صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اللہ تعالیٰ کی کتاب پاک کو بسم اللہ سے ہی شروع کیا تھا۔سب علماء کا اس بات پراتفاق ہے۔کہ بسم اللہ سورہ نمل کی ایک آیت ہے۔ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سورت کا دوسری سورت سے فرق نہ پہچانتے تھے ۔حتیٰ کہ بسم اللہ اُترتی۔ابوداؤد نے اسے صحیح اسناد سے ر وایت کیا ہے۔یہ روایت مستدرک حاکم میں بھی آئی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ بسم اللہ قرآن مجید کی ہر سورت کے آغاذ میں ایک مستقل آیت ہے جب کوئی آدمی قرآن مجید کی کوئی سورت پڑھے نماز یا تلاوت میں تو لازم ہے کہ پہلے بسم اللہ پڑھے۔

اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سورہ فاتحہ کے آغاذ میں بسم اللہ پڑھی ہے۔اور اس کو فاتحہ کی ایک آیت سمجھا ہے اسے ابن خزیمہ ؒ نے روایت کیا ہے۔اور یہ روایت ضعیف ہے ایک جماعت صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین وتابعین ؒ کا بھی یہی قول ہے کہ سورہ براۃ کے سوا ہر سورت کی ایک مستقل آیت ہے۔

امام شافعی ؒ اور امام احمد ؒ کا یہی مذہب ہے امام مالک ؒاور امام ابو حنیفہؒ بسم اللہ کو کسی سورۃ کی آیت تسلیم نہیں کرتے ۔لیکن پہلا قول ہی زیادہ قوی تر اور صحیح تر ہے۔سو اس بنیاد پر جب سورۃفاتحہ اونچی آواز (بالجہر) سے پڑھےتو بسم اللہ بھی اونچی آواز سے پڑھے۔صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین وتابعینؒ ائمہ مسلمین سلف اور خلف میں سے ایک گروہ کا یہی مذہب ہے۔

خطیب ؒ نے کہا ہے کہ "بسم اللہ" کو چاروں خلفاء اُونچی آواز سے پڑھتے تھے۔مگر یہ روایت غریب ہے۔ابن کثیر ؒ اُن صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین وتابعین ؒ کے نام لکھے ہیں ۔جواُونچی آواز سے بسم اللہ پڑھتے تھے پھر یہ کہا کہ جب بسم اللہ سورہ فاتحہ کا جذو ٹھہرے تو اُسے اُونچی آواز سے پڑھنا بھی چاہیے۔حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز پڑھائی۔اور اُونچی آواز سے "بسم اللہ" پڑھی۔نماز سے فارغ ہو کر یہ فرمایا میں تمھارے مقابلےمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے بہت زیادہ مشابہت رکھتا ہوں۔اسے ابن خزیمہ ؒ نسائی ؒ ابن حبانؒ اورحاکمؒ نے روایت کیا ہے۔دارقطنی ؒ خطیب ؒ اور بیہقیؒ نے صحیح کہا ہے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً آیا ہے کہ رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُونچی آواز سے پڑھتے تھے۔اس کو حاکم ؒ نے صحیح کہا ہے۔

صحیح بخاری میں انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اُن سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرات کے بارے میں پوچھا۔انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرائت کھینچ کر کرتے تھے۔پھر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر بتایا کہ بسم اللہ کو یوں کھینچتے۔الرحمٰن کو یوں اورالرحیم کو یوں۔

ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قرائت الگ الگ پڑھتے تھے۔دارقطنی ؒ نے کہا یہ اسناد صحیح ہیں۔یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر آیت پر وقف کرتے تھے۔ایک کو دوسری سے نہ ملاتے۔بعض لوگ جو رحیم کی میم کو الحمد کی الف لام سے کسی عمل وغیرہ کےلئے ملا کر پڑھنا بتاتے ہیں یہ تو سنت صحیحہ کے خلاف ہے۔ ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے بلکہ قرائت کا علیحدہ علیحدہ ہوناضروری ہے۔

ابن کثیر ؒ نے لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہؒ امام مالک ؒ اور امام احمدؒ کا یہ مذہب ہے کہ بسم اللہ نماز میں اُونچی آواز سے نہ پڑھی جائے۔لیکن اگر کوئی اُونچی آواز سے پڑھتا ہے تو اُس کو نماز کو یہ بھی صحیح قراردیتے ہیں۔

فتح البیان میں ہے کہ ترک بسم اللہ حدیثیں اگرچہ صحیح تر ہیں لیکن اثبات کی حدیثوں کو ترجیح حاصل ہے کیونکہ مخرج صحیح سے آیا ہے اس لئے اسی کا اختیار کرنا اولیٰ ہے۔خصوصاً جبکہ ترک کی تاویل ممکن ہے ۔یہ تاویل اس بات کی متقاضی ہے کہ "بسم اللہ فی نفسہ قرآن کاجزو ثابت ہے۔ اور وصفاً بھی ثابت ہے۔یعنی جس سورت کے شروع میں آئی ہے اُس کے ساتھ اس کو بھی اُونچی آواز سے پڑھنا چاہیے۔حاصل کلام یہ ہے کہ بسم اللہ سورۃفاتحہ کی ایک آیت سے اور قرآن کی ہر سورت کی بھی اور اس کی تلاوت کے لیے اونچی یاہلکی آواز سے پڑھنے کا وہی حکم ہے جو سورۃفاتحہ کا ہے۔جہاں کہیں سورہ فاتحہ کو اُونچی آواز سے پڑھے وہاں بسم اللہ کو بھی اُونچی آواز سے پڑھے اور جہاں سورہ فاتحہ کو چپکے پڑھے ۔وہاں بسم اللہ کو بھی آہستی پڑھے۔اس ترکیب سے سب روایتیں جمع ہوجاتی ہیں۔اختلاف مٹ جاتا ہے۔ اتفاق ہاتھ آتا ہے۔

فضائل بسم اللہ:

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں۔عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بسم اللہ کے بارے میں سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے بسم اللہ اور اسم اعظم کے درمیان ایسا ہی قریب ہے جیسے دونوں آنکھوں کی سیاہی اور سفیدی میں ہے اس کو ا بن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں روایت کیا ہے ابن مردودیہ ؒ نے ایک دوسری ر وایت سے بھی اسے بیان کیا ہے۔

ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں جو کوئی یہ چاہتا ہے کہ اللہ اُسے اُنیس زبانیہ جہنم سے بچائے تو وہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھے۔اُس کا ہر حرف ایک زبانیہ(جہنم) کا سپر بن جائے گا۔

قرطبیؒ نے بھی اس کو روایت کیا۔ابن عطیہ ؒ نے اس دلیل سے اس کی تائید کی ہے کہ ایک آدمی نے "بسم الله الرحمن الرحيم" کہا تھا۔تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میں نے تیس سے کچھ اوپرفرشتوں کو دیکھا کہ وہ ان کلمات کو لینے میں لپک رہے ہیں۔کیونکہ ان کلمات کے تیس سے کچھ اوپر حروف بنتے ہیں۔

ابو تیمیہؒ ایک سواری پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار تھے۔سواری کر ٹھوکر لگی تو ابو تیمیہؒ نے کہا"ربنا لك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه" (خداکرے کے شیطان مرے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،"یہ نہ کہو کہ وہ ان کلمات سےبڑا ہوجاتا ہے۔مارے خوشی کے پھول جاتا ہے۔اور کہتا ہے کہ میں نے اسے اپنی قوت سے پچھاڑ دیا (اس حالت میں بسم اللہ کہو کہ بسم اللہ کے کہنے سے وہ مکھھی کے برابر چھوٹا ہوجاتا ہے۔"اسے امام احمدؒ نے روایت کیا ہے۔جاری