طریقہ طعام:
اُمت مسلمہ کو بہت سا علم امہات المومنین سے ملا۔خاص طور پر حضرت عائشہ   رضی اللہ تعالیٰ عنہا  ،حضرت حفصہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا ،اور حضرت امہ سلمہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے۔سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غذا کھانے پینے کے طریقے اور اس سےتعلق سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند یا نا پسند کے بارے میں بھی اُمت کو بہت سی باتیں اُمت کی ماؤں سے معلوم ہوئیں الشفاء میں قاضی عیاض ؒ نے حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کی ایک روایت بیان کی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کھانا پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔اس میں کیا مصلحت تھی۔اس بارے میں حضرت مقدام بن معدی کرب  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی ایک روایت ملتی ہے ۔ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  ہے۔اولاد آ دمؑ نے پیٹ سے بڑھ کر بڑا کوئی برتن  نہیں بھرا۔حالانکہ آدمی کے لئے چند لقمے کافی ہیں۔جو اس کی زندگی باقی رکھ سکتے ہیں۔بہتر ہے کہ وہ اپنی بھوک کے تین حصے کرے۔ایک تہائی غذا کےلئے ایک تہائی پانی کے لئے اور ایک تہائی سانس لینے کے لئے چھوڑدے۔نیند کی زیادتی در اصل کھانے پینے کی زیادتی کی وجہ سے ہوتی ہے اس سے مرض بڑھتا ہے۔اور آدمی مکروفریب میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قدرت نے رسالت کی ایسی کڑی ذمہ داریاں سونپی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی  راہ میں ایسی ایسی مشکلات آئیں گی کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحت ٹھیک نہ ہوتی تو نہ جانے تبلیغی اور جہادی مصروفیات کا کیا ہوتا!۔۔۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحت زندگی بھر غیر معمولی اچھی رہی ۔تریسٹھ سالہ زندگی میں صرف دو مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے۔ایک بار ہجری میں بھوک کی شدت کی وجہ سے اس بیماری کے بارے میں ایک غلط فہمی یہ ہے کہ یہود نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کردیاتھا۔یہ غلط خیال ہے۔دوسری مرتبہ سات ہجری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبعیت ناسا زہوئی خیبر کی فتح کے بالکل بعد جب یہودی سردار کی بھتیجی اور سلام بن مشکم کی بیوی زینب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کے طور پر گوشت بھیجا اور اس میں زہر ملادیا اور پھر دُنیا سے پردہ فرماتے وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحت بگڑ گئی۔

حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کا فرمانا ہے۔۔۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شانہ اقدس میں ہوتے تو عادت تھی کہ  کبھی کھانا طلب نہ فرماتے تھے اور نہ خواہش فرماتے جب کھانا پیش کیا جاتا تو کھالیتے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکیے سے ٹیک لگا کر کھانا نہیں کھاتے تھے نہ خوان پر تناول فرماتے تھے۔خوان چھوٹی چھوٹی میزیں ہوتی تھیں۔جو کھاتے  پیتے گھرانوں میں کھانے کے وقت فرش پر سجا دی جاتی تھیں۔ سفر میں اکثر زمین پر بیٹھ کر کھاتے۔یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دستر خوان ہوتا۔ارشاد تھا میں کھانا اس طرح کھاتا ہوں جس طرح بندہ کھاتا ہے۔اس طرح بیٹھتا ہوں جیسے بندہ بیٹھتا ہے۔نشست کا طریقہ یہ تھا کہ گھنٹے کھڑے رہتے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یوں بیٹھتے اور بڑی صفائی سے کھانا کھاتے صرف تین انگلیاں لقمے کے لئے استعمال فرماتے۔۔۔انگوٹھا ،شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی!۔۔۔روٹی توڑنے ،کھجور کھانے،پنیر یا ملیدے کالقمہ بنانے کی  یہی صورت تھی۔

حضرت  عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  ہی کا کہنا ہے کہ  آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کبھی تین دن متواتر کھانا نہیں کھایا۔گیہوں کی روٹی کبھی نہ کھائی۔ چپاتی کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں نہ آئی۔عام طور پر جو کی روٹی کھانے میں ہوتی۔وہ بھی کبھی ملتی کبھی نہ ملتی۔اس کے آٹے کا بھی بھوسہ چھانا نہ جاتاتھا۔

حضرت  عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  ہی ایک اور موقعے پر فرماتی ہیں۔ہمارا حال یہ تھا کہ ایک ایک مہینہ تک گھر میں آگ روشن نہ ہوتی تھی ۔صرف کھجور اور پانی پر گزارہ ہوتا۔حضرت ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا بیان ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر والوں کے ساتھ کئی کئی راتیں ایسے گزارتے تھے کہ کوئی چیز کھانے کی نہ پاتےتھے۔حضرت عبدالرحمٰن بن عوف  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا کہنا ہے وصال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے دن گھر میں سبھی بھوکے تھے جو کی روٹی بھی کسی کو میسر نہ تھی۔

حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  فرماتی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساری  رات بھوکے رہتے مگر یہ بھوک اگلے دن کے روزے کو نہ روکتی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت دیکھ کر میں روپڑتی۔

آداب طعام:

حضرت عمرو بن ابو سلمہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ایک واقعہ سناتے ہیں۔عمرو ام المومنین حضرت ام سلمہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کے پہلے شوہر کے لڑکے تھے۔کہتے ہیں یہ میرے لڑکپن کی بات ہے حضور اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کے  ساتھ تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا پیش کیاگیا مجھے یاد فرمایا۔میں ہی ساتھ بیٹھ گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔۔۔جب کھانے کے لئے بیٹھو تو ہمیشہ بسم اللہ کہا کرو!

۔۔۔عمر و کہتے ہیں میرے کھانے کا ڈھنگ ایسا تھا کہ میں کبھی برتن میں اس طرف سے کھاتا کبھی اُس طرف سے ارشاد ہوا۔ہمیشہ اپنے آگے سے کھایا کرو۔عمرو لڑکے ہی توتھے ممکن ہے کبھی اس ہاتھ سے روٹی توڑتے ہوں کبھی اُس ہاتھ سے۔ارشاد ہوا سیدھے ہاتھ سے کھاؤ۔کھانے سے فارغ ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا شکر ادا کرتے تھے ۔دعا کے الفاظ کا مطلب ہے ۔تمام تعریفیں واسطے اللہ کے ہیں جس نے ہمیں کھافی کھانا کھلایا اور پیٹ بھر دیا۔نہ اس کھانے سے انکار کیا گیا یا اسے ناپسند کیا گیا نہ ناشکری کی گئی اس لئے کھانے کے بعد الحمدللہ کہنا ہر مسلمان کا طریقہ ہے۔

پانی پیتے تو درمیان میں تین مرتبہ سانس لیتے ۔ٹھنڈ ا پانی بہت پسند تھا۔پانی  بیٹھ کر  پیتے حضرت  عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کی روایت طبقات میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے رہ کر بھی پیا ہے لیکن آئمہ کا خیال ہے کھڑے رہ کر صرف مجبوری کی صورت میں پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا۔چاہ زم زم پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ نہ سکتے تھے۔اس لئے آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے ڈول سے پانی  پیا تھا۔کبھی پانی میں کشمش،کھجور،یا انگور بھگو کر بھی  پیتے تھے۔دودھ خالص بھی نوش فرماتے۔پانی ملا کر بھی جب کھانے  پینے کی کوئی چیز کسی کو عنایت فرماتے تو دائیں طرف سے شروع کرتے اُلٹے ہاتھ کوئی بھی ہوتا پہلے اسے کبھی نہ دیتے تھے۔

سامنے جو کھانا آتا اگر ناپسند ہوتا تو اس میں ہاتھ نہ ڈالتے لیکن یہ کبھی نہ فرماتے کہ یہ خراب ہے۔یا مجھے پسند  نہیں ۔گوشت بھیڑ بکری،خرگوش،اونٹ سبھی کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا۔بکرے کے گوشت میں دست کاگوشت آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھا۔کدو،سرکہ،شہد،اور حلوہ بھی پسند فرماتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو غذا بہت پسند تھی عرب میں اسے حیس کہتے ہیں۔ایک طرح کا ملیدہ ہوتا ہے۔ستو میں چھوہارے ڈالے جاتے ہیں۔پنیر اور گھی کا بھی جزو شریک کیا جاتا ہے۔ثرید کے بارے میں بخاری کی ایک  روایت ہے کہ عورتوں پر عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کی برتری ایسی ہی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی!روٹی کے ٹکڑوں کو شوربے میں بھگو دیں تو جو صورت  پیدا ہوتی ہے۔اسے ثرید کہتے ہیں۔سنن ابن ماجہ  میں ابو درداء  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی روایت ملتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت مرغوب تھا۔ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب ہے جنت میں رہنے والوں کے کھانوں میں بہترین چیز گوشت ہے۔

زاد المعاد میں ہے رات کو بھوکا سونے سے منع فرماتے تھے۔ارشادتھا اس سے بڑھا پا جلد آتا ہے۔کھاتے ہی سونے سے بھی منع فرماتے تھے۔

شان فقر:

خود بدولت پر فقر فاقے سے جو بھی گزرتی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور کو بھوکا نہ دیکھ سکتے تھے۔حضرت ابو ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کہتے ہیں میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں رہتاصفہ میرا ٹھکانہ تھا۔توکل پرگزارا،ایک دن بھوکا تھا۔سخت بھوکا بھوک برداشت توکرلیتا تھا۔لیکن کئی دن کی بھوک تھی جب برداشت کی قوت نہ رہی تو سڑک پرآبیٹھا۔دیکھا حضرت ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ آرہے ہیں ۔کچھ ڈھارس بندھی ،آگے بڑھا،انھیں  روکا بجائے صاف صاف کہنے کے کلام اللہ کی ایک آیت پڑھ کر اس کا مطلب پوچھا۔شیخ مطلب بتا کرگزرگئے۔واحسرتا! میں ان کے نقش قدم دیکھتا  رہ گیا۔پھر حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے وہ بھی حسن طلب کو نہ سمجھ سکے۔جی چاہتا تھا انھیں روک کر سرپیٹ لوں۔رو پڑوں۔اتنے میں اپنی خوش بختی سے کیا دیکھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لارہے ہیں۔روح صدق ویقین جان ایمان ودین۔راحت عاشقین،رحمت عالمین!( صلی اللہ علیہ وسلم) ۔۔۔دل نے کہا شکر ادا کر،اب کچھ کہنے کی بھی ضرورت نہیں تیرا بیڑہ پار لگ گیا ہوا یہی ۔۔۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا۔۔۔مسکرائے ارشاد فرمایا،میرے ساتھ آؤ،گھر پہنچے دریافت فرمایا۔۔۔کچھ کھانے کےلئے ہے؟معلوم ہوا پڑوس سے ایک پیالے میں دودھ آیا رکھا ہے۔حضرت ابو ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کہتے ہیں یہ پیالہ ان کے حوالے کردیاگیا بڑا پیالہ تھا حکم ہوا خود بھی اس میں سے پیو اور اصحاب صفہ کو بھی دو۔کیا معلوم وہ دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے گزارا!

حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کا بیان ہے کہ رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص کھانا کھانے لگے اور کھانے پر خدا کا نام لینابھول جائے تو اُسے یہ کہنا  چاہیے: بسم اللہ اولہ وآخرہ۔۔۔میں کھانے کی ابتداء سے انتہا تک اللہ کا نام لیتا ہوں۔(ترمذی وداؤد)

ملبوس مبارک:

حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس کیاتھا؟۔۔۔کمبل۔۔۔چادر۔۔۔تہمد۔۔۔حلہ۔۔۔قمیص یاکُرتہ! پاجامہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال فرمایا یانہیں۔اس کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پاجامہ پہنا کرتے تھے۔منیٰ کے بازار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ پاجامہ خریدا تھا ۔علامہ  ابن قیم ؒ کا خیال ہے ممکن ہے استعمال بھی فرمایا ہو۔کُرتے کے بارے میں حضرت انس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا کہنا ہے سوتی کپڑے کا ہوتا۔کُرتا  بہت لانبا ہوتا تھا اور آستینیں بھی چھوٹی ہوتی تھیں۔حضرت بدیل  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی روایت ہے ہاتھ کے گٹے تک ! حضرت عبداللہ بن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی روایت سنن ابن ماجہ میں ہے کرتا توطویل ہوتا لیکن آستین چھوٹی ہوتی۔قاضی  عیاض ؒ لکھتے ہیں،اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس عمامہ گاڑھے کی چادر اور گھنا تمہد ہوتا  تھا۔عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا بیان ہے۔رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حریر کی ایک عبا بطورتحفہ بھیجی گئی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنی۔اسی میں نماز  پڑھی پھر فارغ ہوئے تو اسے اسی طرح جلدی سے اتار دیا کہ جیسے  آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند کرتے ہیں۔صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے جو اس وقت وہاں جمع تھے پوچھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہنے  کیوں نہیں رہتے؟ارشا د ہوا۔۔۔پرہیز گاروں کے لئے یہ مناسب نہیں۔

حضرت انس بن مالک  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کہا ایک بار قیصر روم کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک  ہدیہ آیا۔بڑا لبادہ۔حضرت اصمعی ؒ کہتے ہیں۔اس کی آستینیں لمبی لمبی تھیں۔یہ سندس کا ایک جبہ تھا۔ریشم کا!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنا پھر اتار کر حضرت جعفر طیار  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو دے دیا فرمایا۔۔۔اسے اپنے بھائی نجاشی کو بھیج دو شہنشاہ حبشہ کو۔

جوکچھ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیب  تن فرماتے۔معمول تھا کہ سیدھی طرف سے پہننا شروع کرتے۔

حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  فرماتی ہیں۔ابو الجہم بن حذیفہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے خدمت اقدس میں ایک چادر بطور نذرگزاری ۔یہ شام کی بنی ہوئی  چادر تھی۔اس پر خوبصورت نقش ونگار بنے ہوئے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر اوڑھی نماز کے لئے تشریف لے گئے۔لوٹے تو ارشاد فرمایا۔۔۔

یہ چادرابوالجہم کو واپس کردی جائے۔اس کے عوض آ پ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان سے ایک سادی چادر منگوائی۔معلوم ہوا نقش ونگار والا اور بھڑکیلا پہناوا نا پسند تھا۔یمن کی دھاری دار چادریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ ناپسند تھیں۔فتح مکہ کے وقت اور حجۃ الوداع کے موقع پر بھی یہی چادریں جسم مبارک پر دیکھی گئیں۔ابن قیم ؒ لکھتے ہیں۔ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو سر پر خود اور بدن پر جنگ کالباس تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین جبے تھے۔جنھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی کے موقع پر پہنتے تھے۔ایک ان میں ہرا تھا۔ریشم کا بنا ہوا۔اسی لئے ایک خیال یہ بھی ہے کہ جہاد کے موقع پر ریشم کا پہننا جائز ہے۔محدثین نے لکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلہ حمرا بھی استعمال فرمایاہے۔حمرا سرخ رنگ کو کہتے ہیں حلہ کے معنی جبے کے بھی ہیں اور چادر کے بھی۔زادالمعاد میں ہے کہ یہ ایک لمبی چادر تھی۔جس میں سرخ دھاریاں تھیں۔سرخ رنگ کا جبہ نہیں تھا۔لمبی چادریں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھیں۔کاڑھے کی ہوتی تھیں۔ان کا حاشیہ سخت ہوتا تھا۔عروہ بن زبیر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور واقدی کا بیان ہے چادریں لمبائی میں کوئی دوگز کی اور چوڑائی میں ایک گز ایک بالشت کی ہوتی تھیں۔ایسی عبائیں بھی زیب تن فرمانے کی تفصیل ملتی ہے جن پر ر یشم کی سنجاف لگی ہوتی تھی ۔صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے بھی ایسی عبائیں پہنی ہیں۔لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  صاف الفاظ میں وضاحت کرتے ہیں کہ مردوں کو صرف ایسا لباس پہننے کی اجازت ہے جس پر ر یشم کا سنجاف یا کوردوانگلی سے زیادہ چوڑی نہ ہو۔

چادر پہننے کا طریقہ یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ سر ڈھانک کر اوڑھا کرتے تھے۔موسیٰ ابن ابراہیم روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کے والد حضرت انس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اٹھ کر نماز پڑھی۔آپ ایک ہی چادر میں نماز پڑھ رہے تھے۔جو تہمد بھی تھی اور اس کا ایک سرا ایک ہاتھ کے نیچے سے نکل کر دوسرے شانے پر ڈال دیا گیا تھا۔ہم لوگوں نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر رکھی ہوئی ہے۔پھر بھی آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھتے ہیں کیا بات ہے؟حضرت انس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کہا۔ہاں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔اُمت مسلمہ نے جب  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری مرتبہ باجماعت نماز  پڑھتے دیکھا تو اُس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی چادر میں ملبوس تھے۔

سر پر امامہ باندھتے تھے لیکن ٹوپی پر!۔۔۔بغیر ٹوپی کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی عمامہ نہیں باندھا لیکن بغیر عمامے کے ٹوپی ضرور پہنی ہے ارشاد تھا۔۔۔ہم میں اور مشرکین میں یہی فرق ہے کہ ہم ٹوپیوں پرعمامہ باندھتے ہیں۔عمامے کا ایک سرا دونوں شانوں کے درمیان لٹکتا رہتا۔کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُسے آگے بھی کرلیتے۔کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں سرے دونوں کاندھوں پر لٹکا دیتے تھے۔ابی جعفر محمد بن علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں امامہ باندھتے تھے۔ایک عمامے کا نام سحاب تھا۔حضرت حسین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فرمایا حضور  اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمامے کا رنگ سیاہ ہوتا تھا۔یہ روایت مسلم میں حضرت جعفر بن عمرو بن حریث ؒ کی بھی ہے حضرت جابر بن عبداللہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور حضرت عبداللہ بن عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا کہنا ہے فتح مکہ کے موقع پر جو عمامہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر  تھا اس کا اس کا رنگ کالا ہی تھا۔حضرت حسن  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا کہنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاص جھنڈا بھی سیاہ رنگ کاتھا۔یہ عقاب کہلاتا تھا۔سنن ابو داؤد میں ہے کے پرچم کے لئے زرد رنگ کا کپڑا بھی استعمال فرمایا گیا۔رنگ کے بارے میں زرقانی سے معلوم ہوتاہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ ،سرخ،سبز، زعفرانی ہر رنگ کا کپڑا استعمال فرمایا ہے۔سفید رنگ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ تھا۔

حضرت سمر ہ بن جندب  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی ایک  روایت ہے۔ارشاد تھا تمھیں سفیدکپڑا اختیار کرنا چاہیے اس کو تمھارے زندہ لو گ پہنیں اور اس کا اپنے مردوں کو کفن دو کیوں کہ یہ خوب اورپاکیزا ہو تا ہے ابی قلابہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا کہنا ہے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر ما یا تمھارے کپڑوں میں اللہ کے نزدیک سب سے پسند یدہ سفید کپڑا ہے حضرت ام سلمہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ اکثر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا کرُتا ،چادر اور تہمد زعفرانی رنگ میں رنگا جا تا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  اس لباس میں گھر سے نکلتے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ایک رومال بھی صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے اس رنگ کا دیکھا تھا ۔زید بن اسلم  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی روایت ہے کہ عمامہ پیلے رنگ کا ہی ہو تا تھا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  دوسبز چادر یں  بھی اوڑھے ہو ئے نظر آئے نسائی میں ابو رمشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی روایت ہے ایک خطبے کے موقعے پر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  دوسبز چادر یں اوڑھے ہو ئے تھے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے سبز چادریں اوڑھ کر کعبۃ اللہ کا طواف بھی فر ما یا حضرت انس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بن مالک کی روایت ہے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اون کا لباس بھی پہنا ہے حضرت حسین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فر ماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کمبل اوڑھ کر نماز پڑھا کرتے تھے حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا فر ماتی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  صوف کی چادر بھی اوڑھتے تھے ۔

حضرت ابی بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کہا ایک بار ہم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کی خدمت میں حاضر ہوئے یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ دنیا سے پردہ فر ماتے وقت حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کس لباس میں تھے ؟حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  وہ کپڑے نکال لا ئیں ،تاجدار مدینہ نے جن کپڑوں میں وصال فر ما یا ۔انھیں ہم نے دیکھا آنکھوں سے لگا یا ایک چادر تھی یمن کی بنی ہو ئی موٹی گا ڑھےکی چادر !

ریشمی کپڑا:

کھا نے پینے پہننے اوڑھنے کے بارے میں حضور اکرم کا جو طریقہ کار تھا اس کے بارے میں کچھ باتیں آپ سب چکے ہیں یہاں  ایک بات یہ بھی ذہن میں رکھیئے کہ حضرت ختمی مرتبت  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشادفر مایا ہے خوب کھاؤ پیو پہنو صدقہ دو لئین کھانے پینے پہننے اوڑھنے میں ایک بات کا خیال رکھو کہ اس میں فضول خرچی شامل نہ ہواور تکبر کا پہلو نہ نکلے حضرت ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کہتے ہیں ہاں یہ اجازت ہے کہ جائز چیزوں میں جو چاہے پہنو جو چاہے کھاؤ لیکن یہ نہ بھولو کہ نمائش دکھا وے اور اینٹھنے اترانے کے لیے نہ کچھ کھاؤ نہ کچھ پہنو عبد اللہ بن عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کہتے ہیں کہ کپڑے پہننے میں فخر وتکبر کا پہلو ہو تو اللہ اس شخص پر رحمت کی نظر نہیں کرتا لیکن چونکہ اسلام نے دنیا کو چھوڑ دینے کا حلم بھی نہیں دیا اس لیے جا ئز حدود میں خدا کی دی ہو ئی نعمتوں سے فائدہ اٹھا نے کی بھی اجازت ہے ۔مردوں کے ریشمی کپڑا پہننے میں فضول خرچی بھی ہے اور شان و طمطراق کا پہلو بھی اس لیے اس سے منع فر ما یا گیا عمران بن خطان ؒ کہتے ہیں میں ایک بار حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں گیا آپ سے پو چھا کہ ریشمی کپڑا مردوں کو پہننا چا ہیے یا نہیں ؟حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  نے فر ما یا ۔۔۔ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے پاس جا ؤ ان سے پو چھو کیا حکم ہے عمران حضرت ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے پاس آئے آپ نے کہا عبد اللہ بن عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے جا کر پو چھو عمران اب ابن عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی خدمت میں آئے ان کے سامنے اپنا سوال دہرایا ۔

ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کہا ۔۔۔میرے والد  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بن خطاب نے کہا ۔۔۔رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم فر ما یا کرتے تھے ۔دنیا میں ریشمی لباس وہی مرد پہنیں گے جن کا آخرت میں کچھ  حصہ نہیں ۔حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے بیان کیا ایک مرتبہ مجھے بارگاہ نبوت سے ایک حلہ سرخ عنایت ہوا لا ل چادر جو ریشمی تھی میں نے پہن لی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے سے میرا گزرا ہوا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے سمجھا تھا حضور اکرم ملاحظہفر ما ئیں گے تو خوش ہو ں گے حلہ کی ضرورت تھی اور اسے استعمال میں لا یا گیا لیکن حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فر ما تے ہیں ۔۔۔میں نے دیکھا حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے غصے کے آثارنما یاں ہیں بخاری میں یہیں تک تفصیل ہے ابو داؤد میں ہے اور ارشاد ہوا ۔۔۔میں نے اس لیے بھیجا تھا کہ پھا ڑ کر زنانی چادریں بنائی  جا ئیں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سمجھ گئے کہ یہ رنگ اور یہ کپڑا دونوں مردوں کے لیے منا سب نہیں آپ نے فوراًاس چادر کے ٹکڑے کیے  اور خاندان کی عورتوں میں اُنھیں بانٹ دیا۔

حریر ریشم کے بچھا نے کے بارے میں بخاری میں حضرت عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی روایت ہے جیسے اس کا پہننا حرام ہے ویسے ہی اس کا بچھا نا بھی حرام ہے بخاری میں اسی مطلب کی اور بھی روایتیں ہیں بچیوں اور عورتوں کو ریشمی کپڑا پہننے کی اجازت ہے انس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بن مالک کی روایت ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت ام کلثوم  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کو سرخ ریشمی چادر اوڑھے دیکھا ہے حضرت کلثوم  رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی صاحبزادی اور حضرت عثمان  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی شریک حیات تھیں جنھیں اللہ نے بڑی دینوی فراغت بھی دے رکھی تھی اُم خالد  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  بنت خالد کہتی ہیں ایک مرتبہ خدمت اقدس میں کہیں سے کپڑوں کا تحفہ آیا اس میں ایک خمیصہ تھی۔

خمیصہ خوبصورت سی عبا ہوتی ہے۔جسے عورت اور مرد دونوں پہن سکتے ہیں۔یہ خمیصہ بہت کاڑی ہوئی تھی۔غالباً  ریشمی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاسے دیکھ کر پوچھا۔۔۔بتاؤ میں یہ کسے  پہناؤں؟حاضرین خاموش رہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام خالد  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  آپ چھوٹی تھیں اٹھا کر لائی گئیں۔بخاری میں ہے خمیصہ انھیں پہناکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ یہ دعا دی۔اسے خوب پہن کر  پھاڑنا نصیب ہو۔نیا کپڑا پہن کر دعا کرنا سنت ہے۔معمول تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیا کپڑا پہنتے تو جو بھی ملبوس ہوتا اس کا نام لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرماتے۔

اے اللہ! تو نے مجھے یہ قمیض ،چادر،یا عمامہ پہنایا میں تجھ سے اس کی  بھلائی اور جس کے لئے نبی ہے۔اس کی  بھلائی چاہتا ہوں۔اس کے شر سے اور جس کے لئے بنی ہے اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

سادہ زندگی:

اپنی حد تک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ سادگی کو پسند فرمایا۔دنیوی شان کے کسی مظاہرے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند نہ فرماتے تھے۔ایک مرتبہ کسی لڑائی میں شریک ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ لوٹے۔حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کے حجرے پر  تشریف لے گئے۔تو ملاحظہ فرمایا کہ ام المومنین نے چھت گیر لگوائی ہے ۔حجروں کی چھتوں کی اونچائی اتنی تھی کہ اتنے آدمی کھڑے ہوکر ہاتھ اونچا کرے تو انھیں چھوسکتا تھا۔چونکہ چھت کھجور کے پتوں کی تھی تو ام المومنین  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  نے اس کے نیچے ایک کپڑا باندھ دیا تھا۔یہ چھت گیر  پھاڑ کر پھینک دی گئی ابو داؤد کی روایت ہے ارشاد ہوا۔۔۔خدا نے ہم کو دولت اس لئے نہیں دی کہ ایک پتھر کو کپڑے پہنائے جائیں۔

ایک بار حضرت فاطمہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس کہیں سے دعوت کا کھانا آیا۔صاحبزادی کو بے اختیار ا پنے والد بررگوار کی یاد آئی۔حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے آپ نے خواہش کی کہ رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زحمت دی جائے۔حضر  ت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمال مسرت سے صاحبزادی کے گھر قدم رنجا فرمایا لیکن دروازے پر پہنچے تو ٹھٹکے بڑھتے ہوئے قدم رک گئے۔سنن ابی داؤد میں ہے۔اندر جانے کی بجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ گئے۔کہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ رہے تھے،کس کس کے گھر سے ؟اپنی سب سے لاڈلی بیٹی کے گھر سے! جسے آتا دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرط محبت سے بے قرار ہوکر کھڑے ہوجایا کرتے تھے آج وہی نور نظر آنکھوں کے سامنے تھی۔کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوگئے۔حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نےبڑی پریشانی سے ناگواری خاطر کی وجہ پوچھی فرمایا۔۔۔یہ بات پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف ہے کہ وہ کسی ایسے گھر میں داخل ہو جس کی زیب وزینت کا اہتمام کیاگیا ہو!یہ زیب وزینت کیاتھی؟خاتون جنت نے جن کے ہاتھوں میں چکی  پیستے پیستے گئے پڑ گئے تھے،دوچار معمولی سے پردے گھر میں لٹکائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا۔