سلف اصطلاح میں صحابہ و تابعین رضوان اللہ عنھم اجمعین  اور تبع تابعین کو کہا جا تا ہے چنانچہاللہ تعالیٰ نے فرماتے ہیں﴿ مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّـهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ... ﴿٢٩﴾ ...الفتح اور فرمایا : ﴿ لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللہ... فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿٩﴾...الحشر
اللہ تعا لیٰ نے پہلے انصار مہاجرین کا ذکر کیا جو کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے صحابہ  کرا م  رضوان اللہ عنھم اجمعین  ہیں بعد میں ﴿ وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ ﴾ سے تابعین وغیرہ ہم کا ذکر ہے ۔نیز فر ما یا  ﴿ هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿٢﴾ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ... ﴿٣﴾...الجمعة
چنانچہ پہلے (اُمیین ) کا  ذکر   فر ما یا اور پھر (وآخرین ) فر ما کر تابعین کی طرف اشارہ فر ما یا اور حدیث میں ہے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر ما یا کہ میری اُمت کے تہتر فرقے ہوں گے " كلهم  فى النار إلا  واحدة"سب آگ میں ہیں سوائے ایک کے سوال کیا گیا کہ وہ کو ن ساہے ؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر ما یا : " ما أنا عليه و أصحابى"
"یعنی وہ ناری نہیں جو اس طریقہ پر ہوں گے جس پر میں اور میرے صحابہ  ہیں ۔
امام غزالی نے اپنی کتاب "الجامع العوام عن علم الکلام "میں سلف  کی تعریف میں لکھا ہے ۔ "أعنى مذهب الصحابه و التابعين"...(ص:62)
جن علماء نے سلف کی تعریف میں تبع تابعین کو بھی داخل کیا ہے انھوں نے حضرت عبد اللہ بن  مسعود   رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ  کی مرفوع  حدیث سے حجت لی ہے " خير الناس قرنى يلونهم ثم الذين يلونهم "
یعنی بہترین وہ لوگ ہیں جن میں ،میں ہوں  پھر وہ لوگ ہیں جواُن سے ملیں گے پھر وہ جوان سے ملیں گے ۔بخاری و مسلم )نیز سلف کا طریقہ اختیار کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا :
﴿ وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ﴿١١٥﴾...النساء
نزول آیت کے وقت (المؤمنین )سے مراد مومن صحابہ ہی تھے اور جن کا عقیدہ ان صحابہ ولا نہ تھا سلف میں داخل نہیں ہیں چاہیے ان کا زمانہ قدیم ہی ہو کیونکہ ایک دینی اصطلاح کے حوالے سے اس کے حامل صرف اہل ایمان ہی ہوسکتے ہیں 
سلف کا منہج کیا ہے؟
سلف کا منہج اچھی طرح ذہن نشین کرنے کے لیے تین اصول سمجھ لینے ضروری ہیں ۔
1۔تقدیم النقل الصحیح علی العقل
2۔رفض التاویل
3۔عدم التفریق بین الکتاب والسنہ
پہلے قاعدے کا مطلب یہ ہے کہ کتاب و سنت کو اپنی عقل سے مقدم جانتے تھے اور یؤمنون بالغیب پر پورے قائم تھے فلاسفہ یونان کی طرح  نہ تھے کہ اپنی عقل کو مقدم سمجھتے ہوئے نبوت و آخرت اور احوال قبر کا بھی انکار کر دیں اور نہ ہی معطلۃ کی طرح تھے کہ صفات باری تعا لیٰ کا نکار کردیں بلکہ وہ اپنی عقل کا قصور نکالتے تھے اور کتاب و سنت کو دل وجان سے قبول کرلیتے تھے اور نہ ہی مشبہۃ کی طرح تھے جکہ صفات باری تعا لیٰ کو صفات مخلوق کی طرح خیال کریں اور نہ ہی معتزلہ وغیرہ  کی طرح تھے جو اپنی عقل کو مقدم جان کر اپنے طریقے کو اَحکم (مضبوط تر) کہتے تھے بلکہ سلف تو یقین رکھتے تھے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعلیم نے ہر چیز سے غنی کردیا ہے عقیدہ اور عمل وہی ہونا لازمی ہے جو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  لے کرآئے اور سلف کا طریقہ ہی اَحکم (مضبوط تر )اور اَسلم (سلامتی والا ) ہے چنانچہ صاحب جو ہر ۃ التوحید کہتے ہیں ۔ " وكل خير فى اتباع من سلفوكل شر فى ابتداع من خلف"
سلف کی دلیل ہی اَحکم واَسلم تھی اور وہی قاطع تھی اس لیے حافظ ابن رجب نے" فضل علم السلف على علم الخلف "نامی رسالہ بھی تحریر کیا ہے سلف نے قرآن  و حدیث رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے نقل کیا ہے حدیث متواتر  ہو یا خبر واحد ہر ایک کو انھوں نے یقین کے ساتھ ہم تک پہنچایا ہے وہ عقیدہ و عمل کے باب میں کچھ فرق نہ کرتے تھے چاہے خبر واحد ہی ہو اسے عقیدہ میں بھی قبول کر لیتے تھے چنانچہ عبد العزیز مکی نے مامون الرشید کی سر پرستی میں بشر مریسی معتزلی کے ساتھ جب مناظر ہ کیا تھا تو اس نے مناظرہ شروع ہونے سے قبل یہ شرائط لگائی تھی کہ ہمنقل کو عقل پر مقدم رکھیں گے مامون نے اس کی دلیل دریافت کی تو عبد العزیز نے یہ آیت  پڑھی :  ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا ﴿٥٩﴾...النساء
تو مامون نے یہ بات اور منہج قبول کر لیا ۔
اور امام محمد بن حسن امام ابو حنیفہ کے شاگرد فر ما تے ہیں :
"إتفق الفقهاء كلهم  من المشرق إلى المغرب على الإيمان بالقرآن و الأحاديث بها الثقات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فى صفة الرب عزوجل " (الفتوى الحمويه الكبرى لابن تيمية : ص 29)
یعنی قرآن اور صحیح حدیث کے صفات باری تعا لیٰ میں حجت ہونے میں علماء مشرق و مغرب متفق ہیں ۔ابو الحسن اشعری فر ما تے ہیں :
" و جملة قولنا انا نقربا الله و ملائكة و كتبه  ورسله و بما جاء وابه من عند الله وما رواه الثقات عن رسول الله لا نرد من ذالك شيئا"(الابانة فى أصول الديانة :ص 21)
ان نصوص سے معلوم ہوا کہ نقل یعنی کتاب و سنت کی دلیل مقدم ہوگی اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت علی  رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ  فر ما تے ہیں " لو كان الدين بالرأي لکان أسفل الخف أولى بالمسح من أعلاه " (سنن ابو داؤد)
نیز یاد رہے کہ شریعت اسلامیہ حقیقت   وحکمت  پر مبنی ہے فطرت سلیمہکے عین مطابق ہے عقل سلیم کے خلاف نہیں چنانچہ شیخ الاسلام  ابن  تیمیہ ؒنے یہ بات ثابت کرنے کے لیے بعض کتابیں تصنیف کی ہیں ان میں سے ایک کانام "موافقہ " صحیح المنقول الصریح المعقول " ہے جو محی الدین عبد الحمید کی تحقیق کے ساتھ کے ساتھ  دو جلدوں میں مطبوع ہے دوسری کتاب " ورء تعارض العقل  والنقل "جو ڈا کٹر  محمد شاد سالم کی تحقیق سے نو جلدوں میں مطبوع ہے اور شاہ ولی اللہ کی حجۃ اللہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔بعض فقہاء نے بعض احادیث کا اس بناء پر رد کیا تھا کہ یہ قیاس کے خلاف ہیں تو شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے ان پر کافی رد لکھا ہے اس سلسلے میں ان سے ان کے تلمیذ شہیرحافظ ابن قیمؒ نے جو کچھ تحریر کیا وہ ایک رسالے میں مطبوع ہے جس نام " القیاس فی التشریح الاسلامی "ہے
2۔ دوسرے قاعدے یعنی عدم التاویل کے سلسلے میںیہ بات یاد رہے کہ "تاویل "تین معافی میں استعمال ہوتا ہے :
1۔کسی لفظ کو دلیل کے ساتھ راجح احتمال سے مرجوح احتمال کی طرف پھیرنا یہ متکلمین کے نزدیک ہے ۔
2۔بمعنی تفسیر و بیان :یہ مفسرین استعمال کرتے ہیں جیسا کہ ابن جریرؒ طبری اور محدثین میں سے امام نسائی وغیرہ ۔
3۔تاویل بمعنی حقیت امر :قال تعا لیٰ  : ﴿ هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا تَأْوِيلَهُ ... ﴿٥٣﴾...الأعراف
رفیع الدین نے یہاں تاویل کا معنی حقیقت ہی کیا ہے زیر نظر مضمون میں تاویل کا مطلب تاویل کے پہلے معنی کے مطابق  ہے ۔
حاملین منہج سلف نے متکلمین کی تاویلات کا انکار کیا ہے کیونکہ سلف نقل کو مقدم کرتے تھے عقل کو مرجو ح قرار دیتے تھے جبکہ متکلمین کی اپنی عقل کو تاویل کی دلیل بنا کر تاویل کرتے ہیں حالانکہ اگر صحیح دلیل موجود ہوتو اس کی وجہ ہوتو اس کی وجہ سے راجح معنی سے مرجوح معنی کی طرف التفات  ہو سکتا ہے اور اس کو قبول کیا جا سکتا ہے جیسا کہ حدیث " الجار أحق بعقبه"میں الجار سے مراد جار شریک مقاسم ہے کیونکہ حدیث " فإذا صرف الطرق و وقعت الحدود فلا شفعة "یہ دلیل صحیح ہے جو جار کی تعین کرتی ہیں لیکن اگ لفظ کو ظاہری معنی سے مرجوح معنی کی طرف صرف اس بنیاد پر پھیرا جا ئے کہ وہ فلاں مجتہد کا مذہب ہے اور وہ مذہب ہی دلیل صارف بنائی جا ئے ۔تو یہ صحیح نہ ہو گا جس طرح کہ بعض نے " أيما إمرأة نكحت بغير إذن وليها فنكاحها باطل " میں امراۃ سے مکاتبہ مراد لی ہے یہ صرف اس لیے کہ یہ ان کے امام کا مذہب ہے حالانکہ کلمہ "(أيُّ) عموم کا صیغہ ہے اور ماکے ساتھ  موکد ہے ۔
لہٰذا بغیر کسی دلیل کے راجح معنی سے مرجوح معنی کی طرف پھیرنا تو اللہ کی کتاب کے ساتھ مذاق ہے اور متکلمین مؤولین نے نصوص صفات کی جو تاویلکی ہے وہ بھی بلا دلیل ہے جیسا کہ " إستواء على العرش استيلاء على العرش" وغیرہ سے تاویل ۔
جب بھی خلف کے نزدیک ان کی عقل نقل کے متعارض   ہوئی تو اُنھوں  نے اپنی عقل کو نقل پر مقدم کر کے نقل کا معنی مرجوح کر لیا اور راجح معنی چھوڑ دیا چنانچہ شیخ اسلام ابن تیمیہ ؒ لکھتے ہیں ۔
" ولم يعلموا أوهم يتجاهلون  أن الحجة العقلية الصريحة لا تعارض الحجة الشرعية الصحيحة بل يمتنع  تعارضها الا إذا كان هناك فساد فى أحدهما أو فيها جميعا "
"یعنی متکلمین کو اس بات کا علم ہی نہیں یا وہ جان بوجھ کر جاہل بن بیٹھے کہ صحیح عقلی دلیل صحیح شرعی دلیل کے معارض نہیں ہوسکتی بلکہ ان دونوں کا متعارض ہونا ناممکن ہے ہاں اگر ان دونوں دلیلوں میں سے کسی ایک میں کوئی خرابی یا کمزوری ہو یا دونوں میں کو ئی نقص پایا جا ئے تو تعارض ممکن ہے
  تو اس سے معلوم ہوا کہ سلف تاویل نہیں کرتے تھے اور کتاب و سنت کی نصوص کو ان کے معانی سے بلا دلیل مرجو ح معانی کی طرف نہیں پھیرتے تھے ۔
تاویل کب شروع  ہو ئی ؟
دوسری صدی  ہجری میں چار شخص پیدا ہو ئے ۔
1۔واصل بن عطاء (مولود: 131ھ) یہ فرقہ متعزلہ کار ئیس تھا ان کے مذہب کی بنیاد پانچ اصولوں پر ہے ۔(دیکھئے شرح عقیدۃ طحاویۃ ص334)
2۔جعد بن درہم (124م)یہ معطلہ کار ئیس تھا ۔
3۔جھم بن صفوان (مولود:128)یہ جھمیتہ معطلۃ کارئیس تھا اور جعد کا شاگرد تھا ۔
4۔مقاتل بن سلیمان (مولود150ھ)یہ مشتبہ فرقہ کا ر ئیس تھا ۔جعد نے اللہ نے کی صفات کا انکار  کیا اس کا استاد  وھب بن منبہ اس کو منع بھی کرتا تھا لیکن  یہ باز نہ آیا وھب نے کہا کہ اللہ کا ہاتھ ہے اللہ کلام کرتا ہے اور اللہ کا علم بھی ہے لیکن وہ نہ مانا شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کہتے ہیں ۔کہ سب سے پہلے جعد نے کہا تھا ۔(إن الله سبحانه ليس على العرش حقيقة  و أن معنى استوى  استولى )
۔۔۔پھر یہی بات جھم نے اخذکی اور لوگوں میں پھیلا دی اسی وجہ سے اس فرقہ کا نام جھمیہ پڑا اور جعد کو خالد بن عبد اللہ قرینے عید کے دن ذبح کیا تھا اور کہا تھا۔ (إرجعوا فضحوا  تقبل الله منكم فإنى مضحّ بالجعد بن درهم زعم أن الله بم يتخذ إبراهيم  خليلا و لم یکلم موسی تكليما) (خلق افعال العباد : ص 17)
اور جھم نے کہا کہ انسان مجبور محض ہے اس سے جبریہ فرقہ پیدا ہوا اور اس نے کہا کہ ایمان صرف معرفت کا نام ہے حالانکہ اس تعریف کے مطابق ابلیس بھی مؤمن بنتا ہے اور اس نے کہا جب اہل جنت جنت میں اور اہل نار جہنم میں داخل ہو جا ئیں  گے تو جنت و دوزخ فنا ہو جا ئیں  گی  چنانچہ جھم نے عمداً چالیس  دن نماز نہیں پڑھی اور سوچتا رہا کہ میرارب ہے بھی یا نہیں ؟ایک آدمی نے جھم سے سوال کیا کہ قبل دخول اگر کو ئی اپنی بیوی کو طلاق دے تو کیا حکم ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ اس پر عدت ہے حالانکہ قرآن میں ہے ﴿ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا ... ﴿٤٩﴾...الأحزاب
یعنی اس شکل میں کو ئی عدت نہیں ۔(خلق افعال العباد: ص 9)
اور جھم نے کہا (وددت أن احك من المصحف قوله تعالى :ثم الستوى على العرش ) شرح عقیدہ طحاویہ :ص146)
اور امام ابو حنیفہؒ سے منقول ہے۔(جاءنا من المشرق رأيان خبيثان جهم  معطل  و مقاتل مشبه ) المفسرون بين الإثبات و التاويل: جلد 1, ص 87-86)
3۔سلف کا تیسرا اصول ہے ۔عدم التفریق بین الکتاب والسنۃ یعنی سلف کتاب و سنت سے عقیدہ اخذ کرتے تھے اور سنت کو مستقل  شرعی حجت سمجھتے  تھے چنانچہ  امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں "باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ "قائم  کیا ہے
اور صاحب مشکوۃ نے بھی مشکوۃ شریف میں "کتاب الاعتصام  بالکتاب والسنۃ
قائم کیا ہے ۔
سلف سنت کو وحی سمجھتے  تھے چنانچہ قرآن میں ہے ﴿ وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ﴿٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ ﴿٤﴾ ...النجم یعنی نطق نبی وحی ہے جو اس کی طرف کی جا تی  ہے اور حسان بن عطیہ تابعی کہتے ہیں ۔(عربی) اور ایوب سختیانی کا قول ہے ۔ 
غرض جب حدیث موجود  ہوتی تھی تو سلف  کسی کا قول سننا پسند نہیں کرتے تھے چنانچہ عمران بن حسین نے ایک حدیث سنائی ۔(عربی)
تو بشیرکعب نے کہا "(عربی) تجھے حدیث نبوی سنا رہا ہوں اور تو مجھے اپنی کتاب سنا رہا ہے؟ ۔۔۔
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے فر ما یا ۔
اور امامابن خزیمہ کاقول ہے  
(کتاب التوحید لابن خزیمہ :ص15)
اور امام ابن عبد البرقرطبی  نے کہا : 
یعنی خبر واحد بھی عقیدہ میں حجت ہے ۔پھر اُنھوں نے اپنی سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ ادزاعی نے کہا کہ مکحول اور زھری کہتے تھے ۔
پھر اُنھوں نے امام مالک ادزاعی سفیان بن سعید سفیان بن عینۃ اور معمر بن راشد سے صفات کی احادیث میں یہی بات نقل کی ہے مثلاًحدیث نزول حدیث صورۃ اور حدیث قدم وغیرہ (جامع بیان العلم و فضلہ :ج2ص117۔118۔
امام محمدبن حسن کا قول پہلے گزر چکا ہے شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے لکھا ہے :
"(فتویٰ حمویۃ کبری) یعنی امام محمد نے ابوحنیفہ اور مالک اور ان کے طبقے کے علماء سے علم حاصل کیا ہے اور انھوں نے اس بات پر علماء کا اجماع  نقل کیا ہے کہ صفات باری تعالیٰ میں قرآن اور صحیح حدیث دونوں حجت ہیں ۔پھر امام بخاری ؒ نے صحیح بخاری میں " کتاب اخبار الاحاد " قائم کیا ہے اور امام شافعی نے "الر سالہ "میں مجیت خبر واحد پر بسیط بحث لکھی ہے اور امام ابن حزم نے " الال حکام فی اصول الاحکام "میں تفصیلی گفتگو کی ہے اسی طرح حافظ ابن قیمؒ نے "الصواعق المرسلہ "نامی کتاب میں یک صد صفحات کے قریب تفصیل لکھی ہے
جب نہج  سلف کے تین اصول معلوم ہوگئے  اور ان کے اقوال کو بھی جا بجا ذکر کر دیا گیا تو اب آئیے اس طرف کہ عقیدہ میں سلف کا کیا طریقہ و منہج تھا ۔
1۔جو چیز اللہ تعا لیٰ نے اس کے رسول نے اللہ کے لیے ثابت کی ہے اس کو ثابت کرنا اور ثابت سمجھنا اور اس پر ایمان لانا ۔
2۔ان صفات  کو ثابت کرنے میں اللہ تعا لیٰ کو مخلوقات کی مشابہت سے منزہ پاک سمجھنا
3۔ان صفات کی حقیقت و کیفیت  میں بحث  کرنے سے پر ہیز کرنا چنانچہ  شیخ الاسلام  ابن تیمیہ ؒ اللہ تعا لیٰ کی تمام صفات کے بارہ میں لکھتے ہیں ۔
یعنی قرآن و حدیث  نبوی میں اللہ تعا لیٰ کی جتنی صفات بھی ثابت ہیں وہ اللہ کے لیے ثابت کی جا ئیں نہ ان کا معنی بدلا جا ئے نہ انکار کیا جا ئے نہ کیفیت بیان کی جا ئے اور نہ مخلوق سے تشبیہ  دی جا ئے۔
اللہ کی صفات میں عقیدہ سلف سمجھنے کے لیے چند اصول ہیں جن کا ذکر کیا جاتا  ہے
1۔اللہ تعا لیٰ کی تمام صفات بدرجہ اَتم صفات کمال ہیں ان میں کسی قسم کا نقص نہیں ہے جیسا کہ حیات، علم ،قدرت ،سمع ،بصر، ر حمت، عزت،حکمت،علواور عظمت وغیرہ اللہ تعا لیٰ فر ما تے ہیں ۔
ان آیات سے معلوم ہوا کہ مِن دون اللہ یعنی جن کو وہ اللہ کے علاوہ پکارتے ہیں وہ مخلوق ہیں خالق نہیں اور میت ہیں زندہ نہیں اسی طرح بعث (مرنے کے بعد) کے وقت کا شعور نہیں رکھتے اور دعاؤں کو قبول کرنے والے نہیں بلکہ وہ ان کی دعاؤں سے غافل ہیں اس کے برعکس اللہ تعا لیٰ کی یہ صفتیں ہیں کہ وہ خالق ہے مخلوق نہیں ۔حی (ہمیشہ زندہ ) ہے اس پر موت کبھی طاری نہیں ہو سکتی اس کو لوگوں کے بعث (اٹھنے )کا وقت معلوم ہے وہ دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے اور غافل نہیں جیسا کہ حضرت ابراہیمؑ نے اپنے باپ کو کہا تھا : 
اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین کے معبود سمیع و بصیر اور نافع نہیں ہو تے اور اللہ تعا لیٰ  سمیع و بصیر اور نافع ہے اور غفلت و موت گونگا ہو نا بہرا ہونا نابینا ہو نا نفع نہ دے سکنا پیدا نہ کرسکنا وغیرہ یہ سب نقائص میں اللہ ان سب سے بَری  ہے اس میں کمال ہی کمال ہے اسی لیے اللہ نے نقص والی صفات کی نفی فر ما ئی ہے اور فر ما یا (عربی)اور فر ما یا (عربی) اور فر ما یا (عربی) علاوہ ازیں مرفوع حدیث میں ہے ۔(عربی)اور دوسری حدیث میں ہے۔(عربی)۔۔۔اور اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا :  آخری آیات ۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعا لیٰ نے اپنے لیے "ربالعلمین "کہہ کر کامل صفت ثابت کی ہے اور "سبحان ربک "کہہ کر ان تمام نقائص سے اپنی تنزیہہ کی ہے جو مشرکین اللہ کے لیے ثابت کرتے تھے۔
2۔ اللہ تعا لیٰ کی صفات غیر محصور لامحدود اور لاتعداد ہیں اللہ تعا لیٰ کے ہر نام سے اللہ کی صفت ثابت ہوتی ہے
اور اللہ کے نام بھی غیر محصور اور الاتعداد ہیں جیسے اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا :
 3۔اللہ کی صفات دو طرح کی ہیں ۔
(1)ثبوتیہ (2) سلیہ)
"ثبوتیہ "وہ ہیں جو اللہ تعا لیٰ یا اس کے رسول نے اللہ کے لیے ثابت کی ہیں یہ سب کامل ہیں جیسے علم و قدرت و حیات (عربی) اور وجہ دید۔۔۔ان کو بغیر کسی تاویل  تشبیہ و تحریف کے اللہ کے لیے ثابت کیا جا ئے گا ۔
سلیہ وہ جن کی اللہ نے اپنے سے نفی کی ہے یارسول  اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اللہ سے اس کی نفی کی ہو وہ سب نقص کی صفات ہیں جیسے موت و نوم و جہل و نسیان و عجز و تعجب ونحوھا ۔
صفات سلیہ میں محض ان صفات کی نفی کرنی ہی مقصود نہیں بلکہ اس لحاظ سے نفی ہوتی ہے کہ ان کی ضد کو بطریقہ اتم ،اللہ کے ثابت کیا جا ئے اس لیے کہ نفی اسی وقت کامل ہوسکتی ہے جبکہ اسکی ضد ثابت کی جا ئےمثلاً موت کی نفی کمال حیات کو متضمن  ہے اسی لیے فر ما یا :
اور ظلم کی نفی کمال عدل کو متضمن ہے اور عجز  کی نفی کمال علم و قدرت کو متضمن ہے اسی وجہ سے اللہ تعا لیٰ نے اپنے قول (عربی) کے بعد فر ما یا :
4۔صفات ثبوتہ تمام کی تمام صفات مدح و کمال ہیں اسی وجہ سے اللہ تعا لیٰ نے ان کو تفصیل سے بیان فر ما یا ہے : اور صفات سلیہ کو مجملاً ذکر کیا جیسے (عربی) الایہ کہ
5۔صفات ثبوتہ  دوطرح  کی ہیں ؛
(1)اذاتیہ اور (2)فعلیہ
ذاتیہ وہ ہیں جن کے ساتھ ازل سے متصف ہے اور متصف رہے گا جیسا کہ علم و قدرت ،سمع وبصر، عزت،حکمت،عظمت، وجہ دید اور عین وغیرہ
فعلیہ وہ ہیں جو اللہ کی مشیت سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کا تعلق اللہ کے فعل سے ہے چاہے تو کرے نہ چاہے تو نہ کرے جیسا کہ استواء علی العرش ،نزول الی السماء الدنیا مجی ضحک ،غضب اور محبت وغیرہ ۔
6۔اللہ تعا لیٰ کی صفات ثابت کرتے وقت یہ عقیدہ ہونا ضروری ہے کہ اللہ کی صفات مخلوق کی صفات کی طرح نہیں نیز یہ بھی ضروری ہے کہ اس کی صفات کی حقیقت و کیفیت ہمیں معلوم نہیں اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا :
اس میں اللہ تعا لیٰ نے دو صفتیں سمع و بصر اپنے لیے ثابت کی ہیں ۔اور مخلوق کی مشابہت کی نفی کی ہے اور فر ما یا :
اس میں اللہ تعا لیٰ نے اپنے ناموں میں مخلوق کی مشابہت کی نفی کی  ہے اور فر ما یا  : (عربی)اور فر ما یا : (عربی)ان میں اللہ نے اپنی صفات کی کیفیت کے علم کی انسان کے لیے نفی کی اور اس میں خوض کرنے سے منع فر ما یا ۔
ہم یہ نہیں کہیں گے کہ اللہ کی صفات مثلاً ید (ہاتھ )قدم (پاؤں)ساق (پنڈلی)اصبع(انگلی) عین (آنکھ) وغیرہ مخلوق کی طرح ہیں اور اللہ کی ان صفات کا انکار بھی نہیں کریں گے کیونکہ نصوص میں ان کا ذکر ہے امام مالک ؒ سے سوال کیا گیا کہ قرآن میں ہے ۔
یعنی اللہ تعا لیٰ عرش پر مستوی ہونا مذکور ہے تو اس کے مستوی ہونے کی کیا کیفیت ہے؟
تو امام ما لک ؒ نے اپنا سر جھکا لیا اور انکو پسینہ آگیا اور فر ما نے لگے ۔
یعنی اللہ کا عرش پر مستوی ہونا معلوم ہے (کیونکہ وہ قرآن و حدیث میں مذکورہے )اور اس کیفیت عقل میں نہیں آسکتی اور اس پر ایمان لانا ضروری ہے اور اس کی کیفیت کے بارہ میں سوال کرنا بدعت ہے فتح الباری ضلد 13رح باب
7۔اللہ تعالیٰ کی صفات تو قیفیہ ہیں یعنی جو صفتیں  کتاب و سنت میں وارد ہوئی ہیں وُھی ثابت کی جائیں اسی طرح اللہ تعالی ٰکے اسماء بھی تو قیفی  ہیں اور ہراسم سفت کو متضمن ہوتا ہے اپنی طرف سے اللہ تعا لیٰ کا نہ تو کوئی اسم مقرر کیا جا سکتا ہے اور نہ صفت سو اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا :
نیز فر مایا (عربی)اللہ کے ذمے کو ئی بات نہ کہو جس کا تم کو علم نہ ہو ۔اور کتاب و سنت سے تین طریقوں پر صفات ثابت ہوتی ہیں ۔
1۔کتاب و سنت کسی صفت کی صراحت موجود ہو جیسا کہ عزت و قوت رحمت و بطش اور وجہ وید وغیرہ
2۔یہ کہ اللہ تعا لیٰ کا اسم  صفت کو متضمن ہے جیسا کہ غفور صفت  مغفرت ،سمیع صفت سمع بصیر صفت بصر اور قدیر صفت قدرت کو متضمن ہے ۔
3۔یہ کہ اللہ تعا لیٰ کا کو ئی فعل یا وصف صفت پر دلالت کرے جیسا کہ استواء نزول  مجی اور انتظام  من المجرمین وغیرہ
امام "تلمیذ امام ابو حنیفہ ؒ لکھتے ہیں :
یعنی مشرق اور مغرب کے علماء نے اللہ تعا لیٰ  کی صفات میں یہ طریقہ اختیارکیا ہے کہ کتاب و سنت میں جو صفتیں وارد ہیں ان پر بغیر کسی تاویل 
اور کیفیت اور تشبیہ کے ایمان لایا جا ئے جس نے آج ان میں سے کسی صفت کی تاویل کی تو وہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے طریقے  سے نکل گیا اور اس نے جماعت کو ترک کردیا کیونکہ انھوں نے نہ تو کیفیت بیان کی اور نہ تاویل کی بلکہ انھوں نے وہی صفتیں ثابت کیں جو کتاب و سنت میں ہیں ۔پھر وہ خاموش  ہو گئے ۔(فتویٰ حمویۃ کبریٰ :ص29۔30)
اور امام زھری مکحول اور اوزاعی کا قول بھی گزر گیا ہے کہ 
کہ صفات کی نصوص کو اسی طرح گزارو اور ان پر ایمان لاؤ جس طرح وہ آئی ہیں ان کی تاویل نہ کرو ان کے علاوہ بہت سے علماء ہیں جن سے یہی قول منقول ہے مثلاً امام شافعی ابوبکر آجری ابو عبد اللہ زبیری قاضی شریک  ابو الحسن اشعری ابوحاتم بستی شیخ الحرمین ابو حسن کرخی شیخ الاسلام ابن تیمیہ حافظ ابن قیم اور ابو المظفر السمعانی وغیرھم رحہم اللہ اور متاخرین میں سے شاہ ولی اللہ نے بھی یہی قول اختیار کیا ہے جیسا کہ ان کے مکتوبات کے شروع میں انھوں نے عربی میں امام بخاری اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی مدح کی ہے اور یہی قول اختیار کیا ہے اور اسی کو حق کہا ہے اور شیخ محمد امین شقیطی نے بھی اسی مسلک کی حمایت کی ہے اور خصوصی طور پر متقدمین میں سے جو اس مسلک کی طرف سے کافی دفاع کرتے تھے اور اس کے پھیلانے میں کوشاں تھے ان میں سے امام احمد بن حنبل امام بخاری امامابو سعید عثمان بن سعید دارمی اور امام عبد العزیز بن مسلم الکنانی  المکی وغیرھم ہیں چنانچہ امام احمد اور دارمی نے "کتاب الرد علی الجہمیۃ"نامی کتابیں لکھیں اور دارمی کی ایک کتاب کا نام "کتاب الرد علی بشر المریسی "ہے اور امام بخاری نے "خلق افعال العباد "کتاب لکھی اور صحیح بخاری میں "کتاب التوحید "عنوان منعقد کیا جس میں متعزلہ جھمیتہ پر سخت تنقید کی اور عبد العزیز مکی کی "کتاب الحیدۃ"(جوکہ بشر مریسی کے ساتھ ان کا مناظرہ ہوا ہے)اچھی کتب میں شمار کی جا تی ہے اور ساتویں صدی ہجری کے ادائل میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے سلفی عقیدے کو بہت اُجاگر کیا اور اس کے مخالفین کا تفصیل سے رد لکھا جو لوگ یہ تصور کرتے تھے کہ تاویل والا عقیدہ سلف کا عقیدہ ہے انکو بتا یا کہ یہ سلف کا عقیدہ نہیں بلکہ سلف کا عقیدہ اللہ تعا لیٰ کے اسماء و صفات کی تاویل نہ کرنا ہے اور ان کی کیفیت میں بحث و کرید نہ کرنا اور ان کو مخلوق کی صفات کی طرح نہ سمجھنا  ہے چنانچہ انھوں نے اس سلسلے میں "فتویٰ حمویۃ کبریٰ "اور رسالہ تدمریہ" اور عقیدہ واسطیۃ "وغیرہ بہترین رسالے لکھے ہیں "حمویۃ "میں سلف کی نصوص جمع کر دی ہیں جو کہ اللہ کے اسماء و صفات کو بلا تشبیہ و تکیف مانتے تھے اور یہ حمویہ رسالہ ہے کہ شاہ ولی اللہ جب حرمین تشریف لے گئے تھے  ۔تو انھوں نے جب یہ رسالہ دیکھا تو بہت خوش ہوئے اور اس کو لکھنا شروع کیا تاکہ ان کا بھی ایک نسخہ بن جا ئے اسی طرح امام الجرح والتعدیل حافظ ذہبی جو کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے شاگرد ہیں نےایک کتاب لکھی جس کا نام (عربی)ہے اور شیخ البانی کے اختصار سے مطبوع ہے اس میں بھی انھوں نے سلف کی تصریحات ذکر فر ما ئی ہیں اور حافظ ابن قیم نے" اجماع  الجیوش الاسلامیہ "نامی ایک کتاب لکھی ہے جس میں سلف کی تصریحات درج کی ہیں کہ وہ اسماء و صفات کی تاویل نہیں کرتے تھے اور شیخ الالسلام ابن تیمیہ  نے "رسالہ تدمریہ" میں "معطلۃ "اور مؤولہ "کے شبہات کا جواب دیا ہے اور "واسفیۃ "میں عقیدہ  سلف اختصار کے ساتھ بیان کردیا ہے معتزلہ چونکہ تمام صفات کی نفی کرتے تھے اور اللہ کی ذات کو مانتے تھے صفات کی نفی اس لیے کرتے تھے کہ اگر ہم اللہ کی صفات کو ثابت کریں گے تو مخلوق سے تشبیہ لازم آئے گی تو ان کی اس حجت کو توڑنے کے لیے شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے یہ قاعدہ بیان کیا ہے ۔
اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعا لیٰ کی ذات مخلوق کی ذات کے مشابہ نہیں ہو جس طرح ذات میں اسم یا لفظ کے اتفاق سے مسمی و مفہوم کا اتفاق  ضروری نہیں ہے (اور یہ معتزلہ کو بھی مسلم ہے ورنہ وہ اللہ کی ذات کی بھی نفی کرتے کیونکہ یہاں بھی لفظی مشابہت ہے چنانچہ جب اسم کے اتفاق سے مسمی کا اتفاق ضروری نہ ہوا )تو پھر بعینہ اللہ کی صفات میں بھی یہی قاعدہ ہے کہ لفظی اتفاق سے معنوی اتفاق نہیں جیسا کہ جنت کی نعمتیں اور دنیا کی نعتیں یکساں نہیں صرف نام میں اتحاد ہے لیکن ان کی حقیقت و کیفیت میں زمین و آسمان کا فرق ہے ابن عباس  رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ  کا قول ہے
"جنت میں دنیا کے کھانوں کے صرف نام ہیں تو جب معتزلی کہے گا کہ میں اللہ کے استواء علی العرش کی نفی کرتا ہوں اس لیے کہ استواء تو مخلوق  کی بھی صفت ہو تی ہے تشبیہ لازم آئے گی تو اس سے پوچھا جا سکتا ہے کہ پھر تم اللہ کی ذات کی بھی نفی کرو کیونکہ ذات تو مخلوق کی بھی ہو تی ہے اگر اللہ کے لیے ذات ثابت کرے گا تو بھی معتزلی نظریہ کے مطابق تشبیہ لا زم آجائے گی۔
اگر معتزلی کہے کہ ذات میں تشبیہ لازم نہیں آتی کیونکہ اللہ کے وجود  و ذات جیسا کو ئی نہیں تو ہم کہیں گے اسی طرح اللہ کی شان کے لا ئق ہیں مخلوق کی صفات کی طرح نہیں تو ہم کہیں گے ۔اسی طرح اللہ کی تمام صفتیں اللہ کی شان کے لا ئق ہیں وہ مخلوق کی صفات کی طرح نہیں تو صفات میں بھی تشبیہ لازم نہیں آتی جس طرح اللہ کی ذات جیسی کو ئی ذات نہیں اسی طرح اللہ کی صفات جیسی کو ئی صفات نہیں 
اللہ نے آپنے آپ کو سمیع و بصیر کہا اور (عربی) میں انسان کو سمیع و بصیر کہا ہے اور (عربی) کہہ کر تشبیہ کی نفی کر دی ہے ۔اور بعض متکلمین مؤدلہ صرف سات صفات تسلیم کرتے ہیں چنانچہ صحیح بخاری کے حاشیہ (ص96)میں لکھا ہوا ہے ۔(عربی) یعنی اللہ تعا لیٰ کی وجودی صفات ساتھ ہیں اور ان کے علاوہ باقی رحمت و خلق وغیرہ تمام صفات کی ان میں سے کسی کےساتھ تاویل کریں گے اور امام بخاری ؒ نے صحیح بخاری میں یہ باب قائم کیا ہے "باب قول اللہ تعا لیٰ (عربی)اور حاشیہ میں ہے (عربی) یعنی امام بخاری کی غرض اس باب سے اللہ کے لیے  صفت رزاقیت ثابت کرنا ہے اور وہ صفت قدرت کی طرف مراجع ہے اور اسی طرح اللہ کے صفت محبت کا تذکرہ حدیث میں موجودہے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر مایا  ۔(عربی) "یعنی سورۃ اخلاص پڑھنے والے کو بتا دو کہ اللہ تعا لیٰ اس سے محبت کرتا ہے اس مقام پر بخاری کے حاشیہ میں کہا گیا ہے کہ (عربی) یعنی اللہ تعالیٰ کے محبت کرنے کا مطلب ہے کہ لوگوں کو ثواب دینے کا ارادہ کرنا ۔اسی طرح امام بخاری نے یہ باب باندھا ہے (عربی) رحمٰن اللہ کا نا م ہے اور صفت رحمت کو متضمن ہے لیکن حاشیہ میں ہے (عربی) اس طرح کی کا فی مثالیں حاشیہ بخاری میں موجود ہیں کہ امام بخاری سلفی عقیدہ کے مطابق اپنی کتاب صحیح بخاری میں اللہ تعا لیٰ کی صفات کتاب و سنت ثابت کرتے ہیں اور حاشیہ صحیح بخاری میں سلف کے طریقہ سے ہٹ کر خلف کے طریقے کے مطابق ان کی تاویل کی جا تی ہے ۔
سات صفتوں کے علاوہ باقی صفات کو انہی کی طرف لو ٹا یا جا تا ہے جیسا کہ صفت رزاقیت کی صفت قدرت کے ساتھ اور صفت محبت کی صفت ارادہ کے ساتھ اور اسی طرح رحمت کی ارادہ کے ساتھ تاویل کی گئی ہے مؤولین اسی طرح کرتے ہیں اور صفات باری تعا لیٰ کو ثواب و عقاب کے ارادے  کی طرح یا نفس ثواب  و عقاب کی طرف لو ٹاتے ہیں حالانکہ اللہ صفات  غیر مخلوق ہیں اور ثواب و عقاب مخلوق ہیں اور محبت و رحمت کی تاویل اس لیے کرتے ہیں کہ رحمت کا معنی "رقت قلب" اور محبت کا معنی (عربی) ہوتا ہے جبکہ یہ اللہ تعا لیٰ کے لیے محال ہے حالانکہ ارادہ میں بھی یہی اعتراض ہو سکتا ہے کہ ارادہ بھی (عربی)ہو تا ہے یعنی مرید (ارادہ کرنے والا)کا اپنے ارادہ میں کسی موافقت کرنے والے کی طرف میلان اور جھکا ؤ ۔سو مؤولین کے نزدیک یہ بھی محال ہونا چاہیے اور ان کو ارادہ کی بھی تاویل کرنی چاہیے اصل بات یہ ہے محبت ،رحمت ،رازقیت،ضحک (ہنسنا )وغیرہ اللہ تعا لیٰ کی مستقل صفتیں ہیں اور جن کے ساتھ ان کی تاویل کی جاتی ہے اور مستقل صفتیں ہیں اور اسی طرح انعام ،احسان ،عطااور اثابت وغیرہ اللہ کی مستقل صفتیں ہیں اور پہلے  یہ بیان ہو چکا ہے کہ اللہ تعا لیٰ کی صفتیں لاتعدداد  ہیں تاویل کے قول کے مطابق تو یہ محصو ر ومحدود ہو جا تی ہیں اور بھی سات رہ جا تی ہیں اور یہ طریقہ امام بخاری ؒکے منہج اور عقیدہ کے سراسر خلاف ہے صحیح بخاری کے ابوب میں خصوصاً کتاب التوحید میں جو ان کی غرض نہیں ہو تی اس کو اپنی طرف  سے امام بخاری کی غرض بنا لیا جا تا ہے حالانکہ اماما نخاری ؒ اس سے بری ہو تےہیں ۔
مثلاً صفت رحمت کی تاویل اگر ارادہ یا احسان یا افضال وغیرہ  کے ساتھ کی جا ئے تو صفت رحمت کا انکار تو ہوہی جا تا  ہے شیخ الالسلام ابن تیمیہ ؒ نے اس جگہ مؤولین کے رد کے لیے ایک قاعدہ ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ :
یعنی جو لوگ صرف سات صفتوں کو مانتے ہیں اور باقی  صفات کی تاویل کر کے ان کو سات کی طرف لوٹاتے ہیں ان سے کہا جا سکتا ہے کہ ان صفات میں جن کو تم مانتے ہو اور ان میں جن کی تم نفی کر کے تاویل کر لیتے ہو کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ یہ سات صفات اگر مخلوق کی صفات کی طرح نہیں تو پھر باقی صفات کو بھی  مخلوق کی صفات کی طرح کہہ کر انکار یا تاویل کرنا لازمی نہیں چنانچہ اگر یہ سات صفات مخلوق کی صفات کی طرح نہیں بلکہ اللہ کی شان کی جس طرح لائق ہیں اسی طرح ہیں تو لازم ہے کہ باقی صفات کو بھی اسی طرح ثابت مانا جا ئے کہ اس کی رضا و محبت ،غضب و رحمت وغیرہ مخلوق کی رضا و محبت غضب و رحمت کی طرح نہیں چنانچہ سلف تمام صفات  کو مستقل صفات مانتے تھے کسی دوسری صفت کی طرف نہیں لوٹاتے تھے مثلاً استواء نزول مجی و کلام ،محبت و رحمت ،رضا و ضحک ،تعجب ،فرح ،غضب ووجہ نفس دید ،اصا بع ساق اور عین و قدم و غیر ہ صفات کو اللہ کے لیے ثابت کرتے تھے اور ان کی کیفیت میں بحث نہیں کرتے تھے اور نہ ہی ان کی تاویل کرتے تھے اورنہ ہی تشبیہ دیتے تھے ۔
اور مؤولین استواء کی استیلاء (غلبہ )اور نزولُالرب کے نزول ملک یامنزل امرو رحمت اور مجی کے مجی امر یا مجی ملک اور کلام کی کلام نفسی اور وجہ کی ذات مع نفی الواجہ اور نفس کی علیم اور یدکی قدرت اور ساق  کی شدت اور عین کی حفظ و عنایت اور قدم کی رعب  یا جماعت وغیرہ کے ساتھ تاویل کرتے ہیں ۔جو بالکل بلادلیل ہے ۔
مؤول پہلے مشبہ بنتا ہے کیونکہ اس نے صفات کی نصوص سے وہ معنی سمجھا جو اللہ اور اس کے رسول نے مراد نہیں لیا مثلاً رحمت میں رقت قلب اور غضب میں غلیان الدم اور محبت میں میلُ القلب پھر جب اس مؤول نے تاویل کی اور اس کو اس معنی سے پھیر ویا جو ان کا تشبیہ کے بغیر معنی تھا جو کہ اللہ اور اس کے رسول نے مراد لیا تھا تو وہ مؤول معطل ہوا ۔
سلف نے صفات کا انکار نہیں کیا اور نہ ہی مخلوق سے تشبیہ دی اور نہ تاویل کی تو ہ معطلہ اور مشبہہ کے درمیان ہو ئے اور یہی سلامتی والا طریقہ ہے امام بخاریؒ نے صحیح بخاریؒ میں اللہ تعا لیٰ کی صفت کلام کو مختلف  دلائل سے ثابت کیا ہے کہ اللہ تعا لیٰ کا کلام لفظی ہے صوت (آواز والا )ہے جب چاہے کلام کرے جس سے چاہے کرے اہل جنت سے یا ملائکہ سے انبیاؑء سے یا اہل محشرسے اس کا کلام مسموع یعنی سنا جا سکتا ہے اس کا کلام اس کی صفت غیر مخلوق کے کلام کی طرح نہیں مخلوق کا کلام قریب والے ہی سن سکتے ہیں اور اللہ کا کلام محشر میں سب اہل محشر یکساں طور پر سنیں گے ۔
خلف کو ن ہیں ؟
خلف وہ ہیں جنہوں نے سلف کا طریقہ چھوڑ کر اور طریقہ اختیار کیا یا صفات باری تعا لیٰ کا انکار  کیا جیسا کہ جعد بن درھم جھم بن صفوان اور واصل بن عطاء وغیرہ ۔۔۔اور جو ان کے مقلدین ہو ئے ہیں یا جنہوں نے سرے سے بظاہر انکار تو نہیں کیا لیکن ان کی تاویل کی خلف کا طریقہ یہ رہا ہے کہ عقیدہ ایسی دلیل سے ثابت ہو گا جو قطعی الثبوت اور قطعی الدلالۃ ہوا س میں خبر واحد جمیع  اقسام داخل نہیں کیونکہ وہ ان کے ہاں ظنی الثبوت ہے اور قرآن مجید کی وہ آیات جو ان کے ہاں ظنی الدلالۃ ہیں بھی خارج ہو گئیں بلکہ بعض خلف تو آیات صفات فعلیہ کو متشابہات میں شامل سمجھتے ہیں جو سراسر غلط ہے پھر ان خلف کا طریقہ ہے کہ تعارض کے وقت عقل کو نقل پر مقدم کیا جا ئے گا حالانکہ حقیقت میں وہاں تعارض بالکل نہیں ہوتا صرف ان کے مذہب کا آیات سے تعارض ہو تا ہے اور وہ اپنے طریقے کو اَحکم (مضبوط تر) کہتے ہیں ان کا طریقہ یہ بھی ہے کہ صفات باری تعا لیٰ کی نصوص کی حق سے بعید تر تاویل کی جا ئے چنانچہ امام الحرمین جو ینی نزول اللہ الی السماء الدنیا کی" نزول الملائکہ "سے تاویل کرتے ہیں اور قدم  کی کسی بادشاہ کے قدم کے ساتھ یعنی کو ئی بادشاہ اپنا قدم جہنم پر رکھے گا امام الحرمین یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حدیث خبر واحد ہے اگر ہم انکار بھی کر دیں تو کو ئی حرج نہیں لیکن چونکہ حدیث متفق علیہ تھی تاویل شروع کر دی ۔دوسری صدی ہجری میں واصل بن عطاء پیدا ہوا اور حسن بصری کے شاگردوں میں سے تھا معتزلی بن گیا اور ابو علی محمد بن عبد الوحاب الجبائی بھی معتزلی تھا ابو الحسن علی بن اسمٰعیل الاشعری ابو علی جبائی کا شاگرد تھا اور چوتھی صدی ہجری ان کا زمانہ ہے ۔
پہلے اشعری بھی معتزلی تھا پھر اپنے استاد ابو علی سے مناظرے کئے معتزلہ کا مسلک چھوڑ دیا پھر ابو محمد عبد اللہ بن محمد بن سعید بن کلاب (240ھ) کا تاویل والا مسلک اختیار کیا اور یہ اشعری کا دوسرا مرحلہ تھا اس مرحلہ پر اشعری کا مذہب مشہور ہو گیا اسی وجہ سے مؤولہ فرقہ کو اشاعر ہاشعر یہ بھی کہا جا تا ہے ،اور جن علماء نے یہ قول اختیار کیا ان میں سے چند یہ ہیں ۔قاضی ابو بکر محمد بن طیب باقلانی ابو بکر حسن بن فورک شیخ ابو اسحاق ابراہیم بن محمد مہران اسفرا ئینی شیخ ابو اسحاق ابراہیم بن علی بن یو سف شیرازی ابو حامد غزالی ابو الفتح محمد بن عبد الکریم شہر ستانی فخر الدین رازی اور امام الحرمین جوینی وغیرہ انھوں نے اس کی تشہیر کی انہی کی وجہ سے تاویل کا مذہب زیادہ پھیل گیا ان میں سے اکثر فروع میں شوافع کہلاتے تھے اور جو لوگ فروع میں " احناف" کہلاتے ہیں انھوں نے عقیدہ میں ابو منصور ماتریدی کا مذہب اختیار کیا اور ماتریدی کہلائے ۔ماتریدی  کا مذہب بھی تاویل کا ہے ابو الحسن اشعری چالیس سال تک معتزلی رہے پھر پندرہ دن اپنے گھر رکے رہے پھر جمعہ کے دن نکل کر لوگوں کے سامنے اپنے اعتزال سے تو بہ کرنے کا اعلان کیا پھر کلابیہ کے طریقے پر رہے یعنی ساتھ صفات کو ثابت کرنا اور باقی کی تاویل  کرنا ۔پھر ان پر تیسرا مرحلہ آیا اور تمام صفات کو ثابت کرنا شروع کیا اور سلف کا عقیدہ اختیار کیا اسی دورا ن انھوں نے " الابانہ اصول الدیانہ "نامی کتاب لکھی اب اگر ان کی طرف ان کے پہلے یادوسرے مرحلے ولامذہب منسوب کیا جا ئے تو یہ ظلم ہے اس لیے حافظابن عساکر متوفی 571ھنے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نا م "تبیین کذب المفتری علی ابی الاشعری "ہے اس میں انھوں نے ان حضرات کا رد کیا ہے جو اشعری کی طرف غلط نظریات منسوب کرتے ہیں ابو الحسن اشعری نے اپنی ابانہ کتاب میں سلف کے مذہب کی ترجمانی کی ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں ۔
"یعنی یہ فصل اہل حق اورا ہلسنت کے قول کی وضاحت میں ہے ۔ اگر ہمیں کو ئی کہے کہ تم معتزلہ وغیرہ کے قول کا انکار کرتے ہو تو تمھارا اپنا قول اور عقیدہ کیا ہے تو جواب یہ ہے جس قول کے ہم قائل ہیں اور جس طریقے پر ہم چلتے ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ کی کتاب اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنت اور صحابہ کرام و تابعین   رضوان اللہ عنھم اجمعین   اور حدیث کے اماموں سے جو کچھ مروی ہے اس کو مضبوطی سے پکڑ نا اور ہم اسی کو مضبوطی سے پکڑنے والے ہیں اور جو اس کے مخالف ہے اس سے علیحدگی اور مخالفت کرنے والے ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ تعا لیٰ کا چہرہ ہے اور ہاتھ ہیں اور آنکھ ہے اور سنناناور دیکھنا ہے لیکن ان سب کی کیفیت ہم نہیں  جا نتے ۔کیونکہ قرآن مجید سے یہ ثابت ہے اور ہم معتزلہ وغیرہ کی طرح ان صفتوں کی نفی نہیں کرتے اور ہم اللہ کے لیے صفت قوت ثابت کرتے ہیں اور ہم کرکہتے ہیں کہ اللہ کا کلام غیر مخلوق ہے ۔۔۔الخ "
ہر اشعری مقلد کو ہماری یہ نصیحت ہے کہ وہ "ابانہ "کتاب کا بغور مطالعہ کرے اور ابو الحسن اشعری کی پہلے اور دوسرے مرحلے کی تقلید چھوڑ دے اس لیے مذکورہ بڑے بڑے علماء پہلے اشعری عقیدے پر تھے پھر جب انہیں پتا چلا کہ یہ طریقہ صحیح نہیں اور سلف کے طریقے میں ہی خیر ہے تو انھوں نے بھی سلف کا طریقہ اختیار کیا چنانچہ ان میں سے بعض کا ذکر کیا جا تا ہے
امام الحرمین الجوینی (الاب )ابو محمد عبد اللہ بن یوسف الجوینی پہلے بہت بڑے مؤول تھے اور تاویل کے بہت حامی تھے ان کی بعض تاویلات کا ذکر پہلے ہو چکا ہے ۔پھر انھوں نے رجوع کر لیا تھا اور رجوع کرنے کے بعد انھوں نے اپنے اساتذہ کی اصلاح کی خاطر ایک رسالہ لکھا جس کا نام 
ہے اور ایک اور رسالہ جس کا نام النصیحۃ فی الصفات ہے یہ رسالہ بہت ہی اچھا ہے اس میں امام صاحب نے اپنے اساتذہ کو صفات باری تعا لیٰ کے اثبات میں بہت اچھی نصیحتیں کی ہیں ۔ہر مؤول کو اس کا مطالعہ کرنا ضروری ہے ۔امام الحرمین الجوینی (الابن ) ابو المعالی عبد الملک بن عبد اللہ بن یوسف الجوینی متوفی 478ھانھوں نے ایک رسالہ لکھاجس کا نام النظامیہ اور الغیاثی ہے اس میں سلف کے مذہب کی حمایت کی ہے شروع میں خود تاویل میں مشغول تھے پھر نادم ہو ئے تو بہ کی اور ان کے یہ الفاظ تھے (عربی) یعنی اب اگر میرے رب نے مجھ پر رحمت نہ کی تو میں ہلاک ہو جا ؤں گا ۔(شرح عقیدہ طحاوۃ :ص228)
اور انھوں نے کہا کہ اے میرے ساتھیوں !علم کلام میں مشغول نہ ہو نا اگر مجھے پہلے معلوم ہو تا کہ علم کلام مجھے اس حد تک پہنچا دے گا جس حد کو میں پہنچ چکا ہوں تو میں اس میں مشغول ہی نہ ہو تا (شرح عقیدہ طحآویہ :ص228)    
الامام الغزالی متوفی 505ھ:امام غزالی شیخ الحرمین ابو المعالی جوینی کے شاگرد ہیں پہلے علم کلام میں مشغول تھے اور انھوں نے " الاقتصاد فی علم الکلام "کتاب لکھی آخر کار مسائل کلامیہ میں حیرت زدہ ہو ئے پھر انکو چھوڑ دیا اور حدیث کی طرف متوجہ ہوئے جب وہ فوت ہو ئے تو صحیح بخاری ان کے سینے پر تھی (شرح عقیدۃ طحاویہ :ص227)
اور تو بہ کرنے کے بعد انھوں نے علم کلام کے خلاف یہ کتاب لکھی (عربی) اور ایک رسالہ "بغیۃ المریدفی مسائل التوحید" لکھا اسی طرح ابو الفتح اشہر ستانی (متوفی 548ھ) نے علم کلام کے رد میں ( نہایۃ الاقدام فی علم الکلام )کے نام  سے کتاب لکھی ۔
ابو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسین الرازی المفتر :انھوں نے بہت ہی علم کلام پڑھا اور حمایت بھی کی آخر کار ندامت کا اظہار کیا اور یہ شعر کہا:
"یعنی ہم نے اپنی عمر دراز میں یہی چیز حاصل کی کہ ہم نے قبل و قال اکٹھا کردیا ۔انھوں نے مزید کہا:
یعنی میں نے علم کلام اور فلسفے کے طریقوں کو غور سے دیکھا تو ان کو پیاسے کی پیاس کو بجھا تے اور بیمار کو شفا دیتے نہیں پایا اور سارے طریقوں  سے حق کے زیادہ قریب  قرآن کے طریقے کو دیکھا ہے چنانچہ میں اللہ کی صفات کو ثابت کرنے میں (عربی)ہوں اور تشبیہ کیفیت کی نفی میں (عربی) اور (عربی) پڑھتا ہوں :
پھر انھوں نے کہا "(عربی) یعنی جس نے میرے جیسا تجربہ کیا ہو اس کو علم کلام کے بارہ میں میرے جیسی معرفت حاصل ہو جا ئے گی ۔(شرح عقیدہ طحاویہ :ص228)
علم کلام اورسلف :
علم کلام وہ علم ہے جس میں صفات باری تعا لیٰ کی نصوص کی ایسی تاویل کی جا تی ہے جو سلف نے نہیں کی اور نہ ہی سلف کے منہج میں وہ مقبول ہے علم کلام میں کا فی کتب لکھی گئی ہیں مثلاً "المواقف "عضد الدین ایحیی کی اور "عقائد نسفی "نامی رسالہ ہے نسفی کا اور اس کی شرح تفتازانی اور اس کا حاشیہ خیالی کا اور "الاقتصافی علم الکلام "غزالی کی وغیرہ سلف کے منہج کے حاملین نے جب دیکھا کہ تاویل کا منہج سلامتی و متانت والا نہیں تو انھوں نے اس کے سد باب کے لیے بہت کوشش کی بعض نے مستقل کتابیں لکھیں اور اس کے نقصانات کو واضح کیا اور بتایا کہ دراصل یہ منہج فلاسفہ  یو نان کی طرف سے بطریق معتزلہ و جھمیہ اسلام میں گھس آیا ہے چنانچہ حافظ ابو عمر ابن عبد البر نے اپنی کتاب "جامع بیان العلم و فضلہ "میں اس علم کی مذمت کی ہے اور شیخ الاسلام ابو اسمٰعیل  الروی نے اس کی مذمت میں مستقل اور مستند کتاب لکھی جس کا نام (عربی) ہے جس کی امام سیوطیؒ نے تلخیص کی ہے اور اس کا نام "صون المنطق والکلام عن فنی المنطق والکلام " رکھا ہے اور اس میں ان سلف صالحین کے کافی اقوال درج کئے ہیں جنہوں نے علم کلام کو کراہت کی نظر سے دیکھا اور اسی طرح مدارس و ینیہ میں مقرر  شدہ کتاب شرح عقیدہ طحاویہ میں بھی جابجا علم کلام کی مذمت پائی جا تی ہے پھر لطف کی بات یہ ہے کہ جن علامء پر اس فن کا اکثر دارومدار تھا انھوں نے بھی اس سے رجوع کر لیا تھا اور ندامت کا اظہار کیا تھا جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے ۔
علم کلام کے بارے میں سلفی علماء کے بعض اقوال :
   1۔امام ابو حنیفہ ؒ کا قول :ایک آدمی نے امام صاحب سے سوال کیا کہ بعض لوگ اعراض و اجسام کے بارہ میں بحث کرتے ہیں امام صاحب نے کہا :
یعنی الحیات میں اعراض و اجسام کے بارہ میں جو لوگ گفتگو  کرتے ہیں دراصل فلاسفہ کی باتیں ہیں تو ان سے بچ کر حدیث کو لازم پکڑے رکھ اور سلف کے طریقے کو چھوڑ اور نئی بات سے بچ کیونکہ وہ بدعت ہے (صون المنطق: ص33)
2۔امام مالک ؒ کا قول :میں دین میں  کلام  پسند نہیں کرتا مدینہ والے بھی اس کو مکروہ جانتے رہے اور اس سے منع کرتے رہے (جامع بیان العلم و فضلہ :ج2ص96)حافظ ابن عبد البر نے کہا کہ اللہ کے اسماء صفات میں تاویل کرنا اہل بد عت معتزلہ وغیرہ کا مذہب ہے اور امام مالکؒ نے جو کچھ کہا وہی پہلے اور پچھلے فقہاء اور علماء حدیث و فتویٰ کا قول ہے ۔(حوالہ مذکور)
3۔امام شافعی ؒ کا قول: (عربی)(صون المنطق : ص31)یعنی اہل کلام کے بارے میں میرا یہ فیصلہ ہے کہ ان کو چھڑی سے سزادی جا ئے اور اونٹوں پر بٹھا کر مختلف قبائل میں پھیرا یا جا ئے اور اعلان کیا جا ئے کہ جو کتاب و سنت کو چھوڑ کر علم کلام کی طرف متوجہ ہو اس کی سزایہی ہے ۔
4۔اور امام احمد ؒ اہل کلام کے بہت مخالف تھے اور وہ ان سے بات بھی کرنا پسند نہیں کرتے تھے اور اپنے تلامذہ کو بھی منع کرتے تھے اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ نے اس موضوع پر بہت کچھ لکھا ہے جس کا اس جگہ احاطہ ناممکن ہے ان کے اقوال میں سے ہے ۔(عربی) یعنی متکلمین وغیرہ نے کتاب و سنت کے خلاف جتنی بھی بدعات نکالی ہیں وہ بلاشبہ سب کی سب باطل ہیں (النبوت :ص128)نیز کہا
"یعنی یہ اہل بدعت جو اہل فلسفہ اور ان کے پیرو کاروں یعنی خلف کے طریقے کو سلف کے طریقے پر فضیلت دیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے سلف کے طریقے کے بارہ میں یہ گمان کرلیا ہے کہ ان کا طریقہ صرف قرآن و حدیث کے الفاظ پر ایمان لانا ہے اور ان کو سمجھنا نہیں ہے اور وہ سلف اَن پڑھوں (جاہلوں )کے مرتبے میں تھے جن کے بارہ میں اللہ نے فر ما یا ہے ان میں سے کچھ لوگ ان پڑھ ہیں جو کتاب کو اپنی آرزوؤں کی حد تک جانتے ہیں اور انھوں نے یہ گمان کیا ہے کہ خلف کاطریقہ مجاز اور غریب لغت کی اقسام کے ساتھ نصوص کے معانی کو اور ان کی حقیقتوں کو استنباط کرنا  ہے یہی وہ فاسد ظن (گمان) ہے کہ جس کے نتیجے میں ان لوگوں نے ایسی بات کہہ دی ہے جو اسلام کو پس پشت ڈالنے کو متضمن ہے اور انھوں نے سلف کے طریقے کی تکذیبکی اور خلف کے طریقے کودرست کہنے میں خود گمراہ ہو گئے اور اس گمراہیکی وجہ یہ ہے کہ ان کا عقیدہ یہ ہوا کہ واقع  میں اللہ تعا لیٰ کی وہ صفت نہیں ہے جس پر کتاب و سنت کی تصریحات نے دلالت کی ہے ۔
علم کلام کے مسا ئل کا مختصر خاکہ :
علم کی تعریفو تقسیم علم کی تعر یفات پر مفصل بحث تصور و تصدیق کی تعریف علوم ضرور یہ پر گفتگونظر و وجوب نظر میں بحث کیاسب سے پہلا واجب اللہ کی معرفت میں فکر یا اس  کا قصد پھر احوال و جو د و عدم میں بحث اور وجود کے تصور میں بحث کہ بدیہی ہے یا غیر بدیہی مشترک ہے یا غیر مشترک کیا و جود ذات ہے یا ذات سے زائد پھر واجب و ممکن و ممتنع کے احکامات اور واجب و ممکن کے خواص میں بحث اور جو ہر عرض کم خلا ملاًاور جوہر فرد کے بارہ میں کلام ۔اور متکلمین اللہ تعا لیٰ کی جب صفات ذکر کرتے ہیں تو اسلوب نفی میں کرتے ہیں حالانکہ یہ اسلوب قرآن مجید کے اسلوب کے خلاف ہے چنانچہ معتزلہ متکلمین کہتے ہیں کہ اللہ تعا لیٰ کا تعارف یہ ہے :
یعنی مذکور ہ بالا اسلوب و نفی میں کچھ حق ہے اور کچھ باطل جس کو کتاب و سنت کی معرفت ہے اس کے لیے یہ واضح ہے اور یہ نفی محض جبکہ اس میں کو ئی مدح نہ ہو یا مدح کو متضمن نہ ہو اس میں موصوف کی بے ادبی و گستاخی ہوتی ہے کیونکہ اگر کسی بادشاہ کی تعریف میں کہا جا ئے کہ اے بادشاہ سلامت تم کوڑاکرکٹ اٹھانے والے جھاڑ و دینے والے حجام اور جولا ہے نہیں ہو تو بادشاہ ایسی تعریف پر ضرور سزادے گا اگرچہ آپ صحیح ہی کہہ رہے ہوں اور آپ کو بادشاہ  کی مدح  کرنے والے اسی وقت سمجھاجائے گا کہ جب آپ نفی میں اجمال سے کام لیں اور کہیں :اے بادشاہ سلامت تم اپنی رعیت میں سے کسی جیسے نہیں تو ان سب سے اعلیٰ اور شرف والے اور بڑے ہو اور اللہ تعا لیٰ کا تعارف قرآنی اور حدیثی شرعیالفاظ کے ساتھ یہ اہل حق کا طریقہ رہا ہے (شرح عقیدہ طحاویہ :ص109)