔حافظ ذھبی رحمۃ اللہ علیہ  نے ان کی موافقت کی ہے۔

زھری نے سماع کی  تصریح کررکھی ہے اور اس کے تمام  راوی جمہور کےنزدیک ثقہ وصدوق ہیں۔

10۔عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔

آپ صحابی ہیں۔حافظ ابن حجر نے کہا:"صحابی،بالیع تحت الشجرہ"(تقریب) آپ بیعت رضوان میں شامل تھے۔آپ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نےفرمایا:

"ثم ينزل عيسي ابن  مريم مصدقا بمحمد صلي الله عليه وسلم علي ملته اماما مهديا وحكم عدلا  فيقتل الدجال...."

(الطبرانی فی الکبیر والاوسط)

"پھر عیسیٰ بن مریم،محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تصدیق کر تے ہوئے  آپ کی ملت پر،امام مہدی اور حاکم عادل کی حیثیت سےنازل ہوں گے۔پھر وہ دجال کو قتل کردیں  گے۔"

حافظ ہشیمی نے کہا:

"رواہ الطبرانی فی الکبیر والاوسط ورجاله ثقات وفي بعضهم ضعف لايضر"

(مجمع الزوائد:ج7 ص336) یعنی اسے طبرانی نے المعجم الکبیر اور المعجم الاوسط میں  روایت کیا ہے اور  اس کے راوی ثقہ ہیں اوربعض میں ضعف ہے جومضر نہیں ہے۔

یاد رہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی امام مہدی ہیں۔مگر امت مسلمہ کے امام مہدی دوسرے شخص ہیں جیسا کہ متواتر احادیث سے ثابت ہے۔مثلادیکھیے یہ مضمون ص31۔

یہ تو تھیں چند صحیح یا حسن روایات،ان کے علاوہ بھی متعدد صحابہ سے نزول مسیح کی روایت آئی ہیں۔مثلاً

1۔واثلہ بن الاسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ (اخرجہ الحاکم فی المستدرک ج4 ص428وصحہ ووافقہ الذھبی وضعفہ الہشیمی فی الجمع :ج7 ص328)

ب۔حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (حلیہ الاولیاء:ج6 ص108،سنن ابن ماجہ:4077،سنن ابی داود :4322مختصرا جدا)

ج۔عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ (مسند احمد:ج4 ص216،مصنف ابن ابی شیبہ:ج15ص136،137،مستدرک :ج 4ص478)

د۔ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ (سنن نسائی:ج6ص42،مسند احمد:ج5ص278 التاریخ الکبیر:ج6ص73،السنن الکبریٰ للبیہقی:ج9ص176،الکامل لابن عدی:ج2ص583 وغیرھم)مختصر یہ کہ نزول مسیح کی احادیث متواتر ہیں۔لہذا ان سے قطعی،حتمی اوریقینی علم حاصل ہوتا ہے۔

(آثار صحابہ ومن بعدھم)

بے شمار صحابہ سے  رفع اور نزول مسیح کا عقیدہ ثابت ہے۔مثلاً

الف۔ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (مصنف عبدالرزاق:20846،مصنف ابن ابی شیبہ،ج15ص145،157)

ب۔عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (مصنف ابن ابی شیبہ:ج15ص143،144،الفتن لنعیم:1497)

ج۔عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ (مصنف ابن ابی شیبہ:ج15 ص144،الفتن لنعیم:1538) وغیرھم اور یہی عقیدہ  تابعین ومن بعد ہم سے بھی ثابت ہے۔مثلاً:

الف۔طاووس(مصنف عبدالرزاق:20843)

ب۔محمد بن سیرین(مصنف ابن ابی شیبہ:ج15ص198)

ج۔ابراہیم(نخعی)(مصنف ابن ابی شیبہ:ج15ص148)وغیرھم ،رحمہم اللہ اجمعین،صحابہ،تابعین،تبع  تابعین،محدثین،فقہاء اور علمائے امت میں کسی سے بھی نزول مسیح کے عقیدہ کی مخالفت صراحتہ یا کفایۃ قطعا ثابت نہیں ہے۔لہذا یہ ثابت ہوا کہ اس عقیدہ کے صحیح ہونے  پر امت کا حقیقی اجماع ہے۔

خلاصہ:۔

اس مضمون میں جو آیات ،احادیث،اور آثار ذکر کئے گئے ہیں ،ان کا خلاصہ یہ ہے:

1۔عیسیٰ علیہ السلام  قتل نہیں کیے گئے بلکہ انہیں آسمان پر اٹھالیا۔

2۔عیسیٰ علیہ السلام  کی موت سے پہلے تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے ۔یعنی ابھی تک ان پر موت نہیں آئی۔

3۔عیسیٰ علیہ السلام  کا نزول قیامت کی نشانی ہے۔

4۔عیسیٰ  علیہ السلام  نازل ہوں گے۔

5۔آپ کا نزول آسمان سے ہوگا۔

6۔آپ  حاکم عادل ہوں گے۔

7۔آپ صلیب کو توڑ دیں گے۔

8۔خنزیر کو ہلاک کردیں گے۔

9۔مال کو بہاریں گے حتیٰ کہ کوئی بھی اسے قبول نہ کرے گا۔

10۔جنگ،خراج اور جزیہ کو ختم کردیں گے۔

11۔آپ کے دور میں عداوت،بغض اورحسد ختم ہوجائیں گے۔

12۔جو ان اونٹوں کی پرواہ نہیں کی جائے  گی۔

13۔آپ حج یا عمرہ یا دونوں کریں گے اور روحاء کی گھاٹی سے گزریں گے۔

14۔آپ کا قد د رمیانہ اور رنگ سرخ وسفید ہے اور بال سیدھے ہیں۔

15۔آپ دمشق کے مشرق کی طرف سفید منارہ  پر دو فرشتوں کے  پروں پر ود زرد کپڑے پہنے ہوئے نازل ہوں گے۔

16۔آپ کے سانس کی خوشبو جس کافر تک  پہنچے گی،وہ مرجائے  گا۔آپ کے سانس کی خوشبو حد نظر تک پہنچے گی۔

17۔جب آپ نازل ہوں گے تو مسلمانوں کا امام (مہدی)ان کے اندر موجود ہوگا۔

18۔آپ دجال کو لُد کے مقام پر قتل کردیں گے۔

19۔آپ کے دور میں اسلام کے علاوہ سارےمذاہب(مثلاًیہودیت،عیسائیت،ہندوازم وغیرہ) ختم ہوجائیں گے۔

20۔زمین میں امن واقع ہوگا۔اونٹ شیر کے ساتھ،چیتے اور گائیں،بھیڑیے اور بکریاں اکھٹا چریں گے۔بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے۔وہ انہیں ذرا بھی ضرر نہیں پہنچائیں گے۔

21۔آپ زمین میں چالیس برس رہیں گے۔

22۔پھر آپ  فوت ہوجائیں گے۔مسلمان آپ کا جنازہ پڑھیں گے اور آپ کو دفن کردیں گے۔

23۔آپ کی صورت مبارکہ جناب  عروۃ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مشابہ ہے۔

ان علامات سے معلوم ہو اکہ مسیح موعودعیسیٰ علیہ السلام  بن مریم ناصری علیہ السلام ابھی تک نازل نہیں ہوئے اور نہ"دجال اکبر" کا ظہور ہوا ہے۔جب کانا دجال ظاہر ہوگا تو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام  آسمان سے نازل ہوکر اسے قتل کردیں گے۔لہذا جو شخص آپ کے نزول سے پہلے تکذیب احادیث،تاویلات اور باطنیت کے زور سے مسیح موعود ہونے کا دعویدار ہے ،وہ کافر ،کذاب اور دجال ہے۔ایسے شخص کے ہتھکنڈوں اور چالوں سے بچنا ہر مسلم پر فرض ہے۔

ایک کذاب(مرزا قادیانی ) کا تذکرہ:۔

ماضی قریب میں ہندوستان(پنجاب) میں ایک شخص مرزا  غلام احمد قادیانی گزرا ہے۔اس شخص نے گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہوئے مجدد،مسیح موعود،نبی تابع اور نبی مستقل کا دعویٰ کیا۔اور اپنے مخالفین کو کافر قرار دیا۔علمائے مسلمین مثلاً مولوی محمد حسین بٹالوی،مولانا سید نزید حسین دہلوی،الشیخ عبدالجبار غزنوی،مولانا ثناء اللہ امرتسری وغیرھم نے مرزا غلام احمد اور اس کے مقلدین(چاہے وہ اسے نبی سمجھیں یا مجدد،مصلح وغیرہ) کو بالاتفاق کافر،مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج قراردیا۔

بٹالوی صاحب وہ شخصیت ہیں جنھوں نے سب سے پہلے مرزا پر فتویٰ کفر  لگایا۔مرزا قادیانی نے صرف آپ کو ہی"اول المکفرین"کا لقب دیا۔(تحفہ گولڑویہ از مرزا غلام احمد قادیانی ص6121قادیان 1914،بحوالہ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب حفظہ اللہ) بٹالوی صاحب کافتویٰ"دارالدعوۃ السلفیہ لاہور" نے زیور طبع سے آراستہ کرکے شائع کردیاہے۔

چونکہ اس مختصر مضمون میں متنبی کذاب مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی قادیانی یا لاہوری جماعت کی کفریات وہفوات جمع کرنے کا موقع نہیں ہے۔جو شخص تفصیل چاہتا ہے وہ مولانا امرتسری،مولانا عبداللہ معمار امرتسری کی محمدیہ پاکٹ بک اور حافظ احسان الٰہی ظہیر رحمۃ اللہ علیہ  کی لاجواب کتاب"القادیانیہ"وغیرہ کتابوں کی طرف  رجوع کرے۔اس بات میں قطعاً کوئی شخص نہیں کہ مرزا قادیانی اور اس کی لاہوری یا قادیانی  پارٹی کے کافر،مرتد اور خارج ازدائرہ اسلام ہونے پر پوری امت کا اجماع ہے۔

اپنے اس مختصر مضمون کی مناسبت سے آپ کے سامنے اس جھوٹے نبی اور خود ساختہ صحیح موعود کی ایک عبارت  پیش کی جاتی ہے۔مرزا غلام احمدلکھتا ہے:

"والقسم يدل على أن الخبر محمول على الظاهر لا تأويل فيه ولا استثناء ، و إلا فأي فائدة كانت في ذكر القسم  فتدبر كالمفتشين المحققين"(حمامۃ البشریٰ ص51 نسخہ قدیمہ)

"اور قسم اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ خبر(پیش  گوئی) ظاہر پر محمول ہے۔اس میں نہ تاویل ہے اور نہ استثناء ورنہ پھر قسم کے ذکر کرنے میں یا فائدہ ہے ۔پس غور کروتفتیش اور تحقیق کرنے والوں کی طرح(ترجمہ از راقم الحروف) راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ امام ومعصوم،صادق ومصدوق محمد رسول اللہ،خاتم النبین  صلی اللہ علیہ وسلم  نے قسم اٹھا کر(والذي نفسي بيده ونحوه)یہ پیشن گوئی فرمائی کہ عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے۔دیکھئے یہی مضمونص28وغیرہ) لہذا یہ  پیشین گوئی باعتراف مرزا،اپنے حقیقی معنی پر محمول ہے۔اس میں نہ تاویل کی جائے گی اور نہ استثناء۔لہذا فرقہ قادیانیہ کا نزول مسیح کی صحیح ومتواتر احادیث کی باطنی تاویلات کرنا خود ان کے"خود ساختہ بنی"کی تحقیق کے مطابق بھی باطل اورکذب بیانی ہے۔

ایک عجیب اعتراض:۔

بعض لوگوں نے نزول مسیح کی متواتر احادیث میں انتہائی معمولی اختلاف کی وجہ سے اسے روایت بالمعنی قرار دے کر رد کرنے کی کوشش کی ہے۔مثلاً

الف۔والذي نفسي بيده اور والله

ب۔حكما عدلا اور حكما مقسطا

ج۔ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم اور لينزل ابن مريم وغیرہ۔

جواب نمبر۔1۔جمہور کے نزدیک اگر راوی عالم ،فقیہ،عارف بالالفاظ ہو(مثلا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  وغیرہ) تواس کی روایت بالمعنی بھی جائزل(یعنی صحیح) ہے۔(دیکھئے مقدمۃ ابن الصلاح :ص226)الاحکام لآمدی:ج115وغیرھما)

جواب نمبر2۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے کبھی  فرمایا:والذی نفسی بیدہ اور کبھی واللہ(وغیرہ) لہذا راوی نے دونوں(یا اکثر) طرح سنا اور یاد رکھا اور کبھی ایک طرح اور کبھی دوسری طرح بیان کردیا۔آخر اس میں گناہ ہی کیا ہے؟

جواب نمبر۔3۔نزول مسیح کی روایت اس پر متفق ہے کہ عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے،دجال کو قتل کردیں گے۔صلیب توڑ دیں گے وغیرہ،تو کیا روایات کے"خوردبینی"اختلاف کی وجہ سے اس متفق علیہ متن کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا جائے گا۔

جواب نمبر۔4۔قرآن مجید میں ہے:

﴿فَانفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا﴾(البقرۃ:60) ایک اور مقام پر ہے:

﴿ فَانبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ﴾(الاعراف :160)

اس کی اور بھی مثالیں ہیں،لہذا ثابت ہوا کہ اگر مفہوم ایک ہو تو الفاظ کا اختلاف جائز ہے۔

جواب نمبر۔5۔ان احادیث کی صحت پر امت کا اجماع ہے اور امت گمراہی پر جمع نہیں ہوسکتی۔لہذا بعض روایات میں الفاظ کا یہ انتہائی معمولی اختلاف چنداں مضر نہیں ہے۔

جواب نمبر۔6۔فقہاء ومحدثین میں یہ اصل متفق علیہ ہے کہ عدم ذکر نفی ذکر پر مستلزم نہیں ہوتا۔

حافظ ابن حجر نے کہا:"ولايلزم من عدم ذكر الشئي عدم وقوعه"یعنی:کسی چیز کےعدم ذکر سے اس چیز کا عدم وقوع لازم نہیں ہوتا۔(الدرایہ  ثابت :ج2 ص225)

مزید  تحقیق کے لئے کتب اصول کا مطالعہ کریں۔

ابو الخیر اسدی کا تعارف:۔

راقم الحروف نے ابو الخیر اسدی کی کتاب"اسلام میں نزول مسیح کا تصور"کا شروع سے آخر تک مطالعہ کیا ہے۔اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شخص جاہل،کذاب،افاک اور مغالطہ آمیز ہے۔اور واقعی منکر حدیث ہے ۔جیسا کہ اپنی کتاب کے ص8 پر لکھتا ہے:

"امام دارقطنی اور محدث ابن الصلاح فرماتے ہیں کہ صحیحین کو تلقی بالقبول کامقام حاصل ہے۔اس سے وہ احادیث مستثنیٰ ہیں جن پر بعض قابل اعتماد محدثین کی طرف سے گرفت ہوچکی ہے۔

ہم بھی یہ کہتے ہیں کہ بخاری میں نزول مسیح کی وہ روایتیں جوابن شہاب زھری سے مروی ہیں ان پر چونکہ بعض ائمہ حدیث قدح کرچکے ہیں اس لئے ایسی مقدوح حدیثوں پر کسی اہم عقیدے کی بنیاد استوار نہیں ہوسکتی۔۔۔"

تو عرض ہے کہ محدث ابن الصلاح وغیرہ چند احادیث کے استثناء کے ساتھ صحیحین کو امت کا بالاجماع،تلقی بالقبول کادرجہ دیتے ہیں ۔لہذا صحیحین کی تمام وہ روایت جن پر کسی کا قابل اعتماد محدث کی طرف سے  گرفت نہیں کی گئی ہے،صحیح اور قطعی ہیں۔صرف وہ احادیث مستثنیٰ ہیں جن پر کسی قابل اعتماد محدث کی طرف سے گرفت ہوچکی ہے(اگرچہ ہماری تحقیق کےمطابق ان میں بھی حق بخاری ومسلم کے ساتھ ہے ہے) رہا اسدی صاحب کا قول"ہم بھی یہی کہتے ہیں۔۔۔نہیں ہوسکتی۔۔۔"

تو ہم پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ صحیحین کی وہ روایتیں جو ابن شہاب زھری سے مروی ہیں ان پر کسی امام حدیث اور قابل اعتماد محدث نے گرفت وقدح کی ہے؟مکمل اور صحیح حوالہ مطلوب ہے،ورنہ  پھر اسدی صاحب کے کذاب ہونے میں کیا شبہ رہ جاتاہے ۔

یاد رہے کہ اسدی صاحب کا قول:"ان پر چونکہ بعض ائمہ حدیث قدح کرچکے ہیں اس لیےایسی مقدوح حدیثوں پر۔۔۔"میں"ان"سے مراد"احادیث نزول مسیح"ہیں جیسا کہ سیاق وسباق سے ظاہر ہے۔اور "مقدوح"قدح"کے الفاظ بھی اس پر واضح دلالت کررہے ہیں۔اگر وہ صحیحین کی ان احادیث پر کسی ایک امام یا محدث کی قدح وگرفت ثابت نہیں کرسکتے تو انہیں علی الاعلان توبہ کرنی چاہیے۔

اس کتاب کے ص94تا97 پر ابو الخیر اسدی نے"زھری سے ہمارے اختلاف کی تیس وجوہات"کاعنوان باندھ کر کذب وفریب کا طومار پھیلادیا ۔مثلاً

"13۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف غیر واقعی اقوال منسوب کرنے میں نہایت بےباک اور آخرت کی باز پرس سے بے پرواہ معلوم ہوتے ہیں"

22۔بعض صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین   سے انہیں خدا واسطے کا بیر ہے۔

30۔رائی کا پربت بنانا ان کافن تھا جو درحقیقت کذب ہی کی ایک قسم خفی ہے۔۔۔وغیرہ وغیرہ"

حالانکہ امام زھری پر یہ اور اس جیسے دوسرے الزامات کسی ایک بھی امام حدیث یا محدث سےبالکل ثابت نہیں ہیں۔اسدی صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ ان اقوال میں سے صرف ایک ہی کسی قابل اعتماد محدث(مثلاً مالک،شافعی،احمد،بخاری،مسلم،ابو داود،ابن حبان ،ابن خزیمہ وغیرھم) سے ثابت کردکھائیں۔

گذشتہ صفحات میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ امام زھری،نزول مسیح کی احادیث میں منفرد نہیں ہے بلکہ ایسی بہت سی صحیح احادیث موجود ہیں جن کا کوئی راوی امام زھری نہیں اور جو نزول مسیح پر صاف دلالت کرتی ہیں۔مثلا دیکھئے ص32 وغیرہ۔

آخر میں صحیح بخاری کی کتاب"فضائل الصحابہ"سے امام زھری کی بعض مرویات کا مختصر تعارف  پیش خدمت ہے۔ان اعداد وشمار سے بخوبی واضح ہوجائے گا کہ آیا آپ پر تشیع کا الزام درست ہے یا  غلط؟

1۔فضل ابی بکر( رضی اللہ تعالیٰ عنہ )            3۔احادیث

 2۔مناقب عمر( رضی اللہ تعالیٰ عنہ )             5۔احادیث

 3۔ مناقب عثمان( رضی اللہ تعالیٰ عنہ )        1۔حدیث

 4۔ مناقب علی( رضی اللہ تعالیٰ عنہ )             کوئی نہیں

5۔ فضل عائشہ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا  )            1۔حدیث

6۔ذکر ہند بنت عتبہ ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا  )   1۔حدیث

قارئین فیصلہ کریں کہ کیا ایک شیعہ راوی،ابو بکر وعمرو عثمان وعائشہ وہند رضی اللہ عنھم اجمعین کے مناقب میں تو احادیث روایت کرتاہے مگر علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے مناقب میں ایک بھی نہیں!

لہذا اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ امام زھری شیعہ نہیں تھے ۔بلکہ اہل سنت کے انتہائی جید امام تھے۔اسدی کا کذب وافتراء کی بنیاد پر پندرہویں صدی میں انہیں شیعہ کہنا بہت بڑا جھوٹ ہے۔اس ظلم پر اُنھیں رب کریم سے استغفار کرنا چاہیے۔

[1] ۔اس کی سند میں ایک راوی"ابو یحییٰ مصدع" ہے ۔ابن شاہین نے کہا: "ثقہ"(کتاب الثقات:1407) ذھبی نے کہا:صدوق(الکاشف :5556) وہ صحیح مسلم کا راوی ہے۔(تقریب:6683) عمار الدھنی نے اس کی تعریف کی(تہذیب وغیرہ) ابن حبان نے تصیح کے ذریعے اس کی توثیق کی۔ابن عدی نے اس پر سکوت کیا۔(الکامل:ج6 ص2459)

اس پر الجوز جانی(احوال الرجال:349)،ابن حبان(المجروحین :ج3ص39) اور ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ  نے جرح کی(العلل المتناہیہ:ج2 ص54) العقیلی نے ضعفاء میں ذکر کیا(ج4 ،ص266) حافظ ابن حجر اپنی کتاب موافقہ الخبر الخبر(ج2ص174) میں  مصدع مذکور اور ابو رزین کے بارے میں لکھتے ہیں:"وھما ثقاتان تابیعان۔۔۔"اس راوی کے بارے میں امام ذہبی  رحمۃ اللہ علیہ  کا قول ہی راحج ہے۔لہذاس کی حدیث حسن سے کم نہیں ہے۔موقوف روایت اس کا ایک شاہد ہے۔

عاصم بن بہدلہ صحاح ستہ کا راوی اور جمہور اہل حدیث کے نزدیک ثقہ وصدوق ہے۔حافظ ذہبی  رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا"امام مصدوق"(دیوان الضعفاء:2042) امام ابن حبان نے کہا"حافظہ ثقہ متقن"(صحیح ابن حبان:2116) لہذا عاصم کی روایت بھی حسن درجہ سے کم نہیں ہے۔