امام ابو محمد عبداللہ کا شمارممتاز محدثین کرام میں ہوتا ہے۔قدرت نے ان کو غیر معمولی حفظ وضبط کا ملکہ عطا کیا تھا۔ارباب سیر اورائمہ حق نے اُن کی جلالت ۔قدر۔اورعظمت کا اعتراف کیا ہے۔امام ابو بکر خطیب بغدادی (م643ھ) لکھتے ہیں کہ:
"امام  دارمی ؒ ان علمائے اعلام اور حفاظ حدیث میں سے ایک تھے جو احادیث کے حفظ وجمع کے لئے مشہور تھے۔"[1]
امام دارمی ؒ کی ثقاہت وعدالت کے بھی علمائے فن اور ارباب کمال معترف ہیں۔حافظ ابن حجرؒ (م852ھ) نے تہذیب التہذیب میں امام ابو حاتم رازی ؒ (م264ھ) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ "دارمی ؒ سب سے زیادہ ثقہ وثابت تھے۔"[2]
امام دارمیؒ احادیث کی معرفت وتمیز میں بھی بہت مشہور تھے۔روایت کی طرح درایت میں بھی اُن کا مقام بہت بلند تھا۔ ر وایت اوردرایت میں اُن کی واقفیت غیر معمولی اور نظر بڑی وسیع اور گہری تھی۔[3] امام دارمی ؒ صرف جلیل القدر محدث ہی نہ تھے۔بلکہ دوسرے علوم اسلامی میں بھی انھیں کامل دستگاہ حاصل تھی۔فقہ وتفسیر میں بھی یگانہ تھے۔حافظ ابن حجرؒ عسقلانی (م852ھ) لکھتے ہیں کہ:
"امام ابو محمد عبداللہ دارمی ؒ باکمال مفسر اورعظیم فقیہ تھے۔ان فنون میں ان کی تصنیفات ملتی ہیں۔اور فقہ میں اُن کے مجتہدانہ کمالات کا ثبوت ان کی سنن سے ملتاہے۔"[4]
حکمت ودانائی اور عقل وفراست سے بھی خاص طور پر بہرہ ور تھے۔خطیب بغدادی ؒ (م643ھ) لکھتے ہیں:
"وكان على  غاية العقل ونهاية الفضل"[5]
یعنی وہ نہایت عاقل وفاضل شخص تھے۔"
علامہ شمس الدین ذہبی ؒ (م748ھ) لکھتے ہیں کہ:
"دارمی اپنی متانت اور دانشمندی کے لئے مشہور تھے۔"[6]
امام دارمیؒ جہاں ایک بلند پایہ محدث ۔مفسر۔فقیہ۔صاحب عقل ودانش وصاحب بصیرت وفراست تھے۔وہاں آپ بہت بڑے عابد ۔زاہد۔اور مرُتاض بھی تھے۔ہمہ تن عبادت الٰہی میں مصروف رہتے تھے۔ورع اورتقویٰ کے اعتبار سے بہت بلند تھے ارباب سیر نے اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔"[7]
امام دارمی ؒ کا سب سے برا علمی کارنامہ حدیث وسنت کی مدافعت ہے  آپ نے اپنی ساری زندگی توحید وسنت کی اشاعت اوراُس کی حمایت ومدافعت میں بسر کردی۔آپ نے مخالفین حدیث کا مقابلہ کرکے اُن کا زورتوڑ دیا۔اور احادیث کے متعلق شکوک وشبہات واعتراضات کا جواب اور کذب دروغ کی آمیزشوں سے ان کو پاک کرکے عوام وخاص سب کے دلوں میں ان کی عظمت واہمیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بٹھادی۔اس طرح  مختلف طریقوں سے انھوں نے علم حدیث وآثار کو فروغ بخشا۔حافظ ابو العجاج مزی (م 742ھ) لکھتے ہیں کہ :
"امام دارمی ؒ نے اپنے وطن سمر قند میں حدیث وسنت کا بول بالا کرکے لوگوں کو اس کی جانب مائل اور مخالفین حدیث کا قلع قمع کردیا تھا۔"[8]
امام دارمی ؒ کے فقہی مسلک کی تصریح کتابوں میں موجود نہیں۔لیکن ان کی سنن یہ معلوم ہوتا ہے کہ عام محدثین کرام کی طرح وہ کسی ایک امام کے مسلک سے وابستہ نہ تھے۔بلکہ اپنے اجتہاد وتفقہ کے مطابق حدیث وقرآن کی پیروی کرتے تھے۔[9]
علمی خدمات:
امام ابو محمد عبداللہ دارمی ؒ نے کئی ایک علمی وتحقیقی کتابیں لکھیں ایک ان کی کتاب "کتاب التفسیر" ہے اور ایک دوسری تضعیف کتاب الجامع ہے۔جس کے بارے میں ارباب سیر لکھتے ہیں کہ یہ فقہ واحکام سے متعلق تھی۔[10]

فرقہ جہمیہ کی تردید میں آ پ کی کئی ایک کتابیں تھیں[11]۔علامہ سیوطی ؒ (م911ھ) نے آپ کی کئی ایک تصانیف کا ذکر کیا ہے۔[12]

سنن دارمیؒ:

سنن دارمی ؒ امام دارمی ؒ کی سب سے مشہور اور معروف کتاب ہے۔صحاح ستہ کے بعد حدیث کی جو کتابیں سب سے زیادہ اہم اور مستند سمجھی جاتی ہیں۔ان میں سنن دارمی کا شمار بھی ہوتا ہے۔

حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی (م1052ھ) لکھتے ہیں:

"کتاب اوازاحسن کتب حدیث است۔"[13]

اس کی اہمیت کی بناء پر محدثین کرام نے اس کی حدیثوں کو قابل احتجاج اور لائق استدلال خیال کیا ہے۔سنن دارمی کی احادیث مشکواۃ المصابیح میں آتی ہیں۔حضرت شاہ ولی اللہ ؒ دہلوی (م1176ھ) نے سنن دارمی کو  حدیث کے تیسرے طبقہ میں شمار کیا ہے۔[14]

سنن دارمی گوناگوں خصوصیات کی حامل ہے۔اس کی سندیں نہایت عالی اور بلند پایہ ہیں۔[15]

یہ اگرچہ حدیث کی کتاب ہے۔لیکن اس میں فقہی مسائل ومباحث اور اُن کے متعلق فقہاء کے اختلافات ودلائل بھی بیان کئے گئے ہیں۔اس کے علاوہ  صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  وتابعین ؒ کے آثار وفتاویٰ بھی درج کئے گئے ہیں۔

سنن دارمی 35فصول اور 1408 ابواب پر مشتمل ہے۔[16]

1286ھ میں حضرت محی السنۃ والاجاہ امیر الملک مولانا سید نواب صدیق حسن خاں ؒ قنوجی رئیس بھوپال (م1307ھ) حج بیت اللہ کے لئے تشریف لے گئے۔تو آ پ کو وہاں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (م1176ھ) کے ذخیرہ کتب میں سنن دارمی کا ایک نسخہ دستیاب ہوا۔

حضر ت نواب صاحب مرحوم ومغفورنے یہ نسخہ نقل کرلیا۔یہی نسخہ 1293ھ میں مولانا عبدالرشید بن محمد شاہ کشمیری مرحوم نے دو اور نسخوں کی مدد سے تصیح و مقابلہ کے بعد اور اس پر مختصر حواشی تحریر کرکے مطبع نظامی کان پور سے شائع کیا۔مولانا عبدالرشید صاحب نے حواشی میں دوسرے نسخوں سے اس کا فرق بھی ظاہر کیا ہے۔مشکل الفاظ اعراب اسماء الرجال اور بلاد واماکن کی مختصر وضاحت بھی کی ہے۔شروع میں ایک علمی وتحقیقی اور جامع مقدمہ بھی تحریر کیا ہے جس میں سنت وحدیث کی اہمیت محدثین کی عظمت کتب حدیث کی اقسام اور امام دارمی ؒ کے حالات وسوانح اور سنن دارمی کی عظمت واہمیت پرروشنی ڈالی ہے۔[17]

امام دارمیؒ:

181ھ میں خراسان کے شہر سمر قند میں پیدا ہوئے۔عبداللہ نام کنیت ابو محمد تھی۔قبیلہ تمیم کی ایک شاخ دارم سے نسبی تعلق تھا۔اس کی نسبت سے دارمی کہلائے۔[18]

امام دارمی ؒ نے جن نامور علمائے کرام ومحدثین عظام سے استفادہ کیا خطیب بغدادی (م643ھ) نے اس کا  تفصیل سے تاریخ بغداد میں ذکر کیا ہے۔[19]

امام دارمی ؒ کے تلامذہ کی فہرست بھی طویل ہے۔بڑ ے بڑے نامور محدثین کرام اور آئمہ فن اُن کے شاگرد تھے۔امام ابن ماجہ(م273ھ) کے علاوہ دوسرے تمام ائمہ صحاح ستہ  یعنی محمد بن اسماعیل بخاری ؒ(م256ھ)امام مسلم بن حجاجؒ(م261ھ) امام ابوداؤد سجستانی ؒ(م275ھ) امام ابو عیسیٰ ترمذیؒ(م279ھ) اور امام ابو عبدالرحمٰن احمد بن شعیب نسائیؒ(م303ھ) کو ان سے تلمذ کاشرف حاصل ہے۔امام مسلمؒ ابو  داؤد ؒ اور ترمذیؒ نے اپنی کتابوں میں اُن کے مرویات بھی درج کئے ہیں۔[20]

امام دارمیؒ نے 75 سا ل کی عمر میں سمرقند میں 8زی الحجۃ 255ھ کوانتقال کیا۔اورسمرقند میں ہی دفن ہوئے۔امام محمد بن اسماعیل بخاری ؒ(م256ھ) نے جب آپ کے انتقال کی خبر سنی تو فرط غم سے سر جھکا کر انا اللہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے

[1] ۔ابو بکر خطیب بغدادی تاریخ بغداد ج10 ص29۔



[2] ۔ابن حجر عسقلانی تہذیب التہذیب ج5 ص296۔



[3] ۔شمس الدین ذہبی تذکرۃ الحفاظ ج2 ص116۔



[4] ۔ابن حجرؒعسقلانی تہذیب التہذیب ج5 ص295۔



[5] ۔ابو بکر خطیب بغدادی تاریخ بغداد ج10 ص29۔



[6] ۔شمس الدین ذہبی ؒ  تذکرۃ الحفاظ ج2ص 116۔



[7] ۔خطیب بغدادی تاریخ بغداد ج10 ص29۔



[8] ۔ابو العجاج مزی تہذیب الکمال ص204۔



[9] ۔ضیاء الدین اصلاحی تذکرۃ المحدثین ج1ص 193۔



[10] ۔ابن القیم اعلام الموقعین ج2ص 563۔



[11] ۔احمد حسن دہلوی حاشیہ تنقیح الرواۃ ص6۔



[12] ۔سیوطی تدریب الراوی ص57۔



[13] ۔شاہ عبدالحق دہلوی اکمال شرح مشکواۃ ص12۔



[14] ۔شاہ  ولی اللہ دہلوی حجۃ اللہ البالغہ ج1 ص 121۔



[15] ۔ولی الدین خطیب تبریزی مقدمہ مشکواۃ ص15۔



[16] ۔ضیاء الدین اصلاحی تذکرۃ المحدثین ج1 ص 195۔



[17] ۔ضیاء الدین اصلاحی تذکرۃ المحدثین ج1 ص 199۔



[18] ۔ابن حجر عسقلانیؒ ۔تہذیب  التہذیب ج5 ص294۔



[19] ۔خطیب بغدادی ،تاریخ بغدادج10ص29۔



[20] ۔ابن حجر عسقلانی ۔تہذیب التہذیب ج5 ص 292۔ابن العماد البغلی شذرات الذہب ج2 ص130۔شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی بستان المحدثین ص43۔