ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

  • جولائی
1995
صلاح الدین یوسف
گزشتہ شمارہ میں ہم نے مدارس دینیہ عربیہ کے اغراض ومقاصد،ان کے تاریخی پس منظر اور ان کی خدمات  پرمختصرا روشنی ڈالی تھی،جس سے ان کے بارے میں پائی جانے و الی یا پھیلائی جانے و الی بعض غلط فہیموں کا بھی ازالہ ہوجاتاہے۔بشرط یہ کہ کوئی چشم بصیرت سے اسے پڑھے اور دل بینا سے اسے سمجھے۔ورنہ۔ع۔
گر نہ بیند بروز شپرہ چشم
چشمہ¿ آفتاب را چہ گناہ
تاہم اتمام حجت کے نقطہ نظر سے زیر نظر سطور میں بطور خاص ان اعتراضات اورغلط  فہمیوں کےبارے میں ضروری گزارشات پیش کیاجاتی ہیں جو ان پرکئے جاتے ہیں اور پھیلائے جاتے ہیں:
مدارس دینیہ کےنصاب میں تبدیلی کا مسئلہ:۔
ان میں سب سے اہم مسئلہ نصاب تعلیم کا ہے۔اس پر گفتگو کرنے و الے اپنےاور بیگانے دوست اور دشمن دونوں قسم کے لوگ ہیں۔بعض لوگ بڑے اخلاص سے دینی مدارس کے نصاب میں تبدیلی کا مشورہ دیتے اور اس میں تبدیلی کی خواہش رکھتے ہیں۔لیکن ہم عرض کریں گے کہ نصاب میں بنیادی تبدیلی کے پیچھے چاہے کتنے ہی مخلصانہ جذبات ہوں تاہم وہ دینی مدارس کے اصل مقاصد سے (جس کی وضاحت گزشتہ مضمون میں کی جاچکی ہے) مناسبت نہیں رکھتی۔بلکہ وہ ان کے نصاب میں تبدیلی کی دو صورتیں ہیں:۔
  • جولائی
1995
صدیق حسن خان
آیت نمبر۔137،138۔
﴿فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ ۖ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّـهُ ۚ وَهُوَالسَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴾﴿صِبْغَةَ اللَّـهِ ۖ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ صِبْغَةً ۖ وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ﴾...البقرة
" اگر وه تم جیسا ایمان لائیں تو ہدایت پائیں، اور اگر منھ موڑیں تو وه صریح اختلاف میں ہیں، اللہ تعالی ان سے عنقریب آپ کی کفایت کرے گا اور وه خوب سننے اور جاننے والا ہے(137) اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ تعالیٰ سے اچھا رنگ کس کا ہوگا؟ ہم تو اسی کی عبادت کرنے والے ہیں”
  • جولائی
1995
زبیر علی زئی
زیر نظر مقالہ میں قرآن مجید،صحیح احادیث ،اجماع اور آثار صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین   کی روشنی میں حضرت  عیسیٰ علیہ السلام  بن مریم الناصری علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کا ثبوت پیش کیا گیا ہے۔اور منکرین کےاعتراضات کے اطمینان بخش جوابات دیئے گئے ہیں۔تصنیف کے بعد جناب انور شاہ کشمیری کی تصنیف"التصریح بما تواتر فی نزول المسیح" کا علم ہوا۔کتاب حاصل کرکے پڑھی۔بہترین کوشش ہے۔کنزالعمال وغیرہ سے بلاتحقیق احادیث نقل کی گئی ہیں۔لہذا اس میں صحیح ،حسن،ضعیف اور موضوع روایات بھی موجود ہیں۔غفراللہ لنا وله،آمین!
  • جولائی
1995
شیخ صالح العثیمین
آج کے پرفتن دور میں اپنی حفاظت کے لیے ہمیں اللہ سے دعا گو ہو نا چاہیےاور اس اللہ کی پناہ میں آنا چا ہیےجو ان تمام فتنوں سے بالا تر ہے جو دین کے لیے مہلک ہیں جو عقل کو شل کر دیتے اور جسم و جا ن کو تباہ کر دیتے ہیں اور ہر خیر کے دشمن ہیں ایسے سب فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چا ہئے کیوں کہ فتنوں  سے کسی خیر کی توقع  نہیں کی جا سکتی ۔نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا معمول بھی یہ تھا کہ آپ فتنوں سے پناہ مانگا کرتے اور لوگوں کو ان سے خبر دار کرتے تھے۔
یہی وجہ  ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  نے الصحیح میں باب الفتن کا آغاز اس آیت کریمہ سے کیا ہے کہ "اس فتنہ سے ڈر جا ؤ جو صرف ظالموں پر نہیں آئےگا ۔" 
اسی  طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  فتن سے بچانے کا رویہ اپناتے کیونکہ فتنے جس وقت وقوع پذیر ہو تے ہیں تو صرف ظا لموں پر نہیں بلکہ دوسروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں ۔ان کی پکڑ سے کو ئی محفوظ نہیں رہتا ۔چنانچہ ہمیں چا ہیے کہ ہم بھی ان سے محفوظ رہنے کی تدبیر کریں ۔ہر ایسی چیز سے پرہیز کریں جو ہمیں فتنہ سے قریب  کر دے ۔حدیث میں آتا ہے کہ قرب قیامت فتنوں کی کثرت ہوجا ئے گی۔
  • جولائی
1995
غازی عزیر
تسویۃ الصفوف کا معنی:۔
"تسویۃ الصفوف"کا معنی امام نووی رحمۃ اللہ علیہ  یو ں فرما تے ہیں ۔
"تسویۃالصفوف،یعنی صفوں کو برا بر اور سیدھی کرنے سے مراد "اتمام الاول فالاول " صفوں میں جو خلا یا شگا ف ہوں،انہیں بند کرنا اور نماز کے لیے صف میں کھڑے ہو نے والوں کی اس طرح محاذات (برا بری)ہے کہ کسی فرد کا سینہ یا کو ئی دوسرا عضو اس کے پہلو میں کھڑے دوسرے نمازی سے آگے نہ بڑھنے پا ئے۔اسی طرح جب تک پہلی صف پوری نہ ہو ،دوسری صف بنانا غیر مشروع ہے اور جب تک اگلی صف مکمل نہ ہو جائے کسی نمازی کا پچھلی صف میں کھڑے ہو نا بھی درست نہیں ہے۔(5)حافظ بن حجر  عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ  اور علامہ شمس الحق عظیم آبادی  رحمۃ اللہ علیہ  فر ما تے ہیں ۔
  • جولائی
1995
شفیق کوکب
اکتوبر 85ء تا اکتوبر 90ء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جلد نمبر 16 تا20
قارئین کرام!آپ کا محبوب مجلہ"محدث" عرصہ دراز سے آپ کے زیر مطالعہ ہے۔اگرچہ بعض احباب چند سال قبل بزم قارئین میں شامل ہوئے ہوں گے۔
مجلہ ہذا کے مطالعہ میں یہ بات آپ نے محسوس کی ہے کہ بحمدللہ اس میں کوئی بات بلادلیل،محض مسلکی پسند و ناپسند کی بناء پر شائع نہیں کی جاتی۔بلکہ اس کے ساتھ جس نظریے کی بھی پرکھ ہوتی ہے ۔اس کی میزان صرف اور صرف کتاب وسنت ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں مجلہ کا یہ بھی دستور رہا ہے۔اور جس کو برقرار رکھنے کی از حد کوشش کی جاتی ہے کہ اپنا زور بحث،فروعات کی بجائے زیادہ تر ان اصولوں اور نظریات پر صرف کیا جائے جو کسی ذہن کی تشکیل میں بنیادی کردارادا کرتے ہیں۔اس حوالے سے بہت ممکن ہے کہ ہمارا یہ مجلہ عام قارئین کےلیے بوجھل ہو،تاہم اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو قارئین عطا فرمائے ہیں وہ ذی شعور ہونے کے ساتھ ساتھ علم وتحقیق کے بھی شیدائی ہیں اور ان کاایک بڑا حصہ منصفانہ مزاجی کا حامل ہے