عوامی نمائندگی کے بعض قوانین میں اصلاحات کی تجاویز

مورخہ 16 اکتوبر 1989ء کو وفاقی شرعی عدالت پاکستان نے بعض انتخابی قوانین کے بارے میں ایک اہم فیصلے کا اعلان کیا ہے۔جس کی رو سے صدر مملکت کو آئین پاکستان کی دفعہ 63۔اور63 کی اساس پر عوانی نمائندگی کے قانون مجریہ 1976ء کی دفعات 13۔14۔49۔50۔52۔اوردفعہ 38 (4)(سی) (11) میں 31دسمبر 1989ء تک بعض ترامیم کی تجویز پیش کی گئی ہے۔اسی طرح ایوان ہائے پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے حکم مجریہ 1977ء میں بھی مذکورہ تاریخ تک ترمیم کرنا ہوگی۔یہ فیصلہ عدالت ہذا ک پانچ ججوں پرمشتمل فل بنچ نے متفقہ طور پرکیا ہے جس کی تفصیلات اخبارات وجرائد میں آچکی ہیں۔لہذا ہم اس کے دو خاص نقات ک ذکر پر اکتفاء کرتے ہیں۔

1۔آئین میں عوانی نمائندگی کے لئے اہلیت یا نااہلی کی جولازمی شرائط بیان کی گئی تھیں۔مذکورہ قوانین اورانتخابی مشینری کاطریق کار قرآن وسنت کی روشنی میں اس کے مطابق نہیں ہے۔لہذا مخالف امید واروں کے علاوہ عام ووٹروں کو بھی اسے چیلنج کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔جس کے لئے یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ مقررہ اہلیت کو جانچنے پرکھنے کے لئے اسکریننگ کمیٹی یا معززین کے ٹریبونل کی صورت میں ایک اعلیٰ فورم تشکیل دیا جائے۔جو شہادتوں کے بعد ناہلیت کا فیصلہ دے سکے۔اس طرح کی تبدیلی سے عوام کو احتساب کا حق حاصل ہوجائے گا۔

2۔مذکورہ قوانین کی بعض دفعات میں امیدوار کو انتخابی اخراجات کے لئے جو سرمائے کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔ وہ رکنیت یا اقتدار کے حصول پر دھاندلیوں کی بنیاد بنتی ہے۔لہذا اس کا رخ یوں تبدیل ہونا چاہیے کہ مزدوری اخراجات حکومت کے متعلقہ ادارے یاامیدوار کے حمایتی ہی کریں۔

وفاقی شرعی عدالت جس کی تشکیل واختیارات آئین کے باب 3 الف میں تفصیلی بیان کئے گئے ہیں۔گزشتہ حکومت کا ایک اہم کارنامہ گرداناجاتا ہے۔تاہم اس سلسلے کی قانونی الجھنوں کو ماہرین ہی صحیح طور پر جانتے اور سمجھتے ہیں ۔لہذا اس فیصلے کے روشن پہلوؤں کے ساتھ ساتھ بے لاگ تبصرہ میں جو خلاء سامنے لائے جاسکتے ہیں۔فی الوقت ان کی تفصیل پیش کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کا احساس خود فاضل عدالت کو بھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ انھوں نے فیصلے کی ابتداء ہی میں دو نکتے اپنے اختیارات اور دستور پاکستان کی اسلامی بنیاد کے بارے میں واضح کردیتے ہیں۔لہذا اس فیصلے کے اثرات کی امید اسی تناظر میں رکھنی چاہیے۔

وفاقی شرعی عدالت کے اختیارات میں دیگر تحفظات کے علاوہ اہم ترین بات یہ ہے کہ مذکورہ عدالت ملک کے ہر دستوری دفعہ اور قانون کو قرآن وسنت کے احکامات کی روشنی میں نہیں پر کھ سکتی بلکہ قانونی ڈھانچہ دستور کے علاوہ اقتصادی نظام جو مالیاتی قوانین سےتشکیل پاتا ہے۔عدالت کے اختیارات سے باہر ہے۔گویا پاکستان میں سیکولر وضعی دستور اورسرمایہ دارانہ نظام نہ صرف مستحکم بنیادوں پرہی قائم رہےگا۔بلکہ انصاف کے حصول کے بناوٹی طریقے جنھیں قوانین ضابطہ کہاجاتا ہے۔بھی پوری طرح محفوظ ہیں۔باقی رہا دستور 1973ء کا اسلام کے مطابق ہوتا تو اس سلسلے میں قرارداد مقاصد کا دستور کے دیباچے سے متن دستور میں دفعہ 2الف کی صورت درج ہوکر مؤثر ہونا یا اقرار کی دستور پربالادستی کا مسئلہ تو اس کے بارے میں عوامی خوش فہمی تو بہت ہے۔مگر فاضل عدالت نے اپنے فیصلہ کے ابتدائی فقرہ نمبر 5 میں ہی اس کی اصل حیثیت کی طرف اشارہ کردیا ہے۔چنانچہ اس بنیاد پر دستوری دفعات کو قرآن وسنت کی روشنی میں دیکھنے سے معزوری ظاہر کردی ہے۔کیونکہ عدالت کی نظر میں یہ بات غیر یقینی ہے کہ یہ دفعہ عدالت کے ذریعہ قابل نفاذ ہے۔

ہم جنرل ضیاء الحق مرحوم ہوں یالیاقت علی خاں دونوں حکمرانوں کے دور کے اسلامی اقدامات مثلاً وفاقی شرعی عدالت کی تشکیل اور قرار داد مقاصد کی منظوری کے بڑے قدردران ہیں۔بالخصوص اول الذکر نے مجموعی طور پر سارے نظام ملکی کو ہی اسلامی رخ پر ڈالنے کی ایک پُرزور کوشش بھی کی بلکہ قرار داد مقاصد کو کسی حد تک قابل اعتناء بنانے کا سہرا بھی اسی کے سر ہے۔کہ صدارتی حکم 14 (1985) کی ر و سے اسے اصل آئین کا حصہ بنادیا ہے۔

اسی طرح وہ اسلام پسند جو سیکولر جمہوریت کو مختلف طریقوں سے مسلمان بنانے کی مساعی کررہے ہیں۔کی بھی فی الجملہ ہم تائید کرتے ہیں۔جن کا ایک حصہ اعلیٰ عدالتوں میں سود وٹیکس کے غیر اسلامی قرار دلانے کی رٹوں کے علاوہ وفاقی شرعی عدالت میں سیاسی نظام کی اصلاح کے لئے تگ ودود بھی ہے کیونکہ ان کی کم از کم اس کا رخیر سے تو مشابہت ہے جس طرح حضرت ابراہیمؑ کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے پرندے چونچوں میں پانی لا کر کررہے تھے ۔تاہم اس کے مطلوبہ اثرات نکلنے کے بلند بانگ دعوے خدا نہ کرے۔کہ ایک سراب ثابت ہوں۔کیونکہ پاکستان کے سیاسی ومالیاتی نظام میں اسلام کی پیوند کاری کا طرز عمل جو ایک عرصہ سے ہم نے اسلام پسندی کی خواہش کی تکمیل کے لئیے اپنا یا ہوا ہے۔اس کی نتیجہ خیرہی کا پول اس وقت کھلتا ہے جب وہ ہمارے سیکولر نظام کے اداروں کے زیرعمل انجام پاتا ہے۔در اصل ہماری غلطی یہ ہے کہ ہم نے لادین جمہوریت اور خلافت علی منہاج النبوۃ کا فرق یہ سمجھ لیا ہے۔کہ اس بے خدا نظام میں اشخاص وادارے ظاہری اسلامی صفات کے پابند ہوجائیں۔تو دور حاضر کی خلافت راشدہ کی طرف پیش قدمی ہوسکتی ہے۔حالانکہ ہمارے ارکان پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کو اسلامی خلافت میں شوری اور نمائندگی کے تصورات سے کوئی نسبت ہی نہیں۔کیونکہ جمہوریت کا نظام پارلیمان اور خلافت کی شوریٰ تصور نمائندگی سے لے کر اشخاص کی اہلیت تک بنیادی طور پر متضاد ہیں۔مثلاً جمہوریت میں جس طرح علاقہ بندی اور ووٹروں کے حلقوں سے ملک کو تقسیم کرکے قومی سطح کے نمائندے چند میل کے حلقہ ہی سے چن لئے جاتے ہیں۔اس بات سے قطع نظر کہ وہ حقیقی طور پر اس حلقہ کی اکثریت کے بھی نمائندے ہوتے بھی ہیں یا ایسے ہی ہیرا پھیری اور خصوصی پروپیگنڈے سے انہیں اکثریت کی حمایت حاصل کرنے والا باور کرایا جاتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ چند میل کے حلقہ سے منتخب ہونے والوں کو پورے ملک کی نمائندگی کا کیسے اہل قرار دیا جاسکتا ہے؟جبکہ اسلام میں مخصوص حلقہ کی بجائے پوری ملت کا اعتماد حاصل ہونا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں علاقہ انتظامی یونٹ تو ہوتا ہے حلقہ نمائندگی نہیں ہوسکتا۔چنانچہ خلافت کی شوریٰ حلقوں کی نمائندہ نہیں ہوتی ملت کی معتمد ہوتی ہے۔خواہ وہ نمائندے ایک ہی جگہ کے مکین کیوں نہ ہوں کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کی شوریٰ میں اعلیٰ دین حیثیت کے حامل ملی خدمات میں پیش پیش اشخاص ہی اہمیت نہ رکھتے تھے ۔یہ اشخاص عموماً مرکزی مقام کے ہوتے تھے جبکہ کچھ دیگر اہم افراد مرکز میں ہی آباد ہوجاتے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلیفہ کے انتخاب کے لئے نامزد شوریٰ کے چھ افراد کی اس کے علاوہ کیا حیثیت تھی کہ وہ اعلیٰ ملت خدمات کی بدولت دنیاوی زندگی میں ہی جنت کی بشارت پاچکے تھے۔اسی طرح قبل ازیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اپنی نامزدگی برائے خلافت پر بھی کوئی اعتراض نہ ہوا تھا۔لیکن اگر امیرمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یزید کو نامزد کریں تو طوفان کھڑا ہوجاتا ہے۔فرق وہی تھا کہ جن کی علمی خدمات اور دینی حیثیت مسلمہ تھی ان کی نامزدگی بھی قبول لیکن جس یزید کو یہ حیثیت حاصل نہ تھی۔اس کے لئے امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اعتماد حاصل کرنے کی کوششیں بھی مذموم قرار پاتی رہیں۔اسلام اورجمہوریت کے فرق کی اس ایک مثال سے ہم اس طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں۔کہ اصل مسئلہ نمائندگان کے صرف اوصاف کا نہیں بلکہ جوہری فرق نظام کا ہے۔جمہوری نظام میں موثر کردار کثرت تعداد QUANTITYکا ہوتا ہے۔جب کہ اسلام میں قابلیت QUALITYا عتماد کا سبب بنتی ہے۔جمہوریت میں جس قابلیت (اوصاف) کی خواہش کی جارہی ہے وہ مروجہ طریقوں سے کبھی حاصل نہیں ہوسکتی۔خواہ کتنی ہی تدابیر اس کے لئے اختیار کرلی جائیں۔

حاصل یہ ہے کہ ہماری نظر میں عوامی نمائندگان کے لئے آئین میں دیئے گئے اوصاف صرف دکھانے کے دانت ہیں۔کھانے کے نہیں۔لہذا ان کو عملی شکل دینے کے لئے چند قوانین کی تبدیلی سے بھی مقصود حاصل نہ ہوسکے گا۔تاہم موجودہ جمہوریت پرستی کی شدت اور اس میں اولیٰ تبدیلی بھی ناقابل برداشت جیسی ناموافق فضا میں وفاقی شرعی عدالت کا یہ فیصلہ جرات مندانہ ہے۔اور قابل مبارک باد بھی۔

اسی طرح ایسی قانونی تبدیلیوں سے انقلابی اصلاحات کی امیدیں رکھنے والوں کی نیک خواہش کی تکمیل کے لئے ہم بھی دعا گو ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ سب کے نیک مقاصد پورے فرمائے اور ان کے لئے ایسی مساعی کو بھی صحیح راہ پرگامزن فرمائے۔آمین