جو اپنی جاں کی بازی لگائے
تعجب کیا اگر وہ جیت جا ئے!
اُنھیں سے ہم نے رنج و غم اُٹھا ئے
کہ جن کے غم میں دل و جا ن گھلائے
مقدر کا لکھا ہو کر رہے گا
مقدر کو نہ کو ئی آزمائے
شہ گنج گراں ماسیہ وہی ہے
رہ حق میں جو جان و دل لٹائے
نظر منزل پہ جس انساں کی ہے
سمجھتا ہے وہ دنیا کو سرائے
بس اتنا ہے فسانہ زندگی کا !
کبھی روئے کبھی ہم مسکرائے
مال سر خوشی وہ رنگ لا یا !
کہ ہم نے خون کے آنسو بہائے
وہ دنیا کے لیے ہے وجہ برکت
جو دنیا کی برا ئی کو مٹائے
یہ ہے سچے مسلمان کی علامت
ہو دشمن بھی تو اس کے کا م آئے ۔