معلقات معلقۃ کی جمع ہے ۔اس کا مادہ "حلق "ہے جس کے معنی :عمدہ اور نفیس چیز کے ہیں ابن منظور صاحب لسان العرب نے اس کا معنی یوں کیا ہے
العلق : المال الكريم  و يقال  : علق خير ... والجمع  أعلاق ...الخ
المنجد فى اللغة والأعلام  : العلق جمعه إعلاق و علوق : النفس من كل شيئ لتعلق قلبه.
2۔یعنی حلق سے مراد ہر وہ نفیس چیز جس کی طرف دل مائل ہو جا ئے ۔اس اعتبار سے معلقات سے مراد دور جاہلیت کے ایسے قصائد جو لفظی اور معنوی اعتبار سے اس دور کی شاعری میں سب سے زیادہ عمدہ اور نفیس ہیں ۔
وجہ تسمیہ :
معلقات کی وجہ تسمیہ کے بارے میں اُدباء اور ناقدین کے الگ الگ نظریات ہیں ۔
1۔بعض ادباء کے خیال میں عربوں کے نزدیک ان قصائد کی بڑی شان و عظمت تھی کیونکہ وہ شاعری کے بڑے دلدادہ تھے اور اسے بڑی اہمیت دیتے تھے۔
2۔اسی لیے ان قصائد کی تعظیم و تکریم کی بناء پر وہ انہیں بیت اللہ کی دیواروں  سے لٹکا دیا کرتے تھے چنانچہ اسی وجہ سے انہیں معلقات کہا جا تا ہے ۔
3۔ابن عبد ریہ اپنی کتاب "العود الفرید "میں لکھتے ہیں کہ عرب چونکہ شعرو شاعری کے ساتھ حد درجہ والہانہ عقیدت رکھتے تھے اس لیے انھوں نے ان قصائد کو سونے کے پانی کے ساتھ لکھ کر دیوار  کعبہ سے آویزاں کر دیا تھا  اس بناء پر انہیں "مذہبات "بھی کہاجا تا ہے ۔
4۔ابن رثیق نے بھی اپنی کتاب "العمدۃ " میں اس روایت کی تصدیق کی ہے
5۔اسی طرح ابن خلدون (6)اور البغدادی (7)نے بھی روایت تعلیق کعبہ کی تائید کی ہے جرحی زید ان نظریہ تعلیق کعبہ کی تائید کرتے ہو ئے لکھتے ہیں ۔
"جب قریش نے آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  اور بنوہاشم کے ساتھ مقاطعہ کی دستاویز تیار کی تو اسے خانہ کعبہ کے ساتھ اویزاں کردیا تھا لہٰذا اس سے زمانہ جاہلیتمیں عربوں کا ان قصائد کی اہمیت کے پیش نظر انہیں دیوار کعبہ سے آویزاں کر دینے کی روایت کو تسلیم کر لینے میں تقویت حاصل ہو تی ہے ۔"
9۔مشہور نحوی اور شارح معلقات ابو جعفر النحاس کا خیال ہے کہ "عرب سوق عکاظ میں جمع ہو کر شعر گوئی میں مقابلہ کرتے تھے تو اگر کو ئی قصیدہ بادشاہ کو پسند آجاتا تو وہ حکم دیتا ۔(علقوا الناهذه)
10۔ (کہ اسے ہمارے لیے لٹکادو )اس طرح وہ چاہتا کہ اس کی لائریری کے خزانہ میں شامل ہو جا ئے ۔ ابن رشیق نے  بھی العمدہ میں اس روایت کو بیان کیا ہے ۔
11۔آر اے نکلسن تعلیق کعبہ کے نظر یہ کے مخالف ہیں ۔
12۔اسی طرح  چارلیس جیمز کا خیال ہے کہ معلقہ کا لفظ علق سے مشتق ہے جس کے معنی "قیمتی اور گران مایہ "چیز ہیں "چنانچہ ان قصائد کو ان کی اہمیت کے سبب معلقات کہا جا تا ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اصل معنی چھوڑ کر تعلیق کعبہ کی روایت کو گھڑا لیا ہے ۔
(13)آر بری کہتے ہیں کہ معلقات کا لفظ "علق"سے مشتق ہے جس کے معنی نقل کرنا ہے اس  لیے معلقات کو یہ نام اس وجہ سے دیا گیا ہے کہ یہ طویل زبانی روایت کے بعد نقل کئے گئے ہیں ۔
بلکہ آر بری تو یہ بھی کہتے ہیںکہ قرون وُسطی میں بعض عرب مصنف چونکہ اپنی تصانیف کو گلے میں لٹکا کر رکھتے تھے اس لیے یہ قرین قیاس ہے کہ ان قصاءئد کے شعراء انہیں ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے ہوں اس وجہ سے انہیں معلقات کہا جا تا ہے علاوہ ازیں انہیں ہاروں سے تشبیہ دیتے ہوئے "السموط" کہا جا تا تھا ہو سکتا ہے کہ اس وجہ سے ان کا نام معلقات مشہور ہو گیا ہو (14)
معلقات کی تعداد:
جس طرح معلقات کی وجہ تسمیہ میں اُدبا کا اختلاف ہے اسی طرح ان کی تعداد  میں بھی وہ اختلاف رکھتے ہیں البتہ مشہور قول یہی ہے کہ ان کی تعداد ساتھ ہے ۔(15)
1۔معلقہ امردالقیس (2)معلقہ زہیربن ابی سلمی (3)معلقہ لبید بن ربعیہ (4)معلقۃ طرفۃ بن العبد (5)معلقۃ عتر ۃ بن الشداد (6)معلقۃ عمرو بن کلثوم (7)معلقۃ حارث بن حلزۃ )16)
(جمهرة أشعار العرب)کے مصنف ابو زید القرشی نے ان کی تعداد  آٹھ لکھی ہے اور مذکورہ بالا معلقات میں حارث بن حلز ہ کے معلقہ کے بجا ئے اعشی کے معلقہ کو شامل کیا ہے ۔اور نابغۃ ذیبانی کا اضافہ کیا ہے (17)لیکن معلقات کے مشہور شارح ابو جعفر النحاس نے مندر جہ بالا تعداد میں معلقہ حارث  بن حلزہ کو بھی شامل رکھا ہے اس کے نزدیک تعداد معلقات واصحابھا نو ہوجا تی ہے ۔
(18)ابو زکریا التبریزی کے نزدیک معلقات کی تعداد دس ہے اور ان میں عبید بن الابرص کے معلقہ کو بھی شامل کرتا ہے۔
 (19)تاہم ان تمام اقوال میں راجح قول یہی ہے کہ ان کی تعداد سات ہے 
اصحاب معلقات اور ان کا مختصر تعارف
(1)امرؤالقیس:
ضد ج بن حجر ابو الحارث کنیت ذوالقروح اور "الملک الغلیل "لقب تھا اس کی تاریخ پیدائش کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس بارے میں مؤرخین خاموش ہیں دور جاہلیت کے مشہور شعراء کا سرخیل ہے اس کی شاعری میں فصیح الفاظ نُدرت خیال اور حسن تشبیہ پائی جا تی ہے بلکہ بعض نقاد اسے   ملک التشبیھات کے نا م سے یاد کرتے ہیں ۔
(20)امرؤلقیس پہلا شاعر ہے جس نے محبوب کے کھنڈر ات پر کھڑے ہو کر رونے کی رسم ایجاد کی جیسے وہ اپنے اس قصیدے کے آغاز میں کہتا ہے ۔
(21) " قفا نبك من ذكرى حبيب و منزل
بسقظ اللوى بين الدخول فحومل
اس کے اشعار اس کی زندگی اور اس کی قوم کی تاریخ کے عکاس ہیں ۔یہ شراب کا بہت دلدادتھا ۔
اور اس کی ساری زند گی عورتوں سے عشق کرنے میں گزری اس وجہ سے اس کے اشعار میں شراب  عورتوں اور شکار کا ذکر ملتا ہے اس کی وفات 560ءمیں ہوئی اور یہ جیل عسیب میں دفن ہوا ۔
(22)اس کے قصیدے کے اشعار کی تعداد بعض روایتوں میں بیاسی اور بعض میں اکاسی ہے ۔(23)
نمونہ کلام :
وُقُـــوْفـاً بِـهَـا صَـحْـبِـي عَـلَّي مَـطِـيَّـهُـمُ
يَــقُـوْلُـوْنَ:لاَ تَــهْـلِـكْ أَسَـىً وَتَـجَــمَّـلِ
وإِنَّ شِــــفــائِــي عَـــبْـــرَةٌ مُـــهْــرَاقَـــةٌ
فَــهَـلْ عِـنْدَ رَسْــمٍ دَارِسٍ مِـنْ مُعَوَّلِ؟
ولَـيْـلٍ كَـمَـوْجِ الـبَـحْـرِ أَرْخَـى سُـدُوْلَــهُ
عَــلَـيَّ بِـأَنْـوَاعِ الـهُــمُــوْمِ لِــيَــبْــتَــلِـي
فَــقُــلْــتُ لَـهُ لَـمَّـا تَـمَــطَّــى بِـصُــلْــبِـهِ
وأَرْدَفَ أَعْــجَــازاً وَنَـــاءَ بِــكَــلْـــكَــلِ
ألاَ أَيُّـهَـا الـلَّـيْـلُ الـطَّـوِيْــلُ ألاَ انْـجَـلِــي
بِـصُـبْـحٍ، وَمَــا الإصْـبَـاحُ مـنِـكَ بِأَمْثَلِ
فَــيَــا لَــكَ مَــنْ لَــيْــلٍ كَــأنَّ نُــجُــومَــهُ
بــكــل مُــغــار الـفــتـل شُــدّت بـيـذبل
كَـأَنَّ الـثُـرَيّــا عُـلِّـقَــت فـي مَـصـامِــهـا
بِــأَمْــرَاسِ كَــتَّـانٍ إِلَــى صُــمِّ جَــنْــدَل
(24)
(2) زہیرین ابی سلمی :
زہیرین ابی سلمی اپنے دور کا دانشمند شخص تھا اس نے اپنے سوتیلے باپ اوس بن حجر شاعر مُضَرکے گھر پرورش پائی اور کچھ عرصہ اس کے ماموں بشامہ بن الغدیر نے بھی اس کی پرورش کی زہیرقبیلہ مزینہ کی طرف منسوب کیا جا تا ہے زہیر نے اپنے ماموں بشامہ کی کمال درجہ خوشہ چینی کی کیونکہ وہ اپنے قبیلے میں بلند پایہ شاعری اور اپنی اعلیٰ دانشمندی کی وجہ سے نامور ی پاچکا تھا شاعری میں زہیر کا سارا خاندان ممتاز حیثیت رکھتا ہے اس کا باپ دونوں بہنیں اور دونوں بیٹے قابل ذکر شعراء میں شمار ہو تے ہیں اس کا کلام پیچیدہ عبارات اور غریب الفاظ سے پاک ہے اس کے قصیدہ کو "حولیات "کہاجا تا ہے کیونکہ روایات کے مطابق یہ چار ماہ تک قصیدہ کہتا پھر چار ماہ تک کانٹ چھانٹ کرتقا اور اس کے بعد چار ماہ تک اسے ماہرین فن کے سامنے پیش کرتا تھا اس طرح ایک سال سے پہلے وہ اپنا قصیدہ پیش نہیں کرتا تھا ۔
(25)اس بارے میں وہ اپنے شعر میں بھی وضاحت کرتا ہے ۔
(26)زہیر ایسا شاعر ہے کہ یہ اپنی چند مخصوص خوبیوں کے سبب باقی شعراء میں سے ممتاز ہو جا تا ہے ۔
(27)اس نے تقریباً سو سال عمرپائی اور قبل ازنبوت مرگیا جیسا کہ خود ایک شعر میں کہتا  ہے ۔
(28) "
اس کے معلقہ کے اشعار شرح الزوزنی میں باسٹھ (62)اور بعض دوسری اردو کی شرح میں چونسٹھ اور پینسٹھ روایت ہو ئے ہیں ۔
نمونہ کلام :
(29) (عربی)
(3) لبید بن ربیعۃ:
ابو عقیل لبید بن ربیعۃ العامری کا تعلق قبیلہ مُضر سے تھا جبکہ اس کی والدہ بنو عبس سے تھی بوض نے اسے ہوازن قیس سے بیان کیا ہے تاہم یہ مسلمان شاعر ہے جس نے زمانہ جاہلیت کے ساتھ ساتھ زمانہ اسلام بھی دیکھا اور شاعری کی البتہ اس کی جاہلی شاعری زیادہ اور اسلامی دور کی شاعری بہت کم ہے اس کی شاعری میں دیہاتی زندگی کی عکاسی ہوتی ہے اس کی شاعری کے مضامین بھی دیگر جاہلی شعراءکی طرح ہیں اس نے حضرت معاویہ کے دور میں( 61ھ)  میں وفات پائی ۔
(30)اس کے معلقہ کے اشعار کی تعداد نواسی ہے جبکہ الزوزنی کی شرح میں اٹھا سی درج ہیں ۔
نمونہ کلام :
(31 ) (عربی)
(4)طرفۃ بن العبد :
طرفۃ بن العبد بن سفیان بکربن وائل قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا اس کا باپ اسکے بچپن ہی میں مرگیا تھا اس کے چچا ؤں نے اس پر بہت ظلم کئے اور ماں کا حصہ غصب کرلیا اس وجہ سے اس کی تربیت صحیح خطوط پر نہ ہو سکی چنانچہ یہ اوائل عمر سے ہی شراب نوشی اور لہو و لعب کی طرف مائل ہو گیا اور اس نے اپنا سارا مال عیاشی میں ضائع کردیا اس کے بعد یہ عمر و بن شاہ حیرہ کی طرف گیا اور اس کی تعریف کی اور اس کے مصاحسین میں شامل ہو گیا اس کا ماموں (الملتمس "بھی شاعر تھا طرفہ اصحاب معلقات میں سب سے چھوٹی عمر کا تھا لیکن اپنے کلام کی عمد گی اور جرات کے سبب ان میں اچھا مقام پاگیا
یہی وجہ ہے کہ اس کا معلقہ زہیر کے معلقہ کے بعد شمار ہو تا ہے اس کے معلقہ کے اشعار کی تعداد سوسے زائد ہے یہ اشعار مبہم  معانی مشکل تراکیب اور غریب الفاظ پر مشتمل ہیں اس نے اس معلقہ میں اپنی ذات کو موضوع بنایا ہے اور اپنے حالات و مصائب بیان کئے ہیں اس کی پیدائش کا ذکر نہیں ملتا تاہم یہ بیس سال کی عمر میں 552ءیا544ءمیں کثرت شراب کی وجہ سے مرگیا ۔
(32)تاریخ ادب عربی میں احمد حسن الزیات نے طرفہ کی بہن الخرنسق کے اس شعر کے حوالے سے اس کی موت کے وقت عمر چھبیس سال لکھی ہے ۔
(33) (عربی)
نمونہ کلام :
(34) (عربی)
عنترۃ بن شداد : بعض روا یتوں میں اس کا نام عنتۃ بن شداد بن عمرو ہے جبکہ بعض  میں اس کا نا م عترۃ ابن عمرو بن شداد بن معاویۃ بن قراد العبسی  بیان ہوا ہے ۔
(35) اس کی کنیت ابو المنعلس تھی ۔
(36)اس کا قبیلہ عبس قبائل مضر میں سے ہے یہ اور اس کی قوم نجد میں رہتی تھی اس کی ماں زیبہ  سیاہ رنگ کی حبش تھی ۔جو حبشہ کے ایک بادشاہ کی بیٹی تھی اس کے والد نے اسے ایک جنگ میں قیدی بنایا تھا اور پھر اسے اپنے تصرف میں کر لیا اسی سے عتر ہ پیدا ہوا ۔
(37)جاہلی شعراء اور اسکے شہ سواروں میں عترۃ کی بہت شہرت تھی ۔
(38)اور اپنے زمانے میں دلیری سخاوتحلیم الطبعی اور خوش اخلاقی میں معروف تھا یہ جنگ واحس اور غبرا ء میں شریک ہوا اور اس نے اچھی قیادت کی عترہ نے بڑی لمبی عمرپائی اور اس کا بڑھاپا اتنا بڑھ گیا کہ اس کی کھال بھی لٹک گئی ۔615ءمیں یہ قتل ہوا ۔
اس کی شاعری میں فخر حماسہ غزل موجود ہے جبکہ مدح اور مرثیہ بہت کم ہے اس کے کلام میں سے اس کا معلقہ سب سے زیادہ مشہورہے علاوہ ازیں جاہلی شعراء کی شاعری جیسے مضامین اس کی شاعری میں بھی ہیں ۔
(39)اس کے معلقہ کے اشعار کی تعداد نوے 90ہے۔
نمونہ کلام :
(40) (عربی)
(6)عمرو بن کلثوم :
اس کا تعلق قبیلہ  تغلب سے تھا اس کا باپ کلثوم اپنی قوم کا سردار تھا اور اس کی ماں لیلیٰ مشہور شاعر المہلہل کی بیٹی تھی ۔عمر و بن کلثوم بہت خوددار غیور اور بڑا بہادر جوان تھا پندرہ سال کی عمر میں یہ اپنی قوم کا سرادر بن گیا اور خانداد کی آپس کی رنجشوں اور لڑائیوں میں بطور فیصل کام کرتا تھا یہ 600ءمیں فوت ہوا یہ بڑا برجستہ گو شاعر تھا اس کا طرز بیان نہایت پاکیزہ اور بلند ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ کم گو شاعر ہے اس کی شاعری کا مشہور حصہ اس کا معلقہ ہے جس کے اشعار کی تعداد تقریباًایک سو آٹھ (108)بیان ہو ئی ہے
(41)
نمونہ کلام :
(42)(عربی)
(7)الحارث بن حلزۃ :
اس کی کنیت ابو الظلیم بیان کہ جا تی ہے یہ سادات بکرسے ہے بکر و تغلب دو متحارب جاہلی قبیلے تھے ان کے مابین جنگیں بہت دیر تک ہوتی رہیں ۔حارث اپنی قوم بنی بکر میں وہی مقام  رکھتا تھا جو بنی تغلب میں عمرو بن کلثوم ۔عمرو تغلب کا شاعر تھا اور حارث بکر کا عمرو اپنی قوم کی تعریف کرتا اور ان پر فخر یہ کلام کہتا اور حارث اپنی قوم کے ساتھ حارث بھی اپنے قصیدے (معلقے )کی وجہ سے مشہور ہوا بلکہ اس کے معلقے کے سوا دوسرے اشعار ہم تک کم ہی پہنچے ہیں اس کے معلقے میں بھی غزل فراق اور صف ناقہ جیسے مضامین ہیں اس کے علاوہ حماسہ و فخر بھی موجود ہے ابو عبید کہتے ہیں کہ لمبے قصائد میں سب سے زیادہ عمدہ عمرو بن کلثوم حارث بن حلزہ اور طرفہ بن العبد کے قصیدے ہیں بیان کیا جا تا ہے کہ حارث نے اپنا قصیدہ عمرو بن ہند کے سامنے پڑھا تھا جو اپنی قوم کا معزز بزرگ بادشاہ تھا اور اس میں حارث نے عمرو بن کلثوم کے کلام کا رد کیا تھا اوراس کی قوم  پر غصے کا اظہار کیا تھا اور عمرو بن ہند کی تعریف کی چنانچہ بکرو تغلب کے درمیان نزاع کے بارے میں عمروبن ہند نے بکر حق میں فیصلہ دیا تھا ۔حارث نے تقریباً ایک سو پیتس سال عمر پائی ۔
(43)اس کے قصیدے کے اشعار کی تعداد بیاسی اور تراسی بیان کی گئی ہے 44