میں نے جمعہ کی پہلی اذان کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ اذان خلیفہ راشد حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں شروع ہوئی تھی۔پھر اُس کے جواز پر اجماع ہوگیا۔ میرا یہ جواب دیگر سوالوں کے جواب کے ساتھ ہفت روزہ "الاعتصام" لاہور کی اشاعت 6اکتوبر 1989ء میں شائع ہوا تھا۔جس پر"الاعتصام" کے اسی شمارے میں حافظ صلاح الدین یوسف صاحب نے تعاقب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ مطلقاً جواز محل نظر ہے۔چنانچہ انہوں نے بعد اذان"الاعتصام" کے مسلسل چاروں شماروں میں مولانا عبیداللہ عضیف صاحب کا ایک تفصیلی مضمون شائع کیاجو چار قسطوں میں مکمل ہوا۔اسی بناء پر میں چند نکتوں کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں۔لیکن بطور تمہید یہ عرض کردوں کہ جمعہ کی پہلی اذان جس پر عمل دور صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین سے آج تک شائع اور ذائع ہے۔ان مسائل سے نہیں جسے بدعت قرار دے کر ختم کرنے کی ضرورت ہو بلکہ اس کے بالمقابل جو قصبوں ،دہیاتوں،اور شہروں میں جگہ جگہ جمعوں کی تعدد کو بنیاد بنا کر یہ کہاجاتا ہے کہ ایسی صورت میں پہلی اذان کی ضرورت ہی نہیں رہتی وہ محل نظر ہے۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جمعہ کے لئے مسجدوں کی یہ بھر مار نہ تھی۔بلکہ جمعہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی ہوتا تھا۔

آج اس سنت کے احیاء کی ضرورت ہے تاکہ لاؤڈاسپیکر کی آوازوں کا باہمی ٹکراؤ اور شور کم ہوکر مسلمانوں کی اجماعیت مستحکم ہو۔

اس ابتدائی بات کے بعد اصل مسئلہ کی وضاحت کے لئے چند نکات پیش کرتے ہیں:

1۔کیا جمعہ کی پہلی اذان شرعی ضرورت تھی یا انتظامی تدبیر؟

2۔کیامقام زوراء پر اس اذان کاہونا غیر شرعی ہونے کی بناء پر تھا؟

3۔یہ اذان کیوں عام ہوئی نیز کیا اس کی ضرورت ختم ہوچکی ہے؟

4۔خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین کی سنت کا سنت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تعلق ہے؟

5۔بعض ائمہؒ کا اس کو بدعت کہنا کیا مفہوم رکھتا ہے؟

تفصیل:۔

1۔جمعہ کی پہلی اذان کے ختم کرنے والوں کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جمعہ کےلئے پہلی اذان کے اضافے کی اصل وجہ کا تعین ٹھیک طورسے نہیں کرسکے۔اس لئے وہ اسے کبھی انتظامی تدبیر قرار دیتے ہیں کبھی مقامی اورکبھی ہنگامی ضرورت۔حالانکہ یہ کوئی مقامی یا ہنگامی مسئلہ نہیں تھا۔بلکہ شرع میں اس کی مثال پہلے بھی موجود تھی۔وہی اس کے مطابق جواز کی دلیل ہے۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب آپصلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کےلئے نیند سے بیداری کے بعد تیاری کی ضرورت محسوس کی تو صبح کی اصل اذان سے قبل ایک اذان کا اضافہ کردیا۔جو حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ دیا کرتے تھے۔ اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب لوگوں کی آبادی بڑھ جانے کی بناء پر یہ ضرورت محسوس کی کہ جمعہ اصل اذان سے قبل تیاری کے لئے ایک مزید اذان کی ضرورت ہے۔تو انھوں نے پہلی اذان کا اضافہ کردیا۔جس سے بڑا مقصد یہی تھا کہ نمازی خطبہ شروع ہونے سے قبل جمعہ کی مبارک گھڑیوں کا ثواب حاصل کرسکیں۔جن کی صراحت صحیح احادیث میں موجود ہے۔

بعض علماء نے اس کے شرعی ہونے کا اصل یہ بھی قرار دیا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس اذان کو دیگر نمازوں کی اذان پرقیاس کیا تھا۔جیسے تمام نمازوں کی اذان نماز کھڑی ہونے سے کچھ دیر پہلے ہوتی ہے۔اسی طرح جمعے کا خطبہ جو نماز کے قائم مقام ہے سے کچھ دیر قبل اذان مناسب سمجھی۔لہذا انھوں نے اسے عام نمازوں کی اذان پر ہی قیاس کرکے اس کے شرعی ہونے کی دلیل پیش کی ہے۔بہرصورت وجہ کچھ بھی ہو اس کے لئے شرعی دلیل موجود ہے۔اس لئے یہ اذان مشروع ہے۔

2۔جیسا کہ ذکر کی گیا ہے کہ عثمانی اذان شرعی دلیل کی بنیاد پر ہی شروع کی گئی تھی۔چنانچہ اس اذان کا مقام زوراء پرمسجد سے دور ہونا کوئی شرعی حیثیت نہیں رکھتا۔اذان کا اصل مقصد اطلاع دینا ہوتا ہے۔جہاں سے اطلاع کا اصل مقصد پورا ہوسکے۔وہی مقام اس کےلئے موزوں ہوتا ہے۔

خود مولانا عبیداللہ عفیف صاحب اپنے مضمون کی تیسری قسط میں"تیسرا العلام" کے حوالے سے ایسی توجیہ پیش کرچکے ہیں۔جو حدیث ابو داؤد سے بھی ثابت ہے۔کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ صبح کی اذان مسجد سے باہر بنی نجار کی ایک عورت کے مکان پر دیاکرتے تھے۔جو نسبتاً بلند تھا۔چونکہ زوراء مدینہ کی اس وقت مارکیٹ پر تھا۔اس لئے کاروبار میں مصروف لوگوں کو تیاری کے لئے اطلاع دینے کی ضرورت بھی وہاں زیادہ تھی۔جس سے بازار کی قریب آبادی کو بھی اطلاع مل جاتی تھی۔لہذا اس بات کی کوئی زیادہ اہمیت نہیں کہ مقام ذوراء مسجد نبوی سے کتنے فاصلے پر تھا؟ مولانا موصوف نے مدینہ منورہ کے مشہور قاضی شیخ عطیہ محمد سالم کے حوالے سے اس کا مقام متعین کرنے کی جو کوشش فرمائی ہے۔ا س کا اصل مسئلہ سے خاص تعلق نہیں میں نے آج سے تقریباً بیس سال قبل یہ جگہ دیکھی تھی جوباب المصری کے دائیں جانب بازار سے جانب مغرب تھی۔اسوقت وہاں مسجد فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا موجود تھی۔ جس سے چند گز دور مالک بن سنان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مدفن بھی تھا۔شیخ عطیہ مسجد فاطمہ نز قبرمالک بن سنان کو مقام زواراء بتاتے ہیں آج کل یہ دونوں جگہیں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی توسیع میں شامل ہوچکی ہیںَ

شیخ موصوف میرے مدینہ منورہ میں حصول تعلیم اور میرے محترم اساتذہ میں سے تھے۔وہ خود بھی عثمان اذان کی مشروعیت کے قائل ہیں۔اس کا ذکر انہوں نے اپنے استاد شیخ محمد امین شنقیطیؒ(جن کے تلمذ کا مجھے شرف حاصل ہے)کی تفسیر"اضواء البیان" کی تکمیل کرتے ہوئے اس کی آٹھویں جلد صفحہ 266 میں صراحتاً کیا ہے۔میں اپن زیر بحث فتویٰ میں اپنے اُستاذ مکرم حضرت حافظ عبداللہ محدث روپڑی ؒ کے حوالے سے بھی تائید پیش کرچکا ہوں کہ اذان سے مقصد بزریعہ توحیدی کلمات اعلا ن ہی ہے۔اس میں بازار یا دو سری جگہ کی خصوصیت کا کوئی دخل نہیں۔شان نزول کی طرح سبب حدیث کے اصولوں میں یہ بات مسلمہ ہے کہ خاص جگہ یا اشخاص میں شریعت محدود نہیں ہوا کرتی۔"العبرة بعموم اللفظ لا بخصوص السيب"

3۔چونکہ عثمانی اذان کا سبب شرعی تھا۔مسلمانوں کا پھیلاؤ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ اور اُس کے بعد برابر زیادہ ہی ہوتا رہا ہے۔اس لئے اس اذان پر عمل بھی برابر جاری رہا۔اس کو امام زہری ؒ نے"فثبت الامر على ذلك" سے روایت کیا ہے۔جس کا مفہوم واضح ہے۔کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس عمل کا سلسلہ بعد کے زمانوں میں بھی چلتا رہا۔اور اس پررواج قائم رہا۔ابن ابی زئب ؒ جن کوورع وتقویٰ کے اعتبار سے امام احمد بن حنبل ؒ نے امام مالک ؒ پر بھی مقدم سمجھا ہے نے اس اذان کے بارے میں "فثبت الامر على ذلك حتى الساعة" کے الفاظ بھی ذکر کئے ہیں۔یعنی اُن کے زمانےتک یہ عمل قائم تھا۔ان کبار ائمہ کی الفاظ حدیث کی ایسی روایتوں کے بعد ان الفاظ کا مفہوم یہ بتانا کہ یہ اذان صرف امام ابو داؤدؒ وغیرہ کے زمانہ میں عام ہوئی کبار ائمہ کو فہم حدیث میں تلقین کے مترادف ہے۔

ادارہ "الاعتصام" مولانا عبیداللہ عفیف صاحب کی تائید سے گھڑیوں ،لاؤڈ سپیکروں کی موجودگی اور مساجد کی کثرت کی وجہ سے جو اس ضرورت کو اب اہمیت نہیں دے رہا تو یہ بنیاد بھی درست نہیں۔کیونکہ ضرورت صرف نماز کے وقت کی اطلاع دینے کی نہیں ہوتی۔بلکہ نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے وقت سے پہلے تیاری کے لئے خبردار کرنے کی بھی ہے۔

ہم اوپر صبح کی پہلی اذان کے بارے میں یہی توجیہ پیش کرچکے ہیں جو اسی طرح نماز کے وقت سے پہلے ہوتی تھی۔

وقت سے پہلےنماز یا خطبہ کی تیاری وقتی اور ہنگامی ضرورت نہیں ہے۔بلکہ ایک مستقل ضرورت ہے ۔اسی لئے اس عمل پر اعتراض صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کے زمانہ میں ہوا اور نہ بعد میں اس کی مذمت کسی نے کبھی اس وجہ سے کی۔مولانا عبیداللہ عفیف بھی دلائل تو اس کے بدعت قرار دینے کے پیش کرتے ہیں۔لیکن دبے لفظوں ضرورت کی بناء پر جواز عمل تسلیم کرتے ہیں۔

4۔ہفت روزہ الاعتصام نے اپنے تعاقب کی چوتھی قسط میں خدشات کے زیر عنوان خلفائے راشدین کی سنت کی بحث کاجس انداز سے سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے معارض ہونے کا ذکر کیا ہے نامناسب ہے ابتداء ہی سے خلفائے راشدین کے طرز عمل کو سنت سے ٹکرانا اور اسے غلط بتانا درست طریق کار نہیں ۔جبکہ دیگر صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین سے اس پر نکیر بھی وارد نہ ہوئی ہو۔اگر خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین کا طرز عمل سنت سے انحراف کا ہوتو حدیث میں اس پر سنت کا اطلاق بھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے نہ صرف سنت کا لفظ بولا بلکہ اسے مضبوطی سے اختیار کرنے کی تلقین بھی فرمائی۔"عليكم بسنتى وسنة الخلفاء الراشدين.... الحديث" الحدیث)اس کاواضح مفہوم یہ ہے کہ خلفائے راشدین کا طریقہ اللہ کے رسول کی سنتوں کے مختلف پہلوؤں ہی کی وضاحت ہوتا ہے۔اس لئے دونوں کے بظاہر مختلف نظر آنے پر پہلی صورت دونوں کو جمع کرنے کی اختیار کرنی چاہیے۔جو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان میں بوجوہ موجود ہے۔ان کے طرز عمل کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے طریقے ک ساتھ اسی لئے جمع کیا کہ وہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب ہونے کے منصب سے دین اور اُس کے مختلف پہلوؤں کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں۔لہذا ان کے بارے میں دین میں تبدیلیاں کرنا یا بگاڑ کاتصور اتنا آسان نہیں ۔خصوصاً جمعہ کی پہلی اذان جیسا مسئلہ میں جس پر نہ صرف صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اعتراض نہیں کیا۔بلکہ رواج اس پر پختہ ہوا۔البتہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے خلفائے راشدین کی کسی رائے کے اتفاق کی کوئی صورت ممکن نہ ہوتو بلاشبہ شریعت صرف سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہوگی۔کیونکہ خلفائے راشدین کو شریعت میں اضافہ کی اجازت نہیں۔لیکن جس بات کی دلیل شریعت میں موجود ہو وہ شریعت میں تبدیلی یا اضافہ نہیں ہوتی۔جیسا کہ اذان عثمانی کے بارے میں اوپرواضح ہوچکا۔ایسی چیزوں کےبارے میں ہی سنت خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین کالفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ورنہ اگر ہر بات جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود ہو وہی سنت ہوتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنت کے ساتھ خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین کی سنت کو اختیا ر کرنے کا حکم ہی کیوں فرمایا؟

واضح ہے کہ وہ ایک الگ فعل ہوگا لیکن دلیل شرعی کے تحت آجانے کی وجہ سے سنت رسول کا تتمہ ہوتا ہے۔

5۔الاعتصام کو اذان عثمانی کے بارے بعض ائمہ کے لفظ بدعۃ یا محدث سے غلط فہمی ہوتی ہے کہ یہ شاید اُن کے نزدیک اصطلاحی بدعت کی مذموم شکل ہے حالانکہ ائمہ ایسی نئی صورتوں کو بھی لفظ محدث ہی سے تعبیرکرتے ہیں ۔جن کی شکل نئی ہو خواہ اس کی دلیل شریعت میں موجود ہو۔

چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عثمانی اذان کو بدعت کہنا اسی معنی میں ہے جس معنی میں اُن کے والد عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باجماعت تراویح کو "نعمت البدعة" کہا تھا۔یہ بدعت کالغوی معنی میں استعمال ہے۔جس طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تراویح کو باجماعت صورت میں رواج دیا۔اسی معنی میں اُن کے بیتے عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان عثمانی کے رواج کو بدعت سے تعبیر کیا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں خلیفہ راشد رضوان اللہ عنھم اجمعین ہیں۔ اور اسی حیثیت میں اُن کا طرز عمل شرعی ہونے کی بناء پر قابل اطاعت ہے۔باقی رہا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کوفے میں عمل کہ انھوں نے عثمانی اذان کو چھوڑ دیاتھا تو یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔کوئی بھی حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان کے وجوب کا قائل نہیں۔لیکن اس سے عثمانی اذان کاغیر مشروع ہونا لازم نہیں آتا۔ممکن ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں کوفے کے علاوہ دیگر علاقوں میں عثمانی اذان کو باقی رکھ کر خود اس پر عمل صرف کوفہ میں اس لئے چھوڑدیا ہو کہ کوفے والوں کا رجحان بنو امیہ کی مخالفت کاتھا۔ظاہر ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بنو امیہ میں سے تھے۔اورانہی کی ہمدردی سے شام وغیرہ میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفہ والوں کے خلاف برسرپیکار تھے۔ایسی مصلحتیں مباحات میں اختیار کرنا کسی کے نزدیک معیوب نہیں۔ بہر صورت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وسیع مملکت میں صرف کوفہ میں ایک اذان پر اکتفاء عثمانی اذان کی غیرمشروعیت کی دلیل نہیں بن سکتا۔بالخصوص جب کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس اذان کی زبانی مخالفت نہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں ثابت ہے نہ اُن کے بعد۔یہی توجیہ اگرسامنے رہے تو بعض سلف مثلا حسن بصری ؒ۔زہریؒ۔اورامام شافعیؒ وغیرہ کی آراء کی وجہ بھی معلوم ہوجاتی ہے کہ یہ تینوں بھی اہلبیت کے ہمدردوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔لیکن ان میں سے کسی نے بھی عثمانی اذان کو غیر شرعی نہیں کہا۔مزید وضاحت مضمون کی طوالت کا باعث ہوگی۔

ہماری مذکورہ بالا گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ عثمانی اذان کے رواج کےخلاف تگ ودود کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ایک جائز امر جس کے جواز پر اجماع امت موجود ہو احیائے سنت کی سرگرمیوں کے دوران رکاوٹ نہیں بن سکتا۔اگرچہ بعض مخصوص علاقوں میں جب بعض لوگوں نے اپنی بدعات کو سہارا دینے کے لئے اذان عثمانی سے استدلال کی کوشش کی تو بعض اہل علم نے اس مصلحت سے اذان عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چھوڑ کر جمعہ کی ایک اذان پراکتفاء کرنے کو ترجیح بھی دی۔برصغیرپا ک وہند کے بعض علماء اور مصر وشام کے شیخ احمد محمد شاکر ؒ اور شیخ محمد ناصر الدین البانی وغیرہ کی توضیحات سے بھی یہ مقصود ہے۔واللہ اعلم بالصواب
حوالہ جات

1۔اس بارے میں میرا تفصیلی مضمون الاعتصام کے 29 ستمبر 1989ء کے شمارہ میں شائع ہوچکا ہے۔اور اس کا خلاصہ 6 اکتوبر 1989ء کے شمارہ میں عثمانی اذان کے ساتھ دیگر مسئلہ کے جواب میں دوبارہ پیش کردیاگیا تھا۔

2۔فتح الباری جلد 2 ص 394 ملاحظہ ہو۔

3۔فتح الباری جلد 2 ص394۔

4۔ فتح الباری جلد 2 ص394