اِسلامی علمیت کابنیادی ماخذ وحی الٰہی یعنی قرآن و حدیث ہے اور 'جاہلیت ِجدیدہ' یعنی تہذیب ِ مغرب کی علمیت کا ماخذ 'وحی بیزار عقل' اور 'مذہب دشمن جذبات' ہیں۔ اس 'وحی بیزار عقل' اور ' مذہب دشمن جذبات 'نے جس علمیت کو جنم دیا، وہ 'جدید سائنس' (نیچرل وسوشل) کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔ ماخذ ِ علم کے اس بنیادی اور اساسی اختلاف کے باوجود بہت سے لوگوں نے بعض جزوی مشابہتوں کی بنا پر،جن کا کسی بھی علمیت ، چاہے وہ کافرانہ و مشرکانہ ہو یا اسلامی اور موحدانہ، میں پایا جانا ممکن ہوتا ہے بعض بڑے بڑے نتائج اخذ کئے ہیں۔ اسلام میں بعض معاملات کو مشورہ کے ذریعے طے کرنے کی اجازت کو 'اسلامی جمہوریت ' بنا دینا اور صرف سود کی بعض شکلوں سے بچتے بچاتے بینکاری کے مروّجہ نظام کو 'اسلامی بینکاری' قرار دینا اس کی مثالیں ہیں۔

'کائنات پر غور وفکر' یقینا قرآن کا ایک اہم موضوع ہے اور جدید سائنس تو اسی مقصد کے لئے وجود میں آئی ہے۔ عنوان کی اس مشابہت سے بہت سے مسلمان سائنس کے اس قدر دلدادہ ہوئے کہ یہاں تک کہنے لگے کہ سائنس تو قرآن سے نکلا ہوا علم ہے اور اہل یورپ نے تو سائنس سیکھی ہی مسلمانوں سے ہے، جب وہ اَندلس کی درس گاہوں میں پڑھنے کے لئے آیا کرتے تھے۔ پھر مسلمانوں میں سائنسدانوں کے نام گنوائے جانے لگے، اسلام اور سائنس کے عنوان سے کتابیں لکھی جانے لگیں جن میں مشترکہ علمیت کو اُجاگر کیا جاتا بعض تو یہاں تک بڑھے کہ اسلامی سائنس کی بنیادیں رکھنے لگے اور کئی ایک اس سے بھی آگے سائنس کو اسلام اور اسلام کو سائنس تک ثابت کرنے سے نہ ہچکچائے ... غلام قومیں شاید اپنے آقائوں کے سامنے اسی طرح بچھتی رہی ہوں گی۔ اس سارے فسانے میں اس بات پر غور کرنے کا ہمیں موقع ہی نہ ملا کہ جو سائنس یورپ نے قرآن سے اَخذ کر لی ہے، وہ قرآن پر ایمان رکھنے والے اور قرآن کے ایک ایک لفظ کو مقدس کلام اللہ ماننے والے مسلمان خود قرآن سے کیوں اَخذ نہ کر سکے؟ صحابہ کرامؓ ،تابعین عظام اور اتباعِ تابعین، اسلام کی پہلی تین فضیلت یافتہ نسلیں، ائمہ کرام، فقہاے عظام اور محدثین ... قرآنِ مجید کی تفسیریں کرتے ہوئے ان آیات کی کیا تشریحات پیش کرتے رہے۔ جدید سائنس کی ایجاد سے پہلے کسی تفسیر اور تشریح میں یہ موضوعات تو کبھی اس طرح زیر بحث نہ آسکے!

یقینا کائنات پر غور وفکر، قرآن مجید کا ایک بڑا موضوع ہے بلکہ شاید بڑا موضوع ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر نظرانداز کردیا گیاموضوع بھی!

سب سے پہلے!

قرآن جستہ جستہ ہمیں تخلیق کی تفصیل پیش کرتا ہے۔ تخلیق سے قبل جب کچھ نہ تھا، تو اللہ جل جلالہ تھا۔تخلیق کی ابتدا کس چیز سے ہوئی؟ آسمان وزمین کس طرح وجود میں آئے؟ زمین کو کس طرح بچھایا اور بسایا گیا؟ آسمانِ دنیا کو کیونکر رونق بخشی گئی؟ آدم ؑ کی پیدائش کس طرح ہوئی؟ اور جب یہ سب کچھ وجود نہ رکھتا تھا تو بھی خالقِ کائنات، مالک ِارض وسماوات، الحی القیوم اللہ عزوجل اپنی ازلی وابدی ذات و صفاتِ کمال کے ساتھ موجود تھا۔ارشادِ باری ہے:

{هُوَ الْاَوَّلُ }(الحدید :۳) ''وہی پہلے ہے۔ ''

نبی 1 نے فرمایا:

اللَّهمَّ أَنْتَ الأَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَيْء (صحیح مسلم:۲۷۱۳)

''الٰہی! توہی سب سے پہلے ہے، تیرے سے پہلے کوئی نہیں۔''

صحیح بخاری کتاب التوحید میں ہے۔ نبیؐ نے فرمایا:

کَانَ اﷲُ وَلَمْ یَکُنْ شَيْء قَبْلَهُ وَکَانَ عَرْشُه عَلَی الْمَاءِ ثُمَّ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ وَکَتَبَ فِي الذِّکْرِ کُلَّ شَيْء (رقم الحدیث:۷۴۱۸)

''اللہ تھا اور کوئی چیز نہیں تھی اور اللہ کا عرش پانی پر تھا۔پھر اس نے آسمان اور زمین کو پیداکیا اور لوحِ محفوظ میں ہر چیز لکھ دی۔''

ارشاد ِباری تعالیٰ ہے:

{قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّهُ يُنْشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ}(العنکبوت: ۲۰)

''کہہ دیجیے ! زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ابتداے پیدائش کی ۔

پھر اللہ تعالیٰ ہی دوسری نئی پیدائش کرے گا۔اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ ''

جامع ترمذی اورمسند احمد کی حدیث میں ہے۔ نبی1 نے فرمایا:

إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّہُ الْقَلَمُ ،ثُمَّ قَالَ اُکْتُبْ۔فَجَرَی بِمَا هُوَ کَائِنٌ إِلَی الاَبدِ(سنن ترمذی:۳۳۱۹)

''بلا شبہ سب سے پہلی چیز جسے اللہ رب العزت پیدا کیا، قلم ہے پھر اللہ تعالیٰ نے کہا:لکھ ،تو اس نے لکھ ڈالا وہ سب کچھ جو ابد تک ہونے والا ہے۔ ''

آسمان و زمین کی پیدائش

قرآن میں ہے:

{أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ} (الاعراف: ۱۸۵)

''اور کیا لوگوں نے غور نہیں کیا آسمانوںاور زمین کے عالم میں۔ ''

دوسری جگہ ہے:

{أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ}(الانبیائ:۳۰)

''کیا کافروں نے یہ نہیں دیکھا کہ زمین و آسمان باہم ملے جلے تھے پھر ہم نے انہیں جدا کیا اور ہر زندہ چیز کو ہم نے پانی سے پیدا کیا ،کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لاتے۔ ''

اُم المؤمنین حضر ت عائشہ ؓ سے روایت ہے:

قال رسول اﷲ:0خُلِقَتِ الْمَلاَئِکَةُ مِنْ نُورٍ وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَکُم(صحیح مسلم )

رسول اللہ 1نے فرمایا:فرشتے نور سے بنائے گئے اور جن آگ کی لو سے اور حضرت آدم ؑکو اس سے جو قرآن میں بیان ہوا یعنی مٹی سے ۔''

{أَأَنْتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ بَنَاهَا (27) رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا (28) وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا (29) وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا (30) أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا وَمَرْعَاهَا (31) وَالْجِبَالَ أَرْسَاهَا (32) مَتَاعًا لَكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ }(النازعات:۲۷۔۳۳)

''کیا تمہارا پیدا کرنا زیادہ دشوار ہے یا آسمان کا ؟اللہ نے اسے بنایا ۔اسکی بلندی اونچی کی پھر اسے ٹھیک ٹھاک کر دیا ۔ اسکی رات کو تاریک کیا اور اسکے دن کو نکالا۔اور اس کے بعد زمین کو (ہموار ) بچھادیا ۔اس میں سے پانی اور چارہ نکالا ۔اور پہاڑو ں کو (مضبوط ) گاڑدیا۔یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے (ہیں )۔''

تاریکیوں اور روشنی کی تخلیق:

{الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ} (الانعام:۱)

''تمام تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکیوں اور نور کوبنایاپھر بھی کافر لوگ (غیر اللہ کو )اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں۔ ''

تخلیق چھ یوم میں

{وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَلَئِنْ قُلْتَ إِنَّكُمْ مَبْعُوثُونَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ}(ھود: ۷)

''اللہ ہی وہ ہے جس نے چھ دن میں آسمان و زمین کو پیداکیا اور اسکا عرش پانی پر تھاتاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل والا کون ہے اگر آپ ان سے کہیں کہ تم لوگ مرنے کے بعد اٹھاکھڑے کیے جائو گے تو کافر لوگ پلٹ کر جواب دیں گے کہ یہ تو نرا صاف صاف جادو ہی ہے ۔''

چھ اَیام کی تفصیل

{قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْدَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ (9) وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِلسَّائِلِينَ (10) ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ } (فصلت:۹تا۱۱)

''آپ کہہ دیجیے !کہ کیا تم اس (اللہ )کا انکا کرتے ہواور تم اس کے شریک مقرر کرتے ہو جس نے دو دن میں زمین پیدا کردی 'سارے جہانوں کا پروردگاروہی ہے ۔اور اس نے زمین میں اس کے اوپر سے پہاڑ گاڑ دیئے اور اس میں برکت رکھ دی اور اس میں (رہنے والوں کی) غذائوں کی تجویز بھی اسی میں کر دی (صرف ) چار دن میں 'ضرورت مندوں کے لیے یکساں طور۔پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں سا تھا پس اسے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی سے آئو یاناخوشی سے ۔دونوں نے عرض کیا ہم بخوشی حاضر ہیں ۔''

اسی طرح ایک حدیث ِمبارکہ میں نبی 1نے تخلیق کے متعلق مزید تفصیل ذکر فرمائی ہے :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَقَالَ: «خَلَقَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ، وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ، وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَخَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، فِي آخِرِ الْخَلْقِ، فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ، فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ»(صحیح مسلم: ۲۷۸۹)

''ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ1 نے میرا ہاتھ پکڑا پھر فرمایا اللہ نے مٹی کو ہفتہ کے دن پیدا کیا (یعنی زمین کو )اور اتوار کے دن ا س میں پہاڑوں کو پیدا کیا اور پیر کے روزدرختوں کو پیدا کیا اور کا م کاج کی اشیاء (جیسے لوہاوغیرہ )منگل کو پیداکیں ،نور کو بدھ کے دن پیدا کیا ،جمعرات کے دن زمین میں جانور پھیلائے اور حضرت آدم کو جمعہ کے دن عصر کے بعد بنایا سب سے آخر ی ساعت میں جمعہ کی عصر سے لیکر رات تک آدم پیدا ہوئے۔ ''

انسان کی پیدائش

{خَلَقَ الْإِنسَانَ}(الرحمن: ۳)

''اللہ رحمن نے انسان کو پیداکیا ۔''

{خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ (14) وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ}

''اس نے انسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا جو ٹھیکری کی طرح تھی۔اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیداکیا ۔''(الرحمن :۱۴،۱۵)

قرآن وحدیث سے تخلیقِ ارض و سماوات اور تخلیقِ آدمؑ کی یہ مختصر روداد آپ نے پڑھی ہے۔قرآنِ مجید کائنات کی تخلیق کا مختصر حال سناتا ہے، لیکن پھر بہت سی آیات ِمبارکہ میں تخلیقِ ارض وسماوات اور تخلیق آدم و انسان پر مسلسل غور وفکر کی دعوت دیتا ہے۔ بار بار انسانی عقلوں کو زمین وآسمان، سورج،چانداور ستاروں،پہاڑو سمندر، شجر وحجراور حیوانات وانسان کی حیرت انگیز تخلیق کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ قرآنِ مجید کی آیات کا تتبّع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عقلِ انسانی کو تخلیق اَرض وسماوات کی طرف غور وفکر کی دعوت دینے کے دو بنیادی مقاصد ہیں:

a مخلوق اور محتاج کائنات کے وجود سے خالق و مالک اور ربِ عظیم کے وجود، ذات وصفات اور عظمت وشان کی طرف انسانیت کو متوجہ ونشاندہی کرے۔

b دوسرا بنیادی مقصد تخلیقِ اوّل سے تخلیقِ ثانی کا اثبات یعنی انبیا کی دعوت کا دوسرا اساسی مقصدبعثت بعد الموت اور آخرت کا اثبات ہے۔

آئیے!قرآنِ مجید کی بعض آیات پڑھتے ہیں:

A وہ آیات جو مخلوق پر غور وفکر سے خالق کے وجود اور عظمت پر دلالت کرتی ہیں:

{نَحْنُ خَلَقْنَاكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ (57) أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ (58) أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ} (الواقعہ:۵۷۔۵۹)

''ہم ہی نے تم سب کو پیدا کیا ہے پھر تم کیوں باور نہیں کرتے۔اچھاپھر یہ بتلائوکہ جو منی تم ٹپکاتے ہو۔ کیا اس کا (انسان)تم بناتے ہو یا پیدا کرنے والے ہم ہی ہیں۔ ''

{أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ (63) أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ (64) لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ} (الواقعہ:۶۳۔۶۵)

''اچھاپھریہ بھی بتلائو کہ تم جو کچھ بوتے ہو،اسے تم ہی اُگاتے ہو یا ہم اُگانے والے ہیں۔ اگر ہم چاہیںتو اسے ریزہ ریزہ کر ڈالیں اور تم حیرت کے ساتھ باتیں بناتے رہ جائو۔''

{أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ (68) أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ (69) لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ }(الواقعہ: ۶۸۔۷۰)

''اچھا یہ بتائو کہ جس پانی کو تم پیتے ہو، اسے بادلوں سے بھی تم ہی اُتارتے ہو یا ہم برساتے ہیں؟اگر ہماری منشا ہو تو ہم اسے کڑوا زہر کر دیں۔ پھر تم ہماری شکر گزاری کیوں نہیں کرتے؟''

{أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ (71) أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ}

''کبھی تم نے خیال کیا کہ یہ آگ جو تم سلگاتے ہو، اس کا درخت تم نے پیدا کیا ہے یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں؟''(الواقعہ:۷۱،۷۲)

{وَاللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِنْ مَاءٍ فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَى بَطْنِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَى رِجْلَيْنِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَى أَرْبَعٍ يَخْلُقُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} (النور:۴۵)

''تمام کے تمام چلنے پھرنے والے جانداروں کو اللہ تعالیٰ ہی نے پانی سے پیدا کیا ہے ان میںسے بعض تو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں بعض دوپائو ں پر چلتے اوربعض چار پائو ں پر چلتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ۔بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ ''

{أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ ثَمَرَاتٍ مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهَا وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهَا وَغَرَابِيبُ سُودٌ (27) وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ وَالْأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ كَذَلِكَ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ} (الفاطر:۲۷،۲۸)

''کیا آپ نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اُتارا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے مختلف رنگوں کے پھل نکالے اور پہاڑوں کے مختلف حصے ہیں: سفید اور سرخ کہ ان کی بھی رنگتیں مختلف ہیں اوربہت گہرے سیاہ اور اسی طرح آدمیوں اور جانورو ں اور چوپایوںمیں بھی بعض ایسے ہیں کہ ان کی رنگتیں مختلف ہیں،اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔ واقعی اللہ تعالیٰ زبردست بڑا بخشنے والا ہے ۔''

{وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِلْعَالِمِينَ}(الروم:۲۲)

''اس( کی قدرت )کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف (بھی ) ہے۔ دانش مندوں کے لیے اس میں یقینا بڑی نشانیاں ہیں ۔''

{يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِنْ يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَا يَسْتَنْقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ} (الحج :۷۳)

''لوگو!ایک مثال بیان کی جارہی ہے 'ذرا کا ن لگا کر سن لو !اللہ کے سوا جن جن کو تم پکا رتے رہے ہو وہ ایک مکھی بھی تو پیدا نہیں کر سکتے 'گو سارے کے سارے ہی جمع ہو جا ئیں بلکہ اگر مکھی ان سے کو ئی چیز لے بھاگے تو یہ تو اسے بھی اس سے چھین نہیں سکتے ' بڑا بودا ہے طلب کرنے والا اور بڑا بودا ہے وہ جس سے طلب کیا جارہا ہے۔ ''

B ایسی آیات جو تخلیق اوّل پر غور وفکر سے تخلیق ثانی پر دلالت کرتی ہیں:

{وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ } (الروم:۲۷)

''وہی تخلیق کی ابتدا کرتا ہے پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے۔''

{قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّهُ يُنْشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} (العنکبوت: ۲۰)

''ان سے کہو زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اس نے کس طرح خلق کی ابتدا کی ہے،پھر اللہ ہی دوسری نئی زندگی بخشے گا، یقینا اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔''

{يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِنُبَيِّنَ لَكُمْ}(الحج:۵)

''اے لوگو! اگر تمہیں زندگی اور موت کے بارے میں کچھ شک ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے، پھر نطفے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کی بوٹی سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بے شکل بھی، یہ بھی ہم اس لئے بتا رہے ہیں کہ تم پر حقیقت وا کریں۔''

{وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَنْ يُحْيِ الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ (78) قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ} (یٰس:۷۸،۷۹)

''اور انسان ہمیں مثالیں سناتاہے اور اپنی پیدائش کو بھول بیٹھاہے ۔کہتا ہے کہ ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہو چکی ہوں گی؟'' اس سے کہو ''انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلے پیدا کیا تھا۔''

کائنات پر غور وفکر؛ اسلامی اورالحادی مقاصد میں فرق

بدقسمتی سے ہمارے ہاں زندگی کے باقی شعبوں کی طرح 'علمیت' بھی 'جاہلیت ِجدیدہ' سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ کئی لوگوں نے قرآنِ مجید میں 'علم' کی اہمیت وفضیلت کی آیات کو نیچرل سائنس اور سوشل سائنس پر منطبق کردیا اور بہت سے لوگ خاص اس موضوع یعنی 'قرآن مجید میں تخلیق ِارض و سماوات پر غور وفکر' کو جدید سائنس کا ہم مقصد سمجھنے لگے کہ جدید سائنس بھی کائنات پر غور وفکر اور تدبر کے دروازے کھولتی ہیں۔ عنوان تو بے شک یہ 'ایک جیسا' یا 'ملتا جلتا' ہی ہے، لیکن حقیقت میں یہاں کتنا بڑا اختلاف اور تضاد موجود ہے۔ اس کے لیے ایک مثال پر غور کیجئے:

ایک عیسائی اور مسلمان دونوں حضرت عیسیٰ  کو ماننے اورایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن دونوں ہی ایک دوسرے کے ایمان کو معتبر نہیں جانتے کیونکہ ایک ہی عنوان یعنی 'عیسیٰ پر ایمان رکھنا'کے باوجود 'ایمان' کا مطلب بھی مختلف ہے اور مقصد بھی۔ عیسائیوں کے ہاں عیسیٰ پر ایمان لانے کا مطلب اُنہیں اللہ کا بیٹا ماننا یا تثلیث کا عقیدہ رکھنا ہے جبکہ مسلمان اس عقیدہ کے حامل کو 'مؤمن' کی بجائے 'کافر' اور موحد کی بجائے مشرک سمجھتے ہیں اور عیسیٰ  پر ایمان لانے کا مطلب مسلمانوں کے ہاں، اُنہیں اللہ کا بندہ اور رسول ماننا ہے اور ان کی طرف سے دی جانیوالی آخری رسول محمد1 کی بعثت کی خوشخبری پر یقین رکھنا ہے۔

اس مثال کو سامنے رکھتے ہوئے قرآنِ مجید اور جدید سائنس کے 'کائنات پر غور وفکر' کے مشترکہ عنوان کو سمجھا جا سکتا ہے۔ قرآنِ مجید ارض و سماوات پر غور وفکر کی طرف اس مقصد کے لئے عقلوں اور اَذہان کو متوجہ کرتا ہے تاکہ اَوّلاً 'مخلوق' پر تدبر سے خالق پر ایمان ویقین پیدا ہو اور اگر موجود ہے تو مضبوط و مستحکم ہواورثانیاً تخلیقِ اول سے تخلیق ثانی پر اعتماد پیدا ہو اور آخرت کا وقوع اور بعث بعد الموت کی حقیقت کو سمجھنا قریب الفہم اور آسان ہو جائے۔

جب کہ سائنس دانوں کا عالم یہ ہے کہ وہ بالعموم 'کائنات' پر غور وفکر کرتے ہوئے 'مخلوق' (Creature)کا لفظ تک استعمال کرنے سے گریزاں رہتے ہیں،کیونکہ اس لفظ ہی سے کسی خالق کا تصور ذہن میں زندہ ہوتا ہے اور پھر خالقِ کائنات کی معرفت و پہچان کی چاہت دِلوں میں پیدا ہوتی ہے۔ عام طور پر سائنس کی کتابوں میں Creatureکی بجائے Nature کا لفظ استعمال کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یا تو یہ کائنات قدیم ہے، اَزلی وابدی ہے اور الگ سے اس کا کوئی خالق ہے ہی نہیں یا پھر سائنس دانوں کا نقطہ نظر یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی خالق تھا بھی، تو یا تو (نعوذ باﷲ) وہ باقی نہیں رہا اور اگرموجود بھی ہے تو وہ کائنات کے نظم ونسق سے لاتعلق ہے اور اَب یہ کائنات اپنے ہی زور پر چلے جا رہی ہے۔

اسی طرح سائنس میں کائنات پر غور وفکر کا مقصد آخرت کی یاد کو تازہ کرنا اور پھر جہنم سے نجات اور جنت کی چاہت پیدا کرنے کے لئے نہیں بلکہ کائنات پر انسانی قبضہ و کنٹرول کو ممکن بنانے کے لئے ہوتا ہے۔ تسخیر کائنات اور پھر تصرف فی الارض اور تمتع فی الارض کو زیادہ سے زیادہ ممکن بنانا اور اسی کو بطورِ انسانی مقصد ِحیات کے قبول کرنا ہے۔ یوں قرآنی انداز ِتدبر اگر انسان کو مخلوق کی محتاجی اور خالق کی 'صمدیت' پر ایمان میں مدد دیتا ہے اور تخلیق اوّل سے تخلیق ثانی کا ثبوت دیکر آخرت کی فکر کو تازہ رکھتا ہے تو سائنسی انداز ِغور وفکر ایمان باللہ اورآخرت کی یاد سے غافل کرکے دنیا پر انسانی حاکمیّت اور اسے مادہ پرستی میں مست کر دیتا ہے۔

کائنات پر غور وفکر میں قرآن کا منہج یعنی غور وفکر سے خالقِ کائنات کے وجود اور عظمت کی نشاندہی اور بعث بعد الموت کی تذکیر جو کہ تمام انبیاء ورسل علیہم الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کے دو بنیادی مقاصد رہے ہیں، جدید سائنس کے منہج غور وفکر سے بالکل مختلف نتائج کا حامل ہے اسی لیے دونوں علمیتوں کے ہاں اپنے اپنے منہاج کی اہمیت اس قدر زیادہ اور لازمی ہے کہ اگر منہاج تبدیل ہو تو نتائج بھی مختلف بلکہ متضاد حاصل ہوتے ہیں۔ اس لئے اسلام اور سائنس دونوں اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل نہ ہونے پر اپنے ماننے والوں کے غور وفکر کو فضول، بے فائدہ، وقت، دولت اور صلاحیت کا ضیاع سمجھیں گے۔

جس طرح عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا نہ مانا جائے اوران کے صلیب چڑھ کے عیسائیوں کے لئے کفارہ بننے کا عقیدہ تسلیم نہ کیا جائے تو عیسائیوں کے نزدیک عیسیٰ ؑپر ایمان لانے کا دعویٰ ہی سرے سے غلط ہوگا جبکہ مسلمانوں کے نزدیک عیسیٰ ؑکو اللہ کا بندہ اور رسول ماننے کے سوا اگر عیسائیوں والے عقائد بھی رکھے جائیں تو شرک اور کفر لازم آئے گا۔ بالکل اسی طرح اگر کائنات پر غور وفکر کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ پر ایمان اور آخرت پر ایقان حاصل نہ ہوبلکہ دنیا میں انسان ایسا مست ہو کہ اللہ کی توحید سے نابلد اور آخرت کی یاد سے غافل ہو جائے تو ایسا تصرف فی الارض انسان کو جنت سے دور اور جہنم سے قریب کر دیتا ہے، جبکہ جدید سائنس کے نزدیک اگر غور وفکر کے نتیجے میں تصرف فی الارض اور تمتع فی الارض میں اضافہ نہ ہو تو ایسا غور وفکر کسی کام کا نہیں۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ روزانہ دنیا کی ہزاروں یونیورسٹیوں سے تعلیم پانے والے سائنس کے لاکھوں طلبا جو تحقیق کرتے ہیں ،اُس کو پذیرائی اور قبولیت پانے یا نوبل انعام کا حق دار بننے کے لئے کوئی نہ کوئی ایسی نئی ایجاد ضروری قرار پاتی ہے جو جدید سائنس کے بنیادی مقصد 'تصرف فی الارض' میں اضافہ کا باعث بنے۔

ممکن ہے بعض لوگ یہ کہیں کہ کائنات میں غور وفکر کا اصل مقصد تو یقینا اللہ کی توحید اور آخرت کی یاد کو تازہ کرناہے، لیکن اضافی حیثیت میں اگر اشیائے کائنات سے استفادہ بھی ہو جائے تو اس میںکیا حرج ہے؟ تو ہم جواب میں عرض کریں گے کہ جس طرح قرآن مجید کے نزول کا اصل مقصد اور اُسے تلاوت کرنے کا اساسی مطلب 'ہدایت کی راہ' کا حصول ہے، تزکیۂ نفوس اور اطمینانِ قلوب کا حصول ہے، لیکن آیاتِ قرآن مجید پر تدبر سے بے شمار ضمنی اور اضافی فوائد اور معلومات کا خزینہ بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص قرآنِ مجید تو بہت زیادہ تلاوت کرے، لیکن اس کایہ پڑھنا 'حلق سے نیچے نہ اُترے'اسی طرح انسان ہدایت اور ایمان کی تلاش میں قرآن نہ پڑھتا ہوبلکہ نئی سے نئی معلومات کے حصول یا پڑھ پڑھ کے لوگوں پر دم کرنے اور اُن سے مال کمانے کا کام لیتا رہے تو قرآنِ مجید سے ہدایت و ایمان تو نہ ملے گا، البتہ اضافی فائدے ضرورحاصل ہو جائیں گے جو کہ صرف اور صرف خسارے کا سودا ہے اور جہنم کا راستہ ۔ لیکن اگر اصل مقصد ایمان وہدایت قرآن سے حاصل کرے اور پھراگر بعض جائز اور اضافی فوائد بھی حاصل کرلے تو اس میں حرج کی بات نہ ہوگی۔

بعینہٖ اگر کوئی شخص کائنات پر غور وفکر کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ پر ایمان اور آخرت کی زندگی پر ایمان بناتا ہے اور پھر اس غور وفکر سے بعض اضافی فوائد بھی حاصل کر لیتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہ ہوگا، اگر سرے سے بنیادی مقصد ہی بدل جائے تو کائنات پر غور وفکر کا عنوان مشترکہ ہونے کے باوجود ایک جنت کی راہ ہوگی اور دوسری جہنم کی راہ۔

اس ساری بحث سے ہم یہ نتیجہ اَخذ کر سکتے ہیں کہ 'کائنات پر غور وفکر' قرآن اور جدید سائنس کا مشترکہ موضوع ہونے کے باوجود اپنے مقاصد و مآخذ ِ علم کے اعتبار سے متضاد علوم ہیں۔ اس طرح 'اسلامی سائنس' ایک ایسی چیز ہے جیسے 'اسلامی عیسائیت' اور اسلام اور سائنس میں مشترکہ نکات کی تلاش ایک ایسا عمل ہے جیسے اسلام اور عیسائیت میں مشترکہ نکات ڈھونڈ نکالنا کہ اصل اور بنیادی مباحث ایمانیات اور مقاصد ِحیات سے صرفِ نظر کیا جائے اور جزوی مشابہتوں کو نہ صرف تلاش کیا جائے بلکہ اُن کی بنیاد پرکل میں اتفاق بھی مانا جائے۔ الغرض ہم سائنس کو اس وقت قابل مذمت سمجھیں گے، جب اس کا مقصد موجوداتِ کائنات کو ان کے اصل مقاصد (رجوع الیٰ اللہ وتذکیر آخرت) سے پھیر کرمحض دنیوی مفادات حاصل کرنا رہ جائے۔ البتہ اصل مقاصد کے حصول اور اللہ پر ایمان کے بعد سائنس سے دنیوی تصرفات حاصل کرنے کی کوشش غلط نہ ہوگی۔

جس طرح یہ بات درست ہے کہ مسلمان بھی عیسیٰ  کو مانتے ہیں اور عیسائی بھی مگر مسلمانوں کاماننا ایمان ہے اور عیسائیوں کا ماننا کفر ہے، اسی طرح یہ بھی درست ہے کہ قرآن بھی کائنات پر غور وفکر کی دعوت دیتا ہے اور جدید سائنس بھی یہی عنوان رکھتی ہے مگر قرآن کی دعوتِ فکر، خالق کائنات کی طرف متوجہ کرنے اور بعث بعد الموت کو یاد کرنے کے لئے ہے جبکہ سائنس کا مقصد ِ فکر تسخیر کائنات اور تصرف وتمتع فی الارض اور انسان کو کائنات کا حاکم وبادشاہ بنانے کے لئے ہے۔

اس ساری تفصیل کے بعد بھی کچھ لوگ اس خوش فہمی کا شکار ہوسکتے ہیں کہ ہم جدید سائنس کو خدا تک پہنچنے اور آخرت کی یاد کو زندہ کرنے کیلئے سیڑھی کے طور پر استعمال کریں گے تو یاد رکھنا چاہیے کہ اوّلاً اگر انسانی علم وعقل کوئی ایسی سیڑھی بنا سکنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوتی جو آسمانی خزانوں تک پہنچ پاتی تو ربّ ذوالجلال والاکرام کو آسمانوں سے وحی اُتارنے کی ضرورت نہ ہوتی جیساکہ مغرب کے سائنس دان یہی سمجھتے ہیں کہ انسانی علم وعقل ہی حقائق تک پہنچنے کا حتمی ذریعہ ہے تو وہ وحی کے نور کو اپنے لئے غیر ضروری جانتے ہیں۔

ثانیاً جہاں جہاں سائنسی علمیت (نیچرل اور سوشل سائنس) کا غلبہ ہوتا چلا جاتا ہے، وہاں انسانی انفرادیت، معاشرت اور ریاست، وحی بیزار عقلیت اور مذہب دشمن جذباتیت سے بھرتے چلے جاتے ہیں۔ اس لئے کہ ہر منزل تک پہنچنے کے لئے الگ خاص راستہ ہوتا ہے اور ہر مقصد حاصل کرنے کے لئے اپنا وسیلہ اور ذریعہ ہوتا ہے۔ اللہ تک پہنچنے کا راستہ انبیاء بتاتے ہیںاور وہ توحید و بندگی اور سنت و اعمالِ صالحہ کا وسیلہ و ذریعہ ہے، نیز مؤمنانہ بصارت و موحدانہ بصیرت سے کائنات پر غور وفکر، اس مقصد کے حصول میں معاون ہوتا ہے جبکہ سائنس ایک ایسا ذریعہ اور وسیلہ ہے جو خود انسان کو آقاے کائنات(Master of the Universe) بنانے کے لئے تراشا گیا ہے اور اس کے لئے انبیاء ورسل علیہم الصلوٰۃ والسلام نیز توحید و بندگی اور سنت واعمالِ صالحہ کی کوئی اہمیت اس ذریعہ میں باقی نہیں رہتی اور سائنس میں ترقی کا مقصد خواہشاتِ نفس کو پورا کرنے کی سعی کرنا ہے، نہ کہ احکام الٰہی کی بجا آوری میں محنت کرنا۔

اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو سوچنے، سمجھنے اور حق کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے!

..................

اِعتذار:

شمارہ جولائی ۲۰۱۰ء میں ص ۶۷ پر مضمون 'برصغیر میں اوّلین معمارِ کلیسا کون؟؛ایک جائزہ' میں کلیسیا کی جگہ کلیسا سہواً چھپ چکا ہے۔کلیسا سے مراد گرجا ہے جب کہ کلیسیا سے مراد اہل کلیسا کی تنظیم ہے۔مصنف کی مراد یہاں کلیسیا (اہل کلیسا کی تنظیم )تھی نہ کہ کلیسا۔لہٰذا پورے مضمون میں کلیسا کی جگہ کلیسیا ہی پڑھا جائے۔

اسی طرح مذکورہ مضمون کے ص ۷۳ اور ۷۵ پر لفظ 'اڑیسہ 'کی جگہ 'اڈیسہ' پڑھا جائے۔

(شکریہ)