حضرت طفیل بن عمر ودوسی رضی اللہ عنہ

وہ مشہور شاعر بھی تھے اور قبیلے کے سردار بھی!دونوں ہی باتیں ایسی تھیں کہ ان کا بڑا مان تھا۔مان بھی ایسا کہ دور دور کے لوگ انھیں ہاتھوں ہاتھ لیتے۔اور عزت سے بٹھاتے تھے۔یہ جنوب کے رہنے والے تھے یعنی علاقہ یمن کے لیکن جب بھی مکہ جاتے اُن کی بڑی آؤ بھگت ہوتی۔سینکڑوں میل دور سے یہ اس زمانے میں مکہ جاتے جب وہاں بتوں کی یاترا ہوتی اس موقع پر قبیلے قبیلے کے لوگ دیکھنے میں آتے بھانت بھانت کی بولیا سننے میں آتیں ساتھ ہی خاصہ لین دین بھی ہوجاتا کوئی بڑا آدمی ہوتا کسی قبیلے کا سردار تو اس موقو پر اس کی بڑی عزت کی جاتی۔اُس زمانے میں چونکہ شاعروں کی کچھ زیادہ ہی عزت تھی۔اس لئے ایسے لوگ اور بھی زیادہ عزت کے مستحق سمجھے جاتے جو شعر کہتے اور شعر کی خوبیوں کو پرکھ سکتے تھے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت ڈیڑھ سو سے زیادہ مرداورعورتیں مسلمان ہوچکیں تھیں۔اور اعلان نبوت کو چھ سال سے کچھ زیادہ ہی کا عرصہ گزر چکا تھا۔حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ایمان لاچکے تھے۔یہ وہ زمانہ ہے جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ معظمہ کی قریبی آبادیوں میں تبلیغ کے لئے اکثر تشریف لے جایا کرتے تھے۔

خاص طور پرمیلوں ٹھیلوں کے موقع پر یا تریوں سے ضرور ہی خطاب فرماتے۔اُدھر مکہ کے مشرک بھی ہربات پرنظر رکھتے تھے۔جہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جاتے وہاں یہ لوگ بھی پہنچ جاتے۔اور اپنے پروپیگنڈے کی مہم تیز سے تیز ترکر دیتے۔کبھی ابو لہب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پیچھے پیچھے دُھول اڑاتا آجاتا کبھی خضر بن حارث ان یاترا پر آنے والوں کے پاس پہنچ جاتا۔خضرحیرہ کا رہنے والا تھا۔فارس کے علاقے میں بھی رہ چکا تھا۔مختلف قوموں کی عبادت کے طریقے بھی دیکھ چکا تھا۔اس لئے کہتا کہ۔جب تم لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنتے ہوتو میری بھی سنو!میں کہاں اُن سے کم ہوں۔کبھی ایک عیسائی غلام جبر کا نام لے کر دشمنان دین پروپیگنڈہ کرتے کہ یہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے کلام کے نام سے آیتیں سناتے ہیں۔اورپچھلی قوموں کی تاریخ سنا کر عذاب الٰہی سے ڈراتے ہیں یہ ساری گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔جو انھیں جبر بتاتا ہے۔یہ پروپیگنڈہ حد سے بڑھ گیا تو وہ آیتیں نازل ہوئیں جن کا مطلب ہے۔۔۔" اور ہم جانتے ہیں کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ایک شخص آپ کو آیات قرآنی کی تعلیم دیتا ہے لیکن جس کی جانب یہ لوگ اشارہ کرتے ہیں اُس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ(قرآن) صاف عربی زبان میں ہے۔

اسی زمانے میں یاترا کے لئے طفیل بن عمرودوسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ پہنچے۔وہی جن کے ساتھ 7ہجری میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور قبیلہ دوس کے اسی آدمی ایمان لے آئے۔ان بزرگوں نے خیبر جا کراسلام قبول کیاتھا کیونکہ اُس زمانے میں خیبر کی لڑائی ہو رہی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہیں ٹھہرے ہوئے تھے۔

طفیل بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ پہنچے ہی تھے کہ کچھ لوگ اُن کے پاس آئے۔آتے ہی مسافر کوپکڑا اور بولے کہ۔۔۔آپ کے بھلے کی بات کہتے ہیں مانیں یا نہ مانیں آپ کی مرضی!یہاں ایک صاحب نے ہم میں پھوٹ ڈال رکھی ہے۔ہم لوگ ان سے بہت تنگ ہیں۔اُن کی زبان میں کچھ ایسا جادو ہے اور باتوں میں ایسی تاثیر کے اپنے کام کے لئے وہ باپ بیٹے میں اور بھائی بھائی میں اور ماں بیٹی میں جدائی ڈال دیتے ہیں۔شوہر کو بیوی سے چھڑا دیتے ہیں۔اُن کے گُنوں کی کیاتعریف کریں بس یہ سمجھ لیجئے کہ اُن سے دور رہنے میں عافیت ہی ہے۔کانوں میں اُن کی آواز پڑی نہیں کہ خیالات بگڑے نہیں۔آپ ہمارے معزز مہمان اور بڑے مرتبے والے آدمی ہیں اس لئے آپ کو خبر دار کردینا ہمارا فریضہ ہے۔آگے آپ کی مرضی!یہ ٹولہ ولید بن مغیرہ کے مشورے پر کام کررہا تھا۔ولید بن مغیرہ سرداران قریش کا سربراہ تھا۔اور ابو جہل کا چچا۔دونوں چچا بھتیجے اسلام دشمنی میں اندھے ہوگئے تھے۔

طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بڑا دوستانہ مشورہ دیا گیا تھا کہ نہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملیں نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کریں۔وہ ان لوگوں کے کہنے میں آگئے۔بلکہ اس حد تک ڈر گئے کہ کہیں سے روئی لے کرجلدی سے اپنے کانوں میں ٹھونس لی کہ کوئی ایسی ویسی بات کان میں نہ پڑ جائے۔اور پُورا اہتمام کیاکہ نبی برحق کے سائے سے بھی بچیں۔

ہونے والی بات تو ہوکر رہتی ہے۔اللہ کا کرنا کیاہوا کہ ایک دن کانوں میں روئی ٹھونسنے حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حرم کعبہ کی طرف سے گزر رہے تھے کہ دیکھا کہ وہی ذات بابرکات جس سے ملنے سے روکا گیا تھا سامنے تھی۔حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم اُس و قت خانہ کعبہ میں نمازپڑھ رہے تھے۔طفیلرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چوری چھپے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور بار بار دیکھا۔ان کے دل نے کہا۔۔۔یہ آفتاب ماہتاب چہرہ کسی بُرے آدمی کا ہو نہیں سکتا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایمان لانے کے بعد سے اب مسلمان گھاٹیوں میں چھپ کر یا گھروں میں رہ کر نماز نہ پڑھتے بلکہ اب کھلے عام عبادت کرنے لگے تھے۔قدرت کے ڈھنگ نرالے ہوتے ہیں۔نہ کوئی احتیاط دوسی سردار کے کام آئی نہ کانوںمیں ٹھسی ہوئی روئی۔اس آواز کو روک سکی جو برحق تھی۔آتے جاتے طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کان میں کچھ آیتیں پڑھ گئیں ۔جن کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تلاوت فرمارہے تھے۔اللہ کا کلام سنتے ہی اُن کے قدم رک گئے قدم کیا ر ُکے دل بے قابو ہوگیا۔اُنھوں نے سوچا۔۔۔یہ بھی خوب رہی کہ میں کانوں میں روئی ٹھونسے پھر رہا ہوں حالانکہ میں خودشاعر ہوں شعر کی خوبی کوپرکھ سکتا ہوں۔اچھے بُرے کلام کی پہچان ہے۔آخر میں یہ کلام کیوں نہ سنوں جسے کلام حق کہا جاتا ہے؟کوئی خوبی ہوگی تو داد دوں گا۔انصاف کا تقاضا یہی ہے ورنہ میرا کیا بگڑتا ہے۔بغیر کسی توجہ کے آگے بڑھ جاؤں گا۔خوب سوچ کر انھوں نے کانوں سے روئی پھینک دی اور وہاں کھڑے دھیان سے کلام اللہ کی آیتیں سنتے رہے۔خداکی دین ہے جس کو نصیب ہوجائے۔دوسی سردار کا دل ایسا بدلا کہ کچھ اور سننے کے لئے تڑپنے لگا۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ختم کرکے چلے تو پیچھے پیچھے طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی چلے۔کاشائنہ نبوت پر پہنچے تو مشرکین کی ساری گفتگو سنا کربولے۔۔۔اب آپ مجھےدین حق کی باتیں بتائیں! میں غور سے آپ کی ایک ایک بات سنوں گا۔افسوس کہ میں کافروں کی باتوں میں آگیا!اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی تڑپ دیکھی تو دین حق کی باتیں سنائیں۔حضرت طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرجھکائے ادب وعقیدت سے ایک ایک بات سنتے رہے ۔باتیں ختم ہوئیں تو بولے۔۔۔اللہ کا شکر ہے کہ میں کفر کے دامسے بچ گیا آپ کا دست حق پرست عطا ہو تو ایمان لے آؤں!

حضرت طفیل بن عمرودوسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایمان لے آئے تو بولے۔۔۔یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! خدا نے اپنی مہربانی سے مجھے اپنے قبیلے کاسردار بنایا ہے۔اب اگر اجازت ہوتو میں وطن جا کر اپنے لوگوں کو اللہ کا پیغام سناؤں!سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت مرحمت فرمائی اور دعائیں سے کر رخصت کیا۔

گھر سے نکلے تو طفیل بت پرست تھے گھر پہنچے تو خدا پرست تھے ۔اپنے قلعے میں قدم رکھنے بھی نہ پائے تھے کہ باپ دوڑے دوڑے آئے۔ہونہار بیٹا دور کےسفر سے آیا تھا ۔گلے لگانا چاہتے تھے۔بیٹا خود بھی قدم بوسی کے لئے نے چین تھا لیکن اب زہن کی کیفیت کچھ بدلی ہوئی تھی۔حضرت طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ چلا کر بولے۔۔۔حضرت والا اب آپ مجھ سے زرا دور رہیں!باپ نے بڑی حیرت سے پوچھا۔۔۔بیٹا! کیا بات ہے ؟بیٹے نے کہا۔۔۔آپ کے اور میرے درمیان ایک بہت بڑی دیوار حائل ہوگئی ہے۔باپ نے پوچھا۔وہ کون سی!بیتے نے کہا۔۔۔بت پرستی کی ! میں تو مکے سے مسلمان ہوکر لوٹا ہوں!بیٹا بڑا قابل اور چہیتا بیٹا تھا۔باپ نے دین حق کی کچھ باتیں سنیں۔پھر سوچا ایسا اچھا بیٹا تو گمراہ نہیں ہوسکتا۔اس لئے بے اختیار باپ نے کہا۔۔۔بیٹا جو دین تمہارا وہی دین میرا!باپ مسلمان ہوگئے تو حضرت طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بڑی خوشی ہوئی۔گھر میں خدا کا نور پھیلنے لگا تھا۔اب شریک حیات کا نمبر تھا۔نیک دل بی بی نے شوہرسے کہا۔۔۔جو کچھ آپ نے طے کیا ہے وہ یقیناً بہتر ہوگا میں بھی آج سے ایمان لے آئی!

جوکامیابی حضرت طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے گھر میں ہوئی وہ قبیلے میں نہ ہوسکی۔لوگوں نے اپنا دین چھوڑنے سے انکار کردیا جب اُنھوں نے دیکھا کہ اُن کی آواز بے اثر ثابت ہورہی ہے تو خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مکہ پہنچے۔حالات عرض کیے اورالتجا کی کہ۔۔۔آپ میرے قبیلے کے لئے دعا فرمائیں!زبان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد ہوا کہ۔۔۔خداوند! دوس کو ہدایت دے اور اس پر ابر رحمت نازل فرما اور دُعا مانگ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ۔۔۔واپس جاؤ اور نرمی اورمحبت سے لوگوں کو اسلام کی طرف بلاؤ!ارشاد ربانی ہے۔

﴿ادعُ إِلىٰ سَبيلِ رَبِّكَ بِالحِكمَةِ وَالمَوعِظَةِ الحَسَنَةِ وَجـٰدِلهُم بِالَّتى هِىَ أَحسَنُ... ﴿١٢٥﴾... سور الحج

اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) لوگوں کو نرمی اور دل آویزی سے اپنے پروردیگار کے راستے کی طرف بلاؤ اور جب بحث کا موقع آئے تواچھا طریقہ اختیار کرو۔اب جو حضرت طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوٹ کرآئے تو حالات ہی کچھ اور ہوگئے۔ لوگ اسلام اور ایمان کی باتیں سننے دور دور سے کھنچے چلے آتے اور آوازہ حق سن کر کلمہ شہادت پڑھتے۔

حضرت طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ وطن میں رہتے تو مکہ کے حالات معلوم کرنے کے لئے سخت بے چین رہتے جب معلوم ہوا کہ مشرکین کی زیادتیاں بڑھتی جارہی ہیں۔اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ تو فوراً خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پہنچے۔دوس میں ان کا اپنا قلعہ بڑا مضبوط تھا۔صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے درخواست کی کہ۔۔۔آپ میرے قلعے میں منتقل ہوجائیں۔حفاظت کے سارے انتظامات میں خود کروں گا!۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہجرت کا حکم آنے ہی والاتھا۔یہ شرف ت و طیبہ کو حاصل ہونا تھا کہ خدا کا برگزیدہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے وہاں تشریف لے جائے۔اس لئے سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دعوت کو قبول نہ فرمایا۔

حضرت طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہجرت کے ساتویں برس اپنا وطن چھوڑ کر ہجرت کے ارادے سے نکلے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ اسی افراد اور بھی تھے۔مدینہ پہنچے تو معلوم ہواکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں ہیں۔حضرت طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں پہنچے۔خیبر کی لڑائی میں انہی صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو شریک رکھا گیا تھا جو صلح حدیبیہ کے موقع پر بیعت رضوان میں شریک تھے۔لیکن حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کویہ منزلت حاصل ہوئی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام دوسیوں کو اسلامی لشکر میں داخل کردیا۔یہ سب کے سب دائیں جانب کے دستے میں متعین ہوئے۔ابن سعد لکھتے ہیں کہ خیبر کی غنیمت میں سے بھی انھیں حصہ ملا۔خیبر فتح کرکے مسلمان لوٹے تو حضرت طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدینہ چلے آئے پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جیتے جی مدینے سے باہر نہیں گئے۔

فتح کے موقع پرانھیں مجاہد اعظم صلی للہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کی عزت حاصل ہوئی۔طائف کے محاصرے میں نہ صرف یہ کہ شریک رہے بلکہ حضور اکرم صلی للہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس موقع پر یمن گئے اور اپنے ساتھیوں سے چار سو بہادروں کی ایک جماعت لے آئے۔جو سازوسامان سے لیس تھی۔ان کے آجانے کے بعد لڑائی میں منجبیقوں اوردبابوں کو بھی استعمال کیاگیا۔دوسی ا س میں مہارت رکھتےتھے۔اس موقع پر رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم نے کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو جرش(جُ رش) روانہ کیاتھا۔یاقوت نے لکھا ہے کہ یہ یمن میں دفاعی صنعت کا بہت برا مرکز تھا۔یہاں بڑے بڑے منجبیق بنائے جاتے تھے۔حضرت طفیلرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو نئی جنگی تکنیک سیکھنے کے لئے وہاں بھیجاگیا تھا۔

انساب الاشراف میں بلاذری نے لکھا ہے کہ جُرش میں تربیت حاصل کرنے والے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور غیلان بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ حضرت خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ شامل تھے۔وہ اپنے ساتھ ایک وبا یہ بھی لے آئے تھے۔یہ ایک محفوظ اور ہتھیار بند گاڑی ہوتی تھی۔جس میں بیٹھ کر سپاہی دشمنوں کے قلعوں کے نیچے پہنچ جاتے تھے۔یہ لکڑی اور چمڑے سے بنائی جاتی تھی۔

جُرش اس زمانے میں اسلامی مملکت میں شامل نہیں ہواتھا۔طائف فصیلوں سے گھرا ہوا اور بڑا محفوظ شہر تھا۔مضبوط فصیلوں کو توڑنے کےلئے خاص طرح کی منجبیقیں درکار تھیں۔اللہ کے رسول صلی للہ علیہ وسلم نے یہ منجبیقیں منگوائیں اور صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کے تربیت یافتہ دستے کو اس کام پر لگایا۔اللہ تعالیٰ کا جو حکم سورہ انفال میں ہےکہ۔۔۔ہرمحاذ پر پوری طیاری کے ساتھ ڈٹے رہو!اس کی تعمیل اسی طرح ہوسکتی ہے۔کہ ہم جہاں سے مل سکے جدید ٹیکنالوجی حاصل کریں۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں اسلام لا کر پھر جانے والوں کا جو فتنہ شروع ہوا اسے دبانے میں حضرت طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑی سرگرمی سے حصہ لیا۔طلحیہ اوراسود عنسی نے پیغمبری کا دعویٰ کررکھا تھا۔ان جھُوٹے نبیوں کا قلع قمع کرکے حضرت طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسیلمہ کذاب کے خلاف صف آرا ہوئے جھوٹے نبیوں میں مسیلمہ سب سے زیادہ طاقت ور تھا اوربہت سے لوگ صرف اسلام دشمنی کی خاطر اُس کی مدد کررہے تھے۔

سن11ہجری میں یمامہ میں مسیلمہ سے جو لڑائی ہوئی اُس میں حضرت طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ شریک تھے۔ساتھ اپنے بیٹے عمرو کو بھی لے گئے تھے۔دونوں دین کی راہ میں بے جگری سے لڑتے رہے۔مورخین کا خیال ہے کہ اس وقت تک جتنی بھی لڑائیاں ہوئیں تھیں اُن میں یہ سب سے زیادہ سخت لڑائی تھی۔استعیاب کی روایت ہے۔اس لڑائی میں یہ مرد مجاہد بہادری کا حق ادا کرکے اللہ کو پیارا ہوا۔بعض مورخین نے جنگ یرموک میں ان کی شہادت لکھی ہے۔
شعروادب جناب عبدالرحمٰن عاجز
صدائے حق سے بزمِ کفر میں محشر بنا کردے
الٰہی وہ بصیرت دیدہ ودل سے عطا کردے
جو شب کو روز روشن آگہی کو رہنما کردے!
مجھے کچھ اس طرح سا غر کش صبر ورضا کردے
کہ غم ہر ناتوانی کو توانائی عطا کردے
رہوں محفوظ دشمن سے کروں میں دوست کی عزت
خدا دشمن سے واقف آشنا سے آشنا کردے
ہر ایک دکھ میرا دیکھ ہو ہر ایک سکھ میرا سکھ ہو
مجھے یارب غم انسانیت میں مبتلاکردے
جب اہل حق پیام حق لئے میدان میں آجائیں
صدائے حق سے بزم کفر میں محشر بپا کردے۔
اسے پھر دولت دنیا سے کچھ الفت نہیں رہتی
جسے رب دو عالم دولت ایماں عطا کردے۔