تورات،زبور،انجیل،قرآن مجید

لفظ تورات پر بحث:

تورات عبرانی زبان کا لفظ ہے۔اس کا اصل معنی شریعت یا ناموکس یعنی "سرى شئ" ہے۔یہود کی اصطلاح میں یہ پانچ چھوٹی چھوٹی کتابوں سے عبارت ہے۔

1۔سفر التکوین۔

2۔سفر الخروج

3۔سفر الاویین اوالاحبار

4۔سفر العدد

5۔سفر التثنیۃ

اور نصاریٰ کی اصطلاح میں اس کا اطلاق قدیم عہد نامہ کتب پر ہوتا ہے۔اورقبل از مسیح ؑ انبیاءؑ کی کتابوں ان کے فیصلہ جات کی تواریخ اور ان کے بادشاہوں کی خبروں سے مصنف کا چاہے علم ہویا نہ ہو۔عبارت ہے اور بعض اوقات ان کے ہاں انجیل بھی سابقہ مجموعہ میں شامل کرلی جاتی ہے۔ان سب کا نام تورات رکھتے ہیں۔جبکہ مسلمانوں کے ہاں تورات سے مراد وہ کتاب ہے۔جس کو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمایا اور وہ لوگوں کے لئے سرچشمہء ہدایت تھی۔اور اللہ کی طرف سے سختیوں پر تحریر شدہ ملی تھی۔البتہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ہاں اس کا اطلاق مجموعہ عہد قدیم پر بھی ہوتا ہے۔سید عبد الدائم الجلالی لغات القرآن"میں فرماتے ہیں:توراۃ اور انجیل دونوں عجمی لفظ میں تکلف سے کام لے کر ان کا اشتقاق "وری' اور "بخل" سےبتانا اور ان کا وزن "تفعلة" اور "افعيل" بیان کرنا اس وقت صحیح ہوسکتا ہے جبکہ دونوں لفظ عربی ہوں۔حضرت حسن بصری ؒ نے اس کی قراءت انجیل کی ہے جس میں ہمزہ کو فتح ہے یہ اس کے عجمی ہونے کی دلیل ہے۔کیونکہ افعیل کے ہمزہ کا مفتوح ہونا سرے سے اوزان عرب میں موجود ہی نہیں ہے۔انتہیٰ(بحوالہ کشاف)

تفسیر کشاف کی اصل عبارت یوں ہے۔"وقرأ الحسن الأنجيل بفتح الهمزة فان صح عنه فلأنه اعجمى خرج لعجمتيته عن زنات العربية كما خرج هابيل وآخر" (كشاف.ج1ص463)

لفظ انجیل پربحث:

انجیل یونانی کلمہ ہے اس کامعنی بشارت ہے اور اصطلاح میں اس سے مراد وہ کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل کی۔قرآن مجید میں اس کی صفت یوں بیان کی ہے۔

﴿وَقَفَّينا عَلىٰ ءاثـٰرِ‌هِم بِعيسَى ابنِ مَر‌يَمَ مُصَدِّقًا لِما بَينَ يَدَيهِ مِنَ التَّور‌ىٰةِ وَءاتَينـٰهُ الإِنجيلَ فيهِ هُدًى وَنورٌ‌ وَمُصَدِّقًا لِما بَينَ يَدَيهِ مِنَ التَّور‌ىٰةِ وَهُدًى وَمَوعِظَةً لِلمُتَّقينَ ﴿٤٦﴾... سورة المائدة

اور ان پیغمبروں کے بعد انہیں کے قدموں پر ہم نے عیسیٰ بن مریم ؑ کو بھیجا جو ا پنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے۔اور ان کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے۔اور تورات کی جو اس سے پہلی (کتاب) ہے تصدیق کرتی ہے۔اور پرہیز گاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ہے۔

بحث اناجیل:

واضح رہے کہ عیسائیوں کی اصطلاح میں جو چار کتابیں اناجیل کے نام سے موسوم ہیں یہ سب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد کے لوگوں کی تصنیفات ہیں۔جن میں آپ کے اقوال واحوال کو صحیح اور غلط طور پر مرتب کردیا گیا۔گو ان میں اصل بخیل کے بھی کچھ مضامین موجود ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی مکمل طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل شدہ انجیل نہیں ہے۔بلکہ یہ چاروں کتابیں ۔متی۔مرقس۔یوحنا۔لوقانامی۔ چار مختلف اشخاص کی تصنیفات میں جو اپنے اپنے مصنف کے نام سے مشہور ہیں ان اناجیل کی کتابت کب عمل میں آئی اس کے تعین میں عیسائیوں کا سخت اختلاف ہے اسی طرح یہ امر بھی زیر بحث ہے کہ آیا جن کے نام سے یہ کتابیں مشہور ہیں در حقیقت ان ہی کی جمع کردہ ہیں یا بعد کے لوگوں کی تصنیف ہیں؟تاہم اس بات پر ہمارا اور عیسائیوں کا اتفاق ہے کہ یہ چاروں کتب نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصنیفات میں سے ہیں اور نہ ان کے عہد میں لکھی گئی ہیں۔

بہرحال قرآن مجید میں جس انجیل کا ذکر ہے اس سے مراد وہی اصل انجیل ہے۔جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی"لغات القرآن" مسئلہ ہذا کی مزید وضاحت یوں ہوتی ہے۔کہ مروجہ چاراناجیل جو آج مشہور اور موجود ہیں۔325ء کو نیقیہ میں قسطنطین کے زیر اہتمام اجتماع میں بڑی بحث وتمحیص کے بعد سرکاری سطح پر ان کے وجود کو تسلیم کرلیا گیا جبکہ باقی تمام کتابوں کی حیثیت کوختم کردیا گیا تاکہ دیانت نصاریٰ کی شکل وصورت اور ہیت قائم رہ سکے چونکہ یہ اجتماع مخصوص مقاصد کے پیش نظر منعقد ہواتھا۔اور پولس(شاؤل) کے ذہنی اثرات اس پر اثر انداز تھے۔جو درحقیقت یہودی تھا اور اپنے مذموم مقاصد کے حصول کی خاطر مسیحت میں بڑے ڈرامائی انداز میں داخل ہوا تھا۔

نیز قسطنطین کے مشرکانہ ذہن کا بھی ان اناجیل کے تسلیم کرانے اور اسی اجتماع میں"تثلیث"کو مذہبی عقیدہ قرار دینے میں خاصہ دخل تھا۔چونکہ وہ اپنی رعایا کے مشرکانہ عقائدپر اچھی طرح کاربند تھا۔اسی لئے اس نے اس اجتماع میں اساقفہ کی واضح اکثریت( 1652ء) کو نظر انداز کرکے چند لوگوں (318) کی خواہش پر مذہب کی شکل بگاڑ دی اور تب سے اب تک نصر انیت آسمانی کتابوں اور ایک جلیل القدر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر تمام انبیاءؑ کے متفقہ اصل الاصول توحید کی بجائے مشرکانہ دعوت کی علمبردار چلی آرہی ہے۔

ہر وہ فرد جس کو سابقہ تاریخ امم سے تھوڑا سا بھی لگاؤ ہے۔اس بات سے بخوبی واقف ہے۔کہ ان اناجیل کا آپس میں شکلی اور موضوعی اختلافات اس قادر زیادہ ہے جو ان کی صداقت تو درکنار ان کے وجود کو بھی موہوم مشکوک اور مبہم بنادیتا ہے۔

ہم ذیل میں ان چاروں اناجیل میں تحریف پر چند شواہد پیش کرتے ہیں۔

ان کے الفاظ اور موضوعات میں باہمی اختلاف ہے ۔مثلاً شروع کے الفاظ ہی آپس میں مختلف ہیں ملاحظہ فرمائیں۔

1۔انجیل متی کی ابتداء:

الف۔"كتاب ميلاد يسوع المسيح بن داؤد بن ابراهيم"

ب۔"وابراهيم ولد اسحق واسحق ولد يعقوب يعقوب ولد يهوده واخوته....."

2۔انجیل مُر مُس کی ابتداء:

الف۔"بدء انجيل يسوع المسيح ابن الله"

ب۔"كما هو مكتوب"

3۔انجیل لوقا کی ابتداء:

"اذا كان كثيرون قد اخذوا بتأليف قصة فى الامور المتيقنة عندنا"

4۔انجیل یوحنا کی ابتداء:

"فى البدء كان الكلمة عندالله"

ان شواہد کی روشنی میں بلا خوف تردید کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقی دعوت اورعیسائیت کی صحیح صورت معلوم کرنے کے لئے قابل اعتماد ماخذ صرف اور صرف قرآن حکیم ہی ہے۔جو ہرقسم کی تحریف وتغیر سے مبرا ہے اور ان اناجیل کا شکلی اختلاف یوں ہے کہ کسی ایک کا حجم دوسری سے نہیں ملتا.

1۔انجیل متی:28 اصحاح (فصول)

2۔مرقس: 16اصحاح

3۔لوقا: 14 اصحاح

4۔یوحنا: 21 اصحاح

یہ باہمی اختلاف ان اناجیل کے محرف ہونے کی داخلی شہادتیں ہیں اور سب سے بڑی شہادت یہ ہےکہ موجودہ تورات میں ذات باری تعالیٰ اور انیباء ؑ کرام کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے چنانچہ سفر تکوین کے اصحاح اول میں ہے۔

«قال الله نجعل الانسان على صورتنا كشبهنا»

اللہ نے فرمایا ہم انسان کو اپنی شکل وصورت پر بناتے ہیں اور سفر تکوین کے اصحاح ثانی میں ہے۔

"فاكملت السماوات والارض وكل جزء هاوفوغ الله فى اليوم السابع من عمله الذى علم فاستراح فى اليوم السابع من جميع عمله الذى عمل وبارك الله اليوم السابع وقدسه لانه اسراح فيه من جميع عمله الذى عمل الله خالقا"

اس کے برعکس دین فطرت میں اسلامی عقیدہ کی وضاحت وصراحت قرآن مجید میں یوں ہے:

﴿لَيسَ كَمِثلِهِ شَىءٌ وَهُوَ السَّميعُ البَصيرُ‌ ﴿١١﴾... سورة الشورىٰ

یعنی اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ دیکھتا سنتا ہے۔

﴿وَلَقَد خَلَقنَا السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَر‌ضَ وَما بَينَهُما فى سِتَّةِ أَيّامٍ وَما مَسَّنا مِن لُغوبٍ ﴿٣٨﴾... سورة ق

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو(مخلوقات) اُن میں سے سب کوچھ دن میں بنادیا اور ہم کو ذرا بھی تھکان نہیں ہوا۔

جمہور اہل علم کا نظریہ ہے۔کہ ان سابقہ کتب اور صحف میں لفظی ومعنوی دونوں قسم کی تحریف ہوئی ہے۔

اگرچہ بعض اہل علم صرف تحریف معنوی کے قائل ہیں لیکن کتاب وسنت سے دلائل وبراہین پہلے مسلک کے موئید ہیں۔ارشاد خداوندی ہے۔

﴿أَفَتَطمَعونَ أَن يُؤمِنوا لَكُم وَقَد كانَ فَر‌يقٌ مِنهُم يَسمَعونَ كَلـٰمَ اللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّ‌فونَهُ مِن بَعدِ ما عَقَلوهُ وَهُم يَعلَمونَ ﴿٧٥﴾... سورة البقرة

آیت ہذا کے حاشیہ پرمولانا فتح محمد جالندھری ؒ فرماتے ہیں۔تحریف میں اختلاف ہے کہ کس قسم کی تھی بعض کہتے ہیں کہ لفظی تھی یعنی الفاظ بدل دیتے تھے۔بعض کہتے ہیں کہ معنوی تھی۔ یعنی معنی بگاڑدیتے تھے ۔امام فخر الدین رازی موخرالذکر کے قائل ہیں۔ بعض کہتے ہیں لفظی اورمعنوی دونوں طرح کی تھی ۔بہرکیف جمہور اہل اسلام کتب یہود ونصاریٰ میں تحریف وتبدل کے قائل ہیں۔جبکہ مسلمانوں کو اس بات پر ناز ہے کہ ان کی آسمانی کتاب میں تحریف نہیں ہوئی اور ہوسکتی بھی نہیں کیونکہ خدا نے اس کی حفاظت خود اپنے ذمے لی ہے۔ارشاد ربانی ہے:

﴿فَوَيلٌ لِلَّذينَ يَكتُبونَ الكِتـٰبَ بِأَيديهِم ثُمَّ يَقولونَ هـٰذا مِن عِندِ اللَّهِ...﴿٧٩﴾... سورة البقرة

نیز فرمایا:

﴿وَإِنَّ مِنهُم لَفَر‌يقًا يَلوۥنَ أَلسِنَتَهُم بِالكِتـٰبِ لِتَحسَبوهُ مِنَ الكِتـٰبِ... ﴿٧٨﴾... سورة آل عمران

ایک اور مقام پر ارشاد ہوا۔

﴿يُحَرِّ‌فونَ الكَلِمَ عَن مَواضِعِهِ... ﴿٤٦﴾... سورة النساء

اسفار خمسہ میں بھی اس پر کئی ایک شواہد موجود ہیں۔جن کا انکار یہود کے لئے بھی ناممکن ہے۔

چنانچہ ان میں سے بعض اسفار میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی موت کی کیفیت اور تفصیل بھی بیان کی گئی ہے۔جس کا کوئی عاقل اور دانش مند دعویٰ نہیں کرسکتا ۔کہ موسیٰ علیہ السلام نے خود اپنے دست ِ مبارک سے لکھا ہوگا اسی طرح یہود کا قول "العزير ابن الله اور ليس علينا فى الامين سبيل"

تحریفات کی قبیل سے ہیں نیز ان میں انبیاءؑ پر بھی اتہامات اورالزامات کی ایک لمبی فہرست ہے۔بالاختصار یہ کہ مثلاً حضرت یعقوب علیہ السلام نے کشتی میں اللہ تعالیٰ کو گرالیا۔

حضرت لوط علیہ السلام نے شراب پی اور اپنی دونوں بچیوں سے جبل صغر میں جُفتی کی۔

حضرت داؤد علیہ السلام کا اللہ کے ہاں رتبہ اورمقام کم ہوگیا یہ سب ان کتب میں تحریفات کے واضح شواہد ہیں۔

مزید آنکہ۔۔۔حافظ ابن القیمؒ نے اپنی تصنیف "إغاثة اللهان" میں تحریف تورات کے موضوع پر بڑی تفصیلی گفتگو کی ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ مسئلہ ہذا میں تین اقوال ہیں:

1۔کل تورات یا اس کا اکثر حصہ محرف ومبدل ہے حتیٰ کہ بعض نے غلوے کام لیتے ہوئے اس کے اوراق کو ہی ردی قرار دیا ہے۔

2۔فقہاء ومحدثین اور متکلمین کی رائے ہے کہ تبدیلی صرف تاویل میں ہوئی چنانچہ امام بخاری ؒ اپنی صحیح میں فرماتے ہیں:

"يحرفون يزيلون ليس احد يزيل لفظ كتاب من كتاب الله لكنهم يتأولونه على تأويله"

یعنی کسی کو قدرت حاصل نہیں کہ کتاب اللہ سے ایک لفظ بھی تبدیل کرسکے۔البتہ وہ لوگ اس کی غلط تفسیر کرتے تھے۔اس قول کا ابتدائی حصہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔

امام رازی ؒ نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو فتح الباری جلد 13 صفحہ نمبر 523 تا 526۔

3۔تورات میں ہلکی سی کمی بیشی ہوتی ہے۔امام موصوف فرماتے ہیں ہمارے شیخ یعنی امام ابن تیمیہ ؒ نے "الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح" میں اسی اصول کو پسند کیا ہے۔

راقم السطورکہتا ہے مسئلہ ہذا پر مذکورہ کتاب میں درج ذیل عنادین قائم کئے گئے ہیں۔جس سے بخوبی امام موصوف ک رجحان کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ملاحظہ فرمائیں:

"فصل فى ان الغلط انما وقع فى الترجمة""الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح" جز2 ص16)

"فصل فيما حدث فى التوراة من تغيير""الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح" جز2 ص18)

3۔"فصل فيما حدث فى الانجيل من تبديل""الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح" جز2 ص20)

"فصل فى كيفية التفسير الذى حدث فى الانجيل" الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح" جز2 ص26)

انجیل برنابا:

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تھوڑا سا ذکر برنابا کا بھی ہوجائے۔تاکہ مسیحی علماء کی دیانت اور آسمانی کتب کے ساتھ اُن کے حسن سلوک کی حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے صحیفہ اعمال جو لوقا کی تصنیف بتا یا جاتا ہے۔ کی متعدد نصوص سے معلوم ہوتا ہے۔کہ برنابا اولین مسیحت کے خاص ارکان واعیان میں سے تھے۔اس لئے مسیحوں کا اس پر اجماع ہے کہ وہ مقدس بزرگ اور رسول تھے۔اور ان پر روح القدس نازل ہوا تھا البتہ وہ انھیں حواری تسلیم نہیں کرتے اگرچہ اُن کی انجیل انہیں حواری ثابت کرتی ہے۔بہرحال وہ مرُقس کے استاد اور پولس کے راہنما تھے۔(ملاحظہ ہو اعمال 4۔9۔11 کی متعدد آیات)

سولہویں صدی کے آخر میں برنابا کی انجیل دریافت ہوئی ہوا یوں کہ ایک لاطینی راہب کو اریانوس کے ایک خط کا پتہ چلا۔جس میں پولس کی ان تحریروں کے بارے میں ناراضگی درج تھی جو اس نے برنابا کے حوالے سے لکھی تھیں۔اس واقعہ نے انجیل برنابا کی کھوج میں لگا دیا ۔بالآخر پوپ اساکاٹس پنجم کے کتب خانہ میں اس کا سراغ مل گیا۔اس نے خفیہ طور پر اس کے مطالعہ کے بعد اسلام قبول کیا۔یہ انجیل ایک علمی حقیقت ہے اور اس کا ظہور وخفائ اور ترجمہ تاریخی طور پر ہوتا ہے۔492ء میں بقول ڈاکٹر سعادت بک ہری اصحاب کلیسا نے اسے اپنے مقصد کے خلاف پاکر اس پر پابندی لگا دی تھی۔اور اس کا مطالعہ ممنوع قرار دیا تھا۔

انجیل برنابا کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ دیگر اناجیل اربعہ میں سے کس قدر تحریف کی گئی ہے۔اس کی تعلیمات میں خدا کو رب العالمین اور خالق ارض وسما کہا گیا ہے عیسیٰ علیہ اسلام کو خدا کانبی کہہ کر پولس کی تحریفات پر افسوس کا اظہار بھی کیاگیا ہے ۔وغیرہ۔ (جاری ہے)