ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

  • نومبر
1994
ادارہ
ماہنا مہ" محدث " لاہور اپنی اشاعت کی ربع صدی  پوری کر کے اب چھیتسویں  سال میں ہے ۔ہم نے اس کی پہلی اشاعت کے وقت جن مقا صد کا عند یہ دیا تھا اور پھر اپنا معتدلانہ رویہ برابر تقریباً ہر اشاعت کی پشت پر واضح کرتے چلے آرہے ہیں اس سلسلہ میں کو ئی بڑا بول تو کسی غیر معصوم کو زیبا نہیں کیو نکہ اللہ تعا لیٰ کا رشاد سامنے ہے ﴿فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ ﴿٣٢﴾...النجم
تاہم پہلے اداریہ میں ہم نے جن جذبات کا اظہار کر کے اپنی منزل متعین کرنے کی کوشش کی تھی اس کے مطابق یہ کہہ سکتے ہیں کہ تحریکوں کے اتار چڑھاؤ اور حلات کی گرمی سردی کے باوجود ہم نے درمیانی راہ حق پر گامزن رہنے کی بھر پور کو شش کی ہے یہی وجہ ہے کہ محدث آج بھی کتاب و سنت کی روشنی میں نہ صرف بے لاگ تحقیق کی شاہرا ہ پر چل رہا ہے بلکہ گروپ بندی سے بچ کر صرف اصلاح ملت کے رویہ کو مضبوطی سے تھا مے ہو ئے ہے نتیجہ ظاہر ہے کہ اس سے ہمیں فوائد عاجلہ تو حاصل نہیں ۔
  • نومبر
1994
صدیق حسن خان
﴿اَلَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ ... ﴿١٢١﴾...البقرة
جنہیں کتاب دی گئی ہے وہ یہود و نصاریٰ ہیں ابن زید ابن جریر نے اس کو اختیار کیا ہے قتادہ نے کہا :اس سے مراد صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  ہیں حضرت عمر رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ  نے فر ما یا :حق تلاوت کا مطلب یہ ہے کہ جب جنت کا ذکر آتا ہے تو جنت کا سوال کرتے ہیں اور جب جہنم کا ذکر آتا ہے تو پناہ مانگتے ہیں ۔رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے یہ بات مرفوعاً ثابت ہے کہ جب آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  رحمت کی آیت تلاوت فر ما تے تو اللہ سے رحمت کا سوال کرتے اور جب عذاب کی آیت پڑھتے تو اللہ سے پناہ مانگتے ۔
  • نومبر
1994
غازی عزیر
زیر عنوان حدیث کو امام ابن ابی حاتمؒ اور ابن مردویہ ؒ نے قرآن کریم کی آیت ﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ .... ﴿٤٥﴾...العنكبوت
(ترجمہ :بیشک نماز فحش باتوں اور منکرات سے روکتی ہے)
کی تفسیر میں بطریق (محمد بن هارون المخرزمي الفلاس حدثنا عبد الرحمن بن نافع ابو زياد حدثنا عمر بن ابى عثمان حدثنا الحسن عم عمر أن بن الحصين قال : سئل النبى صلى الله عليه وسلم عن قول الله تعالى:﴿ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ﴾قال فذكره
(یعنی حضرت عمران بن الحصین رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ   روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  سے کسی شخص نے اللہ تعا لیٰ کے اس ارشاد کہ نماز بے شک تمام فحش باتوں اور منکرا ت سے روکتی ہے کہ متعلق سوال کیا تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر مایا :پھر یہ حدیث بیان کی )روایت کیا ہے مشہور مفسر قرآن امام ابن کثیر ؒ نے اپنی تفسیر (6)میں اور ابن عروہؒ نے کو کب الدراری (3)میں اس حدیث کو وارد کیا ہے لیکن اس حدیث کی سند میں کئی امور محل نظر ہیں پہلی چیز یہ کہ آئمہ کے نزدیک حضرت عمران بن الحصین ؒسے حضرت  حسن بصریؒ کا سماع مختلف فیہ ہے اگرچہ امام بزار ؒنے اپنی "مسند "(4) میں اور امام حاکم ؒ نے اپنی مستدرک علی الصحیحین "(5)میں حسن بصری ؒکے عمران بن الحصین ؒ سے سماع کی صراحت کی ہے لیکن علامہ مار دینی ؒ فر ما تے ہیں ۔
  • نومبر
1994
عبدالرحمن ضیا
سلف اصطلاح میں صحابہ و تابعین رضوان اللہ عنھم اجمعین  اور تبع تابعین کو کہا جا تا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرماتے ہیں﴿ مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّـهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ... ﴿٢٩﴾ ...الفتح اور فرمایا : ﴿ لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللہ... فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿٩﴾...الحشر
اللہ تعا لیٰ نے پہلے انصار مہاجرین کا ذکر کیا جو کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے صحابہ  کرا م  رضوان اللہ عنھم اجمعین  ہیں بعد میں ﴿ وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ ﴾ سے تابعین وغیرہ ہم کا ذکر ہے ۔نیز فر ما یا  ﴿ هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿٢﴾ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ... ﴿٣﴾...الجمعة
  • نومبر
1994
عبداللہ عابد
معلقات معلقۃ کی جمع ہے ۔اس کا مادہ "حلق "ہے جس کے معنی :عمدہ اور نفیس چیز کے ہیں ابن منظور صاحب لسان العرب نے اس کا معنی یوں کیا ہے 
 العلق : المال الكريم  و يقال  : علق خير ... والجمع  أعلاق ...الخ
المنجد فى اللغة والأعلام  : العلق جمعه إعلاق و علوق : النفس من كل شيئ لتعلق قلبه.
2۔یعنی حلق سے مراد ہر وہ نفیس چیز جس کی طرف دل مائل ہو جا ئے ۔اس اعتبار سے معلقات سے مراد دور جاہلیت کے ایسے قصائد جو لفظی اور معنوی اعتبار سے اس دور کی شاعری میں سب سے زیادہ عمدہ اور نفیس ہیں ۔
وجہ تسمیہ :
معلقات کی وجہ تسمیہ کے بارے میں اُدباء اور ناقدین کے الگ الگ نظریات ہیں ۔
1۔بعض ادباء کے خیال میں عربوں کے نزدیک ان قصائد کی بڑی شان و عظمت تھی کیونکہ وہ شاعری کے بڑے دلدادہ تھے اور اسے بڑی اہمیت دیتے تھے۔
  • نومبر
1994
مفتی محمد عبدہ الفلاح
متحد ہ ہندو ستان میں تیموری سلطنت کے آخری دور میں دہلی میں خاندان ولی اللہ نے رُشد و ہدایت کی مشعل کو روشن تر کردیا ۔شاہ عبد العزیز صاحب (المتوفی1239ھ)ان کے بزروگ برادر اور عزیزوں نے علوم عقلیہ و نقلیہ کی تدریس میں نمایاں کردار ادا کیا شاہ عبد العزیز کے بعد محمد اسحاق صاحب( المتوفی1262ھ)نواسہ شاہ عبد العزیزنے اپنے نامور تلامذہ کے ذریعہ اس کے حلقہ اثر کو بہت وسیع کردیا بعد ازاں شاہ اسحاق صاحب کے نامور تلامذہ میں دو گروپ پیدا ہو گئے اور ایک گروپ کے سرخیل مولانا شاہ عبد الغنی صاحب مجددی اور مولانا احمد علی صاحب سہارنیوی تھے جن میں رد بد عت اور توحیدخالص کے جذبہ کے ساتھ تقید کا رنگ نمایاں رہا اور دوسرے گروہ کے قائدسید نذیر حسین صاحب دہلوی تھے جنہوں نے توحید خالص اور رد بدعت کے ساتھ فقہ حنفی کے ساتھ تقلید کی بجائے براہ راست کتب حدیث بقدر فہم استفادہ کا طریق اپنایا اور اس کے مطابق عمل کو اپنا شعار بنایا سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں ۔ ان دونوں کے بالمقابل ایک تیسرا گروہ وہ تھا جو شدت کے ساتھ اپنی قدیم روش پر قائم     رہااوراپنے کو اہل سنت کہتا رہا اس گروہ کے پیشوا زیادہ تر بریلی اور بدایوں کے علماء تھے ۔