ایک شخص کئی سال سے قلعہ اسلام پر، اسلام ہی کےحصار میں رہ کر،مسلسل گولہ باری کر رہا ہے۔
’’ طلوع اسلام ،، کےنام پرغروب آفتاب اسلام اس کی زندگی کی سب سےبڑی تمنا ہے- وہ قرآن کاسہارا لےکر قرآن سےکھیلتا ، حدیث کی آڑ میں حدیث پرحملہ آور ہوتا ، صحابہ سےمحبت جتلا کر انہی کامذاق اڑاتا، دین کی پناہ حاصل کرکےدین کی بنیادیں ہلاتا ، اشتراکیت کی مذمت کرکےاشتراکیت ہی کا پرچارکرتا، مادیت پرستی سےدشمنی ظاہر کرکے مادیت کی راہ ہموار کرتا، مادیت اور روحانیت کےدرمیان بظاہر قرآنی راہ اعتدال کاحوالہ دے کرشریعت سےبیزاری کااظہار کرتا، سائنس کےنام پرعلماء دین کورگیدتا ، سائنسی علوم کےمقابلے میں علوم دین کو ہیچ سمجھتا ، تاریخ کومسخ کرتا ،آخرت کا تصوّر دلوں سےمحوکرتااورشعاراسلام کی علی الاعلان تضحیک کرتا ہے۔ اتنا شاطر، اتنا چالاک ، اس قدر ذہین لیکن اسی قدر بدباطن کہ آیات قرآنی کےمختلف ٹکڑے چنتا ، ان کوایک خاص ترتیب دےکراس خوبی سےان کوباہم مربوط کرتا اور اُن کوخوش نما معانی پہنا کرمن مانے مطالب اخذکرتا ہےکہ مفہوم کچھ سےکچھ ہوجائے،لیکن قاری الفاظ اور تراکیت میں الجھ کررہ جائے اور تحریرکے تسلسل اورروانی کےسحر کاشکار ہوکراپنے ذہن کی منجمد ہوتا محسوس کرے، حتی کہ یہ بھی بھول جائے کہ قرآن مجید میں اس نےجوکچھ پڑھا تھا اورجس چیز کی طرف یہ کلام الہی اب تک اسے دعوت دیتارہا ہے، وہ کیا تھی ؟ ۔۔۔۔۔ پھراسے یہ احساس بھی نہیں ہوپاتا کہ اپنی تحریر میں جگہ جکہ اقبال کے اشعار کوفٹ کرنےوالا یہ شخص خود ہی اس اقبال کوبھی نظرانداز کرچکا ہےجس نے کہا تھا کہ احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسرّ،تاویل سے قرآں کوبناسکتےہیں پاژند
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاران کوچوٹیوں پرآفتاب ِ رسالت چمکا ، تاریکیاں چھٹنے لگیں اوررفتہ رفتہ ظلمت کدہ عالم منّور ہونےلکا ------ شمع رسالت کےپروانوں نے
’’ وَیُعَلِّمُهمُ الکِتٰبَ وَالحِکمَة ،،
کی صدائے قرآنی توبے اختیار لپکے اورقرآن سیکھنے کےلیے اس نبی اُمّی کےسامنے زانوئے تلمذ تہ کردیے ۔۔۔۔۔۔۔
﴿ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ﴾
کےمصداق شمع رسالت کےیہ وہی پروانے تھےجو’’ وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى ،، کی صداقتوں سےآشنا ہوچکےتھےاورایک عالم جنہیں اصحاب رسول اللہ کی حیثیت سےجانتاہے۔۔قرآن ترجمان نبوت تھااورزبان نبوت ترجمان قرآن ------- سفر وحضر میں رسول اللہﷺ کےیہ ساتھی ،آپ ﷺ کےہرعمل کونوٹ کرتےرہےاور آپﷺکی زبان مبارک سےنکنے والے ایک ایک لفظ کواپنے سینوں میں محفوظ کرتےرہے،تاکہ قرآن کےالفاظ میں
﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾
كی خوشخبری ملی ۔۔۔۔۔۔ صحابہ کرام نےاپنے سینوں میں محفوظ امانت کومحدثین کے سپُرد کردیا ،جنہوں نےاس خزانہ ، عامرہ کوپوری چھان بین کےبعدسفینہ قرطاس پرمنتقل کردیا جو آج تک مسلمانوں کےپاس محفوظ ہےاورتاقیامت محفوظ رہےگا ۔ ان شاء اللہ !
اعدائے اسلام نےاحادیث کےاس چشمہ صافی کومکدّر کرنے کی کوشش بے شک کی،لیکن محدثین نےنہ صرف ان کوکوششوں کوناکام بنایا۔بلکہ ایک ایک حدیث کوجانجنے اورپرکھنے کےلیے ایسے ٹھوس قواعد تلاش کیے کہ آج چودہ سوسال بعد بھی،کسی بھی حدیث کوان قواعد کی روشنی میں پرکھا جاسکتا ہےکہ یہ کلام ،زبان ترجمان ِقرآن سےنکلا ہےیا نہیں ؟ ----- ان چودہ صدیوں کےدوران نئے نئے افکار ابھرکرسامنے آتےرہے او رمختلف فتنے نمودار ہوئے لیکن کتاب سنت کی آہنی چٹان سےٹکرا ٹکرا کرپاش پاش ہوئ اوربالآخر اپنی موت آپ مرگئے۔۔۔۔۔۔آئندہ بھی یہی ہوتا رہےگا!
اختلافات کی بات چھوڑیے ، لوگوں نےحدیث رسول اللہ ﷺ کےعلاوہ قرآن مجید کوبھی معاف نہیں کیا اورجس کاایک زندہ ثبوت دہی شخص ہےجس کااوپرہم نےذکر کیااورجس کےافکار عنقریب ہمارے زیرِ بحث آنےوالے ہیں -----
بہرحال صحیح العقیدہ مسلمانوں کایہ متفقہ فیصلہ ہےکہ اسلام کےدوبڑے ماخذ یہی کتاب وسنت ہیں ، اور پیش آمدہ مسائل ، جن کےبارے میں کوئی صریح نص کتاب وسنت سےنہیں ملتی ، کتاب وسنت کی روشنی میں ان کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے:
لیکن گلبرک لاہور سے چندبرس بیشتر جواسلام طلوع ہوا ہے( اورجس سےاس اسلام کےبانی کی نظر میں خلافتِ راشدہ کےبعد سےلےکر اس نئےاسلام کےطلوع ہونےتک ، یاکم از کم ہندوستان میں سید کےافکار کےمنظرِ عام پر آنےتک ، پوری امتِ مسلمہ محروم رہی ہے) اس کاتو’’ باواآدم نرالا ،، ہے--------
اوریہ بات ہم نے صرف محاروتاً نہیں کہی ، یہ شخص واقعتاً حضرت آدمؑ کواپنے محسنِ اعظم سرسید کی طرح ، ایک مخصوص فرد تسلیم کرنے سے انکار ی ہے۔ چنانچہ اس کی کتاب ’’ مطالب القرآن ،، جلد چہارم کےصفحہ 274 پر
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَها ﴾
کاترجمہ یوں درج ہےکہ:
’’ سے نوعِ انسان ! اپنے نشوونما دینے والے کےقانون کی نگہداشت کروجس نےتمہاری پیدائش کی ابتداء ایک جرثومہ زندگی سےکی ، ازاں بعد یہ جرثومہ دوحصوں میں تقسیم ہوگیا ، جس سےنرومادہ کی تقسیم وجود میں آئی ،، !
آئندہ سطور میں ہمارے زیربحث آنے والے اس کےمضمون (قرآن اورسائنس)میں مندرجہ بالا آیت قرآنی اوراس سلسلہ میں وارد حدیث کامذاق اس شخص نےیوں اڑایا ہےکہ :
’’ .......... یہ نتیجہ ہےاس مذہبی تعلیم کاجس کاروسےآپ انہیں (نئی نسل کو)بتاتے ہیں کہ بابا آدم کی پسلی چیر کراس میں سے اس کی بیوی نکالی گئی تھی ۔۔۔۔
وہ اس مذہب سےمتنفرنہ ہوں گےتوکیا اسےگلے سےلگائیں گے،،، .؟؟
(طلوع اسلام اگست 1982ءص 55 )
الغرض گلبرک سےاس نئے طلوع ہونےوالے ،، اسلام، ، نےوہ وہ شعبدے دکھائے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔۔۔۔
بالخصوص قرآن مجید کوجس بیداری سے نشانہ ستم بنایا گیا ہے، اس کی مثال کہیں نہیں ملتی ۔۔۔۔۔
آ ج ہمیں چند انہی شعبدہ بازیوں کی حقیقت کولےنقاب کرنا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭
طلوع اسلام ’’ شمارہ اگست 1982ء کاایک مضمون’’ قرآن وسائنس ،،اس وقت ہمارے پیش نظر ہےجودراصل ’’ تقریب جشن نزو ل قرآن ،، کےسلسلہ کاایک خطاب ہے۔ اس کےصفحہ 46 ، 47 پر
’’ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ ،،
کےتحت لکھا ہے:
’’ حقیقت یہ ہےکہ حولوگ عقل وبصیرت سےکا لیتے ہیں ، ان کےلیے تخلیق کائنات اورگردش لیل ونہار میں قانون ِ خداوندی کی حقیقت اورہمہ گیری کی بڑی بڑی نشانیاں ہیں ، ان صاحبان عقل وبصیرت اوراربات فکرونظر کےلیے جوزندگی کےہرگوشے میں ، کھڑے بیٹھے لیٹے قوانین خداوندی کواپنی نگاہوں کےسامنے رکھتے ہیں اور کائنات کی تخلیق ترکیت پرغور وفکر کرتےرہتے ہیں اور اپنی تحقیقات اورانکشافات کےبعد اعلیٰ وجہ البصیرت پکار اٹھتے ہیں کہ اےہمارے نشوونما دینے والے! تونے اس کا کارگرکائنات کونہ توعبث وبےکار پیدا کیاہ ےاورنہ ہی تخریبی نتائج پیدا کرنےکےلیے ،تیری ذات اس سے بہت بلند ہےکہ تو اتنے نظام کربلامقصد پیدا کردے۔ یہ ہماری کم علمی اورکوتاہ نگہی ہےکہ ہم تحقیق سےکام نہیں لیتے اوراس طرح اشیائے کائنات کےنفع بخش پہلوؤں سے بےخبر رہ کرعذاب کی زندگی بسرکرتےہیں۔ تو ہمیں توفیق عطا فرماکہ ہم علمی تحقیقات اورعملی تجربات کےبعد عناصر کائنات سےصحیح صحیح فائدہ اٹھائیں اوراس طرح تباہ کن عذاب کی زندگی سےمحفوظ رہیں ،، !
بتائیے ، کیا اس پوری عبارت میں آخرت کاکوئی تصورموجود ہے؟ آپ نےغور فرمایا کہ اللہ رب العزت کی عظمت کےبیان کےپس پردہ فریب دیا جارہا ہے؟۔۔۔۔
توہمیں توفیق عطا فرماکر ہم علمی تحقیقات اورعملی تجربات کےبعد عناصر کائنات سےصحیح صحیح فائدہ اٹھائیں اوراس تباہ کن عذاب کی زندگی سےمحفوظ رہیں ،،------یہ الفاظ لکھ کرقرآنی مفہوم کی آڑمیں مادیت کوکشیدکرنےکی کتنی بھرپور اورشرمناک کوشش کی گئی ہےحالانکہ قرآن ِ مجید نےانسانی زندگی کامقصد یہ قرار نہیں دیا کہ محض علمی تحقیقات اورعملی تجربات کےبعد عناصر کائنات سےصحیح صحیح فائدہ اٹھایا جائے۔بہ انسانی زندگی بسر کرنے کا ایک ذریعہ توہوسکتا ہے، اسے مقصد ہرگزنہیں قرار دیا جاسکتا۔۔۔۔۔ بلکہ اس کےبرعکس انسانی زندگی کامقصد تخلیق رب العزت نے’’اپنی عبادت ،، قرار دیا ہے:
﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾ 
لیکن اگر انسانی زندگی کامقصد یہی ہےجو’’ طلوع اسلام ، نےقراردیا ہےتوسوال یہ ہےکہ ایسے اسلام کوطلوع ہونےکی ضرورت بھی کیا تھی ؟ اس مقصد کےحصول کےلیے توپہلے ہی سرتوڑ کوششیں جاری ہیں اوریا د خدا اورفکر آخرت کی ثانوی حیثیت بھی باقی نہیں رہی اور جس کےباعث انسانی زندگی عذاب بن کررہ گئی ہے۔۔۔۔
عذاب تویہی ہےکہ انسانی زندگی نےاب علمی تحقیقات اورعملی تجربات کےبعدعناصرکائنات سےصحیح صحیح فائدہ اٹھانے لینے ہی پرکمرِ ہمت باندھ لی ہے، توپھر جس عذاب کی زندگی کی بات ’’ طلوع اسلام ،، نےکی ہےوہ کون سی زندگی ہے؟
کیا اس کےنزدیک عذاب کی زندگی یہ ہےکہ انسان اپنے خالق ِ حقیقی کوپہچان کراس کےسامنے سرِ عبودیت خم کردےاور’’ الدنیا مزرعۃ الآخرۃ ،، کےتحت اپنی زندگی خدا تعالی اور اس کےرسول ﷺ کےبتائے ہوئےطریقوں کےتحت بسر کرنےلگے۔۔۔۔ اوراگر فرمان رسول اللہ اسے راس نہیں آتا کہ اس سے اسےازلی بیرہےتوہم قرآن کی زبان میں ’’ لیبلوکم ایکم احسن عملا ،، کےالفاظ ذکرکیے دیتےہیں۔۔۔ لیکن ’’ مطالب القرآن ،، کےانیسویں پارے میں نامعلوم اس آیت کابھی کیا حشر ہوگا !
کیا اسی برتےپریہ کہا جارہا ہےکہ :
’’ وہ نئی نسل ،، اس مذہب (اسلام ، سےمتنفرنہ ہوں گےتوکیا اسےگلےسےلگائیں گے؟،،
مسلمان واقعی اسلام کوگلے لگالینے کےلیے بیتاب ہے،لیکن اس کا کیا کیا جائےکہ چودھویں صدی کا ایک مفسرقرآن اس مادی دور میں مادیت کی رہ ہموار کرنےکےلیے قرآن ہی سے سندِ جواز عطا فرما رہا ہے۔۔۔۔۔۔ اسی قرآن سے ، جس نےیہ فرمایا ہے:
﴿ زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَآبِ (14) قُلْ أَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرٍ مِنْ ذَلِكُمْ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَأَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَرِضْوَانٌ مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ ﴾...(ال عمران : 14، 15 )
قرآن مجید نےجہاں کہیں بھی اپنی قدرتوں اورکائنات میں غوروفکر کاذکر فرمایا ہے، اس سےاس کامقصود توحید ِ ربوبیت کاحوالہ دےکرتوحید الوہیت ، اعمال صالحہ اورآخرت پراستدلا ل ہے۔قرآن مجید میں ایسی بےشمار آیات موجود ہیں ۔مثلاسورۃ آل عمران کی یہی مندرجہ آیت ،یہی آیت جس کےتحت ہم نے’’ طلوع اسلام ، ، کاطویل اقتباس نقل کیا ہے، یہ اصل دوآیات کی تفسیر ہے۔ پہلی آیت یوں ہے:
’’ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ،،-
اس کےبعد کی آیت میں فرمایا :
﴿ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴾
اس آیت کوپڑھئے اور مذکورہ بالا اقتبا س کودیکھیے جواگرچہ کافی طویل ہےلیکن ’’ یذکرون اللہ ،، (ذکرالہی ) کاکہیں ذکرتک نہیں کیا بلکہ اس کی بجائے’’ یذکرون اللہ قیاما وقعودا وعلی جنوبھم ،، کےتحت یہ لکھا ہےکہ :
’’ وہ کھڑے ،بیٹھے ، لیٹے قوانین خداوندی کواپنی نگاہوں کےسامنے رکھتےہیں ،،
اسی لیے پوری آیت درج نہیں کی گئئ کہ مبادا اس طرح کتمان ِ حق کابھانڈا عین چواہےمیں بھوٹ جائے چنانچہ اس کارخ دوسری طرف پھر دیا گیا تاکہ اس سےسائنس کشیدکی جاسکے کیونکہ موضوع ( قرآن اورسائنس ) توبہرحال انہیں نبھانا ہی تھا ۔
پھر یہ بھی دیکھیے کہ آیت کریمہ میں ’’ ربنا ماخلقت ہذا باطلا ،، ( کہ ’’ اےاللہ ! تونے اس کائنات کوعبث پیدا نہیں فرمایا ) کےمعاً بعد ’’ سبحانک فقنا عذاب النار ،، کےالفاظ وارد ہیں ۔۔۔۔۔۔
لیکن بجائے اس کےتفسیر کرتے وقت آیت کےاصل مقصود کوپیش نظر رکھا جاتا صاحب تفسیر ’’ تیری ذات اس سے بہت بلند ہےکہ تواتنے عظیم نظام کوبلامقصد پیدا کردئیے ،،
لکھنے کےبعد اچانک ہتھے سےاکھڑے ہیں کہ :
’’ یہ ہمارے کم علمی اورکوتاہ لگہی ہےکہ ہم تحقیق سےکام نہیں لیتے اوراس طرح اشیائے کائنات کےنعع بحش پہلوؤں سےبےخبررہ کر عذاب کی زندگی بسر کرتےہیں ۔ توہمیں توفیق عطا فرماکہ ہم علمی تحقیقات اورعملی تجربات کےبعد عناصر کائنات سےصحیح صحیح فادئدہ اٹھائیں اور اس طرح تباہ کن عذاب کی زندگی سےمحفوظ رہیں ۔
ملاحظہ فرمایا آپ نے، بات کہاں سےکہاں جاپہنچی ہے، رب العزت نےیہ آیت ذکر فرماکرمومنوں کوعذاب جہنم سےبچ جانے کی ترغیب دی ہےاور اسی سلسلہ میں چندوعائیہ الفاظ ( سبحانک فقنا عذاب النار ) بھی ذکر فرمادیے ہیں ، لیکن صاحب تفسیر کےسرپر سانس بُری طرح سوار ہے۔ پھر خط کشیدہ الفاظ میں ’’ عذاب نار ،، کوجس طرح گول مول کیاہےاس پربھی بےاختیار داد دینے کوجی چاہتاہے،جبکہ جنہم اور اس کا عذاب ایک اٹل حقیقت ہیں اور اس سلسلہ میں قرآن مجید میں کافی تفصیلات وارد ہیں لیکن صاحب تفسیر کےنزدیک ’’عذاب نار،، سےمراد ایسی زندگی ہےجوکہ’’ علمی (سائنسی ) تحقیقات اورعملی تجربات کےبعد عناصر کائنات سےصحیح صحیح فائدہ اٹھاتے،،سےخالی ہو ؏ جوچاہے آپ کاحسنِ کرشمہ ساز کرے!
قرآن مجید کایہ مقام ملاحظہ ہو، آیت نمبر190تا 200 ( آخر سور آل عمران تک ) تمام کی تمام فکرِ آخرت کی دعوت دےرہی ہیں بلکہ آیات 196، 197 توخاص اسی سلسلہ کی کڑی ہیں جن کےذریعے ہم نہ صرف اپنےمضمون کوآگے بڑھاسکتےہیں بلکہ)‎’’ طلوع اسلام ،، کےاس زیر بحث مضمون کےلیے ہمیں ان کی ضرورت بھی ہے،ارشاد ربانی ہے:
﴿ لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ (196) مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُ﴾
ليكن صاحب مضمون ,, طلوع اسلام،، کےاسی صفحہ 47 پرسورہ فاطر کی آیت 27،28 کےتحت عجائبات قدرت کا ذکر کرتےہیں ( اوران آیات سےبھی وہی مفہوم اخذ کرنےکی کوشش کی گئی ہےجوان کےمزعومہ مقصد کےمتعلق ہےجبکہ یہ آیات بھی فکرآخرت کےموضوع پردلالت کرتی ہیں چنانچہ آخر رکوع (آیت 38 )تک تمام آیات اسی فکر سےبھرپورہیں میں جنت وجہنم کا تفصیلی ذکر بھی کیا گیا ہے)-----
اور اس کےبعد’’علماء کون ہیں ؟ ،، کا عنوان قائم کرکے آیت ’ ’ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ۔،، کےتحت لکھتےہیں :
’’ آپ غور کیجئے کہ جن لوگوں کوقرآن کریم نےعلماء کہاہے، کیا وہ وہی نہیں جنہیں دورحاضر کی اصطلاح میں سائنٹسٹ کہتا جاتا ہے،،۔
صاحب ! ہم تویہ دیکھ رہےہیں کہ جوں جوں سائنسی نظریات پھیل رہےہیں ، دنیا خدا سےاسی قدر بےخوف ہوتی جارہی ہےاورخود آپ کےان علماء (سائنٹسٹ حضرات)کاحال پوچھنا چاہو توان ممالک کی معاشرتی زندگی کاایک جائزہ لےڈالو،جن میں یہ ’’علماء ،، پلے بڑھے اور جوا ن ہوئے ہیں اور جون اس وقت سائنسی علوم میں ترقی حاصل کرکے پوری دنیا کوپیچھے چھوڑ چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اس کےلیے ہمیں خود سےکوئی ثبوت پیش کرنے کی ضرورت نہیں ، آپ کےاسی ’’ طلو ع اسلام ،، کےص 34پرآپ کی اپنی عبارت موجود ہےکہ :
’’ لوط کی قوم ، پوری ، اس قسم کی شنیع حرکت کی مرتکب کیسے ہوگئی ،لیکن اب یہ بات چنداں وجہ حیرت نہیں رہی ۔قوم لوط کی سرگزشت آج سےچار ہزار سال پہلے کی دورجہالت سےمتعلق ہے ، آج اس بیسویں صدی کےزمانہ علم وبصیرت میں دنیا کی سب سےبڑی مہذب اورمتمدن قوم، برطانیہ نےوہ قانون پاس کیا ہےجس کی روسے سےلواطت ۔ ۔۔Home sex) ( Uality۔۔۔۔ کوجرائم کی فہرست سےخارج کردیا گیا ہے۔،،
اورحاشیہ میں اسی ضمن میں یہ عبارت بھی موجو ہے:
’’ امریکہ سےبھی اس قسم کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ وہاں لڑکوں (اغلام)کی باقاعدہ خریدوفروخت ہوتی ہے۔،،۔
کیا خو ب ! ؏
اس گھر کوآگ لگ گئی گھر کےچراغ سے !
آ پ ہی بتائے ،کیا ’’ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ،، کی یہی وہ تفسیر ہےجس پرآپ کوفخر ہے، جس کی طرف آپ دنیا کودعوت دےرہےہیں ، اورعناصر کائنات سےصحیح صحیح فائدہ اٹھانے کایہی وہ مفہوم ہےجواوپر آپ نےدرج کیا ہے۔ہمیں وہی آیات پڑھنے دیجئے جن سے ہم نے اپنے سلسلہ تحریر کوآگے بڑھایا ہے:
﴿ لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ (196) مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُ ﴾
چنانچہ آپ خود ہی ملاحظہ فرمالیجیے ، آپ کےان اسائنٹسٹ حضرا ت کا کیاحشر ہونےوالا ہے،؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ نے اپنے اسی مضمون کےص 52 پربخاری شریف کی چنداحادیث کامذاق اڑا کران احادیث کوماننے والوں کی توسم پرستی کا ذکر بھی کیا ہے، آپ کویہ کون بتائے کہ یورپ کی یہ ترقی یافتہ اقوام جن کا ذہنی غلامی کاآپ بُری طر ح شکار ہیں ، آج بھی اپنے گلے میں صلیب لٹکائے پھرتی ہیں !
ہم نے ابتداء مضمون میں یہ دعویٰ کیاتھا کہ یہ شخص آیاتِ قرآنی کےمختلف ٹکڑے چن کر ان کوایک خا ص ترکیب دیتا اور انہیں باہم مربوط کرکے خوشنما معانی پہنا دیتا ہےتاک من مانے مطالب اخذ کیے جاسکیں ۔ اسی دعوی کی دلیل میں ایک شاہکار ملاحظہ ہو:
صفحہ ن 60 پر﴿ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ﴾ كے تحت لکھا ہے:
’’ قرآن میں ہےہم نے اسے لیلۃالقدر میں نازل کیا۔ لیل کےمعنی رات کے ہیں لیکن اس سےمراد وہ تاریک دور بھی ہوسکتا ہےجس کےبعد سحرقرآنی کی نمود ہوئی اوردنیا کوروشنی عطا ہوئی ! ،،
اس کےبعد ’’مستقل اقدار،، کےعنوان کےتحت لفظ ’’ قدر پربحث کرتےہوئےڈارون کےنظریہ ارتقاء کی ترجمانی فرمائی ہےاورپھر صفحہ 62 پراس سورہ کی دوآیات مکمل اور تیسری آیت میں سے﴿ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ ﴾کےالفاظ گول کرکے سورہ کی پہلی آیت سے’’ مِنْ كُلِّ أَمْرٍسلٰم ، ، کاربط یوں ملایا ہےکہ’’ جس خدا نےنزول قرآن کی ابتداء ،، اقدار کی رات ،، میں کی تھی اس نے وہیں کہہ دیا تھاکہ اس کی روشنی پھیلے گی تواس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ’’ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ سلٰم ،،کائنات کےہرگوشے اورزندگی کے ہرشعبےسے سلامتی کی آوازیں وجہ فرودس گوش ہوں کی ،،۔۔۔۔۔ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ ،، ’’ تاکہ آنکہ رات کی تاریکیاں چھٹ کرساری فضا صبح کونورا نیت سےمعمول ہوجائےگی ! ،،
پہلی آیت میں’’ لیلۃ ،، کاترجمہ رات بھی کیا ہےاور’’ تاریک دور،، بھی ، اور ’’ قدر ،، سےمراد ’’ مستقل اقدار، ، لی ہیں ۔اب اگر لیلۃ اور قدر دونوں کوملا دیا جائے توترجمہ یوں بنتاہے’’ تاریک دور کےمستقل اقدار،، ! یا ’’ مستقل اقدار کاتاریک دور، ، ! ۔۔؏۔۔ کچھ نہ سمجھ خدا کرسےکوئی ! ۔۔۔۔۔۔۔۔رہا ’’لیلۃ ،، کامعنی رات ، تواس سےانہیں مطلب ہی نہیں اوراگر ہےتوغلط ۔۔۔۔۔ جس کی وضاحت آگے آرہی ہے!اب ان الفاظ پرغورفرمائیں !
’’ لیل کےمعنی رات کےہیں لیکن اس سےمراد وہ تاریک دور بھی ہوسکتا ہےجس کےبعد سحرقرآنی کی نمودہوئی ،،! ۔۔۔۔۔ لیکن قرآن تویہ فرمارہا ہےکہ :
﴿ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ﴾
’’ کہ ہم نے اس قرآن کواسی قدر والی رات میں نازل فرمایا ہے،،
لیکن دورحاضر کےعظیم مفسر ’’ اس تاریک دور کےبعد سحرِ قرآنی کی نمود، ، کےفکر میں ہیں ------------
اوراگر ’’لیلۃ ،، کےمعنی بقول ان کے’’ تاریک دور،،ہی کرلیا جائے تو﴿ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ﴾ کامعنی یوں ہوگا کہ :
’ ’ ہم نےاس قرآن کوتاریک دورمیں نازل کیاہے،،
پس اس طرح جب بات بنتی نظریہ نہ آئی اورربط ملانے پرتل ہی گئے توارشاد ہوا:
’’ جس خدا نےنزول قرآن کی ابتداء ’’ اقدار کےرات،، میں کی تھی اس نے وہیں کہہ دیا تھا کہ اس کوروشنی پھیلے گی تواس کانتیجہ یہ ہوگ کہ ’’ من کل امر سلٰم -------،!
ظاہر ہےیہ ربط اسی طر ح قائم ہوسکتا تھا جب ’’ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ،،کےالفاظ گول کردیے جاتے ۔کہ ’’ لیلۃ ،، کےمعنی ’’رات ، ، کےعلاوہ ، ’’ تاریک دور ، ، بھی وہ خود ہی کرچکے تھےورنہ صورت حال یوں ہوتی کہ:
’’ (ان کےاس ) تاریک دور کی اقدار ہزارمہینوں سےبہترہیں ، ، ! ۔۔۔۔ توبات کیا ہوئی پھر ’’ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا ،،، کےالفاظ بھی گول کرنے اس لیے ضروری تھےکہ ایک توملائکہ اورروح الامین کےنزول کےسلسلہ میں کسی ننئ تاویل کی مصیبت سامنے کھڑی تھی کیونکہ’’ ملائکہ،، کوفرشتے ،، ماننےکےلیے آپ تیار ہی نہیں ۔ دوسرے اس لیے کہ مزعومہ ترجمہ ’’ جس کےبعد سحر قرآنی کی نمود ہوئی ،، کرنےسے یہ اعتراض وارد ہوسکتاتھا کہ یہ تمام باتیں تواسی رات کی ہیں نہ کہ اس کےبعد کی ،پھر’’ ھی حتیٰ مطلع الفجر ،، کےسراسر غلط ترجمہ کےساتھ ’’من کل امرسلم ،، ۔ ( تواس کانتیجہ یہ ہوگا کہ کائنات کےہرگوشے اور زندگی کےہرشعبے سےسلامتی کی آوازیں وجہ فرددس گوش ہوں گی ، ، ) کےساتھ اس کاربط ملانا بھی ضروری تھا کہ :
’’ تاآنکہ رات کی تاریکیاں چھٹ کرساری فضا صبح کونورانیت سےمعمور ہوجائے،،!جب کہ قرآن کاصحیح مفہوم یہ ہےکہ ’سلام،، کایہ سلسلہ طلوع فجر تک جاری رہتا ہے، اور اس کےبعد ختم ! چنانچہ ’’ تتنزل الملائکۃ فیھا ،، الایۃ میں ’’فیھا،، کالفظ ان معانی پردلیل ہےلیک آپ فرماتےہیں کہ:
’’ جس کانتیجہ یہ ہوگا ،، -----اور:
’’ تاآنکہ رات کی تاریکیاں چھٹ کرساری فضا صبح کی نورانیت سےمعمورہوجائے!،،یعنی ان کےنزدیک طلوع فجر کےبعد’’ نورانیت ،، کایہ سلسلہ شروع ہوتا ہے، جبکہ قرآن اسی سلسلہ کوطلوع فجر تک محدود رکھتاہے! کیایہ قرآن کی آڑ میں قرآن ہی کی سراسر نفی نہیں -؟
آپ نےغورفرمایا ، ’’لیلۃ ،، کےمعنی پہلے’’رات،، کےکئے ہیں ،پھر اس کےامکانی معانی’’ تاریک دور،، بھی بیان کیے ہیں ، پھر اس کےبعد ’’لیلۃ القدر ،، کےترجمہ’’اقدار کی رات ،، کیا ہےاور آخرمیں پھر اس کاترجمہ ’’رات کی تاریکیاں،،کیا ہے؟---------
سوال یہ ہےکہ ’’ لیلۃ،، کاصحیح ترجمہ کیا ہے؟ صاف ظاہرہےکہ اس ڈرسےکہ کہیں آیت کااصل مفہوم واضح نہ ہوجائےپنپتیر سےیہ پنتیرا بدلا جارہاہے!
اصل بات یہ ہےکہ یہ سارےپاپڑ انہیں اس لیے بھی بیلنے پڑےہیں کہ ’’مستقل اقدار،، کےعنوان کےتحت ڈارون کےنظر یہ ارتقاء کی ترجمانی ہوسکے۔چنانچہ ’’لیلۃ،،کےمعنی ’’تاریک دور،، کرکے انسان کےپہلے حیوان بتایا گیا۔۔۔۔ پھر’’ اقدار،، کےسلسلہ میں ایک فضول سی بحث کرکےانسان کوحیوانیت سےانسانیت کےمقام پرسرفراز کیاگیا -------لیکن ؏
اندھے کواندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی
والی بات ہے------ اس سورہ میں خبر تو’’لیلۃ القد،، میں ’’نزول قرآن ،، کی دی جارہی ہے لیکن آ ں جناب مقام حیوانیت سےمقام انسانیت پرنزول انسانی کی خبر دینا چاہہےہیں تاکہ قرآن ہی سےایک انتہائی گندے اوربودےعقیدے کی ترجمانی بھی ہوسکےاورعلمیت کارعب جتا کہ خلق خدا کوگمراہ بھی کیاجاسکے۔العیاز بااللہ !
تاہم خدا کاشکر ہےکہ اس مقام پرپہنچ کرانہوں نےاپنےموضوع’’قرآن اورسائنس،، کو معاف کردیا ہےاوریہ اعتراف کیاہےکہ :
’’ یہ نورانیت سب سےپہلے ’’ محمد رسول اللہ والذین معہ ،، میں وجہ تابانی عالم ہوئی تھی جس سےزندگی کےتاریک سےتاریک ترگوشے چمک اٹھے تھے! ،،
لیکن ہمیں اس اعتراف یہ بھی رحم آتاہے اس لیے کہ ہماری یاداشت اس قدر کمزورنہیں ، سوال یہ ہےکہ محمد رسول اللہ اور ’’ والذین معہ ،، کادرو آپ کےنزدیک اگر نورانیت کا دور ہےتوان لوگوں نےسائنسی علوم میں کس قدر ترقی کی تھی ؟ ----
جبکہ آپ کےنزدیک اصل علماء ’’ سائنٹسٹ ،، ہیں تو’’ والذین معہ ،، کوتوان سےبھی بڑے ’سائنٹسٹ ،، ہونا چاہیے تھا ؟ -------اور ذرایہ بھی بتادیجیے کہ آپ نےاب تک اس سلسلہ میں کون ساتیر مارا ہے؟
دراصل یہ بھی ایک فریب ہے، کہ اگر’’ والذین معہ ،، سےیہ ظاہرعقیدت کااظہارنہ کیا جائے اوران کےدور کی نورانیت کوتسلیم نہ کیا جائے تومسلمانوں کوفریب دینے کےلیے ان کےپاس اورباقی بھی کیارہ جاتاہے؟ ورنہ کو نہیں جانتا کہ یہ حضرت اپنےمذموم مقاصد کی تکمیل کی راہ میں جس چیز کوسب سےبڑی رکاوٹ سمجتےہیں اور جس سے یہ انتہائی ’’ الرجک ،، ہیں ، وہ انہی ’’ والذین معہ ،، کےمنہ سے ہمہ وقت جھڑنے والے’’ قال اللہ وقال الرسول ،، کےپھول ہیں اور جن سےان کوخدا واسطےکابیرہے---------اپنے اسی مضمون میں ’’طلوع اسلام ،، کےصفحہ 51،52 پرانہوں نےجامع ترمذی کی ایک اوربخاری شریف کی تین روایات کاان الفاظ میں مذاق اڑایاہے :
’’ اگر یہ وضعی روایات احادیث کےمجموعوں میں ہی محفوط رہتیں توبھی ان توہم پرستیوں کادارہ محدود رہتا لیکن اس کےبعد یہ عقیدہ وضع کیاگیا کہ قرآن مجید کی بھی وہی تفسیر قابل اعتماد ہےجونبی اکرم ﷺ نےارشاد فرمائی ہےاوریہ وہ تفسیر ہےجو ان روایات کی بنیادوں پرمرتب ہوتی ہے۔ یہ تفسیر کس قسم کی ہوتی ہے، میں اس کاصرف ایک نمونہ پیش کرنےپراکتفا کروں گا!،،
۔۔۔۔۔۔۔ اوراس کےبعد تفسیر ابن کثیر کی ایک روایت کاتمسخر اڑایا ہے---ہم ان مذکورہ احادیث اورابن کثیر کی اس روایت پرتوکسی آئندہ مجلس میں گفتگوکریں گےکہ بات پہلے ہی کافی طویل ہوچکی ہےاورمزید طوالت کےلیے’’ فکرونکر، ، کےیہ صفحات متحمل نہیں ہوسکتے۔۔۔۔ فی الحال ’’ والذین معہ ،، سےان حضرات کی عقیدت کی داستان سنئے :
صفحہ 5 پر ’’ يخرجونهم من النور الى الظلمات ،، کےتحت لکھتےہیں :
’’ اس کےبرعکس طاغوتی طاقتوں کایہ حربہ بتایا تھاکہ وہ انہیں روشنی سےتاریکی کی طرف لےجائیں گی ! ----------- ان قوتوں نے یہی جربہ استعمال کیااوراس لیے انہیں کوئی دشواری پیش نہ آئی ۔انہوں نےکچھ روایات وضع کیں اورانہیں احادیث رسول اللہ کےنام سےمشہور کردیا اور ا ن کےمتعلق عقیدہ یہ وضع کردیا کہ ان کےانکار سےمسلمان دائرہ اسلام سےخارج ہوجاتاہے،، !
ہمیں یہ تسلیم کہ وضعی روایات کاوجود بھی اس دنیا میں پایا جاتاہےلیکن بخاری شریف کے’’ اصح الکتب بعد کتاب ا للہ ،، ہونے پرامت مسلمہ کااتفاق ہےجس کی روایات کوآپ نےنشانہ ستم بنایا ہے۔
آخر یہ تسلیم کرن کی بھی توکوئی تک نہیں ،کہ پوری امت مسلمہ سےصرف آپ اورصرف آپ کے’’ سرسیداعلی اللہ مقامہ ،، ہی قرآن کاصحیح مفہوم اخذ کرپائے ہیں اورپوری امت مسلمہ میں صر ف آپ جودونوں ہی سچے مسلمان پائے جاتےہیں ،اورآپ کےمقابلے میں ’’قرآن مجید کی وہ تفسیر بھی قابل اعتماد نہیں جونبی اکرمﷺنے ارشاد فرمائی ہے، ، کہ اس کےقابل اعتماد ہونے کاعقیدہ آپ کےنزدیک وضعی ہے--------- بخاری شریف کی روایات انہی صحابہ (’’ والذین معہ ،،) کےذریعہ ہم تک پہنچی ہیں ،جن کوآپ طاغوتی طاقتیں قرار دےرہےہیں اور اپنی تفسیر کےذریعہ ہم تک پہنچی ہیں ، جن کوآپ طاغوتی طاقتیں قرار دےرہےہیں اوراپنی تفسیر کےمقابلے میں رسول ا للہ کی تفسیر کی بھی ناقابل اعتماد سمجھ رہےہیں --------- لعنة اللہ علی الکاذبین !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قارئین ، یہ ہیں اس شخص کےعقائد جن کاایک مختصر ساجائزہ ہم نے آپ کےسامنے پیش کیاہے-----ہم داشگاف الفاظ میں کہتےہیں کہ یہ شخص گستاخ رسول بھی ہے،گستاخ صحابہ بھی ، گستاخ قرآن بھی ہےاورگستاخ فرمان رسو ل ﷺ بھی ----خود اس کےاپنے نام کےساتھ ’’پرویز ،، کالاحقہ اس کی رسول دشمنی کامنہ بولتا ثبوت ہے۔اپنے تیئں مفسر عظیم ہونےکا دعواے کرنے والے اس شخص کوشائد یہ بھی معلوم نہیں کہ ’’پرویز،، غلام احمد نہیں ’’ گستاخ احمد،، تھا جس کےحضور ﷺ کانامہ مبارک چاک کردیا تھا ----- پس اگر قادیانی ’’ ختم نبوت ،، سےانکار ی ہوکرغیرمسلم ہیں توبہ جواسلام کےدائرہ میں پائی جانےوالی ہرچیز کاانکار کرکےایک نیا اسلام طلوع کررہاہےاورجس کاثبوت اس کی اپنی ڈھیروں کتابیں ہیں ،------یہ کہاں کا مسلمان ہےاوراسے اسلام کےخلاف کےخلاف زہراگلنے کےکھلی چھٹی کیوں دی جاچکی ہے؟ --- کیا اس لیے کہ یہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کےلیے’’قرآنی نظام ربوبیت ،، کانام استعمال کرتاہے، ہم مطالبہ کرتےہیں کہ خدا تعالیٰ ، رسول للہ،قرآن مجید ، حدیث رسول ﷺ ، اصحاب رسول اللہ حتیٰ کہ پورے اسلام کےخلاف زہراگلنے والی اس زبان کوخاموش کیاجائے، اس کی کتاب کوضبط کرلیا جائےاوراسے دائرہ اسلام سےخارج قرار دیا جائے !
وما علینا الا الاالبلاغ !