سوال:بعض لوگوں کو جنوں کی شکایت ہوجاتی ہے، کیا کسی عالم دین سے جن نکلوائے جائیں تووہ اس کی فیس کا تقاضا کرسکتا ہے۔جن کن لوگوں سے نکلوائے جائیں؟

جواب:حضرت ابن عباس ؓسے مروی مشہور حدیث میں ہے:''سب سے زیادہ حقدارشے جس پر تم اُجرت لو وہ کتاب اللہ ہے۔''اس حدیث پرامام ابو داؤد نے اپنی سنن میں کسب الاطبائکا عنوان قائم کیا ہے یعنی 'طبیبوں کی کمائی' اور ابن ماجہ نے أجرالرقی(دم کرنے والے کی اُجرت) کا عنوان قائم کرکے بھی اس کے جواز کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہ حدیث دم جھاڑا کی صورتوں پر محمول ہے۔یعنی اگرچہ سب دم جھاڑوں پر (جو شرع کے خلاف نہ ہوں) اُجرت لینا درست ہے، لیکن کتاب اللہ کے ساتھ دم جھاڑا کرکے جوکچھ لیا جاتا ہے، وہ زیادہ بہتر ہے، اس لئے رسول اللہ1 نے اس میں اپنا حصہ بھی رکھا۔

فیس کی اَدائیگی کا کوئی حرج نہیں۔ مذکورہ حدیث کی بنا پر جوازہے، لیکن اصل بات یہ ہے کہ دم جھاڑا شرکیہ کلمات سے مبرا ہونا چاہئے۔سعودی عرب کے مشہور عالم شیخ ابن جبرین اور شیخ الفوزان سمیت فتاویٰ کے لئے قائم دائمی کمیٹی کا فتویٰ بھی اُجرت لینے کے جواز پر ہے۔ ملاحظہ ہوکتاب الفتاویٰ الذھبیۃ في الرقی الشرعیۃص ۳۸اور ص۵۶، ۱۰۵اور ہمارے شیخ محدث روپڑیؒ بھی فتاویٰ اہلحدیث میں اِس کے جواز کے قائل ہیں۔ہاں البتہ غلط عقیدہ کے آدمی سے دم جھاڑا کرانا حرام ہے۔پختہ کار مؤحدسے علاج کرانا چاہیے جس کا عقیدہ شرک کی ملاوٹ سے پاک ہو۔

سوال : میں نے اپنی بیوی کو چار مرتبہ طلاق دی ہے۔ چاروں مرتبہ طلاق کا لفظ میری بیوی نے یا ان لوگوں نے مجھ سے کہلوایا جو اس وقت موجود تھے۔ میں نے جب بھی طلاق کے الفاظ کہے تواس وقت دل اور دماغ میرا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ وجہ یہ ہے کہ میں مرگی کی تکلیف میں ۳۰ سال سے مبتلا ہوں اور مرگی کی ایک دوا ہے جس کے استعمال سے میرا دل اور دماغ میرا ساتھ نہیں دیتے۔یہ دوا اتنی نشہ والی ہے کہ اس کے استعمال سے دورہ تو نہیں پڑتا، لیکن دوا کے استعمال کرنے سے ایسی حالت پیدا ہوجاتی ہے کہ ہوش نہیں رہتا۔ایسی صورتحال میں شریعت کی رہنمائی کیا ہے؟

جواب:صحیح بخاری کے ترجمۃ الباب میں حضرت عثمانؓسے منقول ہے: لیس لمجنون ولا لسکران طلاق دیوانے اور نشہ والے کی طلاق کا اعتبار نہیں اور ابن عباسؓ فرماتے ہیں:''طلاق السکران والمستکرہ لیس بجائز ''

''یعنی نشہ والے اور مجبورکی طلاق واقع نہیں ہوتی۔''

قصہ علیؓ او رحمزہؓ جس میں یہ ہے کہ نشہ کی حالت میں حضرت حمزہؓ نے نازیبا کلمات کہے، اس پر حافظ ابن حجر رقم طراز ہیں: ''وھو من أقوی أدلۃ من لم یؤاخذ السکران بما یقع عنہ فی حال سکرہ من طلاق وغیرہ'' (فتح الباری: ۹؍۳۹۱)

''یہ قصہ ان لوگوں کی سب سے مضبوط دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ حالت ِنشہ میں طلاق وغیرہ واقع نہیں ہوتی لہٰذا مذکورہ بالا صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔''

سوال:بعض لوگ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ نمازِ تراویح باجماعت پڑھنا بدعت ہے اوریہ نماز عشاء سے متصل نہیں بلکہ پچھلی رات یعنی رات کے آخری حصہ میں باجماعت اَدا کی جائے۔

جواب:نمازِ تراویح باجماعت پڑھنا بدعت نہیںبلکہ رسول اللہ1 سے ثابت ہے کہ آپ 1نے باجماعت تین چارراتوں تک قیام اللیل فرمایاتھا۔ پھر محض اس وجہ سے اس عمل کو ترک کیا تھا کہ کہیں فرض نہ ہوجائے، چونکہ آپ1کے بعد جب فرضیت کایہ خدشہ زائل ہوگیا تو حضرت عمرؓنے اس نیک کام کودوبارہ پھر شروع کردیا۔ عشاء کے بعد کسی وقت بھی قیام اللیل ہوسکتا ہے۔ حضرت عائشہؓ کی روایت اس امر پر واضح دلیل ہے۔

حضرت عمرؓنے لوگوں کی سہولت کے پیش نظر اس کو رات کے پہلے حصہ میں مقرر کردیاجو کوئی بدعت کام نہیں، تراویح کے جملہ مسائل کی تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو:( قیام اللیل للمروزی)

سوال:ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی پھررجوع نہیں کیا اور نہ ہی بعد میں دوسری اور تیسری طلاقیں دیں۔ کئی سال گزر جانے کے بعد دونوں فریق صلح پر رضا مند ہیں۔ کیا عورت کسی دوسری جگہ نکاح کئے بغیراپنے پہلے خاوند کے گھر آباد ہوسکتی ہے؟

جواب:ایک طلاق پر علیحدگی کی صورت میں دوبارہ اسی شوہر سے نکاح ہوسکتا ہے۔ صحیح بخاری باب من قال لا نکاح إلا بولي میں حضرت معقلؓبن یسار کی ہمشیرہ کا قصہ اس امر کی وا ضح دلیل ہے۔ بایں صورت دوسری جگہ نکاح کی قطعاً ضرورت نہیں۔ واضح ہو کہ شرعاً ایک طلاق کے بعد دوسری،تیسری طلاق کی ضرورت باقی نہیں رہتی بلکہ ایک طلاق ہی سے علیحدگی ہوجاتی ہے۔ دوسری دونوں طلاقوں کا استعمال بھی اسی طرح بوقت ِضرورت ہے۔

سوال:ایک عورت نے عدالت سے خلع کی ڈگری حاصل کی۔ کئی ماہ گزر جانے کے بعد وہ اپنے پہلے خاوند کے گھر آباد ہونا چاہتی ہے، اس کی شرعی صورت کیا ہوگی؟

جواب:خلع حاصل کرنیوالی عورت دوبارہ نکاح کے ذریعہ آباد ہوسکتی ہے، شرعاًکوئی رکاوٹ نہیں۔

سوال:خطبہ جمعہ کے لئے صبح شام خطبا حضرات کا لمبے لمبے القابات کے ساتھ بار بار اعلان کرنا شرعی لحاظ سے کیسا ہے؟

جواب:بلاشبہ ہر صاحب علم کا اِحترام و اکرام مسلم ہے۔ حقدار کو اس کا حق ملنا چاہئے، لیکن واقعہ کے خلاف فضول اَلقابات سے کسی کو نوازنا یا مبالغہ آرائی سے کام لینا اپنے کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔مثلاً یوں کہا جائے خطیبِ مشرق ومغرب یا خطیب ِارض وسماء وغیرہ۔ بہرصورت اس میںکوئی شک نہیںکہ ہمارے ہاںجوشیلی اور حواس باختہ فضاء میں اِصلاح کی شدید ضرورت ہے۔ مصلحین کو آگے بڑھ کر یہ فرض ادا کرنا چاہئے۔ ہر دو کا اس میں ہی بھلا ہے ۔

معاشرہ میں اس حد تک بگاڑ پیدا ہوچکا ہے کہ بعض حریص او رلالچی مولوی اپنے پسندیدہ القاب لکھ کر لوگوں کے حوالے کرتے ہیں کہ ان آداب کے ساتھ جلسہ کا اشتہار شائع کرائو جس میں میرا نام سب سے اوپر یا درمیان میں موٹا اورسب سے نمایاں ہونا چاہئے اور بعض حضرات جلسوں میں مخصوص اَفراد مقرر کرتے ہیں تاکہ وہ دورانِ تقریر حسب ِمنشا پسندیدہ نعروں سے ان کا پیٹ بھر سکے۔ اس طرزِ عمل پرجتنا بھی افسوس کااظہار کیا جائے کم ہے ۔ ہمارے مقابلہ میں عربوں کا مزاج آج بھی سادگی پسند ہے، مبالغہ آرائی سے بے حد نفرت کرتے ہیں اور فضول اَلقاب سے کوسوں دور ہیں۔ اللہ ربّ العزت ہم میں بھی صحیح سمجھ پیدا فرمائے تاکہ ہم دنیا وآخرت میں سرخرو ہوسکیں۔