فرضیت روزہ

رمضان کامہینہ مسلمانوں پرعطیۂ خداوندی ہے۔اس کے تمام تراَحکامات اور حدود و قیود شارع کی حکمت ِبالغہ کی آئینہ دار اور یقینا اس کے پیداکردہ بندوں کے حق میں بہتر ہیں، تبھی تو ربّ العالمین نے اس پر مہینے کے روزوںکو اپنے بندوں پرفرض قرار دیا ہے۔ فرمانِ ربانی ہے:

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} (البقرہ:۱۸۴)

''اے ایمان والو ! تم پرروزے فرض کردیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے اُمتوںپر تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔''

گویا یہ صرف اُمت ِمحمدیہ پر ہی نہیں بلکہ دوسری اُمتوں پربھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض تھا۔ ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:{فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} (البقرہ:۱۸۵)

''تم میں سے جو شخص اس مہینے میں موجود ہو، وہ اس کے روزے رکھے۔''

سیدنا ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ1 نے فرمایا:

''اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پررکھی گئی ہے: اللہ کے ایک ہونے اور محمد1 کے رسول ہونے کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔'' (صحیح بخاری:۸)

فضیلت ِرمضان و صائم

رمضان کامہینہ ان بابرکت اَوقات پرمشتمل ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی تمام تر برکات کا نزول ہوتا ہے اور بندہ اس مہینہ کے اَحکامات پر عمل کرکے اپنے خالق سے ان رحمتوںکو حاصل کرسکتا ہے۔اس مہینہ کی فضیلت میںیہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مہینہ میں قرآن نازل فرمایا ہے۔ قرآن میں ہے :

{شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ} (البقرہ:۱۸۵)

''رمضان وہ مہینہ ہیجس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے باعث ِہدایت ہے اور اس میں ہدایت کی اور (حق و باطل کے درمیان) فرق کرنے کی نشانیاں ہیں۔''

سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ آپ1 نے فرمایا:

أتاکم رمضان شھر مبارك فرض اﷲ عزوجل علیکم صیامه تفتح فیه أبواب الجنة وغُلِّقت أبواب الجحیم وسُلسلت الشیاطین

''تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آ پہنچا اور وہ بابرکت مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض فرمائے ہیں، اس مہینے جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور اس میں شیطان جکڑ دیئے جاتے ہیں۔'' (سنن نسائی:۲۱۰۶)

دوسری حدیث میں ہے:

إذا دخل رمضان فُتحت أبوابُ الجنة وغلّقت أبواب جهنم وسُلْسلتُ الشیاطین (صحیح بخاری:۳۲۷۷)

''جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔''

سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ1 نے فرمایا:

الصلوات الخمس والجمعة إلی الجمعة و رمضان إلی رمضان مکفرات ما بینھن إذا اجتنب الکبائر (صحیح مسلم:۲۳۳)

''پانچوں نمازیں اور ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک گناہوں کو مٹا دینے والے ہیںجب کہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے۔''

سیدنا ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ1 نے فرمایا:

إن ﷲ تبارك وتعالیٰ عتقاء في کل یوم ولیلة یعني في رمضان وإن لکل مسلم في کل یوم ولیلة دعوة مستجابة(الترغیب والترہیب:۱۰۰۲)

''بے شک اللہ تعالیٰ (رمضان میں) ہر دن اور ہررات بہت سے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے اور ہردن اور ہررات ہر مسلمان کی ایک دعا قبول کی جاتی ہے۔''

سیدنا ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ آپ1 نے ایک انصاری خاتون کو فرمایا:

فإذا جاء رمضان فاعتمري فإن عمرة فیه تعدل حجة(صحیح مسلم:۱۲۵۶)

''جب رمضان کا مہینہ آجائے تو تم اس میں عمرہ کرلینا، کیونکہ اس میں عمرہ حج کے برابر ہوتا ہے۔''

فرمانِ خداوندی ہے:

{إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا} (الاحزاب:۳۵)

''بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ، مؤمن مرد اور عورتیں،فرمانبرداری کرنے والے مرد اور عورتیں،سچ بولنے والے مرد اور عورتیں، صبر کرنے والے مرد اورعورتیں،اور عاجزی کرنے والے مرد اورعورتیں،خیرات دینے والے مرد اور عورتیں، روزہ رکھنے والے مرد اور عورتیں اور اپنی شرمگاہ کی نگہبانی رکھنے والے مرد اور عورتیں اور یاد کرنے والے اللہ کو بہت زیادہ اور یاد کرنے والی عورتیں، ان سب کے لیے اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور بڑا ثواب تیارکررکھا ہے۔''

سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ1 نے فرمایا:

قال اﷲ عزّ وجل کل عمل ابن آدم یُضاعف الحَسنة بعشر أمثالھا إلی سبع مائة ضعف إلا الصوم، فإنه لي وأنا أجزي به یدع شھوته وطعامه من أجلي(صحیح مسلم:۱۱۵۱)

''اللہ عزوجل فرماتے ہیں: ابن آدم کا ہر (نیک) عمل کئی گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر حتیٰ کہ سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:سوائے روزے کے جو صرف میرے لیے ہوتا ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، کیونکہ وہ میری وجہ سے اپنی شہوت اور اپنے کھانے کو چھوڑتا ہے۔''

رسول اللہ1 نے فرمایا:

للصائم فرحتان یفرحھما،إذا أفطر فرح وإذا لقي ربه فرح بصومه

''روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ایک افطاری کے وقت اور دوسری جب اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو روزہ کا ثواب دیکھ کر ۔ '' (صحیح بخاری:۱۹۰۴)

سیدنا سہل بن سعدؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ1 نے فرمایا:

إن في الجنة بابًا یقال له الرَّیان یدخل منه الصائمون یوم القیامة لا یدخل منه أحد غیرھم یقال: أین الصائمون فیقومون لا یدخل منه أحد غیرھم فإذا دخلوا أغلق فلم یدخل منه أحد(صحیح بخاری:۱۸۹۶)

''بے شک جنت میں ایک دروازہ ہے جسے الرَّیان کہا جاتا ہے۔ اس سے قیامت کے دن صرف روزے دار ہی داخل ہوں گے اور ان کے علاوہ کوئی اور اس سے داخل نہیں ہوگا اور پکار کر کہا جائے گا: کہاں ہیں روزے دار؟ تو وہ کھڑے ہوجائیں گے اور اس کے علاوہ اور کوئی اس سے جنت میں داخل نہیں ہوگا اور جب وہ سب کے سب جنت میں چلے جائیں گے تو اس دروازے کو بند کردیا جائے گا۔''

آپ نے فرمایا:

والذي نفس محمد! بیدہ لخلوف فم الصائم أطیب عند اﷲ من ریح المسك(صحیح بخاری:۱۹۰۴)

''اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں محمدکی جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بدبو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے بھی زیادہ اچھی ہے۔''

اِستطاعت کے باوجود روزہ نہ رکھنے والا ملعون ہے!

سیدناکعب بن عجرہ ؓسے مروی ہے ، رسول اللہ1 نے فرمایا:

میرے منبر کے قریب آجاؤ ہم لوگ چلے آئے ۔ آپ1 جب منبر کی پہلی سیڑھی چڑھے تو فرمایا:آمین، دوسری پرچڑھے تو فرمایا:آمین، تیسری پر چڑھے تو فرمایا: آمین، جب آپ منبر سے اُترے تو ہم نے عرض کی:اے اللہ کے رسول! ہم نے آج آپ سے خلافِ معمول آمین سنی ہے، پہلے کبھی اس طرح نہیں سنا تھا۔ آپ1 نے فرمایا:

إنَّ جبریل علیه الصلاة والسلام عرض لي فقال بُعدًا لمن أدرك رمضان فلم یغفرله قلت: آمین فلما رقیت الثانیة قال:بعدًا لمن ذکرت عندہ فلم یصل علیك قلت:آمین،فلما رقیت الثالثة قال بُعدًا لمن أدرك أبواہ الکبر عندہ أو أحدھما فلم یدخلا الجنة قلت:آمین(مستدرک حاکم:۴؍۱۵۴)

''بے شک (جب میں پہلی سیڑھی چڑھا) تو حضرت جبریل علیہ الصلوٰۃ والسلام میرے پاس آکر بددعا کرنے لگے: وہ شخص رحمت ِالٰہی سے دور ہوجائے جورمضان کامہینہ پالے پھر اس کی بخشش نہ ہو۔ میں نے کہا: آمین! جب میں دوسری سیڑھی پر چڑھا تو جبریل نے کہا: وہ شخص رحمت ِالٰہی سے دور ہو جس کے پاس آپ کا ذکر کیا جائے اور وہ آپ1 پردرود نہ بھیجے۔ میں نے کہا: آمین اور جب تیسری سیڑھی پر چڑھا تو جبریل نے پھر بددعا کی کہ وہ شخص رحمت ِالٰہی سے دور ہو جس کے سامنے اس کے ماں اور باپ دونوں کو یا ایک کو بڑھاپا پہنچا اور اُنہوں نے اسے جنت میں داخل نہ کرایا تو میں نے کہا:آمین۔''

روزہ کے مسائل و اَحکام

چاند دیکھنا

رمضان کامہینہ جب شروع ہو تو روزوں کی ابتدا کی جائے اور اُمت کے لیے شارع نے یہ ضابطہ دیا ہے کہ جب ماہِ رمضان کا چاند نظر آجائے، تب روزے رکھنا شروع کیا جائے۔

آپ1 نے فرمایا:

لا تصوموا حتی تروا الھلال ولا تفطروا حتی تروہ(صحیح بخاری:۱۹۰۶)

''اس وقت تک روزہ کا آغاز نہ کرو جب تک چاند نہ دیکھ لو اور نہ ہی روزے ختم کرو جب تک (شوال کا) چاند نظر نہ آجائے۔''

چاندنظر نہ آنے کی صورت میں

اگر مطلع آبرآلود ہو جس کی وجہ سے چاند دیکھنے میں رکاوٹ آرہی ہو تو اِن حالات میں اللہ تعالیٰ نے یہی حکم دیا ہے کہ شعبان کے تیس دن پورے کرلیے جائیں اور یکم رمضان سے روزہ شروع کردیا جائے۔ سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہنے فرمایا:

صوموا لرؤیته وأفطروا لرؤیته فإن غبي علیکم فأکملوا عدة شعبان ثلاثین (صحیح بخاری:۱۹۰۹)

''(ماہِ رمضان) کا چاند دیکھ کر روزے شروع کرو اور (شوال کا) چاند دیکھ کر اسے ختم کرو۔ اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو شعبان کے مہینے کے تیس دن پورے کرلو۔''

مطلع ابر آلود ہونے کے باعث چاند نہ دیکھنے کی وجہ سے رمضان کے شروع یا اختتام کے تعین میںشک پڑ جاتا ہے، لہٰذا اس تردد کی کیفیت میں شارع نے شک کاروزہ رکھنے سے منع فرما دیا ہے۔ سیدنا عمار بن یاسر ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ1 نے فرمایا:

من صام الیوم الذي یشك فیه فقد عصٰی أبا القاسم (سنن ترمذی:۶۸۶)

''جس نے شک کے دن کا روزہ رکھا، اس نے ابوالقاسم (محمد) کی نافرمانی کی۔''

چاند دیکھنے کی گواہی

چاند دیکھنے میں دو گواہیاں ضروری ہیں۔ حضرت عبدالرحمن بن زیدؓکہتے ہیں، مجھے صحابہ کرامؓ نے بیان کیا کہ اللہ کے رسول1 نے فرمایا:

وإن شھد شاھدان مسلمان فصوموا وأفطروا له(سنن نسائی:۲۱۱۶، مسنداحمد:۴؍۳۲۱)

لیکن چاند دیکھنے کی ایک گواہی سے روزہ رکھنا بھی ثابت ہے ، جیساکہ ایک حدیث میں ہے:

سیدناعبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں نے رمضان کا چاند دیکھنا شروع کیا تو میں نے نبی اکرم کو اطلاع دی کہ میں نے چاند دیکھ لیا ہے تو(میری اطلاع پر)آپ  نے بھی روزہ رکھا اور لوگوں کوبھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (سنن ابوداؤد:۲۳۴۲)

فرض روزہ کے لیے نیت کرنا ضروری ہے

روزہ چونکہ ایک عبادت ہے تو ہرعبادت کے لیے خلوصِ نیت ضروری ہے، آپؐ نے فرمایا:

إنما الأعمال بالنیات (صحیح بخاری:۱) ''اعمال کا دارومدار نیتوںپر ہے۔''

فرض روزہ رکھنے کے لیے روزہ کی نیت کا پہلے ہونا ضروری ہے۔ حضرت حفصہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ1 نے فرمایا:

من لم یجمع الصیام قبل الفجر فلا صیام له (سنن ابوداؤد:۲۴۵۴)

''جس نے فجر سے پہلے روزے کی نیت نہ کی، اس کا روزہ نہیں ہے۔''

فجر کے بعد روزہ کی نیت کرنا

البتہ نفل روزہ میں نیت فجر کے بعد بھی کی جاسکتی ہے جیسا کہ سیدہ عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ

''ایک دن رسول اللہ1 میرے پاس آئے اور فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ہم نے کہا: نہیں،یہ سن کر آپ1 نے فرمایا: فإني إذن صائم تب میں روزہ دار ہوں، پھر آپ1ایک دوسرے دن ہمارے پاس آئے تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول1! ہمیں حلوہ ہدیہ دیا گیاہے۔ آپ1 نے فرمایا: أرینہ فلقد أصبحت صائمًافأکل مجھے بھی حلوہ دکھاؤ، بے شک میںنے روزے کی حالت میں صبح کی ہے، پس آپ1 نے حلوہ کھا لیا۔'' (صحیح مسلم:۱۱۵۴)

نوٹ:روزہ کی نیت کے لیے وَبِصَوْمِ غَدٍ نَّوَیْتُ مِنْ شَھْرِ رَمَضَانَ کے مروّج الفاظ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔

سحری کھانا

اللہ تعالیٰ نے سحری کے کھانے میں برکت رکھی ہے۔ سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبی1 نے فرمایا: تسحّروا فإنَّ في السحور برکة (صحیح بخاری:۱۹۲۳)

''سحری کھاؤ ،کیونکہ اس کے کھانے میں برکت ہے۔''

سحری کا وقت

رات کے آخری حصہ میں فجر کی اذان تک سحری کا وقت ہے، لیکن صحابہؓ کا عمل تھاکہ وہ سحری کو آخر وقت کھاتے تھے۔

سیدنا سہل بن سعدؓ کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ سحری کھاتا پھر جلدی جلدی آتا تاکہ رسول اللہ کے ساتھ نماز پڑھ لوں۔ (صحیح بخاری:۱۹۲۰)

اسی طرح حضرت زید بن ثابتؓ کہتے ہیں: ہم نبی کے ساتھ سحری کرتے پھر آپ1 نماز کی طرف چلے جاتے۔

سیدنا انسؓ کہتے ہیں: ''میں نے پوچھا اذان اور سحری کے درمیان کتنا وقفہ ہوتا تھا؟ تو اُنہوں نے کہا: جتنے وقت میں پچاس آیات تلاوت کرلی جائیں۔'' (صحیح بخاری:۱۹۲۱)

غسل واجب ہونے کی صورت میں سحری کرنا

اگر غسل واجب ہو اور سحری کا وقت کم ہو تو وضو کرکے سحری کھائی جاسکتی ہے۔ سیدناابوبکر بن عبدالرحمن ؓ سے روایت ہے، کہتے ہیں: میں اور میرے والد عائشہؓ کے پاس حاضر ہوئے۔ آپؓ نے فرمایا: میںگواہی دیتی ہوں، رسول اللہ احتلام کے سبب سے نہیں بلکہ جماع کے سبب سے حالت ِجنابت میں صبح کرتے اور (غسل کیے بغیر) روزہ رکھتے۔ پھر ہم اُمّ سلمہ کے پاس آئے تو اُنہوں نے بھی یہی بات کی۔ (صحیح بخاری: ۱۹۳۱، ۱۹۳۲)

صائم اِن قباحتوں سے دور رَہے!

çآپ1 نے فرمایا:

من لم یَدع قول الزور والعمل به فلیس ﷲ حاجة أن یدَع طعامه وشرابه

''جو شخص جھوٹی بات اور اس پر عمل کونہیں چھوڑتاتو اللہ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دے۔''(صحیح بخاری:۱۹۰۳)

çسیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ1 نے فرمایا:

إن الصیام لیس من الأکل والشرب فقط إنما الصیام من اللغو والرفث فإن سابك أحد أو جھل علیك فقل: إني صائم  (ابن حبان:۳۴۷۰)

''روزہ صرف کھانا پینا چھوڑنے کا نام نہیں بلکہ روزے کی حالت میں بے ہودگی اور بے حیائی کو چھوڑنا بھی روزے میں شامل ہے۔ پس اگر تمہیں کوئی شخص گالی دے یا بدتمیزی کرے تو تم کہو: میں تو روزے کی حالت میں ہوں، میں تو روزے کی حالت میں ہوں۔''

نواقضِ روزہ

aجان بوجھ کر کھانا پینا:روزہ چونکہ ایک خاص وقت تک نہ کھانے پینے کا دورانیہ ہوتاہے لہٰذا ان کے نواقض میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر قصداً کوئی چیز کھا یا پی لی جائے تو اس سے روزہ باطل ہوجائے گا۔ سیدناابوہریرہؓ سے مروی ہے کہآپ 1نے فرمایا:

والذي نفسي بیدہ لخَلوف فم الصائم أطیب عند اﷲ من ریح المسك یترك طعامه وشرابه وشھوته من أجلي (صحیح بخاری:۱۸۹۴)

''اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میںمیری جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ (اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کیونکہ) روزہ دار میرے لیے اپناکھانا پینا اور خواہشِ نفس ترک کرتا ہے۔''

اس سے پتہ چلا کہ روزہ دار طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک کھانا پینا بند کردے گا۔

bجماع کرنا:اگر کوئی شخص حالت ِروزہ میں اپنی بیوی سے قصداً جماع کربیٹھتا ہے تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اس کا اسے کفارہ بھی دینا پڑے گا۔ سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ

''ہم اللہ کے رسول1 کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہوگیا، آپ1 نے پوچھا:کیا ہوا؟ اس نے کہا کہ میں حالت ِروزہ میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا ہوں۔ اللہ کے رسول1 نے فرمایا: کیاتم ایک غلام آزاد کرنے کی استطاعت رکھتے ہو؟اس نے کہا: نہیں۔ پھر آپ1 نے پوچھا کہ کیا تم دو ماہ مسلسل روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، پھر آپ1 نے پوچھا: کیا تم اتنی استطاعت رکھتے ہو کہ ساٹھ مسکینوں کو کھاناکھلا سکو؟ اس نے کہا: نہیں، تو آپ 1 خاموش ہوگئے۔ اسی اثنا میں آپ 1 کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا۔آپ1 نے پوچھا کہ سوال کرنے والاکہاں ہے؟سائل نے کہا: میں حاضر ہوں۔ آپ1 نے اس سے کہاکہ یہ کھجوریں لو اور جاکر اِنہیں صدقہ کردو۔ اس نے کہا: اللہ کے رسول1! بھلا اپنے سے زیادہ کسی فقیر پر صدقہ کروں۔ یہاں دو پہاڑوں کے درمیان تو کوئی گھرانہ ایسا نہیں جو میرے گھرانے سے زیادہ محتاج ہو۔ نبی اکرم1 اس بات پر اتنا ہنسے کہ آپ 1 کی داڑھیں نظر آنے لگیں اور آپ1 نے فرمایا: جاؤ یہ کھجوریں اپنے گھر والوں کو کھلادو۔'' (صحیح بخاری: ۱۹۳۶)

cحیض و نفاس:روزہ کی حالت میں عورت کو حیض یانفاس کا خون آجائے تو روزہ باطل ہوجائے گا۔ آپ1 نے اس حالت میںروزہ رکھنے سے منع فرمایا ۔ سیدناابوسعید خدریؓ سے مروی ہے کہ

'' ایک مرتبہ عیدالاضحی یا عیدالفطر کے موقع پر اللہ کے رسول1 عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: ألیس إذا حاضت لم تصل ولم تصم قلن: بلی(صحیح بخاری:۳۰۴) ''کیا ایسا نہیں کہ عورت ماہواری کے ایام میں نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزہ رکھتی ہے ؟ عورتوں نے کہا: ہاں ایسا ہی ہے۔''

نوٹ:حالت ِحیض میں عورت کے لیے نمازیں معاف ہیں جبکہ روزوں کی قضا دے گی۔

سیدہ عائشہ ؓ سے سوال کیا گیا کہ کیا حائضہ عورت نماز اور روزے کی قضا کرے گی؟ تو اُنہوں نے فرمایا: ہمیں روزوں کی قضا کرنے کا حکم دیا جاتا تھا اور نماز کی قضا کرنے کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ (صحیح مسلم:۳۳۵)

d قصداً قے کرنا:قصداً قے کرنے سے روزہ باطل ہوجاتا ہے۔ سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ1 نے فرمایا:

0من ذرعه قيء وھو صائم فلیس علیه قضاء وإن استقاء فلیقض (ابوداؤد:۲۳۸۰)

''جسے حالت ِ روزہ میں خود بخود قے آجائے، اس پر قضا نہیں (کیونکہ اس کا روزہ درست رہا) اور اگر کوئی قصداً قے کرے تو وہ روزے کی قضا دے (کیونکہ اس کا روزہ باطل ہوچکا)''

جن اُمور سے روزہ نہیں ٹوٹتا

ç بھول کر کھانا پینا:حالت ِروزہ میں بھول کر کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ1 نے فرمایا:

إذا نسي فأکل وشرب فلیتم صومه فإنما أطعمه اﷲ وسقاہ (صحیح بخاری: ۱۹۳۳)

çبے اختیار قے آنا:اگر قے خود بخود آجائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔

نبی اکرم1 نے فرمایا:

من ذرعه القيء وھو صائم فلیس علیه قضاء (سنن ابو داؤد:۲۳۸۰)

'' جسے حالت ِ روزہ میں (خود بخود) قے آجائے، وہ روزہ دار ہی ہے اس پر قضا نہیں۔''

çًًُ بغیر جماع کے اِنزال و احتلام ہونا:اگر روزہ دار کو نیند میں احتلام ہوجائے یا کسی بیماری کی وجہ سے اِنزال ہوجائے چونکہ یہ اس کے اختیار میں نہیں لہٰذا اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا اور احتلام روزہ کے مفاسد میں سے نہیں ہے۔

çبیوی کا بوسہ لینا:اگر روزہ دار بیوی کا بوسہ لے تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ سیدہ عائشہؓ صدیقہ کہتی ہیں:

''إن کان رسول اﷲ! لیقبِّل بعض أزواجه وھو صائم''(صحیح بخاری:۱۹۲۸)

''رسول اللہ1 روزہ کی حالت میں اپنی کسی بیوی کو بوسہ دے دیتے تھے۔''

اسی طرح حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کابوسہ روزہ کی حالت میں لیا تو میں نے گھبرا کر نبی1 سے پوچھا کہ میں آج بہت عجیب کام کربیٹھا ہوں۔ میں روزہ کی حالت میں بوسہ لے چکا ہوں۔ تو آپ 1 نے فرمایا:کیا خیال اگر تو روزہ کی حالت میں کلی کرے تو... (سنن ابوداؤد:۲۳۸۵) گویا آپ 1 نے اسے برا نہ جانا۔

çغیر ارادی طور پر کسی چیز کا حلق سے اُترنا:غیر ارادی طور پر اگر روزہ کی حالت میں مکھی، مچھر یا کوئی چیز حلق سے اُتر جائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

حسن بصریؒ فرماتے ہیں: ''إن دخل حلقه الذباب فلا شيء علیه''

( صحیح بخاری،کتاب الصوم،باب الصائم إذا أکل أو شرب ناسیًا)

''اگر روزہ دار کے منہ میں مکھی داخل ہوجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔''

روزہ میں جائز اُمور

çمسواک کرنا:سیدنا عامر بن ربیعہؓ سے مروی ہے، کہتے ہیں:

میں نے حضور1 کو روزے کی حالت میں بے شمار مرتبہ مسواک کرتے دیکھا ہے۔

(صحیح بخاری، کتاب الصوم ، باب مسواك الرطب الیابس للصائم)

نوٹ: روزہ دار کو چاہیے کہ جب وہ نماز کے لیے وضو کرے تو کلی اورناک میں پانی ڈالتے وقت مبالغہ نہ کرے تاکہ پانی حلق میں نہ اُتر جائے۔ سیدنا لقیط بن صبرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا:اے اللہ کے رسول1 ! وضو کے بارے میں مجھے کچھ بتائیے آپ1 نے فرمایا:وضو اچھی طرح سے کرو، انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور ناک میں اچھی طرح پانی ڈالو، لیکن اگر روزہ ہو تو پھر (مبالغہ) نہ کرو۔(سنن ترمذی:۷۸۸)

çہنڈیا کا ذائقہ چکھنا:ہنڈیا پکانے والا اس کی نمک مرچ چکھ سکتا ہے۔بشرطیکہ وہ معدہ میں نہ جائے۔ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں:

''لا بأس أن یتطعّم القِدر أو الشيء (صحیح بخاری، کتاب الصوم،باب اغتسال الصائم) ''روزہ دار ہنڈیا یا کسی دوسری چیزکاذائقہ چکھ لے تو کوئی حرج نہیں۔''

çٹوتھ پیسٹ ، منجن کا استعمال:روزہ کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ اور منجن کا استعمال جائز ہے، اور اس مسئلہ کی دلیل سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ کا مذکورہ فتویٰ ہی ہے۔

çغسل کرنا:شدتِ روزہ سے اگر روزہ دار غسل کرلیتا ہے تو جائز ہے۔ ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ مجھے کسی صحابی نے بیان کیا کہ

''لقد رأیت رسول اﷲ ﷺ بالعرج یصبّ علی رأسه الماء وھو صائم من العطش من الحر'' (سنن ابوداؤد:۲۳۶۵)

''میں نے رسول اللہ1کو دیکھا کہ آپ روزہ کی حالت میں پیاس یاگرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی بہا رہے تھے۔''

çسرمہ لگانا:حضرت انسؓ ، حسن بصریؒ اور ابراہیم نخعیؒ سے ثابت ہے کہ وہ حالت ِروزہ میں سرمہ لگانے میں حرج   نہیں سمجھتے تھے۔(صحیح بخاری ،کتاب الصوم، باب اغتسال الصائم)

çکنگھی کرنا، تیل لگانا:سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:

''إذا کان یوم صوم أحدکم فلیصبح دھینًا مترجلا '' (ایضا)

''جب تم میں سے کوئی شخص روزہ سے ہو تو وہ صبح کے وقت تیل لگائے اور کنگھی کرے۔''

çخون نکلوانا:روزہ دار کو اگر کسی وجہ سے اپنے جسم سے خون نکالنا پڑے تو اس قدر نکال سکتا ہے جس سے اسے نقاہت یا کمزوری پیدا نہ ہوجائے۔ سیدنا ابن عباسؓ سے مروی ہے :

''أن النبي احتجم وھو محرم واحتجم وھو صائم'' (صحیح بخاری:۱۹۳۸)

''نبی1حالت اِحرام اور روزہ کی حالت میں پچھنے لگوا لیا کرتے تھے۔''

اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کا بھی یہ عمل رہا ہے کہ وہ پچھنے لگوایا کرتے تھے۔(صحیح بخاری، ایضاً)

نوٹ:حضرت رافع بن خدیج ؓسے مروی ہے کہ آپ1نے فرمایا: أفطر الحاجم والمحجوم(ترمذی:۷۷۳) ''پچھنے لگانے اور لگوانے والے دونوں نے روزہ توڑ دیا۔''

لیکن مذکورہ بالا جواز کی روایت اور اس روایت کے درمیان تطبیق یہ دی جاتی ہے کہ آپ1 نے کمزور افراد کے لیے پچھنے کو ناپسند فرمایا ہے جیسا کہ حضرت انسؓسے پوچھا گیاکہ کیا آپ روزہ دار کے لیے پچھنے لگانے کو ناپسند کرتے ہیں تو اُنہوں نے جواب دیا: نہیں البتہ کمزور شخص کے لیے ہم ناپسند کرتے ہیں۔(صحیح بخاری:۱۹۴۰)

روزہ کی رخصت و قضا

çسفر میں روزہ کی رخصت:سفر میں روزہ رکھا اور چھوڑا جاسکتا ہے۔ سیدہ عائشہ فرماتی ہیں:

''إنَّ حمزة بن عمرو الأسلمي قال للنبي ! أأصوم في السفر؟وکان کثیر الصیام فقال: إن شئت فصم وإن شئت فأفطر (صحیح بخاری:۱۹۴۳)

''حمزہ بن عمرو اسلمی بکثرت روزے رکھا کرتے تھے، اُنہوں نے نبی1 سے پوچھا: کیا میں سفر میں روزہ رکھ سکتا ہوں، آپ1 نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھ لو ورنہ نہ رکھو۔''

اسی طرح سفر کے دوران روزہ چھوڑا بھی جاسکتا ہے جیسا کہ حضرت انسؓ فرماتے ہیں:

کنا نسافر مع النبي ! فلم یعب الصائم علی المُفطر ولا المفطر علی الصائم (صحیح بخاری:۱۹۴۷)

''ہم نبی کے ساتھ سفر کرتے چنانچہ روزہ رکھنے والے روزہ چھوڑنے والوں پراور نہ روزہ چھوڑنے والے روزہ رکھنے والوں پر اعتراض کرتے۔''

سیدنا عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول1 نے (حالت ِسفر)  میں روزہ رکھا بھی ہے اور روزہ چھوڑا بھی۔ اس لیے تم میں سے جوچاہے (حالت ِسفر میں) روزہ رکھے اور جو چاہے، نہ رکھے۔ (صحیح بخاری:۱۹۴۸)

çبیماری اور بڑھاپے کے دوران : بیمار اپنی بیماری کی وجہ سے روزہ چھوڑ سکتا ہے اور جب تندرست ہوجائے تو ان کی قضا دے دے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ}(البقرۃ:۱۸۴)''پس جو مریض ہو یا مسافر ہو، وہ دوسرے ایام میں روزے پورے کرے۔''دائمی مریض اور بوڑھے کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ صدقہ کے طور پر ایک مسکین کو تمام روزوں کے دنوں کاکھانا کھلا دے۔ عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے :

''وہ بوڑھا مرد یا عورت جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے، وہ ہرروزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔'' (صحیح بخاری:۴۵۰۵)

çحمل اور رضاعت کے دوران:حاملہ اور مرضعہ کے لیے بھی روزہ میں رخصت ہے کہ وہ بعد میں اس کی قضا دے دے۔ حدیث میں ہے کہ

إن اﷲ وضع شطر الصلاة أو نصف الصلاة والصوم عن المسافر وعن المرضع أو الحُبلی (سنن ابوداؤد:۲۴۰۸)

''اللہ تعالیٰ نے مسافر، دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت کو آدھی نماز اور روزے کے سلسلہ میں رخصت دے دی ہے۔''

اِفطاری

çاِفطاری میں تعجیل:آفتاب غروب ہوتے ہی روزہ افطار کرلینا چاہئے۔ رسول اللہ1 نے فرمایا: لا یزال الناس بخیر ما عجَّلوا الفطر (صحیح بخاری:۱۹۵۷)

''جب تک لوگ جلدی افطاری کرتے رہیں گے، وہ خیر کے ساتھ رہیں گے۔''

çاِفطاری کس چیز سے کی جائے؟:حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ1 نماز سے پہلے تازہ کھجوروں سے افطاری کرتے، اگر تازہ کھجور نہ ملتی تو پرانی کھجوروں سے کرلیتے اور اگر پرانی کھجوریں بھی نہ ملتی تو پانی کے چند گھونٹ پی کرافطاری کرلیتے۔ (سنن ابوداؤد:۲۳۵۶)

çاِفطاری کی دعا:سیدنا عبداللہ بن عمرؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ1 جب روزہ افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے:

ذھب الظمأ وابتلّت العروق وثبت الأجر إن شاء اﷲ (سنن ابوداؤد:۳۳۵۷)

''پیاس بجھ گئی اور رگیں تر ہوگئیں اور اللہ نے چاہا تو اجربھی ثابت ہوگیا۔''

قیامِ رمضان اور اس کے اَحکام

قیامِ رمضان کے لیے تراویح، قیام اللیل، صلاۃ اللیل اور تہجد کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔جو رمضان میں جماعت کے ساتھ اور انفرادی، دونوں طرح کیا جا سکتا ہے۔

çفضیلت ِقیام رمضان:قیام اللیل اس مہینہ میں کئے جانیوالے خصوصی اعمال میں سے ایک عمل ہے۔ آپ1 اور صحابہ کرامؓ اس کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ ابوہریرہؓ سے مروی ہے :

کان رسول اﷲ ! یرغب في قیام رمضان من غیر أن یأمرھم فیه بعزیمة فیقول:من قام رمضان إیمانًا واحتسابًا غُفرله ما تقدّم من ذنبه

''اللہ کے رسول1 قیامِ رمضان کی ترغیب دیا کرتے تھے بغیر اس کے کہ آپ واجبی طور پراُنہیں حکم دیں۔ آپ1 فرماتے: جو کوئی ایمان کے ساتھ حصولِ ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کرے، اس کے پچھلے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔'' (صحیح مسلم:۷۵۹)

çقیام رمضان (تراویح) کا وقت:نمازِ تراویح کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے صبح فجر کی اذان تک ہے اور یہ اس دوران کسی بھی وقت پڑھی جاسکتی ہے۔ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے :

''اللہ کے رسول1 (رمضان کے مہینہ میں) ایک رات نصف شب کے وقت نکلے اور مسجد میںنماز پڑھنے لگے، لوگ بھی آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہوگئے۔ پھر صبح کے وقت اُنہوں نے دوسرے لوگوں کوبھی بتایا۔ چنانچہ (اگلی شب) پہلے سے زیادہ لوگ جمع ہوگئے اور آپ1 نے اُنہیں نماز پڑھائی۔ پھر صبح کے وقت اُنہوں نے (اور لوگوں کوبھی) بتایا۔ چنانچہ تیسری رات پہلے سے بھی زیادہ لوگ جمع ہوگئے اور اللہ کے رسول1 نکلے اور اُنہیں نماز پڑھائی۔ پھر چوتھی رات اتنے لوگ جمع ہوچکے تھے کہ مسجدمیںپاؤں رکھنے کو جگہ نہ تھی (مگر اس رات قیامِ رمضان کے لیے نہ نکلے) بلکہ فجر کی نماز کے وقت نکلے اورنمازِ فجر کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر خطبہ دیا اور فرمایا :أما بعد فإنه لم یخف علي مکانکم ولکني خشیت أن تفرض علیکم فتعجزوا عنھا مجھے تمہاری آمد کا علم ہوچکاتھا مگر میں اس لیے باہر نہ آیا کہ کہیں یہ تم پر فرض نہ کردی جائے اور پھرتم اسے اس طرح ادا نہ کرپاؤ، پھر اللہ کے رسولؐ نے وفات تک لوگوں کو تراویح نہ پڑھائی۔'' (صحیح بخاری:۲۰۱۲)

مذکورہ بالا حدیث سے پتہ چلا کہ نبی نے تین دن نمازِ تراویح باجماعت پڑھائیں اور پھر اس ڈر سے کہ کہیں لوگوں پر مشقت کا باعث نہ بن جائے، چوتھے دن نہ پڑھائیں۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ کے دور میں باقاعدہ نمازِ تراویح کا باجماعت اہتمام ہونے لگا۔

عبدالرحمن بن عبدالقاری کہتے ہیں کہ

''میں حضرت عمرؓ کے ساتھ رمضان کی ایک رات مسجدمیں گیا، لوگ متفرق اور منتشر تھے۔ کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا تھا اور کچھ لوگ کسی کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے۔ اس پر عمرؓ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ اگر تمام لوگوں کو ایک ہی قاری کے پیچھے جمع کردیا جائے تو زیادہ اچھا ہوگا۔ چنانچہ اُنہوں نے یہی قصد کرکے اُبی بن کعبؓ کو ان سب کا امام بنا دیا۔ پھر ایک رات آپ نکلے۔ دیکھا کہ لوگ اپنے امام کے پیچھے نمازِ تراویح پڑھ رہے ہیں تو عمرؓ نے فرمایا:یہ اچھا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ عمرؓ نے یہ بات اس لیے کی کیونکہ لوگ رات کے اوّل حصے میں نمازِ تراویح پڑھ لیتے تھے۔ '' (صحیح بخاری:۲۰۱۰)

مذکورہ اَحادیث سے پتہ چلا کہ قیامِ رمضان کا اہتمام نمازِ عشاء کے بعد سے لے کر فجر کی اَذان تک کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے۔ اگر اسے تاخیر سے پڑھا جائے تو یہ افضل ہے جیساکہ نبی1 کا عمل تھا۔

çنمازِ تراویح کی تعدادِ رکعات:نمازِ تراویح کی رکعات کی تعداد کے بارے صحیح بات یہی ہے کہ آپ1 سے عام طور پر گیارہ رکعات ثابت ہیں۔ چونکہ یہ تہجد ہی کی نماز ہے، اس لیے رمضان اور غیررمضان آپ1 کا اکثر معمول یہی رہا ہے کہ آپ1 نے گیارہ رکعات ہی پڑھیں جیسا کہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں:ما کان النبي یزید في رمضان ولا في غیرہ علی إحدٰی عشرة رکعة (صحیح بخاری:۱۱۴۷)

''نبی رمضان یاغیر رمضان میں(بالعموم)گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھاکرتے تھے۔''

çتراویح کا طریقہ:یہ دو دو رکعات کے ساتھ پڑھی جاتی ہے۔سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے:

''کان رسول اﷲ ! یصلي فیما بین أن یفرغ من صلاة العشاء إلی الفجر إحدٰی عشرة رکعة یسلم بین کل رکعتین ویوتر بواحدة (صحیح مسلم:۷۳۶)

''اللہ کے رسول1 عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر فجر تک گیارہ رکعات پڑھا کرتے تھے اور آپؐ دو رکعتوں کے درمیان سلام پھیرتے اور ایک وتر پڑھتے۔''

نوٹ: بعض لوگ حضرت عمرؓ کے ایک اَثر کو پیش کرتے ہیں کہ اُنہوں نے اپنے دور میں ۲۰ رکعات کاحکم دیاتھا جبکہ بیس رکعات کے حکم والی روایات مستند نہیں۔بلکہ حضرت عمرؓ سے صحیح سند سے ثابت ہے کہ اُنہوں نے اُبی بن کعبؓ اور تمیم داریؓ کو گیارہ رکعات تراویح پڑھانے کا حکم کیا تھا۔ (موطأ، باب ما جاء في قیام رمضان)

نمازِ تراویح کے مسائل

çمصحف سے دیکھ کر قراء ت کرنا:تراویح میں اگر امام قرآن سے دیکھ کر قراء ت کرے تو یہ جائز ہے۔ سیدہ عائشہ ؓ کے متعلق ہے کہ

''کانت عائشةیؤمھا عبدھا ذکوان من المُصحف'' (صحیح بخاری،کتاب الآذان،باب إمامۃ العبد والمَولی)

'' حضرت عائشہ کاغلام ذکوان انہیں قرآن مجیدسے دیکھ کر (نفل) نماز پڑھایا کرتا تھا۔''

çایک رات میں قرآن ختم کرنا:

سیدہ عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ

''لاأعلم رسول اﷲ! قرأ القرآن کله في لیلة'' (صحیح مسلم:۷۴۶)

''میں نہیں جانتی کہ اللہ کے رسول1 نے کبھی ایک ہی رات میں پورا قرآن پڑھا ہو۔''

عبداللہ بن عمروؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ1 نے فرمایا:

لا یفقه من قرأہ في أقل من ثلاث (سنن ابوداؤد:۱۳۹۰)

''جو شخص تین راتوں سے کم وقت میں قرآنِ مجید ختم کرتا ہے، وہ دراصل قرآن کوسمجھتا نہیں۔''

اِعتکاف اور اس کے مسائل

'اعتکاف' لغوی طور پر کسی چیز پر جم کربیٹھ جانے کو کہتے ہیںاور اصطلاح میں اللہ کی عبادت کے لیے تمام دنیاوی معاملات ترک کرنے اور مسجد میں گوشہ نشین ہوجانے کو اعتکاف کہتے ہیں۔

اِعتکاف نفل عبادت ہے جو اللہ کے رسول1 سے رمضان کے تمام دنوں میں ثابت ہے لیکن آخری سالوں میں آپ1 کا مستقل عمل یہ تھا کہ آپؐ نے آخری عشرہ میں ہی اعتکاف فرمایا۔ سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے:

''أن النبي ! کان یعتکف العشر الأواخر من رمضان حتی توفاہ اﷲ تعالیٰ ثم اعتکف أزواجه من بعدہ'' (صحیح بخاری:۲۰۲۶)

''آنحضرت رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کیاکرتے تھے حتی کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے فوت کردیا۔ پھر آپ1 کی بیویاں اعتکاف کرتی تھیں۔''

مسائل اعتکاف

çاعتکاف صرف مسجد میں ہوسکتاہے:اعتکاف کا تعلق مسجد سے ہے، قرآن میںہے:

{وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ} (البقرہ:۱۸۷)

''اور تم عورتوں سے مباشرت نہ کرو جب تم مساجد میں اعتکاف کرنے والے ہو۔''

اس کے علاوہ صحابہ اور نبی1 مسجد میں اعتکاف کیاکرتے تھے۔ آپ1 کی وفات کے بعد ازواجِ مطہرات بھی مسجد میں اعتکاف فرماتیں اور اس دور کا ایک بھی واقعہ ایسا نہیں ملتا کہ کسی نے مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ اعتکاف کیا ہو۔

çرمضان کے علاوہ دنوں کا اعتکاف اور مدت:

سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے:

أن عمر سأل النبي ! قال: کنت نذرتُ في الجاھلیة أن أعتکف لیلة في المسجد الحرام قال:أوفِ بنذرك (صحیح بخاری: ۲۰۳۲)

''عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ عمر ؓنے رسول اللہ1 سے سوال کیا کہ میں نے زمانۂ جاہلیت میں ایک رات کے لیے مسجد حرام میں اعتکاف کی نذر مانی تھی تو آپ1 نے فرمایا: اپنی نذر پوری کرو۔''

ç اعتکاف کے لیے روزہ شرط نہیں:اعتکاف کے لیے روزہ کی شرط کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔مذکورہ بالا حدیث کے مطابق آپ1 کے حضرت عمرؓ کو رات کے اعتکاف کی اجازت دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ اعتکاف کے لیے شرط نہیں ہے، کیونکہ رات کو تو روزہ نہیں رکھا جاتا اور حضرت عمرؓ نے بغیر روزہ کے اعتکاف کی نذر پوری کی۔

ç اِعتکاف میں کب داخل ہوا جائے؟

اس مسئلہ میں دو طرح کی احادیث پائی جاتی ہیں۔حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ

''أن النبي کان یعتکف في العشر الأواخر من رمضان ''(صحیح مسلم:۱۱۷۱)

''نبی اکرم1 رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے تھے۔''

اور دوسری حدیث حضرت عائشہ ؓسے ہے، فرماتی ہیں:

''کان رسول اﷲ إذا أراد أن یعتکف صلی الفجر ثم دخل معتکفه''

''نبی اکرم1جب اعتکاف کا ارادہ کرتے تو فجر کی نماز پڑھ کر اپنے معتکف میں داخل ہوتے۔''(صحیح مسلم:۱۱۷۳)

پہلی روایت کے مطابق عشرہ یعنی دس دن میں بیس کی رات بھی شامل ہے جب کہ حضرت عائشہ والی روایت میں فجر کی نماز کے بعد اعتکاف کرنے کا ذکر ہے۔اہل علم نے ان دونوں روایات میں یہ تطبیق دی ہے کہ بیس کی رات معتکف اعتکاف کی نیت سے مسجد میں داخل ہو جائے اور صبح نمازِ فجر کے بعد اعتکاف میں داخل ہو۔واللہ اعلم

ممنوعات و مفسداتِ اعتکاف

çجماع:اعتکاف کی حالت میں جماع سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔قرآن میں ہے: {وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ} (البقرہ:۱۸۷)

''اور تم بیویوں سے مباشرت نہ کرو اس وقت کہ جب تم مسجدوں میں معتکف ہو۔''

çحیض و نفاس:حیض و نفاس کی حالت میں اعتکاف فاسد ہوجاتا ہے، کیونکہ اس حالت میں عورت کو مسجد میں ٹھہرنے سے منع کیاگیا ہے۔

çبغیر ضرورت مسجد سے نہ نکلنا:آپ 1 کے متعلق آتا ہے کہ

0کان لا یدخل البیت إلا لحاجة إذا کان معتکفًا (صحیح بخاری:۲۰۲۹)

''آنحضرت 1 جب اعتکاف فرماتے تو بغیر ضرورت کے گھر میں داخل نہ ہوا کرتے تھے۔''

اسی طرح دوسری روایت میں ہے:حضرت عائشہ فرماتی ہیں:''سنت میں سے یہ بھی ہے کہ معتکف صرف ضروری حاجت کے لیے نکلے ۔ ''(سنن ابوداؤد:۲۴۷۳)

البتہ اگر کوئی شرعی ضرورت ہو تو اس کے لیے مسجد سے باہرجایاجاسکتاہے جس طرح آپ1 اپنی بیویوں کو گھر چھوڑنے جایا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری:۲۰۳۵،۲۰۳۸)

çمریض کی عیادت اور جنازہ میں شرکت کرنا:سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے:

اِعتکاف کرنے والے کے لیے سنت طریقہ یہ ہے کہ وہ نہ کسی مریض کی عیادت کرے، نہ جنازے میں شریک ہو، نہ بیوی کو (شہوت سے) چھوئے اور نہ ان سے ہم بستری کرے۔ (سنن ابوداؤد:۲۴۷۳)

مباحات اِعتکاف

a معتکف اپنی بیوی سے کنگھی کروانے یا سر دھونے جیسے اعمال میں مدد لے سکتا ہے۔ (صحیح بخاری: ۲۰۲۸)

b اِستحاضہ والی عورت اعتکاف کرسکتی ہے۔ (صحیح بخاری:۲۰۳۸)

c معتکف کی بیوی صرف ملاقات کے لیے اس کے پاس آسکتی ہے اور وہ اسے گھر تک چھوڑنے بھی جاسکتا ہے۔ (صحیح بخاری:۲۰۳۵)

d کسی شرعی عذر مثلاً اگرکسی وجہ سے جمعہ کااہتمام اس مسجد میں نہ ہو تو وہ دوسری مسجد میں پڑھنے جاسکتا ہے۔

لیلۃ القدر

لیلۃ القدر(شب ِقدر) رمضان کے آخری عشرہ کی وہ بابرکت رات ہے ، جس میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا بھرپور نزول ہوتا ہے۔ شب ِقدر کی فضیلت کے متعلق قرآن میں ہے :

{إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (1) وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ (2) لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ (3) تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ (4) سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ (5)} (سورۃالقدر)

''یقینا ہم نے اس قرآن کو قدر والی رات میں نازل کیا، آپ کیاسمجھے کہ شب ِقدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس میں ہرقسم کے معاملات سرانجام دینے کو اللہ کے حکم سے فرشتے اور روح الامین اترتے ہیں۔ یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے۔''

فرمایا:{إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ (3) فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ (4) أَمْرًا مِنْ عِنْدِنَا إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ} (الدخان:۳۔۵)

''یقینا ہم نے اس قرآن کو برکت والی رات میں نازل کیا بے شک ہم ڈرانے والے ہیں۔ اس رات میںہرایک مضبوط کام کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ یہ معاملہ ہماری جانب سے ہے اور ہم بھیجنے والے ہیں۔''

نوٹ: بعض لوگوں نے اس آیت سے مراد ۱۵ شعبان کی رات کو قرار دیا ہے جو درست اور ثابت شدہ نہیں ہے بلکہ اس آیت میں لیلۃ مبارکۃ سے مرادشب ِقدرہی ہے جو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق رات ہے۔

çقیام لیلۃ القدر:آپ 1 نے فرمایا:

0من قام لیلة القدر إیمانًا واحتسابًا غُفرله ما تقدّم من ذنبه (بخاری:۲۰۱۴)

''جس نے شب قدر کا قیام ایمان وثواب سمجھ کر کیااس کے سابقہ گناہ معاف کردیئے گئے۔''

çلیلۃ القدر کب؟شب ِقدر رمضان کے آخری عشرے کی کوئی طاق رات ہے۔ سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے:

أن رسول اﷲ ! قال:تحرّوا لیلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من رمضان  (صحیح بخاری:۲۰۱۷)

''رسول اللہ1 نے فرمایا:شب قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔''

آخری عشرہ اور شب ِقدر کے لیے خصوصی اہتمام

سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں:

''کان رسول اﷲ! یجتھد في العشر الأواخر ما لا یجتھدہ غیرہ''

''رسول اللہ1 آخری عشرے میں عبادت کی جس قدر محنت و کوشش کرتے، وہ اس کے علاوہ کسی وقت نہ کرتے تھے۔'' (صحیح مسلم: ۱۱۷۵)

سیدہ عائشہ ؓ ہی فرماتی ہیں:

''کان النبي ! إذا دخل العشر شد مئزرہ وأحیا لیله وأیقظ أھله''

''جب آخری عشرہ داخل ہوتا تو رسول اللہ1کمر بستہ ہوجاتے اور اپنی رات کوزندہ رکھتے اور اپنے گھر والوں کوبیدار کرتے۔'' (صحیح بخاری: ۲۰۲۴)

çلیلۃ القدر کی دعا:سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں:

قلت یارسول اﷲ ﷺ! أریت إن علمت أي لیلة لیلة القدر ما أقول فیھا قال:قولي: اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني (سنن ترمذی:۳۵۱۳)

''میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول1 ! اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ لیلۃ القدر کون سی رات ہے تو میں اس میں کیا کہوں؟ تو آپ 1 نے فرمایا:تو کہہ اَللّٰھُمَّ إنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ اے میرے اللہ! یقینا تو معاف کرنے والا ہے اور معافی کوپسند کرتاہے، پس تو مجھے معاف کردے۔''

çعلاماتِ لیلۃ القدر:لیلۃ القدر کی روایات میں درج ذیل علامتیں وارد ہوئی ہیں:

éأن تطلع الشمس في صبیحة یومها بیضاء لا شعاع لها

''اس دن سورج سفید طلوع ہوتا ہے اور اس کی شعاعیں نہیں ہوتیں۔'' (صحیح مسلم: ۷۶۲)

éآپ1نے فرمایا: أیکم یذکر حین طلع القمر وھو مثل شق جفنة

''تم میں کون اسے یاد رکھتا ہے (اس رات) جب چاند نکلتا ہے تو ایسے ہوتا ہے جیسے بڑے تھال کا کنارہ۔'' (صحیح مسلم:۱۱۷۰)

éآپ1نے فرمایا:

لیلة القدر لیلة سمحة طلقة لا حارة ولا باردة تصبح شمسها ضعیفة حمراء (مسند الطیالسي:۲۷۹۳)

''شب ِقدر آسان اور معتدل رات ہے جس میںنہ گرمی ہوتی ہے اور نہ سردی۔ اس کی صبح کو سورج اس طرح طلوع ہوتا ہے کہ اس کی سرخی مدھم ہوجاتی ہے۔''