مذہبی مراکز پر دہشت گردی کی سنگین وارداتوں، جعلی تعلیمی اَسناد اور حکومت کے بعض حالیہ تعلیمی اقدامات کے تناظر میں وطنِ عزیز میں ایک بار پھر دینی مدارس اور سکول وکالج، اسلامی اور مغربی تعلیم کے اِداروں پر تبادلۂ افکار اور بحث مباحثہ جاری ہے۔ زوال آمادہ حالات میں ہر کوئی سائنسی علوم کی طرف بگٹٹ دوڑنے کی بات کر رہا ہے۔

مادیت کے بڑھتے ہوئے سیلاب میں ہر کسی پر آخرت کی ناکامی سے قطع نظر، دنیا کی مزعومہ کامیابی کی دھن سوار ہے اور ان تمام باتوں کی تان اسلامی علوم سے ہٹ کر مادی علوم کے فروغ پر ٹوٹتی ہے۔ ''پاکستان کو ترقی کی اشد ضرورت ہے اور اس کے لئے دنیا سنوارنے کے علوم کو پھلنا پھولنا ہوگا، اور مذہب تو ہمارے معاشرے کو تفریق اور دہشت گردی کی طرف لے جاتا ہے، ا س سے دنیا بھر میں ہمار ی مخالفت بڑھتی جارہی ہے، اس کی تعلیم کو محدود سے محدودتر ہونا چاہئے۔'' ایسی ترغیبات اور مشورے آئے روز سننے کو ملتے رہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا میں ترقی کرنے سے منع نہیں کیا۔ کائنات میں موجود ہر شے میں اللہ نیبعض خصائص اور فوائد ودیعت کر رکھے ہیں۔ جو شخص دنیوی فوائد سے متمتع ہونا چاہتا ہے، جب تک وہ اللہ کی پیدا کردہ اِن چیزوں میں موجود خصوصیات اور فوائد کا کھوج نہیں لگائے گا اور ان پر اپنی توجہ صرف نہیں کرے گا، اس وقت تک تو وہ اُن سے بہتر فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔

آج ہر طرف مادیت کا دور دورہ ہے اور ہر کسی پر سائنسی ترقی کا خبط سوار ہے۔ ہر کوئی سائنس و ٹیکنالوجی سے بری طرح مرعوب ومتاثرنظر آتا ہے جبکہ اگر ہم سائنسی ایجادات کی حقیقت پر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ کسی شے میں کوئی خصوصیت یا نظام سائنسدانوں نے تخلیق نہیں کیا۔ سائنس چاہے تو مکھی کا ایک پر بھی تخلیق نہیں کرسکتی۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ مثال بیان کی ہے کہ ''جن معبودوں کی تم پرستش کرتے ہو، وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے، اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین کر لے جائے تو اُسے واپس نہیں لا سکتے۔''(الحج: ۷۳)

یہی صورتحال چودہ صدیوں کے بعد انسان کے سائنسی ترقی کی معراج پر پہنچنے کے باوجود بدستور قائم ہے۔آج لوگ سائنس اور سائنس دانوں پر پرستش کی حد تک وارفتگی نچھاور کرتے ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ سائنس کی تمامتر ترقی میں سائنس دانوں کی ذاتی تخلیق اور ایجاد کا کوئی حصہ نہیں بلکہ تمام ترسائنس ''اللہ تعالیٰ کے اپنی مخلوقات میں پیدا کردہ خصائص کو جاننے پہچاننے اور ان کو اپنے کام میں لانے کی جستجو کا نام ہے۔'' اگر کوئی طیارہ ہوا میں تیرتا ہے تو اُن الٰہی اصولوں پر عمل پیرا ہوکر ایسا کرنا ممکن ہوتا ہے جنہیں اللہ نے نظامِ دنیا چلانے کے لئے جاری وساری کیا ہے۔ اگر سائنس کلوننگ کو دریافت کرتی ہے تو اس کے پیچھے خلیات کی تخلیق کا زوجین والا الٰہی فارمولہ ہی کارفرما ہوتا ہے۔ ان نت نئی معلومات کو 'سائنسی اُصول' محض دریافت کرنے والوں کی بنا پر کہا جاتا ہے، جو دراصل الٰہی اُصول ہیں۔ غرض سائنس کی تمام تر کاوش یہ ہے کہ دنیا میں اللہ کے تخلیق کردہ نظاموں کی تلاش کی جائے اور ان کا بہترین استعمال کیا جائے۔ مغرب کی حالیہ ترقی جس کا مقصد دنیا کو آسائش و تعیش کا گہوارہ بنانا ہے، اس کا مرکز و محور بھی مظاہر و موجوداتِ کائنات کی طرف اپنی تمامتر توجہات کو مرکوز کرکے اُن کو اپنی خدمت کے لئے بھرپور استعمال میں لانا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اِن الٰہی اُصولوں کی دریافت سے منع نہیں کیا۔ اِن الٰہی (سائنسی) اُصولوں کی دریافت حوا س و مشاہدہ کے اعلیٰ استعمال اور عقل وتدبرکا نتیجہ ہوتی ہے۔ چنانچہ اسلام نے جہاں وحی والہام کو علم کا اصل منبع و سرچشمہ بیان کیا ہے، وہاں عقل و مشاہدہ... جو سائنس کا مصدر وماخذ اور سائنسی طرزِ فکر کی اساس ہیں... کو بھی معتبر ذرائع علم تسلیم کیا ہے۔ لیکن یہ یاد رہنا چاہیے کہ حقیقی علم اللہ کی طرف سے ہی نازل شدہ ہے اور انسانی علوم مشاہدے اور معلومات کے صغرے کبرے ملا کر تشکیل پاتے ہیں۔

دوسری طرف اہل مغرب کا انتہا پسندانہ اور مادی نظریہ ہے کہ وہ عقل مشاہدہ کے علاوہ وحی سے ثابت ہونے والے علم کو تخیل و واہمہ قرار دینے کی جسارت کرتے ہیں۔ جبکہاسلام کا تصورِ علم وحی والہام کے علاوہ عقل و مشاہدہ کے ذریعے حاصل ہونے والے علوم کو بھی حاوی ہے۔ جیساکہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے آیاتِ قرآن پر عمل کرنے کے لئے بھی عقل وبصیرت کے استعمال کی تلقین کی ہے، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

{وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا} (الفرقان: ۷۳)

''جب انکو اللہ کی آیات سے نصیحت کی جاتی ہے تو اس پر گونگے بہرے ہوکر گر نہیں پڑتے۔''

قرآنِ کریم نے فکر وتدبر کو مخاطب کرتے ہوئے اس کو بھی معتبر دلیل شمار کیا ہے اور کفار کو تلقین کی ہے کہ

{قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَى وَفُرَادَى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ} ( السبا: ۴۶)

''اے نبی ! ان سے کہہ دیں کہ میں تمہیں ایک بات کی تلقین کرتا ہوں کہ اللہ کے سامنے اکیلے یا دو دو ہوکر قیام کرو ، پھر فکر وتدبر کرو کہ کیا تمہارا ساتھی(نبی کریم1) واقعتا دیوانہ ہے؟''

اس آیت ِکریمہ میں تفکر وتدبر یعنی عقل کے استعمال کو ایک معتبر دلیل قرار دیا گیا ہے۔

مشاہدہ جس پر سائنس کا انحصار ہے، اس کو بھی قرآنِ کریم نے قابل اعتبار علم کا ماخذ قرار دیا ہے۔ سورۃ الملک میں اللہ عزوجل کا سات آسمانوں کو تہ در تہ تخلیق کرنے کا بیان ہے، جس کے بعد فرمایا:

{مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ (3) ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرٌ} (الملک:۴)

''رحمن کی اس تخلیق میں تو کوئی کمی بیشی نہیں پائے گا، پھر نظر کو دوڑا کر دیکھ لے، کیا کوئی کجی پاتا ہے۔ پھر دوبارہ نظر دوڑا، تیری نظر تیری طرف ناکام ہوکر لوٹ آئے گی۔''

گویا انسانی آنکھ کا آسمان میں کوئی غلطی نہ پانا اللہ تعالیٰ کے بہترین خالق ہونے کی دلیل ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ آنکھ کو اگر کوئی کجی مل جاتی تو اس کا اعتبار کیا جاتا جو یقینا محال ہے۔

قرآنِ کریم میں تفکر وتدبر اور عقل ومشاہدہ کے استعمال کی ترغیب پر بیسیوں آیات موجود ہیں۔ دراصل علم کے ماخذو سرچشمہ کی یہ بحث اہل مغرب کی پیدا کردہ ہے، وگرنہ سائنس کی اساسات ... انسان کو ودیعت کردہ صلاحیتوں ... کو قرآنِ کریم نے ایک معتبر ذریعہ علم خیال کیا ہے۔ لیکن ہمارا دین ان انسانی ذرائع سے حاصل ہونے والے علم کو ثانوی قرار دیتا ہے، کیونکہ ان میں غلطی کا امکان موجود ہے، بالمقابل اس علم کے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام یا اپنے نبی1 کے فرامین کے طور پر، بطورِ وحی نازل کیا ہے۔ اسی لئے مسلمان وحی کی روشنی میں عقل وتدبر کو کام میں لاتے ہیں، نہ کہ عقل انسانی کو وحیِ الہامی سے بالاتر تصور کرتے ہیں۔

'وحی کی بنا پر حاصل ہونے والا علم' ہی اسلام اور مغرب کے مابین علم کے باب میں اختلاف کا مرکز ہے۔ مسلمان یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ قرآنِ کریم اس کائنات کے خالق ومالک کا کلام ہے جس کا کوئی دعویٰ بھی غلط نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ قرآن جو اللہ کا کلامWord of Allah ہے اور پوری کائنات ...بہ شمول انسان کی عقل و مشاہدہ... اللہ کی مخلوق اوراس کا فعل Work of Allahہیں تو اللہ کے کلام اور اللہ کی مخلوق ؍فعل میں تضاد اور مخالفت کیوں کر واقع ہوسکتی ہے؟ اس نکتہ پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ کوئی مستند سائنسی حقیقت قرآنِ کریم کے مخالف نہیں ہوسکتی، کیونکہ دونوں کا مرجع ایک ہی ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔قرآن زبانِ قال سے اللہ تعالیٰ کی حقیقت بیان کررہا ہے اور سائنس زبانِ حال سے۔ یہی بات قرآنِ کریم میں یوں بیان ہوئی ہے :

{سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ}

''ہم عنقریب اُنہیں آفاق اور ان کی ذاتوں میں اللہ کی ایسی نشانیاں دکھائیں گے کہ قرآنِ کریم کو حق مانے بنا کوئی چارہ نہ رہے گا۔'' (فصلت: ۵۳)

{قُلْ أَنْزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا} ''کہہ دیجئے کہ قرآن کو اس ذاتِ بار ی نے نازل کیا ہے ، جو آسمان وزمین کے بھیدوں سے خوب واقف ہے، بلاشبہ وہ بہت جاننے والا اور باخبر ہے۔'' (الفرقان:۶)

چنانچہ اگر قرآنِ کریم کے ذریعے بیان ہونے والی کوئی حقیقت ہمارے سائنسی مشاہدے میں نہیں آرہی تو ہمیں صریح اور حتمی علم(قرآن و حدیث) کو ترجیح دینا چاہئے اور اپنے مشاہدے پر مزید محنت کرنا چاہئے تاکہ وہ اللہ کی بیان کردہ حقیقت کے مطابق ہوجائے۔ یہ ایک مسلمان کارویہ ہے جبکہ کافر صرف اپنے مشاہدے کے بل بوتے پر اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں کو استعمال توکرتا ہے،لیکن اُن کے اور اپنے خالق کا انکار کرتا ہے۔

قرآنِ کریم میں سائنسی علوم کو موضوع کیوں نہیں بنایا گیا؟

a قرآنِ کریم میں سائنسی حقائق تو ضرور بیان ہوئے ہیں، لیکن اشارہ وکنایہ کی زبان میں۔ قرآن کریم دراصل ہدایت کی کتاب ہے۔ سائنس چونکہ دنیوی موجودات اور نظام ہائے کائنات پر غور وفکر کے ذریعے زندگی کو پر سہولت اور پرسکون بنانے سے بحث کرتی ہے اور قرآنِ کریم دنیا کی رنگینیوں سے انسانوں کو آخرت کی طرف لے جاتا ہے۔ اس بنا پر دونوں کے موضوع اور ترجیحات میں فر ق ہے۔ سائنس تسخیر کائنات سے بحث کرتی ہے اور قرآن مخلوقات کو اللہ کا بندہ بنانے کی جستجو کرتا ہے، قرآنِ کریم میں ہے :

{تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا} (الاسرائ:۴۴)

''آسمان وزمین ذاتِ باری تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں، کائنات کی ہر شے اللہ کی حمد وثنا بیان کرتی ہے، لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھنے پر قادر نہیں ہو۔ بلاشبہ وہ بڑے حلم والا، بخشنے والا ہے۔''

b مزید برآں سائنس جو ہمیں مادے کی حقیقت اور اس سے استفادہ کے طریقے بیان کرتی ہے (یہ حقائق ووقائع ہیں)، جبکہ ہمارا دین: قرآن وسنت ہمیں ان موجودات کے مقاصد کی طرف رہنمائی کرتے ہیں (یہ عقائد و نظریات ہیں)۔ سائنس کا موضوع کسی شے کی ماہیت اور افادیت ہے، جبکہ دین کا موضوع کسی شے کا صحیح استعمال اور اس میں حق وباطل کا نکھار ہے۔ یہ علم کے دو مراحل ہیں جن میں سے پہلا مرحلہ انسان کے بس میں ہے اور دوسرا وحی کے بغیر انسان کی قدرت سے بالاتر ہے۔

انسان کی تخلیق پہلے مرحلے کی اہلیت کی بنا پر ہوئی ہے، یعنی انسان کی دیگر مخلوقات پر یہ افضلیت ہی کافی ہے کہ انسان اپنی عقل وبصیرت سے کام لے سکتا ہے۔ جیسا کہ تخلیق انسان کے واقعے پر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حضرت آدم ؑ کی فضیلت جتانے کے لئے یہ مکالمہ قائم کیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو کچھ نام سکھائے اور پھر فرشتوں سے کہا کہ اگر تم انسان کو تخلیق نہ کرنے کے دعوے میں سچے ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے اپنے قصورِ علم کا اعتراف کیا۔ قرآنِ کریم میں ہے :

{قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ (32) قَالَ يَا آدَمُ أَنْبِئْهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ فَلَمَّا أَنْبَأَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ} (البقرۃ: ۳۲،۳۳)

''فرشتوں نے کہا کہ ہمیں اس کے سوا کوئی علم نہیں جو تو نے ہمیں سکھایا ہے، تو ہی علیم وحکیم ہے۔ اللہ جل شانہٗ نے فرمایا کہ آدم! تم ان کے نام فرشتوں کو بیان کرو، جب آدم نے اُنہیں یہ نام بیان کردیے تو اللہ نے کہا کہ میں آسمان وزمین کے غیب کو زیادہ جانتا ہوں۔''

اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض چیزوں کے نام جاننے کو انسان کی تخلیق اور افضیلت پر دلیل ٹھہرایا گیا۔ واضح رہے کہ یہ وجہ ِفضیلت سائنسی علم کی ہے، یعنی امر واقعہ یا امر موجود کو جاننے کی صلاحیت رکھنا، اس سے اسلام میں سائنسی علم کا ثبوت واعتبار بھی ثابت ہوتا ہے۔ جبکہ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ نام اللہ نے اُنہیں سکھائے تھے، جیسا کہ مادہ کے دیگرعلوم بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیت ِسمع وبصر اور عقل وتدبر کا ہی حاصل ہیں۔ لیکن چونکہ یہ صلاحیت اللہ نے انسان میں تخلیق کردی ہے او رباقی مخلوقات میں پیدا نہیں کی، اس بنا پر انسان دیگر مخلوقات سے افضل ہے۔

اگر کسی شے کی ماہیت و حقیقت سے بڑھ کر اس کے مقصد ِتخلیق اور دنیا میں اس کے فرائض اور ذمہ داریوں سے بحث کی جائے تو یہ مذہب کا موضوع ہے اور انسان اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر اس کے اِدراک سے قاصر ہے۔

قرآنِ کریم یا شریعت ِاسلامیہ کا موضوع سائنس نہیں بلکہ انسان کا مقصد ِحیات اور نظریۂ زندگی ہے۔ انسانوں کے باہمی فرائض اور دنیا میں زندگی گزارنے کے متوازن اُصول کیا ہیں، ہمارا دین ان سے بحث کرتا ہے۔ اسلام نے دنیوی مفادات کو حرام نہیں ٹھہرایا، موجودات سے استفادہ سے منع نہیں کیا لیکن خالق کائنات نے ایسے اُمور جن سے استفادہ اور انتظام انسان خود کرسکتا تھا، ان کی رہنمائی کو بھی اپنا موضوع نہیں بنایابلکہ ان کی طرف محض اشارے کردینا ہی کافی خیال کیا۔ جستہ جستہ اُصولی ہدایات کے ساتھ انسان میں وہ صلاحیتیں اللہ نے پیداکر دی ہیں جنہیں کام میں لاکر کارگہ ِحیات میں انسان اپنے دنیوی مقاصد بخوبی پورے کرسکتا ہے۔

غرض سائنس اسلام کااس لئے موضوع نہیں کہ یہ علم کا ایسا پہلو ہے جس کے اِدراک کی صلاحیت انسان کے اندر ودیعت کردی گئی ہے۔ جبکہ اسلام کا موضوع جو ہدایت و رہنمائی ہے، انسان اپنے تئیں اس کے اِدراک سے قاصر و معذور ہے۔

چنانچہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ سائنس دانوں نے انسانی صلاحیتوں کو کام میں لا کر اللہ کی مخلوقات(پانی، ہوا، گیسیں، لوہے، دھاتیں، اور دنیا کے اُصولوں) سے فائدہ اُٹھانے کی حد تک دنیا میں بہت سے نئے مفید پہلو متعارف کرادیے ہیں اوراس میں انسان کامیاب نظر آتا ہے۔اس لحاظ سے سائنس علم کا وہ درجہ ہے جو انسان کے دائرئہ اِدراک میں آسکتاہے۔ جبکہ عقائد ونظریات، جو اسلام کا موضوع ہے، میں آج کا انسان وحی کی رہنمائی کے بغیر آج تک بھٹک رہا ہے۔ شراب ، خنزیر، آزادانہ تخم ریزی، صنفی تعلقات ایسی چند مثالیں ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ عقل ومشاہدہ کی معراج پر پہنچا ہوا انسان، نظریات کے میدان میں پریشان فکر ی اور منتشر خیالی کا مرقع بنا بیٹھا ہے، اور مغربی ممالک کی اسمبلیاں ان کو تحفظ دینے والے ظالمانہ قوانین منظو ر کرکے انسان کی اجتماعی حماقت اور معذوری کا برملا اظہار کررہی ہیں۔

c سائنس کا علم اس لحاظ سے بھی ادنیٰ ہے کہ یہ انسان کے لئے پیدا کردہ کائنات کی اشیا کا علم ہے(فزکس وکیمسٹری)، انسانوں کے لئے مفید وپرسہولت معاشروں کی تشکیل کا علم ہے (انجینئرنگ کی مختلف صورتیں)، نباتات و حیاتیات کا علم ہے یابعض صورتوں میں انسانی جسم کی مشینری کا علم ہے (میڈیکل سائنس) لیکن انسان جو بہترین مخلوق ہے، اس کی عظمت اس کے عقل وشعور میں مضمر ہے۔ انسانی جسم کا سب سے پیچیدہ حصہ دماغ ہے جس کی طبی اصلاح پر ابھی تک انسان کو قدرت حاصل نہیں ہوئی۔ اس اصلاح کی قدرت حاصل ہوجانے کے بعد اس دماغ کے اَفکار و نظریات کی سائنسی اصلاح تو ابھی بہت دور کی بات ہے۔ جبکہ مذہب کا موضوع انسان کے طرزِ فکر کی اِصلاح، مقصد ِحیات کا شعور اور پورے انسان کا وظیفۂ حیات ہے۔ یہ اَشرف مخلوق کو اپنے خالق سے جوڑنے اور دائمی فلاح کی طرف انسان کو لے جانے والا صحیفۂ ہدایت ہے۔ اس بنا پر اپنی حقیقت کے اعتبار سے بھی 'اسلام' علم کی اعلیٰ ترین نوعیت ہے۔

سائنسی علوم اور اسلام

اسلام میں سائنس کی مخالفت کی بجائے مختلف حالات کے اعتبار سے اس کا شرعی حکم مختلف ہے۔ بعض صورتوں میں سائنسی علم سیکھنا ناجائز، بعض صورتوں میں مستحب اور بعض اوقات اس کو سیکھنا واجب بھی ہوجاتا ہے۔ اگر مقصد محض تسخیر کائنات اور دنیوی تعیشات میں اضافہ ہو، اللہ کے خالق کل جہاں اور قادرِ مطلق ہونے کا انکار ہو تو خالق کے ذکر سے خالی، سائنس کا علم سیکھنا ناجائز ہوگا۔

اگر اللہ کی بندگی کے بعد، دنیا کو اللہ کی ہدایات کے مطابق گزارنے اور آخرت کی تیاری کے ساتھ ساتھ دنیا کو بھی پرسکون او رمنظم وباسہولت بنانے کی کوشش کی جائے تو اس وقت سائنسی علوم کو سیکھنا پسندیدہ ہوگا۔ چونکہ سائنس کا موضوع دنیا پر انسان کے اختیار میں اضافہ اور اس کو پرسہولت بنانا ہے اور دنیا کو پرسہولت بنانیسے اسلام مسلمانوں کو منع نہیں کرتا،کیونکہ اسلام میں رہبانیت ممنوع ہے اور قرآنِ کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے نیک عمل کرنے والے مرد و عورت کو دنیا میں {فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً}کا وعدہ اور آخرت میں اجر ِ عظیم کا مستحق قرار دیا ہے۔ (النحل: ۹۷)

ایک اور مقام پر قرآنِ کریم میں ارشادِ ربانی ہے:

{قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ} (الاعراف:۳۲ )

''کہہ دیجئے: کون ہے جس نے اللہ کی اس زینت وآسائش اور پاکیزہ رزق کو حرام قرار دیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا فرمائی ہے۔ کہہ دو کہ یہ دنیا میں اہل ایمان کے لئے بھی ہے، لیکن آخرت میں صرف اہل ایمان ہی ان کے حق دار ہوں گے۔''

لیکن دنیا کے اس جائز مقام کے ساتھ ساتھ اسلام اپنے پیروکار کا رخ دنیا کی پرسہولت آرائشوں کی بجائے دائمی فلاح کی طرف موڑتا ہے۔ اسلام میں دین ودنیا کا توازن یہی ہے کہ کامیابی کا دار ومدار آخرت کی نجات کو سمجھاجائے جیسا کہ قرآن میں ہے:

{فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ} (آلِ عمران: ۱۸۵)

''جو آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل ہوگیا تو وہی حقیقی کامیاب ہے۔ اور دنیا کی زندگی تو دھوکہ کی ٹٹی ہے۔''

یعنی اسلام کی رو سے آخرت انسان کا مقصد ومقصودِ اصلی ہے، اور دنیا انسان کی ضرورت ہے۔ ضرورت کو مقصودِ حقیقی پر ترجیح نہیں جاسکتی ہے بلکہ ضرورت کو حسب ِحاجت ہی اختیار کیا جاتاہے۔ دوسرے الفاظ میں جس طرح اسلام میں دنیا کے حصول کی نفی نہیں، اسی طرح دنیوی سہولیات کے علوم کی بھی نفی نہیں ہے، لیکن یہ ایک مسلمان کا مقصودِ اصلی نہیں بلکہ محض وقتی متاعِ حیات کی تنظیم ہے۔ دنیا وآخرت کے بارے میں یہ تصورہمیں ہمارے دین نے دیا ہے، اور یہ عقیدہ انسان اپنی سمجھ بوجھ سے حاصل نہیں کرسکتا بلکہ ایک اللہ پر ایمان لانے اور ایک نبی کو رسول1 ماننے کے بعد وحی کے ذریعے مسلمانوں کو حاصل ہوا ہے۔

سائنس کا علم سیکھنا ناجائز کب؟:اس کے بالمقابل ایک نظریۂ زندگی اہل مغرب نے بھی دیا ہے کہ ''دنیا کو زیادہ سے زیادہ پرسہولت وپرآسائش بناؤ اور اس کو جنت بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑو۔ جب آخرت آئے گی، تب دیکھا جائے گا۔'' چونکہ جدید سائنس نے مغرب میں ترقی پائی ہے، اس لئے اہل مغرب کا یہ نظریہ جدید سائنس میں بھی فروغ پاگیا ہے۔ جبکہ سائنس کا میدان اصلاً موجودات میں موجود حقائق کی دریافت اور ان سے بہتر استفادہ تک محدود ہے۔ نظریات جو دو اور دو چار کی طرح نہ تو مسلمہ اور دو ٹوک ہوتے ہیں اور نہ مشاہدہ سے حاصل ہوتے ہیں، یہ سائنس کا میدان ہی نہیں ہے، لیکن اہل مغرب کے ہاتھوں سائنس کے پروان چڑھنے کی بنا پر آج کی سائنس بھی مغرب کی نظریاتی مغلوبیت کا شکار ہوچکی ہے۔

جو علم جس قوم کے ہاتھوں پروان چڑھے، اس قوم کی تہذیب وتمدن اور اَفکار کا اس میں رچ بس جانا ضروری ہوتا ہے۔ اسی طرح اب سائنس بے نظریہ یا 'نیوٹرل ویلیو' نہیں رہی بلکہ موجوہ سائنس نظریۂ ارتقا، بقاے اَصلح بلکہ اقویٰ، اِلحاد ودہریت، تعیش پرستی، اِسراف و ضیاع، ہلاکت وتسخیر اور دنیا پرستی کی خادم بنی ہوئی ہے۔ اسے ہم 'مغربی سائنس' کہہ سکتے ہیں، ان مقاصد کیلئے سائنس کو سیکھنا درست نہیں ہے جبکہ سائنس کو اِلحاد ودہریت کے چنگل سے چھڑا کر اُس حد تک اپنایا جاسکتا ہے جہاں تک اسلام نے دنیا کو بخوبی گزارنے کی اجازت دی ہے۔

سائنس کا علم سیکھنا واجب کب؟ : آج کل کے حالات میں سائنس کی ضرورت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اگر یہ مغربی سائنس کفار کے عسکری وابلاغی غلبہ کی اساس بنی ہوئی ہے تو پھر ان کے جوابی مقابلہ کے لئے ان میدانوں میں اس سے بالا تر سائنس کی مہارت اسلام کا مقصد ومطلوب ٹھہرتی ہے، کیونکہ شریعت ِاسلامیہ ہمیں غیروں سے بہتر تیاری کا پابند بناتی اور اس کا حکم دیتی ہے۔ لیکن یاد رہے کہ یہ سب کچھ مسلمان فرد و ملت کی تقویت کے طور پر کیا جائے گا، نہ کہ دنیوی تعیشات کی خاطر۔ اس لئے اس تقویت سے قبل اسلامیت کی تشکیل یعنی علومِ اسلامیہ کی مہارت اور مسلم اُمہ کی تیاری اوّلین ترجیح قرار پائے گی۔

دینی اور دنیوی علوم کی ترتیب و ترجیح

اس ترتیب و ترجیح کا انحصار اسلام کے نظریۂ حیات پر ہے۔ کیا دنیا کی فلاح کسی مسلمان کا مقصودِ حقیقی ہے ، یا آخرت کی فلاح؟ کیا اللہ نے دنیا کو انسان کی آسائش وآرائش کے لئے پیدا کیا ہے یا اپنی بندگی کے لئے؟ جس کا نتیجہ آخرت میں ثواب وعقاب کی صورت میں ملے گا۔ اسلام کا یہ موقف بڑا واضح ہے جس پر قرآن کی سیکڑوں آیات موجود ہیں۔

اَب جو انسان کی پہلی ضرورت اور خالق کا پہلا تقاضا ہے، اس کو ہی پہلے سیکھنا ضروری ہوگا۔ ظاہر ہے کہ انسان کی پہلی ضرورت اللہ کی بندگی اور آخرت کی کامیابی ہے، دنیا میں انسان اللہ کی اطاعت وبندگی کے لئے ہی آیا ہے، اس لئے پہلے اسے سیکھنا ہوگا۔ اور جب اسلام دنیا کی زینت کو ناجائز قرار نہیں دیتا تو اس حد تک سہولیات کے ان علوم کو سیکھنا بھی جائز ہوگا۔ جب دنیا سنوارنے کے یہ علوم کسی معاشرے میں ناپید ہونے کا خطرہ ہوجائے تو اس وقت علومِ اسلامیہ کے بعد اِن دنیوی علوم کا احیا بھی مسلمانوں پر فرضِ کفایہ ہوگا، اور اگر کفار ان دنیوی علوم کی بنا پر مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرلیں جیسا کہ گذشتہ دو صدیوں کی تاریخ اس پر شاہد ہے، تو پھر سائنسی علوم سیکھ کر اس غلبہ کا خاتمہ کرنا ملت ِاسلامیہ پر واجب ہوجاتا ہے۔

آج ہم دنیوی لحاظ سے مغلوب ہیں اور دینی لحاظ سے بھی محروم۔ اس لئے صرف دنیوی غلبہ کے خاتمہ سے آغاز کرنے کی بجائے پہلے علومِ اسلامیہ کے احیا اور اس کو زندہ کرنے پر توجہ صرف کرنا ہوگی اور ملت ِ اسلامیہ کے تحفظ کے لئے سائنسی علوم کو بھی سیکھنا ہوگا۔

آج ہمارے مغربی تعلیم یافتہ حضرات ملت ِاسلامیہ کی مغلوبیت کی بجائے اگر محض دنیوی تعیشات اور دنیوی ترقی کے لئے سائنسی علوم میں پناہ لینا چاہتے ہیں تو اُنہیں عام مسلمانوں کی قرآنِ مجید سے عدم واقفیت اور آخرت میں ان کے بد انجام کی بھی فکر ہونا چاہئے۔ مدارسِ دینیہ کے طلبہ کو معاشی علوم کی تلقین کرنے والوں کو سکول وکالج کے طلبہ کو آخرت سنوارنے کے علوم کی ہدایت کرنا بھی اشد ضروری ہے۔ کیونکہ ایسا علم جس کا مقصد محض چند روزہ دنیا کمانا ہو، اللہ تعالیٰ اسے مذموم قرار دے کر نبی اکرم ﷺکو اس سے دور رہنے کی تلقین کرتا ہے:

{فَأَعْرِضْ عَنْ مَنْ تَوَلَّى عَنْ ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ إِلَّا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا (29) ذَلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدَى}

''اے نبی1! اس شخص سے تو اِعراض کر جو ہماری یاد سے منہ پھیرتا اور صرف دنیا کا طالب ہے۔ ان کا مبلغ علم یہی ہے، اور تیرا ربّ خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے گمراہ اور کون ہدایت یافتہ ہے۔'' (النجم:۲۹)

سابقہ حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں افضلیت اور اوّلیت اسلام کے علم اور عمل کو حاصل ہے۔ کسی مسلم خاندان ومعاشرہ میں اسی کو اَوّلیت دی جائے گی۔ جبکہ سائنسی علوم بھی اسلام کے مطالبے کی روشنی میں مسلمانوں کو سیکھنا ضروری ہیں۔ غلبہ دین کے قرآنی مقصد کے لئے دنیا میں اللہ کی پیدا کردہ قوتوں سے بہتر استفادہ کی صلاحیت حاصل کئے بغیر ایسا ممکن نہیں ہوسکتا۔ لیکن اگر اسلامی مہارت اور اَہداف کے تعین کے بغیر ہم سائنسی علوم میں پڑیں گے تو موجودہ مغربی نظریات پر کاربند سائنس ہمیں مغربی نظریات کا ہی کل پرزہ بنا دے گی، اس لئے کہ آج کی سائنس بے نظریہ نہیں بلکہ مغربی نظریۂ حیات کی آلہ کار ہے۔

اس ترتیب و ترجیح کی دلیل یہ بھی ہے کہ نبی کریم1 نے مدینہ منورہ میں تشریف آوری کے بعد سب سے پہلے اللہ سے تعلق مستحکم کرنے والی مسجد ِنبویؐ تعمیر کی اور اپنے صحابہ کو اللہ کی بندگی کے آداب سکھائے۔ دورِ نبوی میں مدنی معاشرہ میں تمدنی سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں، لیکن حضرت عمرؓ کا دور آنے کے ساتھ ساتھ جوں جوں اسلامی معاشرہ مثالی بنتا گیا، توں توں نظم وانتظام اور شہری سہولیات کے میدان میں بھی ترقی کی گئی اور ہرشعبۂ زندگی کی تنظیم ہوئی۔ اسی طرح ملت اسلامیہ نے پہلے کتاب وسنت کے علوم کو منظم ومدون کیا اور امت اسلامیہ کا علوم کا سنہرا دور قرآن وسنت کے علوم کی ترقی کا ہی زمانہ ہے۔ اس کے بعد اگلی صدیوں میں یا اس کے پہلو بہ پہلو مسلمانوں نے سائنسی علوم کی طرف بھی توجہ کی۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیوی نظم وانتظام کی بھی اسلام ہمیں ترغیب وتلقین کرتا ہے۔ سائنسی علوم کی بھی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ البتہ اس کی ترتیب مغربی تہذیب سے مختلف ہے، جن کے ہاں سب کچھ دنیوی ترقی ہی ہے۔ چونکہ اسلام انسان کی ترجیحات کو تبدیل کرکے اسے آخرت کی طرف متوجہ کرتا ہے، اس لئے اہل مغرب کے ہاں تومذہبی تعلیم کو سرے سے ہی دیس نکالا دیا جانا ضروری ہے۔

دنیوی مفادات کا حصول اور اسلام

مغرب کی 'تحریک احیائے علوم' کا پہلا نکتہ علم کو وحی واِلہام سے نکالنا اور عقل ومشاہدہ تک محدود ومنحصر کرنا تھا جس پر تبصرہ پیچھے گزر چکا ہے کہ اسلام علم کو دونوں ذرائع (الہامی وانسانی) تک وسیع کرتا اور دونوں میں ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔ اس تحریک کا دوسرا مرکزی نکتہ ہر کام کو دنیوی مفادات کے نقطہ نظر سے بروئے کار لانا تھا۔ ان دو نکات کے اعتبار سے مغرب کی یہ تحریک مذہب سے بغاوت اور خواہشِ نفس یعنی انسان پرستی کی تحریک ہے۔ اس پر قائم سارا معاشرہ اسی فکرونظر کا شاہکار ہے، آج آپ کو مغرب کے ہر رویے کے پیچھے یہ دو اساسی عناصر پوری طرح کارفرما نظر آئیں گے۔ مغربی سائنس بھی اسی طرزِ فکر پر قائم ہے اور مغربی علوم یعنی سکول وکالج میں پڑھائے جانے والے نصابات بھی اس رویے کے شاہکار ہیں۔ اس سائنس اور علم و تہذیب کو جدید سائنس، جدید تعلیم، اور جدید تہذیب کی بجائے مغربی سائنس اور مغربی تعلیم اور مغربی تہذیب سے تعبیر کرنا زیادہ موزوں ہے کیونکہ اپنے اساسی نظریات کی بنا پر یہ خلاقِ عالم کے ذکر سے خالی اور اس کے مقاصد سے باغی دائرہ ہائے حیات ہیں۔ مغربی تصورِ ابلاغ ہو یا تصورِ معاشرہ، معیشت ہو یا سیاست، ہر جگہ ربّ کی بندگی سے بغاوت اورانسان کی بے لگام خواہشات کی حاکمیت مغرب کے مادی نظریۂ زندگی کا صلہ ہے۔

آج افسوس کا مقام ہے کہ ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی مغربی نظریات پر عمل پیرا ہیں۔ اگر تو کوئی سائنسی علوم کی تحصیل کرے تو اس کو قابل و ماہر خیال کیا جاتا ہے اور عقل وذہانت کا درست استعمال قرار دیا جاتا ہے۔ سائنسی علوم کی برتری کیا یہی ہے کہ وہ ہماری چند روزہ دنیا سنوارتے ہیں اور اسلامی علوم کا جرم یہی ہے کہ وہ دنیا کے ساتھ آخرت کی کامیابی اور خالق کی رضا مندی اور اس کے احکامات پر چلنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ایک سادہ مثال کے طورپر

ایک انسان الیکٹریکل انجینئر ہے، توانائی کی ایک صورت' بجلی' کی نت نئے شکلوں کا ماہر ہے۔ اس کے بہتر سے بہتر استعمال پر قدرت رکھتا ہے۔ اس انجینئرکے اس سارے کمالات کا مرکزدنیوی فوائد کا حصول ہے۔ اس بنا پر اس کو معاشرے میں نت نئی جاب اور روزگارکے مواقع حاصل ہوتے ہیں، کیونکہ مغربی ڈھانچے پر قائم ہمارا مادی معاشرہ اب صرف دنیا میں ترقی کا ہدف پیش نظر رکھتا ہے۔ اسی طرح کوئی انسان لوگوں کے حسابات بنانے کے فنون سے بہتر واقف ہے، اکاؤنٹنگ کی نت نئی تکنیکوں کا ماہر ہے۔ رقوم ومالیات کی ہر تفصیل کو منظم کرکے اَعداد وشمار کی صورت میں مطلوبہ نتائج بخوبی پیش کرسکتا ہے۔ اس کی مہارت کا پورا دائرئہ عمل بھی چند روزہ دنیا کے مفادات کے بہتر حصول سے متعلق ہے۔

آج ہمارا معاشرہ ان علوم کو اَصل واساس قرار دیتا ہے، جبکہ دوسری طرف ایک انسان اپنے جیسے انسانوں کو خالق کی طرف بلانے کا فرض انجام دیتا ہے۔ قرآن پڑھتا اور پڑھاتا ہے، لوگوں کو خالق کی ہدایات کی روشنی میں زندگی گزارنے کے احکامات دیتا ہے۔ اللہ کی بندگی کی طرف بلاتا اور رسولِ کریم1 کے منصب اِرشاد پر عمل پیرا ہوتا ہے۔ زندگی کے اُلجھے معاملات میں لوگوں کو کبھی مالی مسائل، کبھی خاندانی اُمور، کبھی اللہ کی بندگی میں اللہ کے حکم کی نشاندہی؛ شرعی حکم ومسئلہیافتویٰ کی صورتمیں کرتا ہے۔ اس کے علم وہدایت اورزندگی کا مقصد لوگوں کو اللہ کی بندگی کی طرف بلانا اور ان کو آخرت کی کامیابی سے ہم کنا رکرنا ہے۔ غور کیجئے کیا پہلی دو مثالوں کے انسان اور کیا یہ دین کا عالم ، دونوں کا کردار مساوی ہے؟ کیا دونوں کے مفادات یکساں ہیں اور کیا دونوں ایک سے مقصد ِحیات پر گامزن ہیں؟

اگر ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ پہلی نوعیت کے علوم زیادہ بہتر ہیں تو پھر ہمیں اپنے فکر و نظر کا جائزہ اور اپنے رجحانات کا محاسبہ کرنا چاہئے۔ دراصل ایسی سوچ مغربی تہذیب سے متاثر ہونے کا ہی نتیجہ ہے، ہمیں سوچنا چاہئے کہ

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجیدکے تعلیم وتعلّم کرنے والے کو سب سے بہتر انسان کیوں قرار دیا ہے، جبکہ مغربی تہذیب یہ مقام سائنسی اور دنیا کے خادم علوم کے ماہرین کو دیتی ہے۔

اگردنیا کا چند روزہ مفاد ہی اسلام کا واحد مطمح نظر ہوتا تو پھر اسلام میں سے عظیم مقام سید المرسلین اور جن وانس کے سردار1کو حاصل نہ ہوتا جو اللہ وحدہ لاشریک کی بندگی کی طرف بلانے والے ہیں۔ جیسا کہ مغربی معاشرے میں سب سے نمایاں مقام سائنس دان (جو دنیوی تعیشات کو ممکن بناتا) اور ادا کار و فنکار (جو انسان کی خواہش نفس کی تسکین کرتاہے) کو حاصل ہوتا ہے۔

ایسے ہی اسلام نے خیر القرون دورِ نبوی1کو قرار دیا ہے جس میں اللہ کی بندگی کی صورتحال سب سے مثالی رہی، جب ا س دو رکا مدینہ منورہ بنیادی شہری سہولیات سے مزین نہ تھا۔ اس کے بالمقابل آج کی مغربی تہذیب لندن اورپیرس کو بہترین شہر اور موجودہ دور کو بہترین دورقرار دیتی ہے، کیونکہ اس میں خواہش نفس کی تسکین بخوبی ہوتی ہے اور دنیوی زندگی آرائش وآسائش کے ساتھ بسر ہوتی ہے۔

مذکورہ بالا مثالوں سے پتہ چلتا ہے کہ ایک مسلمان کی ہدف و منزل اورسوچ ونظریہ اس شخص سے بڑا مختلف ہوتا ہے جو صرف دنیا کو ہی اپنا کل مفاد قرار دیتا ہے۔ افسوس کہ آج کا مسلمان مغربی تعلیم وابلاغ سے بہرہ و رہونے کے بعد اپنے مقصد ونظریہ کو بھی مسخ کربیٹھا ہے۔

کوتاہ نظر انسان ہونے کے ناطے ہم بھی مغربی نظریات کو اپنا سکتے ہیں کہ اس سے دنیا سنورتی اور عیش وسہولت میں زندگی بسر ہوتی ہے... جبکہ یہ عیش پرستی بھی ایک مغالطہ ہی ہے کیونکہ تمام دنیا پرستوں کو ہی اللہ تعالیٰ دنیوی لذات سے بہرہ مند نہیں فرماتے... لیکن ایک مخلوق ہونے کے ناطے ہمیں اپنے خالق کو بھول نہیں جانا چاہئے۔ وہ خالق جس کی عطا کے لمحہ لمحہ ہم محتاج ہیں، جس نے ذرّے ذرّے کا حساب لینا ہے۔ جس نے ہمیں پیدا کیا اور ہم میں تمام صلاحیتیں تخلیق کیں۔ اللہ سے غافل انسان کی مثال تو ایسے ہی ہے کہ کسی کو چند گھنٹوں کی مہلت ملے اور وہ اس مہلت کو پیش نظر امتحان کی تیاری کی بجائے عیش پرستی اور موج میلے میں گزار دے، اور امتحان کو بھلانے کی کوشش کرے۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا پرست مغربی انسان کے لئے خالق کا تذکرہ بڑا روح فرسا ہے۔ وہ ہر لمحہ اس کوشش میں گزارتا ہے کہ اسے کسی خالق کو تسلیم نہ کرنا پڑے، اس کے لئے وہ کبھی قدرت، کبھی فطرت اور کبھی آفاقی اُصولوں میں پناہ لیتا ہے۔ ابتداے آفرینش کی تفصیلات اور اس کی ایسی توجیہ جس سے خالق کا انکار ممکن ہوجائے، اسے بڑی بھلی معلوم ہوتی ہے۔ اپنی عمر کو طویل سے طویل تر کرنے میں مگن رہتا اور موت کے تذکرے سے جان بچاتا ہے۔لیکن جب اچانک موت کی گھڑی آ جاتی ہے تو پھر اس کی ساری پر تعیش جنت غارت ہوکر رہ جاتی ہے اور آخری فیصلہ تو روزِ محشر ربّ ذوالجلال کے سامنے ہونا ہی ہے جہاں ہر انسان کو لا تزول قدما عبد حتی یسأل عن أربع... قدم اُٹھانے سے قبل چار باتوں کا حساب دے کر ہی آگے بڑھنا ممکن ہوگا: اپنی عمر، اپنا مال، اپنے جسم اور اپنے علم کے بارے میں کہ کیسے حاصل کیا اور کہاں صرف کیا؟

مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں بھی غورکرنا چاہئے اور ہماری مقتدرہ کو سوچنا چاہئے کہ ہمارے کردار سے اسلام کی بجائے کفریہ رویوں کی آبیاری تو نہیں ہو رہی؟ کیا ہمارا مقصد بھی محض دنیا سنوارنے تک ہی محدود تو نہیں ہوگیا؟ اسلام میں دنیا کو سنوارنے کی اجازت موجود ہے، لیکن ایک مسلمان کا مقصد ِزندگی اور نظریۂ حیات ایک کافر سے سراسر مختلف ہے، اور یہ چیزیں مسلم فرد و معاشرہ کے فکر و نظر میں ہی رہنے کی بجائے عملی رویوں، رجحانات اور پالیسیوں میں بھی نظر آنی چاہئیں۔ وما علینا إلا البلاغ

اِس مضمون کا خلاصہ حسب ِذیل نکات میں ملاحظہ فرمائیے :

a وحی سے حاصل ہونے والے علوم، سائنس ومشاہدہ کے علوم پر بالاتر اور افضل ہیں۔

b محض دنیا کمانا اور سنوارنا، ایک قابل مذمت امر ہے، لیکن دین کے ساتھ ساتھ دنیا کو سنوارنے کی کوشش جائز ہے۔

c حوا س ومشاہدہ سے حاصل ہونے والا علم قابل اعتبار ہے۔

d اسلام میں سائنسی تعلیم کا نہ صرف جواز بلکہ ترغیب موجود ہے۔

e بعض صورتوں میں یہ ترغیب، وجوب کے دائرے تک بھی پہنچ جاتی ہے۔

f فی زمانہ مسلمان اس وقت ہی دیگر اَقوام پر غالب ہوسکتے ہیں جب وہ دینی علوم کے ساتھ سائنسی علوم میں بھی مہارت حاصل کریں۔

g دینی ودنیوی علوم کے بارے میں اسلام کا رویہ، دین و دنیا کے بارے میں اسلام کے پیش کردہ عقیدہ کے مماثل ہے۔ (ڈاکٹر حافظ حسن مدنی)