زیر نظر خطوط کی اشاعت کے ساتھ ہی 'محدث' میں آئندہ سے مکاتیب کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا جارہا ہے تاکہ قارئین کی قیمتی آرا اور تبصرہ وتاثرات کے ذریعے افادہ واستفادہ کا دوطرفہ سلسلہ شروع کیا جائے۔ بعض خطوط میں بڑے قیمتی نکات ہوتے ہیں، جن کو نظرانداز کرنا مناسب نہیں ہوتا۔اُمید ہے کہ ہمارے قارئین اس سلسلے کو پسند فرمائیں گے اور مجلہ و مضامین میں پائی جانے والی ضروری اصلاح و تنقید سے تحریری طور پر مطلع فرما کر 'محدث' کے اس سلسلہ کو جاری وساری رکھیں گے۔ مدیر

A

بخدمت محترم و معظم مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب، زادکم اﷲ عزاً وشرفاً

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ مزاجِ گرامی!

آپ کی زیرنگرانی شائع ہونے والے، جامعہ لاہور الاسلامیہ کے ترجمان ماہنامہ 'رُشد' کی تین خصوصی اشاعتیں جو 'قرآء ا ت نمبر' کے عنوان سے آپ اور آپ کے رفقاے کار نے زیورِ طبع سے آراستہ کرکے اہل علم کے ہاتھ میں تھما دی ہیں، اس پر جس قدر بھی آپ کا شکریہ ادا کیا جائے، کم ہے۔ بلا شبہ آپ نے ملت اسلامیہ کے پیروکاروں پر بالعموم اور اہل علم پر بالخصوص یہ احسانِ عظیم کیاہے۔ قراء ت اور بالخصوص قراء تِ سبعہ و عشرہ پرمستشرقین اور ان کی معنوی ذرّیت نے جس قدر اعتراضات کئے تھے، اس 'قراء ت نمبر' میں ایک ایک کا مدلل جواب ہے۔ والحمد ﷲ علی ذلك!

علمی مضمون لکھنا اپنی جگہ ایک مشکل مسئلہ ہے، لیکن اہل علم سے مضمون لکھوانا اس سے بھی مشکل مرحلہ ہے۔ اس راہ کی صعوبتوں سے وہی واقف ہے جو عملاً صحافتی میدان میں اُترا ہو۔ یہ قراء ت نمبر دیکھ کر یہ احساس بڑی شدت سے اُبھرتا ہے اور اس میں خوشی بھی محسوس ہوتی ہے کہ آپ کاماشاء اللہ تمام اہل علم سے رابطہ ہے۔ سبھی آپ کی آواز پر لبیک کہتے ہیں اور آپ نے بھی سبھی حضرات کو پذیرائی بخشی ہے اور ان کی قدر افزائی فرمائی ہے۔ اہل حدیث ہوں یادیوبندی یا بریلوی تینوں مکتب ِ فکر کے اہل علم نے اپنا اپنا فریضہ ادا کیا ہے اور قرآنِ مجید کی قراء ات کے حوالے سے سبھی یک زبان ہیں۔ جزاء ھم اﷲ أحسن الجزآء

'قراء ت نمبر' کی پہلی دو جلدیں ساڑھے سولہ سو صفحات پر مشتمل ہیں اور اب یہ تیسری جلد ماشاء اللہ ایک ہزار بتیس صفحات کو محیط ہے اور اس میں لکھا ہے کہ ایک جلدمزید ان شاء اللہ شائع ہوگی، یہ چاروں جلدیں علم قراء ا ت پرایک 'موسوعہ علمیہ' کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پاک وہند توکیا پورے عالم اسلام میں علم قراء ت کے حوالے سے اس قدر علمی مباحث پرمشتمل کسی مجموعہ یا موسوعہ (انسا ئیکلوپیڈیا) کی بھنک کبھی کان میں نہیں پڑی۔ اس موضوع پربحث و تحقیق کرنے والوں کے لیے بلاشبہ آپ کے مجلہ 'رشد' کا یہ نمبر رشدوہدایت کا باعث بنتا رہے گا۔

مجلہ 'رشد' کے حالیہ تیسرے شمارے میں حضرت سیدنا عثمانؓ کے مصحف اور اس کے رسم الخط پربڑی نفیس اور ایمان پرور تفصیل ہے۔ اسی طرح جمع قرآن اور تشکیل قراء ا ت کی تاریخ، رسم اور قراء ات کے مابین تعلق، علم الفواصل: توفیقی یا اجتہادی، قراء اتِ عشرہ کا تواتر اور سبعہ اَحرف کی تشریح، سبعہ احرف کی تنقیحات و توضیحات، جمع عثمانیؓ اور مستشرقین، کتاب المصاحف، معانی و احکام پر تجوید و ترتیل کے اثرات، قراء اتِ متواترہ کے فقہی احکام پر اثرات وغیرہ ، یہ سب مضامین بڑے خاصے کی چیز ہیں۔ کراچی کے بقلم خود 'مفتی' محمد طاہر مکی کی حرکاتِ شنیعہ کا بھی اس میں خوب محاسبہ ہے۔ مگر محمد عطاء اللہ صدیقی صاحب کے قلم کی کاٹ کے سبھی معترف ہیں۔ انہوں نے مفتی طاہر کے لَتّے لیے ہیں، اُنہیں خوب خوب لتیھڑا، پچھاڑا اور بڑی سنجیدگی سے اس کا پوسٹ مارٹم کیا ہے۔ لیکن عرض ہے کہ قرآنِ مجید کی تعلیم تو بہرحال یہ ہے کہ {اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أحْسَنُ} حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے بھی جو مختلف قراء توں پرمشتمل قرآنِ مجید شائع کرنے پر خدشات کا اِظہار فرمایا ہے، بلاشبہ آپ نے مثبت اور مبنی برحقیقت بڑی متانت سے اس کا جواب دیا ہے۔ کیا ہی خوب ہوتا کہ اسی علمی اُسلوب پر ہمارے صدیقی صاحب بھی قائم رہتے۔ ان کی علمی شان کے یہی مناسب تھا اور اسی کی ان سے توقع ہوتی ہے۔

مدنی رسم ، ضبط اور فواصل میں پاکستان میں قرآنِ کریم کی اشاعت

آپ کے علم میں ہوگا کہ 'مفتی' محمد طاہر کے ہاں جو استفتا ذاکر حسین کی طرف سے آیا، تقریباً وہی استفتا اِسی ذاکر حسین، نارتھ ناظم آباد کراچی نے الجامعہ الاسلامیہ، بنوری ٹاؤن بھی بھیجا جس کا جواب وہاں کے ترجمان 'بینات' کے شمارہ نمبر ۴؍ جلد نمبر ۷۳ ربیع الآخر ۱۴۳۱ھ میں شائع ہوا۔ یہ جواب آپ کی نظر سے ضرورگزرا ہوگا۔ اُنہوں نے قراء ت کے اختلاف کو قطعی، متواتر اور اسے قبول کرنا واجب قرار دیا ہے مگر اختلافِ قراء ت پر مبنی قرآن پاک کی اشاعت کو قرینِ مصلحت نہیںسمجھا۔ اس حد تک تو بات واقعی قابل توجہ ہے۔

رسم ضبط اور فواصل کا اختلاف آپ سعودیہ میں، پاکستان اور ہندوستان میں شائع ہونے والے قرآنِ مجید میں محسوس کرتے ہوں گے اور یہ بات بھی حرمین میں آپ کے مشاہدے میں آئی ہوگی کہ برصغیر کے اچھے بھلے پڑھے لکھے بلکہ حفاظِ قرآن بھی وہاں ہندی رسم ضبط میں تلاوت کو ترجیح دیتے ہیں اور سعودیہ میں شائع ہونے والے مصحف ِپاک میں تلاوت میں دقت محسوس کرتے ہیں۔ اس مصلحت کا تقاضا تو یہی ہے کہ دیگر رسم ضبط و فواصل یا قراء ات پر مبنی مصحفِ پاک کو یہاں شائع نہ کیا جائے۔ حرمین میں چونکہ مشرق و مغرب، شمال و جنوب سے مسلمان آتے ہیں، وہاں ان تمام کی رعایت سے ایسے اختلاف پر مبنی مصحف شریف کی اشاعت کی گئی ہے تو اس کی گنجائش ہے یا ان علاقوں میں ان کی اشاعت درست ہے جہاں جہاں وہ رسم رائج ہے۔

آپ نے مولانا تقی عثمانی صاحب کے جواب میں جو لکھا ہے کہ برصغیر میں روایت ِحفص وغیرہ میں اختلافِ تنوع شائع شدہ ہے۔ بلا ریب درست ہے اگر اسی اختلاف کی وضاحت کے باوصف قرآنِ پاک میں تحریف یا تبدیلی کا کہیں دور دور تک شائبہ نہیں، تومختلف رسم ضبط یا قراء ات پر مبنی مصحفِ پاک بھی اہل علم کے ہاں کسی تشویش کا باعث نہیں ہوگا۔ بلکہ سعودیہ میں تو یہ شائع شدہ ہیں، ان کی بنیاد پر عالم اسلام میںکوئی بھونچال نہیں آیا، کوئی احتجاج نہیں ہوا۔ البتہ یہاں عامۃ الناس کے احوال کے تناظر میں یہ واقعی قرین مصلحت نہیں۔

مجھے 'بینات'کے مفتی صاحب کی یہ بات بڑی عجیب سی محسوس ہوئی ہے، جو اُنہوں نے اختلافِ قراء ات پر مبنی مصحف کی اشاعت کو کسی بڑے خطرے کی علامت قرار دیتے ہوئے کہی ہے کہ ''کچھ بعید نہیں کہ یہ کوشش وجسارت آگے چل کر کتاب اللہ کی اَبدی حفاظت کے وعدے کو غیر مؤثر بنانے کی اسکیم کا حصہ ہو۔'' (بینات:ص۶۱) حالانکہ منکرین قراء اتِ متواترہ بھی تو یہی کہتے ہیں کہ یہ قراء تیں قرآنِ مجید کی 'ابدی حفاظت' کے خلاف ہیں، جبکہ قراء ت کی محفلوں میں سبعہ و عشرہ قراء توں پرمبنی قرائے حضرات کی تلاوت کو تو آج تک کسی رجل رشید نے قرآنِ پاک کی حفاظت کے منافی نہیں سمجھا۔ مگر بینات کے مفتی صاحب کو ان کی اشاعت حفاظت ِقرآن کے منافی نظر آتی ہے۔حالانکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اختلافِ قراء ات پر مبنی مصحف پاک عرب و مغرب میں شائع شدہ ہے نیز ان کی اشاعت کو کسی قابل اعتبار صاحب علم نے حفاظت ِقرآن کو غیر مؤثر کرنے کی اسکیم نہیں قرا ردیا۔

قرآنِ پاک کی اشاعت بلا ریب رسم عثمانی پر لازم ہے اور اس میں اختلافِ قراء ات کی رعایت بھی موجود ہے بلکہ بینات کے مفتی صاحب نے فرمایا ہے کہ

''رسم عثمانی کے موافق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان مصاحف میں سے کسی ایک میں لکھی ہو جو حضرت عثمان غنیؓ نے لکھوائے تھے۔'' (بینات: ص۵۵)

قابل غور بات ہے کہ یہ بات کہہ کر اُنہوں نے اعتراف نہیں کیاکہ رسم عثمانی میں جو مصحف تیار ہوئے تھے، ان میں کچھ اختلاف تھا؟ اگر اس حقیقت کے باوجود حفاظت ِقرآن پر یہ اختلاف مؤثر نہیں تو مختلف قراء توں پر اشاعت ہی میں وہ اتنا خدشہ کیوں محسوس کرتے ہیں؟

قراء ت کے حوالے سے یہ باتیں نوکِ قلم پر آگئی ہیں، ورنہ یہ ناکارہ اس فن سے آشنا نہیں۔ آپ کی ان خصوصی اشاعتوں کی بدولت کچھ شد بد ہوئی ہے۔ دیگر فنون کی طرح اس کا دائرہ بھی نہایت وسیع ہے۔جس کا اندازہ اسی سے ہوجاتا ہے کہ ضاد اور ظاء کے فرق پر لکھی گئیں کتابوں کی تعداد دس سے زائد ہے جیسا کہ اس تیسرے قراء ت نمبر کے صفحہ ۴۹۹، ۵۰۰ میں بیان ہوا ہے۔

پاکستان میں شائع ہونیوالے مصاحف کی صورتِ حال

'پاکستانی مصاحف کی حالت ِزار اور معیاری مصحف کی ضرورت' کے عنوان سے شائع ہونے والا مضمون بڑا وقیع اور فکر انگیز ہے۔ تقریباً اسی عنوان سے ایک مضمون'رشد' کے خصوصی شمارئہ اوّل میں بھی شائع ہوا ہے جس میں ضبط، فواصل اور اَوقاف کے اختلاف کا ذکر ہوا ہے۔

چند سال پہلے صادق آباد ضلع رحیم یار خان کے مولانا مفتی محمد ابراہیم صادق آبادی کے اس حوالے سے مضامین اور بالآخر 'قرآنِ مجید؛ تحریف کی زد' کے نام سے کتاب شائع ہوئی تھی۔ جس میں اُنہوں نے پاکستان میں شائع ہونے والے ستائیس نسخوں کی اغلاط شائع کی تھیں جس میں بعض اغلاط تو واقعی حیران کن ہیں۔ ان کی یہ کوشش قابل ستائش ہے۔ کتاب کے نام میں 'تحریف' خطرے کا الارم ہے۔ یہ اکثر و بیشتر اغلاط ضبط اور رسم کے حوالے سے ہیں اور بعض میںشرمناک حدتک غلطیاں پائی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے اور قرآنِ مجید کے حوالے سے اس قسم کے تغافل سے بچائے۔

 اس تیسری جلد کے صفحہ ۸۶۳ میں ذکر ہے کہ روایت ِحفص کے مطابق بسم اللہ الرحمن الرحیم سورۃ فاتحہ کی پہلی آیت ہے اور پاکستانی مصاحف میں یہ آیت شمار نہیں کی گئی بلکہ اَنعمت علیہم پر آیت کا نشان لگانے کی بجائے صرف ۶ نمبر دے کر سورۃ الفاتحہ کی سات آیات پوری کردی گئیں ہیں۔مجھ جیسے مبتدی کو سمجھ نہیں آئی کہ جب برصغیر میں روایت ِحفص جاری و ساری ہے تو سورۃ الفاتحہ میں اس سے علیحدہ اُسلوب کیوں رکھا گیا؟ بسم اللہ، سورۃ الفاتحہ کا جز ہے یا نہیں؟ یہ فقہاء میں ایک اختلافی مسئلہ ہے مگر یہاں کیا یہی فقہی اثر روایت ِحفص سے انحراف کا سبب تونہیں؟

بلکہ رموز الاوقاف میں توسورۃ الفاتحہ کی ابتدائی آیات پر 'لا' لکھ دیا گیا، جوسعودی مصاحف کے بھی خلاف ہے اور مسنون قراء ات کے بھی۔ بالکل یہی معاملہ سورۃ الاعلیٰ کی آیات کے ساتھ ہے اور اچھے بھلے قرا حضرات اسی کی پابندی کرتے ہیں، آخر کیوں؟

بعض قابل توجہ اُمور

بعض باتوں کی طرف مزید اشارہ ضروری سمجھتا ہوں :

a اسی تیسرے شمارہ کے صفحہ ۵۲۰ پرلکھا ہے :

قال الإمام أحمد حدثنا یزید أنبأنا حماد بن سلمة عن عاصم بن أبي النجود عن أبي صالح عن النبي ! قال:إن اﷲ اطلع علی أھل بدر فقال: اعملوا ما شئتم فقد غفرت لکم [صحیح بخاری:۳۰۰۷،۳۰۸۱]

ظاہر ہے کہ یہاں 'صحیح بخاری' کا حوالہ بہرحال درست نہیں بلکہ یہ مسند امام احمد سے ہے اور صحابی کا نام بھی ذکر نہیں ہوسکا۔ صحابی حضرت ابوہریرہؓ ہیں اور حدیث نمبر۷۹۲۷ ہے۔

b صفحہ ۸۸۶ پر آپ نے حضرت عروہ بارقی کی روایت کے بارے میں بحث٭ کی ہے کہ یہ روایت صحیح بخاری میں ضعیف سند سے ہے۔ ایسی روایت صحیح بخاری میںکیوں ہے، اس کے بارے میں آپ نے حافظ ابن حجرؓ کی بلوغ المرام سے یہ عبارت ذکر کی ہے کہ ''أخرجه البخاري في ضمن حدیث ولم یسق لفظه'' ''امام بخاریؒ نے ایک دوسری حدیث کے ضمن میں اس حدیث کا اخراج کیا ہے، لیکن اس متن کی روایت نہیں کی۔'' آپ فرماتے ہیں کہ حافظ ابن حجرؒ نے اس عبارت میں اسی حدیث کے معلول ہونے کا اشارہ کیا ہے۔ یہ بات تو درست ہے کہ حضرت عروہؓ کی روایت میں بکری کی خرید و فروخت کا حصہ صحیح بخاری کی شرط پرنہیں،کیونکہ اس میں شبیب بن غرقدہ، قبیلے کے افراد سے روایت کرتے ہیںاور وہ مبہم ہیں اور علامہ ابن قطان، علامہ منذری وغیرہ نے یہ اعتراض کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ حصہ امام بخاری کا مقصود نہیں بلکہ مقصود ''الخیر معقود بنواصي الخیل'' کے الفاظ ہیں، لیکن اس کے لیے بلوغ المرام میں حافظ ابن حجر کے الفاظ سے اس کے معلول ہونے پر استدلال محل نظر ہے۔اس لیے کہ''لم یسق لفظه''کا مفہوم اس کے متن کی روایت نہیں کی، جیساکہ آپ نے بیان فرمایا ہے۔ مزید غور طلب ہے، کیونکہ اس جملہ سے عموماً یہی مرادلیا جاتا ہے کہ اس کے الفاظ بیان نہیں کئے، ذکرنہیں کئے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ حافظ ابن حجرؒ کا کہنا کہ ''لم یسق لفظه'' درست نہیں ہے جیساکہ آپ نے بھی ذکر کیا ہے۔

حافظ ابن حجر کے ان الفاظ کو بیانِ علت پرمحمول کرنااس لیے بھی درست نہیں کہ فتح الباری میں اُنہوں نے حافظ ابن قطان وغیرہ کے اعتراض کا جواب دیا ہے، ان کے الفاظ ہیں:

''لکن لیس بذلك ما یمنع تخریجه ولا ما یحطه عن شرطه لأن الحي یمنع في العادة تواطؤھم علی الکذب... الخ'' [فتح الباری: ج۶؍ ص۶۳۵]

اس کے بعد یہ کہنا کہ بلوغ المرام کے الفاظ بیانِ علت کے لیے ہیں، بالکل درست نہیں ہے، وہ تو اس کی صحیح بخاری میں تخریج کا دفاع کرتے ہیں۔ اُمید ہے آپ اس پر نظرثانی فرمائیں گے۔

c اسی طرح صفحہ۵۰۳ پر حدیث: لیس منا من لم یتغن بالقرآن کا مفہوم بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ

''خوبصورت پڑھنے کی صلاحیت کے باوجود اگر خوبصورت نہ پڑھے تو اُمت سے خروج کی وعید کا مستحق ٹھہرے گا۔''

''لیس منا'' کے الفاظ سے 'اُمت سے خروج' کا مفہوم کشید کرنا اپنے اندر خارجیت کا عنصر لیے ہوئے ہے جبکہ اس کا صحیح مفہوم ''لیس من أھل سنتنا و طریقتنا'' کا ہے کہ یہ ہماری سنت اور ہمارا طریقہ نہیں، جیساکہ حافظ ابن حجرؒ نے بھی لکھاہے:

''لیس منا'' أي من أھل سنتنا وطریقتنا،ولیس المراد به إخراجه عن الدین'' [فتح الباری: ج۳؍ ص۱۶۳]

آخر میں اس شاندار قراء ت نمبر کی اشاعت پر مکرر ہدیۂ تبریک قبول کیجئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس نمبر کی تیاری اور اشاعت میںحصہ لینے والے تمام اہل علم وقلم اور منتظمین کو اجرعظیم عطا فرمائے اور اس میدان کے راہرو حضرات کے لیے اسے رُشد و رہنمائی کا ذریعہ بنائے۔ آمین!

(ارشاد الحق اثری،فیصل آباد)

B

عزیز مکرم ڈاکٹر حافظ حسن مدنی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اﷲ !

اُمید ہے آپ بفضلہ تعالیٰ بخیریت ہوں گے۔ مئی ۲۰۱۰ء کا 'محدث'موصول ہوا۔ 'پاکستان میں نفاذِ شریعت کے اہم مراحل' کے زیرعنوان آپ کا اِداریہ ماشاء اللہ موضوع کی مناسبت سے خوب تر ہے۔ خصوصاً آئین و دستور کی تیاری کی اوّلین کوشش، قرار دادِ مقاصد کامتن اور ۳۱ علماے کرام کے ۲۲ نکات کی تفصیل و ترتیب نوجوان علما اور نئی نسل کی معلومات میں ایک اضافہ ہے۔

مجھے اس سلسلے میں جو عرض کرنا ہے، وہ یہ کہ ان دونوں محاذوں پرعلماء اہلحدیث کی خدمات سرفہرست ہیں۔ ۱۹۴۹ء میں پہلی دستور ساز اسمبلی جس نے قرار دادِ مقاصد پاس کی، اس کی نوک پلک سنوارنے میں مشرقی پاکستان سے مولانا محمد اکرمؒ خان اور علامہ راغبؒ احسن کا نمایاں کردار تھا۔

۳۱؍ علماء کے ۲۲ نکات مرتب کرنے میںمولانا سید محمد داؤد غزنویؒ کا اہم رول ہے جس کا پس منظر یہ ہے کہ ان دنوں مسلم لیگ کے صدر چودھری خلیق الزمان نے علماے اسلام کو تضحیک کانشانہ بناتے ہوئے اخباری بیان دیا تھا کہ یہ علما جو نفاذِ اسلام کا مطالبہ کررہے ہیں مگر یہ لوگ کئی فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں، ہم کس فرقہ کا اسلام نافذ کریں؟

اس چیلنج کو مولانا غزنوی نے قبول کرتے ہوئے مجلس اَحرار کے ناظم دفتر ہمارے بزرگ دوست مولانا مجاہد الحسینی کو تمام مکاتب ِفکر کے علما کی طرف ایک مکتوب دے کر بھیجا۔ مولانا مجاہد الحسینی جو فیصل آباد میں مقیم ہیں اور اُنہوں نے ایک ملاقات میں مولانا کے ہاتھ کا لکھا ہوا وہ مکتوب مجھے دکھایا تھا۔ مولانا غزنوی نے اس میں لکھا تھا کہ ہمیں مل بیٹھ کر یہ چیلنج قبول کرتے ہوئے متفقہ لائحہ عمل کی صورت میں جواب دینا چاہئے تاکہ قیامِ پاکستان کے بڑے مقصد کے حصول میں اس قسم کی رخنہ اندازی کا دروازہ ابتدا ہی میں بند کردیا جائے، چنانچہ مولانا غزنویؒ کی اس تحریک پر جنوری ۱۹۵۱ء میں کراچی میں مولانا سیدمحمد سلیمان ندویؒ کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں آئندہ علماء کی تگ و تاز سے یہ ۲۲ نکات پر مشتمل دستاویز تیار کی گئی اور اسے اخبارات میں بھی مشتہر کیا گیا ،لیکن افسوس کہ اس راہنمائی سے فائدہ نہ اُٹھایا گیا۔

جنرل محمد ضیاء الحق جب برسراقتدار آئے تو اُنہوں نے نفاذِ اسلام کا عزم کرتے ہوئے ممتاز علما سے رابطہ قائم کیا۔اُنہوں نے بڑے بڑے کنونشن بھی منعقد کئے۔ ایک اجلاس میں جس میں ان سطور کا راقم بھی موجود تھا، جنرل ضیاء نے چوہدری خلیق الزمان والی بات دہرائی اور ہاتھ لہراتے ہوئے کہا کہ کوئی فرقہ ہاتھ کو یہاں سے کاٹنے اور کوئی اُنگلیوں تک کاٹنے کو کہتا ہے، آخر کس کی بات مانی جائے؟اجلاس میں سناٹا سا چھا گیا، لیکن راقم الحروف نے اُٹھ کر جواب میں جنرل ضیاء سے کہا کہ یہ مسئلہ تو ابتداے قیامِ پاکستان کے وقت ہی ہمارے اکابر نے ۲۲ نکات کی صورت میں حل کردیا تھا۔ چنانچہ اُنہوں نے فوراً اپنے وزیر اطلاعات راجہ محمد ظفر الحق کو حکم دیا کہ ۲۲ نکات لائے جائیں۔ چنانچہ تھوڑے وقت کے بعد ہی وزارت کے دفتر سے پرانی فائل لائی گئی جس میں ۳۱ علماء کے اسماے گرامی اور ان کے مرتب کردہ یہ ۲۲ نکات واضح تھے۔ راقم الحروف کی دوسری تجویزپر جنرل ضیاء نے حکم دیا کہ ان ۲۲ نکات کو قومی اخبارات کے صفحاتِ اوّل پر اشتہار کی صورت میں شائع کیا جائے نیز ان ۲۲ نکات کو جنرل صاحب(اپنے طور پر) نے ۱۹۷۳ء کے آئین کا حصہ بھی بنایا۔

آگے چل کر اس شمارہ میں ۱۹۸۶ء میں لاہور میں 'متحدہ شریعت محاذ' کے زیراہتمام جملہ مکاتب ِفکر کی نمائندہ کمیٹی نے شریعت بل کے جس ترمیمی مشورہ پراتفاق کرنے کا تذکرہ ہے، جو جامعہ نعیمیہ لاہور میں مولانا سمیع الحق نے پیش کیا، اس کی تدوین و ترتیب میں بھی آپ کے والد ِگرامی قدر اور جماعت کی متاعِ عزیز محترم حضرت حافظ عبدالرحمن مدنی کا بڑا حصہ ہے۔ مرکزی سطح پر مجلس شوریٰ میں مولانا معین الدین لکھوی  کی کاوشیں نظرانداز نہیں کی جاسکتیں۔ اسی سلسلہ میں جنرل ضیاء الحق نے تفصیلات طے کرنے کے لیے مولانا ظفر احمد انصاری کی سربراہی میں انصاری کمیشن بھی تشکیل دیا تھا جس نے بڑی پیش رفت کی تھی۔ اس میں بھی اہلحدیث کی نمائندگی مولانا لکھوی بطورِ ممبر کمیشن بطریق اَحسن کرتے رہے تھے۔ انصاری کمیشن کی رپورٹ کتابی صورت میں شائع ہوئی تھی، اگر مہیا ہوسکے تو 'محدث' میں اشاعت بھی مفید و مناسب رہے گی۔اس زمانے میں شریعت بل کی منظوری اور اسلامائزیشن کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے ہمارے اکابر نے مرکزی سطح پر اور ملک بھر میں'متحدہ شریعت محاذ' قائم کیا تھا۔ فیصل آباد میں شریعت محاذ کا صدر یہ راقم الحروف تھا۔ ہم نے دوسرے مکاتب ِفکر کے علماء سے مل کر دیگر شہروں کی نسبت فیصل آباد میں بھرپور تحریک چلائی تھی۔

اسی شمارہ کے آخر میں آپ کے تایا جان حافظ عبداللہ حسین روپڑیؒ کی رحلت کا تذکرہ پڑھ کر دلی رنج وملال ہوا۔اللہ تعالیٰ اُنہیںمغفرت فرماتے ہوئے جنت الفردوس میںمقام عطا فرمائے۔ محترم حافظ عبدالرحمن مدنی، محترم حافظ عبدالوحید اور خاندان کے دوسرے افراد کو میری طرف سے تعزیتی پیغام دیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو صبر و حوصلہ سے نوازے۔ وہ شروع سے کراچی میں قیام رکھتے تھے، پھر بھی لاہور میںان سے دوچار بار ملاقات کے مواقع ملے تھے۔

مجھے آبائی طور پر بچپن سے ہی روپڑی خاندان سے گہری عقیدت ہے۔حضرت حافظ عبدالرحمن مدنی  اس دینی تعلق کو جانتے ہیں۔ یہ کوئی نصف صدی پیشتر کی بات ہے جب یہاں فیصل آباد منٹگمری بازار میںمسجد ِمبارک میں حافظ عبدالقادرروپڑی خطبہ جمعہ کے لیے آتے تھے۔چند سال بعد گلبرگ Cکی مسجد فردوس میں وہ برس ہا برس خطبہ دیتے رہے۔ آپ کے پھوپھا حضرت حافظ محمد اسماعیل روپڑی اس زمانے میں سرگودھا بلا ک نمبر ۱۹ جامع اہلحدیث میں خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ لاہور سے سرگودھا کا راستہ اس دور میں براستہ فیصل آباد تھا۔ حافظ محمد اسماعیل اکثر جمعہ کی رات فیصل آباد تشریف لے آتے۔کسی نہ کسی شہر کے اہم مقام پر دونوں بھائیوں کی تقریروں کے پروگرام ہوتے۔ حافظ محمد اسماعیل کے مثالی خطبات اور کمال کی شیریں بیانی سے متاثر ہوکر بڑے بڑے شرک وبدعات میں ڈوبے خاندانوں کی اصلاح ہوتی اور کثیر تعداد نے اس زمانے میں اپنے عقائد و اعمال کی اصلاح کی۔روپڑی برادران کاقیام ہمارے غریب خانہ پر ہوتا۔والد علیہ الرحمہ کے ساتھ دونوں کی محبت اور عقیدت لفظوں میں بیان نہیں کی جاسکتی۔ کبھی کبھار جب لاہور مسجد قدس میںمیرا جاناہوتا تو حافظ محمد اسماعیل روپڑی شفقت فرماتے ہوئے رات کو اپنی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن لے آتے۔ ۹۹جے میں،جہاں اب کئی برس سے 'محدث' کا دفتر قائم ہے، یہاں رات کے قیام کے دوران سارا گھرانا تہجد و تلاوتِ قرآن پاک میںمشغول دیکھتا، گھر بھر میں آپ کے دادا حضرت حافظ محمد حسین روپڑیؒ کی سرپرستی میں ایک نورانیت اور عجیب روحانیت کا ماحول طاری ہوتا۔

جب سے 'محدث' زیر مطالعہ ہے، میری دلی آرزو تھی کہ اس میں حضرت حافظ محمد حسین ؒکا تذکرہ کبھی پڑھنے کو نہیں ملا۔ ایک مدت کی خواہش مزید کے بعد اس شمارہ میں ان کے کچھ حالات و خدماتِ دینیہ کے متعلق پڑھ کر ان کی وجیہ و بارعب شخصیت اور علمی وقار و جلال آنکھوں کے سامنے آگیا۔مرحوم جامعہ قدس میں معقولات اور منقولات کے ماہر استاد کی حیثیت میں مدرّس تو تھے ہی، لیکن اپنے بڑے بھائی حضرت حافظ محمد عبداللہ محدث روپڑی علیہ الرحمہ کی عدم موجودگی میں خطبہ جمعہ بھی ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ راقم کو بیشتر مرتبہ ان کا خطبہ سننے کاموقع ملا۔ ان کی تفسیری نکتہ آفرینی اور محدثانہ گفتگو اور کلام و بیان میں خلوص و مٹھاس کی چاشنی اب تک دل و دماغ کی دنیا میںموجود ہے۔اُنہیں روپڑی خاندان میںایک امتیازی شان یہ حاصل تھی کہ وہ کاروبار اور تجارت پیشہ ہونے کے سبب خودد اری اور علمی وقار کے لحاظ سے ہمارے اسلاف کا حقیقی نمونہ تھے۔ افسوس للہیت اور علم و عمل کے مجسم ایسے علماء اب کہاں ؟ بقول آغا شورش کاشمیری ؎

یا ربّ وہ ہستیاں کہاں بستیاں ہیں

کہ جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں

بحمد اللہ حضرت حافظ محمد حسین ؒ کی آل اولاد کی طرزِزندگی بھی انہی کی طرح ہے جو معاشی لحاظ سے خود کفیل ہیں۔ مجھے ان روپڑی بزرگوں حضرت حافظ محمد عبداللہ، حافظ محمد حسین، حضرت حافظ محمد اسماعیل اور حضرت حافظ عبدالقادر کے جنازوں میں شمولیت کی سعادت حاصل ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بلند مرتبت صالحین کی خدماتِ دینیہ کوقبول و منظور فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور اُنہیں جنت الفردوس میں مقام وقیع عطا فرمائے اور آپ سب کو اُنہیں کی طرح دینی کاوشوں کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین!

حضرت حافظ عبدالرحمن مدنی  ، حافظ عبدالوحید  اور حافظ محمد ایوب  اور دیگر بھائیوں و اَحباب کی خدمت میں السلام علیکم عرض ہے۔ آج کل کمر کی تکلیف کی وجہ سے چند دنوں سے صاحب ِفراش ہوں، دعا کی درخواست ہے۔فقط والسلام

(محمد یوسف انور،فیصل آباد)

C

محترم جناب ڈاکٹر حافظ حسن مدنی صاحب مدیر ماہنامہ 'محدث' لاہور

السلام علیکم!

'محدث' کا شمارہ محرم الحرام ۱۴۳۱ھ بمطابق فروری ۲۰۱۰ء مطالعہ کرنے کا موقعہ ملا۔یہ رسالہ شروع ہی سے ماشاء اللہ مذہبی، اَدبی اور تحقیقی رسالہ ہے، لیکن اس ماہ اس میں ایک مضمون ''کیا یزید فوجِ مغفور لہم کا سپہ سالار تھا؟'' پڑھ کر درج ذیل سطور لکھنے پر مجبور ہوا ہوں۔

ہمیں بیسویں صدی عیسوی کی ستر کی دہائی یاد آگئی جب مولانا مودودی مرحوم اپنی کتاب 'خلافت و ملوکیت' لکھ کر اس پر اعتراضات کاجواب دے رہے تھے۔اس وقت کے جید اور محقق علما نے ان پر کافی گرفت کی اور مولاناصاحب کو اپنے موقف سے رجوع کرنے کا مخلصانہ مشورہ دیا، لیکن اُنہوں نے یہ کہہ کر اسے قبول نہ کیا کہ میں نے اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھا بلکہ سابقہ تواریخ میں جو کچھ لکھا تھا، وہ دہرایا ہے۔ اس مضمون میں یہی طرزِ عمل جناب ابوجابر عبداللہ دامانوی صاحب کا نظر آیا۔مزید ان کاسارا مضمون تضادات سے بھرا ہے کہیں وہ واقعات کو تسلیم کرتے ہیں اور کہیں انکار کردیتے ہیں۔ کیا نعوذ باللہ کسی کو بخشنے یا عذاب دینے کے اختیارات وہ اپنے ہاتھ میں سمجھتے ہیں جبکہ یہ سب چیزیں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ ایسے متنازعہ موضوع کومحدث ایسے رسالہ میں جگہ دینا مناسب نہ تھا اور نہ ہی اس کی ضرورت تھی۔

مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ ہم آپ کے والد محترم جناب حافظ عبدالرحمن مدنی کی مجلس میں بیٹھے تھے تو اُنہوں نے فرمایا کہ واقعہ کربلا ۶۰ہجری میں وقوع پذیر ہوا تھا۔ اس کے ستر اسّی سال بعد ایک غالی شیعہ داستان گو مصنف ابومحنف؟؟؟ یحییٰ بن لوط نے ایک کتاب 'مقتل حسین' لکھی اور اس میں بے سند، بے سروپا اور مبالغہ آمیز واقعات لکھے جن کو لے کر اگلے مؤرخین بھی چلتے رہے حالانکہ صحابہ، تابعین،تبع تابعین رحمہم اللہ کے دور میں اس واقعے کا اتنا چرچا اس دور کی کتابوں میں نہیں ملتا۔ اس واقعہ کی اچانک تشہیر شرو ع ہونے کی وجہ یہ تھی کہ عین اس وقت بنو عباس نے بنواُمیہ کا تختہ الٹ کر اپنی امارت قائم کی تھی اور اس کو مستحکم کرنے کے لیے بنواُمیہ پر شدید ترین مظالم ڈھائے پھر جن کو چھپانے کے لیے ان پر اسی طرح کے کسی اہم واقعہ کی تلاش تھی جو واقعہ کربلا کی صورت میں ان کو مل گیا جس کی ہر طرح سے تشہیر کروانے کی اُنہوں نے کوشش کی اور وہ اس میں کامیاب رہے۔

مضمون کے آخری پیرا میں دامانوی صاحب نے لکھا ہے کہ یزید کے سیاہ کارنامے مثلاً سیدنا حسینؓ اور ان کے خاندان کا قتل، مدینہ پر شاہی فوج کا حملہ اور اس کو تاخت و تاراج کرنا، صحابہ کرامؓ اور تابعین کاقتل عام اور مدینہ کے عوام کو خوفزدہ کرنا ایسے کارنامے ہیں جن کو اُمت مسلمہ فراموش نہیں کرسکی۔ اگر ان کا تاریخی مطالعہ وافر ہے تو کیا وہ ان سوالات کا جواب دیں گے کہ درج ذیل واقعات کیا کم اندوہناک اور غم ناک تھے کہ ان کوبھلایا جاسکے:

a ابولؤلؤفیروز نامی ایرانی غلام کے ہاتھوں حضرت عمرفاروقؓ کی شہادت۔

b مدینہ شریف میں حضرت عثمانؓ کے گھر کا محاصرہ، ان کی مظلومانہ شہادت اور ان کی اہلیہ محترمہ کی انگلیاں کاٹ دینا۔ مسجد ِنبویؐ میں نماز ادا کرنے سے جبراً روکنا اور ان کے جسد مبارک کا تین دن سے بے گورو کفن پڑا رہنا اور پھر ان کو اس وقت کے جنت البقیع میں دفن نہ ہونے دینا۔

c حضرت علیؓ کو کوفہ کی مسجد میں شہید کردینا۔

d خلافت ِعباسیہ کے بانی عبداللہ سفاح اور اس کے چچا عبداللہ بن علی نے ۱۳۰ھ میں دمشق پر قبضہ کیاتو جشن فتح منانے کے بہانے بنو اُمیہ کے تمام بڑوں، چھوٹوں، عورتوں کو یہ کہہ کر مدعو کیا کہ آؤ ہم سب قریش ہیں، آپ ہماری امارت کو تسلیم کرلیں، ہم آپ سب کو عزت اور امان دیں گے۔ ان میں بنواُمیہ کے وہ اشخاص بھی شامل تھے جو بنوعباس کے حامی تھے۔ انہوں نے ان سب کو جن کی تعداد ۹۰ تھی، دعوت پر بلایا اور بجائے کھانا کھلانے کے ان دونوں نے بنواُمیہ کے تمام افراد کو قتل کروا دیا اور ان کی لاشوں پر کپڑے اور دستر خوان بچھوا کر ضیافت اُڑائی۔اس طرح اُنہوں نے اپنی بدعہدی نخوت اور شقاوتِ قلبی کا کھلم کھلا مظاہرہ کیا۔اُنہوں نے یہ حرکت کرکے عربوں کی اِسلامی اور جاہلیت کی تاریخ سے غداری کی تھی حالانکہ ان میں دستور تھا کہ اگر کوئی کسی کے قریبی عزیز کا قاتل بھی کسی کے گھر میں پناہ لے لیتا تو وہ اس وقت تک اسے کچھ نہ کہتے جب تک وہاں سے چلا نہ جاتا۔ اس کے بعد انہوں نے کاتب ِوحی حضرت امیرمعاویہؓ اور دیگر فوت شدہ امرائے بنواُمیہ کی قبریں اُکھیڑ دیں۔ ہڈیاں باہر پھینک دیں اور بچی کچھی لاشوں کو کتوں کے آگے ڈال دیا۔ دوسری طرف اُنہوں نے ابومسلم خراسانی ،جس کی مدد اور کاوش سے اُنہوں نے بنو اُمیہ کا تختہ اُلٹا تھا، کو کھلی چھٹی دے دی اور اس بدبخت نے ملک خراسان میں آباد ایک ایک عرب کو چن چن کر قتل کروایا۔ صرف چند خاندان جو جان بچا کر قریبی علاقوں میںچلے گئے، بچ گئے تھے۔ اب اپنے تمام مظالم کو چھپانے اور لوگوں کے ذہن سے نکالنے کے لیے ان کے پاس صرف واقعۂ کربلا تھا جس کی اُنہوں نے خوب تشہیر کی اور اسی دورکے ابومحنف؟؟؟ یحییٰ بن لوط اور اس جیسے دیگر دروغ گو مصنّفین اور شعراء ان کے ہتھے چڑھ گئے جن سے بے سند جھوٹی اور طلسماتی واقعاتِ کربلا لکھوا کر اُمت میں افتراق کا ایسا بیج بویا جس کو اُمت اب تک کاٹ رہی ہے۔

e ۳۱۷ھ میں ابوطاہر قرمطی کا خانۂ کعبہ کو تاراج کرنا،حاجیوں کا قتل عام کرنا، صحن کعبہ میں شراب پینا، زنا اور لواطت کرنا اور حجراسود کو اُکھاڑ کر اپنے شہر لے جانا۔

اگر تاریخ اسلام کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو زمانۂ حال تک ایسے واقعات اتنے ملیں گے جن کااِحاطہ مشکل ہے۔آج تک یہ تاریخ ان لوگوں(یہود، مجوس، روافض) کی سازشوں، دجل و فریب اور سیاہ کارناموں سے بھری پڑی ہے جس سے اہل اسلام کو پہلے بھی اور اب تک لگاتار نقصان پہنچ رہا ہے۔ آخری قابل افسوس بات یہ ہے کہ اگرہم اہل حق ان کے صفائی کے وکیل بن کر ان کے موقف کو تسلیم کرلیں تو وہ ہر مجلس میں اس کا حوالہ دیں گے جس کا اسلام کو جو نقصان پہنچنا ہے وہ پہنچے گا، لیکن قیامت کے دن ہم اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے۔والسلام

(میاں عبدالمجید)

جامع مسجد قبا اہلحدیث، چناب بلاک، علامہ اقبال ٹاؤن، لاہور

D

محترم جناب ڈاکٹر حافظ حسن مدنی  السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ

اُمید ہے مزاجِ گرامی بخیرہوں گے۔ آپ کے مؤقرماہنامہ 'محدث' کا ماہ جولائی۲۰۱۰ء کا شمارہ پڑھنے کو ملا۔ الحمدﷲ نہایت مفید و وقیع مضامین پر مشتمل ہے، بطورِ خاص شیخ حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کا مضمون بڑا ہی مفید ہے۔

علاوہ اَزیں ایک نہایت اہم موضوع 'چہرہ کا پردہ' پر بھی حافظ محمد زبیر تیمی  کامضمون شائع ہوا ہے۔یہ موضوع جتنا اہم اور سنجیدہ ہے، مذکورہ مضمون میں اس کے ساتھ اتنا ہی غیر سنجیدگی کامظاہرہ کیا گیاہے۔اس حوالے سے چند نکات کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔مقصد یہ ہے کہ 'محدث ' جو ہم سب کا ترجمان مجلہ ہے، مزید باوقار بنے اور محل اعتراض نہ ٹھہرے ۔

a حافظ محمد زبیر صاحب نے صفحہ ۲۲ پر اُمّ المؤمنین عائشہ ؓ کی یہ حدیثدرج کی ہے:

قَالَتْ: کَانَ الرُّکْبَانُ یَمُرُّوْنَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ مُحْرِمَاتٌ فَاِذَا حَاذَوْا بِنَا سَدَلَتْ اِحْدَانَا جِلْبَابَھَا مِنْ رَأْسِھَا عَلیٰ وَجْھِھَا فَاِذَا جَاوَزُوْنَا کَشَفْنَاہُ

اور پھر اس پر اِعتراض نقل کیا ہے کہ بعض لوگوں نے اس حدیث کو اَزواجِ مطہرات کے ساتھ خاص کیا ہے۔ اس کاجواب دیتے ہوئے موصوف لکھتے ہیں:

''اس حکم کو ازواجِ مطہرات کے ساتھ خاص کرنا درست نہیں،کیونکہ حضرت عائشہ ؓ نے حدیث میں صرف اپنا طرزِعمل بیان نہیںکیا بلکہ رسول اللہ1 کے ساتھ سفر حج کے دوران جتنی بھی خواتین ہوتی تھیں، ان سب کے بارے میں بتلایا ہے کہ قریب سے گزرنے پر اپنے چہرے اپنی چادروں سے ڈھانپ لیتی تھیں۔''

سوال یہ ہے کہ اگر یہاں ازواجِ مطہرات کے علاوہ دیگر عورتیں بھی مراد ہیں توکیا وہ رسول اللہ1کی موجودگی میں چہرہ کھلا رکھتی تھیں اور قافلوں کے آنے پر پردہ ڈال دیتی تھیں۔ اس کامطلب تو یہ ہوا کہ کسی اجنبی کے ہوتے ہوئے عورت چہرہ کھلا رکھ سکتی ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ عورتیں اپنے اپنے محارم کے ساتھ سفر کرتی تھیں یا کہ نبی1 کے ہمراہ؟ اگر اس سے اَزواجِ مطہرات کے علاوہ دیگر محارمِ نبی1 مراد ہیں تو اس کی حدیث میں نہ تو وضاحت کی گئی ہے اور نہ کوئی دلیل ذکر ہے۔

میرا مقالہ نگار سے سوال ہے کہ اس باب میں ص ۲۷ پر درج کردہ جب فاطمہ بنت منذرؓ والی حدیث موجود ہے تو اس طرح کی ضعیف السند اور غیر واضح حدیث سے استدلال کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ فاطمہ بنت منذر والی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

''کُنَّا نُخَمِّرُ وُجُوْھَنَا وَنَحْنُ مُحْرِمَاتٌ وَنَحْنُ مَعَ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَـکْرٍ الصِّدِّیْقِ'' (موطا امام مالک: رقم ۷۲۴)

bاس کے بعد حضرت عائشہ صدیقہؓ کی حدیث کے راوی یزید بن ابی زیاد کے بارے میں بھی عجیب استدلال فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:

''اس حدیث کی سند میں ایک راوی یزیدبن ابی زیاد مختلف فیہ راوی ہے، لیکن اس راوی کا ضعیف ہونا اَئمہ محدثین کے نزدیک اتفاقی نہیں ہے۔'' (محدث:ص۲۳)

سوال یہ ہے کہ کسی راوی کے ضعیف ہونے کے لیے ائمہ محدثین کا اتفاق کرنا ضروری ہے اور تب ہی وہ راوی ضعیف بنتا ہے۔ اگر قاعدہ یہ ہے کہ تو پھر تو بہت سے ضعیف راوی ضعیف نہیںٹھہریں ہوں گے کیونکہ ان کے ضعیف ہونے پر سب کا اتفاق نہیں۔ اس راوی کو یحییٰ بن معین، احمد، شعبہ، وکیع، ابن المبارک، ابوحاتم رازی، نسائی، ابن عدی، ابوداؤد، ابن خزیمہ، جوزجانی،عقیلی، دارقطنی، ابن حجر اور ذہبی وغیرہ نے ضعیف کہا ہے۔ ان کے علاوہ اور بھی محدثین ہیں جنہوں نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے۔ (تفصیل کے لیے محترم حافظ زبیر علی زئی کی کتاب 'نور العینین' ص ۱۳۵ ملاحظہ کیجئے) جب کہ توثیق کرنے والے ابن شاہین ،احمد بن صالح، عجلی، ابن سفیان اور ابن سعد ہیں۔

حافظ محمد زبیر تیمی لکھتے ہیں:

''یہی وجہ ہے کہ امام مسلم نے بھی اس سے حدیث نقل کی ہے اور امام ذہبیؒ نے اسے صدوق کہا ہے۔'' (ایضاً)

ان دونوں میں تیمی صاحب نے انصاف سے کام نہیں لیا، کیونکہ امام مسلم نے اس سے اِصالۃً روایت نہیں لی بلکہ مقرونًا بالغیر روایت لی ہے۔ جیسا کہ امام ذہبی نے المغني في الضعفاء اور الکاشف میں اس کا تذکرہ کیاہے۔ تو ایک راوی سے اصالۃً روایت کرنا اور بات ہے جب کہ مقرونًا بالغیر روایت کرنا اور بات ۔

امام ذہبیؒ کی بات اُنہوں نے اَدھوری نقل کی ہے۔ جیسے کوئی شخص لا تقربوا الصلاۃ کونقل کرے اور وأنتم سکارٰی کو چھوڑ دے۔اُنہوں نے امام ذہبی کی بات 'صدوق ' تو لے لی، لیکن اُنہوں نے صدوق سے متصل جو لفظ رديء الحفظ لکھا ہے ،اسے چھوڑ دیا ہے۔ پورا جملہ یہ ہے ہے:''صدوق رديء الحفظ'' اب کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ امام ذہبی اسے صدوق رديء الحفظ یا مشهور سيء الحفظ (کما في المغنی في الضعفاء) کہیں اور موصوف رديء الحفظ یا سيء الحفظ کے لفظ کو اُڑا دیں۔

c لفظ 'خمار' (ص۲۶)سے متعلقہ مبحث میں موصوف نے غیر واضح انداز اختیار کیا ہے یعنی چہرہ ڈھانپنے کے لیے اُنہوں نے خمار کے استعمال کو ثابت کیا ہے، لیکن یہ نہیں بتایا کہ خمار کہتے کس کو ہیں؟ شرعی مسائل میں واضح اور تلبیس سے مبرا انداز اختیار کرنا چاہئے۔چہرے کے پردے کے بارے میں جب دیگر واضح دلائل موجود ہیں تو پھر اس طرح کے احتمالی دلیل کا سہارا لینے کی کیا ضرورت؟ منکرینِ حدیث و حجاب ہمارے اس طرح کے کمزور و غیر واضح استدلات سے فائدہ اٹھا کر لوگوں کوگمراہ کرتے ہیں۔

dصفحہ ۳۱ پر عائشہؓ کی حدیث: أومت امرأۃ من وراء سترٍ... پیش کی ہے۔ جبکہ یہ حدیث ضعیف ہے، اس میں ایک راوی مطیع بن میمون لین الحدیث ہے۔ (تقریب التہذیب) اور ایک راویہ صفیہ بنت عصمہ بھی لا تعرف غیر معروف ہے۔ امام احمدؒ نے اسے منکر کہا ہے۔ (دیکھئے سنن ابو داؤد:۴۱۶۶، بہ تحقیق شیخ زبیر علی زئی)

(مولانا عبد الولی حقانی)

E

عزیز القدر ڈاکٹر حافظ حسن مدنی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مولانا مقتدیٰ حسن ازہریؒ کی وفات کے موقع پر چند یادداشتیں سپرد قلم کی ہیں، جنہیں اپنے موقر مجلہ میں شائع فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً

'' مولانا مقتدی حسن ازہری بھی داغِ مفارقت دے گئے۔ إناﷲ وإنا إلیه راجعون!

مولانا مرحوم کی زیارت اور ملاقات کی شدید خواہش تھی، لیکن پاک و ہند کی غیر انسانی حکومتوں اور ان کی سیاسی آویزشوں نے آنے جانے کی راہ میںجو غیر ضروری رکاوٹیں کھڑی کررکھی ہیں، قربِ مکانی کے باوجود اُنہوں نے مشکلات کے ہما لیے کھڑے کردیئے ہیں جنہیں عبور کرنااہلِ علم کے لئے کارے دارد ہے۔

اس سے قبل محدثِ ہند مولاناعبیداللہ رحمانی مبارکپوری، مولاناعبدالوحید آف بنارس، مولانا رئیس احمدندوی، خطیب ِاسلام مولانا جھنڈا نگری رحمہم اللہ اجمعین اور دیگر بہت سے اہل علم کی زیارت کے شرف سے محرومی مسلسل قلق و اضطراب کا باعث ہے۔ قدّر اﷲ ماشاء وما لم یشأ لم یکن!

مولاناازہریؒ سے ایک موضوع پر تقریباً ربع صدی سے وقتاً فوقتاً خط و کتابت کے ذریعے سے ایک تعلق قائم تھا، اس کا علم ان کے قریبی رفقا کو بھی غالباً ہوگا ، وہ ایک علمی امانت بھی ہے اور ان کی علمی تڑپ کامظہر بھی جس کو وہ پورا کرنے کی شدید خواہش اور کوشش کے باوجود اپنے ساتھ ہی لے گئے۔ اس کی وضاحت اس لئے ضروری معلوم ہوتی ہے کہ اس کام کے کرنے کی واقعی ضرورت و اہمیت ہے، مولانا ازہری کے ذریعے وہ کام اگر نہیں ہوسکا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب اس کی ضرورت یا افادیت ختم ہوگئی ہے۔

وہ کام ضرور ہونا چاہئے، اس کی افادیت و ضرورت مسلمہ ہے اور وہ پاک و ہند کے علما اور مرکزی جماعتوں اور اصحابِ وسائل اداروں کی ذمے داری بھی ہے، بالخصوص فضلاے مدینہ یونیورسٹی کی، جن کی ایک معقول تعداد پاک و ہند میں موجود ہے۔

وہ کام ہے راقم کی کتاب: 'خلافت و ملوکیت کی تاریخی و شرعی حیثیت' کو عربی کا جامہ پہنانے کا، جومولانا مودودی کی کتاب 'خلافت و ملوکیت'کا مدلل اور علمی و تحقیقی جواب ہے۔ مولانا مرحوم نے اپنے پہلے مکتوب میں تحریر فرمایا تھا کہ'' اس کتاب کو عربی میں منتقل کرنے کی شدید ضرورت ہے، میری مصروفیات مجھے اجازت نہیں دیتیں، ورنہ میں خود یہ کام کرتا، آپ اس کے لئے کوشش فرمائیں۔''

راقم نے ان کو جواب میں تحریر کیا کہ ''راقم کی بھی یہ شدید خواہش ہے، بالخصوص جب سے راقم کے علم میں یہ آیا ہے کہ مولانا مودودی کی کتاب کویت سے عربی میں الخلافۃ والملک کے نام سے شائع ہوگئی ہے تو یہ خواہش شدید تر ہوگئی ہے۔ کیونکہ اس کی ضرورت بھی فزوں تر ہوگئی ہے لیکن پاکستان میں ، میں نے کئی فضلاے مدینہ کو بھی اس طرف متوجہ کیا لیکن نتیجہ ع اے بسا آرزو کہ خاک شد! کی صورت میں نکلا۔اس لئے آپ ہندوستان میںفضلاے مدینہ سے یہ کام کروا سکتے ہیں تو اس کے لئے ضرور کوشش فرمائیں۔''

کچھ عرصے بعد مولانامرحوم نے راقم کو لکھا کہ ''میں نے چند اہلِ علم کو اس کام کے لئے تیار کرلیا ہے اور اس کے اجزا میں نے ان میں تقسیم کردیئے ہیں، وہ تھوڑا تھوڑا حصہ عربی میںمنتقل کردیں گے۔'' لیکن اس کے بعد کیا ہوا؟ جن حضرات کے سپرد یہ کام کیا گیا، اُنہوں نے کچھ کیا یا نہیں؟ اس کی تفصیل وہی جانتے تھے یا شاید مولاناصلاح الدین مقبول (کویت) کے علم میں ہو۔ راقم کو مزید تفصیلات کا علم نہیں۔ لیکن سالہا سال کی خاموشی سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا ازہریؒ اس منصوبے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ دو سال قبل پھر ان کا مکتوبِ گرامی آیا کہ ''آپ اس کام کے لئے محترم عبدالمالک مجاہد صاحب کو آمادہ کریں۔'' راقم نے ان کا وہ مکتوب محترم مجاہد صاحب کو جب وہ پاکستان تشریف لائے، دکھایا تو اُنہوں نے اس مکتوب پر ہی اپنے دست ِمبارک سے حسب ِذیل عبارت تحریر کرکے مجھے واپس کردیا کہ

''یہ مولانا مقتدیٰ حسن کو بھیج دیں۔ یہ کام آپ ہندوستان میں اپنی زیرنگرانی کروالیں، سارا خرچہ میں برداشت کرلوں گا۔''

یہ مکتوب راقم نے مولانا ازہری کوارسال کردیا، لیکن پھر ان کاجواب نہیں آیا۔ یہ گویا آخری مکتوب ثابت ہوا۔

اس مختصر تفصیل سے اصل مقصود یہ ہے کہ محولہ کتاب کو عربی میںمنتقل کرنے کی واقعی شدید ضرورت ہے، مولانا ازہری ؒ خواہش اور کوشش کے باوجود یہ کام نہیں کرسکے، تو دوسرے اہل علم کو جو عربی اور اُردو دونوں زبانوں میں مہارت اور انشا و تحریر کا سلیقہ رکھتے ہیں، اس مسئلے کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے یا جو بڑے ادارے ہیں جیسے 'دارالسلام' (الریاض) یا 'جمعیۃ احیاء التراث الاسلامی' (الکویت) وغیرہ، وہ اہل علم کے ذریعے سے یہ کام کروائیں او رعالم عرب میں اس کتاب کو متعارف کروائیں۔

اس میں صحابہ کرامؓ بالخصوص حضرت عثمان و معاویہ، حضرت مغیرہ بن شعبہ و عمرو بن عاص وغیرہمؓ کا دفاع ہے۔ مغربی جمہوریت جس کی زلف ِگرہ گیر کے بڑے بڑے اہل علم اسیرو گرویدہ ہیں، حالانکہ اس نے اسلامی ملکوں سے اسلامی اقدار و روایات کا جنازہ نکال دیا ہے، اس کی حشرسامانیوں کی تفصیل ہے او راسلامی نظامِ حکومت کی ضروری تفصیل ہے جس کے لئے اس وقت دنیا چشم براہ ہے۔ وفّقنا اﷲ لما یحبّ ویرضٰی ومَا علینا إلاالبلاغ''