ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

  • ستمبر
1982
اکرام اللہ ساجد
ایک شخص کئی سال سے قلعہ اسلام پر، اسلام ہی کےحصار میں رہ کر،مسلسل گولہ باری کر رہا ہے۔
’’ طلوع اسلام ،، کےنام پرغروب آفتاب اسلام اس کی زندگی کی سب سےبڑی تمنا ہے- وہ قرآن کاسہارا لےکر قرآن سےکھیلتا ، حدیث کی آڑ میں حدیث پرحملہ آور ہوتا ، صحابہ سےمحبت جتلا کر انہی کامذاق اڑاتا، دین کی پناہ حاصل کرکےدین کی بنیادیں ہلاتا ، اشتراکیت کی مذمت کرکےاشتراکیت ہی کا پرچارکرتا، مادیت پرستی سےدشمنی ظاہر کرکے مادیت کی راہ ہموار کرتا، مادیت اور روحانیت کےدرمیان بظاہر قرآنی راہ اعتدال کاحوالہ دے کرشریعت سےبیزاری کااظہار کرتا، سائنس کےنام پرعلماء دین کورگیدتا ، سائنسی علوم کےمقابلے میں علوم دین کو ہیچ سمجھتا ، تاریخ کومسخ کرتا ،آخرت کا تصوّر دلوں سےمحوکرتااورشعاراسلام کی علی الاعلان تضحیک کرتا ہے۔ اتنا شاطر، اتنا چالاک ، اس قدر ذہین لیکن اسی قدر بدباطن کہ آیات قرآنی کےمختلف ٹکڑے چنتا ، ان کوایک خاص ترتیب دےکراس خوبی سےان کوباہم مربوط کرتا اور اُن کوخوش نما معانی پہنا کرمن مانے مطالب اخذکرتا ہے
  • ستمبر
1982
عزیز زبیدی
ايك گائے میں سات عقیقے

برج جیوسے خاں (ساہیوال ) سےایک صاحب پوچھتےہیں کہ : 
جسے کہ قربانی کی گائے میں سات آدمی قربانی کرسکتےہیں یعنی سات گھروں کی طرف سے قربانی ہوتی ہے، کیاایسے ہی ایک گائے میں سات عقیقے بھی ہوسکتےہیں ؟
الجواب :
عقیقہ کوخلیل اللہ والی قربانی پرقیاس کرنامناسب نہیں ہے،دونوں کاپس منظر، دونوں کی زمین اور دونوں کاخصوصی ماحول اورفضا ایک دوسرے سےکافی مختلف ہیں ----- اس لیے قربانی کاطرح عقیقہ کےلیے ،مثلا گائے میں سات حصےکی تجویز درست نہیں ہے۔ 
اونٹ اورگائے میں جودس یاسات حصے ہیں وہ سرکےمقابلے میں نہیں ہیں ۔بلکہ ایک کنبہ اورگھر کےمقابلے میں کافی ہوتےہیں ۔ خواہ اس گھر میں پندرہ افراد ہوں ۔اگرعقیقہ میں اس طرح کےدس یاسات حصوں کی تخلیق کریں گےتووہ مولوی صاحب بھی جواب دئےجائیں گےجوان حصوں کےقائل ہیں ۔
  • ستمبر
1982
عبدالرحمن عاجز
مرقد پہ اُن کےآج کوئی نوحہ خواں نہیں !
اے صانع ِ ازل تری صنعت کہاں نہیں !       ہےکونسا جہاں تراجلوہ جہاں نہیں
یہ اضطرابِ شوق یہ رعب جمال دوست            میری زباں بھی آج مری ترجمان نہیں
سوز ِ غم فراقِ مسلسل کےباوجود                                                                                                                                                                           آنگھوں میں کوئی اشک ،زباں پرنغاں نہیں
  • ستمبر
1982
امام ابن تیمیہ
زیر نظرمضمون شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کےایک عربی رسالہ ’’النصرطغاة سورية او العلويون كما سماهم الفرنسيون ،،  کااردو ترجمہ ہے۔ 
یہ رسالہ آٹھوس صدی ہجری میں لکھا گیا تھا لیکن خوبی ملاحظہ ہو، یوں معلوم ہوتاہےکہ سوریا کےسرکش فرقے نصیریہ ،، کےمتعلق آج ہی لکھا گیا ہے------مصروغیرہ میں یہ رسالہ متعدد مرتبہ چھپ چکا ہے: 
دراصل یہ ایک استفتاء ہےجس میں نصیری فرقہ سےمتعلق چند سوالات علامہ شیخ شہاب الدین احمد بن محمد مری الشافعی نےاٹھائے تھےاورجن کےجوابات شیخ الاسلام اما م اہلسنت تقی الدین احمد بن عبدلحلیم بن عبدالسلام بن تیمیہ الدمشقی ﷫نےتحریر فرمائے تھے۔
  • ستمبر
1982
عبدالرشید عراقی
جامع صحیح کامقصد ومقصود اعظم : 
                عام نظروں میں امام بخاری ﷫ صرف محدث ہیں اورمحدثین کےمتعلق یہ سمجھ لیاگیا ہےکہ یہ بیچارے صرف جامع ہیں ۔فقہ واستدلال سےان کاکوئی لگاؤ نہیں بلکہ حدیث کا جامع ہونا کچھ ایساعیب سمجھا جاتاہےکہ اس کےساتھ فقہ واستدلال کی خوبیاں بالکل جمع نہیں ہوپاتیں ۔(علوم حدیث میں کم مائیگی کوچھپانے کےلیے یہ کتنی اچھوتی توجیہ ہے؟) یہی وجہ ہےکہ ان لوگوں نےمحدثین کرام کےعطاراورفقہائے کرام کوطبیب (جانچ پڑتال کرنےوالے) کہہ کر اپنی کمزوریوں کوچھپانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ان سب لوگوں کےلیے صحیح بخاری کامطالعہ بہترین جواب ہے۔