﴿اَلَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ ... ﴿١٢١﴾...البقرة
جنہیں کتاب دی گئی ہے وہ یہود و نصاریٰ ہیں ابن زید ابن جریر نے اس کو اختیار کیا ہے قتادہ نے کہا :اس سے مراد صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  ہیں حضرت عمر رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ  نے فر ما یا :حق تلاوت کا مطلب یہ ہے کہ جب جنت کا ذکر آتا ہے تو جنت کا سوال کرتے ہیں اور جب جہنم کا ذکر آتا ہے تو پناہ مانگتے ہیں ۔رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے یہ بات مرفوعاً ثابت ہے کہ جب آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  رحمت کی آیت تلاوت فر ما تے تو اللہ سے رحمت کا سوال کرتے اور جب عذاب کی آیت پڑھتے تو اللہ سے پناہ مانگتے ۔

عبد اللہ بن مسعود  رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ  نے حق تلاوت سے متعلق فر ما یا کہ اس کا مطلب ہے :حلال کو حلال جانے حرام کو حرام جا نے اور جس طرح قرآن نازل ہوا اسی طرح پڑھے یہ نہ کرے کہ کلمات کو انکی جگہ سے بدل دے ۔یاقرآن کے مطلب کو کسی دوسری جگہ لگانے کی کو شش کرے ابن عباس  رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ  سے بھی یہی بات منقول ہے حسن بصریؒ نے فر ما یا مطلب یہ ہے کہ محکم پر عمل کرے اور متشابہ پر ایمان لا ئے جو مشکل ہو اسے اللہ پر چھوڑ دے اور ابن عباس  رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ  عبد اللہ بن مسعود  رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ  کا یہ فر ما ن بھی ہے کہ حق تلاوت سے مرادپوراپورا اتباع کرنا ہے پھر یہ آیت پڑھی ۔﴿والقمر إذا تلها﴾

۔۔۔اسی طرح حضرت عکرمہ  رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ  حضرت عطاء اور حضرت مجاہدؒ سے مروی ہے بلکہ عبد اللہ بن عمر  رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ  نے اس مطلب کو مرفوعاً روایت کیاہے کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ﴿ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ ﴾ ہی میں فرمایا ۔(يتبعونه حق اتباعه) ۔۔۔اسکی سند اگرچہ سخت ضعف ہے مگر ابن کثیرؒ نے کہا کہ معنی  صحیح ہے ۔ ابو موسی اشعری ؒ نے فر ما یا کہ جو آدمی قرآن کیا تباع کرتا ہے ور اس کے سبب ریاض و الجنہ میں داخل کیا جا تا ہے ۔

یہ فر مان کہ کتاب پڑھنے والے ہی یقین لاتے ہیں سے مراد یہ ہے کہ اہل کتاب میں سے جو اپنی کتاب پر کماحقہ  عمل کرتا ہے وہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  پر بھی ایمان لا تا ہے جیسے قرآن مجید میں ہے ۔

﴿ وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِم مِّن رَّبِّهِمْ لَأَكَلُوا مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم ...﴿٦٦﴾...المائدة
"اور اگر وہ توراۃ اور انجیل کو اور جو دوسری کتابیں ان کے پروردیگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئیں ۔انکو قائم رکھتے تو ان پر رزق (مینہ کی طرح )برستا اور وہ اپنے اوپر پاؤں کے نیچے سے کھا تے ہیں ۔

دوسری جگہ فر ما یا :

﴿ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَسْتُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ حَتَّىٰ تُقِيمُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ ...﴿٦٨﴾...المائدة
(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کہہ دیجئے ) اے اہل کتاب جب تک تم توراۃ اور انجیل کو اور جو دوسری کتابیں تمھارے پروردیگار کی طرف سے نازل کی گئیں ان کو قائم نہ رکھو گے تو تم کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے ۔

یعنی تم اگر توراۃ اور انجیل پر کماحقہ عمل کروگے اور رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بعث اتباع اور صفت رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے متعلق دی گئی خبروں کی صحیح معنوں میں تصدیق کرو گے یہ بات تمہیں حق کی طرف لے جا ئے گی ۔
جیسے قرآن مجید میں ہے:

﴿الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ ...﴿١٥٧﴾...الأعراف
"وہ جو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی نبی امی ہیں پیروی کرتے ہیں جن کے اوصاف کو وہ اپنے ہاں توراۃ اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔"
﴿ قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا ۚ إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا ﴿١٠٧﴾ وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا ﴿١٠٨﴾...الإسراء
"آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کہہ دیجیئے تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ (یہ فى نفسه حق ہے )جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا جب وہ انکوپڑھ کر سنا یا جا تا ہے تو وہ پیشانیوں کے بل سجدے میں گر جا تے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا پروردیگار پاک ہے بے شک ہمارے پروردیگار کا وعدہ پورا ہوکر رہا۔"
﴿ وَإِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ ﴿٥٣﴾ أُولَـٰئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ﴿٥٤﴾...القصص
جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی وہ اس پر ایمان لے آئے ہیں ۔اور جب قرآن ان کو پڑھ کر سنایا جا تا ہے ۔تو کتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے بے شک وہ ہمارے پروردیگار کی طرف سے برحق ہے اور ہم تو اس سے پہلے کے حکم بردار ہیں ان لوگوں کو دوگنا بدلہ دیا جا ئے گا کیونکہ یہ صبر کرتے رہے اور بھلائی کے ذریعے برائی کو دور کرتے تھے اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔
﴿ وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ ۚ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوا ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ ۗ وَاللَّـهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ ﴿٢٠﴾... آل عمران
"اور اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ کیا تم بھی اللہ کے فرمانبردار بنتے اور اسلام لاتے ہو ۔اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو بے شک ہدایت پائیں اور اگر آپ کا کہا نہ مانیں تو آپ کا کا م صرف اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے ۔اور اللہ  اپنے بندوں کو دیکھ رہاہے ،"
﴿ وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ ...﴿١٧﴾...ھود
"اور جو کو ئی دوسرے فرقوں میں سے اس سے منکر ہو تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے "حدیث صحیح  میں ہے اللہ کی قسم کو ئی یہودی اور نصرانی مجھے سننے کے باوجود ایمان نہیں لا ئے ۔تو دوزخ میں جا ئے گا ۔
﴿ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ ﴿١٢٢﴾...البقرة
"اے بنی اسرائیل میرے وہ احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کئے اور یہ کہ میں نے تم کو اہل عالم پر فضیلت بخشی۔"
﴿وَاتَّقُوا يَوْمًا لَّا تَجْزِي نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا تَنفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ ﴿١٢٣﴾...البقرة
"اور اس دن سے ڈر جاؤ جب کو ئی شخص کسی شخص کے کچھ کام نہ آئے گا ۔نہ اس سے کوئی بدلہ قبول کیا جا ئے گا اور نہ اسے کسی کی سفارش فائدہ دے گی اور نہ وہ کسی قسم کی مدد کئےجا ئیں گے ۔"
اس طرح کی آیت پہلے بھی گزر چکی ہے یہاں دوبارہ بیان کرنے سے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی اتباع پر تاکید اور ابھارنا مقصود ہے اس نبی اُمی کی صفات یہ لوگ اپنی کتابوں میں پاتے ہیں اس کے نام اور اس کی اُمت کے حالات سے بخوبی آگاہ ہیں ،سو ان کو اس بات سے ڈرایا ہے کہ تم ان دینی اور دنیوی نعمتوں کو یاد کرو جو اللہ نے تم پر کی ہیں عرب میں جو تمھا رے بنی عم ہیں ان پر حسد نہ کرو کہ اللہ نے خاتم الرسل نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو ان میں کیوں بھیجا ؟یہ حسد تمھارے نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی مخالفت  و تکذیب کا سبب  نہ بنے ۔مراد اس عام حکم سے خاص ہے جیسے قرآن مجید میں ہے ۔
﴿ولا تنفع الشفاعة  عنده  إلا لمن أذن له﴾...سبا
"اور اللہ کے ہاں کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی ۔مگر اس کے لیے جس کے بارے میں وہ اجازت بخشے "
یعنی جب کسی شخص کے لیے عذاب واجب ہو تا ہے اور وہ اس عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں رہتا تو اس وقت کسی کی سفارش اس کے حق میں کار آمد نہیں ہو تی ۔
﴿وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ ﴿١٢٤﴾...البقرة
"اور وہ وقت یاد کیجئے جب حضرت ابراہیم ؑ کو چند باتوں کی آزمائش میں ڈالا تو وہ ان میں پورے اُترے ۔اللہ نے کہا کہ میں تمھیں لوگو کا پیشوا بناؤں گا تب حضرت ابراہیم ؑنے عرض کیا کہ میری اولاد میں سے بھی (پیشوا بنانا) اللہ نے فر ما یا :ہمارا اقرار ظالموں کے لیے نہیں ہوا کرتا ۔"

تشریح :

بنی اسرائیل اس بات پر بڑے مغرور تھے کہ ہم اولاد ابراہیم ؑ ہیں اور اللہ نے ابراہیمؑ سے وعدہ کیا تھا کہ نبوت و بزرگی تیرے گھر میں رہے گی ہم ابراہیم ؑ کے دین پر ہیں ان کا دین ہر کو ئی مانتا ہے اب اللہ انہیں سمجھا رہا ہے کہ اللہ کا وعدہ ابراہیم ؑ کی اس اولاد سے ہے جو نیکی کے راستے پر گامزن ہو ۔سو ابراہیمؑ کے دونوں بیٹے پیغمبر تھے ایک مدت تک بزرگی حضرت اسحاق ؑ کی اولاد میں دی اب حضرت اسمٰعیل ؑ کی اولاد میں منتقل ہو گئی ۔

ابراہیم ؑ کی دُعا دونوں کے حق میں تھی ۔دین اسلام ہمیشہ سے ایک ہے پیغمبر اور سب اُمتیں اس دین پر گذرریں اور وہ یہ کہ جو حکم اللہ پیغمبر  کے ذریعے بھیجے اسے قبول کرنا اب مسلمان اسی راہ پر قائم ہیں جبکہ بنی اسرائیل اس راہ سے منحرف  ہو گئے ۔

اس آیت میں اللہ نے اپنے خلیل جلیل حضرت ابراہیم ؑ کے شرف سے آگاہ کیا کہ ہم نے ان کو تو حید اور دین اسلام کا امام  و پیشوا ٹھہرایا تھا اس لیے کہ انھوں نے ہمارے اوامر کو مانا گو یا دوسرے لفظوں میں رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو خطاب ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  اس بات کی یاد دہانی ان مشرکین و اہل کتاب کو کر دیجئے کہ تم ملت ابراہیم ؑ کے مدعی تو ہو مگر اس پر قائم نہیں ہو بلکہ جس راہ پر میں اور مومنین ہیں یہی حضرت ابراہیم ؑ کی راہ تھی حضرت ابراہیم ؑ آزمائش میں پورے اُترے جیسے اللہ نے فر ما یا :

﴿وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ ﴿٣٧﴾...النجم

"اور حضرت ابراہیم ؑ جنہوں نے طاعت  ورسالت کا حق پورا کیا ۔"

﴿إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّـهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿١٢٠﴾ شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ ۚ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٢١﴾ وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ ﴿١٢٢﴾ ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿١٢٣﴾...النحل

"بیشک حضرت ابراہیم ؑلوگوں کے امام اور اللہ کے فرمانبردار تھے ۔جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے چنانچہ اللہ نے ان کو برگزیدہ کیا اور سیدھی راہ پر چلایا تھا ۔پھر ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی کہ دین ابراہیمؑ کی پیروی اختیار کیجئے جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔

﴿ مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَـٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿٦٧﴾ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـٰذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا ۗ وَاللَّـهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ﴿٦٨﴾...آل عمران

"ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ عیسائی بلکہ سب سے بے تعلق ہو کر ایک (اللہ)کے ہو رہے تھے اور اسی کے فرمانبردار تھے اور مشرکوں میں سے تھے ابراہیمؑ سے قرب رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کرتے ہیں اور یہ پیغمبر (آخر الزمان ) اور وہ لوگ جو ایمان لا ئے ہیں اور اللہ مؤمنوں کا کارساز ہے ۔"

"کلمات "سے کیا مراد ہے؟

کلمات سے مراد شرائع  واَوامر ونواہی ہیں اس لیے کلمات بول کر حکامت مراد لیے جاتے ہیں  جس طرح مریم ؑ سے نقل فر ما یا ہے ۔

﴿وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ ﴿١٢﴾...التحریم

"اور وہ اپنے پروردیگار  کے کلام اس کی کتابوں کو بر حق سمجھتی تھیں اور فرمانبرادار وں میں سے تھیں ۔

کبھی کلمات شرعیہ مراد ہو تے ہیں جیسے اللہ نے فر ما یا :

﴿وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا .... ﴿١١٥﴾...الأنعام

"اور تمھارے پروردیگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں ۔"

سو وہ کبھی مسیحی خبر ہو تی ہے کبھی طلب عدل اگر امر یانہی ہے اسی جنس کی یہ آیت ہے کہ ہم نے ابراہیمؑ کو آزمایا اس نے ہماری باتوں کو پورا کر دکھایا  سو ان کا امام بنانا گویا جزائے عمل ہے کہ جس طرح تم نے نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا ہے اس طرح لوگ تمھارے پیچھے چلیں گے تم ان کے پیشوا ہو ابن عباس رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ  نے فر ما یا کہ کلمات "مناسک" تھے دوسری رائے یہ ہے کہ اس سے طہارت مراد ہے جن میں سے پانچ کا محل "سر"ہے پانچ قسم کی طہارت بدن میں تھی سر میں طہارت یہ تھیں

(1)سرمیں مونچھوں کا کترانا (2)کلی کرنا (3)ناک میں پانی ڈالنا (4)مسواک کرنا (5) مانگھ نکالنا یا سر منڈانا

بدن کی طہارتیں یہ تھیں :

(1)زیر ناف بالوں کا مونڈنا(2) بقل کے بال صاف کرنا (3)پانی سے استنجاء کرنا (4)ناخن کترنا (5)ختنہ کرنا۔

یہی قول سعید بن مسیب مجاہد ،شعبی اور نخعی وغیر ہ ہم سے منقول ہے اسی کے قریب حدیث عائشہ رضی اللہ  تعالیٰ  عنہا  ہے کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر ما یا :دس چیزیں انسانی فطرت ہے مونچھوں کا کٹوانا داڑھی کا بڑھانا مسواک کرنا ناک میں پانی ڈالنا استنجاء کرنا بغل کے بالوں کو صاف کرنا زیرناف صاف کرنا براجم کا دھونا (انگلیوں کے پوروں کا دھونا ) ناخن کترانا مصعب  رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ  کہتے ہیں ۔دسویں چیز میں بھول گیا شاید کلی کرنا ہو گا ۔۔۔۔(مسلم)

حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ   سے صحیحین میں یوں آیا ہے ۔"فطرت پانچ چیزیں ہیں ختنہ کرن،زیر ناف صاف کرنا، مونچھیں کترانا ،ناخن کترانا اور بغل کے بال  صاف کرنا۔"

ابن عباس  رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ  نے یہ بھی کہا ہے کہ دس باتیں ہیں چھ تمام حالات میں انسان کے لیے اور چارمناسک حج میں ہیں عام حالات میں زیر ناف بالوں کا صاف کرنا بغل کے بالوں کا صاف کرنا ختنہ ،ناخن قلم کرنا (ابن جیرۃ  رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ  نے کہا کہ یہ چاروں دراصل ایک چیز )پانچویں مونچھوں کا چھوٹا کرنا چھٹی مسواک اور غسل جمعہ مشاعر میں طواف ،صفا مروہ کے درمیان سعی شیطان کو کنکریاں مارنا ،اور طواف افاضہ کرنا پھر فر ما یا :اس دین کے ساتھ جس شخص کی بھی آزمائش کی گئی تو سوائے ابراہیمؑ کے کو ئی پورا نہ اترا۔"

دوسرے الفاظ یہ ہیں کہ:"مومن کی کل تیس صفات ہیں جن میں سے دس کا ذکر سورۃ التوبہ کی اس آیت ﴿التائبون العابدون­_و بشر المؤمنين﴾

(1)توبہ کرنے والے (2)عبادت کرنے والے (3) حمد کرنے والے (4) روزہ رکھنے والے (5)رکوع کر نے والے (6)سجدہ کرنے والے(7)نیکی کا حکم دینے والے(8)بری باتوں سے منع کرنے والے (9)اللہ کی حدوں کی حفاظت کرنے والے (10)(اے پیغمبر ) مومن کو (جنت ) کی خوشخبری سنا دیجئے ۔"

دوسری دس صفات کا تذکرہ سورۃ المؤمنون کی دس ابتدائی آیات میں ہے ۔

﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ ﴿١﴾...﴾...المؤمنون

"بے شک ایمان والے دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو ئے جو (1)نماز میں عجز و نیاز کرتے ہیں (2)اور جو بیہودہ باتوں سے منہ موڑ ے رہتے ہیں (3)اور جوزکوٰۃ ادا کرتے ہیں (4) اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں یاکنیزوں سے جوان کی ملک ہوئی ہیں (ان سے مباشرت کرنے سے ) انہیں ملامت نہیں اور جو ان کے سوا اوروں کے طلب ہوں تو وہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے نکل جا نے  والے ہیں (5) اور جو اپنی امنتوں (6)اور اپنے عہدوپیمان کو ملحوظ رکھتے ہیں (7)اور جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں (8)یہی لوگ میراث حاصل کرنے والے ہیں (9)جو جنت الفردوس کے وارث ہو ں گے ۔(10)اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔

تیسری دس صفات کا ذکر سورۃ احزاب میں 35نمبر آیت (إن المسلمين والمسلمت...)الخ میں ہے ۔

(1)بے شک وہ لوگ جو اللہ کے سامنے سر اطاعت خم کرنے والے ہیں یعنی مسلمان مرد اور عورتیں (2)اور مومن مرد مومن عورتیں (3)اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں (4)اور سچ بولنے والے مرد اور سچ بولنے والی عورتیں (5)اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں  (6)اور عاجزی انکساری کرنے والے مرد اور عاجزی انکساری کرنے والی عورتیں (7)اورخیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں (8)اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں (9)اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور عورتیں (10)اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں کچھ شک نہیں کہ اللہ نے ان کے لیے بخشش اور بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے ۔"

ابراہیمؑ نے ان سب کو پورا کیا اور اللہ نے ان کے لیے براءت لکھ دی تیسری روایت یہ ہے کہ ان کلمات سے مراد اللہ کی راہ میں قوم کو چھوڑ نا ہے جب حکم ہوا تو فوراً قوم سے جدا ہو گئے دوسرا نمرود پر اللہ کی راہ میں حجت قائم کرنا تیسرا آگ میں پھینکنے  پر صبر  کرنا ہے چوتھا وطن سے ہجرت کرنا پانچواں  مہمان نوازی کرنا، چھٹا  بیٹے کو ذبح کرنے پر تیار ہونا حسن بصریؒ نے فر ما یا :وہ آزمائش یہ تھی کہ ستارہ، چاند ،سورج ،آگ،ہجرت ختنہ بیٹے کو ذبح کرنے میں مبتلا کیا حضرت ابراہیم ہر حال میں اللہ سے راضی رہے اور آزمائش میں ثابت قدم رہے مجاہدؒ نے کہا: وہ آزمائش یہ تھی کہ حضرت ابراہیمؑ نے عرض کی۔ یااللہ مجھے لوگوں کا پیشوا بنا اور میری اولاد میں بھی امامت مقرر فر ما :سواللہ نے فر ما یا :میرا ظالموں سے عہد نہیں ابراہیم ؑ نے کہا کہ اس گھر کو مرجع خلائق بنا دے اللہ نے دُعا کو قبول کرلیا حضرت ابراہیمؑ نے عرض کی :اس گھر کو امن کی جگہ بنا ۔اللہ نے یہ دُعا قبول کر لی۔ پھر عرض کیا اور ہماری اولاد کو مسلمان بنائے رکھ اللہ نے یہ دُعا بھی قبول فر ما ئی پھر عرض کیا کہ ان سب میں اہل ایمان کو پھلوں کا رزق عطافر ما سواللہ نے یہ مطالبہ بھی تسلیم کرلیا ۔

ربیع بن انس نے فر ما یا کہ وہ کلمات یہ تھے ۔

﴿إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا .... ﴿١٢٤﴾...البقرة

"اللہ نے فر ما یا :میں تمھیں لوگوں کا پیشوا بناؤں گا ۔"

﴿وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَأَمْنًا ... ﴿١٢٥﴾...البقرة

"اور وہ وقت یاد کیجئے جب ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کے لیے جمع ہو نے اور امن کی جگہ مقرر کیا ۔

﴿وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ...﴿١٢٥﴾...البقرة

"اور حکم دیا کہ جس مقام پر ابراہیم ؑ کھڑے ہو ئے تھے اس کو نمازکی جگہ بنالو۔"

﴿ وَعَهِدْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ ...﴿١٢٥﴾...البقرة

"اور ہم نے حضرت ابراہیمؑ واسمٰعیل ؑ سے عہد کیا ۔"

﴿وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ ...﴿١٢٧﴾...البقرة

"اور وہ وقت یاد کیجئے جب ابراہیمؑ و اسمٰعیل ؑ بیت اللہ کی بنیادیں اونچی کر رہے تھے ۔۔۔۔(البقرۃ :127)

یہ سب مِن جملہ انہیں کلمات سے ہیں جن پر حضرت ابراہیمؑ کی آزمائش کی گئی تھی حضرت کہتے ہیں کہ وہ کلمات یہ تھے ۔

﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿١٢٧﴾ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴿١٢٨﴾...البقرة

"اے پروردیگار !ہم سےیہ خدمت قبول فرما۔بیشک تو سننے والا اور جاننے والا ہے ہمارے پروردیگار ہمیں اپنا فرمانبردار بنائے  رکھ اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کو اپنا فرمانبردار بنائے رکھنا ہمیں ہمارے طریق عبادت بتا اور ہمارے حال پر ۃرحم کے ساتھ) توجہ فرما بیشک تو توجہ فرمانے والا مہربان ہے۔"

﴿رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ ... ﴿١٢٩﴾...البقرة

"اے ہمارے پروردیگار !ان لوگوں میں انہیں میں سے ایک پیغمبر مبعوث فرما۔"سعید بن مسیب  رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ  فر ما تے ہیں :سب سے پہلے جس نے ختنہ کیا مہمان کو کھانا کھلایا ناخن قلم کئے مونچھیں ہم کیں اور ان احکامات کو بجالاتے ہو ئے بوڑھے ہوئے وہ حضرت ابراہیمؑ ہیں انھوں نے سفید بال دیکھ کر کہا: یااللہ یہ کیا ہے ؟فر ما یا :وقار ہے عرض کیا (يا رب زدنى وقارا) ۔۔۔اے رب اس عزت وقار کو بڑھادے ۔

بعض نے کہا سب سے پہلے منبر پر خطبہ حضرت ابراہیم ؑ نے پڑھا تھا ڈاک کی چوکی مقرر کی تلوار چلائی مسواک کی پانی سے استنجا  کیا اور تہہ بند پہنی ۔ابن جریر ؒ کہتے ہیں جائز ہے کہ کلمات سے یہ سارے امور مذکورہ مراد ہوں یان میں سے کچھ  مگر ضبط کے ساتھ کسی امر کے لیے کہا جا ئے کہ فلاں بات تھی سو حدیث یا اجماع سے اس باب میں کو ئی حدیث آئی ہے اور نہ ہی کسی ایک راوی سے نہ ایک جماعت سے جس کا ماننا واجب ہو پھر ابن جریرؒ کہتے ہیں کہ مجاہد" اور ربیع بن انس" کا قول زیادہ صحیح ہے ۔

ابن کثیر ؒ نے فر ما یا : اس سے قوی بات تو یہی ہے کہ لفظ کلمات سارے مذکورات کو شامل ہو ۔ "فتحُ ا لبیان "میں اہل علم کے بعض اقوال کا اختلاف لکھا ہے کہ حق یہ ہے کہ جب اس بارے میں کو ئی حدیث رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت ہے اور نہ کسی دوسری طریق سے کلمات کی تعین کا ذکر ہے تو اب صرف یہ بات قابل تسلیم رہ گئی کہ یا تو وہ اس کے قائل ہوں جو اللہ نے فر مایا ۔(إنى جاعلك للناس إماما)۔۔۔اور اسے کلمات کا بیان تسلیم کر لیا جا ئے سکوت اختیار کر لیں ۔اور جوکچھ ابن عباس  رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ   وغیرہ صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  اورتابعین سے کلمات کے تعین میں مروی ہے تو اول وہ اقوال صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  ہیں یا اقوال تابعین  رضوان اللہ عنھم اجمعین  چنا نچہ ان کی حجت کیسے تسلیم کی جا سکتی ہے ۔پھر اگر یہ مان بھی لیا جا ئے کہ اس میں اجتہاد کا دخل نہیں ہے بلکہ وہ حکم مرفوع میں ہے تو بھی کلمات کے تعین میں اتنا بڑا اختلاف ہے جو بعض پر عمل کرنے سے منع کرتا ہے خود ایک صحابی سے جیسے (ابن عباس  رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ  )روایات مختلف ہیں تو ان پر کیونکر عمل ہو سکتا ہے ۔یہاں سے یہ بات بھی معلوم ہو ئی کہ جو مفسر عموم کی طرف گیا ہے کہ یہ سب کلمات مذکورہ کو تسلیم کرنا ہی بہتر  ہے تو اس کا قول ضعیف ہے  اس لیے  کہ اس قول سے یہ بات لازم آتی ہے کہ قرآن پاک کی تفسیر ضعیف و متناقض اقوال سے کی گئی جو لائق حجت نہیں پھر اس میں بھی اختلاف ہے کہ وہ آزمائش نبوت سے پہلے تھی یابعد میں جس نے کہا کہ یہ آزمائش پہلے تھی اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد حضرت ابراہیمؑ کوامام بنایا گیا اور یہی آزمائش امامت کا سبب ٹھہری سبب مسیب پر مقدم ہوتا ہے اور جس نے کہا ۔آزمائش نبوت کے بعد تھی تو اس کی دلیل یہ ہے کہ تکلیف وحی الٰہی کے بغیر معلوم نہیں ہو سکتی 

تکلیف نبوت کے بعد ہو کرتی ہے کسی نے یہ کہا اگر ازما ئش سے مراد ستارہ چاند اور سورج ہے تو یہ نبوت سے پہلے تھی اور اگر شریعت ہے تو وہ نبوت کے بعد تھی ۔میں کہتا ہوں کہ اس فکر کی کو ئی ضرورت نہیں ہمیں اتنا سمجھ لینا کا فی ہے کہ اللہ نے ابراہیم ؑ کو آزمایا اور جب کبھی آزمایا تو جس معاملے میں بھی آزمایا ۔وہ اس آزمائش میں ثابت قدم پکے اور مضبوط نکلے اللہ نے ان کو سارے جہاں کا پیشوا بنایا ان کے بعد جو پیغمبر آیا وہ انہیں کی نسل میں تھا اور انہیں آپ کی اتباع کا حکم دیا گیا حضرت ابراہیم ؑ جن کو اگلے پچھلے دنیا بھر کے سب لوگ مانتے ہیں یہود نصاریٰ ان کی طرف اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو نسبت دینے اور مقربین بننے کو اپنا شرف سمجھتے ہیں دوسروں سے اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہم ان کی اولاد میں سے ہیں اور حرم کے بسنے والےخانہ کعبہ کے خادم ہیں جب اسلام آیا تو اللہ تعا لیٰ نے حضرت ابراہیمؑ سے وہ امور نقل کئے جن سے مشرکین و اہل کتاب پر رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے قول کااقرار کرنا اور دین اسلام کا مُطیع ومُنقاد ہونا شریعت کے واسطے لازم آتا ہے اس لیے جو باتیں اللہ نے حضرت ابراہیم ؑ پر واجب کی تھیں وہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے دین کی خصائص ہیں اس میں یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب پر حجت ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی بات کو مانیں ۔آپ پر ایمان لائیں اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تصدیق کریں ۔

اللہ نے جب حضرت ابراہیم ؑ کو امام عالی مقام بنایا تو انھوں نے اللہ سے یہ درخواست  کی کہ میرے بعد جو امام ہوں وہ میری ہی اولاد سے ہوں اللہ نے ان کی یہ دعا قبول کی مگر یہ بھی بتادیا کہ تمھاری اولاد سے ظالم بھی ہوں گے ۔سویہ عہد ان کو نہیں پہنچے گا ،اور نہ یہ منصب ان کو ملے گا اس بات کی دلیل کہ حضرت ابراہیمؑ کی درخواست قبول ہوئی سورۃ عنکبوت کی یہ آیت ہے:

﴿وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ ... ﴿٢٧﴾...العنکبوت

"اور انکی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (مقرر)کردی ۔"

پس حضرت ابراہیمؑ کے بعد جو نبی بھی آیا اور جو کتاب بھی اتری وہ انہیں کی اولاد میں تھی مجاہدؒ نے کہا کہ اس آیت  سے یہ اَخذ ہوا کہ تمھاری ذریت میں بے انصاف لوگ بھی ہوں گے ۔سوظالم آدمی امام نہیں ہوسکتا ہاں جو اُن میں نیک ہوگا اسے ہم امام بنائیں گے سعد بن جیرؒ نے کہا :مراد یہ ہے کہ مشرک امام نہیں ہوگا قتادۃؒ نے کہا :اس سے مراد آخرت کی امامت ہے سو دنیا میں کبھی ظالم بھی امام بن جا تا ہے یہی قول نخعیؒ عطاءؒ حسنؒ اور عکرمہؒ کا بھی ہے ربیع بن انسؒ نے کہا :بندوں سے اللہ کے عہد کا مطلب اللہ کا دین ہے یہ دین ظالموں کو نہیں ملتا یعنی ظالم بے دین رہتا ہے اللہ کا فر ما ن ہے۔

﴿وَبَارَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلَىٰ إِسْحَاقَ ۚ وَمِن ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ مُبِينٌ ﴿١١٣﴾...الصافات
"اور ہم نے ان پر اور حضرت اسحٰق پر برکتیں نازل کیں اور ان دونوں کی اولاد میں نیکو کار بھی ہیں اور اپنے آپ پر صریح ظلم کرنے والے (یعنی گناہگار )بھی ہیں ۔"

اس آیت میں تذکرہ ہے کہ اے ابراہیمؑ تمھاری اولاد حق پر نہ ہوگی ۔بلکہ ان میں صریح ظالم بھی ہوں گے ابوالعالیہ عطاء اور ابن حبان کا بھی یہی قول ہے ضحاک نے کہا مراد یہ ہے کہ میری اطاعت کا فائدہ میرے کسی دشمن کو (جو نافرمان ہے) نہیں پہنچے گا بلکہ جو میرا دوست و مطیع ہوگا اس کو ہی فائدہ ملے گا ۔اس آیت کی تفسیر میں حدیث علی میں مرفوعاً آیا ہے ۔

"نہیں اطاعت مگر معروف میں " (ابن مردویہ )

سدی ؒ نے کہا :یہاں  عہد سے مراد "نبوت "ہے ابن کثیرؒ کہتے ہیں ہے یہ تمامقول سلف مفسرین کے ہیں جنہیں ابن جریرؒ اور ابن ابن حاتمؒ نے نقل کیا ہے پھر ابن جریرؒ نے یہ اختیار کیا کہ آیت اگرچہ ظاہر میں خبر ہے کہ وہ ظالموں کو نہ ملے گا لیکن اس میں حضرت ابراہیمؑ کو یہ بات جتلائی گئی ہے کہ تمھاری نسل میں ظالم لنفسہ بھی ہوں گے مگر اس تقریر میں کچھ فائدہ نہیں ہے اگر ابن جریرؒ یوں کہتے کہ یہ خبر امر ہے تو بہتر ہوتا اور مطلب یہ ہوتا کہ بندوں کو یہ چاہیے کہ شرعی امور میں کسی ظالم کو والی نہ بنائیں یہ بات ہم نے اس لیے کہی ہے کہ اللہ کی خبر غلط نہیں ہوتی حالانکہ ہمیں علم ہے کہ عہد امامت بہت سے ظالموں کے ہاتھ بھی لگا ہے ۔ ابن خویز منداد مالکی نے کہا ہے کہ ظالم اس لائق نہیں کہ خلیفہ، حاکم ، مفتی ، شاہد اور راوی بنایا ہے ۔